Knowledge about different aspects of the world, One of the social norms that were observed was greetings between different nations. It was observed while standing in a queue. An Arab man saw another Arab man who apparently was his friend. They had extended greetings that included kisses on the cheeks and holding their hands for a prolonged period of time. , such warm greetings seem to be rareamong many people, . this social norm signifies the difference in the extent of personal space well.
ہفتہ، 7 مارچ، 2026
گیارہ برس کا عالم ایک طلسماتی شخصیت خامنہ ای
جنگ خندق کفر اور اسلام کی معرکۃ الآرا جنگ
جمعرات، 5 مارچ، 2026
روشن آنکھیں مسکراتا چہرہ جس کا نام ہے لبنیٰ ٹوانہ
بدھ، 4 مارچ، 2026
سروں کے خوبرو بادشاہ محمد رفیع
کہا جاتا ہے کہ ایک روز کندن لال سہگل` کا پروگرام تھا۔ وہ اپنے وقت کے مشہور گلوکار تھے اور انھیں سننے کے لیے سینکڑوں کا مجمع تھا، مگر بجلی فیل ہونے کی وجہ سے سہگل نے گانے سے انکار کر دیا۔ اسی وقت رفیع کے بھائی نے پروگرام کے منتظمین سے کہا کہ ان کا بھائی بھی ایک گلوکار ہے اور اسے موقع دیا جائے۔مجمعے کی ناراضی کو دیکھتے ہوئے منتظمین نے رفیع کو گانے کا موقع دیا۔ 13 سال کی عمر میں انھوں نے اِسٹیج پر جب فر فارمنس دی تو لوگ بھول گئے کہ وہ تو سہگل کو سننے آئے تھے ۔ اسی پروگرام میں موسیقار شیام سندر موجود تھے۔ انھوں نے ایک جوہری کی طرح رفیع کو پرکھ لیا اور انھیں بمبئی آنے کی دعوت دی۔ بس یہیں سے رفیع کا گلوکاری کا یادگار سفر شروع ہوا۔رفیع کی زندگی میں سب سے بڑا موڑ اس وقت آیا جب موسیقار اعظم نوشاد نے انھیں گانے کا موقع دیا۔ اس وقت نوشاد علی اور طلعت محمود کی جوڑی بہت کامیاب تھی نوشاد کا ہر گیت طلعت گاتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک روز نوشاد نے طلعت کو گانے سے قبل سگریٹ پیتے دیکھ لیا۔ اصولوں کے پکے نوشاد بہت برہم ہوئے اور انھوں نے طلعت کی بجائے رفیع کو چن لیا۔ رفیع نے زندگی میں کبھی سگریٹ یا شراب کو ہاتھ نہیں لگایا تھا۔نوشاد کے ساتھ رفیع کی جوڑی بہت کامیاب رہی۔ بیجوباؤرا کے سارے نغمے ہٹ ہوئے۔من تڑپت ہری درشن کو آج،جیسا کلاسیکی گیت ہو یاتقسیم ہند سے قبل انھوں نے کئی فلموں میں نغمے گائے۔
منگل، 3 مارچ، 2026
کیلاشی قوم کے منفرد رسم و رواج
پیر، 2 مارچ، 2026
آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کی دلدوز شہادت
ہفتہ، 28 فروری، 2026
بی بی معصومہ قم (سلام اللہ علیہا)
امی جمہوریہ ایران کے اہم شہروں میں ایک شہر ہے۔ جسے قم المقدس کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ ایران کا آٹھواں بڑا شہر ہے ۔ اور شیعہ مسلمانوں کا نجف اشرف عراق کے بعد سب سے اہم علمی مرکز شمار ہوتاہے۔ قم، اہل تشیع کے لیے بہت اہمیت کا حامل شہر ہے ۔ اس شہر میں شیعوں کے آٹھویں امام علی بن موسی الرضامعروف بہ امام رضا کی بہن فاطمہ معصومہ کا مزار ہے جس کی زیارت کے لیے دنیا بھر سے شیعہ یہاں پر اکٹھے ہوتے ہیں۔2016ء کی مردم شماری کے مطابق قم کی آبادی 1201000 تھی ۔ اس آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ علما اور دینی تعلیم حاصل کرنے والے طلاب کا ہے، ان علما اور طلاب میں ایرانیوں کے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں افغانی، عراقی، پاکستانی، ہندوستانی ، لبنانی، کویتی، سعودی، بحرینی ،یمنی، جزائری، مراکشی، ترکی، آذری، انڈونیشین، ملائشین، تھائیلنڈی، چینی اور دیگر یورپی ممالک کے لوگ میں شامل ہیں۔ قم کی آبادی میں سے 99.76 فی صد آبادی شیعہ اثنا عشر ی ہیں یا پھر زرتشتی یا پھر مسیحی دین کے پیروکار آباد ہیں۔قم کا موسم بارشوں کی کمی کی وجہ سے خشک اور گرم رہتا ہے۔ چونکہ قم ایک صحرائی علاقہ میں آباد ہوا یہاں کی سوغات میں قم کا حلوا جسے یہاں کی زبان میں سوہان کہتے ہیں بہت معروف اور مشہو رہے۔آثار قدیمہ کے ماہرین کے مطابق عرب مسلمانوں کے حملے سے قبل کئی ہزار سالوں سے شہر قم آباد تھا، پستہ اور زعفران کی پیداوار کے لحاظ سے معروف تھا۔ لیکن بہت سے ماہرین اور مورخین قم شہر کی آبادکاری کو عرب مسلمانوں کے حملے اور پھر عراق سے اشعری قبیلے کے افراد کی ہجرت سے جوڑتے ہیں
کہا جاتا ہے کہ قم ابو موسی اشعری نے فتح کیا اور اس فتح کے بعد اس علاقے میں عربوں کی ہجرتیں شروع ہوئیں۔ جن میں سے سب سے اہم اشعری قبیلے کی ہجرت تھی کہ جنھوں قم اور اس کے اردگرد کے دیہاتوں کو ملا کر اس شہر کی بنیاد رکھی اور چونکہ اشعری قبیلے کے افراد شیعہ مذہب سے تعلق رکھتے تھے اس لیے قم شیعہ اثنا عشری مسلمانوں کا مرکز بن گیا۔ اور فاطمہ معصومہ جو شیعہ مسلمانوں کے آٹھویں امام علی رضا کی بہن ہیں، کی ہجرت سے اس مرکز کی قوت ووسعت میں مزید اضافہ ہوا جس کی وجہ سے دنیا بھر کے شیعہ اور علما کی توجہ کا مرکز بن گیا۔شیعہ مذہب کے پیروکار ہونے کی وجہ اموی اور عباسی خلفاء کی طرف یہاں کے لوگوں پر بادشاہی ٹیکس کا تناسب زیادہ ہوا کرتا تھا جس کی وجہ سے یہاں کے لوگوں نے ان حکومتوں کے خلاف مسلحانہ قیام و جدوجہد بھی کی اور قم شہر کوکئی مرتبہ تباہی وبربادی کا سامنا کرنا پڑا، آل بویہ اور سلجوقی کے دور میں قم کو ترقی ملی جبکہ صفوی خاندان کے دور میں شیعہ مذہب کے رسمی ہونے کے بعد قم مزید ترقی کی راہ پر گامزن ہو گیا۔قاجاری دور میں قاجاری بادشاہ فتح علی شاہ نے فاطمہ معصومہ کے حرم کی توسیع اور سنہری گنبد کی تعمیر کرائی ، جنگ عظیم اول نے قم شہر کو بھی متاثر کیا اور روس کے تہران پر حملے کے خطرے کے پیش نظر بہت سارے لوگوں نے قم میں پناہ لی جبکہ پہلوی خاندان کے دور میں روح اللہ خمینی معروف بہ امام خمینی نے پہلوی حکومت
کے خلاف قیام اور انقلاب کا آغاز بھی اسی شہر سے کیا۔ اور فروری 1979ء میں ایران کا اسلامی انقلاب کامیاب ہونے کے بعد ایران میں اسلامی حکومت کی بنیاد رکھی اور ولایت فقیہ کی حکومت قائم ہوئی۔دینی مدارس ، تعلیمی و تحقیقی ادارے اور یونیورسٹیز-قم یونیورسٹی، المصطفی انٹرنیشنل یونیورسٹی، مدرسۃ الزہراء ، مدرسہ شہید سید حسن شیرازی، مدرسہ امام حسین ، مدرسہ امام باقر ، مدرسہ علمیہ امام مہدی ، مدرسہامامالمنتظر، مدرسہ رسول اعظم، حوزہ علمیہ قم، مدرسہ رضویہ، مدرسہ ستیہ، مدرسہ امام خمینی، مدرسہ اباصالح، مدرسہ المہدی، مدرسہ الہادی، مدرسہ امام مہدی موعود، مدرسہ بقیۃ اللہ، مدرسہ حقانی، مدرسہ جانبازان، مدرسہ رسالت،مدرسہ شہیدین، مدرسہ صدوق، مدرسہ عترت، مدرسہ کرمانیہا، مدرسہ معصومیہ، مدرسہ امام عصر، مدرسہ سعد حلت، مدرسہ اثیرالملک، مدرسہ سید سعید عزالدین مرتضی، مدرسہ سید زین الدین، مدرسہ ابو الحسن کمیج، مدرسہ شمس الدین مرتضی، مدرسہ مرتضی کبیر، مدرسہ درب آستانہ، حکمت یونیورسٹی قم، طلوع مہر ایجوکیشنل انسٹی ٹیوٹ قم، شہاب دانش صنعتی یونورسٹی ، تہران یونیورسٹی قم کیمپس، ٹی وی ریڈیو کالج، قم ، صنعتی یونیورسٹی قم، آزاد اسلامی یونیورسٹی، قم کیمپس، دانشگاہ جامع علمی کاربردی واحد استان قم، مفید یونیورسٹی، قم ، پیام نور یونیورسٹی، قم ، معصومیہ یونیورسٹی، قم ، ٹیکنیکل کالج فار بوائز، قم ، میڈیکل یونیورسٹی ، قم ، جامعہ المصطفی العالمیہ، باقر العلوم یونیورسٹی قم، امام خمینی، تعلیمی اور تحقیقی ادارہ، ادیان ومذاہب یونیورسٹی، قم ، اسلامی فکر وثقافتی تحقیقی ادارہ، اسلامک انسٹی ٹیوٹ آف کلچر اور سائنسز، شہید محلاتی کالج، اسلامک رائٹنگ اور ریسرچ کالج، قرآن وحدیث یونیورسٹی، قم ، معارف اسلامی یونیورسٹی، موسسہ فکر اسلامی، مجلس خبرگان رہبری کا سیکٹریٹ۔قم شہر کو مختلف القابات اور ناموں سے یاد کیا جاتاہے۔ جن میں سے مشہور شہر حرم اہل بیت، شہر علم، ایران کا علمی اور ثقافتی دار الخلافہ، عالم تشیع کا دار الحکومت، علما کا شہر، شہر کریمہ اہل بیت ہیں۔
قم شہر میں مختلف مزار اور زیارت گاہیں ہیں جن میں سے سب سے مشہور فاطمہ معصومہ کا مزار ہے جن کا لقب کریمہ اہل بیت ہے اور اس کے علاوہ مختلف امام زادوں کے مزارات اور قم کی مشہور ترین مسجد جمکران شہر کے جنوب مشرقی سمت میں واقع ہے-فاطمہ معصومہ جنہیں معصومہ قم یا حضرت معصومہ بھی کہاجاتاہے، مشہور قول کے مطابق یکم ذی القعدہ 173 ہجری مدینہ منورہ میں پیدا ہوئیں اور 10 ربیع الثانی ، 201 ہجری وفات پائی، جب عباسی خلیفہ مامون نے امام علی رضا کو خراسان بلایا تو ایک سال بعد فاطمہ معصومہ اپنے بھائی کی جدائی برداشت نہ کرسکنے کی وجہ خراسان کی عازم سفر ہوئیں۔ ،آپ کے پدر بزرگوار حضرت امام موسیٰ بن جعفرؑ اور آپکی مادر گرامی حضرت نجمہ خاتون ہیں۔ یہی خاتون آٹھویں امام کی بھی والدہ محترمہ ہیں لہٰذا حضرت معصومہؑ اور امام رضاؑ ایک ہی ماں سے ہیں -آپ کے پدر بزرگوار حضرت امام موسیٰ بن جعفرعلیہماالسلام اور آپکی مادر گرامی حضرت نجمہ خاتون ہیں۔ یہی خاتون آٹھویں امام کی بھی والدہ محترمہ ہیں لہٰذا حضرت معصومہؑ اور امام رضاؑ ایک ہی ماں سے ہیں ۔آپ کی ولادت با سعادت پہلی ذیقعدہ ۱۷۳ ہجریقمری کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔ابھی زیادہ دن نہ گزرے تھے کہ بچپنے ہی میں آپ اپنے شفیق باپ کے سایۂ عطوفت سے محروم ہو گئیں، آپ کے والد کی شہادت ہارون رشیدکے قید خانہ، بغداد میں ہوئی۔باپ کی شہادت کے بعد آپ اپنے عزیز بھائی حضرت علی بن موسیٰ الرضاؑ کی آغوش تربیت میں آگئیں ۔
نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے
خطبہ از نہج البلاغہ بزبان امیر المومنین
تمام حمد اس اللہ کیلئے ہے ، جس کی مدح تک بولنے والوں کی رسائی نہیں، جس کی نعمتوں کو گننے والے گن نہیں سکتے، نہ کوشش کرنے والے اس کا حق ادا ک...
حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر
-
میرا تعارف نحمدہ ونصلّٰی علٰی رسولہ الکریم ،واٰ لہ الطّیبین الطاہرین جائے پیدائش ،جنوبی ہندوستان عمر عزیز پاکستان جتنی پاکستان کی ...
-
خوبصورت اور لہلہاتے قدرتی نظاروں سے مالامال جزیرہ ماریشس (موریطانیہ )کے ائر پورٹ 'پورٹ لوئس کے سرشِو ساگر رام غلام انٹرنیشنل ائیرپ...
-
نام تو اس کا لینارڈ تھا لیکن اسلام قبول کر لینے کے بعد فاروق احمد لینارڈ انگلستانی ہو گیا-یہ سچی کہانی ایک ایسے انگریز بچّے لی...