پیر، 5 جنوری، 2026

شیزوفرینیا ایک کرانک، ذہنی بیماری کا نام ہے

 


شیزوفرینیا ایک کرانک، زیادہ شدت والی اور مضمحل کرنے والی ذہنی بیماری کا نام ہے۔ اس میں مریض کے خیالات بکھرے ہوتے ہیں اور اس کا معاشرتی رویہ نارمل نہیں ہوتا بلکہ عام طور پر سوسائٹی کے قوانین اور رسم و رواج کے مخالف ہوتا ہے۔اس مرض میں مبتلا فرد اپنے قریب ترین افراد کو اپنا دشمن اور غیروں کو اپنا دوست سمجھتا ہے۔ اور ہر لمحہ اپنوں کی ایذا رسانی میں مصروف کار رہتا ہے۔غیروں  کی ہمدردیاں سمیٹنے کے لئے اپنوں کی برائیا ں کرتا ہے اور اپنے آ پ کو مظلوم ظاہر کرتا ہے اس مرض میں مبتلا افراد کو صحیح اور غلط میں تمیز کرنے میں دشواری محسوس ہوتی ہے بلکہ وہ سمجھتے ہیں کہ باقی سب غلط ہیں اور وہ خود ٹھیک ہیں۔  شیزو فرینیا میں مبتلا مریض معاشرے سے کٹ جاتا ہے-شیزوفرینیا کی بیماری کو سنجیدگی سے لینا بہت ضروری ہے کیونکہ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ مریض کیا سوچتا ہے؟ کس طرح محسوس کرتا ہے اور کس طرح ری ایکشن کا اظہار کرتا ہے؟ مریض عام طور پر معاشرے کے مطابق نارمل رویے کا اظہار نہیں کرتا ۔عام لوگ یہ تصور کرتے ہیں کہ مریض دہری یا تہری شخصیت کا حامل ہوتا ہے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اس مرض میں مبتلا لوگوں کی بہت بڑی تعداد تشدد پر مائل نہیں ہوتی اور نہ ہی ان سے دوسرے لوگوں کو کوئی خطرہ ہوتا ہے۔


شیزوفرینیا کے مریض عام طور پر فریب نظری کا شکار ہوتے ہیں اور انہیں خیالی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔ انہیں عجیب و غریب خیالات ستاتے رہتے ہیں، ان کی باتوں میں اور سوچ میں ربط نہیں پایا جاتا۔ ان کے خیالات بھٹکتے رہتے ہیں۔ ان کے فقروں سے مطلب نکالنا عام طور پر مشکل ہوتا ہے۔ ان کے کپڑے گندے اور بعض اوقات کیچڑ وغیرہ سے لت پت ہوتے ہیں۔ ان میں اعتماد کی کمی اور معاملات کو جانچنے کی صلاحیت کا فقدان پایا جاتا ہے۔ ان کے خیالات بگاڑ کا شکار ہوتے ہیں مثلاً وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے دماغ میں جو خیالات آتے ہیں وہ ان کے ذاتی نہیں ہیں بلکہ کسی اور نے ان کے دماغ میں ان کو ٹھونسا ہے۔ یہ لوگ کسی بات پر اپنا ردعمل بھی ظاہر نہیں کرتے۔ایسی وجوہات کی بنا پر یہ لوگ خود کو تنہائی کا شکار بنا لیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کوکام کرنے میں دقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ویسے بھی اگر کوئی کام کریں تو سست روی کا شکار ہوتے ہیں۔ ان کی یادداشت بھی کمزور ہوتی ہے۔شیزوفرینیا کے نصف یا کچھ کم مریض اس بات کو ماننے کے لئے ہی تیار نہیں ہوتے کہ وہ کسی بیماری کا شکار ہیں لہٰذا وہ ادویات کو مناسب طریقے سے استعمال بھی نہیں کرتے۔ ان مریضوں کے چہرے عام طور پر کسی قسم کے جذبات سے عاری ہوتے ہیں۔


 ایک بہت اہم علامت جو زیادہ تر مریضوں میں پائی جاتی ہے وہ نفسیاتی طور پر پائی جانے والی پیاس کی زیادتی ہے جس کی وجہ سے وہ بہت زیادہ پانی یا دوسرے مشروب پیتے رہتے ہیں۔شیزوفرینیا کی علامات کو مثبت اور منفی دو درجوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ مثبت علامات عام طور پر وہ ہوتی ہیں جن سے کسی نارمل صحت مند انسان کا واسطہ نہیں پڑتا۔ اچھی بات یہ ہے کہ ان پر ادویات کا بہتر اثر ہوتا ہے۔ اگرچہ ان کو مثبت علامات کہا جاتا ہے لیکن یہ ضروری نہیں کہ یہ اچھی بھی ہوں۔ ان پر مریضوں کو جو آوازیں سنائی دیتی ہیں وہ آپس میں باتیں بھی کر سکتی ہیں اور مریض کے مطابق اس کو مختلف قسم کے خطرات سے بھی آگاہ کرتی رہتی ہیں۔ ایسے مریض اپنے آپ کو وہ تصور کرتے ہیں جو وہ ہوتے نہیں مثلاً اپنے آپ کو بہت مشہور ایکڑ ماننا یا کسی ملک کا صدر اور وزیراعظم سمجھنا۔کچھ مریض یہ تصور کرتے ہیں کہ ان کو مافوق الفطرت قوتیں حاصل ہیں۔بعض اوقات مریض مزاحیہ انداز کی حرکات کرنے لگتے ہیں مثلاً بلاوجہ کودنے لگ جانا یا کسی ایک خاص زاویے سے جسم کو موڑ توڑ کر بیٹھے رہنا۔منفی علامات یا منفی درجے میں ان مریضوں کو شامل کیا جاتا ہے جو زندگی میں اپنی دلچسپی کھو دیتے ہیں حتیٰ کہ وہ ان کاموں کو بھی سرانجام نہیں دے سکتے جو وہ پہلے بآسانی کر لیتے تھے


 لیکن ان علامات کو پہچاننا اتنا آسان ثابت نہیں ہوتا  ۔ بعض اوقات ایسے مریضوں میں جذبات نامی کوئی چیز نظر نہیں آتی حتیٰ کہ جب وہ بات بھی کرتے ہیں تو چہرہ ہر قسم کے تاثرات سے خالی ہوتا ہے یعنی نہ خوشی نہ غم ان کے چہرے پر آتا ہے۔ ایسے لوگ اگر کوئی کام شروع کرتے ہیں تو اس کو انجام تک پہنچانا ان کے بس کا روگ نہیں ہوتا بلکہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہ سوچتے ہی رہتے ہیں ۔ ان مریضوں کو کسی کام پر توجہ دینا نہایت مشکل معلوم ہوتا ہے اور نہ ہی ان میں اس بات کی صلاحیت ہوتی ہے۔ یہ مرض چالیس فیصد لڑکوں اور بیس فیصد سے زائد لڑکیوں میں انیس سال کی عمر سے پہلے شروع ہو جاتا ہے۔شیزوفرینیا کی وجوہات موروثی اور سماجی دونوں کا مجموعہ ہوتی ہیں۔ اگر کسی کے خونی رشتہ داروں میں مرض پایا جاتا ہے  اس کو مرض ہونے کے امکانات سات فیصد بڑھ جاتے ہیں۔ جڑواں بچوں میں سے اگر ایک کو مرض لاحق ہو تو دوسرے بچے کو مریض ہونے کے چالیس فیصد امکانات ہیں۔ اگر والدین میں سے ایک کو مرض ہو تو بچوں میں تیرہ فیصد جبکہ دونوں والدین کے متاثر ہونے کی صورت میں امکانات پچاس فیصد ہو جاتے ہیں اور سماجی وجوہات میں بچے کا ماحول ،نشہ آور ادویات کا استعمال اور والدین اور رشتہ داروں کا رویہ اہم ہیں۔بعض والدین بہت زیادہ سخت اور غصہ والے ہوتے ہیں یا والدین میں سے کسی ایک یا دونوں کی وفات ہو جانا بھی بچے پر برا اثر ڈالتی ہے۔ جنسی بداخلاقی بھی باعث بن سکتی ہے۔ نشہ آور اشیاء کا استعمال بھی ایک وجہ بن سکتا ہے۔ ماں کو اگر حمل کے دوران وائرل انفکشن ہو جائے یا پیدا ہونے سے قبل بچے میں آکسیجن کی کمی واقع ہو جائے یا ماں غذائی قلت کا شکار ہو جائے تو اس کا اثر پیٹ میں پرورش پانے والے بچے پر ہوتا ہے۔

اتوار، 4 جنوری، 2026

بلند و بالا پہاڑوں کے بیچ بینف نیشنل پارک کینیڈا کی سیر

بینف نیشنل پارک اس وقت کینیڈا کے مقبول ترین سیاحتی  شہروں  میں سے ایک  خوبصورت  شہر ہے۔ 1976 میں بین الاقوامی خلائی یونین اور خلائی اجسام کو نام دینے والے ادارے نے رسمی طور پر مریخ کے ایک گڑھے کا نام بینف رکھا۔ اس گڑھے کا قطر 5 کلومیٹر ہے۔سردیوں میں درجہ حرارت منفی 15 سے منفی پانچ تک رہتا ہے۔ گرمیوں میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت  22 ڈگری اور کم سے کم 7 ڈگری رہتا ہے۔ سال بھر برفباری کسی بھی وقت ہو سکتی ہے۔ سالانہ برف کی شرح 2 اعشاریہ 34 میٹر ہے۔ قدرتی مناظر کی خوبصورتی شروع ہو جاتی ہے اور بینف پہنچ کر تو بندہ عش عش کر اٹھتا ہے۔ یہ ایسا ٹاؤن ہے جیسا عموما ً فلموں میں دکھایا جاتا ہے، چاروں جانب سے پہاڑوں میں گھرا ہوا، کہیں آبشار گر رہی ہے تو کہیں جھرنے۔ شہر میں داخل ہوتے ہی احساس ہوتا ہے کہ اگر سیاحوں کیلئے ایک آئیڈیل جگہ بنانی ہو تو وہ ایسی ہوگی۔ بینف میں چلنے والی بسیں سیاحوں کو آس پاس کے خوبصورت مقامات تک لے جاتی ہیں، ہر بات کی رہنمائی کیلئے جگہ جگہ نقشے اور سمت کے نشان لگے ہیں، شہر کی ٹرانسپورٹ ایپ کے ذریعے بھی آپ معلومات لے سکتے ہیں۔ یہ سب باتیں ہم جیسے لوگوں کو بہت متاثر کرتی ہیں-کینیڈا اپنے شاندار اور قدیم قدرتی مناظر کے لیے مشہور ہے، اور بینف نیشنل پارک کو راکی ​​پہاڑوں کے دل میں ایک چمکتا ہوا  نگینہ سمجھا جاتا ہے۔ اپنے بلند و بالا پہاڑوں، کرسٹل صاف جھیلوں اور بھرپور ماحولیاتی نظام کے ساتھ، یہ دنیا بھر کے لاکھوں مسافروں کے لیے خوابوں کی منزل بن گیا ہے۔ 


بینف نیشنل پارک کی سیر نہ صرف فطرت میں غرق ہونے کا سفر ہے، بلکہ دلچسپ بیرونی سرگرمیوں کا تجربہ کرنے، مقامی ثقافت کے بارے میں جاننے اور ناقابل فراموش یادیں تخلیق کرنے کا موقع بھی ہے بینف نیشنل پارک دریافت کریں: کینیڈا کے دل میں ایک قدرتی جنت۔کینیڈا اپنے شاندار اور قدیم قدرتی مناظر کے لیے مشہور ہے، اور بینف نیشنل پارک کو راکی ​​پہاڑوں کے دل میں ایک چمکتا ہوا  ہیرا سمجھا جاتا ہے۔ اپنے بلند و بالا پہاڑوں، کرسٹل صاف جھیلوں اور بھرپور ماحولیاتی نظام کے ساتھ، یہ دنیا بھر کے لاکھوں مسافروں کے لیے خوابوں کی منزل بن گیا ہے۔ بینف نیشنل پارک کی سیر نہ صرف فطرت میں غرق ہونے کا سفر ہے، بلکہ دلچسپ بیرونی سرگرمیوں کا تجربہ کرنے، مقامی ثقافت1. بینف نیشنل پارک کی تلاش کی تاریخ اور اہمیت۔بینف نیشنل پارک، جو 1885 میں قائم ہوا، کینیڈا کا پہلا قومی پارک تھا۔ 1885 میں قائم کیا گیا، بینف نیشنل پارک کینیڈا کا پہلا قومی پارک ہے اور دنیا کے قدیم ترین پارکوں میں سے ایک ہے۔ اسے ابتدائی طور پر ریلوے کے کارکنوں نے دریافت کیا تھا جنھیں قدرتی گرم چشمے ملے تھے۔ اس کے بعد سے، بینف تیزی سے ایک مقبول سیاحتی مقام بن گیا ہے، جو بے شمار سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے اور یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی جگہ بن گیا ہے۔



بینف نیشنل پارک کی تلاش صرف ایک خوبصورت منظر کا سفر نہیں ہے بلکہ تاریخی جڑوں کی طرف واپسی بھی ہے۔یہ شہر ٹرانس کینیڈا ہائی وے پر واقع ہے۔تاریخ-1880 کی دہائی میں بینف کو پہلے پہل بسایا گیا۔ 1883 میں کینیڈین پیسیفک ریلوے کے ملازمین کو یہاں سلفر پہاڑ کے ایک جانب گرم پانی کے چشمے ملے۔ 1885 میں کینیڈا نے یہاں وفاقی ریزرو کے لیے 26 مربع کلومیٹر کا علاقہ مختص کر دیا۔ اس علاقے کو بین الاقوامی تفریحی اور سپا کے مرکز کے لیے ترویج دی جانے لگی۔ 1887 میں ریزرو کا علاقہ بڑھا کر 673 مربع کلومیٹر کر دیا گیا۔ اس وقت اسے راکی ماؤنٹین پارک کا نام دیا گیا۔ کینیڈا میں نیشنل پارک کے نظام کی یہ ابتدا ثابت ہوئی                       بینف کے شہر کو ریلوے اسٹیشن کے پاس سیاحتی مرکز کے طور پر بنایا گیا۔ اسے 1990 تک حکومت کے نیشنل پارک کے نظام نے چلایا جس کے بعد سے اسے کینیڈین نیشنل پارک کے اندر موجود شہر کا درجہ دے دیا گیا۔1884 میں اس علاقے کو لارڈ سٹیون نے بینف کا نام دیا۔ لارڈ سٹیون کینیڈین پیسیفک ریلوے کے ایک سابقہ ڈائریکٹر تھے۔ ان کی جنم بھومی کا نام بینف تھا جو سکاٹ لینڈ میں واقع ہے۔ کینیڈین پیسیفک ریلوے نے اپنی پٹڑی کے نزدیک بہت سارے ہوٹل بنائے اور بینف سپرنگز ہوٹل کو بین الاقوامی سیاحی مرکز قرار دیا۔2007 میں بینف کی کل آبادی 8721 افراد تھی جس میں سے 7437 افراد مستقل طور پر یہاں آباد ہیں۔ غیر مستقل آبادی کی تعداد 1284 افراد ہے۔ یہاں کا کل رقبہ 4 اعشاریہ 85 مربع کلومیٹر ہے۔ آبادی کی گنجانیت 1381 اعشاریہ 7 افراد فی مربع کلومیٹر ہے۔


 یہاں کل عمارات کی تعداد 2844 جبکہ مستقل طور پر آباد عمارتیں 2568 ہیں۔ اوسط سالانہ گھریلو آمدنی 55017 ڈالر ہے۔1985 میں اقوام متحدہ نے بینف نیشنل پارک کو کینیڈا کے راکی پہاڑی سلسلے کے پارکوں میں سے ایک اور عالمی ثقافتی ورثے کا حصہ قرار دے دیا۔  اس پارک میں  ہر تاریخی نشان سیاحت کی ترقی، فطرت کے تحفظ، اور مقامی لوگوں کی ثقافتی نقوش کی کہانیاں رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بنف سیاحوں کے لیے ایک خاص مقام بن گیا ہے. شاندار قدرتی خوبصورتی                       سے مالا مال بینف                     کینیڈا کے سب سے بڑے پرکشش مقامات میں سے ایک  ایسی دلکش  جگہ ہے ، جس کی  پورے کینیڈا میں کہیں اور مثال نہیں ملتی۔ 6,600 کلومیٹر سے زیادہ کے رقبے پر محیط یہ پارک ایک متنوع ماحولیاتی نظام کا حامل ہے، جس میں پہاڑ، گلیشیئر، وادیاں، جھیلیں اور گھنے جنگلات شامل ہیں۔یہاں کے طول و عرض میں  سردیوں میں سفید برف سے ڈھک جاتے ہیں  بینف نیشنل پارک کی سیر کرنا اپنے آپ کو ایڈونچر اور جوش میں پوری طرح غرق کرنے کا ایک موقع ہے۔بینف کا دورہ کرتے وقت سب سے زیادہ لطف اندوز ہونے والے تجربات میں سے ایک قدرتی گرم چشموں میں بھیگنا ہے Banff کا دورہ کرتے وقت سب سے زیادہ خوشگوار تجربات میں سے ۔ بینف اپر ہاٹ اسپرنگس          سلفر سے بھرپور پانی کے لیے مشہور ہے، جو   طویل دنوں کی تلاش کے بعد آرام  کے متلاشی  لوگوں کو            بھر پور  توانا   ہونے میں مدد کرتا ہے۔۔



 

مظفّرگڑھ صوبہ پنجاب کا ایک زرخیز شہر ہے-parT 2


رجب طیّب اردوان اسپتال -اگر ضلعے کی پَس ماندگی کی ایک بڑی وجہ، طویل عرصے سے یہاں کی سیاست میں چند خاندانوں کی اجارہ داری کو بھی قرار دیا جائے، تو غلط نہ ہوگا۔ ان خاندانوں میں کھر، قریشی، ہنجرا، بخاری، دستی، نواب، گرمانی، جتوئی، گوپانگ، چانڈیہ، لغاری اور سیال شامل ہیں۔ جب کہ ان ہی سرداروں میں سردار کوڑا خان مرحومؒ کی خدمات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا،جنہوں نے اپنی ہزاروں ایکڑ اراضی غریب و نادار لوگوں کے لیےوقف کرکے خدمتِ خلق کی عظیم مثال قائم کی۔ آج بھی ان کی جائیداد سے حاصل ہونے والی آمدنی نادار و مستحق افراد کی فلاح و بہبود پر خرچ کی جارہی ہے۔2010ء میں مظفّرگڑھ میں آنے والے بدترین سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔ ہزاروں لوگ بے گھر ہوگئے، سیکڑوں انسانی جانوں کا زیاں ہوا۔ تاہم، مشکل کی اس گھڑی میں دیگر ممالک کے علاوہ دوست ملک ترکی نے خصوصی طور پر یہاں کے مصیبت زدہ لوگوں کی دل کھول کر مدد کی۔ ترکی کے تعاون سے ڈیرہ غازی خان روڈ پر اعلیٰ معیار کا 300 بیڈز پر مشتمل ایک اسپتال تعمیر کیا گیا، جہاں روزانہ سیکڑوں مریضوں کے مفت علاج کے ساتھ مفت ادویہ بھی فراہم کی جاتی ہیں۔سردار کوڑا خان جتوئی-صرف یہی نہیں، بلکہ غریب،بے گھر افراد کے لیے 1400گھروں پر مشتمل رہایشی کالونی بھی تعمیر کی گئی۔


 ترکی کے تعاون سے بنایا گیا ’’رجب طیّب اردوان اسپتال‘‘ یہاں کے باسیوں کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں۔ بلاشبہ، دوست ملک تُرکی نے یہاں کے لوگوں کی ہر طرح سے مدد کرکے دوستی اور انسانی ہم دردی کی ایک بڑی مثال قائم کی۔ ضلعے کے دیگر مسائل کی بات کی جائے، تو یہاں کی ٹوٹی پھوٹی خستہ حال سڑکیں برسوں سے تعمیر و مرمت کی راہ دیکھ رہی ہیں، پورے ضلعے میں صحت و صفائی اور نکاسیِ آب کا نظام انتہائی ناقص ہونے کے باعث ہیپاٹائیٹس، تپِ دق اورگُردوں سمیت سرطان جیسے خطرناک موذی امراض کی شرح میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ فضائی آلودگی کے باعث آنکھوں، جِلد اور سانس کے امراض تیزی سے پھیل رہے ہیں۔ 2010 ءمیں آنے والے بدترین سیلاب کے بعد یہاں زیر ِزمین پینے کا پانی آلودہ ہونے سے متعدد بیماریاں پھیلنے لگیں، تو حکومتِ پنجاب کی جانب سے کروڑوں روپے کی لاگت سے صاف اور میٹھے پانی کا منصوبہ شروع کیا گیا، لیکن بدقسمتی سے یہ بھی کرپشن کی نذر ہوکر آج تک پایہ تکمیل کو نہ پہنچ سکا۔ اگرچہ سیلاب کی تباہی کے بعد بہت سے ممالک اور عالمی اداروں سے اربوں روپے کی امداد حاصل ہوئی، جس سے نئے سرے سے ایک نیا شہر بنایا جاسکتا تھا، تاہم بدقسمتی سے اس میں بھی زیادہ پیسا کرپشن ہی کی نذر ہوگیا۔ ضلعی انتظامیہ اور محکمہ جنگلات کے افسران کی ملی بھگت سے کئی سو ایکڑز پر موجود جنگلات کو اجاڑ دیا گیا، درختوں کی کٹائی کا یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے، جس کا سدّباب بے حد ضروری ہے۔


تھرمل پاور اسٹیشن-زرعی لحاظ سے یہاں کی زرخیز زمینیں بہترین پیداواری صلاحیت رکھتی ہیں، لیکن نہری پانی کی غیر مساوی تقسیم اور پانی کی چوری کے باعث چھوٹے کاشت کاروں کی زمینیں بنجر ہوتی جارہی ہیں۔ ضلعے کی زرخیز زمینوں کا بیش تر حصّہ سرکاری تحویل میں ہے، اگر یہ زمینیں کاشت کاری کے لیے غریب ہاریوں کو دے دی جائیں، تٖو کروڑوں روپے ماہانہ آمدنی حاصل کی جاسکتی ہے۔ تاہم، بدقسمتی سے ملک کے دیگر علاقوں کی طرح یہاں بھی قبضہ مافیا نے کل سرکاری رقبے کے آدھے سے زیادہ حصّے پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ شہر میں جگہ جگہ تجاوزات کے باعث بازار، سڑکیں اور گلیاں سکڑتی جارہی ہیں، جب کہ بسوں اور رکشوں کے غیر قانونی اڈوں اور بے ہنگم ٹریفک نے بھی شہر کا حُسن ماند کردیا ہے۔ اگرچہ موجودہ حکومت نے دوسرے اضلاع کی طرح مظفّرگڑھ میں بھی تجاوزات اور قبضہ مافیا کے خلاف آپریشن شروع تو کیا ہے، لیکن سیاسی مداخلت کے باعث حالیہ آپریشن بُری طرح ناکام ہوتا نظر آتا ہے۔


ضلع مظفّر گڑھ سے تعلق رکھنے والے بہت سے سیاست دانوں نے ملک گیر شہرت پائی، جن میں نواب زادہ نصر اللہ خان، غلام مصطفیٰ کھر، سردار عبدالقیوم خان، نصرللہ خان جتوئی، حنا ربانی کھر اور جمشید احمد خان دستی کے علاوہ علم و فکر کے اعتبار سے پروفیسر شاہدہ حسین مرحوم، پروفیسر ڈاکٹر کریم ملک مرحوم، شجاعت مندخان، پروفیسر ڈاکٹر محمد شعیب خان قلندرانی اور محمد جمیل کے نام قابلِ ذکر ہیں، جب کہ مضطر بخاری اور رضا ٹوانہ نام وَر شاعر گزرے ہیں اور صحافتی حوالے سے خان عبدالکریم خان ،اعجاز رسول بھٹّہ، اے بی مجاہد اور عبدالسمیع خان کی خدمات کو بھی کسی صورت فراموش نہیں کیا جاسکتا۔فنون لطیفہ کے حوالے سے مظفرگڑھ کے بڑے اور نامور نام پیش خدمت ہیں گلوکار استاد پٹھانے خاں, گلوکار استاد شوکت علیم, اداکار توقیر ناصر, اداکارہ سائرہ خان, اداکار شیخ اسد عاقب, اداکار بلال اعوان, اداکار عرفان ساگر, اداکار ادریس ملک, شاعر کشفی ملتانی, شاعر مخدوم غفور ستاری, شاعر انور سعید انور, شاعر خلیل مرزا, شاعر سعید اختر سعید, شاعر مخدوم نوید ستاری, شاعر رضا ٹوانہ, شاعر افضل چوہان, شاعر احمد سعید گل, شاعر سلیم نتکانی, شاعر شکیل عادل-جبکہ صحافت کے شہسواروں  میں عون رضا گوپانگ۔ اعجاز رسول بھٹہ۔ اے بی مجاہد۔ شیخ کاشف نذیر محمد عدنان مجتبی بہترین اور بے باک صحافت میں مشہور ہیں

جمعہ، 2 جنوری، 2026

مظفّرگڑھ صوبہ پنجاب کا ایک زرخیز شہر ہے-parT 1

 تاریخی اعتبار سے اہمیت کا حامل ،مظفّرگڑھ، صوبہ پنجاب کا ایک زرخیز شہر ہے، جس کی بنیاد، اُس وقت کے ملتان کے حاکم، نواب مظفّر خان نے 1794ء میں رکھی۔قبل ازیں اس ضلعے کا نام خان گڑھ تھا۔ 1849 ء میں انگریزوں کے زیر تسلط آجانے کے بعد تک اس کا ہیڈکوارٹر، خان گڑھ اور نام ضلع خان گڑھ ہی رہا۔ اس وقت یہ 4 تحصیلوں رنگ پور، کنجھر، خان گڑھ اور سیت پور پر مشتمل تھا، جب کہ گڑھ مہاراجہ اور احمد پور سیال بھی اس کا حصّہ تھے۔1861ء میں مظفّر گڑھ سے رنگ پور تحصیل ختم کرکے، گڑھ مہاراجہ اور احمد پور کے علاقے جھنگ اورکوٹ ادّو، ضلع لیّہ سے علیحدہ کرکےاس میں شامل کردیئے گئے۔ بعدازاں، 1909ء میں لیّہ کوبھی مظفّرگڑھ سے علیحدہ کرکے اور ضلعے کا درجہ دے کراس کا ڈیرہ غازی خان سے الحاق کردیا گیا۔مسجد سکینۃ الصغریٰ-ضلع مظفّرگڑھ اپنی تہذیب و ثقافت،زراعت و صنعت،سیاست و تجارت،علم و ادب اور جغرافیائی محلِ وقوع کی بنا پر منفرد مقام رکھتا ہے۔ اس کی 4 تحصیلیں کوٹ ادّو،مظفّرگڑھ،علی پور اور جتوئی ہیں۔ مشرق میں دریائے چناب اور مغرب میں دریائے سندھ بہتے ہیں۔40لاکھ سے زائد آبادی کے اس ضلعے کا کُل رقبہ 8250 کلومیٹر پر محیط ہے۔مقامی زبان سرائیکی کے علاوہ یہاںپنجابی اور اردو بھی بولی جاتی ہے۔87 فی صد لوگ دیہات اور 13 فی صد شہروں میں رہتے ہیں۔ آب و ہوا مجموعی طور پر گرم اور خشک ہے اورزیرِ کاشت رقبہ گیارہ لاکھ بیس ہزار آٹھ سو نوّے ایکڑ ہے۔


 اہم فصلوں میں گندم، کپاس، گنّا، چاول شامل ہیں، جب کہ کھجور، آم اور انار کے باغات ضلعے کی وجۂ شہرت ہیں۔ تمام قسم کی سبزیوں کی پیداوار کے علاوہ لائیو اسٹاک اور فشریز میں بھی مظفّرگڑھ کا شمار صف ِاوّل میں ہوتا ہے۔ ضلعے کے 984 مواضعات میں بہترین نہری نظام موجود ہے، جو زرعی زمینوں کو سیراب کرتا ہے، جب کہ کوٹ ادّو کے نزدیک تونسہ بیراج اور علی پور کے نزدیک ہیڈ پنجند میں پانچوں دریائوں کا ملاپ ہوتا ہے۔ ڈیلٹائی خصوصیات کی بِنا پر فصلوں اور پھلوں کا معیاراعلیٰ ہے، تو ریونیو کے اعتبار سے بھی مظفّر گڑھ صوبے بھر میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔یہاں کے زیادہ تر غریب اور محنت کش طبقے کا گزر بسر محنت مزدوری اور کھیتی باڑی پرہے، جس کی وجہ سے خواندگی کی شرح خاصی کم ہے۔حنا ربانی کھر-1964ء میں پہلی تھل جوٹ مِل (ایشیا کی سب سے بڑی جوٹ مل) کے قیام کے بعد سے مظفّرگڑھ میں ترقی کا دَورشروع ہوا،اس سے قبل یہاں کے باشندوں کا ذریعۂ معاش کھیتی باڑی تک محدود تھا۔ اس وقت ضلعے میں متعدد ٹیکسٹائل، جوٹ، کاٹن، شوگر اور فلورملز کے علاوہ 300رجسٹرڈ کارخانہ جات بھی ہیں، جب کہ یہاں قائم 3بڑے تھرمل پاور اسٹیشن پورے ملک میں پیدا ہونے والی بجلی کا بیس فی صد سے زائد مہیّا کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں، 1996ء میں قصبہ گجرات میں قائم کی گئی ایک وسیع آئل ریفائنری سے روزانہ ایک لاکھ بیرل تیل پورے ملک کو سپلائی کیا جاتا ہے۔سردار کوڑا خان پبلک ہائر سیکنڈری اسکو


ل-1770ء سے 1794ء کے دوران تعمیر کیے گئے قلعہ مظفّر گڑھ اور قلعہ خان کے علاوہ قلعہ محمود کوٹ،قلعہ غضنفر گڑھ،قلعہ دائرہ دین پناہ،قلعہ شاہ گڑھ جیسے تاریخی مقامات اگرچہ ماضی کا حصّہ بن چکے ہیں، تاہم ان کی باقیات اور نشانیاں اب بھی ماضی بعید کی یاددلاتی ہیں۔ 1475 ء میں تعمیر کی گئی شاہی مسجد اور مقبرہ طاہر خان نہڑبھی تاریخی اعتبار سے اہمیت کے حامل ہیں، جب کہ 1909ء میں تعمیرکیا گیا ’’وکٹوریہ میموریل ہال‘‘ بھی اپنی مثال آپ ہے۔ 1988 ء میں اس وقت کے ڈپٹی کمشنر نے اس کا نام تبدیل کرکے ’’یادگار کلب‘‘ رکھ دیا۔جتوئی شہر کے نزدیک گاؤں کوٹلہ رحم علی شاہ میں واقع مسجد’’ سکینتہ الصغریٰ‘‘ ترک فنِ تعمیر کا نمونہ، ہے، جو32 گنبدوں اور 2 بڑے میناروں پر مشتمل ہے۔مسجد کا کل رقبہ 52 کنال ہےاور اس میں 5 ہزار افراد کے نماز پڑھنے کی گنجائش ہے۔شہر کا واحد ’’فیاض پارک‘‘ قریباً4 دہائی قبل اُس وقت کے ڈپٹی کمشنر فیاض بشیر کی ذاتی دل چسپی اور کاوش سے قائم ہوا، تاہم یہ خوب صورت پارک بھی سیاست اور کرپشن کی نذر ہوکر اجڑ گیا، اور اب نشے کے عادی افراد اور ہیروئنچیوں کی آماج گاہ ہے، جب کہ سعودی فرماں رواں، شاہ فیصل کے نام پر تعمیر کیا گیا ’’فیصل اسٹیڈیم‘‘ بھی ضلعی انتظامیہ کی عدم توجہی کے باعث ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کرقریباً غیر فعال ہوچکا ہے۔ اسی طرح برطانوی دورِحکومت میں بنائے جانے والے ریلوے اسٹیشن سمیت اس دَور میں تعمیر کیے گئے ڈپٹی کمشنرآفس، ڈسٹرکٹ جیل، ضلع کاؤنسل ہال، پوسٹ آفس، محکمہ انہاراور محکمہ صحت کے دفاتربھی اپنی مدت پوری کرکے بوسیدہ اور ناکارہ ہوچکے ہیں


، لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ان قدیم تعمیرات پر خصوصی توجّہ دے کر انہیں دوبارہ ماضی کی طرح جاذبِ نظراور فعال بنایا جائے۔مظفّرگڑھ میں ہیڈ تونسہ بیراج اور ہیڈ پنجند جیسے اہمیت کے حامل مقامات بھی اپنی مثال آپ ہیں۔تاہم،بدقسمتی سے وافر آمدنی کے حامل ضلعے میں درست حکمتِ عملی کے فقدان اور کرپشن کے باعث پَس ماندگی اور غربت میں اضافہ ہی ہوتاجارہا ہے۔یہاں کے لاتعداد مسائل میں معیاری تعلیم کا فقدان، غربت، بنیادی سہولتوں کی عدم دستیابی، جاگیرداری نظام، کرپٹ سیاست دان اور بیورو کریسی وغیرہ سرفہرست ہیں۔ اگرچہ متعدد تعلیمی ادارے تو تعمیر کردیے گئے، لیکن ملّت کی تعمیر جیسے عظیم مقصد کو پسِ پشت ڈالنے کے باعث ضلعے میں جرائم کی شرح بڑھتی جارہی ہے۔ غیرت کے نام پر قتل، خودکشی، قتل و اقدامِ قتل، خواتین پر تشدد، لڑائی جھگڑے، اغوا و زیادتی، چوری ڈکیتی، گھریلو جھگڑے اور طلاق کے واقعات کی شرح خطرناک حد تک پہنچ چکی ہے۔ ستم بالائے ستم متعدد وسائل کے باوجود یہاں کے عوام بنیادی سہولتوں تک سے محروم ہیں۔ سرکاری اسپتال تو موجود ہیں، لیکن علاج معالجے کی دیگر سہولتوں اور ادویہ کی کمی کے باعث تقریباً غیرفعال ہیں۔ پھرموذی اور وبائی امراض کے حوالے سے آگاہی نہ ہونے اور علاج معالجے کی ناکافی سہولتوں کے باعث بھی ہر سال ہزاروں موت کے منہ میں جارہے ہیں۔


 

جمعرات، 1 جنوری، 2026

شوگر کوٹڈ کونین کی گولی'آؤٹ سورس

 

اسلام آباد (خبر نگار خصوصی) نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت اسلام آباد، کراچی اور لاہور کے ہوائی اڈوں کی آئوٹ سورسنگ سے متعلق سٹیئرنگ کمیٹی کا 10واں اجلاس جمعرات کو یہاں میں منعقد ہوا۔ نائب وزیراعظم کے آفس سے جاری بیان کے مطابق اجلاس میں وزیر دفاع و ہوابازی، وزیر قانون و انصاف، سیکرٹری ایوی ایشن، بورڈ آف انویسٹمنٹ، سول ایوی ایشن اتھارٹی کے حکام اور انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (آئی ایف سی) کی ٹیم نے شرکت کی۔ آئی ایف سی ٹیم نے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی آئوٹ سورسنگ پر پیشرفت رپورٹ پیش کی اور بتایا کہ مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں پر مشتمل مختلف کنسورشیمز کے درمیان صحت مند مقابلہ 15 جولائی 2024ء کو متوقع ہے۔ سٹیئرنگ کمیٹی نے لاہور اور کراچی ایئرپورٹس کی آئوٹ سورسنگ پر پیشرفت کا بھی جائزہ لیا اور اب تک کیے گئے کام پر اطمینان کا اظہار کیا۔ منصوبے کے مطابق دونوں ہوائی اڈوں کے لئے رعایتی ڈھانچہ اس سال اگست کے وسط تک تیار ہوجائے گا۔ بیان کے مطابق اجلاس میں اس توقع کا اظہار کیا گیا کہ اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی آئوٹ سورسنگ کے نتیجے میں صارفین کو بہتر تجربے کے ساتھ عالمی معیار کی سروس میسر آئے گی۔کراچی : وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کی جانب سے کراچی، لاہور اور اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے آپریشنز کو آؤٹ سورس کرنے کے حوالے سے اقدامات کے بعد اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔


اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ کراچی، لاہور اور اسلام آباد ایئرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ کے معاملے میں متحدہ عرب امارات، قطر، ترکیہ، چین اور سعودی عرب کی خصوصی دلچسپی لے رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق یو اے ای نے اسلام آباد ایئرپورٹ کو ٹھیکے پر لینے میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے، سعودی عرب کی بھی پاکستان کے ایئرپورٹس آؤٹ سورسنگ پر لینے کیلئے کوششیں جاری ہیں۔قطر حکومت ایئرپورٹ کارگو شعبہ لینے میں زیادہ دلچسپی رکھتی ہے، حکومت کراچی، لاہور، اسلام آباد ائیرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ کا ارادہ رکھتی ہے۔’’اسلام آباد ایئرپورٹ کو آؤٹ سورس کردیا جائے گا‘‘ایرپورٹس آؤٹ سورسنگ کے لیے عالمی بینک کا ذیلی ادارہ انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن بطور فنانشل ایڈوائزرز سی اے اے پاکستان کے لیے کام کر رہا ہے۔فائل فوٹو: اے ایف پیملک کے تین اہم ایئرپورٹس کی آؤٹ سورسنگ اور پی آئی اے کی نجکاری کے لیے وفاقی وزیر دفاع اور ہوا بازی خواجہ آصف کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دے دی گئی۔ڈان نیوز کے مطابق وفاقی کابینہ نے کمیٹی کی تشکیل کی منظوری دے دی جس کے بعد کمیٹی کی تشکیل کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی ایئرپورٹ مینجمنٹ کی آؤٹ سورسنگ کا جائزہ لے گی اور پی آئی اے کی نجکاری سے متعلق امور کی نگرانی بھی کرے گی۔کمیٹی ارکان میں وزیر نجکاری عبدالعلیم خان کے ساتھ ساتھ وزیر خارجہ اسحٰق ڈار، ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن، سیکریٹری نجکاری اور سیکریٹری ہوا بازی ڈویژن بھی شامل ہیں۔



ہوا بازی ڈویژن کمیٹی کے لیے سیکریٹریل سپورٹ فراہم کرے گیااس سے قبل رواں ہفتے حکومت نے غیرملکی سرمایہ کاروں اور بین الاقوامی مالیاتی کارپوریشنز کی درخواست پر ملک کے تین اہم ایئرپورٹس کی مینجمنٹ اور آپریشنز کے امور آؤٹ سورس کرنے کے لیے بولیاں جمع کرانے کا عمل دو ماہ کے لیے موخر کردیا تھا۔اسلام آباد، کراچی اور لاہور ایئرپورٹ کی مینجمنٹ اور آپریشنز کے امور آؤٹ سورس کرنے کے لیے بولیاں جمع کرانے کا عمل موخر کرنے کا فیصلہ وزیر خارجہ اسحٰق ڈار کی زیر صدارت ہونے والے اسٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا تھا۔پاکستان-اسلام آباد ایئرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ کیلئے ٹینڈر کی تاریخ میں 2 ماہ توسیع کا فیصلہ-سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) نے اسلام آباد ایئرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ کے لیے ٹینڈر کی تاریخ میں توسیع کا فیصلہ کرلیا۔ڈان نیوز‘ کے مطابق سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ٹینڈر کی تاریخ میں 2 ماہ کی توسیع کردی ہے۔سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ٹینڈر کی تاریخ میں توسیع کا نیا حکم نامہ جاری کردیا اور اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ کے لیے بولی کی تاریخ 15 مئی مقرر کردی ہے۔اسلام آباد ایئرپورٹ کو ٹھیکے پر لینے میں دلچسپی رکھنے والی ملکی اور بین الاقوامی کمپنیوں سے درخواستیں بھی طلب کرلی گئی ہیں۔


حکم نامے کے مطابق حکومت اسلام آباد کراچی اور لاہور ایرپورٹس کی آؤٹ سورسنگ کے ذریعے اربوں روہے فنڈز اکٹھا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، پہلے مرحلے میں اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ 31 دسمبر 2022 کو وفاقی حکومت نے ملک میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کی راہ ہموار کرنے کے لیے پہلے مرحلے میں ملک کے 3 ہوائی اڈوں کو انٹرنیشنل آپریٹرز کے ذریعے چلانے کا فیصلہ کیا تھا۔بعدازاں 27 جون 2023 کو حکومت نے فیصلہ کیا تھا کہ ہوائی اڈوں کی آؤٹ سورسنگ کو فی الحال صرف اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ تک محدود رکھا جائے گا۔16 جولائی 2023 کو اُس وقت کے وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے اسٹیک ہولڈرز سے کہا تھا کہ وہ اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے آپریشنز کو آؤٹ سورس کرنے کے لیے 12 اگست تک تمام رسمی کارروائیوں کو حتمی شکل دے دیں۔12 اگست 2023 اُس وقت برسراقتدار پی ڈی ایم حکومت کی مدت کا آخری دن تھا، امکان یہی ظاہر کیا جارہا تھا کہ اسلام آباد ایئرپورٹ 12 اگست تک آؤٹ سورس کردیا جائے گا تاہم ایسا نہ ہوسکا اور نگران حکومت نے اقتدار سنبھال لیا۔


جسٹس کے ایم صمدانی'عدلیہ کا تابناک چہرہ

  معزز جج کی یاد آج اس لیے آئی ہے  اس بہادر جج نے کسی کرنل یا بریگیڈیئر کے سامنے نہیں چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر جنرل ضیاء الحق کے سامنے انکار کیا اور اسی انکار نے انہیں تاریخ میں ہمیشہ کیلئے زندہ کردیا۔ ۔ کہ اگر وہ بھی کسی بند کمرے میں تھوڑا سا جھک جاتے اور کسی فیصلے کے ذریعے تھوڑا سا گر جاتے تو بڑی آسانی سے لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس بن جاتے۔ مزید جھکتے جھکاتے سپریم کورٹ بھی پہنچ جاتے اور آخر ایک دن چیف جسٹس آف پاکستان بھی بن جاتے لیکن وہ ایک اصلی جج تھے لہٰذا نہ تو بند کمرے میں جھکے اور نہ ہی کسی عدالتی فیصلے میں اپنے آپ کو گرایا بلکہ طاقت کے سامنے کھڑے ہو کر انکار کر دیا۔ اور اب تاریخ میں امر ہو چکے ہیں سلام ہے اس مرد مجاہد جسٹس صمدانی کے انکار کو گورڈن کالج راولپنڈی کا قابل فخر طالب علم ایک جج کے انکار کی کہانیا ںآ                          ج کل اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان کو عہدوں کے حصول اور نوکریاں بچانے کیلئے اپنے آپ کو طاقتور لوگوں کے سامنے جھکتے دیکھتا ہوں تو مجھے ایک جج صاحب بہت یاد آتے ہیں جو واقعی معزز تھے۔ اس معزز جج کی یاد اسلئے آئی ہے کہ اگر وہ بھی کسی بند کمرے میں تھوڑا سا جھک جاتے اور کسی فیصلے کے ذریعے تھوڑا سا گر جاتے تو بڑی آسانی سے لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس بن جاتے۔



 مزید جھکتے جھکاتے سپریم کورٹ بھی پہنچ جاتے اور ایک دن چیف جسٹس آف پاکستان بھی بن جاتے لیکن وہ ایک اصلی جج تھے لہٰذا نہ تو بند کمرے میں جھکے نہ ہی کسی عدالتی فیصلے میں اپنے آپ کو گرایا بلکہ طاقت کے سامنے کھڑے ہو کر انکار کردیا۔ جسٹس صمدانی کی زندگی کے واقعات پر نظر ڈالیں تو یقین نہیں آتا کہ کوئی جج اتنا درویش بھی ہو سکتا ہے کہ سچائی اور انصاف کی خاطر عدلیہ کے اعلیٰ ترین عہدوں کے پاس پہنچ کر بھی سب کچھ ٹھکرا دیا۔ جسٹس کے ایم صمدانی حیدرآباد دکن کے علاقے کریم نگر میں 1932ء میں پیدا ہوئے۔ قیام پاکستان کے کچھ عرصہ بعد ہجرت کرکے پاکستان آگئے۔ گورڈن کالج راولپنڈی میں پروفیسر خواجہ مسعود جیسے استاد کے شاگرد بنے۔ غیرمعمولی ذہانت کے باعث اسکالر شپ حاصل کیا اور امریکا کی ییل یونیورسٹی سے ایل ایل ایم کیا۔ سی ایس ایس کا امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کرکے اعلیٰ سرکاری افسر بننے کی بجائے جوڈیشل سروس میں آگئے۔ ایک نوجوان ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی حیثیت سے کام شروع کیا تو جنرل ایوب خان پاکستان کے حکمران تھے۔ ایک دن عدالت میں بیٹھے تھے کہ ایک خاتون حکمرانِ وقت کی والدہ کا سفارشی خط لیکر آئیں۔ جسٹس کے ایم صمدانی نے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ خاتون نے بڑی تمکنت سے کہا جنرل ایوب خان کی والدہ کا خط ہے۔ جج صاحب نے یہ خط پھاڑ کر آتش دان میں پھینک دیا


۔ جب ان کی پوسٹنگ سیالکوٹ میں تھی تو ایک دن چیف جسٹس آف پاکستان اے آر کارنیلئس ایک ڈسپنسری کے افتتاح کیلئے وہاں آئے۔ ڈسپنسری کا افتتاح وہ ذاتی حیثیت میں کرنے آئے۔ شہر کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کے ایم صمدانی کو چیف جسٹس آف پاکستان کا استقبال کرنا چاہئے تھا لیکن یہ ان کے فرائض میں شامل نہ تھا لہٰذا انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان کو نظر انداز کردیا -رقیبوں نے چیف جسٹس کے سامنے کافی لگائی بجھائی کی لیکن اے آر کارنیلئس بھی ایک اصول پرست جج تھے انہوں نے کے ایم صمدانی کی گستاخی نظرانداز کردی۔ 1972ء میں جسٹس کے ایم صمدانی کو لاہور ہائیکورٹ میں جج مقرر کردیا گیا۔ 1977ء میں مارشل لانافد ہوگیا تو کچھ عرصے کے بعد وہ لاہور ہائیکورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس بن گئے۔ ذوالفقار علی بھٹو پر احمد رضا قصوری کے والد نواب محمد احمد خان کے قتل کا پرانا مقدمہ کھول کر دوبارہ تحقیقات کی ذمہ داری ایف آئی اے کو سونپی گئی۔ بھٹو صاحب کوٹ لکھپت جیل میں تھے اور ان کے وکلا ہائیکورٹ کے ذریعہ بھٹو صاحب کیلئے چھوٹی چھوٹی سہولتیں حاصل کرنے لگے جنکی قانون میں گنجائش موجود تھی۔ ایک دفعہ جسٹس کے ایم صمدانی نے بھٹو صاحب کو جیل میں کاغذ اور قلم فراہم کرنیکا حکم دیا تو انکے ساتھی جج جسٹس مولوی مشتاق حسین ان کے پاس آئے اور کہا کہ صمدانی صاحب آپ تو بھٹو کو کچھ زیادہ ہی فیور دے رہے ہیں۔ صمدانی صاحب نے جواب میں کہا کہ بطور جج میں آپ کا ماتحت نہیں مجھے بہتر علم ہے کہ میں نے عدالت میں کیا کرنا ہے۔ کچھ ہی دنوں بعد ذوالفقار علی بھٹو کی درخواست ضمانت دائر کردی گئی۔ جسٹس کے ایم صمدانی قائم مقام چیف جسٹس تھے انہوں نے بطور سینئر جج اپنی عدالت میں اس درخواست کی سماعت کی اور بھٹو کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔ذوالفقار علی بھٹو کی ضمانت پر رہائی نے جنرل ضیاءالحق کو آگ بگولا کر دیا۔ انہوں نے پنجاب کے مارشل لا ایڈمنسٹریٹر سے پوچھا تم نے بھٹو کو رہائی کے بعد گرفتار کیوں نہ کیا؟ جنرل اقبال نے جواب میں کہا کہ بھٹو کیخلاف کوئی دوسرا مقدمہ نہیں تھا۔ پھر بھٹو کو مارشل لا ریگولیشن کے تحت گرفتار کرلیا گیا۔


 جسٹس مولوی مشتاق حسین کے جنرل ضیاء الحق سے قریبی روابط تھے۔ وہ پہلے ہی جنرل ضیاء کو جسٹس کے ایم صمدانی سے بدظن کر چکے تھے لہٰذا صمدانی صاحب کو انکے عہدے سے ہٹا کر وفاقی سیکرٹری قانون بنا دیاگیا اور مولوی مشتاق حسین لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس بن گئے۔ 1979ء میں ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل کے بعد جنرل ضیاء الحق ایک ایسے خونخوار فوجی ڈکٹیٹربن چکے تھے جن کو امریکا کی پشت پناہی بھی حاصل تھی۔ ایک دن فوجی ڈکٹیٹر کابینہ کے اجلاس کی صدارت کر رہا تھا۔ اجلاس میں تمام وفاقی سیکرٹری بھی موجود تھے۔ فوجی ڈکٹیٹر نے بڑی رعونت سے کہا کہ بعض سیکرٹری بڑے کرپٹ ہیں میرا جی چاہتا ہے کہ انکی پتلون اتار کر انہیں الٹا لٹکا دوں۔ اس فقرے کے بعد کابینہ کے اجلاس میں سناٹا چھا گیا۔ وفاقی سیکرٹری  وفاقی سیکرٹری ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ سب خاموش تھے سب کو اپنی نوکری کی فکر تھی۔ جسٹس کے ایم صمدانی بدستور جج تھے۔ ڈیپوٹیشن پر لا سیکرٹری بنائے گئے تھے۔ وہ اجلاس میں کھڑے ہوگئے اور کہا کہ جنرل صاحب! میرا بھی جی چاہتا ہے کہ کرپٹ جرنیلوں کی پتلون اتار کر انہیں الٹا لٹکا دوں۔ یہ سنکر جنرل ضیاء سٹپٹا گئے۔ اجلاس میں بریک لیا گیا تو جنرل ضیاء نے جسٹس کے ایم صمدانی کو علیحدگی میں بلایا اور کہا کہ آپ مجھ سے معذرت کریں۔ جسٹس کے ایم صمدانی نے جواب دیا کہ اجلاس دوبارہ شروع ہوتے ہی آپ اپنے الفاظ واپس لیں تو میں بھی اپنے الفاظ واپس لے لوں گا۔ جنرل ضیاء نے معذرت سے انکار کیا تو جسٹس کے ایم صمدانی نے بھی معذرت سے انکار کر دیا۔ مارچ 1980ء میں پیش آنیوالا یہ واقعہ جسٹس کے ایم صمدانی نے کئی سال کے بعد جناب عامر خاکوانی کو خود سنایا تھا۔ جنرل ضیاء نے انہیں واپس لاہور ہائیکورٹ بھیج دیا۔ 1981ء میں ججوں سے کہا گیا کہ پی سی او پر حلف لو۔ جسٹس کے ایم صمدانی نے پی سی او پر حلف لینے سے انکار کردیا۔ جی او آر لاہور میں گیارہ ایکمین روڈ پر انکی سرکاری رہائشگاہ تھی۔ ساتھی ججوں اور وکلا نے کہا کہ جج صاحب حلف لے لیں اور چیف جسٹس بن جائیں۔ انکی عمر صرف 46 برس تھی۔  انکار پر قائم رہے اور استعفیٰ دیدیا۔ اس وقت سب سے چھوٹی بیٹی کی عمر صرف پانچ سال تھی۔ پھر انکے دربدر ہونے کی ایک لمبی کہانی ہے لیکن ابنِ عربی اور واصف علی واصف کے مداح اس درویش جج کا جرنیل کے سامنے انکار انہیں تاریخ میں ہمیشہ کیلئے زندہ کرگیا۔ آج کل کے اکثر ججوں کو تاریخ میں زندہ رہنے کا کوئی شوق نہیں لہٰذا وہ بند کمروں میں اقرار کرکے بہت کچھ پا لیتے ہیں

انٹر نیٹ سے ماخوذ تحریر

میوزیم ' آرٹ گیلریزاور اعلیٰ تعلیمی اداروں کا شہر مانٹریال

 

مونٹریال ٹورنٹو کے بعد کینیڈا کا دوسرا سب سے بڑا شہر ہے جس کی تخمینہ 4 ملین سے زیادہ آبادی ہے۔ کینیڈا میں مونٹریال تجارت، فن تعمیر، فنون اور ثقافت میں بہت اہم ہے کیونکہ یہ کینیڈا کے سب سے زیادہ فعال سماجی مرکزوں میں سے ایک ہے۔  یہاں کی ثقافت، متنوع تفریح ​​اور غیر معمولی طور پر قبول کرنے والے لوگوں نے کینیڈا اور دنیا بھر سے لوگوں کو بڑی تعداد میں مونٹریال آنے کی طرف راغب کیا ہے۔ مشہور سیاحتی مقامات میں سے ایک اولڈ مونٹریال ہے، جو مونٹریال شہر کی ابتدائی تاریخ کا ایک زندہ میوزیم ہے۔ مونٹریال شہر میں بھی دوستانہ اور خوشگوار رہائشی ہیں جو شہر کے دورے کو بہت یادگار بناتے ہیں۔ گلیوں اور شہر کے راستوں کی گہرائی میں رہتے ہوئے، شہر کے چاروں طرف پر سکون، پُرسکون اور پُرسکون ماحول کی وجہ سے ہمیشہ امن و سکون کا یقین دلایا جاتا ہے۔مونٹریال کی متنوع ثقافتی واقفیت                          تقریباً تمام انسانی تہذیبوں کی ایک مقبول ثقافت ہے جس سے وہ منسلک ہیں کیونکہ ثقافت ایک علامتی اظہار کے طور پر کام کرتی ہے جس کے ذریعے اس کے حامی اپنے اصولوں اور نظریات کو جوڑتے ہیں اور ان کا ایک دوسرے کے ساتھ بہت زیادہ اعتراف کرتے ہیں۔ جیسا کہ یہ پتہ چلتا ہے، ثقافت کسی بھی کمیونٹی کے لئے بہت اہم ہے. چاہے کوئی ہم عصر ہپ ہاپ ثقافت یا شہر کے رہائشیوں یا اس کے متعدد تارکین وطن کی کسی دوسری ثقافت کی تلاش کر رہا ہو، مونٹریال شہر میں پیش کرنے کے لیے سب کچھ ہے۔


 اپنے تاریخی، دلکش، ملنسار اور متنوع ثقافتی رجحان کی وجہ سے، مونٹریال میرے لیے بالکل اسی طرح دلچسپی کا مرکز بن گیا جس طرح دوسرے لوگ سال کے چار موسموں میں شہر کی سیر کرتے اور آتے ہیں۔ یہ شہر کئی سالوں سے وجود میں ہے اور میں نے مانٹریال میں ہونے والی کارروائی کو ناقابل یقین حد تک ناقابل یقین پایا، جس کی وجہ سے یہ شاید صوبہ کیوبیک کا واحد شہر ہے جس نے اتنی ساری ذیلی ثقافتوں اور مختلف طرز زندگی کو ایک ساتھ رکھا ہے۔مونٹریال میں فروغ پزیر آرٹس اور میڈیا انڈسٹریزمیں یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ مونٹریال میں آرٹس اور میڈیا کی صنعتیں بہت زیادہ ترقی یافتہ ہیں، فیشن اور آرٹ شوز کے ساتھ جو شہر کی فیشن انڈسٹری کا ایک اہم حصہ بھی ہیں۔ شہر کے لوگ بہت سے تہواروں کا انعقاد کرتے ہیں، جو لوگوں کی ثقافت سے منسلک ہوتے ہیں اور ان کی ثقافت، اقدار اور اصولوں کو منانے میں مدد کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، مونٹریال جاز فیسٹیول شاید شہر کا اب تک کا سب سے بڑا میوزیکل موقع ہے۔ ہر سال، دنیا بھر سے سینکڑوں نامور موسیقار اور موسیقی کے ہزاروں شائقین پرفارمنس میں شرکت کے لیے سفر کرتے ہیں جو کہ شہر کے ثقافتی رجحان کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے میں مدد کرتے ہیں۔


مانٹریال کا شہر کیوبیک کے صوبے کے جنوب مغربی حصے میں واقع ہے۔ شہر کا اصل رقبہ جزیرے کے بڑے حصے پر سینٹ لارنس اور اوٹاوا دریا کے سنگم پر واقع ہے۔ مانٹریال کی بندرگاہ سینٹ لارنس کی آبی گذرگاہ کے ایک سرے پر واقع ہے۔ یہ آبی گذرگاہ عظیم جھیلوں کو بحرِ اوقیانوس سے ملاتی ہے۔ شہر کا نام جزیرے کے سب سے اہم اور نمایاں جغرافیائی مقام یعنی رائل نامی پہاڑ کے نام پر رکھا گیا ہے۔ یہ پہاڑ انگریزی میں ماؤنٹ رائل کہلاتا ہے اور سطح سمندر سے 232 میٹر بلند ہے۔مونٹریال - ڈیزائن اور فیشن کا ایک مرکزمزید برآں، مجھے پتہ چلا کہ مونٹریال یقینی طور پر ڈیزائنرز کا شہر ہے کیونکہ یہ شہر بڑی تعداد میں پیشہ ورانہ ڈیزائنرز کی میزبانی کرتا ہے جو بڑے پیمانے پر شہر کے ثقافتی شعبے کے معاشی اثرات میں حصہ ڈالتے ہیں۔ شہر کی انتظامیہ نے ایسی حکمت عملی وضع کی ہے جس نے ان ڈیزائنرز کے کاروبار کو بڑھایا اور بہتر بنانے میں مدد کی ہے، اس طرح شہر کو عالمی فیشن کے نقشے پر رکھا گیا ہے۔ شہر میں ایسے مقامات کی ایک قابل ذکر تعداد بھی ہے جو بین الاقوامی ڈیزائن کی سرگرمیاں منعقد کرتی ہیں جیسے کہ Université du Québec کے ڈیزائن سینٹر۔مونٹریال میں تعلیم اور ثقافتی ترقی              تعلیم شہر کی ثقافتی ترقی


 
 مونٹریال میں متعدد تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ میوزیم اور آرٹ گیلریوں کا ایک بڑا نیٹ ورک بھی ہے۔ مثال کے طور پر مونٹریال میوزیم آف فائن آرٹس میں کینیڈین آرٹ کا متنوع ذخیرہ موجود ہے جو دنیا بھر سے سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ مونٹریال کے لوگ ثقافتی طور پر مذہبی ہیں اور مشہور چرچ جیسے کہ اورٹری، کینیڈا کا سب سے بڑا چرچ شہر میں واقع ہے، جو سیاحوں کی توجہ کا ایک بڑا مرکز بھی ہے۔مونٹریال - ثقافتی تنوع کا جشن       دوسری ثقافتی کمیونٹیز، جو شہر میں ہجرت کر کے آئی ہیں، نے مونٹریال شہر کی ثقافت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کمیونٹیز کی حمایت کا جشن منانے کے لیے بہت سی ثقافتی تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے، جیسے کہ، یونانی یوم آزادی جو مونٹریال کے ثقافتی ورثے میں ایک اہم شراکت دار رہا ہے اور اپنے ثقافتی اور سماجی خدمات کے اجتماعی اداروں کی بڑی تعداد کے لیے مشہور ہے۔مونٹریال کی دوستانہ اور خوش آئند فطرت یہاں کے  لوگوں کی دوستانہ اور مہمان نواز طبیعت کو دیکھ کر  خود بخود قریب آتے ہیں وہ ہر وقت کسی مہمان کی مدد کے لیے تیار رہتے  ہیں ۔اس  جذبےنے شہر کو دنیا کے سب سے دوستانہ حوالوں میں سے ایک  دل لبھانے والا   اور  عالمی سطح پر رہنے کے لیے خوشگوار شہر بنا دیا ہے۔ 

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

عظیم تر جراح اور طبیب ابوالقاسم خلف ابن العباس الزہراوی

   اسپین کےجنوبی علاقہ  اندلس کے مردم خیز خطے                 اورقرطبہ کے شمال   میں شہر الزہرا میں    پیدا ہونے والے  عظیم تر جراح اور طبیب...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر