ہفتہ، 27 ستمبر، 2025

پاکستان زرعی تباہی کے سب سے زیادہ خطرات سے دوچار ہے

  بارش، جو کبھی خوشحالی اور زرخیزی کی علامت سمجھی جاتی تھی، اب تباہی، سیلاب اور انسانی المیوں کی شکل میں نمودار ہو رہی ہے ۔ دنیا کے مختلف خطوں میں معمول سے ہٹ کر ہونے والی شدید بارشیں ایک نئے اور غیر متوقع مظہر کی صورت اختیار کر چکی ہیں، جسے سائنسدان موسمیاتی تبدیلی کا براہِ راست نتیجہ قرار دے رہے ہیں ۔سوال یہ ہے کہ کیا واقعی بارشوں کے اس بگڑتے ہوئے انداز کا تعلق عالمی درجہ حرارت میں اضافے سے ہے ؟ اگر ہاں، تو کیا ہم اس کے لیے تیار ہیں ؟ماہرین کے مطابق ، زمین کا ماحولیاتی نظام نہایت متوازن اور حساس ہے ۔ جب فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ، میتھین اور دیگر گرین ہاؤس گیسوں کی مقدار بڑھتی ہے، تو نہ صرف درجہ حرارت میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ فضائی نمی میں بھی غیر معمولی تبدیلی آتی ہے ۔نیشنل اوشینک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن (این او اے اے) کے مطابق، ہر ایک ڈگری سیلسیس درجہ حرارت کے اضافے کے ساتھ فضا میں 7 فیصد زیادہ نمی جذب ہو سکتی ہے، جو مستقبل میں شدید بارشوں اور طوفانی موسم کی شدت کو بڑھا سکتی ہے ۔


 

بین ا لحکومتی پینل برائے موسمیاتی تبدیلی کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ (2023) میں خبردار کیا گیا کہ کہ ہر گزرتے عشرے کے ساتھ دنیا میں بارش کے پیٹرن میں شدت، طوالت اور بے ترتیبی بڑھ رہی ہے جس کے نتیجے میں جنوبی ایشیا، وسطی افریقہ اور لاطینی امریکہ سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں ۔عالمی موسمیاتی تنظیم کی 2024کی رپورٹ میں بتایاگیا کہ عالمی درجہ حرارت 1.5 ڈگری کے قریب پہنچ چکا ہے، اس وجہ سے بارش کے سائیکل میں غیر معمولی تبدیلی آئی ہے ، کہیں طوفانی بارشیں ہیں تو کہیں مکمل خشک سالی ۔اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کی 2025 رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ پاکستان جنوبی ایشیا کے ان پانچ ممالک میں شامل ہے جو شدید بارشوں اور اس کے نتیجے میں ہونے والے اربن فلڈنگ، مٹی کے تودے گرنے اور زرعی تباہی کے سب سے زیادہ خطرات سے دوچار ہیں جب کہ اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام اور آئی ایم ایف کی 2024میں کی جانے والی مشترکہ تحقیق میں بتایا گیا کہ غیر متوقع بارشیں ترقی پذیر ممالک کی معیشت کو ہر سال اوسطاً 235 ارب ڈالر کا نقصان پہنچا رہی ہیں۔ ان میں زراعت، انفراسٹرکچر اور انسانی جان و مال شامل ہے۔

  

آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ پنجاب سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جہاں 151 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے، جبکہ خیبر پختونخوا میں 64، بلوچستان میں 20، سندھ میں 25، گلگت بلتستان میں 9، اسلام آباد میں 8 اور آزاد کشمیر میں 2 اموات رپورٹ ہوئی ہیں ۔شدید بارشوں نے نہ صرف انسانی جانیں لیں بلکہ 1,500 سے زائد مکانات کو تباہ یا نقصان پہنچایا، 370 کے قریب مویشی ہلاک ہوئے اور کئی اہم انفراسٹرکچر، سڑکیں اور پل منہدم ہو گئے ۔جولائی کے وسط تک پاکستان میں ہونے والی بارشیں گزشتہ برس 2024 کے مقابلے میں 82 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئیں ۔ جبکہ پہاڑی علاقوں میں شدید گرمی کے باعث گلیشیئر کے پگھلنے سے بھی فلش فلڈز اور گلیشیئر لیک آؤٹ برسٹ فلڈز (جی ایل او ایفس) کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے ۔ماہرین کے مطابق ملک پاکستان کے شمالی علاقوں میں مزید شدید بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات موجود ہیں، جو آنے والے ہفتوں میں صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں 

 

ورلڈمیٹررولوجیکل آرگنائزیشن (ڈبلیو ایم او) کی سن 2025 کی رپورٹ کے مطابق ، شدید بارشوں کے بڑھتے ہوئے واقعات کا براہِ راست تعلق ماحولیاتی تبدیلی سے ہے ۔ موجودہ صدی کے وسط تک ایسے واقعات کی شدت دو گنا ہونے کا امکان ہے ۔اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کی 2025 رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان جنوبی ایشیا کے ان پانچ ممالک میں شامل ہے جو شدید بارشوں اور اس کے نتیجے میں ہونے والے اربن فلڈنگ، مٹی کے تودے گرنے اور زرعی تباہی کے سب سے زیادہ خطرات سے دوچار ہیں ۔فوڈ اینڈ ایگری کلچر آرگنائزیشن کے مطابق، سن 2025 میں صرف پاکستان اور بھارت میں زرعی پیداوار میں 11 فیصد کمی کا اندیشہ ہے ۔ا قوام متحدہ کے مطابق، موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والے سیلاب اور بارشوں کے باعث سن 2024 میں تقریباً 33 ملین افراد نے اندرونِ ملک نقل مکانی کی ۔یہ صورتحال شہری نظام پر مزید دباؤ بڑھا رہی ہے جس کے نتیجے میں ایک نیا بحران جنم لے سکتا ہے جبکہ ہم  سب جانتے ہیں سمندروں کا کھارا نمکین پانی انسانی استعمال کے قابل نہیں ہے۔ اب لے دے کر دو فیصد گلیشیئر یا برف پوش چوٹیاں ہیں جہاں سے کچھ پانی رفتہ رفتہ برف کے پگھلنے پر تازہ پانیوں میں شامل ہوتا ہے۔

 یہ تحریر انٹرنیٹ کی مدد سے تلخیص کی گئ ہے 

برطانیہ کی نئ وزیر داخلہ بیرسٹر شبانہ محمود

    پاکستانی معاشرے میں  یہ خبر بہت خوشی اور حیرت کا باعث بنی جب  لوگوں کو معلوم ہوا کہ شبانہ  محمود وزیرِ داخلہ کی ذمہ داری سنبھالنے والی پہلی پاکستانی نژاد مسلمان خاتون ہیں۔ برطانوی وزیر اعظم نے کابینہ میں اہم تبدیلیاں کی ہیں اور پہلی بار ایک مسلم خاتون کو وزارت داخلہ کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹارمر نے جمعے کو اپنی کابینہ میں بڑی تبدیلیاں کرتے ہوئے ڈیوڈ لامی کو ڈپٹی وزیراعظم اور لیبر پارٹی کے دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی جسٹس سیکریٹری شبانہ محمود کو نیا وزیر داخلہ مقرر کر دیا۔خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق کابینہ میں یہ تبدیلیاں ڈپٹی وزیر اعظم اینجلا رینر کے پراپرٹی ٹیکس کم ادا کرنے کے الزام پر مستعفیٰ ہونے کے بعد ہوئی ہیں۔لیبر پارٹی کے بائیں بازو میں نمایاں حیثیت رکھنے والی رینر نے ایک فلیٹ کی خریداری سے متعلق تحقیقات میں وزارتی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ثابت ہونے کے بعد عہدہ چھوڑ دیا ہے۔ان کے استعفے کے بعد سٹارمر نے اپنی 14 ماہ پرانی حکومت میں پہلی بڑی رد و بدل کی۔ 


نئے ڈپٹی وزیر اعظم ڈیوڈ لامی اس سے قبل برطانیہ کے وزیر خارجہ تھے۔ ان کا عہدہ اب یویٹ کوپر سنبھالیں گی، جو اس سے پہلے وزیر داخلہ تھیں شبانہ محمود سات جنوری 2025 کو سینٹرل لندن میں 10 ڈاؤننگ سٹریٹ میں کابینہ کے اجلاس کے لیے پہنچ رہی ہیں  نئی وزیر داخلہ شبانہ محمود برطانیہ کی سینیئر مسلمان سیاست دان ہیں اور انہیں لیبر پارٹی کی ابھرتی ہوئی قیادت سمجھا جاتا ہے۔ سابق بیرسٹر شبانہ محمود 2010 سے رکن پارلیمان ہیں اور اپوزیشن کے دور میں متعدد شیڈو وزارتیں سنبھال چکی ہیں۔تاہم انہوں نے جیرمی کوربن کی کابینہ میں شامل ہونے سے انکار کیا تھا۔شبانہ محمود کون ہیں؟برطانوی حکومت کی سرکاری ویب سائٹ گورنمنٹ ڈاٹ یو کے کے مطابق شبانہ محمود پانچ جولائی، 2024 کو لارڈ چانسلر اور سیکریٹری آف سٹیٹ فار جسٹس بنی تھیں۔وہ جولائی 2024 میں برمنگھم لیڈی ووڈ کی رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئیں۔شبانہ محمود 17 ستمبر، 1980 کو برمنگھم میں پیدا ہوئیں۔ ان کی والدہ کا نام زبیدہ اور والد کا نام محمود احمد ہے۔


 وکی پیڈیا کے مطابق ان کے والدین پاکستانی نژاد ہیں اور تعلق پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے میرپور سے ہے۔برطانیہ دوبارہ منتقل ہونے سے پہلے وہ 1981 سے 1986 تک سعودی عرب کے شہر طائف میں اپنے خاندان کے ساتھ رہیں جہاں ان کے والد ڈی سیلینیشن شعبے میں سول انجینیئر کے طور پر کام کر رہے تھے۔بعد میں ان کی پرورش برمنگھم میں ہوئی جہاں انہوں نے سمال ہیتھ سکول اور کنگ ایڈورڈ   کیمپ ہل سکول فار گرلز سے تعلیم حاصل کی۔ان کی والدہ ایک کارنر شاپ میں کام کرتی تھیں جسے ان کے خاندان نے انگلینڈ واپس آنے کے بعد خریدا تھا۔ان کے والد مقامی لیبر پارٹی کے چیئرمین بنے تو نوعمری میں ہی شبانہ محمود نے بلدیاتی انتخابات میں مہم چلانے میں ان کی مدد کی اور اپنے والد کے شانہ بشانہ  کھڑی رہیں 


     انہوں نے پچھلے برس نک رابنسن کے ساتھ ایک انٹرویو میں شبانہ محمود نے کہا کہ اگرچہ سیاست ’ہمیشہ سے ان کی زندگی کا حصہ رہی ہے لیکن چھوٹی عمر سے ہی انہیں بیرسٹر بننے کی خواہش تھی۔‘انہوں نے لنکن کالج، آکسفورڈ یونیورسٹی سے قانون کی تعلیم حاصل کی جہاں وہ جونیئر کامن روم کی صدر تھیں۔شبانہ محمود لیبر پارٹی سے وابستہ ہیں اور 2010 سے برمنگھم لیڈی وڈ کی رکن پارلیمنٹ (ایم پی) رہی ہیں۔اس سے قبل وہ 2010 اور 2024 کے درمیان لیڈرز ایڈ ملی بینڈ، ہیریئٹ- وہ برطانوی حکومت میں وزیرِ داخلہ کا عہدہ سنبھالنے والی پاکستانی نژاد پہلی مسلمان خاتون بن گئی ہیں جو برطانیہ کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم اور تاریخی سنگِ میل تصور کیا جا رہا ہے۔برطانیہ میں ہوم افیئرز کمشنر کی حیثیت سے شبانہ محمود امیگریشن، قومی سلامتی اور انگلینڈ و ویلز کی پولیس فورس کی نگرانی کرتی ہیں۔ہرمن اور کیئر سٹارمر کے تحت مختلف شیڈو جونیئر وزارتی اور شیڈو کابینہ کے عہدوں پر فائز رہی ہیں۔


 


کراچی میں منی بس کا سفر


اگر پاکستان میں چاند پر جانے کے لئے خلانوردوں کے انتخاب کی بات ہو کراچی کے شہری یہاں کی منی بسوں کے ڈرائور ز کو اس مقا بلے میں شا مل ہونے کا مشورہ ضرور دیں گے کیونکہ کراچی کی سڑکوں پر بنے ہوئے ٹیلے نما اسپیڈ بریکرز اور ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کے غار نما گڑھوں پر بھی منی بسوں کو رواں رکھنا انہی کا کمالِ مہارت ہو تا ہے اور منی بس کی ہئت کدائ تو ہے ہی عالمی مقابلہ ء ٹریفک میں رکھّے جانے کے قابل چھتوں پر چمکتے دمکتے رنگ برنگے خوبصور ت کئریر اور ان پر بیٹھے ہوئےکراچی کے فاقہ مست محنت کش مزدور،، اندر کی سیٹوں پر براجمان دفتریبابو اور ملازمین لیجئے یہ آ رہی ہے پیلے رنگ کی حسینہ چار سوبیس بلکل دلہن کی طرح سجی ہوئ ،زرا رونمائ تو کیجئے تو آپ کو اندر ٹیکہ جھومر ست لڑا گہنے پاتے-سب کچھ اس کی ونڈ اسکرین کے ماتھے پر سجا ہوا مل جائے گا ، لیجئے بھئ یہ آ گئ بلکل خلائ راکٹ اپالو گیارہ کی طرح اب زرا جلدی سے گولی کی طرح سوار ہو جائیے

ارے ! یہ کیا آپ تو قدم رنجہ فرماتے ہی گر گئے ،چلئے کوئ بات نہیں اٹھ جائے ،،شاباش ،،چوٹ تو نہیں لگی ویسے لگنی نہیں چا ہئے اللہ نے بچایا ورنہ گرے تو اوندھے منہ تھے یہ بھی اچھّا ہوا کیونکہ گرے تو نامعلوم گود میں تھے کیا پہلی مرتبہ منی بس کا سفر ہے ورنہ کراچی کے باسی تو ان چوٹوں اور خراشوں کے عادی ہو چکے ہیں کوئ بس سے اتر کر کہنی سہلا رہا ہوتا ہے اور کسی کے سر پرگومڑ پڑ چکا ہوتا ہے لیکن بس رواں دواں رہتی ہے جی اب زرا سنبھل کر ڈنڈا پکڑ لیجئے یہ دیکھئے وہ رہا آپ کے سر پر بس ڈیڑھ دو فٹ کے فاصلے پر-جی ہاں! یہ ہے کراچی کے شہریوں کا مقدّر جس کو انہوں نے اپنی تقدیر کالکھا ہوا جان کر صبر کر لیا ہے ہم بھی اس کڑوے تجربے سے اس طرح گزرے کہ بھیّا بھابھی نے فیصلہ کیا اب شہر کی گنجان آبادی میں رہنے کے بجائے آلودگی سے پاک کسی پر فضاء مقام پر رہا جائے چنانچہ شہر سے کچھ پرے یونیورسٹی روڈ پر ایک نئ تعمیر شدہ بستی میں ہم سب شفٹ ہو گئے

 اور ہوا یوں کہ بھیّا جو ہم کو پہلے ہمارے اسکول پر ڈراپ کر کے اپنے دفتر جاتے تھے ان کے لئے مشکل ہو گیا کہ وہ پہلے ہم کو ہماری جاب پر کھارا در چھوڑیں اور پھر اپنے دفتر جائیں تب ہم نے فیصلہ کیا کہ منی بس کے زریعے اسکول وقت پر پہنچنا ہی بہتر رہے گا ،جب ہم پہلی بار بس میں سوار ہونے کےلئے کھڑے ہوئے تھے ہمیں مسافروں نےسمجھا دیا تھا کہ بس آئے تو جلدی کئے گا ورنہ بس والا چلتی بس سے گرادے گا اس لئے ہم نے مسافروں کو دیکھ بھی لیا تھا کہ وہ بس میں پستول کی گولی کی مانند سوار ہو رہے ہوتے ہیں اور اس طرح نکل بھی رہے ہوتے ہیں چنانچہ جیسے ہی ہماری مطلوبہ بس آئ ہم بھی اس میں مسافروں کی بھیڑ کے ہمراہ دھکّم پیل کرتے ہوئے سوار ہوئے اور ابھی کھڑے ہونے کے لئے سنبھل ہی رہے تھے کہ بس ایک جھٹکے سے چل پڑی اور ہمارا توازن جو بگڑا تو ہم ایک خاتون کی گود میں جا گرے

 شرمندگی کے ساتھ کھڑے ہونے کی کوشش کی تو بریک کے جھٹکے نے ہلا ڈالا اور اس کے ساتھ ہی کنڈکٹر نے کرایہ طلب کر لیا ،،کرائے سے فارغ ہوتے ہی کنڈکٹر نے لیڈیز کمپارٹمنٹ میں گھس پِل کر جگہ بنائ اور ڈرائیور کے برابر میں موجود ٹیپ ریکارڈ آن کر دیا اور ٹیپ سے لتا کی پرسوزغزل کے بو ل برآمد ہوئے دھڑکتے دل کا پیام لے لو اب بس میں مکمّل خاموشی تھی اور بس کا ہر مسافر اپنے طور پر لتا کا سلام و پیام لے رہا تھااور پھر بس نے اوور ٹیکنگ کے نتیجے میں اپنا توازن جو کھویا تو بس ایک دم لہرا سی گئ اوربس میں چیخیں بلند ہوئیں ساتھ ہی اور لتا کی غزل آگے کے بولوں پر آئ اٹھےجنازہ جو کل ہمارا-قسم ہے تم کو نا دینا کاندھا اب بس چند ثانئے کو رکی ہی تھی کہ بس کا اگلا حصّہ رنگین آنچلوں کی معطّر خوشبو سے مہک سا گیا تب ہمیں معلوم ہوا بس کراچی یونیورسٹی کے بس سٹاپ پر رکی تھی-اور بس پھر چل پڑی لتا کی غزل بھی آگے بڑھی اٹھے جنازہ جو کل ہمارا قسم ہے تم کو نادینا کاندھا-

بس خلائ راکٹ کی رفتار سے اپنی منزلِ مقصود کی جانب جا رہی تھی کہ پھر بس نے ایک اور بھاری ٹرک کو اوور لوڈ کیا بس اس طرح لہرائ جانو ابھی الٹی بس میں پھر مسافر ایک دوسرے پر گرے اور چیخیں بلند ہوئیں پیچھےسے کوئ مسافر چیخا ابے رفتار کم کرتا ہے یا اور اس کے ساتھ کنڈکٹر نےمسافر کو منہ توڑ جواب دیا ابے امیر کے بچّے ٹیکسی میں جایا کر اورلتا کی غزل ٹیپ کی سوئ پر اٹک گئ اٹھے جنازہ جو کل ہمارا،، اٹھے جنازہ جو کل ہمارا ،،اٹھے جنازہ جو کل ہمارا اور ایک عورت نے اپنے پرس سے تسبیح نکال کر ورد شروع کیا جل تو جلال تو آئ بلا کو ٹال تو اب ہمیں بھی بس میں بیٹھنے کی جگہ مل گئ تھی اور ہمارے برابر میں بیٹھی خاتون منہ ہی منہ میں بُدبُدا رہی تھی یا اللہ خیر سے سب کے پیاروں ملائیو سب کے صدقے میرے پیاروں کو ملائیو ،یاللہ اگلے پچھلے گناہ معاف کر دے ،یا للہ اب میں پڑوسنوں کی غیبتیں بھی نہیں کروں گی ،میاں سے چھپ کر میکے بھی نہیں جاؤں گی -کنڈکٹر نے ٹھوک بجا کر ٹیپ ٹھیک کر دیا تھا اور اب غزل کے بول مرگِ مفاجات سے بچنے کی دعاؤں کی یاد دلا رہے تھے تمھاری دنیا سے جا رہے ہیں- اٹھو ہمارا سلام لے لو ہم نے بھی اپنے کانوں کو ہاتھ لگا کر اللہ میاں سے پیشگی مغفرت طلب کی اور گولی کی رفتار سے بس سے باہر آگئے کیونکہ ہماری منزلِ مقصود آ چکی تھی

جمعہ، 26 ستمبر، 2025

کراچی منگھو پیر کا قدیم قصبہ اور اس کی روایات

 

کراچی  سے سولہ کلو میٹر کے فاصلے پر منگھو پیر کے قصبے میں ہزاروں سالہ قدیم تہذیب کے آثار بکھرے ہوئے ہیں  جن میں ٹیلے، مساجد، مقابر،مزارات وغیرہ اشامل ہیں، خطے کی ارتقائی تہذیب و تمدن کی خاموش داستان بیان کرتے ہیں۔  پہاڑی ٹیلوں اور کیکرکی جھاڑیوں و جنگلات سے گھرا ہوا ’’منگھوپیر‘‘کا  یہ وہ قصبہ ہے، جہاں ہزاروں سال قدیم تہذیب کے آثار پائے جاتے ہیں۔ اس قصبے کے بارے میں مؤرخین کی رائے ہے کہ یہ علاقہ کسی دور میں آباد اور ہنستا بستا شہر تھا جو کسی قدرتی آفت یا حادثے کا شکار ہو کر صفحہ ہستی سےمٹ گیا لیکن اس کے آثار اب بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔منگھوپیر کا علاقہ کراچی کے شمال مشرق میں واقع ہے جو اسے بند مراد کے ذریعے لسبیلہ سے ملاتا ہے۔ اس کے ٹیلوں پر واقع چوکنڈی طرز کی منقش قبریں، مکانات،تالاب اور دیگر آثار اس کی تاریخی حیثیت کی گواہی دیتے ہیں۔قدیم دور میں یہ علاقہ مکران اور ایران کے ساتھ تجارت کے لیے راہ داری کا کام دیتا تھا۔اسلام پھیلنے کے بعد عربوں کی آمد و رفت ایران اور مکران کے راستے ہوتی تھی 


ان کے قافلے اسی راستے سے گزرکر اگلے مستقرکی جانب  عازم سفر ہوتے تھے۔ دوران سفر ان کا پڑا و لسبیلہ اور اس کے گردونواح کے قصبات میں ہوتا تھا،جن میں سے ایک منگھوپیر کا قصبہ بھی تھا۔اس کی پہاڑیوں کے دامن میں موجود شکستہ،ٹوٹی پھوٹی پرانی قبریں صدیوں قدیم ہیں، ان میں چوکنڈی طرز کی قبریں بھی ہیں۔ یہاں تمام قبریں جنگ شاہی پتھر سے تعمیر کی گئی ہیں جو تیز پیلے اور قریب قریب زرد رنگ سے ملتا جلتا ہے۔ مؤرخین کے مطابق ،یہاں ایسی قبریں بھی دیکھی گئیں جن پر تلوار بازی، گھڑ سواری اورآات حرب کے نقوش بھی پائے جاتے تھے جبکہ خواتین کی قبروں پر خوبصورت زیورات کنندہ کئے گئے ہیں۔بعض قبریں چبوترے پر بنائی گئی تھیں جبکہ بعض کے نیچے ایک طرح کے طاق بنائے گئے ہیں جن کے آر پار دیکھا جاسکتا ہے۔ دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ کچھ خواتین کی قبروں پر ڈولی اور جنازے کی علامت گہوارے سے مشابہہ نقوش بھی موجود تھے جن کا مطلب تھا کہ یہ قبریں شادی شدہ خواتین کی ہیں ۔مردوں کی قبروں پر خوبصورت کلاہ نما ڈیزائن بنائے گئے ہیں،اس کے علاوہ تلوار بازی، گھڑسواری اور خنجر وغیرہ کے نقش نگار بھی بنائے گئے ہیں۔ خواتین کی قبروں پر خوبصورت زیورات کنندہ کئے گئے ہیں۔ ان نقوش سے مرد و زن کی قبروں کی باآسانی شناخت کی جاسکتی ہے۔


 شہر کے شمالی حصے میں واقع یہ علاقہ ایک صوفی بزرگ منگھو پیر کی مزار کی وجہ سے شہرت کا حامل ہے۔صدیوں پرانے مزار کی انوکھی بات، یہاں پر موجود بہت بڑا تالاب اور گرم پانی کا چشمہ ہے۔ تالاب میں درجنوں مگرمچھ رہتے ہیں، جنہیں مزار پر آنے والے عقیدت مند باقاعدگی کے ساتھ کھانا کھلاتے ہیں۔ عقیدت مندوں کا ماننا ہے کہ مگر مچھ صوفی بزرگ سے منسوب ہیں۔ علاقے کی قدیم کتب اور 19ویں صدی کی برٹش راج کی تحریروں میں مزار کا ذکر ملتا ہے۔ کچھ مؤرخین کے مطابق یہ مگرمچھ صدیوں سے یہاں پر موجود ہیں۔ کچھ ماہرینِ آثار قدیمہ کا دعویٰ ہے کہ انہیں یہاں مگرمچھوں کی ہزاروں سال پرانی باقیات ملی ہیں اور کالونیل دور کے برطانوی مصنفین کے مطابق بھی مگرمچھ وہاں 'ہزاروں سالوں سے موجود ہیں۔منگھوپیر کراچی کی تند و تیز مکرانی/شیدی برادریوں کے روحانی پیشوا ہیں۔ یہ لوگ ان افریقی غلاموں کی اولادیں ہیں جنہیں 10 ویں اور 17 ویں صدی کے دوران عر، فارسی، ترک اور یورپی حملہ آور یہاں لائے تھے۔ یہ لوگ زیادہ تر بلوچی بولنے والے مسلمان محنت کش مرد و عورت ہیں جن میں فٹ بال، باکسنگ، گدھوں کی ریس اور رقص کا جنون پایا جاتا ہے۔ مزار کے سالانہ میلے کو شیدی اپنی بنیادی افریقی طرز کے ساتھ مناتے ہیں۔



  ماہرین آثار قدیمہ      کے مطابق یہاں ملنے والی ہڈیاں کانسی کے دور (3300-1200 قبلِ مسیح) سے تعلق رکھتی ہیں۔ یہاں کچھ پیتل کی قدیم اشیاء بھی ملی ہیں، جن پر موجود نقش و نگار سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ یہاں ہزاروں سال پہلے کانسی دور کا ایک قدیم گاؤں آباد ہوگا،  کہا جاتا ہے کہ 13ویں صدی میں جب بزرگ نے یہاں سکونت اختیار کی اور ان کی وفات ہوئی ، اس وقت علاقے میں بہت زیادہ سبزہ موجود تھا۔سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ اس وقت تک مگرمچھ انسانوں سے مانوس ہو چکے تھے اور خوراک کے لیے بزرگ کے پیروکاروں پر انحصار کرنے لگے تھے۔ دنیا میں دیگر مقامات پر پائے جانے والے مگرمچھوں کے برعکس مزار پر موجود مگرمچھ گوشت سے لے کر مٹھائی تک تقریباً سب کچھ کھا لیتے ہیں۔ سائنسدانوں کے نزدیک اس کی وجہ یہ ہے کہ نسل در نسل پیروکاروں کے ہاتھوں سے طرح طرح کی خوراک کھا کر اب یہ مگرمچھ تمام چیزیں کھانے کے عادی ہوگئے ہیں۔یہ قبریں تعمیراتی فن کا اعلیٰ نمونہ ہیں لیکن اس طرز کی زیادہ تر قبریں ناپید ہوچکی ہیں صرف دو قبریں منگھوپیر کے مزار کے سامنے موجود ہیں ، ان کی حالت بھی مخدوش ہے۔

قصہ حضرت صالح علیہ السلام کا




قوم ثمود کے لوگ زیادہ ترکھیتی باڑی کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی زمین کو بڑی زرخیزی عطا   کی تھی۔  ان کے وطن کی مٹی میں بڑی طاقت  اور زرخیزی تھی۔، وافر پانی  ہونے کی بدولت فصلیں خوب لہلہاتی تھیں ۔ لوگوں نےکنویں کھودے ہوئے تھے۔ دراصل یہ اپنے وقت کے بہترین انجینئر تھے۔ان کے محلات، قلعے اور مکان ان کے ہنر کا منہ بولتا ثبوت تھے۔ میدانوںمیں بڑے بڑے محل تو ہر زمانے میں بنائے جاتے ہیں لیکن قوم ثمود کا حیران کن ہنر پہاڑ تراشنا تھا۔یہ لوگ کسی مناسب پہاڑ کا انتخاب کرتے، پھر اسے تراشنا شروع کر دیتے،یہاں تک کہ پہاڑ میں مکان بنا ڈالتے۔ یہ مکان غار نما ہر گز نہیں تھےبلکہ ان میں ہوا اور روشنی کا مناسب انتظام ہوتا۔ پہاڑ میں تعمیر ہونے کیوجہ سے یہ بہت مضبوط ہوتے تھے۔ انھی خوبیوں کی وجہ سے پورے علاقے میں ان    جتنا خوش حال اور طاقت ور ملک کسی کا نہیں تھا۔ اور یہ خوش حالی اور طاقت ہی کا گھمنڈ تھا جس نے انھیں مغرور اور ظالم بنا دیا تھا۔ ارد گرد کی بستیوں پر ظلم کرنا ان کے لیے ایک کھیل کا درجہ رکھتا تھا۔



خدا کی بخشی ہوئی نعمتوں کی وجہ سے ثمود کے لوگ عیش عشرت  کی زندگی بسر کر رہےتھے اور اپنے نبی اور رسول حضرت ہود علیہ السلام کی تعلیمات کو بھلا چکےتھے۔انھی حالات میں ایک نوجوان کا چرچا ہوا۔ سرخ و سفید رنگ، لمبے قد اورمضبوط جس کا مالک یہ نوجوان عام لوگوں سے الگ تھلگ رہتا تھا۔ اسے اپنےزمانے کی فضول رونقوں سے کوئی دل چسپی نہیں تھی۔ اسے بت کدوں میں  رکھےہوئے بتوں سے بھی سخت نفرت تھی۔ لوگ اس کی زبان سے بتوں کے متعلق نفرت کےکلمات کئی دفعہ سن چکے تھے۔ لیکن اس کی شرافت اور دیانت کی وجہ سے اسےکچھ نہیں کہتے تھے۔اس نوجوان کا نام ’’صالح‘‘ تھا۔ ایک معزز قبیلے کا باوقار شخص، جسے بعدمیں اللہ نے اپنا نبی بنایا۔ حضرت صالح علیہ السلام نے شہر کے بڑے بڑےلوگوں کی دعوت کی۔ انھوں نے کھاناکھلانے کے بعد لوگوں کی آمد کا شکریہ ادا کیا اور انھیں بلانے کا مقصد بتاتے ہوئے کہا:’’اے لوگو! آج میں نے تمھیں وہ باتیں یاد کرانے کے لیے بلایا ہے، جن کوتم بھول چکے ہو۔ 



مجھے علم ہے کہ تم اس بات کا انکار نہیں کرتے کہ اللہ ہی نے تمھیں اور تمھاری زمین کو بنایا ہے۔ لیکن اس کے باوجود تم اس کی عبادت کرنے کے بجائے جھوٹے خداؤں کے سامنے جھکتے ہو۔ اے میری قوم کے سردارو! یہ گمراہی چھوڑ دو، ایک اللہ کی عبادت کرو۔ وہی تمھارا اصل رب ہے، اسی سےاپنے گناہوں کی معافی مانگو اور سرکشی کا رویہ چھوڑ دو۔‘‘حضرت صالح علیہ السلام کی گفتگو کے جواب میں ان سرداروں نے کہا: ’’اےصالح! ہمیں تم سے بہت سی امیدیں تھیں۔ ہم تمھیں بہت معزز اور باوقار شخص سمجھتے تھے لیکن تم نے ہمیں ’’گمراہ‘‘ کہہ کر ہمارے باپ دادا کے دین کوگالی دی ہے۔ تمھاری کوئی بات ہماری سمجھ میں نہیں آئی۔ آخر ہم ان خداؤںکی پوجا کیوں چھوڑ دیں جن کو ہمارے باپ دادا پوجتے رہے ہیں۔ تم نے ہمیں بہت مایوس کیا ہے۔‘‘حضرت صالح علیہ السلام نے انھیں سمجھانا چاہا لیکن وہ ناراض ہو کر وہاں سے اٹھ آئے۔



انھوں نے حضرت صالح علیہ السلام کو خبردار کیا کہ اگر انھوں نے یہ باتیں عام لوگوں میں کیں تو نتائج کے وہ خود ذمہ دار ہوں گے۔حضرت صالح علیہ السلام نے سرداروں کی دھمکی کو کوئی اہمیت نہ دی اور اپنی رسالت کا عام اعلان کر دیا۔ یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی کہ صالح        نے رسول اللہ ہونے کا دعویٰ کر دیا ہے-انھوں نے اپنی قوم کو بتایا کہ وہ حضرت نوح ؑ اور ہودؑ کی طرح کے رسول ہیں۔ ان کا انکار کرنے پر اللہ ان پر عذاب نازل کرے گا۔ مگر طاقت کے غرورمیں پڑے ہوئے سرداروں اور مذہبی لیڈروں نے لوگوں کو یہ کہہ کر تسلی دی کہاگر وہ اللہ کی نافرمانی کر رہے ہوتے اور گناہ کی زندگی بسر کر رہے ہوتےتو اللہ انھیں پورے عرب میں اتنی عزت نہ دیتا، ان کی زمینوں کو اتناسرسبز نہ بناتا



اور ان کے محل اور پہاڑوں میں تراشے ہوئے مکان اتنے عمدہ    نہ ہوتے۔بت خانوں کے مالک یعنی کاہن کہتے: ’’اے لوگو! خود سوچو، جو ہاتھ گناہ گارہوں، ان ہاتھوں میں اللہ یہ ہنر کیوں پیدا کرے گا جن کی وجہ سے وہ پوریدنیا میں معزز بن جائیں...‘‘کچھ جھوٹے دانش ور دور کی کوڑی لائے اور کہنے لگے: ’’دراصل اس (صالح علیہالسلام) کا علیحدہ اور تنہا رہنے سے (نعوذ باللہ) ذہنی توازن بگڑ گیا ہے۔اس لیے یہ اپنے باپ دادا کو گمراہ قرار دے کر ایسی بہکی بہکی باتیں کررہا ہے۔‘‘کچھ زیادہ ہمدردی جتاتے تو کہتے: ’’بے چارے صالح پر کسی بد روح کا سایہ  پڑ  گیا ہے۔‘‘بعض تو یہ کہنے سے بھی باز نہ آئے کہ صالح جادوگر ہو گیا ہے۔ کچھ سردار کہتے:’ہمیں یقین ہے کہ صالح نے یہ سارا چکر اس لیے چلایا ہے کہ وہ لوگوں کوبے وقوف بنا کر ا ن کا سردار بن جائے۔ یہ بہت چالاک شخص ہے۔لیکن حضرت صالح علیہ السلام نے سرداروں اور بت کدوں کے کاہنوں کی باتوںکی کوئی پروا نہ کی اور اپنی تبلیغ جاری رکھی۔

زرا عمر رفتہ کو آواز دینا -میری کتاب زندگی ' ہجرت

  

 سقوط حیدرآبا د کا ظالما نہ عمل تو قائد اعظم رحمتہ اللہ علیہ کے انتقال کے اگلے روز ہی پنڈت جواہر لعل نہرو نے باقاعدہ اعلان کر کے کیا تھا   سقوط حیدار آباد میں بھی ہزاروں کی تعداد میں وہاں کی مسلمان آبادی تہ تیغ کی گئ ,,بعد از سقوط ناگفتہ بہ فرقہ وارانہ حالات کے  پاکستان ہجرت کی اوربعد از ہجرت تمام عمر اپنے پیارے محبوب وطن پاکستان کے قلب کراچی میں بسر ہوئ عرصہ سات سال ہو نے کو ہیں کہ اپنے عزیز از جان شریک زندگی کی وفات  کے بعد کینیڈا آنا ہوا اور پھر یہیں کی مٹّی نے قدم پکڑ لئے-میں اپنی داستان زندگی کے آغاز پر ہی اللہ کریم رحمٰن و رحیم , کا شکریہ ادا کرنے کے ساتھ اپنے والدین مر حومین کی بھی بے حد شکر گزار ہوں کہ جنہوں نے مجھے قرطاس وقلم کی اہمیت سےروشنا س کیا,اور زندگی کے لق ودق صحرا میں پیش آنے والی  اونچ نیچ سمجھائ ,,مشکلات کی کٹھن گھڑیوں میں  صبر اور نماز سے مدد کی  نصیحت کی  اور زندگی کے ہر ہر قدم پر میری رہنمائ کی ان ہستیوں کے ہمراہ اپنے محترم علم دوست شوہر  کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہوں گی کہ جن کی قریب قر یب بیالیس سالہ رفاقت میں مجھےا ن کے آ  نگن میں سائبا ن  علم نصیب ہوا اب میں قارئین کو اپنا خاندانی پس منظر بتانا چاہوں گی 


میری والدہ کے اجد ا دسرزمین ہند کے زی وقار اور منفرد تہزیب رکھنےوالے شہر لکھنؤ میں سادات کے سو سالہ دور حکومت  میں ایران سے وارد ہند ہوئے،ان کا شجرہء نسب نجیب الطرفین سادا ت سے ہوتا ہوا چوتھے امام حضرت اما م زین العابدین علیہ السّلام سے جا ملتا تھا اور وہ  ایران کے شاہی دربار سےمنسلک شاہانہ طرز حیات رکھنے والے  لوگ تھے   ان میں ادباء و فضلاء شعراءصاحبان علم وحکمت  تھے چنانچہ ان کی لکھنؤ میں آمد پر شاہی دربار میں بھی ان کی خاص پذیرائ ہوئ اور یہ یہاں بھی شاہی دربار سے ہی وابستہ ہوئےان کی امارت کا یہ عالم تھا کہ جب میری والدہ شادی ہو کر حیدرآباد دکن آئیں اسوقت ان کا جہیز ریل کی دو بوگیاں ریزرو کر کے لایا گیا ،ان کی شادی کے جوڑے سونے کے تاروں اور ریشم کی آمیزش سے تیّار کئے گئے تھے ( ہجرت نے ہماری والدہ کواور ہم کو ان چیزوں سے فیضیاب ہونے کی مہلت نہیں دی اور سب کچھ بھرا گھر چھوڑ کر جان بچانے کو گھر سے نکل آ ئےامارت کے باوجود علم و ادب کےان شیدا ئیو ں میں  خواتین کے علم سے بھی وابستگی کا یہ عالم تھا کہ اس دور میں جب ہند وستان میں عورت کی تعلیم ایک جرم سمجھی جاتی تھی یہ لوگ اپنے گھر کی بچّیوں کی تعلیم پر بھی بھرپور توجّہ دیتے تھے  


مجھے میری نانی جان نے بتایا تھا کہ سن انّیس سو تیس میں جب میری والدہ پانچ برس کی ہوئیں تب ان کو پڑھانے کے لئے ایک بزرگ استاد گھر پر رکھّے گئے اور میری والدہ نے اپنے استاد محترم سے فارسی عربی اردو اور انگلش کی تعلیم حاصل کی جبکہ ان کا داخلہ بھی ایک مسلم اسکول میں اسی عمر میں کروادیا گیا ،، صبح آٹھ بجے ان کی ڈیوڑھی پر پردے لگا ہوا یکّہ آکر رکتا تھا اور میری والدہ کو گھر کے کوئ  بزرگ لے جا کرایکّے میں  سوار کرواد یتے تھے  اور شام چار بجے پھر اسی طرح سے واپسی کے وقت یہی عمل دہرایا جاتا تھا اس طرح میری والدہ نے غیر منقسم ہندوستان میں ہی مڈل کلاس پاس کرلی تھی میری والدہ اور دادی جان مرحومہ کا تعلّق اسی خانوادے سے تھاچنا نچہ ہوش سنبھالنے پر میں نے اپنے گھر کے آنگن میں ادبی محفلیں سجتی ہوئ دیکھیں اور ان کا اثر بھی قبول کیا دراصل ہمارا گھرانہ بنیادی طور پر ایک ادبی لیکن ساتھ ساتھ کافی حد تک مذہبی گھرانہ تھا اس لئے مجھے ادب سے اپنے گھرانے کی وابستگی آہستہ آہستہ میرے مزاج میں بھی رچتی اور بستی گئ میری والدہ کے قبلہ محترم رئیس امروہوی صا حب  سے  گھریلو مراسم تھے ،جبکہ  محترم سجّاد ظہیر صاحب کے گھر ا نے سے  بھی والدہ کے ہمراہ آنا جانا لگا رہتا تھا


میری والدہ صاحبہ کے  یہ خا ندانی  مراسم تقسیم ہند سے پہلے لکھنؤ سے ہی چلے آرہے تھے جیسا کہ میں نے بتایا کہ میری والدہ محترمہ کا تعلّق لکھنؤ کے سادات سے تھا جبکہ والد بھی یوپی کے سادات کے اہم خانوادے سادات نو گانواں میں عابدی سادات کےجیّد علمائے دین کے قبیلے  سے تعلعق رکھتے تھے ،میرے محترم دادا جان جنوبی ہندوستان میں قطب شاہی دور حکومت میں اپنا آبائ شہر چھوڑ کر حیدرآباد دکن آئے اور انہون نے یہیں پر مستقل سکونت اختیار کی ،جسے ازاں بعد ہم بھی چھوڑ کر پاکستان آگئے یہاں پر پہلے ہم نے اچھے دن اپنے والد کی ائر فورس کی سروس کے طفیل دیکھےاسوقت ہم سب ملیر کے علاقے کی ایک فوجی چھاؤنی میں مقیم تھے ہجرت کے بعدکی زندگی میں کچھ کچھ ٹہراؤ سا محسوس ہونے لگا تھا مگر پھرہمارے گھر میں کچھ ماورائےفطرت حالات پیش آ ئےاور پھرتقدیر کی گردش نے ہم کو بارہ سال ہمارے خاندان کوبڑی مشکلات میں  رکھا،ان حالات کے گرداب میں ہمارا خاندان اس طرح آیا کہ والد صاحب اتنے شدید بیمار ہوئے کہ ان کی ائرفورس کی سروس بھی چھوٹ گئ اور ہم کو چھاؤنی کا مکان بھی بہت عجلت میں چھوڑنا پڑا اور والد صاحب

جمعرات، 25 ستمبر، 2025

حضرت جعفر طیار کی غزوۂ موتہ میں شرکت و شہادت

 

حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ کی غزوۂ موتہ میں شرکت  و شہادت -جما دی الاول سن آٹھ  ہجری میں موتہ پر فوج کشی ہوئی،حضور نبی کریم ﷺ نے فوج کا علم حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو عطا کر کے فرمایا ؛؛اگر زید (رضی اللہ عنہ) شہید ہوں تو جعفر ( رضی اللہ عنہ ) اور اگر جعفر (رضی اللہ عنہ ) بھی شہید ہوں تو عبداللہ ابن رواحہ (رضی اللہ عنہ) اس جماعت کے امیر ہوں گے۔۔۔(بخاری شریف کتاب المغازی) حضور نبی کریم ﷺ اس غزوہ کے انجام و نتیجہ سے آگاہ تھے، اسی لئے فرمایا کہ اگر زید رضی اللہ عنہ شہید ہوں تو جعفر رضی اللہ عنہ علم سنبھالیں ،اگر وہ بھی شہید ہوں تو عبداللہ ابن رواحہ رضی اللہ عنہ انکی جگہ لیں ۔۔۔(طبقات ابن سعد)موتہ پہنچ کر معرکۂ کار زار گرم ہوا، تین ہزار غازیانِ اسلام کے مقابلہ میں غنیم کا ایک لاکھ ٹڈی دل لشکر تھا،امیر فوج حضرت زید رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تو حضرت جعفر رضی اللہ عنہ گھوڑے سے کود پڑے اور علم کو سنبھال کر غنیم کی صفیں چیرتے ہوئے آگے بڑھے ،دشمنوں کا ہر طرف سے نرغہ تھا،تیغ و تبر،تیر وسنان کی بارش ہو رہی تھی،یہاں تک کہ تمام بدن زخموں سے چھلنی ہو گیا،دونوں ہاتھ بھی یکے بعد دیگرے شہید ہوئے مگر اس مجاھدِ اسلام نے اس حالت میں بھی توحید کے جھنڈے کو سرنگوں ہونے نہ دیا(اسدالغابہ) بالآخر شہادت کا جام نوش فرمایا


 حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنھما بھی اس جنگ میں شریک تھے،فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ کی لاش کو تلاش کر کے دیکھا تو صرف سامنے کی طرف پچاس(50) زخم تھے،تمام بدن کے زخموں کا شمار تو نوّے (90) سے بھی متجاوز تھا،لیکن اُن میں کوئی زخم پشت پر نہ تھا (بخاری شریف ) اللہ اکبر کبیرا-حضور نبی کریم ﷺ کا حزن و ملال ۔!میدانِ جنگ میں جو کچھ ہو رہا تھا ،اللہ تعالی کے حکم سے حضور نبی کریم ﷺ کے سامنے تھا،چنانچہ خبر آنے سے پہلے ہی آپ ﷺ نے حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ کی شہادت کا حال بیان فرمایا۔اس وقت آپ ﷺ کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو جاری ہو گئے اور روئے انور پر حزن وملال کے آثار نمایاں تھے( اسدالغابہ)حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کی اہلیہ محترمہ حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ میں آٹا گوندھ چکی تھی اور  بچو ں کو نہلا دھلا کر صاف کپڑے پہنا رہی تھی کہ حضور نبی کریم ﷺ تشریف لائے اور فرمایا جعفر کے بچوں کو لاؤ،میں نے ان کو حاضرِ خدمت کیا، تو آپ ﷺ نے آبدیدہ ہو کر ان کو پیار فرمایا ،میں نے عرض کیا میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان ہوں,حضور ﷺ آبدیدہ کیوں ہیں


   کیا جعفر (رضی اللہ عنہ ) اور ان کے ساتھیوں( رضی اللہ عنھم) کے متعلق کوئی اطلاع آئی ہے،فرمایا ہاں! وہ شہید ہو گئے ،یہ سن کر میں رونے لگی۔۔۔محلہ کی عورتیں میرے اردگرد جمع ہو گئیں،حضور نبی کریم ﷺ واپس تشریف لے گئےاور ازواجِ مطہرات(رضی اللہ عنھن) سے فرمایا کہ آل جعفر (رضی اللہ عنہ) کا خیال رکھنا،آج  انہیں شدید صدمہ ہے خاتونِ جنت سیدہ فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنھا کو بھی اپنے عمِ محترم کی مفارقت کا شدید غم تھا،شہادت کی خبر سُن کر بادیدۂ تر واعماہ! واعماہ! کہتے ہوئے بارگاۂِ نبوت ﷺ میں حاضر ہوئیں،حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا ! بیشک ! جعفر رضی اللہ عنہ جیسے شخص پر رونے والیوں کو رونا چاہیئے،آپ ﷺ کو عرصہ تک شدید غم رہا،یہاں تک کہ روح الامین نے یہ بشارت سنائی کہ اللہ تعالی نے جعفر ( رضی اللہ عنہ ) کو دو کٹے ہوئے بازوؤں کے بدلہ میں دو نئے بازو عنایت کیے ہیں ،جن سے وہ ملائکہ جنت کے ساتھ مصروفِ پرواز رہتے ہیں ۔(مستدرک حاکم) چنانچہ ذوالجناحین اور طیار ان کا لقب ہو گیا۔(رضی اللہ عنھم ورضو عنہ ) حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ کے فضائل و محاسن -حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ کشادہ دست و فیاض تھے،غرباء و مساکین کو کھانا کھلانے میں انکو خاص لطف حاصل ہوتا تھا ،


اسی لئے حضور نبی کریم ﷺ ان کو ابو المساکین کے نام سے یاد فرمایا کرتے تھے،حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اکثر بھوک کے باعث پیٹ کو کنکروں سے دبائے رکھتا تھا اور آیت یاد بھی رہتی تو اس کو لوگوں سے پوچھتا پھرتا  کہ شاید کوئی مجھ کو اپنے گھر لے جائے اور کچھ کھلائے لیکن میں نے حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کو مسکینوں کے حق میں سب سے زیادہ بہتر پایا ، وہ ہم لوگوں (اصحاب صفہ رضی اللہ تعالی عنھم اجمعین) کو اپنے گھر لے جاتے تھے،اور جو کچھ ہوتا تھا ،سامنے لا کر رکھ دیتے تھے،یہاں تک کہ بعض اوقات گھی یا شہد کا خالی مشکیزہ تک لا دیتے اور اسکو کاٹ کر ہمارے سامنے رکھ دیتے اور ہم اس کو چاٹ لیتے تھے۔(بخاری شریف )حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کے فضائل ومناقب کا پایہ نہایت بلند تھا ،خود حضور نبی کریم ﷺ ان سے فرمایا کرتے تھے کہ "جعفر" (رضی اللہ عنہ)! تم میری صورت وسیرت دونوں میں مجھ سے مشابہ ہو۔(بخاری شریف)حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مجھ سے پہلے جس قدر نبی (علیھم السلام) گزرے ہیں ان کو صرف سات رفیق دیئے گئے تھے ،لیکن میرے رفقائےِ خاص کی تعداد چودہ(14) ہے ، ان میں سے ایک جعفر (رضی اللہ عنہ) بھی ہیں۔۔

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

انقلاب چین جو چینی قوم کی نجات کا باعث بن گیا

  چین کے انقلاب میں تاریخی لانگ مارچ کو ایک سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے جو اکتوبر1934ء سے اکتوبر 1935ء تک جاری رہا۔ یہ لانگ مارچ چھے ہزار میل ط...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر