Knowledge about different aspects of the world, One of the social norms that were observed was greetings between different nations. It was observed while standing in a queue. An Arab man saw another Arab man who apparently was his friend. They had extended greetings that included kisses on the cheeks and holding their hands for a prolonged period of time. , such warm greetings seem to be rareamong many people, . this social norm signifies the difference in the extent of personal space well.
جمعرات، 9 جنوری، 2025
فیض احمد فیض شعرو ادب کی دنیا کے بادشاہ
بدھ، 8 جنوری، 2025
الکھ نگری کا مسا فر ''ممتاز مفتی''
گیارہ ستمبر 1905کو بٹالہ ضلع گرداسپورمشرقی پنجاب میں پیدا ہونے والے ممتاز مفتی نے میانوالی،اور ڈیرہ غازی میں ابتدائی تعلیم حاصل کی پھر 1929میں اسلامیہ کالج لاہور سے بی اےاور1933 میں سنٹرل کالج لاہور سے ایس اے وی کا امتحان پاس کیا۔ پھر آل انڈیا ریڈیو اور ممبئی فلم انڈسٹری میں ملازمت کرتے رہے۔ 1947میں پاکستان چلے گئے۔وہاں حکومت پاکستان کے مختلف عہدوں پر فائز رہےپاکستان کے جید لکھاریوں میں صف اول کے لکھاری مانے جاتے ہیں ۔ان کے افسانوی مجموعے ان کہی ، گہماگہمی،چپ، گڑیاگھر،روغنی پتلے، کے نام سے شائع ہوئے۔ انہوں نے انشائیے بھی لکھے جو بہت مشہور ہوئے اور شوق سے پڑھے گئے ۔ ’غبارے ‘ کے نام سے انشائیوں کا مجموعہ شائع ہوا۔’ کیسے کیسے لوگ‘ اور ’پیاز کے چھلکے‘ کے نام سے خاکوں کے دو مجموعے شائع ہوئے۔عمر کے آخری برسوں میں ممتاز مفتی سفر حج پر گئے اور واپسی پر’لبیک‘ کے نام سے سفر حج کی رودار لکھی جو بے پناہ مقبول ہوئی اور ان کی کہانیوں کی طرح دلچسپی کے ساتھ پڑھی گئی۔ممتاز مفتی اردو افسانے کی روایت میں ایک اہم افسانہ نگار کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ انہوں نے موضوع، مواد اور تکنیک کی سطح پر کئی تجربے کیے۔ ان کے افسانے خاص طور پر گھمبیر نفسیاتی مسائل کو موضوع بناتے ہیں۔ ممتاز مفتی نے ’علی پور کا ایلی ‘ کے نام سے ایک ضخیم ناول بھی لکھا ۔ اشاعت کے بعد اس کا شمار اردو کے بہترین ناولوں میں کیا گیا۔
پیر، 6 جنوری، 2025
بندر گاہ کیٹی بندر کے مکین کہاں جائیں ؟
کیٹی بندر ماضی میں درآمد و برآمد کا مرکز رہا ہے-کیٹی بندر سے کراچی اور گجرات تک اناج جاتا تھا-اب یہاں بیوپار کا کوئی جہاز نہیں آتا، بس مچھلیوں کے پکڑنے کی کشتیاں ہیں جن پر بادبانوں کی جگہ رنگین جھنڈے لہراتے ہیں اور شور کرتے انجن ہیں جو دریا کے پانی پر چنگھاڑتے پھرتے ہیں۔ اگر آپ ان میں کبھی بیٹھے ہیں تو آپ کو ضرور اندازہ ہوگا کہ آپ وہاں آپس میں بات نہیں کرسکتے۔ البتہ چیخ و پکار کے بعد بھی جو بات کریں گے وہ آدھی ادھوری ہی سمجھ میں آئے گی۔ایمرجنسی سینٹر کی چھت پر میرے ساتھ اس علاقے ’جھالُو‘ کے مشہور زمیندار محترم عثمان شاہ صاحب بھی کھڑے ہیں۔ 65 سال کی حیات میں انہوں نے ڈیلٹا کے اس مشہور مرکزی علاقے کے بہت سارے مناظر کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ انہیں ابھی تک کیکر کے گھنے جنگل یاد ہیں۔ ان کیکر کے درختوں پر سردی کے دنوں میں پیلے پھول لگتے اور ہلکے پیلے سونے کے رنگ جیسا ان کیکروں میں سے گوند نکلتا جس کو طاقت کے لیے مختلف طریقوں سے پکا کر کھایا جاتا۔ ان درختوں پر لگی پھلیاں دودھ دینے والے جانوروں کے لیے ایک طاقتور خوراک ہوتی تھی۔ ان جنگلوں میں دن کو تیتر بولتے اور صبح کو سورج اگنے کے ساتھ فاختائیں بیٹھ کر اپنی مخصوص آواز میں بولتیں اور جب تیز ہواؤں کے دن آتے تو درختوں سے گزرتی ہوئی ہوا سیٹیاں بجانے لگتی۔کیکر کا وہ گھنا جنگل وہاں تھا، میلوں میں پھیلا ہوا‘، عثمان شاہ نے شمال مشرق کی طرف اشارہ کیا۔ ’اس چھت سے وہ فاصلہ کوئی 2 میل سے زیادہ نہیں تھا۔ اس جنگل کے قریب سے کبھی ’اوچتو دریا‘ بہہ کر کیٹی بندر کے قریب سمندر کی کھاڑی میں گرتا تھا مگر اب وہاں کچھ تمر کی جھاڑیوں کے سوا کچھ نہیں ہے اور زمین کی سطح پر نمک کی سفید تہہ جمتی ہے
کیٹی بندر شاہ بندر کے زمین میں دھنس جانے اور دریائے سندھ کا رخ تبدیل ہونے کی وجہ سے تعمیر کیا گیا تھا، ’سندھ کے بندر اور بازار‘ کے مصنف دادا سندھی لکھتے ہیں کہ شاہ بندر کی تعمیر حیدرآباد شہر کے بانی میاں غلام شاہ کلہوڑو نے 1659 میں کی تھی اس سے قبل ارونگ بندر کے ذریعے تجارت ہوتی تھی جس کی تعمیر اورنگزیب عالمگیر نے کرائی تھی، شاہ بندر کی تعمیر کے بعد ارونگ بندرگاہ کی اہمیت ختم ہوگئی اور لوگ نقل مکانی کرکے شاہ بندر آگئے جہاں قلعہ بھی تعمیر کرایا جس کے نشانات آج بھی موجود ہیں۔شاہ بندر 1819 میں اجڑنا شروع ہوا تھا جس کے بعد کیٹی بندر قائم کیا گیا تھا، جہاں سے بمبئی، مدراس، خلیج فارس اور سون میانی و مکران سے تجارت ہوتی تھی، نائو مل اپنی یادداشتوں کی کتاب میں لکھتے ہیں کہ اس بندر سے کچھ بہج اور کاٹھیاواڑ سے یہ عمارتی لکڑی اور بھاری اشیا کی تجارت ہوتی تھیی۔
کیٹی بندر تو دھان کی وجہ سے مشہور تھا مگر ہمارا گاؤں جھالو جو کیٹی بندر میں آج سے 15 برس پہلے کیلے، خربوزے اور کھیرے کی اتنی شاندار فصل ہوتی تھی کہ، ہماری زمین سے ان اشیا سے لدے 11 ٹرک روز نکلتے تھے۔ کراچی، ملتان، فیصل آباد، لاہور اور پشاور تک ہماری فصلوں کی مارکیٹ ہوتی تھی، بلکہ یہاں تک کہ بیوپاری جھالو کے کھیرے اور خربوزے کے آنے کا انتظار کرتے تھے۔ان دنوں ہماری 200 ایکڑ زمین آباد ہوتی تھی مگر اب نہروں میں میٹھے پانی کی بہت کمی ہے، ، جس کی وجہ سے سیم و تھور کا مسئلہ انتہائی پیچیدہ ہوگیا ہے۔ جہاں پہلے 200 ایکڑ پر فصلیں ہوتی تھیں اب 20 ایکڑ بھی مشکل سے کر پاتے ہیں۔ اب یہاں نہ کیلا ہوتا ہے، نہ خربوزے اور نہ کھیرے۔ بس دھان ہوتی ہے جس کے لیے بھی کھاد اور اسپرے پر اتنی رقم لگ جاتے ہے کہ نام کا ہی منافع کما پاتے ہیں۔ پھر جس زمین میں 2 برس دھان لگاتے ہیں تو ان 2 برسوں میں میٹھا پانی سمندری پانی کو نیچے دھکیل دیتا ہے یوں تیسرے برس پھر کپاس یا سورج مکھی لگاتے ہیں تو دو پیسے ہاتھ میں آجاتے ہیں۔ اس ڈیلٹائی بیلٹ کا ہر کاشتکار اور عام آدمی اجڑتی زمینوں کے ساتھ مہنگائی اور غربت کی وجہ سے سخت پریشان ہے-اگر کاشتکار کو میٹھا پانی اتنا ملے جتنی ہماری زمینیں ہیں تو کوئی مسئلہ نہیں ہوگا اور جو زمینیں ہیں ہم ان کو بچا لیں گے۔ کیونکہ میٹھے پانی کی نہروں میں پانی کی موجودگی اور فصلوں کے لیے پھرپور پانی ہونا اس حقیقت کو یقینی بناتا ہے کہ سمندر کا پانی میٹھے پانی کی وجہ سے اوپر نہیں آئے۔دوسرا یہ کہ دریا میں جو پانی ہر برس چھوڑنے کو کہا گیا ہے وہ آنا چاہیے۔ اگر ایسا ہوتا رہے تو مجھے نہیں لگتا کہ سمندر کی بربادی اتنی تیزی سے آگے بڑھ سکتی ہے۔ مگر آب پاشی نظام میں رشوت خوری اپنے عروج پر ہے۔ یہاں سب برباد کرنے کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔
یہاں سے نقل مکانی کرنے والے خاندانوں سے بھی میں ملا ہوں، یہاں کیلے اور کھیروں کی شاندار فصلوں کو بھی میں نے دیکھا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو 15 یا 18 برس اتنے زیادہ نہیں ہوتے۔ مگر ان برسوں میں، میں نے جو سمندر کی بربادی دیکھی ہے وہ ان لوگوں نے بھی ضرور دیکھی ہوگی جو مسلسل یہاں آتے رہے ہیں۔ میٹھے پانی کے لیے اتنی چیخ و پکار کے بعد بھی یہاں کچھ بہتری نہیں آئی۔انڈس ڈیلٹا فقط سمندر کا نام نہیں ہے، بلکہ اس میں آب گاہیں، قدرتی جنگل اور زراعت بھی شامل ہے۔ 1980ء تک ریوینیو ڈیپارٹمنٹ کی رپورٹ کے مطابق 12 لاکھ ایکڑ زرعی زمین سمندر کے نذر ہوگئی تھی اور اب 2020ء تک ڈیلٹا کی 41 لاکھ ایکڑ زرعی زمین یا تو سمندر نگل گیا ہے یا سمندر کے شوریدہ پانی کی وجہ سے زمینوں نے اپنی زرخیزی گنوادی ہے۔ یہاں تک کہ گھاس کا ایک تنکا تک نہیں اگتا۔ ساتھ میں لاکھوں لوگوں کو انتہائی مجبوری کی حالت میں نقل مکانی کرنی پڑی ہے سندھ کا ڈیلٹا شاید دنیا کی جہازرانی والی بندرگاہوں میں سب سے بڑا دفن ہونے والا ڈیلٹا ہے۔ یہ ڈیلٹا سندھ کی تہذیب کی ابتدا سے گزشتہ صدی کے آخر تک وادئ سندھ اور دور دراز ملکوں مصر، عرب، سمیر، ایران، مشرقی افریقا، مہاراشٹر، سری لنکا اور چین کے باہمی بیوپار کا مرکز رہا ہے۔ دریا کا میٹھا پانی اُس دھرتی سے کبھی بیوفائی نہیں کرتا جس پر سے وہ گاتا گنگناتا، زمین کو مالا مال اور خوشحالی کے پھول بانٹتا بہتا سمندر کی گود میں تو سما جاتا ہے۔جہاں جہاں سے سمندر سے ملتا ہے وہاں اپنے ساتھ لائی ہوئی مٹی اور ریت سے زمین بُننا شروع کردیتا ہے بالکل ایسے جیسے ننھی منی چڑیائیں گھاس کے تنکوں سے گھونسلے بُنتی ہیں
۔ دریا اور سمندر مل کر جو زمین بناتے ہیں اُس زمین کو ’ڈیلٹائی زمین‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔انڈس ڈیلٹا کی موجودہ زمینی پٹی جو 16,000 مربع میل یعنی 41,440 مربع کلومیٹرز کے رقبے پر پھیلی ہوئی ہے، اس پٹی کی زمین سمندر کے ساتھ 130 میل یعنی 210 کلومیٹرز تک ساتھ چلتی ہے۔دریائے سندھ 3000 کلومیٹر کا سفر کرتا یہاں جنوبی سندھ تک آتا ہے، یہ دوسری بات ہے کہ اب برائے نام پانی آتا ہے اس شہنشاہ دریا میں وہ زمانہ کب کا گزر گیا جب 350 ملین ایکڑ فٹ (ایم اے ایف) پانی آتا تھا اور سمندر سے مل کر ڈیلٹا کی اس زرخیز زمین کی تخلیق کرتا۔ ساتھ میں جنم دیا اُس کلچر کو جو اپنی الگ، خوبصورت اور حیاتیاتی تنوع سے بھرپور پہچان رکھتا ہے۔آپ کوہستان، کاچھو یا تھر جائیں، وہاں کے لوگ اس ڈیلٹائی پٹی کو 'سندھ' کے نام سے جانتے ہیں۔ خشک سالی میں جب تھر سے یہاں کی طرف نقل مکانی زیادہ ہوتی ہے۔ ان دنوں میں آپ اگر تھر جائیں اور اُن کے خالی گھروں کو دیکھ کر مقامی لوگوں سے پوچھیں کہ، ’یہ لوگ کہاں گئے ہیں؟‘ تو فوری جواب ملے گا ’سندھ‘ ۔ان کے سامنے سندھ کی زمین وہ ہے جسے دریائے سندھ کی مٹی اور ریت نے بنایا ہے۔ جہاں کا منظر نامہ اور ساری سندھ سے مختلف ہے کہ یہاں جھیلوں کی بہتات ہے اور کیوں نہ ہو آخر دریائے سندھ کا ہزاروں کلومیٹرز کا سفر یہاں اس ساحلی پٹی پر آکر جو ختم ہوتا۔
اتوار، 5 جنوری، 2025
آنکھیں خالق کائنات کی بہت بڑی نعمت ہیں
یوں تو انسان کے لئے حواس خمسہ خالق کائنات کی بہت بڑی نعمت ہیں لیکن ان تمام اعضا میں آنکھوں کو خصوصی اہمیت حاصل ہے ، بلاشبہ اگر انسان بینائی سے محروم ہو جائے تو زندگی ہی بے معنی لگنے لگتی ہے-آس مضمون میں آپ کو ایک ایسے باہمت بچے کی علمی کاوش پڑھنے کو ملے گی جو اپنے بچپن میں اپنی بینائ کی نعمت سے محروم ہو گیا تھا - یہ 1812 کی بات ہے۔ ایک دن فرانس کے شہر پیرس کے قریب کوپورے میں ننھا لوئس بریل ورکشاپ میں کھیل رہاتھا جہاں اس کے والد نے ’زِین‘ بناتے تھے۔ (زِین یعنی چمڑے کی وہ بیلٹ جس سے گھوڑے یا کسی بھی اور جانور کو قابو میں رکھنے کے لیے اُس کے چہرے کو بندھا جاتا تھا)۔تین سال کی عمر میں اس کے لیے چمڑے کے کام کے لیے استعمال ہونے والے اوزاروں کی طرف راغب ہونا کوئی غیر معمولی بات نہیں تھی کیونکہ وہ یہ سب دیکھتارہتا تھا کہ اسکے والد کیسے اس کی مدد سے زِین بناتے تھے۔ بس ایک دن اس نے اپنے والد کی نقل کرتے ہوئے ورکشاپ میں سے چمڑے میں سوراخ کرنے والا ایک انتہائی تیز دھار اوزار اْٹھایا اور اْس سے کھیلا شروع کر دیا۔شاید یہ پہلی بار نہیں تھا جب وہ ایسا کر رہاتھالوئس بریل ابھی اس سب میں مشغول ہی تھا کہ اچانک ایک ایسا حادثہ پیش آیا کہ جس نے اس کی زندگی بدل دی۔جیسے لوئس نے اس تیز دھار اوزار سے چمڑے میں سوراخ کرنے کی کوشش کی، اس کے ہاتھ سے وہ اوزار پھسل گیا اور اس نے آنکھ پر گہری ضرب لگائی۔آنکھ متاثر ہوئی اور انفیکشن نے نہ صرف زخمی ہونے والی آنکھ کو متاثر کیا بلکہ یہ انفیکشن دوسری آنکھ تک پھیل گیا۔لوئس پانچ سال کا ہواتو وہ مکمل طور پر نابینا ہو چکاتھا
اگرچہ مقامی سکول میں نابینا افراد کے لیے کوئی خاص پروگرام موجود نہیں تھا لیکن اس کے والدین کی یہ کوشش تھی کہ وہ تعلیم سے محروم نہ ہواور اسے پڑھنے کا موقع ملنا چاہیے، لہٰذا انھوں نے اسے مقامی تعلیمی ادارے میں داخل کروا دیا۔ اب بریل 7 سال کاہو چکا تھا اور اس نے باقاعدہ طور پر کلاسز لینا شروع کر دیں تھیں۔اگرچہ اس کا تعلیم حاصل کرنے کا انداز مختلف تھا یعنی وہ بس سن کر تعلیم حاصل کر رہاتھا، لیکن وہ ایک ہونہار شاگرد ثابت ہوا۔ تاہم جو مشکل اس کی راہ میں حائل رہی وہ یہ تھی کہ وہ پڑھنے یا لکھنے کے قابل نہ ہو سکے جس کی وجہ سے اسے نقصان اٹھانا پڑتا تھا۔آخر کاراس کی یہ تمام مشکلات تب ختم ہوئیں کہ جب اسے فرانس کے رائل انسٹی ٹیوٹ فار بلائنڈ یوتھ (آر آئی جے سی) میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے سکالرشپ مل گئی۔بریل 10 سال کاتھا جب وہ پیرس اور آر آئی جے سی پہنچا۔اس وقت، اس ادارے میں بھی پڑھنے کا جو نظام استعمال کیا جاتا تھا وہ بہت بنیادی تھا، ان چند کتابوں کو ابھرے ہوئے حروف کے ساتھ چھاپا گیا تھا، ایک ایسا نظام جسے سکول کے بانی ویلنٹین ہائے نے ایجاد کیا تھا۔اس کا مطلب یہ تھا کہ طالب علموں کو ہر حرف میں آہستہ آہستہ اپنی انگلیاں چلانی پڑتی تھیں تاکہ الفاظ کی بناوٹ کو وہ سمجھ سکیں مگر ایک جملہ بنانے میں اور لفظ کی بناوٹ سمجھنے میں اْنھیں خاصی مْشکل ہوتی تھی۔
1821 میں فرانسیسی فوج کے ایک کیپٹن چارلس باربیئر انسٹی ٹیوٹ میں ایک چھونے والے ریڈنگ سسٹم کو شیئر کرنے کے لیے آئے تاکہ فوجی اندھیرے میں میدان جنگ میں فلیش لائٹس آن کر کے دشمن کو خبردار کیے بغیر پیغامات پڑھ سکیں۔لوئس کے ذہن میں یہ خیال آیا تھا کہ ان کی ’’نائٹ رائٹنگ‘‘، شاید بینائی سے محروم ان افراد کے لیے فائدہ مند ثابت ہو۔ایمبوسڈ خطوط استعمال کرنے کے بجائے، ابھرے ہوئے حروف والی تحریر، نقطوں اور دھبوں کا استعمال کیا گیا تھا۔طالب علموں نے تجربات کیے لیکن جلد ہی جوش و خروش کھو دیا کیونکہ اس نظام میں نہ صرف سرمایہ کاری اور نہ ہی نشانات شامل تھے، بلکہ الفاظ معیاری فرانسیسی ہجے کے بجائے اس طرح لکھے گئے تھے جیسے وہ بولے گئے تھے۔تاہم لوئس بریل نے اصرار کیا۔اس نے کوڈ کو ایک بنیاد کے طور پر لیا اور اسے بہتر بنایا۔تین سال بعد جب وہ 15 سال کاتھا تو اس نے اپنا نیا نظام مکمل کر لیا تھا۔اس کی تحریر کے نظام کا پہلا شمارہ 1829 میں شائع ہوا۔اس میں حروف کے ساتھ نقطوں کے ساتھ اشارے دیے گئے تھے۔بریل نے بابیئر کے نظام کو آسان بنایا تھا اور ابھرے ہوئے نقطوں کو کم کیا تھا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ یہ اس مناسب سائز کے ہوں تاکہ آپ انھیں اپنی انگلی کے پور سے ایک ہی بار میں چھو کر محسوس کر سکیں۔
اس نے کاغذ پر ابھرے ہوئے نقطے بنانے کے لیے اسی ستالی (سوراخ کرنے کے لیے نوکدار اوزار) کا استعمال کیا جس سے اس کی بینائی متاثر ہوئی تھی۔اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ یہ لکیریں سیدھی اور درست ہیں اس نے ایک ہموار گرڈ کا استعمال کیا۔جیسا کہ لوئس بریل کو موسیقی پسند تھی لہٰذا اس نے موسیقی کے نوٹس لکھنے کے لیے بھی ایک طریقہ متعارف کروایاوقت گزرتا گیا۔طب کی دنیا بریل کی ایجاد کو اپنانے میں بہت قدامت پسند اور سست تھی۔ یہاں تک کہ اس کی موت کے دو سال بعد بینائی سے محروم افراد کو اس طریقہ کار کے ذریعے پڑھایا جانے لگا۔ اور اس کا آغاز بھی اسے ادارے میں ہوا جہاں سے اس نے تعلیم حاصل کی تھی۔وہ 43 برس کی عمر میں تپ دق کے باعث اس دنیا سے رخصت ہو اتھا۔
یہ حقیقت ہے کہ خدا کی طرف سے سب سے قیمتی تحفہ اس رنگین اور خوبصورت دنیا کو دیکھنے کی صلاحیت ہے! افسوس کی بات ہے کہ ہر کوئی اسے نہیں دیکھ سکتا۔ تاہم 1829 میں لوئس بریل نے بریل ایجاد کر کے اپنے نابینا معاشرے کو ایک عظیم تحفہ دیا۔ ہر سال 4 جنوری کو بریل کا عالمی دن اپنے موجد لوئس بریل کی پیدائش کی یاد میں منایا جاتا ہے(جو گزشتہ روز منایا گیا)۔ لوئس نے اپنی زندگی میں حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ اس رسم الخط کو نابینا افراد کی زبان کے طور پر منظوری دی جائے لیکن اس وقت اسے منظوری نہ دی گئی۔یہ لوئس کی بدقسمتی رہی کہ اس کی کوششوں کو کامیابی نہیں مل سکی اور معاصر ماہرین تعلیم نے اسے زبان کے طور پر تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔لوئس کی موت کے بعد 2 برس ماہرین تعلیم نے اسے اس وقت سنجیدگی سے دیکھنا شروع کیا جب اس کی مقبولیت نابینا افراد کے درمیان میں مسلسل بڑھتی رہی، یہ دیکھ کر اسے منظوری دینے پر غور و فکر ہونے لگا۔ 1854 میں اسے صرف پیرس تک مقبولیت حاصل ہوئی پھر آہستہ آہستہ 1965 تک اسے دنیا کے دیگر ممالک میں کافی غور و فکر اور تبدیلیکےبعد اسے تسلیم کر لیا گیا -یہ طریقہ ء تعلیم نابینا افراد کے لئے علمی کائنات کا درجہ رکھتا ہے
یہ مضمون میں نے انٹرنیٹ سے لے کر یہاں کاپی پیسٹ کیا ہے
ہفتہ، 4 جنوری، 2025
ہزارہ یونیورسٹی مانسہرہ -قابل فخر مادر علمی
صوبے بلوچستان میں دہشتگردی کا نشانہ بننے والے ہزارہ قبیلے کو تاریخ میں ایک خاص حیثیت حاصل رہی ہے جس کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ چنگیز خان کی نسل سے تعلق رکھتا ہے۔مورخین کہتے ہیں کہ اس قبیلے کا جنم مشرق وسطیٰ سےہوا ہے جبکہ اس کی جڑیں چین، افغانستان، پاکستان اور ایران سمیت یورپ کے دھانے پر واقع ترکی تک پھیلی ہوئی ہیں۔ ہزارہ قبیلے میں اثنا عشری، اسماعیلی اور محدود تعداد میں اہل سنت مسلک سے تعلق رکھنے والوں کی بھی ہے۔بتایا جاتا ہے کہ یہ قبیلہ منگول نسل سے نکلا ہے یعنی ہزارہ چنگیز خان کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔’ جب چنگیز خان کے پوتے نے اسلام قبول کیا اور یہیں سے ہزارہ قوم کی ابتداء ہوئ ‘بتایا جاتا ہے کہ یکم رجب 660ھ کو چنگیزخان کے پوتے برقائی خان نے اپنے زمانے کے ایک شیعہ عالم دین کے ہاتھوں مشرف بہ اسلام ہونے کا اعلان کرتے ہوئے مصر کے سلطان رکن الدین بیبرس کو ایک خط کے زریعے اپنے اور اپنے قبیلے کے مسلمان ہونے کی اطلاع دی تھی
اور آج یہ قوم پوری دنیا میں اپنی قابلیت کے جھنڈے گاڑ رہی ہے -اور اب ہزارہ یونیورسٹی مانسہرہ اور علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد کے درمیان نصابی ،سائنسی، تکنیکی اور ثقافتی تعاون کو بڑھانے کے لئے معاہدہ طے پا گیا ۔ معاہدے پر وائس چانسلر ہزارہ یونیورسٹی مانسہرہ پروفیسر ڈاکٹر جمیل احمد اور علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ضیاء القیوم نے دستخط کیے۔تین سالہ معاہدے کے تحت دونوں ادارے فیکلٹی ممبرا ن اور ریسرچ سکالرز سمیت ،سائنسی مقالہ جات اور نصابی موادکے تبادلے اور مشترکہ تحقیقی مقالہ جات کی اشاعت کر سکیں گے جبکہ جوائنٹ ریسرچ پراجیکٹس اور مختلف تعلیمی شعبہ جات میں طلباء کی رہنمائی کے لئے دوطرفہ کوششوں کو فروغ دیا جائے گا۔مذکورہ معاہدے کے تحت دونوں ادارے باہمی تعاون کو بروئے کار لاتے ہوئے مختلف تعلیمی شعبوں کے طلباء کے نصاب اورکورسزمیں بہتری اور جدت لانے کے حوالے سے اقدامات کریں گے جبکہ آن لائن کتب کی فراہمی ، سیمینارز،اور کانفرنسز کے انعقاد سمیت نصابی مواد تک رسائی بھی معاہدے کا حصہ ہیں ۔
اس موقع پر وائس چانسلر ہزارہ یونیورسٹی مانسہرہ پروفیسر ڈاکٹر جمیل احمد نے کہا کہ ہزارہ یونیورسٹی اپنے جغرافیائی محل وقوع ، پرفضا اور پر امن تعلیمی ماحول کی بدولت ملکی جامعات میں ایک منفرد مقام رکھتی ہے جبکہ تاریخی شاہرا ہ قراقرم اور سی پیک کے سنگم پر واقع ہونے کی وجہ سے ہزارہ یونیورسٹی بین الاقوامی اہمیت حاصل کر چکی ہے ۔وائس چانسلر نے کہا کہ ہزارہ یونیورسٹی اس وقت ملکی اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ کئے گئے کئی معاہدوں پہ عمل پیرا جس سے یونیورسٹی میں پہلے سے جاری تعلیمی سرگرمیوں میں مزید وسعت آئی ہے ۔ پروفیسر ڈاکٹر جمیل احمد نے کہا کہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے ساتھ ہونے والے آج کے معاہدے سے ہزارہ یونیورسٹی ایک نئے دور میں داخل ہو گئی ہے جس میں تحقیق اور تخلیق کی نئی راہیں کھلیں گی اور دونوں اداروں کے طلبا اورمحققین ایک دوسرے کے تجربات اور علمی بصیرت سے بھرپور استفادہ کریں گے۔
اس موقع پر وائس چانسلر علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام اباد پروفیسر ڈاکٹر ضیاء القیوم نے کہا کہ دنیا بھر میں تعلیم کے میدان میں جدید ٹیکنالوجی کا بھرپور استعمال کیا جا رہا ہے جس سے اس شعبے میں بہت تیزی آئی ہے وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے اداروں کو سائنٹفک بنیادوں پر استوار کرتے ہوئے دیگر اقوام سے قدم ملائیں تاکہ عصری تقاضوں کو پورا کیا جا سکے ۔انھوں نے کہا کہ ہمیں کورونا وباء کے دوران درپیش چیلنجز کو موقع جان کر فاصلاتی نظام تعلیم کے فروغ اور اسے دور افتادہ اور پسماندہ علاقوں تک پہنچانے کے لئے اپنی توانیائیاں صرف کرنی چاہیئں اور اس مقصد کے حصول کے لئے مختلف تعلیمی اداروں کو ایک دوسرے کی صلاحیتوں سے استفادہ حاصل کرتے ہوئے بھرپور کوششیں کرنا ہونگی ۔ اس موقع پر ہزارہ یونیورسٹی کے ڈائریکٹر ORICپروفیسر ڈاکٹر محسن نواز، منیجر ر یونیورسٹیز لینکجز زبیر عالم خان، رجسٹرار علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی رانا سہیل ، ایگزیکٹو ڈائریکٹر ORICڈاکٹر لطیف گوندل،ایڈیشنل ڈائریکٹر ORICڈاکٹر صائمہ ناصر اور مینجر آپریشن محمد مشتاق بھی موجود تھے۔-
ہزارہ یونیورسٹی مانسہرہ کے ہونہار سٹوڈنٹ عمر صدیق Fully Funded Italian Scholarshipsحاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ ہزارہ یونیورسٹی کے شعبہ بائیو ٹیکنالوجی اینڈ جینیٹک انجینئرنگ کے طالب علم عمر صدیق جنہوں نے سال 2023ء میں مذکورہ شعبے سے بی ایس کی ڈگری حاصل کی، اب مزید اعلیٰ تعلیم کے لئے اٹلی کی University of Naples Federico IIروانہ ہو رہے ہیں جہاں وہ فوڈ بائیو ٹیکنالوجی میں دو سالہ ماسٹرز ڈگری مکمل کریں گے۔عمر صدیق نے اطالوی حکومت کی Regional Scholarshipاور Merit Scholarshipحاصل کی ہیں ہے جس کے تحت انہیں تعلیم مکمل کرنے کے لئے مجموعی طور پر 19000یورو سالانہ دیئے جائیں گے۔عمر صدیق ہزارہ یونیورسٹی میں تعلیم کے ساتھ ساتھ ہم نصابی سرگرمیوں میں بھی یکساں متحرک تھے اور بلڈ ڈونیشن ، تھیلیسیمیا کے بارے میں عوامی آگاہی سمیت دیگر سماجی خدمات میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے ہیں۔مانسہرہ کے دور افتادہ اور پسماندہ گاؤں دانئی بٹل سے تعلق رکھنے والے عمر صدیق بچپن میں ہی یتیم ہو گئے تھے لیکن اعلیٰ تعلیم کے حصول کا شوق اور کچھ کر گذرنے کے جذبے سے انہیں اعلیٰ تعلیم کے میدان میں کامیابی نصیب ہوئی ہے۔ عمر صدیق کا یورپ میں ماسٹرز پروگرام اور بین الاقوامی سکالر شپس حاصل کرنا نوجوان طلباء کے لئے مشعل راہ ہے کہ حالات چاہے کتنے ہی سخت کیوں نا ہوں، محنت، لگن اور جستجو سے ہر چیلنج پر قابو پاکر کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔
جمعہ، 3 جنوری، 2025
بقراط اپنے زمانے کا زہین ترین حکیم
بقراط نے فلسفہ طب کی وجہ سے شہرت پائی۔ مورخین اسے طب کا سائنسدان بھی کہتے ہیں ۔یہ 460 قبل مسیح یونان کے شہر کوس میں پیدا ہوا۔اس نے علم حاصل کرنے میں سولہ برس صرف کئے جبکہ باقی عمر اس نے تحریر و تصنیف میں گزار دی ۔ طب کی باقاعدہ ترویج وترقی کا سہرا بقراط کے سر جاتا ہے ۔ اس کا سب سے بڑا تاریخی کارنامہ زمانہ قدیم سے مروجہ روایتی طریقے سے علاج کی جگہ سائنسی بنیادوں پر علاج کو رواج دینا ہے اور شاید اسی وجہ سے اسے ''بابائے طب‘‘کا لقب بھی دیا گیا ہے ۔طب میں بقراط کی گراں قدر خدمات اور ان مٹ بنیاد کے سبب بعد میں آنے والے جالینوس تاریخ دانوں کا کہنا ہے کہ ہیپوکریٹس 460 ق م میں جزیرہ کوس میں پیدا ہوا۔ عرب اسی ہیپو کریٹس کو بقراط کہتے ہیں۔
تاریخ دانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہیپوکریٹس نامی طبیب اور سرجن نے اپنے علم و تجربہ کے حوالے سے شہرت دوام حاصل کی۔ بقراط کی زندگی کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں ہیں۔ اس کی موت کے صدیوں بعد متعدد سینہ بہ سینہ منتقل ہونے والی روایات سے پتا چلتا ہے کہ وہ ایک غیر معمولی انسان اور حکیم تھا۔ اس پر لکھا بھی گیا۔ افسس کاسورانوس نے دوسری صدی عیسوی میں یونان کے زیرانتظام افسس شہر میں ماہرامراض مخصوصہ (گائناکالوجسٹ) کے طور پر شہرت پائی۔ یہی سورانوس بقراط کا اولین سوانح نگار تھا۔ سورانوس نے بقراط کے بارے میں بیرونی ذرائع سے بہت سی معلومات کو اکٹھا کیا اور ان معلومات سے استفادہ کرنے کے علاوہ اس نے ارسطو کی تحریروں میں سے بھی بقراط کے بارے میں مواد حاصل کیا۔ دسویں صدی عیسوی میں سوداس اور بارہویں صدی عیسوی میں جان ٹزٹیز نے بھی بقراط کی سوانح لکھیں۔
سورانوس کا کہنا ہے کہ بقراط کے باپ کا نام ہیراگلاڈیس تھا۔ ہیرا کلاڈیس اپنے زمانے کا نامور طبیب تھا۔ بقراط کی ماں کا نام پراکشٹیلا تھا جو کہ اپنے دور کے نامی گرامی شخص فینا ریٹنس کی بیٹی تھی۔ بقراط کے دو بیٹے تھے ایک کا نام تھیسایس اور دوسرے کا ڈراکو تھا۔ بقراط کی ایک بیٹی تھی جس کے خاوند کا نام پولی بس تھا۔ بقراط کے دونوں بیٹے اور داماد اس کے شاگرد تھے۔ انہوں نے علم طب کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد بہت شہرت پائی۔ حکیم جالینوس کا کہنا تھا کہ بقراط کے علم و تجربے کا حقیقی جانشین پولی بس تھا کیونکہ اس نے تمام قواعد صحیح طور پر سیکھے اور ان سے مکمل استفادہ کیا تھا۔ بقراط کے دونوں بیٹوں تھیالیس اور ڈراکو کے ایک ایک بیٹے کا نام اپنے دادا کے نام پر بقراط تھا۔ سورانس کا کہنا ہے کہ بقراط نے علم طب اپنے باپ اور دادا سے سیکھا تھا جبکہ دوسرے علوم ڈیموکریٹس اور گور جیاس سے حاصل کیے۔
افلاطون نے مقالات حکمت میں لکھا ہے کہ بقراط نے اسکلیپیون کی شفا بخش درس گاہ سے تعلیم حاصل کی اور طب کی تربیت لی تھی۔ بقول افلاطون بقراط نے اسکلیپیون میں تھیرس کے حکیم اعظم ہیروڈیکوس آف سیلیمبریا سے بھی تعلیم حاصل کی تھی۔بقراط کی بعض تصانیف میں نرمی، شفقت، انکسار، تواضع و محبت جیسی ہدایات ملتی ہیں چونکہ ہمارے ہاں اس کی تصانیف کا سب سے پہلے ترجمہ ہوا اور یہ دنیا کا کامل ترین طبیب تھا اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ فن طب پر لوگوں کی رائے یہاں نقل کروں۔فن طب کی اختراع و مخترع کے مختلف علماءمیں اختلاف ہے۔ اسحق بن حنین اپنی تاریخ میں کہتا ہے کہ ایک قوم اہل مصر کو فن طب کا موجد سمجھتی ہے اور ساتھ ہی ایک حکایت بھی سناتی ہے کہ پرانے زمانے میں مصر کی ایک عورت ہمیشہ رنج و غم اور غیض و غضب کا شکار رہا کرتی تھی اور ساتھ ہی چند بیماریوں مثلاًضعف معدہ، فساد خون، احتباس حیض میں مبتلا تھی۔
ایک دفعہ اتفاقاً نرنجیل شامی (ایک پودا) کو کھا بیٹھی اور تمام روگ دور ہوگئے اس تجربے سے اہل مصر نے فائدہ اٹھایا اور فن طب کا آغاز ہوگیا۔ بعض علماءفلسفے، طب اور دیگر صنائع کا موجد ہرمس (حضرت ادریسؑ) کو قرار دیتے ہیں۔ بعض اختراع کا سہرا اہل قوس (یاقولوس) کے سرباندھتے ہیں۔ بعض ساحروں کو اس کا موجد قرار دیتے ہیں بعض کے ہاں اس کی ابتداءبابل، بعض کے ہاں ایران، بعض کے ہاں ہندوستان، بعض کے ہاں یمن اور بعض کے ہاں مقلب سے ہوئی -یحییٰ نحوی اپنی تاریخ میں لکھتا ہے کہ جالینوس کے زمانے تک8 بڑے بڑے طبیب گزرے ہیں۔ اسقلیبوس اول، غورس،مینس، برمانیذس، افلاطون الطبیب، اسقلیبیوس دوم، بقراط اور جالینوس۔اسقلیبوس اول اور جالینوس کے درمیان 5560 سال کا عرصہ حائل ہے اسی طرح ہر طبیب کی وفات اور دوسرے کی ولادت تک سینکڑوں سال کے لمبے لمبے وقفے ہیں۔بقراط اپنے زمانے میں ریئس الاطباءتھا۔
اس مضمون کی تیاری میں نے انٹر نیٹ کے مضامین کی مدد سے کی ہےجمعرات، 2 جنوری، 2025
تاریخ انسانی کا امیر ترین حاکم-منسا موسیٰ
نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے
انقلاب چین جو چینی قوم کی نجات کا باعث بن گیا
چین کے انقلاب میں تاریخی لانگ مارچ کو ایک سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے جو اکتوبر1934ء سے اکتوبر 1935ء تک جاری رہا۔ یہ لانگ مارچ چھے ہزار میل ط...
حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر
-
میرا تعارف نحمدہ ونصلّٰی علٰی رسولہ الکریم ،واٰ لہ الطّیبین الطاہرین جائے پیدائش ،جنوبی ہندوستان عمر عزیز پاکستان جتنی پاکستان کی ...
-
خوبصورت اور لہلہاتے قدرتی نظاروں سے مالامال جزیرہ ماریشس (موریطانیہ )کے ائر پورٹ 'پورٹ لوئس کے سرشِو ساگر رام غلام انٹرنیشنل ائیرپ...
-
نام تو اس کا لینارڈ تھا لیکن اسلام قبول کر لینے کے بعد فاروق احمد لینارڈ انگلستانی ہو گیا-یہ سچی کہانی ایک ایسے انگریز بچّے لی...