بدھ، 1 اکتوبر، 2025

نگاہوں کو مسحور کر دینے والا سوات کا سفید مرمریں محل

  میاں گل عبدالودود (المعروف بادشاہ صاحب) بہت خوبیوں کے م بڑے بازوق  صاحب اقتدار انسان  تھے۔  سفید محل کی تعمیر کے حوالے سے شاہی خاندان کے میاں گل شہر یار امیر زیب باچا (بادشاہ صاحب کا پڑپوتا) کا کہنا ہے کہ 'در اصل بادشاہ صاحب ہندوستان گئے تھے جہاں ایک دن ان کا گزر راجھستان کے علاقہ سے ہوا۔ وہاں انھوں نے سفید  سنگ مر مر  دیکھا۔ ان دنوں راجھستان   کے  علاقے میں یہ سنگ مر مر  بہت شہرت رکھتا تھا۔ بادشاہ صاحب نے راجھستان کے اس وقت کے مہاراجا کا محل دیکھا جس میں اسی سفید  سنگ مر مر  کا استعمال کیا گیا تھا۔ بادشاہ صاحب اس محل سے متاثر ہوئے بنا نہ رہ سکے۔ بعد میں جے پور سے اسی سفید سنگ مرمر  کو لایا گیا'۔سفید محل کے اندر سے صحن کا منظرایک روایت یہ بھی مشہور ہے کہ سفید محل میں استعمال ہونے والا ماربل دراصل وہی  سنگ مر مر  ہے جو تاج محل (آگرا، ہندوستان) میں استعمال ہوا ہے۔ اس محل کے گراؤنڈ فلور پر قائم کمر ےریاستی دور میں وزیروں اور مشیروں کے لیے مخصوص تھے۔سفید محل کے اندر لگے ریاستی دور کے برقی قمقمے اور پنکھے جو اَب نایاب ہیں۔بادشاہ صاحب کا ٹیبل لیمپ بادشاہ صاحب کا ٹیلی فون۔اور بادشاہ صاحب کے وقت کی نایاب اشیاء موجود ہیں 


’مرغزار‘‘ ضلع سوات کا واحد پرفضا مقام ہے جو مرکزی شہر مینگورہ سے تقریباً بارہ کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ہے۔ سیاح صرف قدرتی حسن اور معتدل موسم کی وجہ سے مرغزار کا رخ نہیں کرتے بلکہ وہاں پر قائم ریاست سوات دور کی ایک تاریخی عمارت سفید محل (1941ء) کی سیر کرنے بھی جاتے ہیں۔کیونکہ سیاح اگر سوات آیا اور اسنے مرغزار کی حدود میں اس نایاب سفید محل کی سیر نہیں کی تو پھر اس نے  سوات کی سیر کو ادھورا چھوڑا مینگورہ: جدید ریاست سوات کے بانی میاں گل عبدالودود المعروف بادشاہ صاحب (1881ء تا 1971ء) کے حکم سے جب سنہ 1941 کو سفید محل کی تعمیر مکمل ہوئی، تو اس محل کی بدولت مرغزار کا علاقہ ایک طرح سے ریاست سوات کے موسم گرما کا دارالحکومت ٹھہرا۔ گرمیوں میں یہاں سے شاہی فرمان جاری ہوا کرتے تھے۔ آج بھی سات دہائیاں گزرنے کے باوجود سفید محل مرجع خلائق ہے۔مگر سفید محل کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اس کا اولین نام ’’موتی محل‘‘ تھا۔



سفید محل کے اندر دیوار پر ٹانکی گئی میاں گل عبدالودود بادشاہ صاحب کی ایک نایاب تصویر بھی موجود ہے۔سفید محل تاریخی حوالہ سے اس لیے بھی مشہور ہے کہ یہاں سے ریاستی دور میں رعایا کے مستقبل کے فیصلے ہوا کرتے تھے۔شہر یار امیر زیب باچا کے مطابق جب محل تعمیر ہوا، تو گرمیوں کے موسم میں حکومت کے امور سیدو شریف کی بجائے مرغزار میں طے ہوتے تھے۔ باالفاظ دیگر سردیوں میں ریاست سوات کا دارالخلافہ سیدو شریف اور گرمیوں میں سفید محل کی بدولت مرغزار ہوا کرتا تھا۔ریاستی دور کی تصاویر جن میں بادشاہ صاحب اور والئی سوات کی تصاویر نمایاں ہیں۔شہر یار کا کہنا ہے کہ مین بلڈنگ کا اگر بغور جائزہ لیا جائے، تو اس میں ایک ڈرائننگ روم، ایک ڈائننگ ہال، ایک میٹنگ روم اور ایک بادشاہ کا اپنا کمرہ ہے۔ اس کے علاوہ اس کے احاطے میں دو تین درجوں میں کمرے بنائے گئے ہیں۔ جب بادشاہ صاحب گرمیوں میں مرغزار کا رخ کرتے، تو ان کے وزیر مشیر اور خان خوانین ان کے ہمراہ ہوتے۔



دوسرے درجے پر تعمیر شدہ کمروں میں یہی وزیر مشیر اور خان خوانین ہوتے اور تیسرے درجے میں تعمیر شدہ کمروں میں فیملی ممبران ہوا کرتے تھے۔بادشاہ صاحب کے بیڈ روم کے متصل ان کے خاص مہمانوں کے لیے مخصوص شدہ کمرہ۔ یہ وکٹورین طرز تعمیر کا شاہکار ہے۔ یہ اس وقت اپنی نوعیت کی پہلی عمارت تھی۔س عمارت کے تین حصے ہیں۔ محل کا پہلاحصہ بادشاہ صاحب کے لیے مخصوص تھا۔ دوسرا حصہ جس کے لیے سیڑھیاں چڑھنی پڑتی ہیں،وی آئی پی شخصیات کے لیے اور تیسرا اور آخری حصہ خواتین اور انگریزوں کے لیے مخصوص تھا جب کہ محل کی بیک سائٹ   کی جگہ  با ورچیوں اور دیگر خدام کے لیے تھی ۔بادشاہ چوں کہ مذہبی شخصیت تھے، اس لیے جا بجا مساجد نظر آتی ہیں۔ سفید محل کے کھلے علاقے میں جو مسجد تعمیر کی گئی ہے، اس میں بادشاہ نماز پڑھنے اور قرآن شریف کی تلاوت کو ترجیح دیتے تھے۔ لیکن پھر    بادشاہ  صاحب  کی وفات کے بعد یہ  نایاب محل  ان کے وارث کے حصے میں آیا۔ جنہوں نے اس کی  دیکھ بھال کی اور رینو ویٹ  کر  کے  اس کو ہوٹل میں کنورٹ کر دیا  اور  اب  سفید محل  مرغزار آ نے  والے سیاحوں کےلئے ایک اچھا پکنک پوائنٹ بن چکاہے ۔‘‘ 

پیر، 29 ستمبر، 2025

پاکستانی ادیبہ ملک کا برطانیہ کے بادشاہ چارلس سوم کی لارڈ لیفٹیننٹ کے عہدے پر تقرر

 

 یہ  برطانیہ  کا دستور ہے  کہ لارڈ لیفٹیننٹ   برطانیہ کے بادشاہ ہر کاؤنٹی سےوزیراعظم کی مشاورت سے اپنا ایک نمائندہ چنتے ہیں جو بادشاہ کے مفادات اور وقار کے لیے کام کرتا ہے۔ یہ ان کی  ویب سائٹ پر دی گئی معلومات کے مطابق ہے -ادیبہ ملک کے والد محمد صادق کا تعلق لاہور سے ہے۔ وہ 1958 میں برطانیہ منتقل ہو گئے تھے۔ ان کی والدہ فہمیدہ کا تعلق سیالکوٹ سے ہے۔ ادیبہ ملک 30 ستمبر 1966 کو بریڈ فورڈ میں پیدا ہوئیں (مسلم ویمنز کونسل فیس بک)ویسٹ یارک شائر کے شہر بریڈ فورڈ سے تعلق رکھنے والی پاکستانی نژاد خاتون ادیبہ ملک کو برطانوی بادشاہ چارلس سوم کی جانب سے لارڈ لیفٹیننٹ مقرر کیا گیا ہے۔اس طرح وہ اس عہدے پر براجمان ہونے والی پہلی خاتون، مسلمان اور ایشیائی خاتون بن گئی ہیں۔ ادیبہ ملک کون ہیں؟ یہ عہدہ کیا ہوتا ہے اور موجودہ حالات میں بادشاہ کی جانب سے اس تقرری کو کیوں اہم قرار دیا جا رہا ہے؟ادیبہ ملک کون ہیں؟58 سالہ پروفیسر ادیبہ ملک بریڈ فورڈ کےغیر سرکاری ادارے کیو ای ڈی فاؤنڈیشن سے بطور ڈپٹی چیف ایگزیکٹو آفیسر وابستہ ہیں،



ادیبہ ملک گذشتہ 30 سال سے اقلیتی طبقات کی فلاح و بہبود کے لیے کام کر رہی ہیں۔ اس ادارے کے چیف ایگزیکٹو اور بانی ڈاکٹر محمد علی ہیں جن کا تعلق ضلع اٹک کی تحصیل حضرو سے ہےادیبہ ملک کے والد محمد صادق کا تعلق لاہور سے ہے۔ وہ 1958 میں برطانیہ منتقل ہو گئے تھے۔ ان کی والدہ فہمیدہ کا تعلق سیالکوٹ سے ہے۔ ادیبہ ملک 30 ستمبر 1966 کو بریڈ فورڈ میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے گرنج سکول بریڈ فورڈ سے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد ہل یونیورسٹی سے گریجویشن اور پھر ماسٹرز کیا جس کے بعد بطور استاد پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز کیا۔ وہ کابینہ آفس کی سٹیٹ آنرز کمیٹی اور ہوم آفس کے سٹریٹیجک ریس ایڈوائزری بورڈ کی ممبر ہیں،شیفیلڈ ہالم یونیورسٹی کی گورنر بھی ہیں۔ انہیں ویمن اور ہوم میگزین نے جولائی 2023 کے ایڈیشن میں ’برطانیہ کی حیران کن خواتین‘ کی فہرست میں ٹاپ ٹین میں شمار کیا تھا۔انہیں گذشتہ سال ویسٹ یارک شائر کی ہائی شیرف بھی مقرر کیا گیا تھا۔ 


انہیں 2004 میں ایم بی ای اور 2015 میں سی بی ای کے قومی اعزازات سے بھی نوازا گیا۔نہوں نے انڈیپنڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’کاؤنٹی کی 24 لاکھ سے زائد آبادی کے لیے بادشاہ معظم نے مجھے اپنا نمائندہ مقرر کر کے میری ہی نہیں تمام اقلیتی طبقوں کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ میں لارڈ لیفٹیننٹ کی حیثیت سے ویسٹ یارک شائر کے لوگوں کے ساتھ کام کرنے کے لیے پر جوش ہوں۔‘لارڈ لیفٹیننٹ کا عہدہ کیا ہے؟لارڈ لیفٹیننٹ کی ویب سائٹ پر دی گئی معلومات کے مطابق برطانیہ کے بادشاہ ہر کاؤنٹی سے وزیراعظم کی مشاورت سے اپنا ایک نمائندہ چنتے ہیں جو بادشاہ کے مفادات اور وقار کے لیے کام کرتا ہے۔بادشاہ یا شاہی خاندان کے جتنے دورے کاؤنٹی میں ہوتے ہیں ان کا انتظام و انصرام بھی لارڈ لیفٹیننٹ کی ہی ذمہ داری ہوتی ہے۔ بادشاہ کی جانب سے رائل گارڈنز میں جتنی بھی تقریبات ہوتی ہیں ان میں جو جو لوگ شریک ہوتے ہیں انہیں بھی لارڈ لیفٹیننٹ ہی بادشاہ کی جانب سے مدعو کرنے کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ مسلح افواج کی حمایت بھی انہی فرائض کا حصہ ہے۔


بادشاہ کی جانب سے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی جن جن شخصیات کو ایوارڈز دیے جاتے ہیں ان کی نامزدگی میں سب سے اہم کردار بھی لارڈ لیفٹیننٹ کا ہی ہوتا ہے۔ لارڈ لیفٹیننٹ اپنے علاقے کی فلاح و بہبود کے لیے خیراتی اداروں کے ساتھ مل کر کام بھی کرتا ہے۔ ان سب عوامل کے باوجود ادیبہ ملک کو بادشاہ کا نمائندہ نامزد کرنا غیر معمولی ہی سمجھا جا رہا ہے۔انگلینڈ میں 48 کاؤنٹیز ہیں جن میں ویسٹ یارک شائر آبادی کے لحاظ سے چوتھی بڑی کاؤنٹی ہے۔بریڈ فورڈ کی مساجد کی تنظیم کونسل برائے مساجد کے سابق ترجمان اشتیاق احمد نے انڈیپنڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’ادیبہ ملک یہ عہدہ پانے والی پہلی غیر سفید فام، ایشیائی اور مسلمان خاتون  بور لارڈ لیفٹیننٹ تقرری کو کیوں اہم قرار دیا جا رہا ہے؟لارڈ لیفٹیننٹ کی ویب سائٹ پر دی گئی معلومات کے مطابق برطانیہ کے بادشاہ ہر کاؤنٹی سے وزیراعظم کی مشاورت سے اپنا ایک نمائندہ چنتے ہیں جو بادشاہ کے مفادات اور وقار کے لیے کام کرتا ہے۔

یہ تحریر انٹرنیٹ سے لی گئ ہے 


اتوار، 28 ستمبر، 2025

مرکزروحانیت و تجلیات 'مسجد جمکران 'ایران

 

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مسجد مقدس جمکران کے 1073 ویں سالگرہ کے موقع پر آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی نے اپنے پیغام میں ماہ مبارک رمضان کی عبادات کی قبولیت اور ایام شہادت حضرت علی (علیہ السلام) پر تسلیت پیش کرتے ہوئے مسجد جمکران کے تاریخی پس منظر پر روشنی ڈالی۔انہوں نے شیخ صدوق (رحمت اللہ علیہ) کے حوالے سے بیان کیا کہ یہ مسجد صرف ایک خواب کا نتیجہ نہیں بلکہ حضرت صاحب الامر (عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف) کی براہ راست ہدایت پر حسن بن مثله جمکرانی کے ذریعے تعمیر کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ مسجد جمکران ایک ہزار سال سے زائد عرصے سے اللہ سے راز و نیاز اور امام زمانہ (عجل اللہ تعالی فرجه الشریف) کی طرف توجہ کا مقام رہی ہے۔آیت اللہ مکارم شیرازی نے اس مسجد میں انجام دیے جانے والے مخصوص اعمال کو توحیدی اور مؤمنین کی روح و جان کو پرووان چڑھانے والے اعمال قرار دیا۔ انہوں نے زائرین کے توسل اور دعاؤں کی کیفیت کو صحرائے عرفات میں حاجیوں کی مناجات سے تشبیہ دی



 اور کہا کہ ہر زائر یہاں اپنے دل کے بوجھ کو ہلکا کرنے آتا ہے اور یہاں سے روحانی تازگی اور اجابت کے ساتھ واپس جاتا ہے۔ نہ  ۔محدث اور فقیہ بزرگوار مرزا حسین نوری نے ایک شخص بنام حسن بن مثلہ جمکرانی سے نقل کیا ہے کہ امام مہدیؑ سے ان کی ملاقات ہوئی جس میں انہوں نے مجھے اس جمکران نامی گاؤں میں مسجد تعمیر کرنے کا حکم دیا۔حسن بن مثلہ کی روایت کے مطابق 17 ماہ رمضان المبارک 373 ہجری(22 فروری، 984 عیسوی)کو جب وہ اپنے گھر سویا ہوا تھا تو ایک گروہ نے اسے آکر بیدار کیا اور کہا : اپنے مولا وآقا، امام مہدیؑ کی نداء پر لبیک کہو۔حسن بن مثلہ جمکرانی کہتاہے:میں اپنے گھر سے اس جگہ پر آیا جہاں پر ابھی مسجد جمکران موجود ہے وہاں پر میری ملاقات ایک 33 سالہ جوان اور ایک بوڑھے شخص سے ہوئی، وہ 33 سالہ جوان امام مہدیؑ اور وہ بوڑھا شخص حضرت خضرؑ تھے جنہوں نے مجھے بیٹھنے کو کہا۔ اس کے بعد امام مہدیؑ نے مجھے اس جگہ پر مسجد تعمیر کرنے کا حکم دیا۔ اس وقت سے یہ مسجد ہر خاص و عام کی توجہات کا مرکز ہے



 لیکن اسلامی انقلاب کے بعد مسجد جمکران ایک عظیم الشان عمارت میں تبدیل ہو چکی  ہے جہاں ہر ہفتے شبِ بدھ کو ہزاروں کی تعداد میں زائرین مغرب کی نماز کے بعد دعائے توسل کی تلاوت اور اپنی حاجات طلب کرتے ہیں اور  15 شعبان امام مہدیؑ کی ولادت کی شب جشن منانے کی خاطر لاکھوں کی تعداد میں مومنین اور عاشقانِ مہدیؑ جمع ہوتے ہیں اور مناجات ، دعا ، نماز اور عبادات میں شب گزارتے ہیں    انہوں نے زور دیا کہ صوبے کی مرکزی توجہ ایک بین الاقوامی کانفرنس کے انعقاد پر تھی جس کا موضوع "انتظار" تھا۔ انہوں نے بتایا کہ تخمینے کے مطابق چار دن کے دوران قم صوبے میں چار ملین سے زائد زائرین نے شرکت کی، یہ وسیع شرکت اس وقت ہوئی جب کہ بہت سے ملک کے بہت سے صوبے شدید سردی اور برفباری کا سامنا کر رہے تھے۔



حجت الاسلام حسینی مقدم نے زائرین کی سہولت کے لیے قائم کردہ اسٹاف کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس اسٹاف نے 12 کمیٹیوں کے ذریعے زائرین کو بہترین خدمات فراہم کرنے کی کوشش کی۔ ان کمیٹیوں میں سے ایک عوامی کمیٹی تھی جس کے تحت 800 عوامی گروپوں اور انجمنوں نے بلوار پیامبر اعظم کے سات کلو میٹر طویل راستے پر اپنی خدمات پیش کیں۔ اس کے علاوہ، مقامی گروپوں نے مختلف محلوں میں بھی پروگرام منعقد کیے۔انہوں نے اس دوران وسیع ثقافتی اور سماجی سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ثقافتی پروگراموں کا اہتمام بڑے پیمانے پر کیا گیا اور زائرین میں انتظار امام اور معنویت کا جذبہ واضح طور پر دیکھا جا سکتا تھا۔ مختلف قسم کی میزبانی، طبی اور صحت کی خدمات، نیز ہلال احمر کے 200 سے زائد اراکین کی جانب سے ضروری مدد کی فراہمی، زائرین کو پیش کی گئی خدمات میں شامل تھیں۔

اب تو بھیڑیا مجھے کھا جائے گا -زرا عمر رفتہ کو آواز دینا

 مجھے  اپنے بچپن کے یہ دن بھلائے نہیں بھولےلاکھوں جھگیوں میں ہندوستان سے آئے ہوئے بے خانماں  شرفاء کے گھرانے  جو بس چاہتے تھے کہ  وہ  زمانے سے اپنے آپ کو چھپا کر رکھیں کیونکہ یہ دور بہت ہی نا آسودہ اور مشکل دور تھا اس  جب ہمارے گھرانے نے  ائر فورس کی چھاؤنی سے  لالوکھیت نقل مکانی کی تھی  اس وقت میری عمر   میری  عمر چار برس  تھی   عمر کے اس دور کے خوف بھی عجیب تھے ،راتوں کوبھیڑیوں کے  بڑے بڑے غول کے غول جھگیّوں کے آس پاس اپنی مکروہ آوازوں میں بولتے ہوئے اور غرّاتے ہوئے پھرتے تھےاس پر گھر کے بڑوں نے یہ باور کروا دیا تھا کہ بھیڑئے بچّوں کو منہ میں دبا کر اٹھا لے جاتے ہیں ہمارے بڑوں نے ہمیں اس لئے ڈرایا تھا کہ ہم بچّے دن میں گھر سے باہر نہیں پھریں لیکن اس ڈرانے کا نتیجہ میرے اوپر یہ ہوا کہ میں راتوں کو ڈر کے مارے جاگنے لگی،پھر یہ یہ خوف مستقل میرے زہن سے چپک گیا تھا کہ کسی رات کو بھیڑیا مجھے بھی سوتے میں اپنے منہ میں دبا کر چل دے گا



اور  مجھے کھا جائے گا یہ خوف مجھے ساری ساری رات جگائے رکھتا تھا نہی دنوں ایک رات  ہمارے یہاں   زور زور کی چیخ پکار ہونےلگی -میری آنکھ کھل گئ تب مجھے معلوم ہوا سچ مچ  ہماری جھگی کی چٹائ کو جانور پھاڑ رہا تھا کہ اباجان کی آنکھ کھل گئ اور انہوں نے اس جانور کو بھگا یا لیکن   وہ وقت  مجھے    بچّوں کی نفسیا ت کا یہ تجربہ بھی دے گیا کہ بچّے کی سوچوں کی دنیا صرف اپنی زات کے گرد ہی گھومتی ہے ،میں یہ کیوں نہیں سوچتی تھی کہ بھیڑیا میری چھوٹی بہن یا ننھے بھائ کو بھی تو لے جاسکتا ہے ڈر تھا تو بس اس بات کاکہ بھیڑیا مجھے لے جائے گااور پھر کھا جائے گا   بہر حال وہ کڑا وقت بھی آخر گزر ہی رہاتھا  پھر یون ہوا کہ میرے چھوٹے ماموں  سید سرکار حیدر (ان دنوں ایک 15/سولہ برس کے دبلے پتلے   سے نو عمر نوجوان ہوتے تھے )   لکھنؤ چلے گئے گھر میں معلوم ہواکہ کلیم کے کاغذات لینے گئے ہیں  ماموں جان  واپس آئے تو انہوں  نے سخت خفگی کا اظہار کیا تو میری امی جان نے میرے مامو ں جان سے کہا شکر کرو کہ زندہ سلامت لوٹ آ ئے ہو 


کیونکہ ان کے گھر پر  میرے نانا جان کے وہ عزیز قبضہ کر چکے تھے جن کو وہ اپنی امانت سپرد کر کے آئے تھے -اب سوچئے کہاں ایک پندرہ سولہ برس کا بچہ کہاں ایک زورآور قبضہ گروپ  'بس ماموں جان نے باغ وہیں لکھنؤ میں ہی فروخت کر دیا اور پیسہ کراچی لے کر آ گئے -یہ پیسہ اتنا تھا کہ میرے دو ما موؤوں اور میری امی سمیت تین بہنوں میں ترکہ تقسیم ہوا اور میری امی جان نے اس رقم سے ہمارے تنکے کے آ شیانے  کو پختہ گھر میں بدل دیا -ا ب میرا  ابتدائ تعلیمی سفر بھی شروع ہو چکاتھا اس زمانے میں رواج تھا کہ بچّے کو پہلے گھر پر ہی تین یا چار جماعتیں پڑھائ جاتی تھیں پھر اسکول میں داخلہ ہوتا تھا ،یہ بچّے اور اس کے گھر والوں کے لئے ایک اعزاز کی بات تھی کہ وہ گھر سے اتنا سیکھ کر اسکول آیا ہے چنانچہ میری تعلیمی زندگی کی باگ ڈور حسب حال میری والدہ نے اپنے ہاتھ میں لے لی  تھی  


،اب تختی کے ایک جانب وہ گہری پنسل سےالف  'ب لکھتی تھی اور دوسری جانب ایک سے دس تک گنتی ہوتی تھی اور ان کے لکھے ہوئے  برو کے قلم کو دوات میں ڈبو کر پھر اسے احتیاط سے نکال کر کہ سیاہی ادھر ادھر گرے نہیں مجھے ان کی تحریر پر قلم سے لکھنا ہوتا تھا   'اب تختی کی پریکٹس اپنی جگہ اہم تھی تو دوسری جانب میری امی جان نے  ہم بہن بھائیوں کو  سلیٹ اور چاک کے زریعہ بھی  لکھائ کے ہنر میں طاق کیا  - وہ ایک لفظ کو سلیٹ پر بار بار لکھواتی تھیں 'پہاڑے یاد کرنا  میرے لئے مشکل ترین کا م ہوتا تھا '  بہر حال  میں اپنی پیاری ماں کے کہنے کے مطابق سب  کام کر لیا کرتی تھی ،،پڑھنے لکھنے کے علاوہ میرا اہم کام اپنے والدین کے گھر تین برس یا اس کچھ کم یا اس کچھ زیادہ کی مدّت پر آنے والے اپنے چھوٹے بھائیوں کی دیکھ بھال تھی 






















زرا عمر رفتہ کو آواز دینا -جب مجھے ادب کا چسکہ لگا

 

میرا بچپن عام بچّوں کا بچپن نہیں تھا یہ وہ زمانہ تھا جب مہاجروں کے گھروں میں پانی کے لئے علاقے میں پانی کے ٹینکر آیا کرتے تھے اور میں بہت چھوٹی سی عمر میں ٹینکرکی آواز محلّے میں آتے ہی اپنا کنستر لےکر پانی لینے والوں کی لائن میں کھڑی ہو جاتی تھی ،اور ہمارے محلّے کا کوئ خداترس انسان میرا کنستر بھر کر ہمارے دروازے تک یا گھر کے اندر تک رکھ جایا کرتا تھا اس کے علاوہ پانی کی ضرورت پوری کرنے کے لئے ماشکی بھی صبح شام ایک ایک مشک پانی  معمو لی قیمت پر ڈال جاتا تھا پھر یوں ہوا کہ کچھ عرصے بعد پانی کے ٹینکر کا آنا موقو ف ہو گیا اورہماری گلی کے ختم پر  ایک عدد حوضی بنا کر اس میں سرکاری نل سے پانی کی ترسیل کا انتظام کیا گیا،میرے والد صاحب ،،اپنے والد صاحبکے تذکرے کے تصّور سے ہی   بے اختیار میری آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے ہین کیونکہ مجھے اپنے والدکا بنک جانے سے پہلے نمازفجر کے وقت حوضی سے پانی بھرنا یاد آرہا ہے میں ابھی اتنی بڑی نہیں تھی کہ ان کاموں میں والد کا ہاتھ بٹا سکتی لیکن زرا سا وقت گزرنے پر  گھر میں پانی کی کمی پوری کرنے کے لئے میں نے یہ ڈیوٹی اپنے زمّے لے لی تھی 




،میرے بھائ جان مجھ سے صرف سوا سال ہی بڑے تھے اور باجی جان ان سے تین برس بڑی تھین  ،یعنی ابھی ان کا کوئ بچّہ باہر کے کام کرنے کے قابل نہیں ہوا تھا ,,اسوقت ایک خدا ترس انسان نے اپنے گھر کے سامنے ایک کنواں بنوا کر وقف عام کر دیا تھا چنانچہ میں نے زرا سا ہوش سنبھانے پر یہ اہم ڈیوٹی اپنے زمّہ لے لی تھی کہ والد صاحب کے لائے ہوئے پانی کے علاوہ جو بھی کمی ہوتی اسے خود سے چھوٹے چھوٹے ڈول لے جا کر پانی بھر کر لے آیا کرتی تھی اور گھر میں پانی کی کمی   پوری کر دیا کرتی تھی اس وقت ہمارے محلّے میں کوئ حوضی نہیں بنی تھی لیکن اپنے گھر سے بیس منٹ کے فاصلے سے  کنوئین سے پانی بھر کر لانے لگی اس کنوئیں میں چمڑے کی بالٹی ایک مو ٹے رسّے کے زریعے کنوئیں کی تہ تک اتار کر بھر لی جاتی اور پھر الٹی چرخی چلا کر پانی کھینچ لیا جاتا تھا ،یہ ایک بہت محنت طلب کام ہوتا تھا لیکن میں اس کام کو بھی سر انجام دے لیا کرتی تھی  اس کے علاوہ جھٹ پٹا ہوتے ہی گھر کی لالٹینیں اور لیمپ روشن کرنا بھی میرے زمّے تھا 


میں سب لالٹینوں کی چمنیاں نکال کر ان کو چولھے کی باریک سفید راکھ سے پہلے انہیں  صاف کرتی پھر صابن سے دھو کر خشک کرتی تھی تو لالٹین کی روشنی بہت روشن محسوس ہوتی تھی،کوئلو ں کی سفید راکھ بنانے کا طریقہ یہ ہوتا تھا کہ دہکتے ہوئے کوئلوں کو یونہی چھوڑ دیا جاءے تووہ خود بخود بجھتے جاتے ہیں اور ان کے اوپر سفید راکھ کی موٹی تہ جمتی جاتی ہے یہ راکھ دیگچیوں کے پیندوں کو اجلا کرنے کے لئے بھی استعمال کی جاتی تھی میں اس راکھ کو ایک ڈبّے میں محفوظ کر لیتی تھی اس کے ساتھ ساتھ میری ایک اہم ڈیوٹی گھر میں جلانے کے لئے ٹال سے لکڑیاں لانے کی بھی تھی ،اور یہ کام کوئ مجھ سے جبریہ نہیں کرواتا تھا بلکہ میں اپنی والدہ کے لئے کام کی سہولت چاہتی تھی با لآخرزمانے کے ان نشیب و فراز سے گزرتے ہوئے ہمارے گھرانے کی علمی صحبتیں برقر ار ہی تھیں اور ان ادبی صحبتوں کارنگ بھی میری زات پر نمایاں ہو نے لگا تھا  اور میں نے بہت جلد برّصغیر کے نامور ادیبو ں کیلا تعداد کتابیں پڑھتے ہوئے حفظ کر لی تھیں ،ان نامور ادباء میں کرشن چندر ،راجندر سنگھ بیدی عصمت چغتائ ،قرّۃ العین حیدر ،عظیم بیگ چغتا ئ ،را م لعل ،ساحر لدھیا  اور اس وقت کے جو بھی مشہور ادیب اور شاعر تھے  


 

سب کو بار بار پڑھایہ وقت جب ادب کے آسمان پر پاکستانی ادب بھی بھر پور انداز سے اپنا آپ منوانے کی جستجو مین جٹا ہواتھا اور یہاں کے ادیب بھی ہندوستانی ادیبوں سے کسی طور پر بھی کم نہیں تھے کرنل محمّد خان ،مشتاق احمد یوسفی  بریگیڈئیر صدّیق سالک ،ممتاز مفتی جبکہ خواتین بھی ادب کے میدان پر جلوہ افروز ہو چکی تھِن اور بھی کہنہ مشق ادیب و شاعر پاکستانی ادب کے آسمان پرجگمگا رہے تھے چنانچہ شادی سے پہلے تو میں بس پڑھتی ہی چلی گئ لکھنے کی باری  شادی کے بعد میں آئ جب کہ یہ احساس دل میں اجاگر ہواکہ میں کچھ کچّا پکّا ادب بھی تحریر کر سکتی ہوں لیکن میرے ادبی شوق کی ابتدا میرے بچپن کے ابتدائ دور میں ہی ہو چکی تھی بس اردو پڑھنی آئ ہی تھی کہ مجھے بچّوں کی کہانیاں پڑھنے کا چسکہ لگ گیا تھا اور شاعری میں بھی خاص دلچسپی لینے لگی تھی  مجھے ابھی بھی اچھّی طرح یاد ہے کہ میں نے  چھٹی کلاس میں ایک نظم اپنے وطن سے محبّت کے اوپرپڑھی تھی یہ ہمارے اسکول کی جانب سے طالبات کا مشاعرہ تھا جو بیگم رعنا لیاقت علی خان کے قائم کردہ فلاحی ادارے  اپوا کے زیر اہتما م ہواتھا اس مشاعرے میں ایک مشہور علمی گھرانے کی قد آور  شخصیت محترمہ وحیدہ نسیم صاحبہ مہمان خصوصی کے طور پر بلائ گئیں تھیں ،

 

انہوں نے میری نظم سن کر مجھے شاباشی بھی دی تھیاور پھر کلاس ہشتم کے بعد ہی اس زمانے کے رواج کے مطابق میری شادی ہوگئ -پچّیس اپریل انّیس سو پینسٹھ کی ایک سہانی شام میں اپنے والدین کے گھر سے اپنےمحترم شوہر نامد ار سیّد انوار حسین رضوی کے گھر آگئ ،میرے شوہر صاحب تو مجھے بہت ارمان سے بیاہ کر لائے تھے لیکن  در حقیقت اپنے سسرالی عزیزوں کے لئے میرا وجودایک دھچکے سے کم نہیں تھا وہ سر خ وسفید رنگت کے حامل مردانہ وجاہت اور حسن کا پیکر تھے اور میں قبول صورت سے بھی شائد کچھ کم اس پر میری رنگت گہری سانو لی ،مجھے اچھّی طرح یاد ہئے جب میرے شوہر صاحب نے میری والدہ سے میرا رشتہ مانگا تھا میری والدہ نے ان سے پہلی بات یہی کہی تھی کہ میاں میری لڑکی کا رنگ گہرا سانولا ہئے تم اس کو کا لی رنگت کے طعنے تو نہیں دو گے میرے شوہر اس بات پر کچھ جز بز تو ہوئے لیکن پھر انہوں نے میری والدہ سے کہا تھا کہ مجھے گہرا سانولا رنگ ہی پسند ہئے دراصل خاندان میں ا ن کو شادی کرنی نہیں تھی اس لئے سب ہی قریبی عزیز ان کی ہونے والی شریک حیات کو  ان کی ہی طرح کی خوبصورت  دیکھنے کے متمنّی تھے 

ہفتہ، 27 ستمبر، 2025

پاکستان زرعی تباہی کے سب سے زیادہ خطرات سے دوچار ہے

  بارش، جو کبھی خوشحالی اور زرخیزی کی علامت سمجھی جاتی تھی، اب تباہی، سیلاب اور انسانی المیوں کی شکل میں نمودار ہو رہی ہے ۔ دنیا کے مختلف خطوں میں معمول سے ہٹ کر ہونے والی شدید بارشیں ایک نئے اور غیر متوقع مظہر کی صورت اختیار کر چکی ہیں، جسے سائنسدان موسمیاتی تبدیلی کا براہِ راست نتیجہ قرار دے رہے ہیں ۔سوال یہ ہے کہ کیا واقعی بارشوں کے اس بگڑتے ہوئے انداز کا تعلق عالمی درجہ حرارت میں اضافے سے ہے ؟ اگر ہاں، تو کیا ہم اس کے لیے تیار ہیں ؟ماہرین کے مطابق ، زمین کا ماحولیاتی نظام نہایت متوازن اور حساس ہے ۔ جب فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ، میتھین اور دیگر گرین ہاؤس گیسوں کی مقدار بڑھتی ہے، تو نہ صرف درجہ حرارت میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ فضائی نمی میں بھی غیر معمولی تبدیلی آتی ہے ۔نیشنل اوشینک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن (این او اے اے) کے مطابق، ہر ایک ڈگری سیلسیس درجہ حرارت کے اضافے کے ساتھ فضا میں 7 فیصد زیادہ نمی جذب ہو سکتی ہے، جو مستقبل میں شدید بارشوں اور طوفانی موسم کی شدت کو بڑھا سکتی ہے ۔


 

بین ا لحکومتی پینل برائے موسمیاتی تبدیلی کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ (2023) میں خبردار کیا گیا کہ کہ ہر گزرتے عشرے کے ساتھ دنیا میں بارش کے پیٹرن میں شدت، طوالت اور بے ترتیبی بڑھ رہی ہے جس کے نتیجے میں جنوبی ایشیا، وسطی افریقہ اور لاطینی امریکہ سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں ۔عالمی موسمیاتی تنظیم کی 2024کی رپورٹ میں بتایاگیا کہ عالمی درجہ حرارت 1.5 ڈگری کے قریب پہنچ چکا ہے، اس وجہ سے بارش کے سائیکل میں غیر معمولی تبدیلی آئی ہے ، کہیں طوفانی بارشیں ہیں تو کہیں مکمل خشک سالی ۔اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کی 2025 رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ پاکستان جنوبی ایشیا کے ان پانچ ممالک میں شامل ہے جو شدید بارشوں اور اس کے نتیجے میں ہونے والے اربن فلڈنگ، مٹی کے تودے گرنے اور زرعی تباہی کے سب سے زیادہ خطرات سے دوچار ہیں جب کہ اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام اور آئی ایم ایف کی 2024میں کی جانے والی مشترکہ تحقیق میں بتایا گیا کہ غیر متوقع بارشیں ترقی پذیر ممالک کی معیشت کو ہر سال اوسطاً 235 ارب ڈالر کا نقصان پہنچا رہی ہیں۔ ان میں زراعت، انفراسٹرکچر اور انسانی جان و مال شامل ہے۔

  

آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ پنجاب سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جہاں 151 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے، جبکہ خیبر پختونخوا میں 64، بلوچستان میں 20، سندھ میں 25، گلگت بلتستان میں 9، اسلام آباد میں 8 اور آزاد کشمیر میں 2 اموات رپورٹ ہوئی ہیں ۔شدید بارشوں نے نہ صرف انسانی جانیں لیں بلکہ 1,500 سے زائد مکانات کو تباہ یا نقصان پہنچایا، 370 کے قریب مویشی ہلاک ہوئے اور کئی اہم انفراسٹرکچر، سڑکیں اور پل منہدم ہو گئے ۔جولائی کے وسط تک پاکستان میں ہونے والی بارشیں گزشتہ برس 2024 کے مقابلے میں 82 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئیں ۔ جبکہ پہاڑی علاقوں میں شدید گرمی کے باعث گلیشیئر کے پگھلنے سے بھی فلش فلڈز اور گلیشیئر لیک آؤٹ برسٹ فلڈز (جی ایل او ایفس) کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے ۔ماہرین کے مطابق ملک پاکستان کے شمالی علاقوں میں مزید شدید بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات موجود ہیں، جو آنے والے ہفتوں میں صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں 

 

ورلڈمیٹررولوجیکل آرگنائزیشن (ڈبلیو ایم او) کی سن 2025 کی رپورٹ کے مطابق ، شدید بارشوں کے بڑھتے ہوئے واقعات کا براہِ راست تعلق ماحولیاتی تبدیلی سے ہے ۔ موجودہ صدی کے وسط تک ایسے واقعات کی شدت دو گنا ہونے کا امکان ہے ۔اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کی 2025 رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان جنوبی ایشیا کے ان پانچ ممالک میں شامل ہے جو شدید بارشوں اور اس کے نتیجے میں ہونے والے اربن فلڈنگ، مٹی کے تودے گرنے اور زرعی تباہی کے سب سے زیادہ خطرات سے دوچار ہیں ۔فوڈ اینڈ ایگری کلچر آرگنائزیشن کے مطابق، سن 2025 میں صرف پاکستان اور بھارت میں زرعی پیداوار میں 11 فیصد کمی کا اندیشہ ہے ۔ا قوام متحدہ کے مطابق، موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والے سیلاب اور بارشوں کے باعث سن 2024 میں تقریباً 33 ملین افراد نے اندرونِ ملک نقل مکانی کی ۔یہ صورتحال شہری نظام پر مزید دباؤ بڑھا رہی ہے جس کے نتیجے میں ایک نیا بحران جنم لے سکتا ہے جبکہ ہم  سب جانتے ہیں سمندروں کا کھارا نمکین پانی انسانی استعمال کے قابل نہیں ہے۔ اب لے دے کر دو فیصد گلیشیئر یا برف پوش چوٹیاں ہیں جہاں سے کچھ پانی رفتہ رفتہ برف کے پگھلنے پر تازہ پانیوں میں شامل ہوتا ہے۔

 یہ تحریر انٹرنیٹ کی مدد سے تلخیص کی گئ ہے 

برطانیہ کی نئ وزیر داخلہ بیرسٹر شبانہ محمود

    پاکستانی معاشرے میں  یہ خبر بہت خوشی اور حیرت کا باعث بنی جب  لوگوں کو معلوم ہوا کہ شبانہ  محمود وزیرِ داخلہ کی ذمہ داری سنبھالنے والی پہلی پاکستانی نژاد مسلمان خاتون ہیں۔ برطانوی وزیر اعظم نے کابینہ میں اہم تبدیلیاں کی ہیں اور پہلی بار ایک مسلم خاتون کو وزارت داخلہ کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹارمر نے جمعے کو اپنی کابینہ میں بڑی تبدیلیاں کرتے ہوئے ڈیوڈ لامی کو ڈپٹی وزیراعظم اور لیبر پارٹی کے دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی جسٹس سیکریٹری شبانہ محمود کو نیا وزیر داخلہ مقرر کر دیا۔خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق کابینہ میں یہ تبدیلیاں ڈپٹی وزیر اعظم اینجلا رینر کے پراپرٹی ٹیکس کم ادا کرنے کے الزام پر مستعفیٰ ہونے کے بعد ہوئی ہیں۔لیبر پارٹی کے بائیں بازو میں نمایاں حیثیت رکھنے والی رینر نے ایک فلیٹ کی خریداری سے متعلق تحقیقات میں وزارتی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ثابت ہونے کے بعد عہدہ چھوڑ دیا ہے۔ان کے استعفے کے بعد سٹارمر نے اپنی 14 ماہ پرانی حکومت میں پہلی بڑی رد و بدل کی۔ 


نئے ڈپٹی وزیر اعظم ڈیوڈ لامی اس سے قبل برطانیہ کے وزیر خارجہ تھے۔ ان کا عہدہ اب یویٹ کوپر سنبھالیں گی، جو اس سے پہلے وزیر داخلہ تھیں شبانہ محمود سات جنوری 2025 کو سینٹرل لندن میں 10 ڈاؤننگ سٹریٹ میں کابینہ کے اجلاس کے لیے پہنچ رہی ہیں  نئی وزیر داخلہ شبانہ محمود برطانیہ کی سینیئر مسلمان سیاست دان ہیں اور انہیں لیبر پارٹی کی ابھرتی ہوئی قیادت سمجھا جاتا ہے۔ سابق بیرسٹر شبانہ محمود 2010 سے رکن پارلیمان ہیں اور اپوزیشن کے دور میں متعدد شیڈو وزارتیں سنبھال چکی ہیں۔تاہم انہوں نے جیرمی کوربن کی کابینہ میں شامل ہونے سے انکار کیا تھا۔شبانہ محمود کون ہیں؟برطانوی حکومت کی سرکاری ویب سائٹ گورنمنٹ ڈاٹ یو کے کے مطابق شبانہ محمود پانچ جولائی، 2024 کو لارڈ چانسلر اور سیکریٹری آف سٹیٹ فار جسٹس بنی تھیں۔وہ جولائی 2024 میں برمنگھم لیڈی ووڈ کی رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئیں۔شبانہ محمود 17 ستمبر، 1980 کو برمنگھم میں پیدا ہوئیں۔ ان کی والدہ کا نام زبیدہ اور والد کا نام محمود احمد ہے۔


 وکی پیڈیا کے مطابق ان کے والدین پاکستانی نژاد ہیں اور تعلق پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے میرپور سے ہے۔برطانیہ دوبارہ منتقل ہونے سے پہلے وہ 1981 سے 1986 تک سعودی عرب کے شہر طائف میں اپنے خاندان کے ساتھ رہیں جہاں ان کے والد ڈی سیلینیشن شعبے میں سول انجینیئر کے طور پر کام کر رہے تھے۔بعد میں ان کی پرورش برمنگھم میں ہوئی جہاں انہوں نے سمال ہیتھ سکول اور کنگ ایڈورڈ   کیمپ ہل سکول فار گرلز سے تعلیم حاصل کی۔ان کی والدہ ایک کارنر شاپ میں کام کرتی تھیں جسے ان کے خاندان نے انگلینڈ واپس آنے کے بعد خریدا تھا۔ان کے والد مقامی لیبر پارٹی کے چیئرمین بنے تو نوعمری میں ہی شبانہ محمود نے بلدیاتی انتخابات میں مہم چلانے میں ان کی مدد کی اور اپنے والد کے شانہ بشانہ  کھڑی رہیں 


     انہوں نے پچھلے برس نک رابنسن کے ساتھ ایک انٹرویو میں شبانہ محمود نے کہا کہ اگرچہ سیاست ’ہمیشہ سے ان کی زندگی کا حصہ رہی ہے لیکن چھوٹی عمر سے ہی انہیں بیرسٹر بننے کی خواہش تھی۔‘انہوں نے لنکن کالج، آکسفورڈ یونیورسٹی سے قانون کی تعلیم حاصل کی جہاں وہ جونیئر کامن روم کی صدر تھیں۔شبانہ محمود لیبر پارٹی سے وابستہ ہیں اور 2010 سے برمنگھم لیڈی وڈ کی رکن پارلیمنٹ (ایم پی) رہی ہیں۔اس سے قبل وہ 2010 اور 2024 کے درمیان لیڈرز ایڈ ملی بینڈ، ہیریئٹ- وہ برطانوی حکومت میں وزیرِ داخلہ کا عہدہ سنبھالنے والی پاکستانی نژاد پہلی مسلمان خاتون بن گئی ہیں جو برطانیہ کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم اور تاریخی سنگِ میل تصور کیا جا رہا ہے۔برطانیہ میں ہوم افیئرز کمشنر کی حیثیت سے شبانہ محمود امیگریشن، قومی سلامتی اور انگلینڈ و ویلز کی پولیس فورس کی نگرانی کرتی ہیں۔ہرمن اور کیئر سٹارمر کے تحت مختلف شیڈو جونیئر وزارتی اور شیڈو کابینہ کے عہدوں پر فائز رہی ہیں۔


 


نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

انقلاب چین جو چینی قوم کی نجات کا باعث بن گیا

  چین کے انقلاب میں تاریخی لانگ مارچ کو ایک سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے جو اکتوبر1934ء سے اکتوبر 1935ء تک جاری رہا۔ یہ لانگ مارچ چھے ہزار میل ط...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر