جمعہ، 19 دسمبر، 2025

بابا بلھے شاہ کی شاعری شرح عشق اور شرع کی مالا

 


بلھے شاہ کا اصل نام عبد اللہ شاہ ہے۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ 3 مارچ 1680ء (1091ھ) میں مغلیہ سلطنت کے عروج میں اوچ گیلانیاں میں پیدا ہو ئے۔ کچھ عرصہ یہاں رہنے کے بعد قصور کے قریب پانڈومیں منتقل ہو گئے۔ان کے والد سخی شاہ محمد درویش مسجد کے امام تھے اور مدرسے میں بچوں کو پڑھاتے تھے۔ بلّہے شاہ نے والد سے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ بعد قصور جا کر قرآن، حدیث، فقہ اور منطق میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ قرآن ناظرہ کے علاوہ گلستان بوستان بھی پڑھی اور منطق، نحو، معانی، کنز قدوری،شرح وقایہ، سبقاء اور بحراطبواة بھی پڑھا۔ شطاریہ خیالات سے بھی مستفید ہو ئے۔ ایک خاص سطح تک حصولِ علم کے بعد ان پر انکشاف ہوا کہ دنیا بھر کے علم کو حاصل کر کے بھی انسان کا دل مطمئن نہیں ہو سکتا۔ سکونِ قلب کے لیے صرف اللہ کا تصور ہی کافی ہے۔ اسے اپنی ایک کافی میں یوں بیان کیا۔علموں بس کر او یار۔اکّو الف تیرے درکار،،،وہ خود سیّد زادے تھے لیکن انھوں نے شاہ عنایت کے ہاتھ پر بیعت کی جو ذات کے آرائیں تھے اس طرح بلّہے شاہ نے ذات پات، فرقے اور عقیدے کے سب بندھن توڑ کر صلح کل کا راستہ اپنایا۔ 


مرشد کی حیثیت سے شاہ عنایت کے ساتھ ان کا جنون آمیز رشتہ ان کی مابعد الطبیعیات سے پیدا ہوا تھا۔ وہ پکے وحدت الوجودی تھے، اس لیے ہر شے کو مظہر خدا جانتے تھے۔ مرشد کے لیے انسان کامل کا درجہ رکھتے تھے۔ مصلحت اندیشی اور مطابقت پذیری کبھی ان کی ذات کا حصہ نہ بن سکی۔ ظاہر پسندی پر تنقید و طنز ہمہ وقت ان کی شاعری کا پسندیدہ جزو رہی۔ انھوں نے شاعری میں شرع اور عشق کو ایک لڑی میں پرو دیا اور عشق کو شرع کی معراج قرار دیاان کے کام میں عشق ایک ایسی زبردست قوت بن کر سامنے آتا ہے جو شرع پر چل کر پیغام حسینیت کو فروغ دیتا ہے اور یزیدیت کو ہمیشہ کے لیے شکست دیتا ہے بلّہے شاہ نے پیار محبت کے پیغام کو فروغ دیا عربی فارسی میں عالم ہونے کے باوجود انھوں نے پنجابی کو ذریعۂ اظہار بنایا تاکہ عوام سے رابطے میں آسکیں۔ ۔زندگی-بلھے شاہ مغلیہ سلطنت کے عالمگیری عہد کی روح کے خلاف رد عمل کانمایاں ترین مظہر ہیں۔ ان کا تعلق صوفیاء کے قادریہ مکتب فکر سے تھا۔ ان کی ذہنی نشو و نما میں قادریہ کے علاوہ شطاریہ فکر نے بھی نمایاں کردار ادا کیا تھا۔ اسی لیے ان کی شاعری کے باغیانہ فکر کی بعض بنیادی خصوصیات شطاریوں سے مستعار ہیں۔


ایک بزرگ شیخ عنایت اللہ قصوری، محمد علی رضا شطاری کے مرید تھے۔ صوفیانہ مسائل پر گہری نظر رکھتے تھے اور قادریہ سلسلے سے بھی بیعت تھے اس لیے ان کی ذات میں یہ دونوں سلسلے مل کر ایک نئی ترکیب کا موجب بنے۔ بلھے شاہ انہی شاہ عنایت کے مرید تھے۔شاعری اپنی شاعری میں وہ مذہبی ضابطوں پر ہی تنقید نہیں کرتے بلکہ ترکِ دنیا کی مذمت بھی کرتے ہیں اور محض علم کے جمع کر نے کو وبالِ جان قرار دیتے ہیں۔ علم کی مخالفت اصل میں ” علم بغیر عمل“ کی مخالفت ہے۔ اگر بنظر غائر دیکھا جائے تو احساس ہوتا ہے کہ بلھے شاہ کی شاعری عالمگیری عقیدہ پرستی کے خلاف رد عمل ہے۔ ان کی زندگی کا بیشتر حصہ چونکہ لاقانونیت، خانہ جنگی، انتشار اور افغان طالع آزماؤں کی وحشیانہ مہموں میں بسر ہوا تھا، اس لیے اس کا گہرا اثر ان کے افکار پر بھی پڑا۔ ان کی شاعری میں صلح کل، انسان دوستی اور عالم گیر محبت کا جو درس ملتا ہے ،وہ اسی معروضی صورت حال کے خلاف رد عمل ہے۔


انتقال

بلھے شاہ کا انتقال بعمر 77 سال 22 اگست 1757ء میں قصور میں ہوا اور یہیں دفن ہوئے۔ان کے مزار پر آج تک عقیدت مند ہر سال ان کی صوفیانہ شاعری گا کر انھیں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ تاریخِ وصال کے بارے میں مختلف اقوال ہیں۔بقول تذکرہ اولیائے پاکستان ،1181ھ ہے۔آپ کا مزار مبارک " قصور" ریلوے روڈ پر زیارت گاہِ خاص و عام ہے۔آپ کاعرس ہرسال شمسی ماہ بھا دوں میں جو چاند نظر آئے اس کی 11،12 تاریخ کو قصور میں منعقد ہوتا  ہے میں ملکی اور غیر ملکی عقیدت مند ہزاروں کی تعداد میں شرکت کر تے ہیں -اس تقریب سعید میں شہر میں ہر طرف گہما گہمی  نظر آتی ہے اور ہر طرف عید کا سماں ہو تا ہے عر س مبارک پر ملک بھر اور بیرون ملک سے آنے والے زائرین کا قصوریوں کی جانب سے جگہ جگہ استقبال کیا جاتا ہے۔ زائرین کیلئے پانی،دودھ کی سبیلوں کے ساتھ ساتھ لنگر کا وسیع انتظام کیا جاتا ہے دور دراز اور بیرون ممالک سے آنے والے زائرین کی رہائش کے انتظامات بھی کئے جاتے ہیں ہے ۔



جمعرات، 18 دسمبر، 2025

اوورسیز میں پاکستانی گداگرایک صوبے میں منظم مافیا

 

    آج ہی یہ تحریر انٹرنیٹ سے ملی ہے غور سے پڑھئے

سعودی عرب نے پاکستانی بھکاریوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیشِ نظر سخت اقدامات کیے ہیں، جن کی تفصیلات درج ذیل ہیں: بڑے پیمانے پر ملک بدری: سال 2025 میں اب تک 24,000 سے زائد پاکستانیوں کو بھیک مانگنے کے الزام میں سعودی عرب سے ڈی پورٹ (ملک بدر) کیا جا چکا ہے۔ مجموعی طور پر حالیہ برسوں میں سعودی عرب سے ڈی پورٹ ہونے والے پاکستانی بھکاریوں کی تعداد 56,000 تک پہنچ گئی ہے۔ویزہ پالیسی میں تبدیلی: فروری 2025 سے سعودی حکومت نے پاکستان سمیت 14 ممالک کے لیے ملٹی پل انٹری وزٹ ویزے معطل کر دیے ہیں اور اب صرف 30 دن کا سنگل انٹری ویزہ جاری کیا جا رہا ہے تاکہ ویزے کے غلط استعمال اور غیر قانونی قیام کو روکا جا سکے۔پاکستان میں سخت کارروائی: حکومتِ پاکستان نے بھکاریوں کی وجہ سے ملک کی بدنامی روکنے کے لیے ان کے خلاف انسدادِ دہشت گردی ایکٹ (ATA) کے تحت مقدمات چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔     2025 ایف آئی اے نے  اب تک 51,000 افراد کو مشکوک سفری دستاویزات یا بھیک مانگنے کے شبے میں ایئرپورٹس سے آف لوڈ کیا ہے۔


 اس کے علاوہ بھکاریوں کے گروہ چلانے والوں کے پاسپورٹ بلاک کرنے اور ان کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ یا بلیک لسٹ میں ڈالنے کا عمل بھی شروع کیا گیا ہے۔عمرہ ویزے کا غلط استعمال: حکام کے مطابق بہت سے پیشہ ور بھکاری عمرہ ویزہ حاصل کر کے وہاں جاتے ہیں اور مقررہ مدت کے بعد واپس نہیں آتے،۔ کچھ عرب ممالک اور عراق میں گرفتار کیے جانے والے بھکاریوں میں سے 90 فیصد کا تعلق پاکستان سے ہوتا ہے۔ حرم کے اندر زیادہ تر جیب کترے بھی پاکستانی ہوتے ہیں۔پیشہ ور بھکاری عمرے یا وزٹ ویزا پر جاتے ہیں-، اسلام آباد میں مقیم سفیر ہمیں کہتے ہیں کہ آپ عادی مجرم ہمارے پاس بھیجتے ہیں جس سے ہماری جیلیں بھر گئی ہیں۔ یہ انسانی اسمگلنگ کا مسئلہ ہے۔ بھکاری زیادہ تر عمرے یا وزٹ ویزے پر جاتے ہیں اور زیارات کے مقامات پر بھیک مانگتے ہیں۔ ہمارے کئی افراد اس لیے ڈی پورٹ ہو رہے ہیں کہ وہ وہاں جاکر بھکاری بن جاتے ہیں۔"پاکستانی زائرین پر اب عراق میں بھی نظر رکھی جارہی ہے۔ کیونکہ یہ افراد وہاں بھی گداگری کا پیشہ اپنا لیتے ہیں۔



  اب عراق نے بھی پاکستانی زائرین پر کافی سختی کر دی ہے، جس کا سبب پاکستانیوں کی غیر قانونی سرگرمیاں ہیں، ”عراق میں معاوضہ ڈالر کی شکل میں ملتا ہے اس لیے کچھ لوگ زائرین کے روپ میں وہاں کمائی کرنے پہنچ جاتے ہیں۔ ایسے افراد اربعین کے دنوں میں بھیک مانگتے ہیں اور بعد میں وہیں چھپ کر مزدوری کرنے لگتے ہیں۔ جیسے ہی پکڑے جائیں تو ڈی پورٹ کر دیے جاتے ہیں۔‘‘عراقی قوانین میں بھکاریوں پر مالی جرمانہ اور ایک سے چھ ماہ تک کی قید کی سزا ہے۔ سید ہادی حسن کے مطابق یہ افسوسناک ہے لیکن بعض پاکستانی شہری ایسی سرگرمیوں میں ملوث پائے جاتے ہیں جو باقی کمیونٹی کے لیے شرمندگی کا باعث ہوتا ہے،''اب جب تک زائرین کے قافلے میں شامل تمام افراد واپسی پر ساتھ نہ ہوں عراقی حکام پلٹنے نہیں دیتے، چاہے کئی کئی دن سرحد پر انتظار ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔"عراق سے شائع ہونے والے آن لائن نیوز پیپر عراقی نیوز نے 2018ء میں دو سو پاکستانی بھکاریوں کی گرفتاری کی خبر دی تھی۔متحدہ عرب امارات سے شائع ہونے والے اخبار دی نیشنل میں2017ء کے دوران ایک رپورٹ 'عمان اور یمن میں رمضان کے دوران پاکستانی بھکاریوں کے جھرمٹ‘ کے نام سے پبلش ہوئی۔اس کے مطابق، ”رمضان کے مہینے میں کچھ پاکستانی گوادر کے راستے عمان اور یمن پہنچ کر بھیک مانگتے ہیں۔ یہ گداگر مساجد کے باہر ہی نہیں بلکہ در در جا کر بھی یہ کام کرتے ہیں۔"



اوورسیز ایمپلائمنٹ کارپوریشن کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر  کہتے ہیں، ''بہت معمولی تعداد یہ شرمناک حرکت کرتی ہے مگر بطور پاکستانی بدنامی ہم سب کی ہوتی ہے۔"وہ کہتے ہیں، ”ہر سال لاکھوں پاکستانی محنت مزدوری کرنے ملک سے باہر جاتے ہیں ان میں کتنے افراد بھیک مانگتے ہیں؟ زیادہ سے زیادہ چند سو جو مجموعی تعداد کا ایک فیصد بھی نہیں بنتا۔ بعض اوقات میڈیا نان ایشو کو ایشو بنا دیتا ہے۔"وہ تسلیم کرتے ہیں کہ اس سے ملک کی ساکھ مجروح ہوتی ہے اور ایسے افراد کے لیے مشکلات پیدا ہوتی ہیں جو واقعی پڑھنے کے لیے، زیارات کے لیے یا مزدوری کے لیے ورک ویزا پر جا رہے ہوتے ہیں۔لیکن دیلھا جاے تو ایک مسئلہ ہمارے ملکی معاشی حالات بھی ہیں جہاں ہماری بہت سے فیکٹریاں بند ہو چکی ہیی۔کاروبار چل نہیں رہے اور کسی بھی قسم کی بیرونی انویسٹمنٹ اس وقت ملک میں نہیں آرہی ہے جسکی وجہ سے بے روزگاری میں بے تحاشا اضافہ ہو چکا ہے اور ہر سال ان بے روزگار نوجوانوں کی تعداد میں مزیر اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ان نوجوانوں کی  اتنی بڑی تعداد کو مثبت طریقے سے ملکی ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہوگا۔ورنہ یہ ایک چلتا پھرتا اٹامک بمب ہیں۔جنکو بہت سے غلط سرگرمیوں میں ملوث لوگ چند پیسوں کا لالچ دے کر اپنی طرف مائل کر سکتے ہیں۔حکومتی سطح پر ایک سنجیدہ سوچ کا ہونا بہت ضروری ہے۔طلبہ کو ڈگریوں کی بجاے ٹیکنیکل تعلیم کی طرف لے کر جانا ہو گا۔سکلڈ ورکرز کی پوری دنیا میں مانگ ہوتی ہے۔اور کم از کم سکلڈ لوگ عزت سے پیسے کماتے ہیں اور ملکی عزت میں بھی اضافہ کرتے ہیں۔زرا سوچئے

منگل، 16 دسمبر، 2025

اللہ کی یونیورسٹی سے ڈگری ہولڈر انجینئر پرندہ ننھا بیا

  

  

ٍکیا آ پ جانتے ہیں کہ بیا جیسا ننھا پرندہ اپنی زات میں آرکیٹکٹ بھی ہے سول انجینئر بھی ہے اور انتہائ سگھڑ بھی ہے اس کے گھونسلے میں ایک کمرے میں اس کے بچوں کا  جھولا بھی ہوتا ہے- بئے ہمیشہ مشرق کی سمت گھونسلے بناتے ہیں اس کی وجہ یہ ہےکہ جنوب مغربی مون سون سے اس کا گھونسلہ محفوظ رہ سکے ۔ عموماً میل بیا ہی گھونسلہ بناتا ہے جو 18 دن کے اندر مکمل کرلیتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ  میل بیا  مکمل گھونسلہ نہیں بناتا ہے  بلکہ فیمیل بیا  پہلے اس گھونسلہ کی وذٹ  کرتی ہے اور دونوں جب ساتھ رہنے پر رضا مند ہوجاتے ہیں تب فیمیل بیا بھی گھونسلہ بنانے میں مدد دیتی ہے۔ مادہ ‘اندرونی آرائش کرتی ہے ۔میل بیا  میٹھے سروں میں گانا گا کر فیمیل بیا کو لبھاتا ہے  ہے اور فیمیل بیا اس دھن پر لہک لہک کر میل بیا کے ساتھ گھونسلے کو بناتی جاتی ہے۔’’میل بیا ‘ ایک سے زائد چڑیوں کو متوجہ کرنے کی کوشش کرتا ہے یہ پرندہ حالات کے اعتبار سے مادہ کو رجھانے کے لئے نیا گھونسلہ بنانے کے بجائے کسی پرانے گھونسلے پر توجہ دیتا ہے اور اس کو نئے انداز سے سجاتا ہے۔اسی لئے ہمیں ایک ہی درخت پر نئے پرانے ، مکمل ادھورے گھونسلے دکھائی دیتے ہیں


چاول، گھاس پھوس یا چھوٹے موٹے کیڑوں مکوڑوں وغیرہ پر زندگی گذارتا ہے ۔یہ سماجی پرندہ ہے جو عام طور پر مل جل کر زندگی گذارنا پسند کرتا ہے۔یعنی یہ  ہوتا ہے۔اسی لئے یہ اپنے گھونسلے بھی کالونی کی شکل میں بناتا ہے۔اس کی آواز میں زیادہ سریلا پن نہیں ہوتا ، اس کی آواز چٹ، چٹ جیسی ہوتی ہے۔یہ مزاج کے اعتبار سے نفیس پرندہ کیونکہ ان کو زمین پر اتر کر مٹی میں نہانا پسند نہیں ہوتا ۔اس پرندے کی شہرت کی وجہ اس کے گھونسلے ہیں،یہ گھونسلے کے درختوں یا ٹیلیفون کے تاروں یا درختوں پر بنائے جاتے ہیں یہ گھونسلے الٹی بوٹل جیسی ساخت یا  شکل کے ہوتے ہیں اس شکل کو’’ معوجہ ‘‘ کہا جاتا ہے، جس میں درمیانی حصہ درخت سے زمین کی سمت نیچے لٹکا رہتا ہے اس گول حصے کا درمیانی علاقہ رہائشی ہوتا ہے اور اسی حصے کے اوپری جانب لمبی ٹیوب نما حصہ لگا رہتا ہے جس کے ذریعہ چڑیا گھونسلے کے اندرداخل ہوتی ہے۔اس پرندے کا ’’نر‘‘ گھونسلوں کو بناتا ہے ، ان گھونسلے بنانے کے لئے یہ چڑیا عام طور پر چاول کے لمبے پتوں  کے دھاگوں، گھاس پھوس کے تنکوں وغیرہ کو استعمال کرتی ہے،یہ دھاگے جیسی ساختیں عام طور پر 20 تا 30 سنٹی میٹر لمبی ہوتی ہیں۔ایک گھونسلے کو بنانے کے لئے اس چڑیا کواس مقام کے زائد از 500چکر کرنے پڑتے ہیں جہاں سے وہ گھونسلہ بننے کے لئے خام مال حاصل کرتی ہے۔


 نیا گھونسلہ بنانے کے لئےچڑیا پہلے پتوں کو کاٹتی ہے اور پھر اس کی درمیانی ورید کو علیحدہ کرتی ہے جس کو وہ سوکھنے سے قبل استعمال کرتی ہے کیونکہ سوکھے پتے کی وریدیں حسب منشا استعمال نہیں کیں جاسکتیں اسی لئے گھونسلہ بنانے کا عمل ان پتوں کی وریدوں کے سوکھنے سے قبل انجام پاتا ہے۔کبھی کبھار ان نسیجی دھاگوں کو نرم اور مضبوط بنانے کے لئے یہ چڑیا انہیں اپنی چونچ میں لے کر اونچا ہواؤں میں اڑتی ہے، عام طور پرایک گھونسلیمیں زائد از 3500نسیجی دھاگے ہوتے ہیں جن کی لمبائی 5 سنٹی میٹر سے 50 سنٹی میٹر تک ہو سکتی ہے ۔ گھونسلے کی ابتدا وہ دروازے سے کرتی ہے جس کو گول انداز میں بناتی ہے۔ ان کے گھونسلے اکثر اوقات ایسے درختوں کی شاخوں پر بنائے جاتے ہیں جو پانی کے اوپر پھیلے رہتے ہیں ۔ یہ چڑیا اپنا گھونسلہ بنانے کے لئے مسلسل گرہیں ڈالتی جاتی ہے اور ایک مخصوص پروگرام اور سونچے سمجھے منصوبے کے تحت اس کو بناتی جاتی ہے۔اس کی گرہ ڈالنے کا انداز مکمل اور تعجب خیز ہوتا ہے کہ اس قدر مکمل گرہیں انسان بھی بآسانی نہیں ڈال سکتا ۔ درخت کی شاخ پرجھولتے ہوئے ان گھونسلوں کونیچے گرنے سے روکنے کے لئے اختیار کی جانے والی تدابیر،


ایک کے بعد دیگرے منصوبہ بند طریقے سے کام کرنے کی صلاحیت، گھونسلے کو مخصوص شکل دینے کے لئے درمیانی دائروی حجم میں اضافہ کرنا ، گھونسلے کی دیواروں کو حسب ضرورت موٹا یا باریک کرنا اور گھونسلے کی مجموعی ساخت میں مضبوطی پیدا کرنے کی کوشش کرنا، ۔ایک طرف تو یہ نسیجی دھاگوں کو پیروں سے تھامے رہتی ہے اور دوسری طرف اپنی چونچ کی مدد سے ان نسیجی دھاگوں سے گھونسلے کی ساخت بنتی رہتی ہے۔کہیں بھی اس کے عمل سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ وہ یہ کام پہلی مرتبہ انجام دے رہی ہے۔ کبھی کبھار یہ چڑیا گیلی مٹی بھی اپنے گھونسلے میں لگاتی ہے اور انہیں مضبوطی بخشتی ہے۔صرف یہی خصوصیت انسان کو اچھنبے میں نہیں ڈالتی بلکہ اس چڑیا کا درخت پر گھونسلہ بنانے کے لئے جگہ کا انتخاب بھی انسان کو حیران کردیتا ہے ۔ یہاں اس بات کا اظہار نا مناسب نہ ہوگا کہ کی بعض انواع پودوں کی نرم شاخوں میں اپنے لعاب  کو شامل کرکے خام مال تیار کرتی ہیں جو گھونسلے کو نہ صرف مضبوطی عطا کرتا ہے بلکہ گھونسلے کو واٹر پروف بھی بناتا ہے، زرا سوچئے  یہ تمام  سمجھ بوجھ اس ننھی سی جان کو کس نے عطا کی ہے

پیر، 15 دسمبر، 2025

پشاور کی مشہور اور قدیم ترین مسجد ’مہابت خان مسجد

 مسجد مہابت خان، مغلیہ عہد حکومت کی ایک قیمتی یاد گار ہے اس سنہرے دور میں جہاں مضبوط قلعے اور فلک بوس عمارتیں تیار ہوئیں وہاں بے شمار عالیشان مسجدیں بھی تعمیر کی گئیں۔ مسجد مہابت خان، ایسی ہی شاندار مساجد میں سے ایک ہے جو مغلیہ دور حکومت میں پشاور کے حاکم مہابت خان نے تعمیر کروائی تھی چنانچہ یہ اسی کے نام سے مشہور ہوئی۔ یہ مسجد پشاور شہر کے عین وسط میں واقع ہے اس کی کرسی بہت اونچی ہے اندر داخل ہونے کے لیے تین شاندار دروازے ہیں جن پر چڑھنے کے لیے تینوں طرف زینے لگے ہوئے ہیں     مغل سلاطین  نے دنیا   کےجن جن ملکوں میں اپنے قدم جمائے وہاں'وہاں  بڑے بڑے محلات،باغات، قلعے، دروازے، مساجد ومقبرے وغیرہ تعمیر کرائے لیکن  مساجد پر بالخصوص بہت دیدہ ریزی سے کام کیا - مسجد مہابت خان بھی اسی دور کی ایک خوبصورت مسجد بھی ہے جو پشاورکے  قدیم تہذیب و تمدن اور تاریخی حیثیت کے حامل شہر  میں  قلعہ بالا حصار سے 50فٹ کے فاصلے پر اندرون شہر واقع ہے۔شہنشاہ شاہ جہاں کے دورِ حکومت میں تعمیر کردہ 17ویں صدی کے مغل دور کے فنِ تعمیر کا ایک حسین شاہکار  ہے- یہ مسجد 1670ء میں مغلیہ دورِ حکومت میں کابل کے گورنر،مہابت خان نے تعمیر کروائ اور اسی کے نام سے منسوب کی گئ  ۔



 پشاور کے قدیمی گنجان آباد علاقے میں تعمیر شدہ یہ مسجد 30ہزار اسکوئر فٹ رقبے پر    پشاور میں قدیم فصیل بند شہر میں بنائ گئ ۔یہ  نا صرف ایک مغل شاہکاربلکہ ماہ مقدس میں نمازیوں کی توجہ کامرکز نگاہ بھی ہے -گل کاری اور عربی خطاطی کی آرائش سے مزین یہ مسجد غیر ملکی  سیاحوں  کو بھی متوجہ کرتی ہے-مسجد مہابت خان بالخصوص ماہِ رمضان کے دوران روحانیت کا ایک پررونق مرکز بن جاتی ہے ۔ مقدس ماہِ رمضان میں ہمیشہ نمازیوں کی ایک بڑی تعداد میں آمد ہوتی  ہے جب لوگ خصوصی نمازِ تراویح ادا کرتے ہیں جس میں تقریباً چار ہفتوں کے دوران مکمل قرآن پاک کی تلاوت کی جاتی ہے-مہابت خان مسجد اپنے مغل طرزِ تعمیر کی بنا پر نمایاں مقام کی حامل ہے جس میں ایک کشادہ صحن، نیلے رنگ کے ٹائلوں والا وضو کا تالاب اور گل کاری کے ڈیزائن اور عربی خطاطی کے ساتھ وسیع آرائش ہے۔اپنے تاریخی جوہر کو محفوظ رکھنے کے لیے یہ بحالی کی اہم کوششوں سے گذری ہے۔ آج یہ ایک پررونق عبادت گاہ اور ایک ثقافتی ورثے کا مقام ہے جو زائرین کو اپنی شاندار تعمیراتی تفصیلات کی طرف راغب کرتی ہے اور پشاور کی بھرپور ثقافت کے ثبوت کے طور پر کام کرتی ہے  اس کے قدیم گنبد اور محراب دور دراز سے لوگوں کو اپنی طرف مائل کرتے تھے۔


مسجد مہابت خان 400 سے 450 سال پرانی ہے اور اس جگہ پر عرب اور دیگر ریاستوں سمیت بیرونی ممالک سے بہت زیادہ لوگ آتے ہیں۔"دوسرے ممالک سےآنے والے لوگ اس جگہ کا دورہ کرنا چاہتے ہیں کیونکہ یہ ایک تاریخی مسجد ہے۔ وہ اس کی تاریخ دیکھنا چاہتے ہیں کہ یہاں  ایسی جگہ بھی ہے۔ یہ ایک تاریخی مسجد ہے اور یہاں بڑی تعداد مین لوگ رمضان میں عبادت کرتے ہیں۔"پشاور کے ایک 31 سالہ رہائشی ضیاء الرحمٰن نے کہا کہ فصیل بند شہر میں آنے والے لوگ ہمیشہ اس مسجد میں نماز ادا کرنے کی خواہش کرتے تھے۔"رمضان میں وہ تمام لوگ جو ملحقہ سٹی بازار کی سیر کے لیے آتے ہیں ہمیشہ اپنی نماز پڑھنے مسجد میں آتے ہیں۔" ۔اس کا صحن 35 میٹر لمبا اور تقریباً 30 میٹر چوڑا ہے۔صحن کے درمیان میں ایک بہت بڑا حوض ہے۔ مسجد کی دیواروں اور گنبدوں کاشی کاری کے علاوہ نقش نگاری اور مرقع نگاری سے مزین کیا گیا ہے۔ مسجد کے 34 میٹر بلند و بالا میناروں کے درمیان 6 چھوٹے چھوٹے مینار بھی ہیں۔اس کی چھت پر کل 7 گنبد تعمیر کیے گئے ہیں جن میں 3 گنبد کافی بڑے ہیں۔اس میں داخل ہونے کے لیے دو دروازے ہیں، ایک آساماہی روڈ پرجبکہ دوسرا اندرون شہرمیں کھلتا ہے۔


جب کوئی شخص مسجد دیکھنے کے لیے دروازوں زینے پر چڑھ کر اندر داخل ہوتا ہے تو مسجد کے وسیع و عریض صحن کو دیکھ کر بہت خوش ہوتا ہے اس صحن کے درمیان میں ایک حوض ہے جس کے اندر فوارہ لگا ہوا ہے اور جس سے پانی اوپر کی طرف اچھل کر قطروں کی شکل میں یوں نیچے گرتا ہے جیسے چمکدار موتیوں کی بارش ہو رہی ہو۔ صحن کے ایک طرف کنواں ہے جسے سردیوں میں بند کر دیا جاتا ہے صرف گرمیوں میں کھولا جاتا ہے تب اس کا پانی اتنا ٹھنڈا ہوتا ہے جیسے برفیلے چشمے کا پانی ہو۔ مسجد کے طویل صحن کے بعد ایک دالان شروع ہوتا ہے یہ دالان بھی کافی لمبا چوڑا ہے اس میں ایک منبر ہے جس پر قاری صاحب بیٹھ کر خطبہ پڑھتے ہیں یہ خالص سنگ مرمر کا بنا ہوا ہے۔ پتھر کو تراش کر اس پر جو بیل بوٹے بنائے گئے ہیں وہ دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ مسجد کے گنبد بھی سنگ مرمر کے بنے ہوئے ہیں ان کی رنگت اتنی سفید ہے کہ دن کے وقت جب دھوپ چمک رہی ہو تو ان پر نگاہ نہیں ٹھہرتی۔ مسجد کے دونوں گوشوں پر دو بلند مینار ہیں جس کے اندرونی حصوں میں زینے بنے ہوئے
 ہیں

اتوار، 14 دسمبر، 2025

پاکستان کی مایہء ناز شخصیت حسن علی آفندی

 حسن علی آفندی 14 اگست 1830 کو حیدرآباد سندھ کے ایک معزز خاندان میں پیدا ہوئے۔  ابھی بہت  بچپن کا دور تھا کہ والد گرامی کا سایہ سر سے اٹھ گیا   اب ان کی  پرورش ان کی والدہ اور بڑے بھائی نے کی۔ اپنے خاندان کی روایت کے مطابق، وہ قرآن پاک پڑھنے اور عربی اور فارسی سیکھنے کے لیے ایک مقامی مکتب میں داخل ہوئے۔ اس روایتی تعلیم کی تکمیل کے بعد انہیں نوشہرو کے ڈپٹی کلکٹر کے دفتر میں ملازمت مل گئی۔ وہاں اس کی اپنے ایک عیسائی ساتھی سے دوستی ہو گئی جس نے اسے انگریزی سیکھنے کی ترغیب دی۔اس وقت تک مسلمانوں کی اکثریت نے خود پر انگریزی زبان کو کسی بھی میڈیم میں استعمال کرنے کی پابندی تھی  جبکہ حسن علی آفندی کا نقطہء نظر مختلف تھا وہ جانتے تھے کہ انگریزی میں ادب اور علم کا بے پناہ ذخیرہ ہے جسے مسلمانوں کی علمی اور مادی ترقی کے لیے استعمال  کیا جانا چاہیے۔ لہذا، انہوں نے اپنے فرصت کے اوقات انگریزی سیکھنے میں صرف کیے اور اس میں مہارت حاصل کی۔ جیسے جیسے اسے انگریزی  وقت گزرا ویسے 'ویسے انہیں انگریزی زبان کے مطالعہ  کا بہت شوق ہو گیا، ۔یہ وہ وقت تھا جب زرائع  نقل و حمل بہت محدود ہوا کرتے تھے، کیونکہ سڑکیں ابھی تک تیار نہیں ہوئی تھیں اور زمینی راستے غیر محفوظ تھے۔



 اس وقت  انگریزوں نے 'انڈس فلوٹیلا' ایک خاص قسم کی کشتیوں پر مبنی نقل و حمل کا نظام قائم کیا۔ کراچی سے ساٹھ میل شمال میں  جھرک نامی دریائی بندرگاہ  پر انڈس فلوٹیلا کشتیوں   کا ہیڈ کوارٹر بنا یا گیا ۔ اس  جگہ   ایک بنیادی مستقل عملہ تھا جو اس وقت کسٹم اینڈ کلئرنس کے کا م کرتا تھا  ۔یہاں حسن علی آفندی  کو ایک جاب آفر کی گئ جس کو انہوں نے بخوشی قبول کر لیا ۔1860 کی دہائی کے وسط میں جب حسن علی کی عمر تقریباً پینتیس برس تھی تو اس کی ملاقات صوبہ سندھ کی اعلیٰ ترین عدالت کے چیف جج مسٹر مڈلٹن سے ہوئی جسے ’’صدر کورٹ‘‘ کہا جاتا ہے۔ تاہم، جج نے رات بندرگاہ پر گزارنے اور اگلے دن دریا پار کرنے کا فیصلہ کیا۔ رات کے کھانے کے بعد جب سب فارغ  ہو گئے تو اس نے حسن علی کو تیل کے چراغ کی مدھم روشنی میں انگریزی کی کتاب پڑھتے دیکھا۔ تعارف ختم ہونے کے بعد گفتگو کا آغاز ہوا۔ مختلف موضوعات پر حسن علی کی گرفت کے بارے میں جان کر جج کو خوشگوار حیرت ہوئی۔ اسے یہ جان کر اور بھی حیرت ہوئی کہ وہ جس شخص سے بات کر رہا تھا وہ مسلمان تھا۔جج کو اپنی عدالت میں ایک ایسے شخص کی ضرورت تھی جو مقامی زبانیں جانتا ہو اور مسلم رسم و رواج سے بخوبی واقف ہو، 


کیونکہ عدالت کو مقامی زبانوں میں مسلمانوں کی طرف سے دائر درخواستوں کے مندرجات کو سمجھنے میں بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ کسی ایسے شخص کی تلاش میں تھے جو عدالت کی معاونت کے لیے بالخصوص مسلمانوں سے متعلق معاملات میں مدد کرے لیکن ایسا شخص نہ مل سکا کیونکہ پورے صوبے میں اس کام کے لیے ایک بھی انگریز جاننے والا مسلمان دستیاب نہیں تھا۔ لیکن اب حسن علی میں اس نے اپنی ضرورت کے لیے ایک پرفیکٹ میچ ڈھونڈ لیا اور اسے فوری طور پر حسن علی کی موجودہ تنخواہ سے تقریباً دوگنی پر کراچی میں اپنی عدالت میں ملاقات کی پیشکش کی۔ انہوں نے یہ پیشکش قبول کر لی اور اپنی نئی ذمہ داریاں سنبھالنے کے لیے کراچی منتقل ہو گئے۔جب انہوں نے مل کر کام کرنا شروع کیا تو حسن علی نے جج کو اپنی قانونی ذہانت اور قانون کے باریک نکات پر گرفت سے اس حد تک متاثر کیا کہ جج نے انہیں قانون کی رسمی اہلیت کے بغیر بھی قانون پر عمل کرنے کی خصوصی اجازت دے دی۔ یہ حسن علی کی زندگی میں ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔یہ وہ وقت تھا جب پورے سندھ میں ان کے سوا ایک بھی مسلمان وکیل نہیں تھا۔


 سندھ میں زیادہ تر وکلاء ہندو تھے جبکہ ان میں سے کچھ عیسائی اور زرتشتی تھے۔ ان حالات میں اس کے پاس کوئی حمایتی بنیاد نہیں تھی اور اسے اچھی طرح سے قائم وکلاء کے خلاف اپنی قابلیت کا ثبوت دینا تھا۔ لیکن، اس نے اسے ایک چیلنج کے طور پر لیا اور اپنی توانائی کا ہر قطرہ  اپنے نئے پیشے کے لیے وقف کر دیا۔ اپنی ملازمت کے تئیں ان کی دلچسپی اور لگن نے انہیں قانونی برادری میں عزت بخشی اور انہیں سندھ کے پبلک پراسیکیوٹر کے سب سے باوقار عہدے کی پیشکش کی گئی۔ ان کی تقرری کا امتیاز یہ تھا کہ وہ سندھ کے پہلے غیر یورپی وکیل تھے جو اس عہدے پر تعینات ہوئے۔ ایک اور امتیاز یہ تھا کہ وہ چودہ سال تک اس عہدے پر فائز رہے اور ایک ریکارڈ قائم کیا۔حسن علی نادر صلاحیتوں کے مالک تھے۔ انہیں فارسی، عربی، انگریزی، ترکی، لاطینی اور فرانسیسی جیسی غیر ملکی زبانوں کا کافی اچھا علم تھا۔ زندگی بھر وقت پر  نمازیں ادا کرتے  ۔ سندھ مدرسہ میں مساجد کی تعمیر کے بعد، حسنی نے وہاں ہر ہفتے جمعہ کی نماز باقاعدگی سے ادا کرنے کو اپنا شعار بنایا، یہ معمول اس نے اس دنیا سے رخصت ہونے تک برقرار رکھا۔نجی زندگی میں بھی حسن علی نے زندگی بھر مناسب معمولات کا مشاہدہ کیا۔ گرمی تھی یا  سردی  وہ صبح پانچ بجے اٹھتے تھے۔ غسل اور نماز کے بعد قرآن پاک پڑھتے تھے۔ اس کے بعد وہ صبح کی سیر کے لیے  چلے جاتے نجی زندگی میں بھی حسن علی نے زندگی بھر مناسب معمولات کو پیش نظر رکھا

ہفتہ، 13 دسمبر، 2025

مورقدرت کی رعنائ کا عکاس پرندہ

       مور ایک خوبصورت دلکش اور انتہائی چوکنا رہنے والا پرندہ ہے جو برما‘ جاوا‘ ہندو پاکستان اور مشرقی ایشیا کے ممالک میں پایا جاتا ہے اس کے پروں کی رنگینی دم کا پھیلاؤ اور رقص انتہائی جاذب نظر ہوتا ہے جب یہ اپنی دم کو جو ۵ ۵ انچ سے ۷۲ انچ تک لمبی ہوتی ہے۔ پھیلا کر چکر کاٹتا ہےنظروں میں مختلف رنگوں کی دنیا آباد ہو جاتی ہے جس طرح خزاں میں درختوں کے پتے جھڑتے اور بہار میں اگتے ہیں ۔ اسی طرح اس کے پر خزاں میں جھڑجاتے ہیں اور بہارمیں دوبارہ اگ آتے ہیں ۔ بہار کا موسم اس کے حسن کے نکھار کا زمانہ ہوتا ہے۔ اسی موسم میں جوڑ کھاتا ہے مورنی تین سال کی عمر سے انڈے دینے لگتی ہے اور اس کی اوسط عمر پینتیس برس ہوتی ہے ایک سال میں کم و بیش بارہ انڈے دیتی اور ایک مہینہ تک انہیں سیتی ہے۔ مور اپنی دلکشی و خوبصورتی  سمجھا جاتا ہے۔     یوں کہ جس رنگ میں انہیں ڈبو دیا گیا ہے اس کے علاوہ کسی اور رنگ کی ان میں آمیزش نہیں کی گئی اور بعض اس طرح رنگ میں ڈبوئے گئے ہیں کہ جس رنگ کا طوق انہیں پہنا دیا گیا ہے وہ اس رنگ سے نہیں ملتا جس سے خود رنگین ہیں ۔ ان سب پرندوں سے زائد عجیب الخلقت مور ہے کہ (اللہ نے) جس کے (اعضاء کو) موزونیت کے محکم ترین سانچے میں ڈھالا ہے اور اس کے رنگوں کو ایک حسین ترتیب سے مرتب کیا ہے۔


 یہ (حسن و توازن) ایسے پروں سے ہے کہ جن کی جڑوں کو (ایک دوسرے سے) جوڑ دیا ہے اور ایسی دم سے ہی جو دور تک کھنچتی چلی جاتی ہے جب وہ اپنی مادہ کی طرف بڑھتا ہے تو اپنی لپٹی ہوئی دم کو پھیلا دیتا ہے اور اسے اس طرح اونچا لے جاتا ہے کہ وہ اس کے سر پر سایہ افگن ہوکر پھیل جاتی ہے۔ گویا وہ (مقام) دارین کیاس کشتی کا بادبان ہے جسے اس کا ملاح ادھر ادھر موڑ رہا ہو۔ وہ اس کے رنگوں پر اتراتا ہے اور اس کی جنبشوں کے ساتھ جھومنے لگتا ہے اور مرغوں کی طرح جفتی کھاتا ہے اور (اپنی مادہ کو) حاملہ کرنے کیلئے جوش و ہیجان میں بھرے ہوئے نروں کی طرح جوڑ کھاتا ہے۔ تم اگر بغور دیکھو گے) تو اس کے پروں کی درمیانی تیلیوں کو چاندی کی سلائیاں تصور کرو گے اوران پر جو عجیب و غریب ہالے بنے ہوئے ہیں اور سورج (کی شعاعوں ) کے مانند (جو پروبال) اگے ہوئے ہیں (انہیں زردی میں ) خالص سونا اور (سبزی میں ) زمرد کے ٹکڑے خیال کرو گے‘ اگر تم اسے زمین کی اگائی ہوئی چیزوں سے تشبیہہ دو گے تو یہ کہو گے کہ وہ ہر موسم بہار کے چنے ہوئے شگوفوں کا گلدستہ ہے


اور اگر کپڑوں سے تشبیہہ دو گے تو وہ منقش حلول یا خوشنما یمنی چادروں کے مانند ہے اور اگر زیوراتگ سے تشبیہہ دو گے تو وہ رنگ برنگ کے ان نگینوں کی طرح ہے جو مرصع بجواہر چاندی میں دائروں کی صورت میں پھیلا دئیے گئے ہوں وہ اس طرح چلتا ہے جس طرح کوئی ہشاش بشاش اور متکبر محو خرام ہوتا ہے اور اپنی دم اور پروبال کو غور سے دیکھتا ہے تو اپنے پیراہن کے حسن و جمال اور اپنے گلوبند کی رنگتوں کی وجہ سے قہقہہ لگا کر ہنستا ہے مگر جب اپنے پیروں پر نظر ڈالتا ہے تو اس طرح اونچی آواز سے روتا ہے کہ گویا اپنی فریاد کو ظاہر کر رہا ہے اور اپنے سچے درد (دل) کی گواہی دے رہا ہے۔ کیونکہ اس کے پیر خاکستری رنگ کے  باریک اور پتلے ہوتے ہیں اور اس کی پنڈلی کے کنارے پرایک باریک سا کانٹا نمایاں ہوتا ہے اور اس کی (گردن پر) ایال کی جگہ سبز رنگ کے منقش پروں کا گچھا ہوتا ہے اور گردن کا پھیلاؤ یوں معلوم ہوتا ہے جیسے صراحی (کی گردن) اور اس کے گڑنے کی جگہ سے لے کر وہاں تک کا حصہ کہ جہاں اس کا پیٹ ہے یمنی دسمہ کے رنگ کی طرح (گہرا سبز) ہے یا اس ریشم کی طرح ہے جو صیقل کئے ہوئے آئینہ پر پہنا دیا گیا ہو۔ گویا کہ وہ سیاہ رنگ کیاوڑھنی میں لپٹا ہوا ہے لیکن اس کی آب و تاب کی فراوانی اور چمک دمک کی بہتات سے ایسا گمان ہوتا ہے کہ اس میں تروتازہ سبزی کی (الگ سے) آمیزش کر دی گئی ہے


اس کے کانوں کے شگاف سے ملی ہوئی بابونہ کے پھولوں جیسی ایک سفید چمکیلی لکیر ہوتی ہے۔ جو قلم کی باریک نوک کے مانند ہے وہ (لکیر) اپنی سفیدی کے ساتھ اس جگہ کی سیاہیوں میں جگمگاتی ہے۔ کم ہی ایسے رنگ ہوں گے جس نے سفید دھاری کا کچھ حصہ نہ لیا ہو اور وہ ان رنگوں پر اپنی آب و تاب کی زیادتی اپنے پیکر ریشمیں کی چمک دمک اور زیبائش کی وجہ سے چھائی ہوئی ہے۔ وہ ان بکھری ہوئی کلیوں کے مانند ہے کہ جنہیں نہ فصل بہار کی بارشوں نے پروان چڑھایا ہو اور نہ گرمیوں کے سورج نے پرورش کیا ہو۔ اس کے بال و پر لگاتار جھڑتے ہیں اور پھر پے درپے اگنے لگتے ہیں ۔جب اس کے پروں کے ریشوں میں سے کسی ریشے کو تم غور سے دیکھو گے تو وہ تمہیں کبھی گلاب کے پھولوں جیسی سرخی اور کبھی زمرد جیسی سبزی اور کبھی سونے جیسی زردی کی (جھلکیاں ) دکھائے گا 

۔

الن فقیر کی سدابہار یادیں

 



پی ٹی وی پر فوک گلو کار الن فقیر نے آ کر اپنے ایک تارے کا سُر چھیڑا اتنے بڑے جیون ساگر میں تو نے پاکستان دیا ہو اللہ اور پورا پاکستان الن فقیر کا ہم نوا بن گیا -یہیں سے الن فقیر نے شہرت اور عزت کی اس سیڑھی پر قدم رکھا جس میں پیچھے  پلٹ کر دیکھنا ناممکن ہو  تھا-پھر وہ ملکوں ملکوں پاکستان کا چہرہ بن گئے-گلی گلی ان کی گائیکی کی دھوم مچ گئ سندھی زبان کے لوک فنکار الن فقیر صوبہ سندھ کے ایک چھوٹے سے علاقے جام شورو میں 1922ء میں پیدا ہوئے۔ الن فقیر نے صوفیانہ کلام گاکر ملک گیر شہرت حاصل کی۔، انہوں نے سندھی، اردو، پنجابی اور سرائیکی زبانوں میں گائیکی کی۔ ان کی گائیکی کا ایک انوکھا انداز تھا جو انہیں دوسرے لوک فنکاروں سے منفرد کرتا ہے۔انہوں نے اپنی گائیکی کی بدولت کئی ایوارڈ حاصل کئے۔ان میں80 کی دھائی میں ملنے والا صدارتی ایوارڈ سرفہرست ہے۔ان کا انتقال 4 جولائی 2000ء کو ہوا مگروہ آج بھی اپنے چاہنے والوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔
الن فقیر کی گائیکی نے فلسفیانہ عشق الٰہی کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں جگہ بنائی۔انہوں نے روایتی لوک گائیکی کوایک نیا انداز بخشا۔الن فقیر نے شاہ عبد الطیف بھٹائی کی شاعری کو بھی اپنی آواز میں پیش کیا۔ ان کا گایا ہوا ایک گیت "تیرے عشق میں جو بھی ڈوب گیا... اسے دنیا کی لہروں سے ڈرنا کیا۔۔" انہیں فن کی دنیا میں امر کرگیا ہے۔


 

لن فقیر 1932ء کو جامشورو، سندھ میں پیدا ہوئے۔ اصل نام علی بخش تھا لیکن الن فقیر کے نام سے مشہور ہوئے۔ ریڈیو اور ٹیلی وژن پر یکساں مقبول تھے۔الن فقیر کو فنی دنیا میں متعارف کرانے کا سہرا سندھ کے ادیب، دانشور اور ماہرثقافت ممتاز مرزا کے سرجاتا ہے۔ الن فقیر نے سندھی، پنجابی، اردو، سرائیکی اور دوسری بہت سی زبانوں میں گانے اور صوفیانہ راگ گائے لیکن محمد علی شہکی کے ساتھ گایا جانا والا نغمہ تیرے عشق میں جو بھی ڈوب گیا الن فقیر کی فنی شہرت میں اضافے کا باعث بنا۔اس کے علاوہ ان کا ایک ملی نغمہ اتنے بڑے جیون ساغر میں تو نے پاکستان دیا بھی بہت مشہورہوا۔ 1980ء میں انھیں صدارتی تمغہ  برائے حسن کارکردگی ملا۔ سر پر اجرک کی پگڑی باندھے، گلے میں رنگ برنگے ہار لٹکائے یہ ہیں پنجاب کی تحصیل رحیم یار خان کے رہنے والے فقیر واحد بخش، جو سندھ کے مشہور صوفی گلوکار الن فقیر کا روپ دھار کر اپنے بیٹے کے ساتھ لوک ورثہ اسلام آباد میں اپنے فن کے جوہر دکھاتے ہیں۔الن فقیر سندھ کے شہر جامشورو سے تعلق رکھتے تھے، جنہوں نے سندھی، اردو، پنجابی اور سرائیکی زبانوں میں گائیکی کی۔فقیر واحد بخش نے ہو بہ ہو الن فقیر کا روپ دھار رکھا ہے۔


 

ہاں تک کے ان کی داڑھی مونچھوں اور بالوں کا انداز بھی الن فقیر جیسا ہی ہے اور وہ الن فقیر کے انداز میں ہی لاگ الاپتے ہیں۔ انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں فقیر واحد بخش نے بتایا کہ ’الن فقیر سے میرا بہت لگاؤ تھا. انہیں جب جب سنتا تھا مزا آتا تھا. جب الن فقیر اس جہان سے چلے گئے تو میں نے ان کا روپ اختیار کیا اور جیسے میں ان ہی میں سما گیا۔‘فقیر واحد بخش کا تعلق پنجاب سے ہے لیکن وہ زیادہ تر وہی کلام گاتے ہیں جو الن فقیر سندھی زبان میں گاتے تھے۔ انہوں نے بتایا: ’سندھی کلچر (محکمہ ثقافت) والے کہتے ہیں کہ آپ کا شناختی کارڈ پنجاب کا ہے، پنجاب والے (ثقافت پنجاب) کہتے ہیں کہ آپ تو گاتے سندھی میں ہیں اور پروموٹ بھی اسی زبان کو کرتے ہیں۔ بات سچ بھی ہے میں اکثر سندھی میں ہی گاتا ہوں۔‘کوک سٹوڈیو کا گانا ’آئی آئی‘، جو وٹس ایپ کے ذریعے لکھا گیافقیر واحد بخش دو بار امریکہ اور پانچ بار انڈیا بھی جا چکے ہیں،جہاں انہوں نے صوفی فیسٹیولز میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔فقیر واحد بخش کہتے ہیں کہ ’فوک سنگر ملک کا اثاثہ ہیں۔‘اسلام آباد میں پرفارمنس کے حوالے سے وہ کہتے ہیں کہ ’لطیف سائیں (صوفی بزرگ و شاعر شاہ عبدالطیف بھٹائی) کی مہربانی سے ہمیں اسلام آباد میں پرفارمنس کا موقع ملا ۔


 

ہم یہاں پورے ملک کے لیے گاتے ہیں۔‘فقیر واحد بخش کے جواں سال بیٹے ساجد علی بھی ان کے ہمراہ گاتے اور جھومتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے: ’مجھے والد کے ساتھ پرفارم کرکے مزا آتا ہے، والد کا اپنے استاد الن فقیر کے لیے پیار ہی اتنا ہے کہ ان کے گانوں پر ہم جھومے بغیر رہ نہیں پاتے۔‘موسیقی کے آلات ’یکتارو اور چپڑی‘ تو فقیر واحد بخش خود بناتے ہیں۔ وہ اور ان کے بیٹے ساجد علی اس فن کو نئی نسل میں منتقل کرنے کے لیے اپنے کئی شاگردوں کو صوفی گائیکی کی تربیت بھی دیتے ہیں۔فقیر واحد بخش صوفی شعرا شاہ عبدالطیف بھٹائی، سچل سرمست، بابا بلھے شاہ اور دیگر شعرا کے کلام گاتے ہیں۔دونوں باپ بیٹا پرعزم ہیں کہ وہ صوفی ازم، صوفی شاعری اور پاکستان کی خدمت کرتے رہیں گے۔پاکستان میں حالیہ چند سالوں کے دوران مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی جانب سے گلوکاری کے میدان میں قسمت آزمائی کے واقعات میں قابل زکر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اس اضافے کی ایک بڑی وجہ سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز خاص طور پر یوٹیوب کی وجہ سے نئے گلوکاروں اور لوک فنکاروں کو حاصل ہونے والی وسیع پزیرائی اور ان کے مالی حالات میں آنے والی بہتری ہے۔اب سوشل میڈیا کے اس دور میں بیشتر لوک فنکار ایک ایسی خوشحال زندگی اور مقبولیت رکھتے ہیں، جس کا ماضی قریب میں تصور تک نہ تھا۔ گزشتہ نسلوں کے لوک گلوکاروں کی شہرت اور آمدن کا انحصار یوٹیوب وغیرہ کے برعکس شادی بیاہ کی محفلوں اور آڈیو کیسٹس پر ہوا کرتا تھا۔ آج کے لوک گلوکار اپنے ایک ہٹ گانے سے راتوں رات وہ شہرت اور دولت کما سکتے ہیں، جو ماضی میں فن کو تمام عمر دینے کے بعد بھی نصیب نہ ہوتی تھی۔اس کی ایک بہترین مثال صوبہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے گلوکار ملکو کا گیت 'نک دا کوکا‘ ہے ۔ اس گیت کو صرف یوٹیوب پر چھ ماہ کے دوران چھ کروڑ سے زیادہ مرتبہ سنا گیا۔

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

شیزو فرینیا ایک نظر نا آ نے والی لیکن تکلیف دہ بیماری ہے

    بڑا ہی مشہور مقولہ ہے 'تندرستی ہزار نعمت ہے 'اللہ پاک ہر ایک کو بیماری سے بچائے لیکن بہر حال یہ امتحان بھی زندگی میں آتے رہتے ہی...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر