Knowledge about different aspects of the world, One of the social norms that were observed was greetings between different nations. It was observed while standing in a queue. An Arab man saw another Arab man who apparently was his friend. They had extended greetings that included kisses on the cheeks and holding their hands for a prolonged period of time. , such warm greetings seem to be rareamong many people, . this social norm signifies the difference in the extent of personal space well.
جمعرات، 29 جنوری، 2026
گورنمنٹ ہاسپٹلز میں ا ینٹی ریبیز ویکسین دستیاب نہیں ہے
بدھ، 28 جنوری، 2026
عطاؤں کی بارش جب برسنے کوآئ -حصہ دوم
پھر انسانیت کے زیور سے آراستہ صارفین نے اس ذہنیت کے خلاف ایک ٹرینڈ شروع کردیا۔ ہر طرف سے آوازیں اٹھنے لگیں کہ اس محنت کش کو تلاش کیا جائے، اس کی دل آزاری کا ازالہ کیا جائے۔اسی مرحلے پر “انسانیات” (Humanitarianism) نامی ایک معروف سماجی و فلاحی ڈیجیٹل پلیٹ فارم سامنے آیا۔ یہ کوئی کاروباری صفحہ نہیں بلکہ ایسا پلیٹ فارم ہے جو انسانی وقار، مظلوموں کی آواز اور خیر کے اجتماعی کاموں کے لیے جانا جاتا ہے۔ “انسانیات” نے اس واقعے کو محض جذباتی ردعمل تک محدود نہیں رکھا، بلکہ عملی قدم اٹھایا۔ نزرول کی تلاش شروع ہوئی۔ اس لیے نہیں کہ اس پر ترس کھایا جائے، بلکہ اس لیے کہ بنگلہ دیش کے اُس غریب خاکروب نزرول کی بھر پور مدد کی جائے ۔ اس لیے نہیں کہ اس پر ترس کھایا جائے، بلکہ اس لیے کہ یہ ثابت کیا جائے کہ عزت پیشے سے نہیں، کردار سے ملتی ہے۔جب نزرول عبد الکریم کو ڈھونڈ لیا گیا تو گویا رحمت کے دروازے کھل گئے۔ ایک طرف وہی لوگ تھے، جنہوں نے دل آزاری پر شرمندگی محسوس کی اور دوسری طرف وہ ہاتھ تھے جو خیر بانٹنے کے لیے آگے بڑھے۔
سونے کے زیورات، نقد رقم، قیمتی موبائل فون، گھریلو اشیائے ضرورت اور یہاں تک کہ اپنے وطن جا کر اہلِ خانہ سے ملنے کے لیے سفری ٹکٹ مہیا کر دئے گئے ، ہر طرف سے عطاؤں کی بارش ہونے لگی -سب سے معنی خیز منظر یہ تھا کہ وہی سونے کا سیٹ، جو کچھ دن پہلے شیشے کے پیچھے ایک خواب بن کر جھلک رہا تھا اب نزرول کے ہاتھوں میں تھا۔ جیسے میرے رب کی قدرت اعلان کر رہی ہو کہ جس رزق پر تمہاری نگاہ تھی، وہ تمہارے لیے ممنوع نہیں تھا، بس تمھاری دسترس میں آنے کا وقت مقرر تھا۔ سونے کے اس سیٹ کی قیمت 25000 ریال سے بھی زیادہ تھی ۔ جبکہ نزرول کی تنخواہ بمشکل 700 ریال تھی ۔بعد ازاں نزرول کے بارے میں مزید باتیں سامنے آئیں۔ معلوم ہوا کہ کم آمدنی کے باوجود وہ غیر معمولی امانت دار اورنرم دل و ہمدرد انسان ہے۔ وہ اپنی معمولی سی کمائی میں سے بھی کچھ حصہ نکال کر سڑکوں پر بھٹکتی بھوکی بلیوں کو کھانا کھلا دیتا تھا۔ شاید اسی رحم نے آسمان پر اس کے لیے راستے کھول دیئے تھے۔
جب اس سے پوچھا گیا کہ وہ حسرت بھری نگاہوں سے سونا کا سیٹ کیوں دیکھ رہا تھا؟ تو اس کا جواب دل کو چیر گیا:“میں صرف اتنا چاہتا تھا کہ میرے بیٹے کی شادی میں اس کی مدد ہو جائے۔”نہ سونا اس کا خواب تھا، نہ شہرت اس کی طلب، وہ صرف ایک باپ تھا، جو اپنے بیٹے ک کی شادی پر اس کے لیے سہارا بننا چاہتا تھا، عزت کے ساتھ۔یہ سچی داستان عرب سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔ بلکہ سمیت کئی عرب ذرائع ابلاغ نے اسے کور کیا۔ اس حقیقی واقعے سے کیا سبق ملا؟ یہی کہ لوگوں کے طنزیہ جملے وقتی ہوتے ہیں، مگر اللہ کریم کے فیصلے دائمی۔ اگر کبھی تمہیں تمہاری حیثیت، لباس یا پیشے کی وجہ سے حقیر سمجھا جائے تو یاد رکھو:اللہ نہ جھاڑو دیکھتا ہے، نہ سونا، وہ دل دیکھتا ہے۔اور یہی اس واقعے کا حاصل ہے:"ما عندکم ینفد۔۔۔ وما عند الله خير وأبقی“اور جو تمہارے پاس ہے، وہ ختم ہونے والا ہے اور جو اللہ کے پاس ہے وہی بہتر اور باقی رہنے والا ہے۔”
سورہ حجرات میں پروردگار عالم ارشاد فرما رہا ہےقل اتعلمون اللہ ۔۔۔۔۔۔ بکل شییء علیم (49 : 16) “ اے نبی ان سے کہو کیا تم اللہ کو اپنے دین کی اطلاع دے رہے ہو ؟ حالانکہ اللہ زمین اور آسمان کی ہر چیز کو جانتا ہے اور ہر چیز کا علم رکھتا ہے ”۔ انسان اپنے علم کے بارے میں لمبے چوڑے دعوے کرتا ہے حالانکہ وہ خود اپنے نفس کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتا ۔ وہ اپنے آپ کی شعوری دنیا کے بارے میں بھی پوری معلومات نہیں رکھتا۔ اور نہ اسے اپنے نفس کی پوری حقیقت معلوم ہے اور نہ شعور اور لاشعور کی۔ انسان یہ بھی نہیں جانتا کہ اس کی عقل کس طرح کام کرتی ہے۔ کیونکہ انسان جب کوئی کام کرتا ہے تو اس وقت وہ خود اپنے دماغ کا ملاحظہ نہیں کرسکتا۔ اور جب وہ اپنے نفس کے بارے میں سوچتا ہے تو اس کا وہ کام رک جاتا ہے جو وہ کر رہا ہوتا ہے۔ لہٰذا ملاحظہ کے لئے کوئی چیز ہی نہیں رہتی۔ اور جب انسان کسی کام میں لگا ہوتا ہے اس وقت وہ نگرانی نہیں کرسکتا۔ اس لیے انسان خود اپنی ذات کی حقیقی معرفت سے بھی عاجز ہے۔ اور اس کے معلوم کرنے سے بھی عاجز ہے کہ انسانی دماغ کس طرح کام کرتے ہیں۔ حالانکہ یہی تو وہ چیز ہے جس پر انسان نازاں ہے“اور جو تمہارے پاس ہے، وہ ختم ہونے والا ہے اور “اور جو تمہارے پاس ہے، وہ ختم ہونے والا ہے اور جو اللہ کے پاس ہے وہی بہتر اور باقی رہنے والا ہے۔جو اللہ کے پاس ہے وہی بہتر اور باقی رہنے والا ہے۔سب سے معنی خیز منظر یہ تھا کہ وہی سونے کا سیٹ، جو کچھ دن پہلے شیشے کے پیچھے سے جس کو نزرول حسرت بھی نگاہوں سے تک تک رہا تھا آ ج اس کے ہاتھوں جگمگا رہا تھا
(عربی سے اردو ترجمہ: ضیاء چترالی)
آٹسٹک بچوں کا ہومیو پیتھک علاج
آٹسٹک بچوں کا ہومیو پیتھک علاج –
آٹزم ایک ایسا ذہنی عارضہ ہے جو ماں کے پیٹ میں ہی بچے کو لاحق ہو چکا ہوتا ہے اس مرض میں والدین کو گونا گوں پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جیسے بچے کی سمجھ بُوجھ بات چیت کا انداز یا پھر مکمل خاموشی ، میل جول، سوچ سمجھ اور اپنے حواس کو کنٹرول کرنے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ آٹزم سے متاثرہ مریض کا دماغ عام انسان کے مقابلے میں ایک مختلف طریقے پر نشوونما پاتا اور کام کرتا ہے۔ یہ دنیا کو مختلف انداز سے دیکھتے اور سمجھتے ہیں۔ آٹزم کا شکار ہر بچہ دوسرے سے مختلف ہوتا ہے اور اس کی علامات بھی دوسرے آٹزم بچوں سے مختلف ہوتی ہیں۔ یہ بچے یا تو ہر پل تبدیلی چاہتے ہیں یا پھر یکسانیت کو پسند کرتے ہیں اور نئے ماحول یا ہر صورتِ حال کے مطابق ڈھلنا ان کے لیے مشکل ہوتا ہے۔ دیر سے بولنا شروع کرتے ہیں اور اپنی بات سمجھا نہیں پاتے۔ عام طور پر یہ بچے دوسروں سے نظریں نہیں (poor eye contact) ملاتے۔ ان کا نام پکارا جائے تو متوجہ نہیں ہوتے اگرچہ وہ اپنا نام سن رہے ہوتے ہیں۔ یہ پسند نہیں کرتے کہ کوئی ان کے زیادہ قریب آئے اور ان کو چھوئے (don’t liked to be touch)۔ یہ اپنے جذ بات کا اظہار نہیں کر پاتے۔ ان کو کچھ کام بہت آسان لگتے ہیں اور کچھ انتہائی آسان کام بہت مشکل لگتے ہیں۔ عام طور پر ایسے بچے کھلونوں سے کھیلتے نہیں ہیں بس انھیں جمع کرتے ہیں اور ایک خاص ترتیب میں رکھتے ہیں اور اس ترتیب میں تبدیلی برداشت نہیں کرتے۔ انھیں چیزوں کو گھمانا اور ان کو گھومتے ہوئے دیکھتے رہنا اچھا لگتا ہے۔یہ بہت دیر تک بغیر اکتائے پنکھے کو گھومتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں
(hand flapping) ۔ اپنی خوشی کا اظہار ہاتھوں کو پھڑپھڑا کر کرتے ہیں۔جبکہ کچھ آٹسٹک بچوں کے ہاتھوں پر لرزہ بھی ہوتا ہے اپنے ہاتھوں کومختلف انداز میں گھما گھما کر ان سے کھیلتے ہیں۔ چلنے کے دوران ایڑھیاں اٹھا کر چلتے (toe walking) ہیں اور سارا وزن پنجوں پر ڈال دیتے ہیں۔ کئی مرتبہ مسلسل ایک ہی لفظ کو بہت دیر تک دہراتے رہتے ہیں۔ انھیں غصہ (aggressive) بہت زیادہ آتا ہے۔ کسی ایک ہی بات کے متعلق سوچتے رہتے ہیں۔ زیادہ تر فکر مند اور سوچوں میں رہتے ہیں یا پھر بالکل سپاٹ۔ کبھی یہ منہ سے عجیب وغریب آوازیں نکالتے ہیں تو کبھی عجیب و غریب شکلیں بناتے یعنی منہ بگاڑتے رہتے ہیں۔ منہ سے رالیں بہنا، اپنے پرائیویٹ پارٹ کو چھیڑتے رہنا، جنسی جذبات کو کنٹرول نہ کر سکنا، یکدم غصہ کرنا، چیزیں پھینکنا یا پھاڑنا یا آگ لگاتے رہنا، دانتوں سے خود کو یا دوسروں کو کاٹنا، اچانک رونے دھونے لگ جانا بھی اہم علامات ہیں۔ یہ اپنے ارد گرد کی دنیا سے غافل نظر آ سکتے ہیں۔ دنیا سے رابطہ (socially isolated) نہیں رکھنا چاہتے۔ بعض آٹسٹک بچے ہر وقت بال کٹوانا چاہتے ہیں تو بعض کے بال یا ناخن کٹوانا بہت ایک بہت بڑی مصیبت ہوتی ہے۔ یہ کئی کئی دن ایک ہی قسم کی خوراک کھانا چاہتے ہیں۔ اگر ڈر ہو تو مکھی، مچھر، چیونٹی تک کو دیکھتے ہی چیخیں مار مار کر بھاگیں گے اور اگر ڈر نہیں ہے تو کسی بھی چیز کی کوئی پروا ہی نہیں ہے۔ بادل کی گرج چمک، اندھیرا، روشنی، اونچی آواز سے بھی شدید قسم کا ڈر ہو سکتا ہے۔ یہ بہت زیادہ ایکٹو ہو سکتے ہیں کہ سارا دن چلتے، دوڑتے بھاگتے رہیں یا اتنے شل کمزور اور تھکے ہارے کہ کچھ بھی نہ کریں۔آٹزم کا شکار سب بچے ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔
اگر آپ کا بچہ آٹزم سے متاثر ہے تو ضروری نہیں کہ یہ تمام علامات اس میں موجود ہوں۔ سب سے زیادہ پائی جانے والی علامات میں دیر سے بولنا (lack of speech)، دیر سے چلنا، تنہائی پسند ہونا اور حواس خمسہ (sensory issues) کو کنٹرول نہ کر پانا ہے۔ ان بچوں کا بولنے، سننے، چکھنے، سونگھنے اور چھونے کا انداز عام بچوں سے مختلف ہوتا ہے۔اگر ایک جگہ پر پچاس آٹزم بچے ہوں تو ان سب کی علامات ایک دوسرے سے مختلف ہوں گی۔اکثر والدین یہ سوال پوچھتے ہیں کہ ان کا بچہ کب تک ٹھیک ہو جائے گا؟ علاج کے لیے کتنا عرصہ درکار ہو گا؟درحقیقت یقینی طور پر کوئی بھی بڑے سے بڑا ڈاکٹر اس سوال کا جواب نہیں دے سکتا۔ صرف آٹزم ہی نہیں دیگر پرانے اور شدید امراض جیسے دمہ (Asthma)، الرجی(Allergy)، چنبل (psoriasis)، گنٹھیا (Arthritis)، ہائپوتھائرائڈزم (Hypothyroidism)، ایگزیما (eczema)، مرگی (epilepsy) وغیرہ میں بھی علاج کی مدت بتانا ممکن نہیں ہوتا۔ ہر انسان کے علاج کا دورانیہ دوسرے انسان سے مختلف ہوتا ہے۔ آٹزم کے پہلے لیول (mild autism) عام طور پر ایک سے تین سال کا عرصہ درکار ہوتا ہے اور تیسرے لیول (severe autism) کے کیسز میں پانچ سے دس سال بھی لگ سکتے ہیں۔مکمل طور پر شفایابی ہمیشہ ممکن نہیں ہوتی۔ مکمل صحت یابی کا مطلب ہے کہ بچہ بالکل ٹھیک ہو جائے۔
اگر کسی ہومیو پیتھک ڈاکٹر سے جلدی اور بروقت علاج کروایا جائے تو مائلڈ آٹزم (mild autism) میں بہت سے بچے صحت یاب ہو جاتے ہیں۔ دوسرے (mild to moderate autism) اور تیسرے لیول (severe autism) کے آٹزم کیسز میں ایک عرصے تک علاج سے ہونے والی تبدیلیوں کا مشاہدہ کیا جاتا ہے۔ ہر تبدیلی مزید بہتری کی راہ ہموار کرتی ہے۔ یہ علاج لمبا ہوتا ہے اور بہتری کسی بھی وقت شروع ہو سکتی ہے۔عام طور پر ہاتھوں اور پیروں کی حرکات میں پہلے بہتری آتی ہے۔ بچے نارمل طریقے سے چلنے لگتے ہیں اور ہاتھوں کو بلاوجہ نہیں ہلاتے ۔نظریں ملانے (eye contact) کا مسئلہ بھی کچھ بہتر ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ پھر بچوں کی سمجھ بوجھ (comprehension)،بات چیت اور حسی مسائل میں بہتری آتی ہے۔ وہ سماجی طور قابل قبول حیثیت اختیار کرنے لگتے ہیں؛ لوگوں میں گھلنے ملنے لگتا ہے۔ اس دوران دوسروں سے آنکھیں ملا کر بات کرنے میں بھی سدھار آنا شروع ہو جاتا ہے۔جس طرح سب بچوں کی علامات ایک جیسی نہیں ہوتیں؛ اسی طرح ان کے علاج کا دورانیہ اور نتائج بھی ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔ کچھ بچوں میں کوئی ایک پہلو پہلے بہتر ہو جاتا ہے اور کچھ بچوں میں دوسرا۔ کچھ بچے پہلے چند ہفتوں میں ہی اچھا رسپانس دیتے ہیں اور کچھ بچوں میں بہتری آنے میں چند مہینے لگ جاتے ہیں۔
عطاؤں کی بارش جب برسنے کوآئ حصہ اول
منگل، 27 جنوری، 2026
جامعہ الازہر قاہرہ -مسلمانوں کی جامعہ افتخار
ہفتہ، 24 جنوری، 2026
پلازہ کے نقشے میں ہنگامی اخراج کا کوئی ذکر تک نہیں ہے
سال 2005 میں پریڈی کوارٹرز میں کوارٹر نمبر 32 پر مقدمہ نمبر 56/2005 درج ہوا۔ یہ وہی کوارٹر ہے جہاں گل پلازہ قائم ہے۔ اس مقدمے میں کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے سابق چیف کنٹرولر مرحوم بریگیڈیئر (ر) اے ایس ناصر سمیت کئی افسران اور نجی فریقین کو بدعنوانی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور جعلسازی کے الزامات کے تحت نامزد کیا گیا تھا۔ استغاثہ نے اس وقت گل محمد خانانی نامی شخص کو پریڈی کوارٹرز(گل پلازہ) کا مالک قرار دیا تھا۔کراچی کے علاقے صدر، پریڈی کوارٹرز میں واقع گل پلازہ ماضی میں تعمیر اور غیر قانونی منظوریوں، بلڈنگ کنٹرول کی بدعنوانی اور سیاسی مداخلت کے ایک نمایاں مثال کے طور پر سامنے آتا رہا ہے جبکہ حال ہی میں آگ لگنے کے واقعے میں کئی لوگوں کی جانوں کا نقصان آپ کے سامنے ہے۔ اس پلازہ کی کہانی آج سے کوئی 15 سال قبل ایک کیس کے تناظر میں خوب سمجھ آسکتی ہے مذکورہ کیس کا آغاز سن 2005 میں ہوا جب کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے بعض افسران اور نجی فریقین کے خلاف بدعنوانی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور جعلسازی کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ یہ مقدمہ ایف آئی آر نمبر 56/2005 کے تحت قائم ہوا جس کا تعلق پلاٹ نمبر PR-I/32، پریڈی کوارٹرز سے تھا۔ یہ وہی پلاٹ ہے جہاں بعد میں گل پلازہ تعمیر ہوا جو وقت کے ساتھ ساتھ درآمدی اشیا کا ایک بڑا تجارتی مرکز بن گیا۔ استغاثہ کے مطابق پلاٹ میں جو جگہ گاڑیوں کی پارکنگ کے لیے مختص تھی اسے غیرقانونی طور پر دکانوں اور تجارتی استعمال میں تبدیل کیا گیا تھا جس سے شہری قوانین اور بلڈنگ ریگولیشنز کی صریح خلاف ورزی ہوئی تھی
۔اس مقدمے میں گل محمد خانانی کو گل پلازہ کے مالک کے طور پر نامزد کیا گیا تھا۔ الزام یہ تھا کہ انہوں نے کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے اعلیٰ افسران کے ساتھ ملی بھگت کے ذریعے ایسی منظوری حاصل کی جو سندھ ریگولرائزیشن کنٹرول آرڈیننس 2002 کی دفعہ 5-C کے خلاف تھی۔ یوں گل محمد خانانی اس غیرقانونی تعمیر کے براہ راست فائدہ اٹھانے والے فریق قرار پائے۔5 جنوری 2008 کو خصوصی اینٹی کرپشن جج کراچی سید گل منیر شاہ نے اس مقدمے میں سابق چیف کنٹرولر کے بی سی اے بریگیڈیئر (ر) اے ایس ناصر، دیگر افسران اور دیگر ملزمان کے ساتھ ساتھ گل محمد خانانی پر بھی فرد جرم عائد کی۔ تمام ملزمان نے صحت جرم سے انکار کیا اور مقدمہ لڑنے کا فیصلہ کیا۔ ان پر تعزیرات پاکستان اور انسداد بدعنوانی ایکٹ 1947 کے تحت متعدد سنگین دفعات لگائی گئیں جن میں کرپشن، جعلسازی اور دھوکہ دہی شامل تھیں۔2008 کے دوران یہ مقدمہ مختلف سماعتوں اور التوا کا شکار رہا۔ عدالت میں ملزمان کی جانب سے مقدمہ خارج کرنے کی درخواستیں بھی دائر کی گئیں تاہم کیس بدستور زیر سماعت رہا اور استغاثہ کی جانب سے موقف برقرار رکھا گیا کہ سرکاری افسران نے نجی فائدے کے لیے قانون کی خلاف ورزی کی بالآخر اپریل 2010 میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی جب حکومت سندھ نے فوجداری ضابطہ کارروائی کی دفعہ 494 کے تحت یہ مقدمہ واپس لینے کی درخواست دائر کی۔
عدالت نے اس درخواست کو منظور کرتے ہوئے سابق کے بی سی اے چیف سمیت تمام ملزمان بشمول گل محمد خانانی کو الزامات سے بری کر دیا۔ عدالت کے فیصلے کے مطابق مقدمہ کسی عدالتی ٹرائل کے منطقی انجام تک پہنچے بغیر حکومتی فیصلے کے نتیجے میں ختم ہوا۔سابق کے بی سی اے چیف بریگیڈیئر ریٹائرڈ اے ایس ناصر سال 2024 جنوری کو گھر میں گر کر زخمی ہوئے اور کئی دنوں تک زیر علاج رہنے کے بعد انتقال کر گئے جبکہ حالیہ چند رپورٹس کے مطابق گل محمد خانانی سے متعلق بھی ابہام پایا جا رہا ہے کہ آیا وہ اس پلازہ کے مالک ہیں یا نہیں؟ بتایا جا رہا ہے کہ اس پلازہ کے مالک کا اصل نام بھی درست نہیں ہے تاہم ماضی میں گل محمد خانانی ہی مالک کے طور پر اس کیس میں نامزد کیے گئے تھے۔ ماضی کا یہ کیس اور اس پر کیا گیا فیصلہ کراچی میں غیرقانونی تعمیرات، بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے کمزور نظام اور احتساب کے سوالات کو آج بھی زندہ رکھا ہوا ہے۔ یوں سرکاری اداروں کی کمزوریوں سے بھی آپ کو اندازہ ہوگا کہ کس قدر یہ نظام کھوکھلا چلا آرہا ہے۔ 31 اکتوبر 2004 کو کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی ایک ٹیم سولجر بازار میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن کرنے پہنچی تھی۔ یہ ٹیم فیروزآباد تھانے کی حدود میں واقع غیرقانونی تعمیرات گرانے کے لیے پہنچی تھی۔ یہ کارروائی سندھ ہائی کورٹ کے احکامات پر کی جا رہی تھی تاہم پولیس نے اس پوری ٹیم کو ہی حراست میں لے لیا۔
اطلاع ملنے پر کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے چیف کنٹرولر بریگیڈیئر (ر) اے ایس ناصر نے پولیس کے اعلیٰ حکام سے رابطہ کیا جن کی مداخلت کے بعد کے بی سی اے کے اہلکاروں کو رہا کر دیا گیا۔حالیہ کیس میں گل پلازہ میں لگنے والی آگ اور ان واقعات کی کڑیاں ملائیں تو بہت کچھ کلئیر ہوجاتا ہے۔ یہ تمام واقعات میڈیا پر بھی رپورٹ ہوچکے ہیں۔حالیہ میڈیا رپورٹس کے مطابق گل پلازہ کی عمارت اصل میں 1980 کی دہائی میں تعمیر کی گئی تھی۔ ابتدائی تعمیر کے بعد 1998 میں اس میں اضافی منزلیں بنائی گئیں اور 14 اپریل 2003 کو مالک نے کمپلیشن سرٹیفیکیٹ حاصل کیا تھا۔ نقشے کے مطابق اس میں بیسمنٹ سمیت تین منزلوں کی اجازت تھی لیکن حقیقت میں وہاں 1021 سے زائد دکانیں (تقریباً 1200) بن گئی تھیں اور کچھ دکانیں تو باہر نکلنے کے راستوں پر بھی تعمیر ہو چکی تھیں جس نے آگ کے دوران لوگوں کی انخلا کو مزید مشکل بنایا جبکہ بعض رپورٹس میں آتا ہے کہ پارکنگ اور بیسمنٹ میں اضافی سامان بھی رکھا جاتا رہا ہے۔ دعویٰ یہ بھی سامنے آرہا ہے کہ پلازہ کے نقشے میں ہنگامی اخراج کا کوئی ذکر تک نہیں ہے۔ یوں گل پلازہ میں لگنے والی آگ اور جانوں کے ضیاع سے یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ جب قانون پر عملدرآمد کرنے والے ادارے خود کمزور، باہمی کشمکش کا شکار اور سیاسی و انتظامی مداخلتوں کے تابع ہوں تو غیرقانونی تعمیرات سانحات کی بنیادیں بن جاتی ہیں
ادیب یوسف زئ کی یہ تحریر میں نے اپنی فیس بک سے لی ہے
جمعہ، 23 جنوری، 2026
فا ٹا حکومت کی توجہ چاہتا ہے
اللہ تعالیٰ نے بلوچستان میں سونے اور تانبے کے ذخائر رکھے ہیں۔ جن کی مالیت دو کھرب ڈالر سے بھی زیادہ بنتی ہے۔ 54ملین ٹن سونے کے ذخائر موجود ہیں۔ اور بلوچستان میں موجود ریکوڈیک کان دنیا کی پانچویں بڑے ذخائر ہیں۔ ضلع چاغی میں موجود ریکوڈیک کے سونے ذخائر اتنی مقدار میں موجود ہیں کہ اسے نکالنے کے لیے 20 سال زائد کا عرصہ لگ سکتا ہے۔ یہ سونے کا پہاڑ 100 کلومیٹر سے زائد کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ اور اب مزید سونا سندھ کے علاقے تھر پارکر کے قصبے نگر پارکر سونے کے ذخائر دریافت ہوئے ہیں۔ مشیر معدنیات سندھ نے کہا کہ نجی کمپنی کی کھدائی کے بعد سونے کے ذخائر کی تصدیق ہو گئی ہے۔مہمند: سنگ مرمر کی کانوں کے تنازعے اور 'تاریخ پر تاریخ'مہمند کے رہائشی وزیر خان کے مطابق قبائلی علاقوں کے خیبرپختونخوا میں انضمام سے قبل جرگہ سسٹم تھا لیکن اب جس کا بھی مسئلہ ہو وہ عدالت میں پیشیوں پر جاتا ہے، جہاں ایک تاریخ کے بعد دوسری تاریخ ملتی ہے اور کیس جلدی ختم نہیں ہوتے۔قبائلی ضلع مہمند سنگ مرمر (ماربل) کے پتھر کے قیمتی ذخائر کے حوالے سے شہرت رکھتا ہے اور یہاں سے ملک کے اندر اور باہر خوبصورت سنگ مرمر فراہم کیا جاتا ہے، تاہم آج کل مہمند میں سنگ مرمر کی تقریباً 80 فیصد کانیں بند ہیں، مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اس صنعت کو پوری طرح بحال کیا جائے تو یہاں روزگار کے مواقع میسر ہوں گے، جس سے غربت کم ہوگی۔
مہمند کے ایک رہائشی وزیر خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ضلع مہمند میں زیارت پہاڑی کا سنگ مرمر نہ صرف پاکستان میں بلکہ ایشیا بھر میں مشہور ہے لیکن یہاں سب سے بڑا مسئلہ یہ کہ ٹھیکیداروں کو بلاسٹنگ کے لیے بارود نہیں مل رہا اور جن کانوں پر قومی تنازع ہے، وہاں صرف عدالتی پیشیاں ہوتی ہیں اور کام ختم نہیں ہوتا۔ان کا کہنا تھا کہ اگر یہاں کام چل جائے اور سڑک بن جائے تو لوگوں کو سہولت ہو جائے گی، کاروبار چلے گا اور غربت میں کمی ہوگی۔وزیر خان نے بتایا کہ قبائلی علاقوں کے صوبہ خیبرپختونخوا میں انضمام سے قبل جرگہ سسٹم تھا تو لوگوں کو جو مسئلے ہوتے تھے وہ مشیران کے ذریعے آپس میں بیٹھ کر ہی حل ہو جاتے تھے، لیکن اب جس کا بھی مسئلہ ہو وہ عدالت میں پیشیوں پر جاتا ہے، جہاں ایک تاریخ کے بعد دوسری تاریخ ملتی ہے اور کیس جلدی ختم نہیں ہوتے۔مہمند میں چھپے اربوں کے قدرتی خزانے اور سرکاری بے پروائیمہمند ڈیم: کام شروع ہوا نہیں لیکن نام پر تنازع شروع-مہمند: چہل پہل کی واپسی تو بس سطحی باتیں ہیں-ضلع مہمند کے علاقہ گندہاب میں سنگ مرمر کے کارخانے کے مالک زاہد شاہ کو بھی کافی مسائل کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے روزگار پر اثر پڑا ہے۔انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ حکومت کی پالیسوں کی وجہ سے پہاڑ اور سنگ مرمر کی کانیں بند ہیں۔ پتھر نہیں مل رہا اور سڑک خراب ہونے کی وجہ سے کھلی کانوں تک گاڑیوں کے ذریعے سے رسائی بھی مشکل ہے تو اس سے ان کا کاروبار متاثر ہو رہا ہے کیونکہ وہ گاہکوں کی ڈیمانڈ پوری نہیں کر پا رہے۔
زاہد شاہ نے بتایا کہ مہمند کا سنگ مرمر مشہور ہے، جس میں زیارت کے ماربل، خانقاہ اور آج کل سٹرابیری ماربل کی بہت زیادہ مانگ ہے جبکہ زیارت وائٹ اور سٹرابیری ماربل یہاں کارخانوں میں تیار کرکے پنجاب، کراچی اور ملک کے دوسرے علاقوں کے علاوہ بیرون ممالک بھی بھیجا جاتا ہے۔ان کا کہنا تھا: 'یہاں ماربل کے پہاڑ علاقے کے عوام کی ملکیت سمجھے جاتے ہیں تاہم انضمام کے بعد حکومت نے کانوں کو لیز کرنے کا نیا قانون متعارف کرایا ہے جس سے اب کچھ علاقوں کے ماربل کی کانیں حکومت کی لیز کے مسائل کی وجہ سے بند ہیں اور مالکان عدالتوں کے چکر لگا رہے ہیں جکہ کچھ سنگ مرمر کی کانوں پر مقامی افراد کے آپس میں رائیلٹی پر اختلافات ہیں جس کی وجہ سے قیمتی اور خوبصورت سنگ مرمر کی اکثر کانیں بند پڑی ہوئی ہیں۔'زاہد شاہ نے بتایا کہ خیبر پخنونخوا میں انضمام کے بعد ماربل کے کارخانوں اور دیگر کو پانچ سال کے لیے ٹیکس فری زون قرار دیا گیا تھا لیکن ہمارے بجلی کے بلوں میں ٹیکس ابھی تک شامل ہوتا ہے۔ ان کے مطابق ایک کارخانے دار ہر ماہ بجلی کے بل میں 80 ہزار سے لے کر ایک لاکھ تک ٹیکس جمع کرواتا ہے۔انہوں نے سوال کیا: ’ٹیکس فری زون قرار دینے کے بعد ہم سے کیوں ٹیکس لیا جاتا ہے؟ یہ ہمارے لیے بڑا مسئلہ ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ ہمارے بجلی کے بلوں کو ٹیکس فری کیا جائے۔زاہد شاہ نے ضلع مہمند میں حکومت کی جانب سے ماربل سٹی پراجیکٹ کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے تو ماربل سٹی کے لیے زمین لے لی ہے اور کچھ لوگوں نے کارخانوں کے لیے پلاٹ بھی لیے ہیں لیکن سرکار کی جانب سے ترقیاتی کام بند ہونے کی وجہ سے کارخانے نہیں لگائے جا رہے۔
سنگ مرمر کے پتھر پہاڑوں میں سے بغیر کسی جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے نکالے جاتے ہیں جس میں 40 سے 60 فیصد سنگ مرمر کے پتھر ضائع ہوجاتے ہیں۔یہاں اگر تمام پتھر کی کانوں میں کام ہوتا ہو تو روزانہ کی بنیاد پر ڈھائی سے تین سو تک ٹرک لوڈ کیے جا سکتے ہیں جن میں سے فی ٹرک 60 ٹن کے پتھر ہوتے ہیں۔ایک ٹن کی قیمت چار ہزار سے 12 ہزار روپے تک ہوتی ہے جس میں سے زیارت کا وائٹ ماربل پوری دنیا میں خصوصیت رکھتا ہے اور دھوپ میں ٹھنڈا ہونے کی خاصیت رکھنے پر زیادہ قیمت پر فروخت ہوتا ہے۔سنگ مرمر کے بڑے پتھر تراشنے اور اسے مختلف سائز میں کاٹنے کے لیے کارخانوں میں لے جایا جاتا ہے لیکن ضلع مہمند میں سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے صرف چند ہی کارخانے لگائے گئے ہیں۔مچنی کے علاقے میں فاٹا ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے ماربل سٹی کی منظوری دی تھی جس کے لیے 600 ایکڑ سے زائد زمین بھی مقامی لوگوں سے خریدی جا چکی ہے اور وہاں پر بجلی کی گرڈ سٹیشن پر بھی کام مکمل کیا جاچکا ہے لیکن خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد فاٹا ڈویلمنٹ اتھارٹی کا وجود ختم ہوگیا، جس کے بعد ماربل سٹی پر کام بند ہو گیا
نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے
کہو دلہن بیگم ! ہمارا بھائ تمھیں کیسا لگا
میں سہاگن بنی مگر !نگین دلہن بنی مثل ایک زندہ لاش کے سر جھکائے بیٹھی تھی اس نے آج کے دن کے لئے بڑی آپا کے اور منجھلی آپا کے سمجھانے سے ...
حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر
-
میرا تعارف نحمدہ ونصلّٰی علٰی رسولہ الکریم ،واٰ لہ الطّیبین الطاہرین جائے پیدائش ،جنوبی ہندوستان عمر عزیز پاکستان جتنی پاکستان کی ...
-
خوبصورت اور لہلہاتے قدرتی نظاروں سے مالامال جزیرہ ماریشس (موریطانیہ )کے ائر پورٹ 'پورٹ لوئس کے سرشِو ساگر رام غلام انٹرنیشنل ائیرپ...
-
نام تو اس کا لینارڈ تھا لیکن اسلام قبول کر لینے کے بعد فاروق احمد لینارڈ انگلستانی ہو گیا-یہ سچی کہانی ایک ایسے انگریز بچّے لی...