منگل، 3 مارچ، 2026

کیلاشی قوم کے منفرد رسم و رواج

 

کالاش (انگریزی: Kalash) کوہ ہندوکش میں واقع ایک قبیلہ ہے جو کہ صوبہ سرحد کے ضلع چترال میں آباد ہے۔ یہ قبیلہ کیلاش زبان بولتی ہے جو کہ دری زبانوں کے خاندان سے تعلق رکھتی ہے۔ یہ زبان اس خطہ میں نہایت جداگانہ مشہور ہے۔ لسانیات کے ماہر رچرڈ سٹرانڈ کے مطابق ضلع چترال میں آباد قبائل نے یہ نام قدیم کافرستان سے مستعار لیا ہے۔ کالاشہ یا کالاش قبائل نے وقت کے ساتھ چترال میں اپنا اثررسوخ بڑھایا۔ ایک حوالے سے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ کالاش نام دراصل “کاسوو“ جو کہ بعد میں “کاسیو“ استعمال ہوتا تھا۔ یہ نام نورستان کے قبائل نے یہاں آباد قبائل کے لیے مخصوص کر رکھا تھا۔ بعد کے ادوار میں یہ کاسیو نام کالاسایو بنا اور رفتہ رفتہ کالاسہ اور پھر کالاشہ اور اب کالاش بن گیا۔ کیلاش قبائل کی ثقافت یہاں آباد قبائل میں سب سے جداگانہ خصوصیات کی حامل ہے۔ یہ قبائل مذہبی طور پر کئی خداؤں کو مانتے ہیں اور ان کی زندگیوں پر قدرت اور روحانی تعلیمات کا اثر رسوخ ہے۔ یہاں کے قبائل کی مذہبی روایات کے مطابق قربانی دینے کا رواج عام ہے جو کہ ان کی تین وادیوں میں خوشحالی اور امن کی ضمانت سمجھی جاتی ہے۔ کالاش قبائل میں مشہور مختلف رواج اور کئی تاریخی حوالہ جات اور قصے عام طور پر روم قدیم روم کی ثقافت سے تشبیہ دیے جاتے ہیں۔ گو وقت کے ساتھ ساتھ قدیم روم کی ثقافت کے اثرات میں کمی آئی ہے اور اب کے دور میں زیادہ تر ہند اور فارس کی ثقافتوں کے زیادہ اثرات واضع ہیں۔ کالاش قبائل کے قبائلی رواج میں اختلاف پایا جاتا تھا۔ بیسویں صدی سے پہلے تک یہاں رواج نہایت وسیع تھے اور گذشتہ صدی میں ان غیر مسلم قبائل میں ان رواجوں کی پیروی اسلام قبول کرنے کے بعد سے کافی کمی آئی ہے۔



 کیلاش قبائل کے سردار سیف جان جو کہ اقلیت کے مطابق، “اگر کوئی کیلاش فرد اسلام قبول کر لے، وہ ہمارے درمیان زندگی بسر نہیں کر سکتا۔ ہم اپنی شناخت کے لیے انتہائی سخت مزاج رکھتے ہیں “تقریباً تین ہزار کیلاش اسلام قبول کر چکے ہیں یا پھر ان کی اولادیں مسلمان ہو چکی ہیں۔ یہ لوگ اب بھی وادی کیلاش کے علاقے میں رہائش پزیر ہیں اور اپنی زبان اور قدیم ثقافت کی پیروی کرتے ہیں۔ اب ان لوگوں کو “شیخ“ کہا جاتا ہے اور کالاش قبائل کی تقریباً نصف آبادی پر مشتمل یہ لوگ اپنا جداگانہ اثررسوخ رکھتے ہیں۔ کالاش عورتیں لمبی اور کالی پوشاکیں پہنتی ہیں، جو کہ سیپیوں اور موتیوں سے سجائی گئی ہوتی ہیں۔ کالے لباس کی وجہ سے یہ چترال میں سیاہ پوش کہلائے جاتے ہیں۔ کیلاش مردوں نے پاکستان میں عام استعمال کا لباس شلوار قمیص اپنا لی ہے اور بچوں میں بھی پاکستانی لباس عام طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔پاکستانی معاشرے کے برعکس عورتوں اور مردوں کا سماجی میل ملاپ برا نہیں سمجھا جاتا۔ “باشیلانی“ ایک جدا گاؤں ہے جو کہ عورتوں کے لیے مخصوص ہے۔ یہاں حاملہ عورتیں ہی لازمی رہائش پذیر ہوتی ہیں اور پیدا ہونے والے بچوں کو باشیلانی کہا جاتا ہے۔ بچے کی پیدائش کے بعد عورتوں کا پاک ہونا لازم ہے اور ایک رواج بھی عام ہے جس کو اپنانے کے بعد ہی کوئی عورت اپنے شوہر کی طرف واپس جا سکتی ہے۔ گھر سے فرار ہو کر شادی کا رواج عام ہے۔ نوعمر لڑکیاں اور شادی شدہ عورتیں بھی گھر سے فرار اختیار کرتی ہیں۔ زیادہ تر یہ قبائل اس رویہ کو عمومی خیال کرتی ہے اور اس صورت میں جشن کے موقع پر قبول کر لیا جاتا ہے۔



کئی مواقعوں پر زیلی قبیلوں میں اس موضوع پر فساد بھی برپا ہو جاتا ہے۔ امن کے قائم ہونے تک تلخی برقرار رہتی ہے اور صلح عام طور پر ثالث کی موجودگی کے بغیر طے نہیں ہوتی۔ صلح کے لیے جو رواج عام ہے اس کے مطابق مرد جس کے ساتھ عورت فرار اختیار کرے وہ اس عورت کے خاندان یا پہلے شوہر کو قیمت ادا کرتا ہے۔ یہ قیمت عام طور پر دگنے خرچے کے برابر ہوتا ہے جو اس عورت کا شوہر شادی اور عورت کے خاندان کو ادا کرتا ہےرومبور، بریر اور بمبوریت کو ملا کر وادی کالاش کا نام دیا گیا ہے، کالاش پاکستان کے ضلع چترال کی وادی کالاش میں آباد ایک قبیلہ ہے جنہیں کالاش کافر بھی کہا جاتا ہے ان کے آباواجداد شام سے نقل مکانی کرکے چترال کے رومبور، بریر اور بمبوریت میں آبسے ہیں۔چترال کی وادی کیلاش میں آباد تہذیب کے باسیوں کی ابتدا سے متعلق حتمی رائے قائم کرنا ممکن نہیں اور یہاں کے لوگوں کے نسلی اجداد کا تعین بھی مشکل ہے۔ تاہم اس ضمن میں دو نظریات ہیں۔ پہلے تصور میں کالاش قبیلے کے بارے میں کہا جاتا ہے وہ افغانستان کے راستے سکندراعظم کے ساتھ آئے تھے اور یہاں کے ہوکر رہ گئے۔ 


  ایک رائے یہ ہے کہ کالاش یونانیوں کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس کے برعکس ماہرین آثارقدیمہ کی جدید تحقیق کے مطابق کالاش کے لوگ آریائی نسل سے ہیں۔کالاش قبیلے کی زبان کالاشہ یا کلاشوار کہلاتی ہے۔ کالاش کے لوگ دو بڑے اور دو چھوٹے تہوار مناتے ہیں، جس میں چلم جوش اور چوموس شامل ہیں۔ چوموس سب سے اہم اور مشہورتہوار ہے، جو 14 دن تک جاری رہتا ہے۔ یہ تہوار دسمبر میں منایا جاتا ہے۔ یہ تہوار ان کی عبادت بھی ہے اور ثقافت بھی۔ چوموس تہوار ان کے لیے روحانی تازگی کے ساتھ ساتھ جسمانی مسرت بھی ہے۔ اس تہوار میں کالاش کے لوگ اپنے رب کے لیے، اپنے مرے ہوئے لوگوں، رشتے داروں اور اپنے مال مویشیوں کے لیے عبادت کرتے ہیں اور ان کی سلامتی کے لیے دعا کرتے ہیں۔ جیسنوک رسم بھی اس تہوار میں ادا کی جاتی ہے۔ اس رسم میں پانچ سے سات سال کے بچوں کو نئے کپڑے پہنا کر ان کو بپتسمہ دیا جاتا ہے۔ اس تہوار کے آخری تین دنوں میں، جس میں اس تہوار میں مرد اور عورتیں شراب پیتے ہیں اور تین دن کی روپوشی کے بعد یہ لوگ اپنی جگہوں سے باہر نکل آتے ہیں۔ جس کے بعد یہ لوگ ساری رات ایک جگہ پر جمع ہوکر رقص کرتے ہیں اور گیت گاتے ہیں۔ یہ ان کا سال کا آخری دن ہوتا ہے۔اس تہوار کے آخری روز لویک بیک کا تہوار ہوتا ہے، جس میں کالاش قبیلے کے مرد، خواتین، بزرگ اور بچے نئے کپڑے پہن کر مل کر رقص کرتے ہیں اور نئے سال کی خوشیاں مناتے ہیں۔ ان تہواروں میں عورتیں اونی سوتی کپڑوں کی لمبی قمیض پہنتی ہیں

1 تبصرہ:

  1. کالاش قبائل کی تقریباً نصف آبادی پر مشتمل یہ لوگ اپنا جداگانہ اثررسوخ رکھتے ہیں۔ کالاش عورتیں لمبی اور کالی پوشاکیں پہنتی ہیں،

    جواب دیںحذف کریں

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

روشن آنکھیں مسکراتا چہرہ جس کا نام ہے لبنیٰ ٹوانہ

  لبنیٰ ٹوانہ سندھ پولیس کی ایک نامور اور بہادر خاتون افسر ہیں، جو 1999 سے خدمات انجام دے رہی ہیں اور 2000 میں بطور ایس ایچ او (SHO) کام کرن...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر