ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ شہید سید علی خامنہ ای کے بھارت میں نمائندے ڈاکٹر عبدالماجد حکیم الٰہی نے کہا ہے کہ سیکیورٹی حکام نے بارہا آیت اللّٰہ خامنہ ای سے کہا تھا کہ وہ دفتر سے کسی اور شہر منتقل ہوجائیں یا زیر زمین بنکر میں چلے جائیں۔میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ آیت اللّٰہ خامنہ ای نے یہ کہہ کر انکار کردیا تھا کہ کیا آپ 9 کروڑ ایرانیوں کو کسی دوسرے شہر منتقل کرسکتے ہیں یا 9 کروڑ ایرانیوں کو زیر زمین بنکر منتقل کرسکتے ہیں۔ اگر ایسا کردیا تو میں بھی کسی دوسرے شہر یا زیر زمین بنکر چلا جاؤں گا۔ڈاکٹر عبدالماجد حکیم الٰہی نے کہا کہ آیت اللّٰہ خامنہ ای اپنے گھر میں واقع دفتر ہی میں تھے جب انہیں امریکا اور اسرائیل نے میزائل حملوں کا نشانہ بنایا، حملے میں سپریم لیڈر کی اہلیہ، بہو اور انکے بعض پوتے بھی شہید ہوگئے ہیں۔واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل نے ایران پر اچانک حملہ کردیا، جس کے نتیجے میں ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللّٰہ علی خامنہ ای شہید ہوگئے ہیں۔ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد علی رضا اعرافی کو ایرانی سپریم لیڈر کے فرائض انجام دینے والی عبوری کونسل کا رکن مقرر کر دیا گیا ہے تاہم ملک میں نئے رہبرِ اعلیٰ کے انتخاب کا مرحلہ درپیش ہے۔4 دہائیوں تک ایران کی قیادت کرنے والے ایرانی رہبر اعلیٰ نے شہادت سے قبل کسی کو باقاعدہ جانشین منتخب نہیں کیا تھا، تاہم ایران کے آئین میں قیادت کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے جانشینی کا واضح طریقہ کار موجود ہے۔ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق ایرانی آئینِ کے آرٹیکل 111 کے تحت سپریم لیڈر کی وفات، استعفے یا معزولی کی صورت میں 88 سینئر علماء پر مشتمل مجلسِ خبرگانِ رہبری (Assembly of Experts) پابند ہے کہ وہ جلد از جلد نئے رہبر اعلیٰ کی تقرری اور اعلان کرے۔
نئے سپریم لیڈر کے انتخاب تک ایک عبوری کونسل قائدانہ ذمے داریاں سنبھالتی ہے۔آئینی شقوں کے مطابق اس عبوری کونسل میں صدر، عدلیہ کے سربراہ اور گارڈین کونسل کے ایک فقیہ شامل ہوتے ہیں، جس کا انتخاب ایکسپیڈینسی ڈکرینمنٹ کونسل (Expediency Discernment Council) کرتی ہے۔دریں اثناء خامنہ ای کے مشیروں میں سے ایک محمد مخبر کا کہنا ہے کہ صدر مسعود پزشکیان، عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی ایجی اور ملک کی قانونی کونسل سے وابستہ اعلیٰ قانونی عہدیدار، پر مشتمل 3 رکنی عبوری کونسل اس اہم ترین عہدے کی منتقلی کی نگرانی کریں گے-یہ عبوری باڈی اس وقت تک سپریم لیڈر کے اختیارات استعمال کرے گی جب تک مجلسِ خبرگان نئے رہنما کی تقرری کو حتمی شکل دے کر باضابطہ اعلان نہ کر دے۔1979ء میں اسلامی انقلاب کے قیام کے بعد یہ عمل صرف ایک بار انجام دیا گیا تھا، جب بانی انقلاب آیت اللّٰہ روح اللّٰہ خمینی کے انتقال کے بعد آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کو نیا رہبر منتخب کیا گیا تھا۔مزید برآں آئینی طریقہ کار کے تحت اگر عبوری کونسل کا کوئی رکن اپنی ذمے داریاں ادا کرنے سے قاصر ہو تو مجلسِ خبرگان اکثریتی فقہا کی موجودگی برقرار رکھتے ہوئے اس کی جگہ کسی اور کو مقرر کر سکتی ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ سیکیورٹی صورتحال اور امریکا و اسرائیل کی ممکنہ مزید کارروائیوں کے تناظر میں مجلسِ خبرگان کا اجلاس بلانا ایک چیلنج ہو سکتا ہے۔آئین کے تحت نئے رہبر کا مرد، شیعہ عالمِ دین، سیاسی بصیرت اور اخلاقی اتھارٹی کا حامل ہونا ضروری ہے، ساتھ ہی اسلامی جمہوریہ ایران سے مکمل وفاداری بھی لازمی شرط ہے۔
و اسرائیل نے ایران پر حملے کیلئے ہفتے کی صبح کا انتخاب کیوں کیا؟اسرائیل اور امریکا کو جیسے ہی ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کی اپنے اعلیٰ مشیروں کے ساتھ ملاقات کی خبر ملی تو دونوں ممالک نے ایران پر حملہ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق حملے میں آیت اللّٰہ علی خامنہ ای ٹارگٹ تھے اور ان کے بارے میں امریکا اور اسرائیل کو یہ خدشہ بھی تھا کہ وہ موقع ملتے ہی روپوش ہو جائیں گے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پہلے امریکی اور اسرائیلی انٹیلیجنس اداروں کو یہ اطلاع ملی تھی کہ ایرانی سپریم لیڈر ہفتے کی شام کو تہران میں اپنے اعلیٰ مشیروں کے ساتھ ملاقات کریں گے تو شام کو حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا گیا لیکن پھر اسرائیلی انٹیلیجنس رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی کہ یہ ملاقات اب ہفتے کی شام کو نہیں بلکہ ہفتے کی صبح کو ہونے والی ہے۔امریکا اور اسرائیل کا ایران پر حملہ، سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای شہید-رپورٹ کے مطابق اسرائیل اور امریکا نے ایران پر حملہ ہفتے کی صبح اس لیے کیا کیونکہ وہ آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کی اپنے مشیروں سے ملاقات کا وقت تھا۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی انٹیلیجنس کی رپورٹ میں یہ واضح نہیں تھا کہ ایرانی سپریم لیڈر اپنے مشیروں کے ساتھ ملاقات کہاں پر کریں گے، اس لیے حملے کے آغاز میں تہران میں واقع آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کے اعلیٰ حفاظتی کمپاؤنڈ کو نشانہ بنایا گیا اور سیٹلائٹ سے لی گئی تصاویر نے ان کی شہادت کی تصدیق کر دی۔
اسلام آباد (خبر نگار) پاکستان تحریک انصاف نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو شہید کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی، خطے کے امن و استحکام کیلئے خطرہ اور عالمی سطح پر انتشار و تصادم کو ہوا دینے والا اقدام قرار دیا ہے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کی خبر سے دلی صدمہ ہوا، ایران کسی ملک کیلئے خطرہ نہیں تھا، اپنا دِفاع ایران کا حق تھا، ایسے میں حملہ کرنا بِلا جواز اور رجیم چینج کیلئے لیڈر کو مارنا مجرمانہ اقدام اور ریاستی دہشتگردی ہے۔ ہم اس کی شدید مذمت کرتے ہیں، دریں اثنا پی ٹی آئی کے مرکزی میڈیا ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری بیان میں ایران کے عوام سے اس المناک موقع پر دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا گیا۔ بیان میں کہا گیا کہ ایرانی عوام کے سپریم لیڈر کا نقصان ایران اور برادر اسلامی ملک پاکستان کے عوام کیلئے گہرے رنج و غم کا لمحہ ہے، پارٹی نے امریکہ اور اسرائیل پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر کسی بھی غیر قانونی جارحیت یا کشیدگی میں اضافے سے باز رہیں۔
اللہ پاک و کریم آئت اللہ کی روح کو اپنے باغوں کی ٹھنڈی ٹھنڈی چھاؤں میں رکھے آمین
جواب دیںحذف کریں