مجھے اپنے بچپن کے یہ دن بھلائے نہیں بھولےلاکھوں جھگیوں میں ہندوستان سے آئے ہوئے بے خانماں شرفاء کے گھرانے جو بس چاہتے تھے کہ وہ زمانے سے اپنے آپ کو چھپا کر رکھیں کیونکہ یہ دور بہت ہی نا آسودہ اور مشکل دور تھا اس جب ہمارے گھرانے نے ائر فورس کی چھاؤنی سے لالوکھیت نقل مکانی کی تھی اس وقت میری عمر میری عمر چار برس تھی عمر کے اس دور کے خوف بھی عجیب تھے ،راتوں کوبھیڑیوں کے بڑے بڑے غول کے غول جھگیّوں کے آس پاس اپنی مکروہ آوازوں میں بولتے ہوئے اور غرّاتے ہوئے پھرتے تھےاس پر گھر کے بڑوں نے یہ باور کروا دیا تھا کہ بھیڑئے بچّوں کو منہ میں دبا کر اٹھا لے جاتے ہیں ہمارے بڑوں نے ہمیں اس لئے ڈرایا تھا کہ ہم بچّے دن میں گھر سے باہر نہیں پھریں لیکن اس ڈرانے کا نتیجہ میرے اوپر یہ ہوا کہ میں راتوں کو ڈر کے مارے جاگنے لگی،پھر یہ یہ خوف مستقل میرے زہن سے چپک گیا تھا کہ کسی رات کو بھیڑیا مجھے بھی سوتے میں اپنے منہ میں دبا کر چل دے گا
اور مجھے کھا جائے گا یہ خوف مجھے ساری ساری رات جگائے رکھتا تھا نہی دنوں ایک رات ہمارے یہاں زور زور کی چیخ پکار ہونےلگی -میری آنکھ کھل گئ تب مجھے معلوم ہوا سچ مچ ہماری جھگی کی چٹائ کو جانور پھاڑ رہا تھا کہ اباجان کی آنکھ کھل گئ اور انہوں نے اس جانور کو بھگا یا لیکن وہ وقت مجھے بچّوں کی نفسیا ت کا یہ تجربہ بھی دے گیا کہ بچّے کی سوچوں کی دنیا صرف اپنی زات کے گرد ہی گھومتی ہے ،میں یہ کیوں نہیں سوچتی تھی کہ بھیڑیا میری چھوٹی بہن یا ننھے بھائ کو بھی تو لے جاسکتا ہے ڈر تھا تو بس اس بات کاکہ بھیڑیا مجھے لے جائے گااور پھر کھا جائے گا بہر حال وہ کڑا وقت بھی آخر گزر ہی رہاتھا پھر یون ہوا کہ میرے چھوٹے ماموں سید سرکار حیدر (ان دنوں ایک 15/سولہ برس کے دبلے پتلے سے نو عمر نوجوان ہوتے تھے ) لکھنؤ چلے گئے گھر میں معلوم ہواکہ کلیم کے کاغذات لینے گئے ہیں ماموں جان واپس آئے تو انہوں نے سخت خفگی کا اظہار کیا تو میری امی جان نے میرے مامو ں جان سے کہا شکر کرو کہ زندہ سلامت لوٹ آ ئے ہو
کیونکہ ان کے گھر پر میرے نانا جان کے وہ عزیز قبضہ کر چکے تھے جن کو وہ اپنی امانت سپرد کر کے آئے تھے -اب سوچئے کہاں ایک پندرہ سولہ برس کا بچہ کہاں ایک زورآور قبضہ گروپ 'بس ماموں جان نے باغ وہیں لکھنؤ میں ہی فروخت کر دیا اور پیسہ کراچی لے کر آ گئے -یہ پیسہ اتنا تھا کہ میرے دو ما موؤوں اور میری امی سمیت تین بہنوں میں ترکہ تقسیم ہوا اور میری امی جان نے اس رقم سے ہمارے تنکے کے آ شیانے کو پختہ گھر میں بدل دیا -ا ب میرا ابتدائ تعلیمی سفر بھی شروع ہو چکاتھا اس زمانے میں رواج تھا کہ بچّے کو پہلے گھر پر ہی تین یا چار جماعتیں پڑھائ جاتی تھیں پھر اسکول میں داخلہ ہوتا تھا ،یہ بچّے اور اس کے گھر والوں کے لئے ایک اعزاز کی بات تھی کہ وہ گھر سے اتنا سیکھ کر اسکول آیا ہے چنانچہ میری تعلیمی زندگی کی باگ ڈور حسب حال میری والدہ نے اپنے ہاتھ میں لے لی تھی
،اب تختی کے ایک جانب وہ گہری پنسل سےالف 'ب لکھتی تھی اور دوسری جانب ایک سے دس تک گنتی ہوتی تھی اور ان کے لکھے ہوئے برو کے قلم کو دوات میں ڈبو کر پھر اسے احتیاط سے نکال کر کہ سیاہی ادھر ادھر گرے نہیں مجھے ان کی تحریر پر قلم سے لکھنا ہوتا تھا 'اب تختی کی پریکٹس اپنی جگہ اہم تھی تو دوسری جانب میری امی جان نے ہم بہن بھائیوں کو سلیٹ اور چاک کے زریعہ بھی لکھائ کے ہنر میں طاق کیا - وہ ایک لفظ کو سلیٹ پر بار بار لکھواتی تھیں 'پہاڑے یاد کرنا میرے لئے مشکل ترین کا م ہوتا تھا ' بہر حال میں اپنی پیاری ماں کے کہنے کے مطابق سب کام کر لیا کرتی تھی ،،پڑھنے لکھنے کے علاوہ میرا اہم کام اپنے والدین کے گھر تین برس یا اس کچھ کم یا اس کچھ زیادہ کی مدّت پر آنے والے اپنے چھوٹے بھائیوں کی دیکھ بھال تھی
یادوں کے خزانے کسی دولت کیطرح ہوتے ہیں
جواب دیںحذف کریں