ہفتہ، 13 ستمبر، 2025

ہاں شعر کا موسم بیت گیا-ابن انشا ء

 

 


انشاء جی کے آخری ایام میں کینسر کے مرض کے سلسلے میں ان کے ساتھ راولپنڈی کے CMH   گیا تو انہیں وہاں داخل کر لیا اور ٹیسٹوں کے بعد ہمیں بتایا کہ کینسر پھیل گیا ہے اور تھوڑے دن کی بات رھ گئی ہے کیوں کہ علاج کافی وقت سے چل رہا تھا ہم کئی بار یہاں آ چکے تھے 

شام کے وقت ہم دونوں ہسپتال کے اپنے کمرے میں باتیں کر رہے تھے کہ کمرے کے دروازے پر دستک ہوئی میں نے دروازہ کھولا تو میرے سامنے ایک بہت خوبصورت تیس سالہ عورت ہاتھوں میں پھولوں کا گلدستہ لئے کھڑی مُسکرا رہی تھی میں اُسے کمرے میں لے آیا 

محترمہ نے گلدستہ انشاء جی کے ہاتھ میں دیا اور رونا شروع کر دیا اور کہا کہ انشاء جی میں آپ کی فین ہوں اور آپ میرے آئیڈیل ہیں مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ کا کینسر پھیل گیا ہے اور آخری اسٹیج پر ہے میں اللّٰہ سے دُعا کرتی ہوں کہ وہ میری زندگی کے پانچ سال آپ کو دے دے میں آپ سے بہت محبت کرتی ہوں میں اپنی ساری زندگی آپ کو دے دیتی لیکن میری مجبوری یہ ہے کہ میرے چھوٹے چھوٹے دو بچے ہیں جن کو مجھے پالنا ہے میں پھر بھی سچے دل سے پانچ سال  آپ کو دے رہی ہوں انشاء جی اُس کی اس بات پر زور سے ہنسے اور کہا ایسی کوئی بات نہیں ہے میں  ٹھیک ہوں خاتون تقریباً ایک گھنٹہ بیٹھنے کے بعد چلی گئی تھوڑی دیر بعد انشاء جی رونے لگے اور کہا کہ دیکھو جمیل الدین یہ میری فین ہے اور دو بچوں کی ماں بھی ہے اور مجھے اپنی زندگی کے پانچ سال دینا چاہتی ہے اس کو کیا پتہ کہ ایک دن بھی کتنا قیمتی ہوتا ہے میرا تو وقت آ گیا ہے اللّٰہ اسے اپنے بچوں میں خوش وخرم رکھے   میں اُس رات انشاء کے ساتھ ہسپتال میں رہا اور اگلے  روز میں نے دو دن کی اجازت لی کہ میں اپنے عزیزوں سے مل آؤں جو کہ پنڈی میں رہتے تھے  -میں دو روز بعد واپس آیا تو انشاء نے مجھے اپنی تازہ نظم اب عمر کی نقدی ختم ہوئی اب ہم کو ادھار کی حاجت ہے  رو رو کر سنائی- جس میں اُس خاتون کے پانچ سالوں کا ذکر بھی کیا  اردو ادب میں یہ نظم مجھے بہت پسند ہے میری آپ دوستوں سے گزارش ہے کہ آپ کم از کم دو مرتبہ اس کو ضرور پڑھنا-میں خود اس نظم کو بار بار گنگناتا رہتا ہوں بہت کمال اور شاہکار ہےانشاء جی پچاس سال کی عمر میں اللّٰہ کو پیارے ہو گئے تھے 

 

-اب عمر کی نقدی ختم ہوئی اب ہم کو ا دھار کی حاجت ہے-ہے کوئی جو ساہو کار بنے

-ہے کوئی جو دیون ہار بنے-کچھ سال ،مہینے، دن لوگو -پرپر سود بیاج کے بن لوگوہاں اپنی جا ں کے خزانے سے

-ہاں عمر کے توشہ خانے سے-کیا کوئی بھی ساہو کار نہیں؟کیا کوئی بھی دیون ہار نہیں؟

جب نام ادھار کا آیا ہے

-کیوں سب نے سر کو جھکایا ہےکچھ کام ہمیں نپٹانے ہیں-جنہیں جاننے والے جانے ہیں

-کچھ پیار دلار کے دھندے ہیں-کچھ جگ کے دوسرے پھندے ہیں-ہم مانگتے نہیں ہزا ر برس-دس پانچ برس دو چار برس-ہاں ،سود بیا ج بھی دے لیں گے

-ہاں اور خرا ج بھی دے لیں گے-آسان بنے، دشوار بنے-پر کوئی تو دیون ہار بنے-تم کون ہو تمہارا نام کیا ہےکچھ ہم سے تم کو کام کیا ہے

-کیوں ا س مجمع میں آئی ہو-کچھ مانگتی ہو ؟ کچھ لاتی ہو-یہ کاروبار کی باتیں ہیں-یہ نقد ادھار کی باتیں ہیں

-ہم بیٹھے ہیں کشکول لیے-سب عمر کی نقدی ختم کیےگر شعر کے رشتے آئی ہوتب سمجھو جلد جدائی ہو

-اب گیت گیا سنگیت گیا

-ہاں شعر کا موسم بیت گیا-اب پت جھڑ آئی پات گریں-کچھ صبح گریں، کچھ را ت گریں -یہ اپنے یار ---پرانے ہیں -اک عمر سے ہم کو جانے ہیں-ان سب کے پاس ہے مال بہت-

-ہاں عمر کے ماہ و سال بہت

-ان سب کو ہم نے بلایا ہے-اور جھولی کو پھیلایا ہے-تم جاؤ ا ن سے بات کریں

-ہم تم سے نا ملاقات کریں-کیا پانچ برس ؟

کیا عمر ا پنی کے پانچ برس ؟تم جا ن کی تھیلی لائی ہو ؟کیا پاگل ہو ؟ سو دائی ہو ؟جب عمر کا آ خر آتا ہے

-ہر دن صدیاں بن جاتا ہے-جینے کی ہوس نرالی ہے-ہے کون جو ا س سے خالی ہے

کیا موت سے پہلے مرنا ہے؟

-تم کو تو بہت کچھ کرنا ہےپھر تم ہو ہماری کون بھلاہاں تم سے ہمارا رشتہ کیا ہےکیا سود بیاج کا لالچ ہے ؟

کسی اور خراج کا لالچ ہے ؟تم سوہنی ہو ، من موہنی ہو ؛تم جا کر پوری عمر جیویہ پانچ برس،

 یہ چار برس

-چھن جائیں تو لگیں ہزار برس - سب دوست گئے سب یار گئے

                                                                      -               تھے جتنے ساہو کار ، گئے-بس ایک یہ ناری بیٹھی ہےیہ کون ہے ؟ کیا ہے ؟ کیسی ہے ؟

ہاں عمر ہمیں درکار بھی ہے ؟

-ہاں جینے سے ہمیں پیار بھی ہے-جب مانگیں جیون کی گھڑیاںگستاخ اکھیں کتھے جا لڑیاں

ہم قرض تمہیں لوٹا دیں گے

کچھ اور بھی گھڑیاں لا دیں گے-جو ساعت و ماہ و سال نہیں-وہ گھڑیاں جن کو زوال نہیں

لو ا پنے جی میں ا تار لیا

لو ہم نے تم سے ادھار لیا

1 تبصرہ:

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

انقلاب چین جو چینی قوم کی نجات کا باعث بن گیا

  چین کے انقلاب میں تاریخی لانگ مارچ کو ایک سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے جو اکتوبر1934ء سے اکتوبر 1935ء تک جاری رہا۔ یہ لانگ مارچ چھے ہزار میل ط...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر