بدھ، 15 جولائی، 2026

ولی دکنی 'حیدر آبد دکن کے ابتدائ شاعر


 

ولی دکنی  کا شمار  حیدر آبا د کی مردم خیز سر زمین  پر اردو کے ابتدائی شاعروں میں ہوتا ہے۔اگر چہ ان سے پہلے بھی اردو شاعری  میں امیر خسرو دست یاب ہیں لیکن کلام کی خوب صورتی اور دل کشی کے حوالے سے   ولی کواردو کے ابتدائی شعرا میں خاص مقام و مرتبہ حاصل ہے۔انہوں نے اردو میں فارسی تراکیب کو رواج دیا بلکہ اردو غزل کو ایسا رنگ دنے کی سعی کی جو بالاخر اردو غزل کا طرہ امتیاز قرار پایا ۔اگر چہ ان سے پہلے بھی اردو شاعری کے نمونے دست یاب ہیں لیکن کلام کی خوب صورتی اور دل کشی کے حوالے ولی کواردو کے ابتدائی شعرا میں خاص مقام و مرتبہ حاصل ہے۔انہوں نے اردو میں فارسی تراکیب کو رواج دیا  ۔ ولی دکنی کے وطن  کی نسبت متضاد آرا ملتی ہیں۔گجرات والے انہیں بھارت کی ریاست گجرات سے بتاتے ہیں جب کہ حیدرآباد کے تحقیق کار ان کی پیدائش کا سلسلہ دکن سے جوڑتے ہیں۔تا ہم بعض مشہور روایات کے مطابق وہ عبداللہ قطب شاہ کے دور میں 1667کو اورنگ آباد پیدا ہوئے۔اگر چہ ولی دکنی کی عمر کا زیادہ تر حصہ احمد آباد بسر ہوا مگر انہوں نے دہلی کا سفر بھی کیا۔دہلی کے سفر سے پہلے ان کی شاعری کا رنگ ڈھنگ کچھ اور تھا۔وہاں ان کی ملاقات سعد اللہ گلشن   جیسے صوفی سے ہوئی۔سعد اللہ گلشن ان کے کلام سے بے حد متاثر ہوئے۔


انہوں نے ولی کو مشورہ دیا کہ پرانے فارسی کے مضامین کو ریختہ میں لانا چاہیے۔یوں ولی دکنی نے ریختہ گوئی کی ابتدا کی۔ان کی شاعری سے غزل کے نئے دور کا آغاز ہوتا ہے۔ولی دکنی سے پہلے کے شعرا کہ جن میں قلی قطب شاہ اور امیر خسرو اگر چہ قابل ذکر ہیں ۔مگر ان کی زباں اور ولی کی زبان میں کافی فرق پایا جاتا ہےولی دکنی (اصل نام ولی محمد) اردو کے 'بابائے غزل' ہیں۔ ان کی پیدائش ۱۶۶۷ء میں اورنگ آباد اور وفات ۱۷۰۷ء میں ہوئی- ولی کی شاعری کا دائرہ گجرات، اورنگ آباد اور دہلی تک پھیلا ہوا تھا。 دہلی کے مشہور بزرگ صوفی 'شاہ سعد اللہ گلشن' سے ملاقات کے بعد انہوں نے فارسی مضامین کو اردو (ریختہ) میں ڈھالنا شروع کیا جس سے اردو غزل کو باقاعدہ عروج ملا۔  ولی کے اشعار سے دکنی ہونا ثابت ہے۔ بچپن کی تعلیم اپنے آبائ شہر میں حاصل کرنے   کے بعد حصول علم کے لیے احمد آباد آگئے۔ جو اس زمانے میں علم و فن کا مرکز تھا۔ وہاں حضرت شاہ وجیہ الدین کی خانقاہ کے مدرسے میں داخل ہو گئے۔ لیکن   ولی کی عمر کا بیشتر حصہ احمد آباد میں گذرا۔ اس شہر کے فراق میں انھوں نے ایک پردرد قطعہ بھی لکھا۔ 


 ولی نے گجرات، سورت اور دہلی کا سفر بھی کیا۔ اس کے متعلق اشارے ان کے کلام میں موجود ہیں۔دہلی میں ولی کی سعد اللہ گلشن سے ملاقات ہوئی۔ تو وہ ان کا کلام دیکھ کر بہت متاثر ہوئے اور مشورہ دیا کہ ان تمام مضامین کو جو فارسی میں بیکار پڑے ہیں۔ ریختہ کی زبان میں کام میں لانا چاہیے، تاہم یہ بات متنازع ہے  قائم چاند پوری نے اپنے تذکرے نکاتِ سخن میں لکھا ہے کہ ولی نے سعد کے مشورے پر عمل کیا اور دوسری مرتبہ دہلی گئے تو ان کے کلام کی خوب قدر ہوئی اور یہاں تک شہرت ہوئی کی امراءکی محفلوں میں اور جلسوں اور کوچہ و بازار میں ولی کے اشعار لوگوں کی زبان پر تھے۔ ولی دکنی کو محمد حسین آزاد نے اردو شاعری میں وہی مقام دیا ہے جو انگریزی شاعری میں چاسر اور فارسی شاعری میں رودکی کو حاصل ہےولی کی زباں کافی حد تک دور حاضر کی لسانی ساخت سے ملتی جلتی ہے۔دکن میں ولی سے قبل اردو غزل اس لیے بھی روایت نہ بنا سکی کہ دکن کی ریاستوں پر فارسی کا اثر تھا۔یہی وجہ ہے کہ دکن میں غزل کے ابتدائی ایام میں خارجیت کا رنگ غالب نظر آتا ہے۔انہوں نے اردو کو زبان اور بیان کے نئے سانچوں سے روشناس کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔ولی دکنی کی غزل میں وہ تمام خوبیاں پائی جاتی ہیں جو آنے والے ادوار میں غزل کی خاص پہچان بنیں۔



ولی نے ہندی ۔فارسی اور علاقائی زبانوں کے الفاظ استعمال کرتے ہوئے اظہار کی نئی راہ نکالی۔ان کے کلام میں مختکف زبانوں کے ایسے الفاظ استعمال ہوئے ہیں جو باہم ربط رکھتے ہیں اور ان کے کلام میں بے میل محسوس نہیں ہوتے۔انہوں نے ہندوستانی زبانوں کے ایسے الفاط برتے ہہیں جو عام فہم ہیں اور قاری کو تفہیم میں دقت محسوس نہیں ہوتی ۔یہی وجہ ہے کی صدیاں گزرنے کا باوجود ان کا کلام عام فہم ہے اور ان کے زیادہ تر الفاظ ہماری روز مرہ بول چال کے محسوس ہوتے ہیں۔سچ تو یہ ہے کہ ولی دکنی اردو زبان اور غزل کا ایسے  معمار تھے جس نے  زبان و ادب  کی ترویج  کے لئے  ایک عالی شان عمارت کی داغ بیل ڈالی۔ 

خوب رو خوب کام کرتے ہیں

یک نگہ میں غلام کرتے ہیں 

وو صنم جب سوں بسا دیدۂ حیران میں آ

آتش عشق پڑی عقل کے سامان میں آ

ناز دیتا نہیں گر رخصت گل گشت چمن

اے چمن‌‌ زار حیا دل کے گلستان میں آ

عیش ہے عیش کہ اس مہ کا خیال روشن

شمع روشن کیا مجھ دل کے شبستاں میں آ

یاد آتا ہے مجھے وو دو گل باغ   وفا

اشک کرتے ہیں مکاں گوشۂ دامان میں آ

موج بے تابیٔ دل اشک میں ہوئی جلوہ نما

جب بسی زلف صنم طبع پریشان میں آ

نالہ و آہ کی تفصیل نہ پوچھو مجھ سوں

دفتر درد بسا عشق کے دیوان میں آ

پنجۂ عشق نے بیتاب کیا جب سوں مجھے

چاک دل تب سوں بسا چاک گریبان میں آ

دیکھ اے اہل نظر سبزۂ خط میں لب لعل

رنگ یاقوت چھپا ہے خط ریحاں میں آ

حسن تھا پردۂ تجرید میں سب سوں آزاد

طالب عشق ہوا صورت انسان میں آ

شیخ یہاں بات تری پیش نہ جاوے ہرگز

عقل کوں چھوڑ کے مت مجلس رندان میں آ

درد منداں کو بجز درد نہیں صید مراد

اے شہ ملک جنوں غم کے بیابان میں آ

حاکم وقت ہے تجھ گھر میں رقیب بد خو

دیو مختار ہوا ملک سلیمان میں آ

چشمۂ آب بقا جگ میں کیا ہے حاصل

یوسف حسن ترے چاہ زنخدان میں آ

جگ کے خوباں کا نمک ہو کے نمک پروردہ

چھپ رہا آ کے ترے لب کے نمک دان میں آ

بس کہ مجھ حال سوں ہمسر ہے پریشانی میں

ظلم کو چھوڑ سجن شیوۂ احسان میں آ

یاد کرنا ہر گھڑی اس یار کا

ولی دکنی


بدھ، 8 جولائی، 2026

ہندوستان (امروہہ) میں سادات کی آمد

 

  امروہہ صوبہ اترپردیش کے مغرب میں واقع ہے جس کی کل آبادی: 200000 ہے اورمسلم آبادی 60  فیصد  اور  اسی میں شیعہ آبادی  کا تناسب  پندرہ فیصد بتایا جاتا  ہے  ۔ امروہہ کے نقوی سادات کےمورث اعلیٰ حضرت شرف الدین شاہ ولایت نقوی ہیں جن کا سلسلہ نسب امام علی نقی علیہ السلام تک پہنچتا ہے۔سادات کا یہ قافلہ منگولوں کی ایران پر فوج کشی کے باعث ایران سے ہجرت کر کے امروہہ میں وارد ہوا سادات امروہہ کا شجرہ دو فٹ چوڑا اور 276 فٹ اور 6 انچ (92 گز اور 6 انچ) لمبا ہے، یہ شجرہ باریک جھلّی(پوست) پر مکمل طور پر خوبصورت و دیدہ زیب ہے ڈیزائن سے اول تا آخر مزین ہے اس شجرہ کی ابتداء حضرت آدمؑ اور رسولوں اور مشہور پیغمبروں سے ہوتے ہوئے مشہور صفی بزرگ حضرت سید شاہ شرف الدین واسطی جو شاہ ولایت کے نام سے معروف ہیں آٹھ سو سال پہلے قریہ امروہہ (یو۔پی) میں تشریف لائے اور وہیں کے ہوکر رہ گئےانکی اولادں کا سلسلہ جو آٹھ سو سالوں پر محیط ہے ، اولادوں میں سنی شیعہ دونوں ہیں اس شجرہ میں بلا تفریق ، عابدی، نقوی، تقوی، زیدی، کاظمی ، رضوی ، نقشبندی، اور چشتیہ وغیرہ ہیں۔سادات امروہہ (دوسرا حصہ) دو فٹ چوڑا اور 436 فٹ 8انچ (145 گز، 8،انچ)لمبا نقاشی وغیرہ سے مزیّن باریک جھلّی(پوست) پر ہے۔یہاں کے لوگ ہمیشہ دیندار رہے ہیں ان کی دینداری کی علامت 20/مساجد اور 72/ حسینیہ و کربلا ہیں۔ یہ لوگ ہمیشہ تعلیم یافتہ رہے ہیں اور درسگاہوں کو بھی بنایا


  دوسرے حصے میں شاہ ولایت رحمۃ اللہ علیہ کی اولاد وقاضی سید امیر علی کی اولاد تاج الدین سید شرف الدین جہانگیر قاضی محمود سالار کی اولادوں کا سلسلہ نسب ہے ۔  اس شجرہ میں حضرت امام حسینؑ کی اولاد امام زین العابدین ، عبد اللہ الباھر، حضرت امام محمد باقرؑ، علی، عبداللہ، عمر الاشرف، علی الاصغر وغیرہ کا نسب نامہ ہے-امروہہ از لحاظ جغرافیائی : شہر امروہہ ہندوستان کی راجدھانی دہلی سے صرف 130 کیلومیٹر پر واقع ہے دہلی سے نزدیک ہونے کی وجہ سے، امروہہ کا موسم دہلی کی طرح ہے۔ یہ شہر علاقوں اور محلوں میں تقسیم کیا گیا ہے امروہہ ایک مسلم اکثریتی آبادی ہے۔امروہہ کے علمی، فرہنگی اور مذہبی مراکز: بیسویں صدی کی ابتدا میں سادات نے ترقی کی کو شش شروع کی اور چند روشن خیال ہستیوں نے قومی ادارے قائم کیے۔ حاجی سیدمقبول احمد نے بامداد دیگراں خاندان 1902ء میں امام المدارس کی ابتدا کی اس مدرسہ کے لیے حاجی سید مقبول احمد اور سید محمد باقر نے موضع "سربراہ " اور "قائم پور" وقف کیے اور مولوی سید مجتبے ٰ حسن عرف چاند کی کوششوں سے ہائی اسکول ہوا۔ جو اب انٹر میڈیٹ کالج ہے مولاناسید نجم الحسن کی تحریک پر نور المدارس قائم ہوا اور مولوی سید اعجاز حسن جن کو گزیٹر مراد آبا د 1911ء میں قائد سادات امروہہ لکھا گیاہے سید المدارس کے بانی ہوئے۔ ان تمام مدارس سے تعلیم کا بہت چرچاہوا خصوصاً امام المدارس سے انگریزی تعلیمی ترقی میں بہت مدد ملی۔امروہہ میں 72 عزاخانے (چھوٹے - بڑے)پائے جاتے ہیں  ۔

 

امروہہ کے سادات کو برصغیر میں علم، تقویٰ، اور شاعری کے حوالے سے ایک خاص مقام حاصل ہے۔ امروہہ میں آباد خاندان: امروہہ میں مختلف خاندان پائے جاتے ہیں جن میں نقوی، عابدی، تقوی اور زیدی کے نام لئے جاسکتے ہیں نیز غیر سادات خاندان بھی یہاں آباد ہیں۔امروہہ کی شخصیات :امروہہ شہر جسکو علم و ادب کا گہوارہ کہا جاتا ہے اس سرزمین پر ایک سے ایک بڑی شخصیات نے آنکھیں کھولیں ہیں مولانا سید قائم رضا نسیمؔ آپ کو اردو میں جدید مرثیہ کا بانی کہا جاتا ہے موصوف نے 300 کے قریب مرثئے کہے جو لاجواب ہیں ، سادات امروہہ کی اہم میراث-امروہہ ضلع امروہہ کی تاریخ پر طائرانہ نظر: پہلے شخص جو سرزمین امروہہ پر وارد ہو ئے وہ سید شاہ نصیر الد ین اور عابد ی خاندان کے مو رث تھے۔ ان کی حیات ہی میں چو دھویں صدی عیسوی اور ساتویں صدی ہجر ی کے آغا ز میں سید حسین شر ف الد ین شا ہ ولا یت مور ث اعلیٰ خاندان  سرزمین امروہہ پر وارد ہو ئے۔ ان حضر ات کا تعلق اس زمر ہ صوفیا ئے کرام سے تھا جو ممالک اسلامیہ خصو صاًایران پر مسلسل منگولو ں کے حملو ں کی وجہ سے واردہند ستان ہو ئے اور جن کی سعی و کوشش کی بدولت ہند و ستان کی سر زمین پراسلا م پھیلا اور اس طر ح منگولوں کا یہ فتنہ، اسلا م کے لیے مفید ثا بت ہوا۔



                            امروہہ میں سادات کی آمد اور قیام عزاداری   دوسری یہ کہ ہندووں کی تگا اور راجپوت قو میں برابر سر کشی اور بغاوت پر آمادہ رہتی تھیں یہ تھے علاقہ روہیلکھنڈ کے حالات جس کو اس وقت کٹھہر کہتے تھے جب سید شر ف الد ین شاہ ولا یت۔ ان کے اعزااور اسلا ف نے امر وہہ کو اپنا مر کز بنا کر تبلیغ اسلام اور استحکام حکو مت کی ذمہ داری سنبھا لی تبلیغ اس و سیع پیما نہ پر کی کہ آ پ شاہ ولا یت کہلائے اور حسب مقا صد العارفین وثمر ات القدوس آ پ کی ولا یت”ازگنگ تاسنگ“تھی۔ یعنی دریائے گنگ سے لے کر ہمالیہ پہاڑ تک جس میں وہ سب علاقہ شامل ہے جس کو روہیلکھنڈ کہتے ہیں۔ شاہ صاحب اور ان کے اسلاف کی تبلیغ کی بدولت اس شہر میں مسلمانوں کی آبادی کا تناسب ہندوستان کے دیگر علاقوں میں سب سے زیادہ ہے اور امروہہ کے حلقہ میں آج بھی تمام ہندوستان میں سب سے زیادہ مسلم ووٹوں کا تناسب ہے۔ اسی دور میں تبلیغ دین کے ساتھ ہما رے بزر گو ں نے ملک کی خدمت بھی انجام دی۔ انھوں نے اپنی بہادری اور شجا عت سے تما م سر کش گر وہوں کے سر کر کے امن وامان قائم کیا ان اسلامی خد ما ت کی بنا ء پر حسب گزیٹر ضلع مر اد آباد 1911ء شہنشاہ اکبر کے زمانہ سے بہت پہلے سادات امر وہہ کا شمار ہندو ستان کے ممتازتر ین خاندانوں میں تھا اور وہ ایک اعلیٰ شہر ت کے ما لک بن چکے تھے۔ معاشرتی اعتبار سے اس دور میں سادات کی زندگی بہت سادہ تھی اور ان کے  آمکا نا ت معمولی تھے۔ ان کا سامان خانہ داری چند ضروری اشیائے زندگی پر منحصرتھا۔ ان کا طعام دور مغلیہ کی لذّتوں سے  آشنا نا تھا۔ ان کی زبان عر بی اور فا رسی دونوں تھیں

تحریر کے لئے گوگل سے استفادہ کیا ہے

 

ایک مایہ ء ناز خاتون رہنما 'عقیلہ ناز

   

 


   پاکستان میں مزارعین کی خستہ حالی ایک دیرینہ اور پیچیدہ مسئلہ ہے، جس کی بنیادی وجوہات میں غیر منصفانہ جاگیردارانہ نظام، زمین کے مالکانہ حقوق کا فقدان اور جدید زرعی بحران شامل ہیں۔ ان محنت کشوں کو بنیادی حقوق، تعلیم، اور صحت کی سہولیات تک رسائی حاصل نہیں ہے۔. مالکانہ حقوق کا فقدان-پاکستان میں بالخصوص صوبہ پنجاب اور صوبہ سندھ میں لاکھوں مزارعین نسلوں سے زمینوں پر کاشتکاری کر رہے ہیں، مگر انہیں زمین کی ملکیت سے محروم رکھا جاتا ہے۔ اس کی بڑی مثال اوکاڑہ اور پاک پتن کے اور پنجاب سیڈ کارپوریشن کے علاقے ہیں جہاں مزارعین کو مالکانہ حقوق دینے کی بجائے اکثر  با اثر لوگوں کی جانب سے بے دخلی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے ایک ا نقلابی خاتون نے ان غریبوں کے لئے آواز اٹھائ  وہ آواز تھی عقیلہ ناز کی        لیکن یہ آواز بڑی جلدی خاموش ہو گئ - (اے ایم پی) کی ممتاز رہنما، کسان خواتین کی توانا آواز اور بے زمین مزارعین کے حقوق کی جدوجہد کی نمایاں علامت عقیلہ ناز کینسر کے مرض میں مبتلا رہنے کے بعد بدھ کے روز ملتان میں انتقال کر گئیں۔ ان کی عمر 50 سال تھی۔ان کی وفات سے کسانوں کی تحریک، انسانی حقوق کی تنظیموں، خواتین کے حقوق کے کارکنوں اور ترقی پسند حلقوں میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔


ان کے ساتھی انہیں ایک ایسی نڈر اور بااصول رہنما کے طور پر یاد کر رہے ہیں جنہوں نے اوکاڑہ اور خانیوال کے فوجی فارموں کے مزارعین کی حقِ ملکیت کی تحریک میں صف اول کا کردار ادا کیا اور شدید ریاستی دباؤ، مقدمات، گرفتاریوں اور دھمکیوں کے باوجود کبھی اپنے مؤقف سے دستبردار نہیں ہوئیں۔عقیلہ ناز گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے تک پاکستان میں بے زمین کسانوں کی تحریک کا نمایاں چہرہ رہیں۔ ان کی جرات، استقامت اور قیادت نے ہزاروں دیہی خواتین کو اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے، منظم ہونے اور تحریک کا حصہ بننے کا حوصلہ دیا۔ان کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی ان کسان خاندانوں کے لیے وقف کر دی جن کے آباؤ اجداد نسلوں سے زمینیں کاشت کرتے آئے، لیکن انہیں کبھی ان زمینوں کی قانونی ملکیت نہیں ملی۔عقیلہ ناز کا تعلق پنجاب کے ضلع خانیوال کے ایک کسان خاندان سے تھا۔ انہوں نے ہائی اسکول تک تعلیم حاصل کی، مگر مالی مشکلات کے باعث مزید تعلیم جاری نہ رکھ سکیں۔ تاہم، وہ خود کہا کرتی تھیں کہ انجمن مزارعین پنجاب نے انہیں عملی زندگی کا وہ شعور، تجربہ اور اعتماد دیا جو کسی اعلیٰ تعلیمی ڈگری سے کم نہیں تھا۔ان کی جدوجہد کی بنیاد ان کے خاندانی پس منظر میں بھی موجود تھی۔ ان کے والد سیموئل رحمت کسانوں کے حقوق کے سرگرم حامی تھے۔ ان کے آباؤ اجداد نے برطانوی دور میں پنجاب کے نہری علاقوں کی آبادکاری کے دوران زمینیں آباد کیں، لیکن دوسرے ہزاروں کسان خاندانوں کی طرح انہیں بھی ان زمینوں کی ملکیت حاصل نہ ہو سکی۔ یہی احساس محرومی بعد میں عقیلہ ناز کی زندگی کا مقصد بن گیا۔


انجمن مزارعین پنجاب کی تحریک کا آغاز 1988 میں ہوا، جب پنجاب کے مختلف اضلاع میں سرکاری اور فوجی فارموں کی زمینیں نسلوں سے کاشت کرنے والے مزارعین نے متعلقہ اداروں کے دعووں کو چیلنج کیا۔ کسانوں کا مؤقف تھا کہ سرکاری ریونیو ریکارڈ کے مطابق یہ ادارے زمینوں کے قانونی مالک نہیں ہیں، اس لیے نسلوں سے کاشتکاری کرنے والے خاندانوں کو ملکیتی حقوق دیے جائیں۔1990 کی دہائی میں یہ تحریک تیزی سے پھیلی اور پنجاب کے تقریباً دس اضلاع میں لاکھوں کسان اس میں شامل ہوگئے۔ تحریک کا نعرہ ‘مالکی یا موت’ پورے خطے میں مزاحمت کی علامت بن گیا۔عقیلہ ناز نے مئی 2000 میں، انجمن مزارعین پنجاب میں شمولیت اختیار کی۔ اس وقت شاید انہیں بھی اندازہ نہیں تھا کہ یہ تحریک ان کی پوری زندگی کا محور بن جائے گی۔ چند ہی برسوں میں وہ ایک سرگرم کارکن سے کسان خواتین کی صف اول کی رہنما بن گئیں اور خواتین کو تحریک کا مضبوط ستون بنانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔اوکاڑہ اور خانیوال کے فوجی فارموں کے مزارعین کی تحریک پاکستان کی اہم عوامی تحریکوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس تحریک کا بنیادی مطالبہ یہ تھا کہ جن کسان خاندانوں نے چار نسلوں سے ان زمینوں کو آباد رکھا ہے، انہیں بے دخل کرنے کے بجائے ان زمینوں کی قانونی ملکیت دی جائے۔ اس مقصد کے لیے کسانوں نے طویل احتجاج، جلسے، ریلیاں اور لانگ مارچ کیے۔  


 انہیں پولیس، رینجرز اور دیگر ریاستی اداروں کی کارروائیوں، گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ان کی مسلسل جدوجہد کے نتیجے میں کسان خواتین تحریک کے ہر مرحلے میں نمایاں کردار ادا کرنے لگیں۔ وہ جلسوں، احتجاجی مظاہروں، مذاکرات اور تنظیم سازی میں مردوں کے شانہ بشانہ کھڑی رہیں اور ہر قسم کی دھمکیوں اور دباؤ کے باوجود پیچھے نہیں ہٹیں۔تحریک کے دوران عقیلہ ناز کو جھوٹے مقدمات، رینجرز اور پولیس کی کارروائیوں، بااثر زمینداروں کی مخالفت اور بعض مذہبی حلقوں کی تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا، لیکن انہوں نے کبھی ہمت نہیں ہاری۔ ان کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ وہ مشکل ترین حالات میں بھی کارکنوں کا حوصلہ بلند رکھتیں اور ہمیشہ پرامن جدوجہد پر یقین رکھتی تھیں۔انہوں نے انجمن مزارعین پنجاب کے بانی رہنماؤں، خصوصاً ڈاکٹر کرسٹوفر جان، کے ساتھ مل کر کسانوں کی تنظیم سازی میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ 2008 سے 2011 تک تنظیم کی فنانس سیکریٹری رہیں، بعد ازاں ایگزیکٹو کمیٹی کی رکن منتخب ہوئیں اور پھر جنرل سیکریٹری کے عہدے پر بھی خدمات انجام دیں۔ وہ ایک بہترین مقرر، مؤثر لکھاری اور کامیاب تنظیم ساز کے طور پر بھی جانی جاتی تھیں۔عقیلہ ناز کی خدمات کو بین الاقوامی سطح پر بھی سراہا گیا۔ انہیں 2010 میں بنگلہ دیش میں جنوبی ایشیا کے ابھرتے ہوئے سماجی کارکنوں کے لیے قائم ’میٹو میموریل ایوارڈ‘ سے نوازا گیا۔ یہ اعزاز معروف سماجی کارکن کملا بھاسین نے اپنی مرحوم بیٹی Meetoکی یاد میں قائم کیا تھا۔ یہ ایوارڈ انہیں کسان خواتین کے حقوق، دیہی تنظیم سازی اور سماجی انصاف کے لیے ان کی غیر معمولی خدمات کے اعتراف میں دیا گیا۔انہوں نے بعد میں ’پیزنٹ ویمن سوسائٹی‘ کے نام سے ایک الگ پلیٹ فارم قائم کیا تاکہ دیہی خواتین کے مسائل کو زیادہ مؤثر انداز میں اجاگر کیا جا سکے۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے وہ خواتین کی زمین پر ملکیت، میاں بیوی کی مشترکہ ملکیت کے حق، زرعی خواتین مزدوروں کی اجرت وغیرہ وغیرہ



ہفتہ، 4 جولائی، 2026

بھوک کا درد بڑا ظالم ہوتا ہے

 

یہ کینیا میں اپنا غربت بھرا بچپن گزارنے والی ایک ایسی لڑکی کی کہانی ہے جس نے  اپنی غربت سے لڑنے کا فیصلہ کیا -یہ لڑکی جیبوتی تھی اس نے  ایک پختہ عزم کیا کہ وہ اپنی محنت اور حوصلے سے صرف اپنی  نہیں بلکہ پورے گائوں کے لوگوں کی زندگی کو بہتر بنائے گی۔کچھ عرصے  کی سخت  جدوجہد  کے بعدقسمت  نے اس پر  مہربانی کی  اور اس کو آگسٹانا کالج سے اسکالرشپ مل گئی۔وہ امریکہ چلی گئی جہاں پڑھنے کے ساتھ وہ جاب بھی کرتی رہی۔رات تک وہ تھکن سے چور ہوجاتی۔وہ کمپیوٹر سے نابلد تھی۔ٹائپنگ نہ کرسکنے کی وجہ سے اس کو کئی گھنٹوں تک اپنی اسائنمنٹ لکھنی پڑتی،بالآخر اس کی زندگی میں ایک دلچسپ موڑآیا۔ اس کو ریاضی کے لیے ’’جاوا‘‘ کا کورس کرناتھااور یہیں سے اس کا رجحان کمپیوٹر کی طرف بڑھنے لگا۔اس کے دل میں اپنی قوم کادرد تھا۔وہ دن رات یہی سوچتی رہی کہ کیسے میں ان لوگوں کی زندگی بدل سکتی ہوں۔ایک رات اچانک اس کے ذہن میں ایک آئیڈیاآیا۔اس نے دیکھاکہ بڑی بڑی کمپنیوں میں استعمال ہونے والے کمپیوٹرز میں جب معمولی خرابی بھی آتی توانتظامیہ اس کوسٹور روم میں جمع کرتی اور کمپنی کے لیے نئے سسٹم آرڈرز کرتی۔اس نے کمپنیز سے بات کرکے یہ تمام کمپیوٹرز حاصل کیے اور انھیں کینیا منتقل کیا۔اس سارے عمل پرآنے والے اخراجات اس نے اپنی جیب سے بھرے ۔


پھر چیبوئ نے TechLit Africaکے نام سے ایک ادارہ بنایا،جس کے تحت امریکہ سے آنے والے کمپیوٹرز کو کھول کر ان کے ہارڈوئرز صاف کیے جاتے ، انھیں دوبارہ استعمال کے قابل بنادیاجاتااورپھر مقامی اسکولوں میں تقسیم کردیے جاتے ۔چیبوئی نے اپنے علاقے میں کمپیوٹر ایکسپرٹس کو ڈھونڈکرانھیں بچوں کو پڑھانے کی درخواست کی۔یوں پرانے اور کسی حدتک بے کار کمپیوٹرزکے ساتھ بچوں کوآئی ٹی اسکلز سکھائے جانے لگیں اور انتہائی کم وقت میں بڑے شاندار نتائج ملے ۔چیبوئی کہتی ہے: مجھے بھوک کادرد یاد ہے ۔یہ بہت ظالم ہے ۔میں نے اس کوبہت قریب سے دیکھاہے اور اسی درد نے میرے اندر وہ شعلہ روشن کیا جس کی بدولت میں نے اپنی زندگی اور اپنی قوم کی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے جدوجہد شروع کی۔آج میرے ادارے میں چار ہزار سے زائد بچے جدید ٹیکنالوجی کی تعلیم حاصل کررہے ہیں اورمجھے امید ہے کہ یہاں سے پڑھنے والے بچے فری لانس مارکیٹ میں گرافک ڈیزائننگ، کوڈنگ، سوشل میڈیا مارکیٹنگ کی بدولت کینیا کی معیشت کوبدل کر رکھ دیں گے۔اس کائنات میں موجود ہر انسان خاص ہے۔تمام انسانوں کو اللہ تعالیٰ نے کسی نہ کسی قابلیت سے نوازرکھاہے۔وہ اگر ہمت سے کام لے تواس قابلیت کی بدولت اپنی زندگی اور دوسر ے انسانوں کی زندگیوں کو آسان بناسکتاہے۔روزمرہ زندگی میں ہر انسان کے سامنے مختلف طرح کے حالات آتے ہیں۔


یہ حالات کبھی کبھار انسان کو بے بس کردیتے ہیں ، وہ مایوس اور پریشان ہوجاتاہے اور ہمت ہارکر بیٹھ جاتاہے جبکہ کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی پختہ ہمت کے سامنے کسی بھی طرح کے حالات کچھ اہمیت نہیں رکھتے ۔وہ جس قدربھی تنگی میں ہوں،اپناحوصلہ جوان رکھتے ہیں اور کسی نہ کسی طرح خود کو حالات کے اس بھنور سے نکال ہی دیتے ہیں۔ ہم اس بات  کو جانتے ہیں باہمت لوگوں کی وہ کون سی صفات ہوتی ہیں جو انھیں عام لوگوں سے ممتاز بنادیتی ہیں او ر وہ معاشرے میں ایک شاندار تبدیلی لے کرآتے ہیں اسی طرح کمزورلوگوں کی وہ کون سی خامیاں ہوتی ہیں جن کی وجہ سے وہ پیچھے رہ جاتے ہیں اور زندگی میں کوئی نمایاں کام نہیں کرپاتے۔کمزور ہمت لوگ ہمیشہ اس یقین کے قیدی ہوتے ہیں کہ ہم کچھ نہیں کرسکتے۔انھیں ہمیشہ ہارنے کااندیشہ ہوتاہے۔ناکام ہونے ، گرجانے اور ہدف پر نہ پہنچنے کا خوف۔انھیں دوسروں کی رائے سے بھی خوف آتاہے۔یہ تنقید سے ڈرتے ہیں۔ناپسندیدگی سے ان کی جان جاتی ہے۔لوگ ایسا نہ کہہ دیں ، ویسا نہ کہہ دیں۔میں اگر ناکام ہوگیاتو معلوم نہیں زمانہ کیا کہے گا۔یہ اورایسے متعدد خیالات نے انھیں اپنا قیدی بنایاہوتاہے اور اس وجہ سے یہ کوئی بھی عملی قدم نہیں اٹھاسکتے۔اس کے برعکس باہمت لوگ ہمیشہ پُرامیدرہتے ہیں۔وہ آزاد ہوتے ہیں۔وہ ہمیشہ کچھ کرنے کی جستجومیں ہوتے ہیں۔وہ ہمیشہ مثبت اورامیدافزاگفتگو کرتے ہیں کیوں کہ انھیں معلو م ہوتاہے کہ وہ جوبھی بولتے ہیں ،وہ الفاظ خیالات کا روپ دھارلیتے ہیں اورپھر اسی طرح کے واقعات ان کی زندگی میں رونما ہوناشروع ہوجاتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ’’میں نہیں کرسکتا‘‘ ان کی زندگی میں نہیں ہوتا۔ان کے سامنے مشکل سے مشکل ہدف کیوں نہ ہو، اس کوحاصل کرنے کے لیے وہ سوچتے ہیں ، راستے بدل کر دیکھتے ہیں اور نئے امکانات کا جائزہ لے کراس کی طرف بڑھتے ہیں اور ایک نہ ایک دن اس کو کامیابی سے حاصل کرلیتے ہیں۔یہ تنقید سے ڈرتے ہیں۔لوگ ایسا نہ کہہ دیں ، ویسا نہ کہہ دیں۔میں اگر ناکام ہوگیاتو معلوم نہیں زمانہ کیا کہے گا۔زرا سوچئے !آپ کا شمار کن لوگوں میں ہوتا ہے

تحریر انٹر نیٹ کی مدد سے لکھی گئ ہے



ہفتہ، 27 جون، 2026

کثیر التصانیف ادیب و عالم شمس العلماء مرزا قلیچ بیگ

    

مرزا قلیچ بیگ 4 اکتوبر،1853ء ٹنڈو ٹھوڑو، حیدرآباد، سندھ، بمبئی پریزیڈنسی میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد مرزا فریدون بیگ کا تعلق وسطی ایشیا کے علاقے جارجیا   سے  تھا لیکن  ان کے دشمنوں نے کے  ایک جنگ میں قید کر کے سندھ کے مرزا خُسرو بیگ کے ہاتھ ایک غلام کے طور پر فروخت کر دیا گیا۔ خُسرو بیگ، مرزا فریدون کو اپنے ساتھ سندھ لے آیا اور انھیں آزاد کر کے تعلیم و تربیت دلوائی۔ فریدون بیگ نے خُسرو بیگ کی بیٹی سے شادی کی۔ برطانیہ افواج کے ہاتھوں تالپور میروں کی حکومت کے خاتمے اور سندھ پر انگریزوں کے قبضے کے بعد فریدون بیگ حیدرآباد کے مضافات میں واقع ایک گھر میں سکونت پزیر ہوئے ۔مرزا قلیچ بیگ نے ابتدائی تعلیم مکتب سے حاصل کی اور بعد ازاں گورنمنٹ ہائی اسکول حیدرآباد میں داخلہ لے لیا۔ اس کے بعد انھوں نے الفنسٹن کالج بمبئی (Elphinstone College ) میں داخلہ لیا۔ تعلیم حاصل کرنے کے بعد سندھ واپس لوٹے اور انھوں نے عدالتی امتحان پاس کر کے مختیار کار کے طور پر شکارپور میں تعینات ہوئے۔ برطانوی راج کی تیس سالہ ملازمت کے اختتام پر 1910ء میں ڈپٹی کلکٹر کے عہدے سے ریٹائر ہوئے سندھ سے تعلق رکھنے والے انیسویں صدی کے مشہور و معروف عالم، صاحبِ دیوان شاعر، ماہرِ لسانیات، ماہرِ لطیفیات، مورخ، مترجم، ناول نگار اور ڈراما نویس تھے۔


 انھوں نے آٹھ مختلف زبانوں میں تقریباً 457 کتابیں تصنیف، تالیف و ترجمہ کیں، ان میں عربی، بلوچی، انگریزی، فارسی، سندھی، سرائیکی، ترکی اور اردو زبانیں شامل ۔ ان کی کتب تاریخ، لطیفیات، شاعری، بچوں کا ادب، تنقید، سائنس کے علاوہ لاتعداد موضوعات پر مشتمل ہیں۔ انھوں نے زینت کے نام سے پہلا سندھی ناول اور ابتدائی سندھی ڈراموں میں سے ایک خورشید لکھا۔ اس کے علاوہ انھوں نے شیکسپئر کے لاتعداد ڈراموں کو سندھی کے قالب میں ڈھالا۔ -مرزا قلیچ بیگ کے والد دراصل جارجیا یا گرجستان کے رہنے والے تھے۔ مرزا قلیچ بیگ کی پوتی مہر افروز مرزا حبیب نے " جارجین ساگا " کے نام سے کتاب لکھی ہے جس میں مرزا قلیچ بیگ کے خاندان کو صرف ایک نسل پہلے جارجیا سے سندھ آمد کا تفصیلی بیان ہے مرزا صاحب اپنے دو کی سب سے بڑی سندھی علمی شخصیت کے طور پر ابھرے۔آپ کثیر التصانیف تھےانہوں نے 140 سے زیادہ کتابیں لکھیں۔انہوں نے کم عمری سے ہی دوسروں کو تعلیم دینا شروع کردی تھی اور ابھی اسکول میں تھے کہ لوگ اُن سے فارسی پڑھنے آنے لگےپھر انہوں نے الفنٹن کالج بمبئی میں پڑھتے ہوئے وہاں درس وتدریس کا سلسلہ بھی شروع کردیا۔وہ سندھی, فارسی ترکی اور انگریزی میں مہارت سے لکھتے پڑھتے تھے اور ایک شاعر, ماہر تعلیم اور معلم کے طور پر سندھ میں اُن کا بڑا مقام ہے۔ "مرزا صاحب نے ہی پہلی سندھی ادبی کانفرنس لاڑکانہ میں منعقد کرائی۔


 اگر کتابوں کے ساتھ اُن کے کتابچے بھی شامل کرلیے جائیں تو انہوں نے اپنی پچاس سالہ زندگی میں ساڑے چار سو سے زائد تصانیف, تالیف و ترجمہ چھوڑی ہیں۔ اُن میں عربی, بلوچی, انگریزی, فارسی, سندھی, سرائیکی, ترکی اور اُردو زبان میں تحریریں شامل ہیں۔ ا نتہائی ذہین ہونے کی وجہ سے وہ   انگریزی میں پہلا رینک حاصل کرتے رہے ۔ اپنی 76 سالہ زندگی میں انہوں نے 18 سال کے بعد ہی لکھنا شروع کیا ہوگا، ان حسابات کے مطابق وہ ہمیں ہر سال اوسطاً 7 کتابیں دے چکے ہیں جو کہ ایک ریکارڈ بھی ہے اور سندھی ادب پر ​​احسان بھی۔مرزا قلیچ بیگ نے تقریباً دس ڈرامے اور بیس ناول لکھے۔ ان کے ناول مان زینت، دلارام، خدایاوری، حاجی بابا اصفغانی اور جولین ہوم سبھی مقبول تھے۔ سندو کے ناول زینت اور دلارام وہ ناول ہیں جو سماجی مسائل پر مبنی تھے جن میں اچھے برے اور اخلاقی مسائل شامل تھے۔ ان ناولوں میں بنیادی طور پر سوانح اور تقدیر ہے جو فلسفہ ہے۔ ان کی علمی، ادبی اور تعلیمی خدمات کے اعتراف میں اس وقت کی حکومت نے انہیں 1924ء میں ’’شمس علما (علماء)‘‘ کا خطاب دیا۔مرزا قلیچ بیگ سندھی ادب کے عظیم ادیب، سندھی ادب کے سچے خادم اور سندھی ادب کے خزانے میں ایک عظیم تخلیق کار بن گئے ہیں۔

 

 (بعض جگہوں پر   ان کی  450 سے زائد  تصنیفات  کا ذکر ہے) جن میں سے 42 کتابوں کا انگریزی اور سندھی میں ترجمہ کیا۔ اپنی 76 سالہ زندگی میں انہوں نے 18 سال کے بعد ہی لکھنا شروع کیا ہوگا، ان حسابات کے مطابق وہ ہمیں ہر سال اوسطاً 7 کتابیں دے چکے ہیں جو کہ ایک ریکارڈ بھی ہے اور سندھی ادب پر ​​احسان بھی۔ مرزا قلیچ بیگ نے دس کے قریب ڈرامے اور بیس ناول لکھے۔ ان کے ناول مان زینت، دلارام، خدایاوری، حاجی بابا اصفغانی اور جولین ہوم سبھی مقبول تھے۔ سندو کے ناول زینت اور دلارام وہ ناول ہیں جو سماجی مسائل پر مبنی تھے جن میں اچھے برے اور اخلاقی مسائل شامل تھے۔ ان ناولوں میں بنیادی طور پر فلسفہ ہے۔  جب مرزا قلیچ بیگ 19 اگست 1928ء کو ریٹائر ہونے کے بعد بمبئی چلے گئے تو وہ گردے کی بیماری میں مبتلا ہوگئے اور اس دوران ڈاکٹروں نے انہیں کتابیں لکھنے سے روک دیا لیکن بہت ساری محبت کی وجہ سے وہ انہیں لکھنے سے روک نہیں سکے۔ ادب بمبئی سے واپسی کے بعد اپریل 1929 کی پہلی تاریخ کو ہالہ کے مخدوم صاحب کے پاس گئے، واپسی پر ان کی گردن میں شدید درد محسوس ہوا اور پھر انہوں نے لکھنا چھوڑ دیا۔ وہ سو گئے اور اسی حالت میں 3 جولائی 1929 کو ان کی روح پرواز کر گئی اور خود خالق کو پا لیا۔

منگل، 23 جون، 2026

شیزو فرینیا ایک نظر نا آ نے والی لیکن تکلیف دہ بیماری ہے

 

  بڑا ہی مشہور مقولہ ہے 'تندرستی ہزار نعمت ہے 'اللہ پاک ہر ایک کو بیماری سے بچائے لیکن بہر حال یہ امتحان بھی زندگی میں آتے رہتے ہیں 'ہماری زندگی میں بیماری کی شکل میں آنے  والی  ایک  بیماری  شیزو فرینیا بھی ایک ہے یہ بیماری ظاہری  طور پر نظر نہیں آتی ہے لیکن مریض کے اندر ڈیرے جمائے ہوتی ہے شیزوفرینیا کے مریضوں ک و عجیب و غریب خیالات ستاتے رہتے ہیں، ان کی باتوں میں اور سوچ میں ربط نہیں پایا جاتا۔ ان کے خیالات بھٹکتے رہتے ہیں۔ ان کے فقروں سے مطلب نکالنا عام طور پر مشکل ہوتا ہے۔ ان کے کپڑے گندے اور بعض اوقات کیچڑ وغیرہ سے لت پت ہوتے ہیں۔ ان میں اعتماد کی کمی اور معاملات کو جانچنے کی صلاحیت کا فقدان پایا جاتا ہے۔ ان کے خیالات بگاڑ کا شکار ہوتے ہیں مثلاً وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے دماغ میں جو خیالات آتے ہیں وہ ان کے ذاتی نہیں ہیں بلکہ کسی اور نے ان کے دماغ میں ان کو ٹھونسا ہے۔ یہ لوگ کسی بات پر اپنا ردعمل بھی ظاہر نہیں کرتے۔ ایسے مریض اپنے آپ کو وہ تصور کرتے ہیں جو وہ ہوتے نہیں مثلاً اپنے آپ کو بہت مشہور ایکڑ ماننا یا کسی ملک کا صدر اور وزیراعظم سمجھنا یا پھر اپنے آپ کو کسی جگہ کی شہزادی  یا ملکہ بتا نا نتیجتاً  ا ن  باتوں کے سبب  یہ لوگ خود کو تنہائی کا شکار بنا لیتے ہیں۔


 ایسے لوگوں کوکام کرنے میں دقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ شیزوفرینیا کے نصف یا کچھ کم مریض اس بات کو ماننے کے لئے ہی تیار نہیں ہوتے کہ وہ کسی بیماری کا شکار ہیں لہٰذا وہ ادویات کو مناسب طریقے سے استعمال بھی نہیں کرتے۔ ان مریضوں کے چہرے عام طور پر کسی قسم کے جذبات سے عاری ہوتے ہیں۔ ایک بہت اہم علامت جو زیادہ تر مریضوں میں پائی جاتی ہے وہ نفسیاتی طور پر پائی جانے والی پیاس کی زیادتی ہے جس کی وجہ سے وہ بہت زیادہ پانی یا دوسرے مشروب پیتے رہتے ہیں۔شیزوفرینیا کی علامات کو مثبت اور منفی دو درجوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ مثبت علامات عام طور پر وہ ہوتی ہیں جن سے کسی نارمل صحت مند انسان کا واسطہ نہیں پڑتا۔ اچھی بات یہ ہے کہ ان پر ادویات کا بہتر اثر ہوتا ہے۔ اگرچہ ان کو مثبت علامات کہا جاتا ہے لیکن یہ ضروری نہیں کہ یہ اچھی بھی ہوں۔ ان پر مریضوں کو جو آوازیں سنائی دیتی ہیں وہ آپس میں باتیں بھی کر سکتی ہیں اور مریض کے مطابق اس کو مختلف قسم کے خطرات سے بھی آگاہ کرتی رہتی ہیں۔کچھ مریض یہ تصور کرتے ہیں کہ ان کو مافوق الفطرت قوتیں حاصل ہیں۔ بعض اوقات مریض مزاحیہ انداز کی حرکات کرنے لگتے ہیں مثلاً بلاوجہ کودنے لگ جانا یا کسی ایک خاص زاویے سے جسم کو موڑ توڑ کر بیٹھے رہنا۔منفی علامات یا منفی درجے میں ان مریضوں کو شامل کیا جاتا ہے جو زندگی میں اپنی دلچسپی کھو دیتے ہیں حتیٰ کہ وہ ان کاموں کو بھی سرانجام نہیں دے سکتے جو وہ پہلے بآسانی کر لیتے تھے


 لیکن ان علامات کو پہچاننا اتنا آسان ثابت نہیں ہوتا خصوصاً نوجوانوں میں کیونکہ صحت مند نوجوانوں کے موڈ میں بھی نارملی بہت زیادہ اتار چڑھائو دیکھنے کو ملتا ہے۔ بعض اوقات ایسے مریضوں میں جذبات نامی کوئی چیز نظر نہیں آتی حتیٰ کہ جب وہ بات بھی کرتے ہیں تو چہرہ ہر قسم کے تاثرات سے خالی ہوتا ہے یعنی نہ خوشی نہ غم ان کے چہرے پر آتا ہے۔ ایسے لوگ اگر کوئی کام شروع کرتے ہیں تو اس کو انجام تک پہنچانا ان کے بس کا روگ نہیں ہوتا بلکہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہ سوچتے ہی رہتے ہیں  ۔ یہ مرض چالیس فیصد لڑکوں اور بیس فیصد سے زائد لڑکیوں میں انیس سال کی عمر سے پہلے شروع ہو جاتا ہے۔شیزوفرینیا کی وجوہات موروثی اور سماجی دونوں کا مجموعہ ہوتی ہیں۔ اگر کسی کے خونی رشتہ داروں میں مرض پایا جاتا ہے تو اس کو مرض ہونے کے امکانات سات فیصد بڑھ جاتے ہیں۔جڑواں بچوں میں سے اگر ایک کو مرض لاحق ہو تو دوسرے بچے کو مریض ہونے کے چالیس فیصد امکانات ہیں۔ اگر والدین میں سے ایک کو مرض ہو تو بچوں میں تیرہ فیصد جبکہ دونوں والدین کے متاثر ہونے کی صورت میں امکانات پچاس فیصد ہو جاتے ہیں اور سماجی وجوہات میں بچے کا ماحول ،نشہ آور ادویات کا استعمال اور والدین اور رشتہ داروں کا رویہ اہم ہیں۔بعض والدین بہت زیادہ سخت اور غصہ والے ہوتے ہیں یا والدین میں سے کسی ایک یا دونوں کی وفات ہو جانا بھی بچے پر برا اثر ڈالتی ہے۔ جنسی بداخلاقی بھی باعث بن سکتی ہے۔


 نشہ آور اشیاء کا استعمال بھی ایک وجہ بن سکتا ہے۔ ماں کو اگر حمل کے دوران وائرل انفکشن ہو جائے یا پیدا ہونے سے قبل بچے میں آکسیجن کی کمی واقع ہو جائے یا ماں غذائی قلت کا شکار ہو جائے تو اس کا اثر پیٹ میں پرورش پانے والے بچے پر ہوتا ہے۔شیزوفرینیا ایک کرانک، زیادہ شدت والی اور مضمحل کرنے والی ذہنی بیماری کا نام ہے۔ اس میں مریض کے خیالات بکھرے ہوتے ہیں اور اس کا معاشرتی رویہ نارمل نہیں ہوتا بلکہ عام طور پر سوسائٹی کے قوانین اور رسم و رواج کے مخالف ہوتا ہے۔اس مرض میں مبتلا فرد اپنے قریب ترین افراد کو اپنا دشمن اور غیروں کو اپنا دوست سمجھتا ہے۔ اور ہر لمحہ اپنوں کی ایذا رسانی میں مصروف کار رہتا ہے۔غیروں  کی ہمدردیاں سمیٹنے کے لئے اپنوں کی برائیا ں کرتا ہے اور اپنے آ پ کو مظلوم ظاہر کرتا ہے اس مرض میں مبتلا افراد سمجھتے ہیں کہ باقی سب غلط ہیں اور وہ خود ٹھیک ہیں۔ 
یہ مضمون انٹر نیٹ کی مدد سے لکھا گیا  ہے 

پیر، 22 جون، 2026

عظیم تر جراح اور طبیب ابوالقاسم خلف ابن العباس الزہراوی

 

 اسپین کےجنوبی علاقہ  اندلس کے مردم خیز خطے                 اورقرطبہ کے شمال   میں شہر الزہرا میں    پیدا ہونے والے  عظیم تر جراح اور طبیب                       ابوالقاسم خلف ابن العباس  الزہراوی                مانے جاتے ہیں جن کی جراحی کا شہرہ گزرے  ہوئے کل میں بھی تھا اور آج بھی  ہے، ان کا زمانہ اندلس میں چوتھی صدی ہجری (دسویں صدی عیسوی) ہے، ان کی زندگی جلیل القدر کارناموں سے بھرپور ہے - وہ عبد الرحمن سوم الناصر کے طبیبِ خاص تھے، پھر ان کے بیٹے الحکم دوم المستنصر کے طبیبِ خاص ہوئے، ۔  ان کی سب سے بڑی تصنیف “التصریف لمن عجز عن التالیف” ہے جو کئی زبانوں میں ترجمہ ہوکر کئی بار شائع ہو چکی ہے۔دنیائے اسلام میں ایسے ایسے نامور مسلم سائنسدان ، فلسفی ، موجد اور طبیب وغیرہ پیدا ہوئے ہیں کہ جو روشنی کے مینارے ہیں۔ جن کے کارناموں ، ایجادات نظریات سے آج بھی استفادہ حاصل کیا جاتا ہے۔الزہراوی جنھیں سرجری یعنی جراحت کے پیشے کا باوا آدم کہا اور مانا جاتا ہے ۔ ایک مسلم سائنسدان مصنف ، موجد ، جراح اور طبیب تھے- انھوں نے بہت سے آلاتِ جراحی ایجاد کئےاسی لیئے یہ موجد بھی ہیں۔ ان کے ایجاد کردہ آلاتِ جراحی کی تصاویر ان کی کتابوں میں موجود ہیں۔ اسی لیئے الزہراوی علم جراحت کے بانی کہلاتے ہیں۔زہراوی کی علمی طبّی کاوشوں کا یورپ کے طبّی مدارس میں بہت گہرا اثر رہا ہے ان کی کتابوں کا کئی یورپی زبانوں میں ترجمہ کیا جا چکا ہے ۔ ان کی کتابوں کو یورپی یونیورسٹیوں میں سر جری کے طالب علموں کو بطورِ نصاب بھی پڑھایا جاتا رہا ہے اور حوالے کی کتاب (ریفرنس بک ) کے طور پر بھی یہ کتابیں شاملِ نصاب رہی ہیں-


ابوالقاسم نے نہایت عمدہ اسلامی اور علمی ماحول میں آنکھ کھولی اور اپنے زمانے کی بہترین یونی ورسٹی میں علم حاصل کیا۔ بڑے بڑے شفاخانوں میں اس نے جراحی میں کمال پیدا کیا۔ ابوالقاسم کے زمانے میں مسلمان اس فن میں ماہر تھے اور ہسپتال میں انسان کا پوسٹ مارٹم بھی سکھایا جاتا تھا،۔ ان میں         بیان کردہ کئی اوزار آج بھی ہسپتالوں میں استعمال ہورہے ہیں جب کہ طبابت کا علم سائنس کے زور سے بہت ترقی کر چکا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ ڈاکٹروں کو سرجری میں جو رتبہ حاصل ہو اہے، وہ ابوالقاسم اور ایسے ہی دوسرے عربی اطبا کا طفیل ہے۔ انگریز دانش وروں نے بھی ابوالقاسم کی تعریف کی ہے۔ وہ اس بات کو مانتے ہیں کہ انہوں نے شروع میں سے بہت کچھ سیکھا اور جراحی کی کتاب سے خوب روشنی حاصل کی۔1368ء میں ابوالقاسم کی سرجری یورپ میں خوب مشہور ہو چکی تھی۔ ان کا تعلق اندلس سے تھا جسے اسلام کی سیاسی، سماجی اور ثقافتی تاریخ میں بڑا مقام اور اہمیت حاصل رہی ہے۔اس مسلمان سائنس داں کو قرطبہ کے شمال مغرب میں امویوں بسائے گئے شہر الزہراء سے نسبت رکھنے کے سبب الزہراوی کہا جاتا ہے۔۔ الزہراوی کی زندگی کے حقائق اور تفصیلات بہت کم معلوم ہوئے ہیں، لیکن ان کی اہم تصانیف میں ان کی کتاب “الزہراوی” ہے جب کہ ابوالقاسم کی کتاب التصریف برسوں تک یورپ کی یونیورسٹیوں میں پڑھائی گئی خاص طور پر اٹلی میں اس کو بڑی لگن اورتوجہ سے پڑھایا گیا۔ یہ کتاب پہلی بار 1497ء میں لاطینی زبان میں وینس میں چھاپی گئی، پھر 1500ء میں لوکے ٹس میں چھپی، اس کے بعد 1541 میں سٹرس برگ میں اور پانچ سال بعد باسل میں چھاپی گئی۔ اس کی شرحیں بھی لکھی گئیں۔ ابوالقاسم نے اس کتاب کے علاوہ بھی طب پر کئی کتابیں لکھیں ۔ اب ان کے لاطینی ترجمے یورپی لائبریریوں میں مل سکتے ہیں۔


الزہراوی نے فن ِجراحت( سرجری) کے کئی طریقوں کو ایجاد کیا ، ان کی تکنیک ، اور آلاتِ جراحی ایجاد کئے ۔موجودہ دور میں بھی ان کے آلاتِ جراحی کے نمونوں سے دنیا آج بھی مُستفید ہورہی ہے۔الزہراوی نہ صرف جراح تھے بلکہ عظیم طبیب بھی تھے-آپ نے آنکھوں کے موتیا ، مختلف امراضِ چشم ،حلق، دانت، مسوڑھے، جبڑہ ، زبان، اور ہڈیوں کے ٹوٹنے اور ہڈیوں کےاُکھڑنے اور گردوں اور سر وغیرہ کے باے میں تفصیلا ًبیان کیاہے۔ فنِ جراحی میں انھوں نے پتھری نکالنے کا طریقہ بھی بیان کیاہے جو میڈیکل سا ئنس میں جدید طریقہ سمجھا جاتا ہے ۔دانت کی دوبارہ تنصیب دانتوں کی تراش ان ہی کا کا میاب جراحی عمل ہےانھوں نے اپنی کتا بوں میں طب، خاص کر علمِ جراحت ،علم الادویہ اور صحت پر بحث کی ہے ۔ان کی تصانیف میں ایک مشہور کتاب “ الزہراوی ” ہے جبکہ ان کی ایک اور قابلِ ستائش تصنیف “التصریف لمن عجز عن التالیف” ہے جس کا کئی زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔انھوں نے ہی تصاویر کی مدد سے آلاتِ جراحی کی ساخت ، شکل کو بیان کیا اور اپنی کتابوں میں درج کیا ہے اور اُن کا استعمال بھی بتایا ہے اور اسی لیےسرجری یعنی علمِ جراحی میں انکا بڑا نام ہے۔ ابو القاسم الزہراوی "قرون ِ وسطیٰ کے متعدد بار حوالہ شد جراحی نمائندہ" کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ڈونلڈ کیمپ بیل، عرب ادویات کے تاریخ دان، یورپ میں الزہراوی کی مقبولیت کو یوں بیان کرتے ہیں:"یورپ کے طبی نظام پر ابو القاسم کا بڑا اثر یہ تھا کہ اس کے قابلِ فہم انداز اور پیش کرنے کے طریقے نے مغرب کے علما میں عربی ادب کی حمایت میں احساس اجاگر کیا:


 ابو القاسم کے طریقوں نے گیلن کے طریقوں کو گرہن لگا دیا اور پانچ سو سال تک طبی یورپ میں نمایاں حیثیت برقرار رکھی، حتیٰ کہ اس کے فائدہ مند نہ ہونے کے بعد بھی یہ اہم مقام رکھتے ہیں۔ تاہم، اس نے عیسائی یورپ میں جراحت کے معیار کو بڑھانے میں مدد کی  ہڈیوں کے چٹخنے اور جوڑنے پر اپنی کتاب میں، وہ بیان کرتا ہے کہ "جراحت کا یہ حصہ بے ہودہ اور غیرتہذیب یافتہ اذہان کے ہاتھوں میں چلا گیا ہے، اسی وجہ سے یہ حقارت میں شمار کیا جاتا ہے۔"الزہراوی نے ناسور کے علاج کے لیے ایک آلہ دریافت کیا اور بہت سارے امراض کا استری سے علاج کیا، زہراوی وہ پہلے طبیب تھے جنھوں نے “ہیموفیلیا” نہ صرف دریافت کیا بلکہ اس کی تفصیل بھی لکھی                           زہراوی کا یورپ میں بڑا عظیم اثر رہا، ان کی کتب کا یورپ کی بہت ساری زبانوں میں ترجمہ کیا گیا اور یورپ کی طبی یونیورسٹیوں میں پڑھائی جاتی رہیں، یورپ کے جراحوں نے ان سے خوب استفادہ کیا اور ان سے اقتباس بھی کیا، حتی کہ بعض اوقات بغیر حوالہ دیے ان کی دریافتیں اپنے نام منسوب کر لیں، ان کی کتاب “الزہراوی” پندرہویں صدی عیسوی کے شروع سے لے کر اٹھارویں صدی عیسوی کے اواخر تک یورپ کے اطباء کا واحد ریفرنس رہی۔ ان کے ایجاد کردہ آلات جراحی آج تک استعمال ہوتے ہیں۔قرطبہ کی گلیاں جہاں وہ رہتا تھا کو، اس کے اعزاز میں "ابو القاسم گلی" کے نام سے منسوم کیا گیا۔ اس گلی میں گھر نمبر 6 میں رہتا تھا جس کی آج طلائی تختی یافتہ ہسپانوی سیاح بورڈ حفاظت کرتا ہے جس پر کنندہ ہے : "یہ وہ گھر ہے جہاں الزہراوی رہتا تھا

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

پاکستان میں نئے صوبے وقت کی اہم ضرورت

   ایک چھوٹی سی مثال ہے ایک خاندان ہوتا ہے اس خاندان کا بیٹا جوان ہوتا ہے بہو بیاہ کر گھر آتی ہے  پورے گھر میں بہو اور بیٹے کو ایک کمرہ ملتا...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر