پیر، 29 دسمبر، 2025

باکمال لوگوں سے بے کمال لوگوں کے سفر کے درمیان پی آئ اے


 با کمال لوگوں سے بے کمال لوگوں کے سفر میں پی آئ اے  'پورے پاکستان میں محب وطن لوگوں کے دل پی آئ اے کی نجکاری کی خبر سن کر  غم اورغصے سے بھر گئے ہیں  تحریک انصاف  کے  رہنما شوکت یوسفزئی نے قومی ایئرلائن پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی نجکاری کا عمل مکمل ہونے پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق شوکت یوسفزئی نے پی آئی اے کی نجکاری پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے پر ان کا دل خون کے آنسو رو رہا ہے،  دنیا بھر میں قومی اثاثوں کو تحفظ فراہم کیا جاتا ہے لیکن پاکستان میں نااہل حکمرانوں کی مبینہ کرپشن اور ناقص پالیسیوں کے باعث قومی ادارے مسلسل زوال پذیر ہو رہے ہیں۔شوکت یوسفزئی نے کہا کہ پی آئی اے جیسے قومی ادارے کی فروخت صرف ایک ادارے کا معاملہ نہیں بلکہ یہ ایک خطرناک ابتدا ہے، جس کے بعد مزید قومی ادارے بھی فروخت کیے جا سکتے ہیں، آخر ان قومی اداروں کو اس نہج تک پہنچانے کے ذمہ دار کون ہیں اور ان کا تعین کب کیا جائے گا؟پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ قومی ادارے عوام کی امانت ہوتے ہیں اور ان کی تباہی یا فروخت سے پہلے ان افراد کا احتساب ہونا چاہیے جن کی غلط پالیسیوں، بدانتظامی اور کرپشن کے باعث یہ ادارے خسارے میں گئے


، انہوں نے مطالبہ کیا کہ پی آئی اے سمیت دیگر قومی اداروں کے معاملات کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔اورفارم 47 کے ذریعے مسلط کئے گئے حکمران گھر کاسامان اونے پونے بیچ کرجشن منانے میں مصروف ہیں۔اصلاح اوربہتری لانے کی بجائے قومی اداروں کی نجکاری حکومتی نااہلی اورملک دشمنی کے مترادف ہے ۔گزشتہ روز اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ پی آئی اے دنیا کی بہترین ایئرلائن تھی اور اس نے ایمریٹس ،سنگاپور اور مالٹا ائیر لائن کو بنانے میں بھی اہم کردار ادا کیا تھامگرسیاسی مداخلت ومیرٹ کا قتل اورکرپشن کی وجہ سے ہرادارا تباہی کے دہانے پرکھڑاہے-واضح رہے کہ نجکاری کمیشن بورڈ کی جانب سے قومی ایئرلائن کی بولی کے حوالے سے منعقدہ تقریب میں عارف حبیب کنسورشیم نے 135 ارب روپے کی سب سے زیادہ بولی لگا کر پی آئی اے کے 75 فیصد حصص خرید لیے ہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ نجکاری کا مقصد قومی ایئرلائن کو مالی طور پر مستحکم کرنا ہے، تاہم اپوزیشن جماعتیں اس فیصلے کو قومی مفادات کے خلاف قرار دے رہی ہیں۔جماعت اسلامی سندھ کے امیرکاشف سعید شیخ نے قومی ایئرلائن پی آئی اے کوفروخت کرنے والے حکومتی عمل پرتشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ دنیا اپنے قومی اثاثوں کی حفاظت کرتی ہے۔


‏یہ ائر لائن   محترم اصفہانی  نے پاکستان کو   دی تھی لیکن پوری ایئرلائن وطنِ عزیز کو گفٹ کرنے پر اِن کے حصے میں صرف کراچی کی ایک سڑک کا نام "ابوالحسن اصفہانی روڈ" آیا ۔ ابو الحسن اصفہانی    قائدِاعظم کے نہایت قریب  اور دیرینہ رفیق تھے ۔قیامِ پاکستان کے بعد انہوں نے محض سیاسی خدمات تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ عملی طور پر بھی اس ملک کو مستحکم کرنے کے لیے اپنی تمام توانائیاں وقف کر دیں۔ ان کے خاندان نے 1946 میں “اورینٹ ایئرویز” کے نام سے ایک ایئرلائن قائم کی تھی جو قیامِ پاکستان کے وقت ایک مکمل فعال فضائی ادارہ تھی۔ جب پاکستان معرضِ وجود میں آیا تو مرزا ابوالحسن اصفہانی نے اپنی یہ ذاتی ایئرلائن بغیر کسی مالی مطالبے کے حکومتِ پاکستان کے حوالے کر دی۔ یہ وہی “اورینٹ ایئرویز” تھی جو بعد میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (PIA) کہلائی — وہ قومی ایئرلائن جس نے پاکستان کو دنیا کے نقشے پر ایک نیا مقام دیا۔یعنی ایک پورا فضائی ادارہ، اپنی چلتی ہوئی ایئرلائن، حکومتِ پاکستان کو صرف اس محبت میں عطیہ کر دی گئی کہ یہ وطن جس قربانی سے حاصل ہوا ہے، اسے مضبوط بنیاد پر کھڑا کیا جا سکے۔ لیکن افسوس کہ ایسے کردار ہمارے نصاب میں جگہ نہ پا سکے۔ پوری ایئرلائن وطنِ عزیز کو تحفے میں دینے پر ان کے حصے میں صرف کراچی کی ایک سڑک کا نام آیا — “ابوالحسن اصفہانی روڈ”۔ یہ شاہراہ آج گلشنِ اقبال اور گلستانِ جوہر کے درمیان سے گزرتی ہے اور اسی مردِ مومن کی یاد دلاتی ہے جس نے ذاتی مفاد پر قومی مفاد کو ترجیح دی۔مرزا ابوالحسن اسفہانی صرف ایک کاروباری شخصیت نہیں تھے بلکہ پاکستان کے پہلے سفارت کاروں میں سے بھی تھے۔ انہوں نے 1948 سے 1952 تک امریکہ میں پاکستان کے سفیر کے طور پر خدمات انجام دیں۔


وہ اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے پہلے نمائندوں میں شامل تھے، بعد ازاں برطانیہ میں ہائی کمشنر، وفاقی وزیرِ تجارت و صنعت اور افغانستان کے لیے سفیر بھی مقرر ہوئے۔ ان کی سفارت کاری نے پاکستان کے عالمی تعلقات کو مضبوط بنیادیں فراہم کیں۔انہوں نے اپنی زندگی کے تجربات کو کتابی صورت میں بھی محفوظ کیا۔ ان کی تصنیف “The Case of Muslim India” تحریکِ پاکستان کے ابتدائی دور کی فکری جھلک پیش کرتی ہے، جبکہ “Quaid-e-Azam Jinnah as I Knew Him” قائدِاعظم کے ساتھ گزری یادوں کا تاریخی مجموعہ ہے۔مرزا ابوالحسن اسفہانی ان چند مہاجروں میں سے تھے جنہوں نے لفظ “قربانی” کا عملی مفہوم دنیا کو دکھایا۔ وہ نہ صرف اپنے وطنِ نیا کی محبت میں سب کچھ چھوڑ کر آئے بلکہ جو کچھ ان کے پاس تھا وہ بھی وطن کے نام کر دیا۔ کاش ہمارے نصاب میں ان کا ذکر ہوتا، تاکہ نئی نسل جان پاتی کہ پاکستان کے خمیر میں کن لوگوں کی اخلاص بھری قربانیاں شامل ہیں۔کراچی کی “ابوالحسن اصفہانی روڈ” آج بھی ان کے نام کی طرح روشن ہے — ایک خاموش مگر ابدی یادگار اُن کرداروں کی، جنہوں نے اپنے عمل سے پاکستان کو اوجِ ثریا تک پہنچانے کا خواب دیکھا

اتوار، 28 دسمبر، 2025

مفت عمرے کے بدلے 25 برس کی قید کی کہانی


 بات ہر پھر کے علم کے فقدان پر آ جاتی ہے اگر ان معصوم دیہاتی خواتین کو علم ہوتا کہ مفت کا عمرہ ان کو 80 سال کی عمر میں خدا کے گھر کے بجائے 25 سال کے لئے جیل میں پہنچا دیگا تو یقینا! عمرے پر جانے کی حامی نا بھرتیں   اُس  روز زیارت بی بی اور انور بی بی بہت خوش تھیں۔ بات ہی کچھ ایسی تھی۔ 30 ستمبر 2024 کا دن تھا اور یہ دونوں بزرگ خواتین عمرے کی ادائیگی کے لیے روانہ ہونے والی تھیں۔پنجاب کے ضلع فیصل آباد کی تحصیل جڑانوالہ کے ایک گاؤں سے تعلق رکھنے والی خواتین اپنے ایک قریبی رشتہ دار نیئر عباس کے ہمراہ قریب کے ایک اور گاؤں پہنچیں، جہاں کے امام مسجد محمد ریاض بھی اپنی اہلیہ کے ساتھ اس سفر میں اُن کے ساتھ شریک ہونے والے تھے۔اِن پانچوں افراد کے عمرے کا بندوبست مبینہ طور پر مقامی زمیندار صدام حسین نے کروایا تھا جنھوں نے نہ صرف عمرے کے اخراجات ادا کیے بلکہ پانچوں افراد کو اسلام آباد ایئر پورٹ بھی اپنے خرچے پر بھیجا۔لیکن پاکستان سے روانگی کے صرف ایک ہفتے بعد اِن پانچوں افراد کی سعودی عرب میں گرفتاری کی خبر ملنے پر اُن کے اہلخانہ ہکا بکا رہ گئے۔ اور اُن کی پریشانی اُس وقت مزید بڑھ گئی جب لگ بھگ پانچ ماہ بعد، 17 فروری 2025، کو ان تین خواتین سمیت پانچوں افراد کو منشیات کی سمگلنگ کے الزام میں ایک سعودی عدالت نے پچیس، پچیس سال قید کی سزا کا حکم دے دیا۔یہ معاملہ کیا ہے؟ اس بارے میں پتہ چلا ہے کہ کیسے سادہ لوح افراد کو عمرے کا جھانسا دے کر روانگی سے تھوڑی دیر پہلے انھیں زبردستی ایسا سامان پکڑایا گیا جس میں منشیات چھپائی گئی تھی


۔لیکن سعودی عرب جانے سے پہلے یہ کیسے ہوا؟ اور اب یہ پانچ افراد بشمول زیارت بی بی اور انور بی بی کہاں ہیں؟ 30 ستمبر 2024 کے دن جڑانوالہ   کے ابرار حسین نے اپنی والدہ کو اسلام آباد ایئر پورٹ تک چھوڑنے کی خواہش کا اظہار کیا لیکن مبینہ طور پر اِس سفر کا بندوبست کرنے والے صدام حسین نے انھیں ایسا کرنے سے روک دیا۔عمرے پر جانے والوں کی ’خدمت‘ اور ’تحائفپانچوں افراد 30 ستمبر 2024 کو ائیر سیال کی فلائٹ نمبر پی ایف 718 کے ذریعے صبح چھ بج کر دس منٹ پر جدہ روانہ ہوئے تھے-25 سال قید کی سزا پانے والی ضعیف خاتون زیارت بی بی کے بیٹے ابرار حسین کی خواہش تھی کہ وہ اپنی والدہ کو اسلام آباد ائیرپورٹ پر خود الوداع کرنے جاتے لیکن، اُن کا دعویٰ ہے کہ صدام حسین نے کہا کہ ’آپ لوگوں کو اسلام آباد آنے جانے کا خرچہ کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟‘اُن کے مطابق صدام حسین نے انھیں بتایا کہ ’ہم اگر اِن کو ایصالِ ثواب کی نیت سے عمرہ کے لیے بھجوا رہے ہیں تو اسلام آباد میں اُن کو کوئی تکلیف پہنچنے نہیں دیں گے۔دوسرا کیسکراچی    ،ٹریول گینگ کا مبینہ کارنامہ، عمرے پر جانیوالی فیملی سعودی عرب میں پھنس گئی Sep 23, 2025 | 03:00 PMکراچی    ،ٹریول گینگ کا مبینہ کارنامہ، عمرے پر جانیوالی فیملی سعودی عرب میں پھنس گئی کراچی (آئی این پی )کراچی کے علاقے سرجانی ٹائون سے عمرے پر جانے والی فیملی سعودی عرب میں پھنس گئی۔رپورٹ  کے مطابق عمرہ کرانے کے نام پر منشیات اسمگل کرنے والے ٹریول گینگ کے سرگرم ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔متاثرہ اہلخانہ نے وزیراعظم، وزیر خارجہ، اعلی حکام سے اپیل کی ہے کہ بے گناہ گھر والوں کو فوری پاکستان لایا جائے۔8


 ستمبر کو ایک ہی خاندان کے 4 افراد عمرے کی ادائیگی کے لئے گئے، زائرین میں 23 سالہ زاہدہ، 26 سالہ جمیل، 28 سالہ ذاکر اور 45 سالہ انوری شامل ہیں۔اہلخانہ نے بتایا کہ جمیل مزدوری کرتا ہے اس کا ایک نوزائیدہ بیٹا ہے، زاہدہ کی دو بچیاں ہیں، 8 ستمبر کو گھر والے عمرے کے لیے کراچی سے جدہ روانہ ہوئے، 10 دن تک ان سے رابطہ نہیں ہورہا تھا، 19 ستمبر کو غیرملکی نمبر سے کال آئی، بتایا گیا کہ ہمارے سامان سے منشیات، ممنوعہ اشیا برآمد ہوئی ہیں۔متاثرہ اہلخانہ کے مطابق بتایا گیا کہ گھر والے سعودی حکومت کی حراست میں ہیں، لیگیج احرام، عمرے میں استعمال ہونے والی اشیا ٹریول ایجنٹ علی نے دی تھیں اور گھر والوں کے سامان کو منع کرکے خود سے سامان دیا۔اہلخانہ نے بتایا کہ ٹریول ایجنٹ سے مزید برآں، حکام نے ایک بار پھر خبردار کیا کہ منشیات کی اسمگلنگ یا اس نوعیت کی سرگرمیوں میں ملوث عناصر کے خلاف قانون بلاامتیاز حرکت میں لایا جائےرابطے کی کوشش کررہے ہیں لیکن وہ مفرور ہے، ہمارے گھر والے بے گناہ ہیں، منشیات کے کیس میں پھنسایا گیا ہے۔


  ایک اور دلخراش خبر: سعو دی عرب کے شہر مکہ مکرمہ میں منشیات اسمگلنگ کے سنگین جرم میں ملوث دو پاکستانی شہریوں کو سزائے موت دے دی گئی ہے۔سعودی وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری کردہ سرکاری بیان کے مطابق، دونوں پاکستانی شہریوں نے ہیروئن اور دیگر ممنوعہ منشیات جسم کے مختلف حصوں میں چھپا کر سعودی عرب اسمگل کرنے کی کوشش کی، جس پر انہیں گرفتار کر لیا گیا تھا۔حکام کے مطابق، عدالت میں مقدمے کی مکمل سماعت کے بعد جرم ثابت ہونے پر دونوں ملزمان کو سزائے موت سنائی گئی۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے سزا کے خلاف دائر اپیل مسترد کر دی، جس کے بعد شاہی فرمان کے تحت سزا پر عمل درآمد کی منظوری دی گئی۔سعودی وزارتِ داخلہ نے تصدیق کی ہے کہ دونوں پاکستانی شہریوں کو آج مکہ مکرمہ میں سزائے موت دی گئی۔وزارتِ داخلہ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ سعودی عرب میں منشیات اسمگلنگ اور اس سے متعلق جرائم کو انتہائی سنگین تصور کیا جاتا ہے، اور ایسے جرائم میں ملوث افراد کو سخت ترین سزاؤں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ 

ہفتہ، 27 دسمبر، 2025

امام باقر علیہ السلام ولادت اور فضائل

 




تمام  عالمین کی مومن مخلوقات کو فرزند نبی (صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم ) پنجم کی ولادت با سعادت مبارک ہو حضرت امام محمد باقر علیہ السلام  حضرت امام زین العابدین                 علیہ السلام کے فرزند اور اہل تشیع کے پانچویں امام ہیں. آپ کو امام باقر علیہ السّلام کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔  آپ کا سلسلہ نسب ماں اور باپ دونوں کی طرف حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم )  تک جا پہنچتا ہے۔ آپ کے دادا سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السّلام ہیں جو حضرت رسول خدامحمدمصطفیٰ کے چھوٹے نواسے ہیں اور آپ کی والدہ جناب ام عبد اللہ فاطمہ علیہا السّلام حضرت امام حسن علیہ السّلام کی صاحبزادی ہیں جو حضرت رسول کے بڑے نواسے ہیں۔ ولادت با سعادت -آپ کی ولادت روز جمعہ یکم رجب 57ھ میں ہوئی . یہ وہ وقت تھا جب امام حسن علیہ السّلام کی وفات کو سات برس ہوچکے تھے اور امام حسین علیہ السّلام مدینہ میں خاموشی کی زندگی بسر کررہے تھے اور وقت کی رفتار تیزی سے واقعہ کربلا کے اسباب فراہم کررہی تھی . یہ زمانہ آل رسول علیہم السّلام اور شیعانِ اہل بیت علیہم السّلام کے لیے بے حد پرآشوب تھا . چُن چُن کر محبانِ علی علیہ السّلام گرفتار کیے جارہے تھے،  تلوار کے گھاٹ اتارے جارہے تھے یا سولیوں پر چڑھائے جارہے تھے ۔  سانحہ کربلا -تین برس امام محمد باقر علیہ السّلام اپنے جد بزرگوار حضرت امام حسین علیہ السّلام کے زیرِسایہ رہے . جب آپ کاسن پورے تین سال کا ہوا تو امام حسین علیہ السّلام کے ہمراہ مدینہ سے سفر کرتے ہوئے کربلا پہنچے . یہ خالق کی منشاء کی ایک تکمیل تھی کہ وہ روز عاشور میدان ُ قربانی میں نہیں لائے گئے .


 ورنہ جب ان سے چھوٹے سن کا بچہ علی اصغر علیہ السّلام تیر ستم کا نشانہ ہوسکتا تھا تو امام محمد باقر علیہ السّلام کابھی قربان گاہ شہادت پر لاناممکن تھا . مگر سلسلہ امامت کادنیامیں قائم رہنا نظام کائنات کے برقرار رہنے کے لیے ضروری اور اہم تھا اور امام محمد باقر علیہ السّلام کربلا کے میدان اور کوفہ و شام کےبازاروں اور درباروں میں آل رسول پر ہونے والے مظالم کے گواہ اور عینی شاہد بنے اور انقلاب کربلا کی قربانیوں کو رائیگاں ہونے سے بچانے کے لیے اپنا کردار ادا کیا۔  واقعہ کربلا کے بعد امام زین العابدین علیہ السّلام کو مسلمانوں کی بد ترین بے وفائی اور حکمرانوں کے ظلم و ستم نے ظاہری طور پر بالکل الگ اور نہایت سکوت کی زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا لہذا آپ امامت کے فرائض کی ادائيگی کرتے ہوئے اہل دنیا کو حقیقی اسلام اور حقیقی اسلامی کی تعلیمات و عقائد سے آگاہ کرنے کے لیے کبھی محراب عبادت اور مناجات کا سہارا لیتے اور کبھی اپنے مظلوم بابا کاماتم کر کے دنیا والوں کو وارثانِ رسالت اور نمائندگانِ شریعت کی معرفت اور ان کی دین کے لیے قربانیوں کو جاننے کی دعوت دیتے.یہ وہی زمانہ تھا جس میں امام محمد باقر علیہ السّلام نے نشونما پائی .61 ھ سے 95ھ تک 34برس اپنے بابا کی زندگی کامطالعہ کرتے رہے اور اپنے فطری اور خداداد ذاتی کمالات کے ساتھ ان تعلیمات سے فائدہ اٹھاتے رہے جو انھیں اپنے والد ُ بزرگوار کی زندگی کے آئینہ میں برابر نظر آتی رہیں۔ 


 امامت کی ذمہ داری -حضرت امام محمد باقر علیہ السّلام کو 38 برس کی عمر میں اپنے والد بزرگوار حضرت امام زین العابدین علیہ السّلام کی شہادت کا صدمہ سہنا پڑااور اس کے ساتھ ہی امامت کی ذمہ داریاں بھی آپ ہی کےسپرد کر دی گئی۔ آپ رسول خدا کے پانچویں برحق جانشین اور امام قرار پائے۔ آپ کا دورامامت یہ وہ زمانہ تھا جب بنی امیہ کی سلطنت اپنی مادری طاقت کے لحاظ سے بڑھاپے کی منزلوں سے گزر رہی تھی. بنی ہاشم پر ظلم وستم اورخصوصاً کربلا کے واقعہ نے کسی حد تک دنیا کی آنکھوں کو کھول دیا توابین کا جہاد، مختار اور ان کے ہمراہیوں کے خون حسین علیہ السّلام کا بدلہ لینے میں اقدامات اور نہ جانے کتنے ہی ایسے واقعات سامنے آ چکے تھے جن سے سلطنت شام کی بنیادیں ہل گئیں تھیں جس کے نتیجہ میں امام محمد باقر علیہ السّلام کے زمانہ امامت کو حکومت کے ظلم وتشدد کی گرفت سے کچھ آزادی نصیب ہوئی اور آپ کو خلق خدا کی اصلاح وہدایت کا کچھ زیادہ موقع مل گیا . امام حسین علیہ السّلام کی عزاداری اور تبلیغ دین سانحہ کربلا کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے اور اپنے بابا کی تمام زندگی کا امام مظلوم علیہ السّلام کے غم میں تنہا رونے کا مطالعہ کرچکنے کے بعد آپ کے دل میں یہ تکلیف دہ احساس ایک فطری امر تھا کہ جس غم ورنج، گریہ وزاری اور اہتمام کے ساتھ دنیا والوں کو امام حسین علیہ السّلام کا ماتم برپا کرنا چاہیے تھا ویسا دنیا والوں نے نہیں کیا۔ لہذا امام محمد باقر علیہ السّلام نے اس پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے مجالس عزاء کا سارا سال انعقاد فرماتے اور کمیت بن زید اسدی بڑے شاعروں کو بلا کر مراثیہائے امام حسین علیہ السّلام پڑھواتے اور سنتے اور ان مجالس میں لوگوں کو شرکت کی دعوت دیتے ۔



 رجب 60ء کو جب سید الشہداء امام حسین علیہ السلام نے اسلام کی بقاء کا سفر شروع کیا تو ان میں آپ علیہ السلام بھی شریک تھے۔ اس وقت آپ کی عمر مبارک 4 سال کے لگ بھگ تھی۔ آپ نے اپنی آنکھوں سے پاکیزہ اوصاف کی رذائل کیساتھ جنگ دیکھی۔ آپ  علیہ السلام نے اپنی آنکھوں سے اپنے پیاروں اور 72 جانثاروں کو تہہ تیغ ہوتے دیکھا۔ تین دن کی سخت ترین گرمی اور دھوپ میں پیاس کی شدت کو برداشت کرنے والوں میں آپ بھی شریک تھے۔ شب عاشور خیموں کے لُٹنے، چادروں کے چھننے اور سید سجاد علیہ السلام کی علالت کو آپ نے اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا تھا۔ کربلا سے کوفہ، کوفہ سے شام اور شام سے مدینہ تک کے تمام مظالم کو سر کرنے والوں میں آپ بھی شامل تھے۔ کربلا کے پیغام رسانوں، مقصد امام حسین کی پہچان کرانے والوں اور روداد غم سنانے والوں میں آپ سید سجاد علیہ السلام اور سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کے ساتھ برابر کے شریک تھے۔ وگرنہ یزید نے یہ ٹھان لیا تھا کہ حسین علیہ السلام کے مقصد کو کربلا میں ہی دفن کر دیا جائے،ایک مرتبہ آپ سات سال کی عمر میں اپنے والد کے ساتھ حج پر جا رہے تھے۔ راستے میں ایک حیرت زدہ شخص نے سوال کیا، فرزند! تم کون ہو ؟ کہاں جا رہے ہو اور زاد راہ کیا ہے ؟ آپ نے اپنے جواب سے اُس شخص کو لا جواب کر دیا، اور فرمایا میرا سفر من اللہ اور الی اللہ (اللہ سے اور اللہ کی طرف) ہے۔ میرا زادِ راہ تقوی ہے۔ میرا نام محمد ابن علی ابن الحسین ابن علی ابن ابی طالب ہے۔

 

جمعہ، 26 دسمبر، 2025

شا لامار باغ حسن تعمیر کا نمونہ

 

 

شالیمار باغ یا شالامار باغ مغل شہنشاہ شاہ جہاں نے لاہور میں 1641ء-1642ء میں تعمیر کرایا۔ باغ ایک مستطیل شکل میں ہے اور اس کے اردگرد اینٹوں کی ایک اونچی دیوار ہے۔ شمال سے جنوب کی طرف لمبائی 658 میٹر اور مشرق سے مغرب کی طرف چوڑائی 258 میٹر ہے۔ باغ 3 حصوں میں بٹا ہوا ہے اور تینوں کی بلندی ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ ایک حصہ دوسرے سے 4.5 میٹر تک بلند ہے۔ ان حصوں کے نام فرح بخش، فیض بخش اور حیات بخش ہیں۔باغ کو ایک نہر سیراب کرتی ہے۔ اس میں 410 فوارے، 5 آبشاریں اور آرام کے لیے کئی عمارتیں ہیں اور مختلف اقسام کے درخت ہیں۔اہمیت شالامار باغ لاہور مغلیہ طرزِ تعمیر کا بہترین نمونہ ہے۔ جس میں خوبصورت چبوترے راستے پانی کی نہریں آبشاریں اور فوارے شامل ہیں۔ یونیسکو کی بین الاقوامی ثقافتی ور کمیٹی نے اس باغ کی خوبصورتی اور اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کو 30 اگست 1981ء کو دنیا کے محفوظ عجائبات کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔ تا کہ اس کی صحیح معنوں میں نگہداشت ہو سکے۔اس کی تعمیر شہنشاہ شاہجہاں کے حکم سے 1641ء میں شروع کی گئی اور یہ 1642ء میں مکمل ہوا۔ باغ کی تعمیر شاہجہاں کے ایک امیر اللہ خان کی نگرانی میں علی مردان اور ملا وا ملک تولی کے تعاون سے ہوئی۔شالامار باغ کے چاروں اطراف بلند حصاری دیوار ہے۔ یہ شمالاً جنوباً تین تختوں پر بنایا گیا ہے۔ اس کا بالائی تختہ "مزح بخش" درمیانی تختہ "فیض بخش" اور زیریں تختہ "حیات بخش" کے نام سے موسوم ہے۔ باغ کا رقبہ شمالاً جنوباً 658 میٹر طول اور شرقاً غرباً 258 میٹر عرض پر محیط ہے۔ اس کے بالائی تختہ میں 105 فوارے نصب ہیں جبکہ درمیانی تختہ میں 152 فوارے اور زیریں تختہ 153 فوارے نصب ہیں۔ اس طرح ان فواروں کی کل تعداد 410 بنتی ہے۔


اس کے علاوہ یہاں پر پانی کے بہاؤ کے لیے پانچ تختے ہیں جس میں سنگ مر مر کا عظیم تخت اور ساون بھادوں کی بارودری بھی ہے۔ شالامار باغ مغلیہ باغات کی تمام تر اہم خصوصیات کا مرقع ہے جس میں بلند راستے اور پانی کے بہاؤ کی نہریں وغیرہ شامل ہیں۔ باغ کو سیراب کرنے کے لیے 100 میل لمبی نہر دور بھارت میں وادھو پور کے مقام سے نکالی گئی جسے "شاہ نہر" اور بعد ازاں "ہنسی نہر" کا نام دیا گیا۔ باغ میں موسم سرما اور گرما کے پھلدار درخت جن میں آم، چیری، خوبانی، آلوچہ، جامن، سیب، بادام، کھٹے میٹھے نارنگیاں اور دیگر پھلدار اور خوشبودار پودے بکثرت لگائے گئے۔باغ میں متعدد عظیم عمارات بھی ہیں۔ ان متاثر کن عمارات میں بارہ دریاں، دیوان خاص و عام، خواب گاہ، شاہی حمام، دروازے اور برجیاں شامل ہیں۔ خاص کر دیوان خاص و عام، آرام گاہ، بیگم صاحبہ کی خواب گاہ، ساون بھادوں کی بارہ دری اور نقار خانہ کی عمارات شامل ہیں۔ ان عمارات کے کونوں میں برج اس کے تاریخی حسن کو دوبالا کرتے ہیں۔  مغل بادشاہ شاہجہان نے جب لاہور میں دربار لگایا تو علی مردان خان نے اسے بتایا کہ اس کے پاس ایک ایسا شخص موجود ہے جو نہر بنانے میں بڑی مہارت رکھتا ہے۔ شاہ جہاں نے خوش ہو کر حکم دیا کہ دریائے راوی سے ایک نہر نکال کر لاہور کے پاس سے گزاری جائے۔ شاہ جہان نے یہ نہر تیار کرنے کے لیے دو لاکھ روپے دیے۔ ایک سال کے بعد جب شاہ جہاں دوبارہ لاہور آیا تو نہر مکمل ہو چکی تھی۔ بادشاہ نے حکم دیا کہ اس نہر کے کنارے ایک وسیع و عریض اور بہت خوبصورت باغ تعمیر کیا جائے اور اس باغ میں بارہ دری، شاہی غسل خانے، فوارے اور جابجا پھلدار درخت لگائے جائیں۔


 شاہی ماہر تعمیرات نے باغ کی تعمیر کے لیے جس زمین کا انتخاب کیا وہ علاقہ کے معروف زمیندار میاں محمد یوسف عرف مہر مہنگا کی ذاتی ملکیت تھی۔ بادشاہ کو جب اس بات کا علم ہوا تو میاں محمد یوسف کو منہ مانگی رقم دینا چاہی پر میاں محمد یوسف نے یہ زمین بلا معاوضہ بادشاہ کو تحفہ کے طور پر پیش کر دی۔ بادشاہ اس رویہ پر اس قدر متاثر ہوا کہ اس نے باغ کی تعمیر مکمل ہونے پر میاں محمد یوسف کو ہی ناظم شالامار مقرر کر دیا۔ باغ کے تعمیر کے لیے بادشاہ نے خلیل اللہ خان کو مقرر کیا لہٰذا خلیل اللہ خان نے ملک کے کئی اور افسروں کو ساتھ لگا کر اس باغ کی تعمیر شروع کر دی۔ باغ کے لیے درختوں کے پورے قندھار اور کابل سے منگوائے گئے۔ یہ باغ شالا مار تھا جو اسی(80) ایکڑ زمین پر پھیلا ہوا ہے اس باغ کا سنگ بنیاد 1637ء میں رکھا گیا۔ اس پر چھ لاکھ روپے کے لگ بھگ لاگت آئی ڈیڑھ سال کے عرصہ میں یہ مکمل ہوا تھا۔  باغ میں ایک دلکش تالاب بھی بنا ہوا ہے جس میں بہت سارے فوارے لگے ہوئے ہیں۔ فواروں کا پانی سنگ مرمر کے حوضوں میں گرتا ہے۔ یہ فوارے گرمیوں کے موسم میں جگہ ٹھنڈی رکھنے کے لیے لگوائے گئے تھے۔ یہاں پر سنگ مرمر کی پانچ خوبصورت بارہ دریاں بنائی گئی ہیں۔ بادشاہ ان بارہ دریوں میں بیٹھ کر برسات کا نظارہ کیا کرتا تھا۔ باغ کے ایک حصے میں جسے حیات بخش کہتے ہیں۔ سنگ مرمر کا ایک بہت ہی خوشنما تخت بنوایا گیا ہے شاہ جہاں اس تخت پر بیٹھ کر اپنا دربار لگایا کرتا تھا۔ کچھ فاصلے پر سنگ مرمر کی ایک آبشار بنی ہوئی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اورنگ زیب عالمگیر کی بیٹی زیب النساء چونکہ شاعرہ تھی اس لیے اکثر اس جگہ بیٹھ کر شعر کہا کرتی تھی۔


 شالا مار باغ میں شاہ جہاں نے اپنے لیے حمام بھی بنوایا تھا۔ حمام کے تین حصے تھے ایک حصے میں دو فوارے اور دوسرے حصے میں حوض ہے اس حوض میں گرم اور ٹھنڈا دونوں طرح کا پانی لایا جاتا تھا۔ سنگ مرمر کے کئی طاقچے چراغ رکھنے کے لیے بنوائے گئے تھے۔ جب یہاں چراغ جلائے جاتے تھے تو حوض میں گرنے والا پانی بارش کا سماں پیدا کرتا اور چراغ کی روشنی بجلی کی چمک کی طرح معلوم ہوتی بادشاہ اس نظارے سے بہت لطف اٹھاتا تھا۔ باغ فرح بخش، جسے پائیں باغ بھی کہا جاتا تھا حیات بخش سے نیچے بنا ہوا ہے شالا مار باغ میں بہت پھلدار درخت لگے ہوئے ہیں۔ شاہجہان جب لاہور آیا تو امیروں اور وزیروں نے عرض کی کہ حضور! شالامار باغ مکمل ہو چکا ہے۔ بادشاہ باغ میں داخل ہوا تو شالامار کا حسن دیکھ کر باغ باغ ہو گیا۔ اس وقت شاہجہان کے نائبین نے حاضر ہو کر مبارکبادیں دیں اور سب نے مل کر شاہی حکومت کی بہتری اور برتری کے لیے دعائیں مانگیں۔ اس موقع پر ملک کے بڑے بڑے عالم، فاضل اور بزرگ موجود تھے۔ ان عالموں نے بادشاہ سے کہا کہ آج تک دنیا میں ایسا خوبصورت باغ نہ کہیں دیکھا نہ سنا ہے۔ باغ کے گرد اونچی اونچی دیواریں بنائی گئیں۔ لاہور کا شالا مار باغ دنیا کے عظیم الشان باغوں میں شمار ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ جب کسی دوست ملک کا سربراہ، بادشاہ یا کوئی نامور شخص پاکستان کے دورے پر آتا ہے تو لاہور میں شالا مار باغ کی سیر ضرور کرتا ہے اس باغ میں معزز مہمانوں کو شہریوں کی طرف سے استقبالیہ دیا جاتا ہے ہزاروں شہری معزز مہمان سے ملتے ہیں اور بات چیت کرکے محظوظ ہوتے ہیں۔ پاکستان بننے کے بعد دوست ملکوں کے سربراہ اور نامور رہنماء اکثر یہاں آتے رہتے ہیں اور باغ میں استقبالیہ ان کے پروگرام کا لازمی جزو ہوتا ہے۔

 

جمعرات، 25 دسمبر، 2025

ہم جنس پرستوں کا راکھ میں مدفون شہر'پومپئ'

 

  انسانی بستیوں سے چھینا گیا وہ شہر جسے قدرت نے 1500 سال بعد لفظ بہ لفظ دنیا کے سامنے پیش کر دیاکیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ کوئی پورا شہر، جس کی گلیاں، مکانات، کھانے پینے کی اشیاء اور یہاں تک کہ دیواروں پر لکھیہوئی روزمرہ کی باتیں بھی ایک ہی لمحے میں وقت کے ہاتھوں منجمد ہو جائیں، اور پھر ڈیڑھ ہزار سال بعد بالکل اسی طرح دوبارہ دریافت ہو جائیں؟ یہ کسی ٹائم کیپسول کی کہانی نہیں بلکہ رومن سلطنت کے مشہور شہر "پومپیئی" (Pompeii) کا سنسنی خیز اور دل دہلا دینے والا واقعہ ہے۔یہ واقعہ 79 عیسوی کا ہے، جب پومپیئی شہر اپنے عروج پر تھا اور رومن امراء کے لیے عیش و عشرت کا مرکز مانا جاتا تھا۔ یہ شہر نیپلز کے قریب، Mount Vesuvius نامی خوبصورت پہاڑ کے دامن میں واقع تھا۔ شہر کے باسی اس بات سے بے خبر تھے کہ یہ پہاڑ دراصل ایک خطرناک آتش فشاں تھا جو صدیوں سے خاموش تھا۔24 اگست 79 عیسوی کو، ظہر کے وقت، Mount Vesuvius اچانک اور بغیر کسی وارننگ کے پھٹ پڑا۔ یہ پھٹنا اتنا خوفناک تھا کہ آسمان کالے دھوئیں، راکھ اور چٹانوں کے ٹکڑوں سے بھر گیا۔ راکھ کا یہ طوفان 15 میل کی اونچائی تک جا پہنچا۔ 



چند ہی گھنٹوں میں، پومپیئی شہر 20 فٹ سے زیادہ آتش فشانی راکھ کی موٹی تہہ کے نیچے دب گیا، اور اس کے ساتھ ہی شہر کی تمام زندگی بھی دفن ہو گئی۔ یہ سب اتنا اچانک ہوا کہ ہزاروں لوگ بھاگ نہیں پائے اور وہ جس حالت میں تھے، اسی میں منجمد ہو کر رہ گئے۔پومپیئی شہر اگلے 1500 سال تک دنیا کی نظروں سے اوجھل رہا اور تاریخ کے اوراق سے مٹ گیا۔ پھر 1748 میں اتفاقی طور پر جب کھدائی کا کام شروع ہوا تو ماہرین آثار قدیمہ نے جو کچھ دریافت کیا، وہ دنیا کے لیے ایک صدمہ اور تاریخی معجزہ تھا۔راکھ کی یہ موٹی تہہ شہر کے لیے سب سے بڑی محافظ ثابت ہوئی۔ اس نے شہر کو وقت اور موسم کے اثرات سے مکمل طور پر بچا لیا۔ جب آثار قدیمہ کے ماہرین نے راکھ ہٹائی، تو انہیں ایک ایسا شہر ملا جو ڈیڑھ ہزار سال پہلے تھم گیا تھا۔ انہیں دیواروں پر رنگین پینٹنگز، بازاروں میں روٹیاں، ہوٹلوں میں کھانے کے برتن، اور سڑکوں پر چلتے ہوئے لوگوں کی باقیات ملیں۔ گھروں کے اندر ان کا فرنیچر، سامان اور یہاں تک کہ چولہے پر رکھا کھانا بھی اسی طرح موجود تھا۔ دیواروں پر گرافیٹی (دیواروں پر لکھے گئے پیغامات) اور انتخابی پوسٹرز بھی اتنے تازہ تھے جیسے کل ہی لکھے گئے ہوں۔اس شہر کو وقت میں منجمد کرنے کا سب سے خوفناک پہلو انسانی باقیات تھیں۔ جب لاشیں سڑ گل گئیں تو ان کے گرد سخت راکھ کا ایک خول بن گیا۔ ماہرین نے ان خالی خولوں میں پلاسٹر آف پیرس بھر کر ان لوگوں کے حتمی لمحات کو مجسم کر دیا۔ آج بھی جب آپ پومپیئی جاتے ہیں، تو آپ ان لوگوں کی اشکال دیکھ سکتے ہیں جو اپنی جان بچانے کی آخری کوشش کر رہے تھے، یا بستروں پر سوئے ہوئے تھے، یا اپنے خاندان کو گلے لگا رہے تھے۔ یہ منظر کسی بھی زائر کو جذباتی کر دیتا ہے کیونکہ یہ ایک شہر کی ہولناک موت کی خاموش گواہی ہے۔پومپیئی کی دریافت نے رومی تاریخ، ثقافت، طرزِ زندگی اور فن تعمیر کے بارے میں معلومات کا خزانہ کھول دیا۔ ہمیں رومن سوسائٹی کے بارے میں وہ تفصیلات معلوم ہوئیں جو ہمیں تاریخی کتابوں سے کبھی نہ ملتیں۔


 قدرت کے اس شدید غضب نے ایک ایسا المناک معجزہ پیدا کیا جس نے شہر کو فنا تو کر دیا، لیکن اسے تاریخ کے ہاتھوں سے بچا کر ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیا۔ پومپیئی آج بھی ایک ایسی کھڑکی ہے جو ہمیں ڈیڑھ ہزار سال پہلے کی رومن زندگی میں جھانکنے کا موقع دیتی ہے۔موجودہ ملک اٹلی کے علاقے کمپانیہ میں ناپولی کے نزدیک واقع تھا جولگ بھگ 2ہزار سال قبل 79ءمیں ویسوویوس نامی آتش فشاں پہاڑ کے پھٹنے سے یہ تباہ ہو گیا تھا۔ آتش فشاں سے اس قدر لاوہ اور راکھ نکلی تھی کہ یہ شہر 4 سے 6 میٹر (13 سے 20 فٹ) راکھ کے نیچے دفن ہو گیا۔ماہرین نے کھدائی کرکے پومپئی کے آثار دریافت کیے ہیں جن کی دیواریں پر اس قدیم زمانے کی زبان میں کچھ تحاریر موجود تھیں۔ اب ان تحریروں کا ترجمہ کر لیا گیا ہے جس سے ایسا انکشاف ہوا ہے جس نے اس شہر پر عذاب الہٰی نازل ہونے کی حقیقت بیان کر دی ہے۔دوہزار سال قبل لاوے اور راکھ میں دبنے کے باوجود جب اس شہر کی دریافت کے بعد کھدائی کی گئی توماہرین آثار قدیمہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے تھے کہ لوگ مردہ حالت میں محفوظ ہیں اور ایسا لگ رہا تھا کہ خدا نے اخلاق باختہ حرکتیں کرنے والی قوم کو آنے والی دنیاکے لئے نشانِ عبرت بنادیا ہ

بدھ، 24 دسمبر، 2025

قلعہ بالا حصار 'پشاور

،  زمانہ قدیم کی تاریخ دیکھئے  شہر فصیل بند بنائے جاتے تھے تاکہ حملہ آوروں سے  شہر اور ان کے باسیوں کو بچا  یا جا سکے،  پھر قلعوں کی تاریخ بتاتی ہے کہ  ان قلعوں کی موجودگی شاہی طاقت اور حکمرانی کا مرکز ہوتی تھی،  یہ عسکری ضروریات  کے لئے  اپنے زمانے کا رائج اسلحہ محفوظ رکھتے تھے اس کے علاوہ  سیاسی اور انتظامی امور کی انجام دہی کے لیے استعمال ہوتے تھے، جن میں محل، مسجدیں،  بھی شامل تھے، جیسا کہ لاہور قلعہ. قلعوں کی تعمیر کے اہم مقاصد:دفاعی تحفظ: یہ سب سے اہم وجہ تھی۔ قلعے مضبوط دیواروں، برجوں اور خفیہ راستوں سے بنائے جاتے تھے تاکہ دشمن کے حملوں سے خود کو اور اندر موجود آبادی کو محفوظ رکھا جا سکے  -ان قلعوں میں بارش کا پانی جمع کرنے اور پانی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے تالاب اور ذخائر بھی بنائے جاتے تھے. اس کے ساتھ یہ قلعےطاقت اور رعب کا مظہر اور اختیار کی علامت ہوتے تھے. ان کی عظیم الشان تعمیرات سے عوام پر رعب قائم کیا جاتا تھا ثقافتی اور مذہبی مرکز: قلعوں میں مساجد، دربار اور دیگر مذہبی مقامات بھی تعمیر کیے جاتے تھے، جو فن تعمیر کا شاہکار ہوتے تھے. مختصر یہ کہ قلعے صرف فوجی چوکی نہیں ہوتے تھے، بلکہ یہ ایک مکمل سیاسی، سماجی، اور دفاعی نظام کا مرکز تھے، جو حکمرانوں کو تحفظ اور اقتدار فراہم کرتے تھے. ،بالاحصار پشاور میں واقع ایک قدیم قلعہ اور تاریخی مقام ہے ۔ تیمور شاہ درانی نے اس قلعے کا نام بالاحصار رکھا جس کے لفظی معنی بلند قلعہ کے ہیں۔ یہ قلعہ ایک طویل عرصے تک درانیوں کا زیر استعمال رہا،


 19ویں صدی میں جب سکھوں نے پشاور پر حملہ کیا تو یہ قلعہ ان کے زیر استعمال آیا اور انھوں نے اس کا نام سمیر گڑھ رکھا لیکن مقامی طور پر سمیر گڑھ کا نام مشہور نہ ہو سکا۔ اس وقت قلعے کو بطور فرنٹیئر کورپس ہیڈکوارٹر استعمال کیا جا رہا ہے۔ کہتے ہیں کہ یہ قلعہ اتنا پرانا ہے جتنا کہ پشاور کا شہر، قلعہ کی زمین سے مجموعی بلندی 92 فٹ ہے اس کی دیواریں پختہ سرخ اینٹوں سے تعمیر کی گئی ہیں قلعہ کی اندرونی دیوار کی بلندی 50فٹ ہے۔ دوہری دیواروں والے اس قلعہ کا کل رقبہ سوا پندرہ ایکڑ رقبہ پر محیط ہے جبکہ اس کا اندرونی رقبہ دس ایکڑ بنتا ہے  -اس خوبصورت قلعے کے اندر ایک خوبصورت میوزیم بنایا گیا ہے جہاں مختلف کمروں میں فرنٹیئر کورپس کی مختلف شاخوں کی نمائندگی کی گئی ہے جن میں خیبر رائفلز، سوات سکاؤٹس، مہمند رائفلز، چترال سکاؤٹس، کُرم ملٹری، باجوڑ سکاؤٹس، شوال رائفلز، دیر سکاؤٹس، جنوبی وزیرستان و ٹوچی سکاؤٹس اور خٹک سکاؤٹس شامل ہیں۔ یہاں ان علاقوں میں مختلف آپریشنز سے بازیاب کیے گئے آلاتِ حرب، نقشے، سپاہوں کی وردیاں، تصاویر، تلواریں، پستول، جھنڈے، مختلف علاقوں کی ثقافتیں، ٹرک آرٹ اور چھوٹی توپیں شامل ہیں۔ یہاں ایک پھانسی گھاٹ اور خوبصورت چھوٹی سی سووینیئر شاپ بھی ہے جہاں سے آپ پشاور کی مشہور پشاوری چپل اور درہ خیبر کے ماڈل خرید سکتے ہیں۔ یہاں موجود ایک تختی پہ روڈیارڈ کپلنگ کے وہ مشہور الفاظ بھی درج ہیں جو انھوں نے اس فورس کے بارے میں کہے تھے :



الاحصار قلعہ پشاور،پاکستان میں واقع ایک قلعہ پشاور کا سب سے قدیم اور تاریخی مقام ہے ۔درانی سلطنت کا پشاور موسم سرما اور کابل موسم گرما میں دار الحکومت ہوتا تھا، اس لیے سردیوں میں درانی شاہان اس قلعے میں رہا کرتے تھے۔تیمور شاہ درانی نے اس قلعے کا نام بالاحصار رکھا جس کے لفظی معنی بلند قلعہ کے ہے۔ یہ قلعہ ایک طویل عرصے تک درانیوں کا زیر استعمال رہا، 19ویں صدی میں جب سکھوں نے پشاور پر حملہ کیا تو یہ قلعہ ان کے زیر استعمال آیا اور   اس وقت  سےقلعے کو فرنٹیئر کانسٹبلری بطور ہیڈکوارٹر استعمال کر رہی ہے۔ہندوکش زلزلہ 2015ء کے دوران میں اس قلعہ کا ایک دیوار جزوی طور پر متاثر ہوا تھا جسے دوبارہ تعمیر کرایا گیا ہے۔ یہ قلعہ اتنا پرانا ہے جتنا کہ پشاور کا شہر، قلعہ کی زمین سے مجموعی بلندی 92 فٹ ہے اس کی دیواریں پختہ سرخ اینٹوں سے تعمیر کی گئی ہیں قلعہ کی اندرونی دیوار کی بلندی 50فٹ ہے۔ دوہری دیواروں والے اس قلعہ کا کل رقبہ سوا پندرہ ایکڑ رقبہ پر محیط ہے جبکہ اس کا اندرونی رقبہ دس ایکڑ بنتا ہے ایک پختہ سڑک بل کھاتی ہوئی قلعہ کے اندر تک جاتی ہے۔مغل بادشاہ ظہیرالدین بابر نے اپنی خودنوشت تزک بابری میں قلعہ بالا حصار کا ذکر کیا ہے۔ وہ باگرام (پشاور) کے قریب اپنی فوجوں کے اترنے اور شکار کے لیے روانگی کا ذکر کرتا ہے۔ 


جب مغل بادشاہ ہمایوں نے افغان بادشاہ شیر شاہ سوری سے شکست کھائی تو افغانوں نے قلعہ بالا حصار کو تباہ کر دیا۔جب ہمایوں نے شاہ ایران کی مدد سے اپنا کھویا ہوا تخت دوبارہ حاصل کر لیا تو اس نے کابل سے واپسی پر پشاور میں قیام کیا اور قلعہ بالا حصار کو دوبارہ تعمیر کروایا اس نے قلعہ میں ایک بڑا فوجی دستہ تعینات کیا اور ایک ازبک جرنیل سکندر خان کو قلعہ کا نگران مقرر کیا۔ پہلی مرتبہ قلعے میں یہاں توپیں نصب کی گئیں۔احمد شاہ ابدالی نے بھی وادی پشاور مغلوں سے چھین لی تھی۔ احمد شاہ ابدالی کے فرزند تیمور ابدالی نے پشاور کو اپنا سرمائی دار الخلافہ بنالیا۔ اس نے قلعہ بالا حصار میں اپنی رہائش کے لیے محلات تعمیر کروائے اور اپنے حفاظتی دستے کے لیے ایرانی اور تاجک سپاہی بھرتی کیے۔ جب 1779ء میں ارباب فیض اللہ خان نے قلعہ بالا حصار پر یلغار کی تو اسی حفاظتی دستے نے تیمور شاہ کی حفاظت کی۔ 1793ء میں تیمور شاہ کی وفات کے بعد شاہ زمان سریر آرائے سلطنت ہوا۔ اس کے دور میں سکھ پنجاب پر قابض ہو گئے۔1834ء میں سکھوں نے پشاور پر قبضہ کر لیا پہلے تو سکھوں نے قلعہ بالا حصار کی اینٹ سے اینٹ بجا دی لیکن جلد ہی انھیں اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ہری سنگھ نلوہ اور سردار کھڑک سنگھ نے اس قلعہ کی اہمیت کے پیش نظر اسے دوبارہ تعمیر کرایا۔ مہاراجا رنجیت سنگھ کے حکم پر شیر سنگھ نے قلعہ بالا حصار کچی اینٹوں سے بنوایا   تھا۔ سکھوں کے دور کی ایک لوح آج بھی قلعہ بالا حصار کی مرکزی دیوار میں نصب دیکھی جا سکتی ہے 


منگل، 23 دسمبر، 2025

رانا بھگوان داس محب نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم

 

سابق چیف جسٹس رانا بھگوان داس   کے بارے میں  یہ ایک پرانا مضمون ہے  جو میں نے  اب پبلش کیا ہے-جمعہ کو فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے سربراہ کا عہدے کی ذمہ داریاں سنبھالیں اور کمیشن میں تعینات کیے جانے والے دو نئے ارکان سے حلف لیا۔جمعرات کو چئرمین فیڈرل سروس کمیش کا حلف اٹھایا تھا۔18 دسمبر 2009سابق چیف جسٹس رانا بھگوان داس نے جمعہ کو فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے سربراہ کا عہدے کی ذمہ داریاں سنبھالیں اور کمیشن میں تعینات کیے جانے والے دو نئے ارکان سے حلف لیا۔سابق چیف جسٹس رانا بھگوان داس نے جمعرات کو چئرمین فیڈرل سروس کمیش کا حلف اٹھایا تھا۔ ان کی حلف برداری کی تقریب ایوان صدر میں منعقد ہوئی اور صدر آصف علی زرداری نے رانا بھگوان داس سے حلف لیا۔سابق چیف جسٹس رانا بھگوان داس کی بطور چئرمین پبلک سروس کمیشن تقرری کا خیر مقدم کیا گیا ہے اور اسے ایک مثبت قدم قرار دیا گیا ہے۔مبصرین کے مطابق ایک ایماندار اور منصف شخص کو اس ادارے کی قیادت سونپنے سے ملکی افسر شاہی کو سیاست سے پاک کرنے میں بڑی حد تک مدد ملے گی۔


ان مبصرین کا کہنا ہے کہ ماضی میں اس قسم کی شکایت سامنے آتی رہی ہیں کہ مختلف حکومتوں کے دورے میں بیوروکریسی میں سیاسی بنیادوں پر تعیناتیاں ہوتی رہی ہیں جس سے بیوروکریسی بھی سیاسی رسہ کشی کا حصہ بنتی رہی ہے۔سابق سکریٹری اطلاعات اشفاق گوندل نے رانا بھگوان داس کی تعیناتی پر کہاکہ وہ ایک نہایت ایماندار اور اچھی شہرت کے حامل جج رہے ہیں اور ان کا چئرمین بننا ایک مثبت قدم ہے۔انہوں نے کہا کہ فیڈرل سروس کمیشن وہ واحد ادارہ ہے جو میرٹ کی بنیاد پر سرکاری نوکریوں میں بھرتیاں کرنے کا مجاز ہے اور اس ادارے میں ایک ایماندار اور انصاف پسند شخص کی موجودگی ہے میرٹ کی پالیسی کو یقینی بنانے میں بہت مدد ملے گی۔انہوں نے کہ اس ادارے کے تحت مقابلے کے امتحانات کے ذریعے ایک عام آدمی کو بھی اعلی سرکاری نوکری حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے-انہوں نے کہا کہ اور ایسی جگہ پر بھگوان داس جیسے شخص کی موجودگی ایک بہت ہی خوش آئند قدم ہے۔


فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے اختیارات کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں حال ہی میں ریٹائر ہونے والے سکریٹری اطلاعات نے کہا کہ صدر مشرف کے دور میں اس ادارے کے اس وقت کے سربراہ جمشید گلزار کیانی کو قومی سلیکشن بورڈ کو بھی سربراہ بنا دیا گیا تھا۔سابق چیف جسٹس رانا بھگوان داس نے جمعرات کو چئرمین فیڈرل سروس کمیش کا حلف اٹھایا تھا۔ ان کی حلف برداری کی تقریب ایوان صدر میں منعقد ہوئی اور صدر آصف علی زرداری نے رانا بھگوان داس سے حلف لیا۔سابق چیف جسٹس رانا بھگوان داس کی بطور چئرمین پبلک سروس کمیشن تقرری کا خیر مقدم کیا گیا ہے اور اسے ایک مثبت قدم قرار دیا گیا ہے۔

مبصرین کے مطابق ایک ایماندار اور منصف شخص کو اس ادارے کی قیادت سونپنے سے ملکی افسر شاہی کو سیاست سے پاک کرنے میں بڑی حد تک مدد ملے گی۔ ان مبصرین کا کہنا ہے کہ ماضی میں اس قسم کی شکایت سامنے آتی رہی ہیں کہ مختلف حکومتوں کے دورے میں بیوروکریسی میں سیاسی بنیادوں پر تعیناتیاں ہوتی رہی ہیں جس سے بیوروکریسی بھی سیاسی رسہ کشی کا حصہ بنتی رہی ہے۔سابق سکریٹری اطلاعات اشفاق گوندل نے رانا بھگوان داس کی تعیناتی پر کہا کہ وہ ایک نہایت ایماندار اور اچھی شہرت کے حامل جج رہے ہیں اور ان کا چئرمین بننا ایک مثبت قدم ہے۔انہوں نے کہا کہ فیڈرل سروس کمیشن وہ واحد ادارہ ہے جو میرٹ کی بنیاد پر سرکاری نوکریوں میں بھرتیاں کرنے کا مجاز ہے اور اس ادارے میں ایک ایماندار اور انصاف پسند شخص کی موجودگی ہے میرٹ کی پالیسی کو یقینی بنانے میں بہت مدد ملے گی۔انہوں نے کہ اس ادارے کے تحت مقابلے کے امتحانات کے ذریعے ایک عام آدمی کو بھی اعلی سرکاری نوکری حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اور ایسی جگہ پر بھگوان داس جیسے شخص کی موجودگی ایک بہت ہی خوش آئند قدم ہے۔

 

۔ منتخب نعتیہ کلام بطور خراجِ تحسین

این جمالِ دو عالم تری ذاتِ عالی​

دو عالم کی رونق تری خوش جمالی​

خدا کا جو نائب ہوا ہے یہ انسان​

یہ سب کچھ ہے تری ستودہ خصالی ​

تو فیاضِ عالم ہے دانائے اعظم​

مبارک ترے در کا ہر اِک سوالی​

نگاہِ کرم ہو نواسوں کا صدقہ​

ترے در پہ آیا ہوں بن کے سوالی ​

میں جلوے کا طالب ہوں ، اے جان عالم!​

دکھادے ،دکھادے وہ شانِ جمالی ​

ترے آستانہ پہ میں جان دوں گا ​

نہ جاؤں، نہ جاؤں، نہ جاؤں گا خالی ​

تجھے واسطہ حضرتِ فاطمہؓ کا​

میری لاج رکھ لے دو عالم کے والی ​

نہ مایوس ہونا ہے یہ کہتا ہے بھگوانؔ

کہ جودِ محمدﷺ ہے سب سے نرالی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عرش حق کی طرف جب چلے مجتبی

جلوہ آرا تھا ہر سمت نور خدا

کہکشاں سے بنا اک نیا راستہ

فرش خاکی تا سدرة المنتہی

احتراما تھے ایستادہ جن و ملک

نغمہ گر حور و غلماں تھے صل اعلی

نعرہ کرتے تھے سب اصفیاء اتقیاء

آج دولہا بنا سید الانبیاء

عرش اعظم سے آنے لگی یہ صدا

مرحبا  مصطفیﷺ  مرحبا مصطفیﷺ 

زد میں گردوں ہی کیا ماہ و انجم بھی ہیں

کس نے جانا ہے یاں عشق کا مرتبہ

پہنچے معراج میں جب رسول خدا

کائنات دوعالم سے آئی صدا

جب خودی کی حقیقت سے پردہ اٹھا

پھر کہاں دوسرا میں رہا دوسرا

حسن اور عشق میں آج پردہ کشا

فرش پہ مصطفیﷺ عرش پہ کبریا

شان معراج سے بس یہ عقدہ کھلا

مرکز عشق ہیں خاتم الانبیاءﷺ

لا نبیﷺ بعدی ہے قول محبوب حق

ورد اس کا ہے بھگوانؔ صبح و مسا[5]////


نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

انقلاب چین جو چینی قوم کی نجات کا باعث بن گیا

  چین کے انقلاب میں تاریخی لانگ مارچ کو ایک سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے جو اکتوبر1934ء سے اکتوبر 1935ء تک جاری رہا۔ یہ لانگ مارچ چھے ہزار میل ط...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر