لبنیٰ ٹوانہ سندھ پولیس کی ایک نامور اور بہادر خاتون افسر ہیں، جو 1999 سے خدمات انجام دے رہی ہیں اور 2000 میں بطور ایس ایچ او (SHO) کام کرنے والی ابتدائی خواتین میں شامل ہیں। وہ کراچی میں ایس پی (SP) پولیس کے عہدے پر خدمات سرانجام دے چکی ہیں اور ایف آئی اے (FIA) کی پہلی خاتون اسسٹنٹ ڈائریکٹر بھی رہ چکی ہیں، جنہیں خصوصاً خواتین کے مسائل حل کرنے میں مہارت حاصل ہے جرائم کا خاتمہ پولیس کا اولین فرض اس حقیقت سے کوئی انکاری نہیں کہ موجودہ دور میں کسی بھی شعبے یا ادارے میں مردوں کے ساتھ خواتین کی شمولیت نا گزیر ہو چکی ہے ۔ قابل، باصلاحیت اور باہمت خواتین نے مردوں کے شانہ بشانہ چل کر جواں مردی، سے اپنا لوہا بھی منوایا ہے اس وقت ہر شعبہ خواتین کے بغیر اد ھوراہی نظر آتا ہے۔ان ہی میں پنجاب کے زمیندار سیاسی راجپوت ٹوانہ قبیلے سے تعلق رکھنے والی سندھ پولیس کی باصلاحیت ،قابل نڈر خاتون ایس پی لبنی ٹوانہ کا شماربھی ہو تا ہے ان کے والد بھی سرکاری آفیسر تھے، بڑی بہن راحیلہ ٹوانہ سابق مشیر وزیراعلی سندھ اور سابق ڈپٹی اسپیکر سندھ اسمبلی تھیں، بھائی ایف بی آر میں ڈپٹی کمشنر ہیں ایک بہن پاکستان کی پہلی کمسن شاعرہ اور احمد فراز، پیر نصیر الدین نصیر گولڑہ شریف کی شاگرد ہیں، ایک بہن فری لانس صحافی اورایک ہاوس وائف ہے۔ایک شادی شدہ بیٹی ہے۔ معروف سیاستداں ، ، پولیس اور ایف آئی اے میں مختلف عہدوں پرفائز رہنے والی لبنی ٹوانہ آج کل ایس پی کمپلینٹ سیل ضلع ایسٹ کی حیثیت سے خدمات انجام دےرہی ہیں ۔ صاف گو، نرم مزاج اور خوش گفتار لبنی ٹوانہ سےکی گئی بات چیت کا احوال قارئین کی نذر ہے۔
·س۔ سب سے پہلے ہمیں اپنی جائے پیدائش اور ابتدائی تعلیم کے بارے میں کچھ بتائیں ؟ج۔ میری پیدائش فیصل آباد کی تحصیل جڑانوالہ کے قریب اپنے آبائی گاؤں میں ہوئی۔ والد صاحب پاکستان مشین ٹول فیکٹری کراچی میں سرکاری آفیسر تھے ، ہماری رہائش بھی پی ایم ٹی ایف کالونی میں تھی۔ تعلیم کا آغاز کے جی سے پی ایم ٹی ایف ماڈل اسکول سے کیا ۔ میٹرک آرمی پبلک اسکول کراچی سے، گریجویشن پی ای سی ایچ ایس گورنمنٹ گرلز کالج سے کیا۔س۔ خاتون ہوتے ہوئے پولیس کے شعبے کا انتخاب آپ کی خواہش تھی یا حادثاتی طور پر آ ئیں ؟ج۔ بی اے کرنے کے بعد پہلی نوکری پی ایم ٹی ایف ماڈل اسکول میں بحیثیت ٹیچر ایک سال کی، بعد ازاں محکمہ پولیس کا رخ کرلیا، پولیس میں آنے کی پہلی وجہ اس کی خوبصورت یونیفارم ،جب کہ دوسری وجہ بچپن سے خدمت خلق کا جذبہ بننی۔ خوشی اس بات کی ہے کہ میں اپنی سروس کا حق ادا کر رہی ہوں۔س۔ یہ بتائیں پولیس میں پہلی تعیناتی کہاں اور کس عہدے پر ہوئی ؟ج۔ اگست 1994 میں بحیثیت لیڈی انسپکٹر بھرتی ہوئی۔ پولیس ٹریننگ کالج سعیدآباد سے ایک سال کی اکیڈمک ٹریننگ کرنے کے بعد پولیس کے ABCD کئے اور پہلی تقرری بحیثیت ایس ایچ او ویمن پولیس اسٹیشن ضلع ملیر میں ہوئی، جہاں ضلع ملیر کے 16 تھانوں کے مقدمات تفتیش کے لیے بھیجےجاتے تھے۔س۔ ایس پی بننے سے قبل کن عہدوں پر اور کہاں کہاں خدمات انجام دیں ۔ پولیس میں بحیثیت ایس ایچ او، ویمن پولیس اسٹیشن کراچی 2000 تک کام کیا۔ اس کے بعد مئی 2000 میں میری خدمات فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی(ایف آئی اے) کے حوالے کردی گئیں ،
جہاں پہلی انسپکٹر امیگریشن انچارج ، پہلی انسپکٹر انویسٹی گیشن تعینات رہنے کے بعد پہلی خاتون اسسٹنٹ ڈائریکٹ امیگریشن بنی ، ایف آئی اے کے تمام شعبوں میں تفتیشی آفیسر کے طور پر کامیاب تفتیش کی، جن میں امیگریشن، کمرشل بینک سرکل، کارپوریٹ کرائم سرکل، اینٹی کرپشن سرکل، سائبر کرائم سرکل، اینٹیہیومن ٹریفکنگ سرکل وغیرہ میں کام کیا۔س۔ اگر پولیس افسر نہ ہو تیں تو کس محکمے میں جانا پسند کرتیں ؟ج۔ مجھے درس و تدریس کا شعبہ بھی بہت پسند ہے، اگر پولیس میں نہیں ہوتی توایک استاد ہوتی۔س۔ مزاجاََ کیسی ہیں، غصہ آتاہے ؟ج۔ مجموعی طور پر میں نرم مزاج ہوں، دوران گفتگو بد زبانی اور بدتمیزی کی قائل نہیں ، غصہ آنا یا غصہ کرنا ایک نارمل عمل ہے، جب کوئی خلاف مزاج بات ہو یا کوئی جھوٹ بول کر آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کرے، ہٹ دھرمی دکھائے ،دھوکا دے یا کسی پر ظلم کرے تو غصہ آتا ہے۔س۔ کیا محکمہ پولیس میں خواتین مردوں سے بہتر انداز میں خدمات انجام دے ر ہی ہیں ؟ج۔ پولیس میں خواتین زیادہ محنت اور لگن سے کام کرتی ہیں، مگر انھیں وسائل میسر نہیں ، کوئی ہمدرد اور اچھا افسر ہو تو ان کو کافی حد تک سہولتیں فراہم کر دیتے ہیں۔س۔ اعلی پولیس افسران کے دعوؤں کے باوجود شہر میں اسٹریٹ کرائمز کا جن کیوں بے قابو ہے ؟ج۔ ہوشربا مہنگا ئی، بےروزگاری اور منشیات کا فروغ شہر میں بڑھتے ہوئے اسٹریٹ کرائمز کا اصل سبب ہیں ،جن پر قابو پانا ناگزیر ہے۔س۔ دوران سروس کوئی ناقابل فراموش واقعہ پیش آیا؟ج۔ جی ہاں،ویسےتو کئی واقعات ہیں،
س۔ گھر میں اور خاندان والوں کے ساتھ بھی کیا پولیس افسرکا رویہ ہوتا ہے ؟ج۔ جی ہاں اس وقت خاص طور پر جب کسی کو کوئی قانونی مدد یا مشورے کی ضرورت ہو ورنہ عام حالات میں گھر والوں یا خاندان والوں کے سامنے نرم مزاج اور ملنسار ہوں۔ س۔ ایک دن کے لیے آئی جی سندھ بنا دیا جائے تو پہلا کام کون سا کریں گی ؟ ج۔ ایک دن کا آئی جی بننے کا کوئی فائدہ نہیں پھر بھی اگر ایسا ہوا تو ڈی ایس پی سے لے کر کانسٹیبل تک سب کو ان کا جائز حق دوں گی جن کی ترقی صرف نذرانے نہ دینے کی وجہ سے رکی ہوئی ہے۔ ان کی فوری ترقی اور جو مراعات ان کا حق ہے وہ ان کو دوں گی۔ ایس پی لبنیٰ ٹوانہ نمائندہ جنگ سے بات چیت کرتے ہوئے س۔ کیا ملازمت علاوہ گھر کے کام خود کرتی ہیں یا ملازم رکھے ہیں؟ج۔ مجھے گھر کے کام کرنا ہمیشہ سے پسند ہے۔ ہماری والدہ ،نانی، خالہ اور پھوپھی نےسب بہنوں کو گھر گرستی کے تمام کام سکھا دیئے تھے ، جن سے ہماری زندگی میں کافی آسانیاں ہیں۔س ۔ کیا گھومنے پھرنے کی شوقین ہیں ؟ج۔ جی ہاں مجھے گھومنے پھرنے کا جنوں کی حدتک شوق ہے، تاریخی مقام دیکھنا، پکنک پر سب کے ساتھ جانا، خریداری کرنا، بہت اچھا لگتا ہے۔س۔ فارغ اوقات یا چھٹی کیسے گزارتیں ہیں ؟ج۔ پولیس اور ایف آئی اے کی ملازمت میں فارغ اوقات کا ملنا بہت مشکل ہے۔ جب کبھی تھوڑا وقت مل جائے توگھر کےہی کسی کام میں وقت گزر جاتا ہے یا اپنی فیملی کے ساتھ گپ شپ میں وقت گزار لیا۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں