ہفتہ، 13 دسمبر، 2025

مورقدرت کی رعنائ کا عکاس پرندہ

       مور ایک خوبصورت دلکش اور انتہائی چوکنا رہنے والا پرندہ ہے جو برما‘ جاوا‘ ہندو پاکستان اور مشرقی ایشیا کے ممالک میں پایا جاتا ہے اس کے پروں کی رنگینی دم کا پھیلاؤ اور رقص انتہائی جاذب نظر ہوتا ہے جب یہ اپنی دم کو جو ۵ ۵ انچ سے ۷۲ انچ تک لمبی ہوتی ہے۔ پھیلا کر چکر کاٹتا ہےنظروں میں مختلف رنگوں کی دنیا آباد ہو جاتی ہے جس طرح خزاں میں درختوں کے پتے جھڑتے اور بہار میں اگتے ہیں ۔ اسی طرح اس کے پر خزاں میں جھڑجاتے ہیں اور بہارمیں دوبارہ اگ آتے ہیں ۔ بہار کا موسم اس کے حسن کے نکھار کا زمانہ ہوتا ہے۔ اسی موسم میں جوڑ کھاتا ہے مورنی تین سال کی عمر سے انڈے دینے لگتی ہے اور اس کی اوسط عمر پینتیس برس ہوتی ہے ایک سال میں کم و بیش بارہ انڈے دیتی اور ایک مہینہ تک انہیں سیتی ہے۔ مور اپنی دلکشی و خوبصورتی  سمجھا جاتا ہے۔     یوں کہ جس رنگ میں انہیں ڈبو دیا گیا ہے اس کے علاوہ کسی اور رنگ کی ان میں آمیزش نہیں کی گئی اور بعض اس طرح رنگ میں ڈبوئے گئے ہیں کہ جس رنگ کا طوق انہیں پہنا دیا گیا ہے وہ اس رنگ سے نہیں ملتا جس سے خود رنگین ہیں ۔ ان سب پرندوں سے زائد عجیب الخلقت مور ہے کہ (اللہ نے) جس کے (اعضاء کو) موزونیت کے محکم ترین سانچے میں ڈھالا ہے اور اس کے رنگوں کو ایک حسین ترتیب سے مرتب کیا ہے۔


 یہ (حسن و توازن) ایسے پروں سے ہے کہ جن کی جڑوں کو (ایک دوسرے سے) جوڑ دیا ہے اور ایسی دم سے ہی جو دور تک کھنچتی چلی جاتی ہے جب وہ اپنی مادہ کی طرف بڑھتا ہے تو اپنی لپٹی ہوئی دم کو پھیلا دیتا ہے اور اسے اس طرح اونچا لے جاتا ہے کہ وہ اس کے سر پر سایہ افگن ہوکر پھیل جاتی ہے۔ گویا وہ (مقام) دارین کیاس کشتی کا بادبان ہے جسے اس کا ملاح ادھر ادھر موڑ رہا ہو۔ وہ اس کے رنگوں پر اتراتا ہے اور اس کی جنبشوں کے ساتھ جھومنے لگتا ہے اور مرغوں کی طرح جفتی کھاتا ہے اور (اپنی مادہ کو) حاملہ کرنے کیلئے جوش و ہیجان میں بھرے ہوئے نروں کی طرح جوڑ کھاتا ہے۔ تم اگر بغور دیکھو گے) تو اس کے پروں کی درمیانی تیلیوں کو چاندی کی سلائیاں تصور کرو گے اوران پر جو عجیب و غریب ہالے بنے ہوئے ہیں اور سورج (کی شعاعوں ) کے مانند (جو پروبال) اگے ہوئے ہیں (انہیں زردی میں ) خالص سونا اور (سبزی میں ) زمرد کے ٹکڑے خیال کرو گے‘ اگر تم اسے زمین کی اگائی ہوئی چیزوں سے تشبیہہ دو گے تو یہ کہو گے کہ وہ ہر موسم بہار کے چنے ہوئے شگوفوں کا گلدستہ ہے


اور اگر کپڑوں سے تشبیہہ دو گے تو وہ منقش حلول یا خوشنما یمنی چادروں کے مانند ہے اور اگر زیوراتگ سے تشبیہہ دو گے تو وہ رنگ برنگ کے ان نگینوں کی طرح ہے جو مرصع بجواہر چاندی میں دائروں کی صورت میں پھیلا دئیے گئے ہوں وہ اس طرح چلتا ہے جس طرح کوئی ہشاش بشاش اور متکبر محو خرام ہوتا ہے اور اپنی دم اور پروبال کو غور سے دیکھتا ہے تو اپنے پیراہن کے حسن و جمال اور اپنے گلوبند کی رنگتوں کی وجہ سے قہقہہ لگا کر ہنستا ہے مگر جب اپنے پیروں پر نظر ڈالتا ہے تو اس طرح اونچی آواز سے روتا ہے کہ گویا اپنی فریاد کو ظاہر کر رہا ہے اور اپنے سچے درد (دل) کی گواہی دے رہا ہے۔ کیونکہ اس کے پیر خاکستری رنگ کے  باریک اور پتلے ہوتے ہیں اور اس کی پنڈلی کے کنارے پرایک باریک سا کانٹا نمایاں ہوتا ہے اور اس کی (گردن پر) ایال کی جگہ سبز رنگ کے منقش پروں کا گچھا ہوتا ہے اور گردن کا پھیلاؤ یوں معلوم ہوتا ہے جیسے صراحی (کی گردن) اور اس کے گڑنے کی جگہ سے لے کر وہاں تک کا حصہ کہ جہاں اس کا پیٹ ہے یمنی دسمہ کے رنگ کی طرح (گہرا سبز) ہے یا اس ریشم کی طرح ہے جو صیقل کئے ہوئے آئینہ پر پہنا دیا گیا ہو۔ گویا کہ وہ سیاہ رنگ کیاوڑھنی میں لپٹا ہوا ہے لیکن اس کی آب و تاب کی فراوانی اور چمک دمک کی بہتات سے ایسا گمان ہوتا ہے کہ اس میں تروتازہ سبزی کی (الگ سے) آمیزش کر دی گئی ہے


اس کے کانوں کے شگاف سے ملی ہوئی بابونہ کے پھولوں جیسی ایک سفید چمکیلی لکیر ہوتی ہے۔ جو قلم کی باریک نوک کے مانند ہے وہ (لکیر) اپنی سفیدی کے ساتھ اس جگہ کی سیاہیوں میں جگمگاتی ہے۔ کم ہی ایسے رنگ ہوں گے جس نے سفید دھاری کا کچھ حصہ نہ لیا ہو اور وہ ان رنگوں پر اپنی آب و تاب کی زیادتی اپنے پیکر ریشمیں کی چمک دمک اور زیبائش کی وجہ سے چھائی ہوئی ہے۔ وہ ان بکھری ہوئی کلیوں کے مانند ہے کہ جنہیں نہ فصل بہار کی بارشوں نے پروان چڑھایا ہو اور نہ گرمیوں کے سورج نے پرورش کیا ہو۔ اس کے بال و پر لگاتار جھڑتے ہیں اور پھر پے درپے اگنے لگتے ہیں ۔جب اس کے پروں کے ریشوں میں سے کسی ریشے کو تم غور سے دیکھو گے تو وہ تمہیں کبھی گلاب کے پھولوں جیسی سرخی اور کبھی زمرد جیسی سبزی اور کبھی سونے جیسی زردی کی (جھلکیاں ) دکھائے گا 

۔

الن فقیر کی سدابہار یادیں

 



پی ٹی وی پر فوک گلو کار الن فقیر نے آ کر اپنے ایک تارے کا سُر چھیڑا اتنے بڑے جیون ساگر میں تو نے پاکستان دیا ہو اللہ اور پورا پاکستان الن فقیر کا ہم نوا بن گیا -یہیں سے الن فقیر نے شہرت اور عزت کی اس سیڑھی پر قدم رکھا جس میں پیچھے  پلٹ کر دیکھنا ناممکن ہو  تھا-پھر وہ ملکوں ملکوں پاکستان کا چہرہ بن گئے-گلی گلی ان کی گائیکی کی دھوم مچ گئ سندھی زبان کے لوک فنکار الن فقیر صوبہ سندھ کے ایک چھوٹے سے علاقے جام شورو میں 1922ء میں پیدا ہوئے۔ الن فقیر نے صوفیانہ کلام گاکر ملک گیر شہرت حاصل کی۔، انہوں نے سندھی، اردو، پنجابی اور سرائیکی زبانوں میں گائیکی کی۔ ان کی گائیکی کا ایک انوکھا انداز تھا جو انہیں دوسرے لوک فنکاروں سے منفرد کرتا ہے۔انہوں نے اپنی گائیکی کی بدولت کئی ایوارڈ حاصل کئے۔ان میں80 کی دھائی میں ملنے والا صدارتی ایوارڈ سرفہرست ہے۔ان کا انتقال 4 جولائی 2000ء کو ہوا مگروہ آج بھی اپنے چاہنے والوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔
الن فقیر کی گائیکی نے فلسفیانہ عشق الٰہی کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں جگہ بنائی۔انہوں نے روایتی لوک گائیکی کوایک نیا انداز بخشا۔الن فقیر نے شاہ عبد الطیف بھٹائی کی شاعری کو بھی اپنی آواز میں پیش کیا۔ ان کا گایا ہوا ایک گیت "تیرے عشق میں جو بھی ڈوب گیا... اسے دنیا کی لہروں سے ڈرنا کیا۔۔" انہیں فن کی دنیا میں امر کرگیا ہے۔


 

لن فقیر 1932ء کو جامشورو، سندھ میں پیدا ہوئے۔ اصل نام علی بخش تھا لیکن الن فقیر کے نام سے مشہور ہوئے۔ ریڈیو اور ٹیلی وژن پر یکساں مقبول تھے۔الن فقیر کو فنی دنیا میں متعارف کرانے کا سہرا سندھ کے ادیب، دانشور اور ماہرثقافت ممتاز مرزا کے سرجاتا ہے۔ الن فقیر نے سندھی، پنجابی، اردو، سرائیکی اور دوسری بہت سی زبانوں میں گانے اور صوفیانہ راگ گائے لیکن محمد علی شہکی کے ساتھ گایا جانا والا نغمہ تیرے عشق میں جو بھی ڈوب گیا الن فقیر کی فنی شہرت میں اضافے کا باعث بنا۔اس کے علاوہ ان کا ایک ملی نغمہ اتنے بڑے جیون ساغر میں تو نے پاکستان دیا بھی بہت مشہورہوا۔ 1980ء میں انھیں صدارتی تمغہ  برائے حسن کارکردگی ملا۔ سر پر اجرک کی پگڑی باندھے، گلے میں رنگ برنگے ہار لٹکائے یہ ہیں پنجاب کی تحصیل رحیم یار خان کے رہنے والے فقیر واحد بخش، جو سندھ کے مشہور صوفی گلوکار الن فقیر کا روپ دھار کر اپنے بیٹے کے ساتھ لوک ورثہ اسلام آباد میں اپنے فن کے جوہر دکھاتے ہیں۔الن فقیر سندھ کے شہر جامشورو سے تعلق رکھتے تھے، جنہوں نے سندھی، اردو، پنجابی اور سرائیکی زبانوں میں گائیکی کی۔فقیر واحد بخش نے ہو بہ ہو الن فقیر کا روپ دھار رکھا ہے۔


 

ہاں تک کے ان کی داڑھی مونچھوں اور بالوں کا انداز بھی الن فقیر جیسا ہی ہے اور وہ الن فقیر کے انداز میں ہی لاگ الاپتے ہیں۔ انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں فقیر واحد بخش نے بتایا کہ ’الن فقیر سے میرا بہت لگاؤ تھا. انہیں جب جب سنتا تھا مزا آتا تھا. جب الن فقیر اس جہان سے چلے گئے تو میں نے ان کا روپ اختیار کیا اور جیسے میں ان ہی میں سما گیا۔‘فقیر واحد بخش کا تعلق پنجاب سے ہے لیکن وہ زیادہ تر وہی کلام گاتے ہیں جو الن فقیر سندھی زبان میں گاتے تھے۔ انہوں نے بتایا: ’سندھی کلچر (محکمہ ثقافت) والے کہتے ہیں کہ آپ کا شناختی کارڈ پنجاب کا ہے، پنجاب والے (ثقافت پنجاب) کہتے ہیں کہ آپ تو گاتے سندھی میں ہیں اور پروموٹ بھی اسی زبان کو کرتے ہیں۔ بات سچ بھی ہے میں اکثر سندھی میں ہی گاتا ہوں۔‘کوک سٹوڈیو کا گانا ’آئی آئی‘، جو وٹس ایپ کے ذریعے لکھا گیافقیر واحد بخش دو بار امریکہ اور پانچ بار انڈیا بھی جا چکے ہیں،جہاں انہوں نے صوفی فیسٹیولز میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔فقیر واحد بخش کہتے ہیں کہ ’فوک سنگر ملک کا اثاثہ ہیں۔‘اسلام آباد میں پرفارمنس کے حوالے سے وہ کہتے ہیں کہ ’لطیف سائیں (صوفی بزرگ و شاعر شاہ عبدالطیف بھٹائی) کی مہربانی سے ہمیں اسلام آباد میں پرفارمنس کا موقع ملا ۔


 

ہم یہاں پورے ملک کے لیے گاتے ہیں۔‘فقیر واحد بخش کے جواں سال بیٹے ساجد علی بھی ان کے ہمراہ گاتے اور جھومتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے: ’مجھے والد کے ساتھ پرفارم کرکے مزا آتا ہے، والد کا اپنے استاد الن فقیر کے لیے پیار ہی اتنا ہے کہ ان کے گانوں پر ہم جھومے بغیر رہ نہیں پاتے۔‘موسیقی کے آلات ’یکتارو اور چپڑی‘ تو فقیر واحد بخش خود بناتے ہیں۔ وہ اور ان کے بیٹے ساجد علی اس فن کو نئی نسل میں منتقل کرنے کے لیے اپنے کئی شاگردوں کو صوفی گائیکی کی تربیت بھی دیتے ہیں۔فقیر واحد بخش صوفی شعرا شاہ عبدالطیف بھٹائی، سچل سرمست، بابا بلھے شاہ اور دیگر شعرا کے کلام گاتے ہیں۔دونوں باپ بیٹا پرعزم ہیں کہ وہ صوفی ازم، صوفی شاعری اور پاکستان کی خدمت کرتے رہیں گے۔پاکستان میں حالیہ چند سالوں کے دوران مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی جانب سے گلوکاری کے میدان میں قسمت آزمائی کے واقعات میں قابل زکر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اس اضافے کی ایک بڑی وجہ سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز خاص طور پر یوٹیوب کی وجہ سے نئے گلوکاروں اور لوک فنکاروں کو حاصل ہونے والی وسیع پزیرائی اور ان کے مالی حالات میں آنے والی بہتری ہے۔اب سوشل میڈیا کے اس دور میں بیشتر لوک فنکار ایک ایسی خوشحال زندگی اور مقبولیت رکھتے ہیں، جس کا ماضی قریب میں تصور تک نہ تھا۔ گزشتہ نسلوں کے لوک گلوکاروں کی شہرت اور آمدن کا انحصار یوٹیوب وغیرہ کے برعکس شادی بیاہ کی محفلوں اور آڈیو کیسٹس پر ہوا کرتا تھا۔ آج کے لوک گلوکار اپنے ایک ہٹ گانے سے راتوں رات وہ شہرت اور دولت کما سکتے ہیں، جو ماضی میں فن کو تمام عمر دینے کے بعد بھی نصیب نہ ہوتی تھی۔اس کی ایک بہترین مثال صوبہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے گلوکار ملکو کا گیت 'نک دا کوکا‘ ہے ۔ اس گیت کو صرف یوٹیوب پر چھ ماہ کے دوران چھ کروڑ سے زیادہ مرتبہ سنا گیا۔

جمعہ، 12 دسمبر، 2025

غربت کے اندھیروں سے کہکشاں کی روشنی تک کا سفراور باؤفاضل

 


باؤ فاضل  کا جب بچپن کا زمانہ تھا  اس وقت ان کے گھر میں غربت کے ڈیرے تھے غربت کے سائبان میں وہ صرف 6جماعتیں تعلیم حاصل کر سکے تھے 1960  ء کے لگ بھگ باؤ فاضل کے والد کا لاہو ر ریلوے اسٹیشن کے قریب معمولی سا ہوٹل تھا-       وہ اپنے والد کے چھوٹے سے چائے کے  ہوٹل میں مسافروں کے لئے چا ئے بناتے اور چائےکے گندے برتن بھی خود دھوتے تھے۔ باؤ کو یہ کام پسند نہ تھا۔خصوصاََ ان کو گاہکوں کے فضول قسم کے تبصرے سننا سخت نا پسند تھا۔ باؤ فاضل اپنا کوئی کام کرنا چاہتے تھے۔ ان دنوں فوٹو کھینچوانے کا بہت رواج تھا۔ چنانچہ آپ نے فوٹو گرافی کا کام کرنے کا ارادہ کیا۔ انھوں نے والد سے کچھ رقم ادھار لے کر ایک پرانا سا کیمرا خریدا اور اندرون شہر دو موریہ پل کے قریب فٹ پاتھ پر اپناکیمرا سیٹ کیا۔ یہ سارا دن فٹ پاتھ پر تصویریں کھینچتے اور ساری رات ہوٹل کے چھوٹے سے سٹور میں تصویریں دھوتے اور ان کے پرنٹ تیار کرتے۔ ان کا کیمرا پرا نا تھا جس کی وجہ سے بعض اوقات کوئی تصویر خراب ہو جاتی تو گاہک وہ تصویر ان کے منہ پر دے مارتا مگر باؤ نےحوصلہ نہ چھوڑا اور دن رات کام کرتے رہے۔ یہ کام ان کو پسند تھا اس لئے وہ ہر ناپسندیدہ بات کو نظر انداز کرتے گئے ۔ پانچ چھ سال کی سخت محنت کے بعد انھوں نے کچھ پیسے جمع کر لئے اور اسٹیشن کے قریب ایک چھوٹی سی دکان خرید لی۔ اس طرح اپنا سٹوڈیو فٹ پاتھ سے دکان میں منتقل کر لیا۔ اب وہیں تصویریں کھینچتے، وہیں دھوتے اور پرنٹ تیار کرتے۔انہی دنوں فوٹو کاپی مشین نئی نئی پاکستان میں آئی تھی۔ 


انھوں نے بھی ایک فوٹو کاپی مشین خرید لی اور سارا دن فوٹو کاپی کرتے۔ ان کے خیال میں جس دن انھوں نے فوٹو کاپی مشین خرید ی اسی دن سے ان کی قسمت بدل گئی۔ اب ان کی آمدن میں تیزی سے اضافہ ہوتا گیا اور جلد ہی ان کی آمدن دوگنا ہو گئی،پھر انھوں نے دکان کی دوسری منزل بھی تعمیر کروا لی۔ 1970 ء میں ان کے دو بیٹے بھی ان کے کاروبار میں شامل ہو گئے۔ انہوں نے اپنے کام کو بڑھایا ۔ اب یہ کیمرے کی فلم تھوک میں خریدتے اور پرچون میں فروخت کرتے۔ ان سے ان کو اچھا منافع ہوتا۔1980ء میں انھوں نے کلر لیب بنائی جہاں رنگین فوٹو تیار ہوتے۔ اب ان کا کام اور بڑھ گیا۔ باؤ کے بیٹے بھی باپ کی طرح مواقع کی تلاش میں رہتے۔ اب انھوں نے کیمرے کی فلم باہر سے منگوانی شروع کی اور اسے پاکستان میں تھوک میں فروخت کرتے۔ یہ فلم اور پرنٹنگ پیپر ’’مٹسوبشی‘‘ والوں سے منگواتے تھے۔ فلم اور پرنٹنگ کاغذ کے بزنس میں انھیں خوب کمائی ہوئی۔ 1995 ء میں یہ کیمرے کی فلم اور پرنٹنگ کاغذ کے ہول سیلر بن گئے۔اب انھوں نے نسبت روڈ چوک کے پاس چیمبر لین روڈ پر پہلے ایک چھوٹی سی دکان خرید ی کچھ عرصہ بعد اس کے ساتھ والی دکان بھی خرید لی۔1998ء کے لگ بھگ نئے ڈیجیٹل کیمروں کی وجہ سے کیمرے کی فلم اور پرنٹنگ کے کاغذ کا بزنس کچھ کم ہوگا۔ انہی دنوں ان کا چھوٹا بیٹا لندن سے  کر کے لوٹا تھا۔ وہ بھی والد کے بزنسمیں شامل ہو گیا۔ اسے کوئی نیاکام کرنے کا شوق تھا۔ 


چنانچہ انھوں نے پہلے انرجی سیور بلب اور پھر مٹرولا موبائل کا بزنس کیا۔ اس بزنس میں انھیں کوئی تجربہ نہ تھا جس کی وجہ سے انھیں کا فی نقصان اٹھانا پڑا۔باؤ فاضل کافی عرصہ سے’’مٹسو بشی‘‘ والوں کے ساتھ کیمرے کی فلموں اور پرنٹنگ کے کاغذ کا کاروبار کر رہے تھے۔ انھوں نے باؤ فاضل سے کہا کہ وہ پاکستان میں ان کی دوسری چیزیں بھی فروخت کریں۔ شروع میں یہ جھجکے مگر بعد ازاں ہامی بھر لی۔ چنانچہ ’’مٹسو بشی‘‘ والوں نے انھیں ان کے  فروخت کرنے کو کہا۔ باؤ فاضل نے پانچ سو   منگوائے اور معمولی منافع پر انکی فروخت کا اشتہار دیا۔ اس طرح یہ سارے   پاکستان پہنچنے سے پہلے ہی فروختہ و گئے۔1998ء سے 2004 ء تک یہ’’مٹسو بشی‘‘ کے  معمولی منافع پر فروخت کرتے رہے تا کہ وہ ایک بار   کی مارکیٹ میں داخل ہو جائیں۔ پھر انھیں خود   تیار کرنے کا خیال آیا۔ چنانچہ باؤ فاضل نے 2005 ء میں چوہنگ کے قریب 10 لاکھ روپے میں 32 کنال زمین خرید کر’’ مٹسوبشی‘‘ کے تعا ون سے ان کے AC اسمبل کرنے کا پہلا پلانٹ لگایا۔ 2007ء میں اورینٹ گروپ نے اپنی چیزیں بھی بنانا شروع کیں۔ اب یہ ’’مٹسو بشی‘‘ کے AC کے علاوہ اپنے)ORIENT( AC


 ‘ فریج‘ اوون اور واٹر ڈسچارجر وغیر ہ بنا رہے ہیں اورینٹ گروپ نے بہت تیزی سے ترقی کی تو ان کی شہرت دور دور تک پہنچ گئی۔ چنانچہ کوریا کی مشہور کمپنی Samsung والوں نے ان سے رابطہ کیا اور باؤ فاضل کے ساتھ مل کر کاروبار کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ چنانچہ 2009 ء سے باؤ فاضلSamsung والوں کے ٹی وی‘ فریج اور واشنگ مشین وغیرہ پاکستان میں فروخت کر رہے ہیں۔باؤ فاضل صرف پندرہ سال پہلے اپنے تین بیٹوں اور دو ملازمین کے ساتھ کام کرتے تھے۔ اب ان کی کمپنی میں پانچ ہزار لوگ کام کر رہے ہیں۔ فٹ پاتھ سے کام شروع کر نے والا باؤ فاضل 30 سال کی محنت کے بعد اب ارب پتی بن گئے اور مصری شاہ کے چار مرلے کے مکان کے بجائے گلبرگ میں ساڑھے چھ کنال کے خوبصورت گھر میں شفٹ ہو گئے۔ ان کے خیال میں ان کی کامیابی کی وجہ اپنے رب پر بھر پور یقین، کام ، کام اور کام یعنی سخت محنت، کامیاب ہونے کی جستجو، نیک نیتی سے کام کرنا اور احساس کمتری کو اپنے اوپر حاوی نہ ہونے دینا ہے۔ باؤ فاضل پر ایسا وقت بھی آیا جب وہ تین تین دن بھوکے رہتے، کھانا نصیب نہ ہوتا مگر پھر بھی انھوں نے کوشش ترک نہ کی اور ثابت قدم رہے۔محمد فاضل انتقال کر گئے ہیں مگر ان کی اولا د پھل پھول رہی ہے۔آپ نے اورینٹ کا نام یقیناََ سنا ہو گا۔ یہ کمپنی ائر کنڈیشنر سے لے کر مائیکرو ویو تک گھریلو مشینری بنا تی ہے ۔ یہ کمپنی باؤ فاضل نام کے ایک ان پڑھ شخص نے بنائی اور انہوں نے اسے اللہ کے کرم اور شبانہ روز محنت سے پاکستان کے بڑے صنعتی گروپوں کی قطار میں لا کھڑا کیا۔آپ نے اورینٹ کا نام یقیناََ سنا ہو گا۔ یہ کمپنی ائر کنڈیشنر سے لے کر مائیکرو ویو تک گھریلو مشینری بنا تی ہے ۔یہ کمپنی باؤ فاضل نام کے ایک ان پڑھ شخص نے بنائی اور انہوں نے اسے اللہ کے کرم اور شبانہ روز محنت سے پاکستان کے بڑے صنعتی گروپوں کی قطار میں لا کھڑا کیا۔

//

جمعرات، 11 دسمبر، 2025

لاہورکی سینڑل جیل میں فیض احمد فیض کے قید کے دن

 

بھائی کی موت کے کچھ ہی عرصہ بعد عزیز دوست رشید جہاں   کے ماسکو میں گزر جانے کی خبر ملی۔ ایلس کو خط میں لکھارشید کے ماسکو میں مرنے کی خبر کل پڑھی۔ اگر میں جیل سے باہر ہوتا تو شاید زارو قطار روتا لیکن اب تو رونے کو آنسو ہی باقی نہ                                         رہے۔فیض کے دل پر جو بیت رہی تھی اس کا تخلیقی اظہار ان کی شاعری میں ہورہا تھا، ان کی کئی عمدہ نظمیں اسی زمانے میں لکھی گئیں جب وہ پسِ دیوار زنداں تھے۔ یہ زمانہ ذاتی حوالے سے عہد زیاں تھا لیکن تخلیقی اعتبار سے بہت بار آور رہا۔دونوں میاں بیوی جگ بیتی   خطوط کی صورت رقم کر رہے تھے۔ فیض کے خطوط برسوں بعد انھی کے قلم سے ترجمہ ہو کر ’صلیبیں مرے دریچے میں‘ کے عنوان سے                   دنیا کےسامنے آ ئے۔ ایلس کے خطوط ’ڈیئر ہارٹ‘ کے نام سے انگریزی میں شائع ہوئے۔ ان کا اردو میں ترجمہ 'عزیز دلم' کے عنوان سے نیر رباب نے کیا۔ یہ خطوط ان کی زندگی کی ظاہری اور باطنی کیفیات کو سمجھنے میں بہت مدد دیتے ہیں۔اس کے بارے میں میں فیض کے دوست شیر محمد حمید نے لکھا’فیض ایک لا ابالی، بے نیاز این و آں اور خود فراموش سا نوجوان تھا۔ ایلس نے اس کی زندگی میں ترتیب اور سنوار پیدا کر دی۔ اس کی بے قرار روح کو ایک حسین قالب میسر آ گیا۔


 ایلس نے مغرب اور اس کی تہذیبی روایات کو خیر باد کہہ کر مشرق اور اس کی ثقافتی اقدار کو اپنا لیا۔ دیس کے ساتھ بھیس اور وطن کے ساتھ زبان قید خانے میں میں فیض کے دل پر جو بیت رہی تھی   وہ تو ان کا دل ہی جانتا ہو گا لیکن چونکہ وہ کرب کے دور سے گزر رہے تھے  ان کے قلم  سے  اس کا تخلیقی اظہار ان کی شاعری میں ہورہا تھا، ان کی کئی عمدہ نظمیں اسی زمانے میں لکھی گئیں جب وہ پسِ دیوار زنداں تھے۔ یہ زمانہ ذاتی حوالے سے عہد زیاں تھا لیکن تخلیقی اعتبار سے بہت بار آور رہا۔ دونوں میاں بیوی جگ بیتی اور ہڈ بیتی خطوط کی صورت رقم کر رہے تھے۔ فیض کے خطوط برسوں بعد انھی کے قلم سے ترجمہ ہو کر ’صلیبیں مرے دریچے میں‘ کے عنوان سے سامنے آ ئے۔ ایلس کے خطوط ’ڈیئر ہارٹ‘ کے نام سے انگریزی میں شائع ہوئے۔ ان کا اردو میں ترجمہ 'عزیز دلم' کے عنوان سے نیر رباب نے کیا۔ یہ خطوط ان کی زندگی کی ظاہری اور باطنی کیفیات کو سمجھنے میں بہت مدد دیتے ہیں۔’عزیز دلم‘ میں شامل آخری خط میں ایلس نے اپنے محبوب سے کہا’میری زندگی میں اور ہے کیا، تمھاری محبت، تمھارا انتظار اور تمھارے ساتھ مستقبل کے خواب۔ فیض صاحب   کو   حکومت وقت نے جب    لاہور سینڑل جیل میں    پابند سلاسل کر دیا تھا۔


وہ اُن دنوں علیل رہتے تھے۔ ایک روز اُن کے دانت میں سخت درد اُٹھا- جیل کے حکام نے اُنہیں پولیس کی حفاظت میں چیک اپ کرانے کے لیے دانتوں کے اسپتال بھیج دیا۔ ڈاکڑ صاحب اُن کے پرستاروں میں سے تھے لہٰذا اُنہوں نے روزانہ چیک اپ کے لیے بلانے کا طریقہ اختیار کیا تاکہ اس طرح جیل کے ماحول سے کچھ دیر کے لیے اُنہیں نَجات حاصل ہو جایا کرے- یوں روزانہ اُنہیں جیل کی گاڑی میں اسپتال لایا جاتا۔ ایک دن ایسا ہوا کہ جیل والوں کے پاس گاڑی نہیں تھی- جیلر نے اُنہیں تانگے میں بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ لیکن اس صورت میں انہیں ہتھکڑی پہنانا ضروری تھا۔ فیضؔ صاحب مان گئے- اس طرح وہ ہاتھوں میں ہتھکڑیاں پہنے تانگے کی پچھلی نشست پر بیٹھ گئے- پولیس کے سپاہی بندوق لیے اُن کے ساتھ تھے۔ اس حال میں وہ لاہور کے گلی کوچوں سے گزرے، انہوں نے تازہ ہوا کو محسوس کیا۔


 بازاروں سے گزرتے ہوئے خوانچے والے، تانگے والے، بیل گاڑیاں سب بچھڑے ہوئے یاروں کی طرح اُن کے قریب سے گزرتے رہے- عجیب منظر تھا- وہ لاہور شہر کی جانی پہچانی سڑکوں سے گزرتے رہے- شہر اور اہلیانِ شہر یہ تماشا دیکھتے رہے- شاید کچھ لوگوں نے اُنہیں پہچان بھی لیا ہو- ارد گرد لوگوں کا ہجوم جمع ہو گیا جن میں نانبائیوں سے لیکر صحافیوں تک سبھی شامل تھے- اس طرح ایک جلوس کی شکل بن گئی- فیضؔ صاحب کہتے تھے میں نے زندگی میں ایسا دلکش جلوس نہیں دیکھا- اسی واقعہ سے متاثر ہو کر اُنہوں نے اپنی مشہورِ زمانہ نظم لکھی

 "آج بازار میں پابجولاں چلو۔"

چشم نم جان شوریدہ کافی نہیں

تہمت عشق پوشیدہ کافی نہیں

آج بازار میں پا بہ جولاں چلو

دست افشاں چلو مست و رقصاں چلو

خاک بر سر چلو خوں بداماں چلو

راہ تکتا ہے سب شہر جاناں چلو

حاکم شہر بھی مجمع عام بھی

تیر الزام بھی سنگ دشنام بھی

صبح ناشاد بھی روز ناکام بھی

ان کا دم ساز اپنے سوا کون ہے

شہر جاناں میں اب با صفا کون ہے

دست قاتل کے شایاں رہا کون ہے

رخت دل باندھ لو دل فگارو چلو

پھر ہمیں قتل ہو آئیں یارو چلو

زینبِ علیا ،بنت نبی (حضرت محمد صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم)

 

سیّدالاصفیا ء خاتم الانبیاء تاجدار دوعالم حضرت رسول خدا محمّد مصطفٰے صلّی ا للہ علیہ واٰلہ وسلّم کی پیاری بیٹی جناب حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کیآغوش مبارک میں گلستان نبوّت کی ایک تروتازہ کلی نے آنکھ کھولی تو آ پ سے دو برس بڑے بھائ اپنے والد گرامی حضرت امیرالمومنین کی انگلی تھام کر اپنی مادر گرامی کے حجرے میں آئے ،اور ننھی بہن کے ننّھے ملکوتی چہرے کو مسکرا کر دیکھا اور پھر اپنے پدر گرامی مولائے متّقیان کو دیکھ کر مسکرائے  اور سلطان اولیاء مولائے کائنات نے اپنی آنکھوں میں آئے ہوئے آنسو بی بی فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا سے چھپاتے ہوئے فرمایا کہ ,حضرت محمّد رسول اللہ صلّی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم تشریف لے آئیں توبچّی کا نام بھی آپ ہی تجویز کریں گے جس طرح اپنے نواسوں کے نام حسن وحسین تجویز کئے تھےنبئ اکرم ہادئ معظّم صلّی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم بی بی زینب کی ولاد ت کے وقت شہر مدینہ سے باہر حالت سفر تھے۔چنانچہ تین دن کے بعدسفرسے واپس تشریف لائے تو حسب عادت سب سے پہلے بی بی سیّدہ کےسلام اللہ علیہا حجرے پر تشریف لائے جہاں جناب فاطمہ زہرا کی آغو ش مبارک میں ننّھی نواسی جلوہ افروز تھی 


آپ نے وفورمحبّت و مسرّ ت سے بچّی کو آغوش نبوّت میں لیا اور جناب حسن وحسین علیہم السّلام کی مانند بچّی کےدہن مبارک کو اپنےپاکیزہ ومعطّر دہن مبارک سے آب وحی سےسرفراز کیا جناب رسالت مآ ب سرور کائنات حضرت محمّد صلّی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم بچّی کو آغوش نبوّت میں  لئے ہوئے نگاہ اشتیاق سےننّھی نواسئ معصومہ کا چہرہ دیکھتے رہے جہاں بی بی خد یجتہ الکبریٰ کی عظمت و تقویٰ اور جناب سیّدہ سلام اللہ علیہاٰ کے چہرے کے نورانی عکس جھلملا رہے تھےوہیں آپ صلعم کے وصی اور اللہ کے ولی مولا علی مرتضیٰ کا دبد بہ اور حشمت ہویدا تھی ننّھی نواسی کا ملکوتی چہرہ دیکھ کر حضور اکرم حضرت محمّد مصطفٰے صلّی اللہ علیہواٰ لہ وسلّم کا چہرہء مبارک خوشی سے کھلا ہوا تھااور اسی وقت بی بی فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اپنے محترم بابا جان سے مخاطب ہوئیں بابا جان ہم س انتظار میں تھے کہ آپ تشریف لے آئیں تو بچّی کا نام تجویز کریں تاجدار دوعالم  صلّی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم نے بی بی فاطمہ زہراسلام اللہ علیہا سے فرمایا کہ بیٹی میں اس معاملے میں اللہ کے حکم کا پابند ہوں جبرئیل امیں کے آنے پر ہی بچّی کا نام تجویز ہوسکے گا ،،اور پھر اسی وقت آپ کے رخ انور پر آثار وحی نمودار ہوئے اور آ پ صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے بی بی فاطمہ زہرا کے سر پر ہاتھ  رکھّا اور مولائے کائنات کو اپنے قریب بلاکر فرمایا گلستان رسالت کی اس کلی کا نام جبرئیل امیں بارگاہ ربّ العالمین سے‘‘ زینب ‘‘  لے کر آئےہیں


یہی نام وہاں لو ح محفوظ پر بھی کندہ ہےبیت الشّرف میں اس نام کو سب نے پسند فرمایا ،پھر رسالتماآب صلّی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم نے نے اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں دعاء کی اے تمام جہانوں کے سب سے بہترین مالک میں تیری حمد وثناء بیان کرتے ہوئے تجھ سے دعاء مانگتا ہوں کہ تو نے  جس طرح ہمارے بچّوں کو دین مبین کی حفاظت کا زریعہ قرادیا ہے اسی طرح اس بچّی کو بھی عزّت اور سعادتو ں سے بہرہ مند فرما ،میں تیرے کرم کا شکر گزار ہوں۔اس دعائے شکرانہ میں جناب حضرت فاطمہ زہرا اور جناب حضرت علی مرتضٰی بھی شامل ہو ئےاور پھر گلستان رسالت کی یہ ترتازہ کلی ہوائے مہرو محبّت میں پروان چڑھنے لگی _وہ جس گھر میں آئ تھی یہ دنیا کا کوئ عام گھرانہ نہیں تھا یہ گھر بیت الشّرف کہلاتا تھا ،اس محترم گھر کے مکین اہل بیت کے لقب سے سرفراز کئےگئے تھے ،اس پاکیزہ و محترم گھرکے منّو ر و ہوائے بہشت سےمعطّر آنگن میں پیغا مبر بزرگ فرشتے حضرت جبرئیل امیں وحی پروردگارعالم عرش بریں سے لےکراترتے تھے اس میں اقامت پذیر نورانی ہستیوں پر ملائکہ اور خود اللہ  درود و سلام بھیجتے تھے اور پھر بوستان محمّد کی یہ ترو تازہ کلی جس کا نام زینب( یعنی اپنے والد کی مدد گار) پرورد گار عالم نے منتخب کر کے لوح محفوظ پر کندہ کر دیا تھا ،



 پھر یہ ننھی کلی  بوستان نبوت کے آنگن  کی پُر نور فضائے مہرومحبّت میں پروان چڑھنے لگی-  بچپن  کی ہی عمر میں چادر کساء کے زیر سایہ اس گھر کے مکینوں سے زینب سلام اللہ علیہا نے نبوّت و امامت کے علوم کے خزینے اپنے دامن علم میں سمیٹے توآپ سلام اللہ علیہا کی زبان پر بھی اپنے باباجان علی مرتضیٰ علیہ اسّلام اور والدہ گرامی جناب سیّدہ سلام اللہ علیہا کی مانند اللہ کی حمد و ثناء ومناجا ت کے پھول کھلنے لگے ،بی بی زینب سلام اللہ علیہا نے ہوش سنبھالتے ہی اپنے بابا جان کو اور مادرگرامی کو  اور اپنے نانا جان حضرت محّمد صلّی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم کو،فقرا و مساکین کو حاجتمندوں کی مدد کرتے ہوئے دیکھا تھا ،یہ وہ متبرّک ہستیاں تھیں جو اپنی بھوک کو سائل کی بھوک کے پس پشت رکھ دیتے تھے،کسی بھی سوال کرنے والے کے سوال کو سوالی کااعزاز بنا دیتے تھے مشورہ مانگنے والے کو صائب مشورہ دیتے تھے۔ہادیوں کے اس گھرانے کو کوئ دنیاوی معلّم تعلیم دینے نہیں آتا تھا ،یہاں تو بارگاہ ربّ العا لمین سے حضرت جبرئیل امیں علوم کےخزانے بزریعہ وحئ الٰہی لا کر بنفس نفیس دیتے تھے چنا نچہ انہی سماوی و لدنّی علوم سےبی بی زینب سلام اللہ علیہا کی شخصیت کو مولائے کائنات اور بی بی سیّدہ سلام اللہ علیہا نے سنوارااور سجایا ،آپ جیسے ،جیسے بڑی ہونے لگیں آپ کی زات میں بی بی سیّدہ سلام اللہ علیہا کی زات کے جوہر اس طرح نکھرنے لگے کہ آپ کو د یکھنے والی مدینے کی عورتو ں نے آپ کا لقب ہی ثانئ زہراسلام اللہ علیہا  رکھ دیا۔ .


بدھ، 10 دسمبر، 2025

جب فیض احمد فیض غدار قرار دے کر پابند سلاسل کئے گئے

 یک اور خط میں بتایا:’پریشانیوں کا ایک سلسلہ ختم نہیں ہوتا کہ دوسرا شروع ہو جاتا ہےفیض کو اہلیہ کی کلفتوں کا خوب احساس تھا۔ وہ ان کے سائیکل پر سفرکے حق میں بھی نہیں تھے۔  ’لاہور کے موسم کی خبروں سے   تشویش رہتی ہے۔ اس موسم میں جب تپتے ہوئے دفترسے تمھارے بائسکل پر اپ گھر آنے کا سوچتا ہوں تو اس خیال سے بچنے کے لیے زور سے آنکھیں میچ لیتا ہوں۔ اگر تم اتنا لکھ دو کہ ایک آدھ مہینے کے لیے تم نے سائیکل چلانا بند کردیا ہے تو کچھ اطمینان ہوگا۔ اس میں کچھ خرچ تو بڑھ جائے گا لیکن ایسا بھی کیا خرچ ہوگا۔ وعدہ ہے کہ ہم یہ پیسے پورے کردیں گے۔‘ایلس ہمدم و ہم ساز سے کہتی ہیں: ’سائیکل سے گھر آنا جانا یہ کوئی پریشانی کی بات نہیں ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہم ٹانگے کی عیاشی کے متحمل نہیں ہوسکتے‘سردی کی شدت بھی بیوی اور دونوں بیٹیوں  کی یاد دلاتی ہے۔لاہور کا درجہ حرارت دیکھتا ہوں تو جھرجھری سی آ جاتی ہے اور اس خیال سے کہ اس غضب کی ٹھنڈک اور تنہائی میں تم پر اور بچوں پر کیا گزر رہی ہوگی۔دل دکھتا ہے۔‘ایلس سگھڑ بیوی کی طرح گھر چلا رہی تھیں۔ کفایت شعاری سے کام لیتیں۔ مہنگائی سے گھریلو بجٹ متاثرہونے پرقیدی شوہر کو صورت حال سے آگاہ کیا جاتا


فیض کے نام خطوط سے چند منتخب اقتباسات ملاحظہ ہوں: ’ لاہور میں رہنا مہنگا ہوتا جا رہا ہے۔ 16روپے من آٹا ہوگیا ہے اور ہم مشکل سے گزارا کر پا رہے ہیں۔‘’آخر یہ حکومت کر کیا رہی ہے؟ لوگ بھوک سے مررہے ہیں۔ کل میں نے سولہ روپے کا ایک من آٹا خریدا۔ پچھلے سال مارچ میں جب تم گئے تھے تو من بھر آٹے کی قیمت نو روپے تھی‘ (میں نے اپنی حساب کی پرانی ڈائری میں چیک کیا تھا۔)’چیزوں کی قیمتوں میں آگ لگی ہوئی ہے۔ ٹوتھ پیسٹ کی ایک ٹیوب تین روپے بارہ آنے کی، لکس صابن کا ایک پیکٹ چار روپے کا، ہم نے گھر میں ٹوتھ پاﺅڈربنا لیا تھا جو دو مہینے چلا۔‘اضافی یافت کے لیے ایک طالب علم کو انگریزی بھی پڑھائی۔ وائی ایم سی اے سے شارٹ ہینڈ کا کورس اس لیے کیا کہ نوکری جاتی رہے تو یہ کہیں اور کام کے لیے کام آ سکے۔ نوکری کے تین برس ہونے پر تنخواہ میں اضافے کی خواہش ظاہر کرتی ہیں۔ایک دفعہ آموں کا موسم آنے پر شوہر رہ رہ کر یاد آیا۔ خط میں لکھا:خط کے ذریعے فیض اور ایلس کی آدھی ملاقات ہو جاتی تھی۔ ’آموں کا موسم ہے اور میرا دل اداس ہے، مجھے یاد آتا ہے جب تم دوپہر کو کھانے پر گھر آتے تو بڑے بڑے آموں سے بھرا ایک تھیلا تمھارے ہاتھ میں ہوتا اور کبھی بھولتے نہیں تھے۔‘


 شوہر بھی صابر شاکر، راضی برضا، ایک خط میں بیوی سے کہا:تم نے پوچھا ہے کہ تمھارے لیے ساتھ کیا لاﺅں؟ تم خود آجاﺅ اور ان دو ہنستے ہوئے چہروں کو ساتھ لیتی آﺅ، اس سے زیادہ مجھے اور کیا چاہیے۔‘ایلس کو تنہائی ستاتی اور وہ تلخیِ ایام کا ذکر خطوں میں کرتیں تو جواب ملتا:’ دن بہت آہستہ آہستہ گزر رہے ہیں اور ہر گزرنے والا دن دل کی سطح پر کراہت اور درد کا ایک ہلکا سا غبار چھوڑ جاتا ہے لیکن چند روز اورمری جان فقط چند ہی روز۔‘ تم نے اپنے گھر کی تنہائی کا ذکر کیا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ یہ تنہائی کتنی کڑی اور جدائی کے لمحے کتنے گراں ہیں۔‘دونوں میاں بیوی خطوں میں دنیا جہاں کی باتیں کرتے، ذاتی دکھ درد، موسم، باغ باغیچے، بچوں کی باتیں، لوگوں کے رویے، کتابوں کی اشاعت کے معاملات اور بہت کچھ،فیض جیل میں جو کچھ پڑھتے اس کے بارے میں تاثرات سے اہلیہ کو آگاہ کرتے۔ کتابیں جیل بھجوانے کا تقاضا کرتے۔ ایک دفعہ چیخوف کے ڈرامے ’تھری سسٹرز‘ پڑھنے کو جی چاہا۔ ایلس سے فرمائش کی جو پوری کردی گئی۔ اس پر خوش ہوکر لکھا



’مجھے خوشی ہے کہ تم نے مجھے چیخوف کی کتاب بھیج دی۔ پڑھنے میں بہت لطف آ رہا ہے۔ چیخوف کی تحریر سے کتنا گہرا پیار اور کتنی بے پناہ شفقت ٹپکتی ہے۔‘ ایلس بھی کتاب پڑھنے سے حاصل ہونے والی خوشی کے بارے میں شوہر کو بتاتیں:’میں رابرٹ برائوننگ کی سوانح عمری پڑھ رہی تھی، بہت زبردست ہے۔ کیا نفیس انسان تھا اور کیا بہترین شاعر، دل سوزی بھی اور سریلا پن بھی۔ اس کتاب میں چند خطوط بھی شامل ہیں جو اپنی ذات میں خالص شاعری ہیں۔‘خط کے ذریعے دونوں کی آدھی ملاقات ہوجاتی تھی۔ جیل میں بالمشافہ ملاقات ذاتی اعتبار سے جاں گسل ہوتا۔ اس کے لیے ایلس کو تکلیف دہ مراحل سے گزرنا پڑتا خاص طور پر گرمیوں میں حیدر آباد جیل جانے کے لیے لمبا سفر انھیں نڈھال کر دیتا۔ بعض دفعہ پیسے نہ ہونے کی وجہ سے سفرمؤخر کرنا پڑتا۔جیل میں بیوی بچوں کی جدائی کا غم اپنی جگہ عذاب ضرور تھا لیکن بہرحال یہ آس تو تھی کہ بھلے دن بھی آئیں گے لیکن حیدر آباد جیل میں انھیں بھائی کی موت کا صدمہ برداشت کرنا پڑا جو اس لیے بھی زیادہ شدت اختیار کر گیا کہ عزیز از جان بھائی طفیل ان سے ملنے کے مقررہ وقت سے کچھ ہی دیر پہلے اچانک جاں سے گزر گیا۔ غم زدہ فیض نے بیوی کو لکھا: آج صبح میرے بھائی کی جگہ موت میری ملاقات کو آئی۔‘

بھائی کی موت پر شکستہ دل شاعر نے یہ مرثیہ تحریر کیا:

 مجھ کو شکوہ ہے مرے بھائی کہ تم جاتے ہوئے

لے گئے ساتھ مری عمرِ گذشتہ کی کتاب

اس میں تو میری بہت قیمتی تصویریں تھیں

اس میں بچپن تھا مرا، اور مرا عہدِ شباب

 اس کے بدلے مجھے تم دے گئے جاتے جاتے

اپنے غم کا یہ دمکتا ہوا خوںرنگ گلاب

کیا کروں بھائی، یہ اعزاز کیونکر پہنوں

مجھ سے لے لومری سب چاک قمیصوں کا حساب

آخری بار ہے، لو مان لو اک یہ بھی سوال

آج تک تم سے میں لوٹا نہیں مایوس جواب

آ کے لے جاﺅ تم اپنا یہ دمکتا ہوا پھول

مجھ کو لوٹا دو مری عمرِ گذشتہ کی کتاب

جاری ہے

جب فیض احمد فیض غدار قرار دے کر پابند سلاسل کئے گئے

 

1959ء میں فیضؔ  میں راولپنڈی سازش کیس میں فیض احمد فیض کی گرفتاری ان کے خاندان کے لیے کسی قیامت سے کم نہ تھی۔ ان پر جو مقدمہ قائم ہوا اس کی سزا پھانسی تھی یا پھرعمر قید، ایلس فیض ابھی گرفتاری کے صدمے سے نہیں سنبھلی تھیں کہ سی آئی ڈی کا تلاشی کے لیے گھر آنا مزید ذہنی اذیت کا باعث بنا۔41 ایمپرس روڈ لاہور پر پولیس اور سی آئی ڈی کا پہرہ لگ گیا۔ آنے جانے والوں پر نظر رکھی جاتی۔ ان کے نام نوٹ ہوتے۔ اخبارات فیض کو غدار قرار دینے کی مہم میں پیش پیش تھے۔ فیض اور دیگر ملزموں کو سزائے موت دینے کا مطالبہ ہونے لگا۔ایلس پر چاروں طرف سے مصیبتوں نے یورش کر دی۔ ایک طرف شوہر کے پابندِ سلاسل ہونے کا غم تو دوسری طرف گھربار چلانے کی ذمہ داری کا بار، لوگوں کی کڑوی کسیلی باتیں الگ۔ایلس کی زندگی کس ڈھب سے گزر رہی تھی اس کا اندازہ فیض کے نام خطوط سے ہوتا ہے-اس کڑے وقت میں ایلس نے بڑی ہمت اور تدبر سے کام لیا۔ حالات کے سامنے سپر ڈالنے کے بجائے ان کا مقابلے کرنے کی ٹھانی۔ پاکستان ٹائمز میں ملازمت کرلی۔ خواتین اور بچوں کا صفحہ ترتیب دینے لگیں۔گاڑی بیچ کر وکیل کو فیس کی پہلی قسط کی ادائیگی ممکن بنائی۔ 150 روپے کی فلپس سائیکل خریدی جو دفتر آنے جانے کی کام آتی۔ اس زمانے میں ان کی زندگی کس ڈھب سے گزر رہی تھی اس کا اندازہ فیض کے نام خط کے اس اقتباس سے ہوتا ہے 


کاموں کی زیادتی میں صبح سے شام ہونے کا پتہ ہی نہیں چلتا۔ بچوں کو صبح 8 بجے سکول پہنچنا ہوتا ہے اور مجھے 9 بجے صبح آفس اور میری واپسی 4 بجے ہوتی ہے۔ پھر دن کا باقی حصہ بچوں کو ہوم ورک کروانے، مہمانوں کی مدارات کرنے، کتابیں پڑھنے، کپڑے دھونے میں گزر جاتا ہے اور پھر تھک کر بستر پر گرجاتی ہوں۔‘ایک اور خط میں بتایا:’پریشانیوں کا ایک سلسلہ ختم نہیں ہوتا کہ دوسرا شروع ہو جاتا ہےفیض کو اہلیہ کی کلفتوں کا خوب احساس تھا۔ وہ ان کے سائیکل پر سفرکے حق میں بھی نہیں تھے۔ایک خط میں لکھا:فیض کو جیل میں بچوں کی یاد ستاتی ہے جس کا ذکر ایلس کے نام لکھے گئے خطوط میں ملتا ہے۔  ’لاہور کے موسم کی خبروں سے کچھ تشویش رہتی ہے۔ اس موسم میں جب تپتے ہوئے دفترسے تمھارے بائسیکل پر اپنے گھر آنے کا سوچتا ہوں تو اس خیال سے بچنے کے لیے زور سے آنکھیں میچ لیتا ہوں۔ اگر تم اتنا لکھ دو کہ ایک آدھ مہینے کے لیے تم نے سائیکل چلانا بند کردیا ہے تو کچھ اطمینان ہوگا۔ اس میں کچھ خرچ تو بڑھ جائے گا لیکن ایسا بھی کیا خرچ ہوگا۔ وعدہ ہے کہ ہم یہ پیسے پورے کردیں گے۔‘ایلس ہمدم و ہم ساز سے کہتی ہیں: ’سائیکل سے گھر آنا جانا یہ کوئی پریشانی کی بات نہیں ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہم ٹانگے کی عیاشی کے متحمل نہیں ہوسکتے‘سردی کی شدت بھی بیوی اور دونوں بیٹیوں  کی یاد دلاتی ہے۔’لاہور کا درجہ حرارت دیکھتا ہوں تو جھرجھری سی آ جاتی ہے اور اس خیال سے کہ اس غضب کی ٹھنڈک اور تنہائی میں تم پر اور بچوں پر کیا گزر رہی ہوگی۔ دل دکھتا ہے۔‘ایلس سگھڑ بیوی کی طرح گھر چلا رہی تھیں۔ کفایت شعاری سے کام لیتیں۔ مہنگائی سے گھریلو بجٹ متاثرہونے پرقیدی شوہر کو صورت حال سے آگاہ کیا جاتا۔


فیض کے نام خطوط سے چند منتخب اقتباسات ملاحظہ ہوں: ’ لاہور میں رہنا مہنگا ہوتا جا رہا ہے۔ 16روپے من آٹا ہوگیا ہے اور ہم مشکل سے گزارا کر پا رہے ہیں۔‘’آخر یہ حکومت کر کیا رہی ہے؟ لوگ بھوک سے مررہے ہیں۔ کل میں نے سولہ روپے کا ایک من آٹا خریدا۔ پچھلے سال مارچ میں جب تم گئے تھے تو من بھر آٹے کی قیمت نو روپے تھی‘ (میں نے اپنی حساب کی پرانی ڈائری میں چیک کیا تھا۔)’چیزوں کی قیمتوں میں آگ لگی ہوئی ہے۔ٹوتھ پیسٹ کی ایک ٹیوب تین روپے بارہ آنے کی، لکس صابن کا ایک پیکٹ چار روپے کا، ہم نے گھر میں ٹوتھ پاﺅڈربنا لیا تھا جو دو مہینے چلا۔‘اضافی یافت کے لیے ایک طالب علم کو انگریزی بھی پڑھائی۔ وائی ایم سی اے سے شارٹ ہینڈ کا کورس اس لیے کیا کہ نوکری جاتی رہے تو یہ کہیں اور کام کے لیے کام آ سکے۔ نوکری کے تین برس ہونے پر تنخواہ میں اضافے کی خواہش ظاہر کرتی ہیں۔ایک دفعہ آموں کا موسم آنے پر شوہر رہ رہ کر یاد آیا۔ خط میں لکھا:خط کے ذریعے فیض اور ایلس کی آدھی ملاقات ہو جاتی تھی۔ ’آموں کا موسم ہے اور میرا دل اداس ہے، مجھے یاد آتا ہے جب تم دوپہر کو کھانے پر گھر آتے تو بڑے بڑے آموں سے بھرا ایک تھیلا تمھارے ہاتھ میں ہوتا اور کبھی بھولتے نہیں تھے۔‘ شوہر بھی صابر شاکر، راضی برضا، ایک خط میں بیوی سے کہا:تم نے پوچھا ہے کہ تمھارے لیے ساتھ کیا لاﺅں؟ تم خود آجاﺅ اور ان دوہنستے ہوئے چہروں کو ساتھ لیتی آﺅ، اس سے زیادہ مجھے اور کیا چاہیے۔

ک اور خط میں بتایا:’پریشانیوں کا ایک سلسلہ ختم نہیں ہوتا کہ دوسرا شروع ہو جاتا ہےفیض کو اہلیہ کی کلفتوں کا خوب احساس تھا۔ وہ ان کے سائیکل پر سفرکے حق میں بھی نہیں تھے۔ایک خط میںلکھا:فیض کو جیل میں بچوں کی یاد ستاتی ہے جس کا ذکر ایلس کے نام لکھے گئے خطوط میں ملتا ہے۔  ’لاہور کے موسم کی خبروں سے کچھ تشویش رہتی ہے۔ اس موسم میں جب تپتے ہوئے دفترسے تمھارے بائسیکل پر اپ گھر آنے کا سوچتا ہوں تو اس خیال سے بچنے کے لیے زور سے آنکھیں میچ لیتا ہوں۔ اگر تم اتنا لکھ دو کہ ایک آدھ مہینے کے لیے تم نے سائیکل چلانا بند کردیا ہے تو کچھ اطمینان ہوگا۔ اس میں کچھ خرچ تو بڑھ جائے گا لیکن ایسا بھی کیا خرچ ہوگا۔ وعدہ ہے کہ ہم یہ پیسے پورے کردیں گے۔‘ایلس ہمدم و ہم ساز سے کہتی ہیں: ’سائیکل سے گھر آنا جانا یہ کوئی پریشانی کی بات نہیں ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہم ٹانگے کی عیاشی کے متحمل نہیں ہوسکتے‘سردی کی شدت بھی بیوی اور دونوں بیٹیوں  کی یاد دلاتی ہے۔لاہور کا درجہ حرارت دیکھتا ہوں تو جھرجھری سی آ جاتی ہے اور اس خیال سے کہ اس غضب کی ٹھنڈک اور تنہائی میں تم پر اور بچوں پر کیا گزر رہی ہوگی۔دل دکھتا ہے۔‘ایلس سگھڑ بیوی کی طرح گھر چلا رہی تھیں۔ کفایت شعاری سے کام لیتیں۔ مہنگائی سے گھریلو بجٹ متاثرہونے پرقیدی شوہر کو صورت حال سے آگاہ کیا جاتا
جاری ہے

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

کہو دلہن بیگم ! ہمارا بھائ تمھیں کیسا لگا

  میں سہاگن بنی مگر    !نگین دلہن بنی مثل ایک زندہ لاش کے سر جھکائے بیٹھی تھی اس نے آج کے دن کے لئے بڑی آپا کے اور منجھلی آپا کے سمجھانے سے ...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر