منگل، 21 اکتوبر، 2025

قدیم یو نا ن کی سات دانا شخصیات پارٹ '1

  

بقراط       :          اسے طبیبو ں کا جد امجد بھی کہتے ہیں ۔ فلسفہ طب کی وجہ سے اس نے شہرت پائی۔   :یہ ماہر طب تھا بلکہ اسے طب کا سائنسدان بھی کہتے ہیں ۔یہ 460 قبل مسیح یونان کے شہر کوس میں پیدا ہوا۔اس نے علم حاصل کرنے میں سولہ برس صرف کئے جبکہ باقی عمر اس نے تحریر و تصنیف میں گزار دی ۔ طب کی باقاعدہ ترویج وترقی کا سہرا بقراط کے سر جاتا ہے ۔ اس کا سب سے بڑا تاریخی کارنامہ زمانہ قدیم سے مروجہ روایتی طریقے سے علاج کی جگہ سائنسی بنیادوں پر علاج کو رواج دینا ہے اور شاید اسی وجہ سے اسے ''بابائے طب‘‘کا لقب بھی دیا گیا ہے ۔طب میں بقراط کی گراں قدر خدمات اور ان مٹ بنیاد کے سبب بعد میں آنے والے جالینوس تاریخ دانوں کا کہنا ہے کہ ہیپوکریٹس 460 ق م میں جزیرہ کوس میں پیدا ہوا۔ عرب اسی ہیپو کریٹس کو بقراط کہتے ہیں۔ تاریخ دانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہیپوکریٹس نامی طبیب اور سرجن نے اپنے علم و تجربہ کے حوالے سے شہرت دوام حاصل کی۔ بقراط کی زندگی کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں ہیں۔ اس کی موت کے صدیوں بعد متعدد سینہ بہ سینہ منتقل ہونے والی روایات سے پتا چلتا ہے کہ وہ ایک غیر معمولی انسان اور حکیم تھا۔ اس پر لکھا بھی گیا۔

 

  آبادی آئییونیا (Ayunia ayurvedic ) کے شہر مائیلیٹس سے تھا ۔ یہ مفکر624قبل مسیح میں مائیلیٹس میں پیدا ہوا اور 546قبل مسیح میں وفات پائی۔یہ یونان کا سب سے قدیم فلسفی تھا ،انسانی تاریخ میں سب سے پہلے سورج گرہن کی نشاندہی اسی نے کی تھی ۔ اس کو دنیا کا پہلا جیو میٹری دان ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ سال کے 365 دنوں کا تصور بھی اسی کا پیش کردہ ہے ۔ سورج اور چاند کے حجم کی اولین نشاندہی کا سہرا بھی اسی کے سر جاتا ہے ۔ یہ دنیا کاپہلا فلسفی تھا جس نے کائنات کی تخلیق کی تشریح سائنسی شکل میں کی۔ اس نے پہلی مرتبہ علم ہندسہ کے اصولوں کا اطلاق عملی مسائل پر کیا۔ اسے الجبراء پر بھی دسترس حاصل تھی ۔اس نے یونانی فلسفیوں کا پہلا علمی مرکز قائم کیا ۔فیثا غورث: یہ ایک یونانی فلسفی تھا جو570 قبل مسیح میں پیدا ہوا اور 495 قبل مسیح میں وفات پائی۔یہ بنیادی طور پر ایک فلسفی ، ریاضی دان اور سائنسدان تھا لیکن وہ ماہر ریاضی دان کی حیثیت سے زیادہ مشہور ہوا۔ وہ یونان کے جزیرے ساموس سے جنوبی اٹلی کی ایک مختصر آبادی والے شہر کروٹو میں منتقل ہو گیا تھا ۔

 

ساموس سے اس کی ہجرت کا سبب مورخین وہاں کے لوگوں سے اس کا نظریاتی اختلاف بتاتے ہیں ۔چنانچہ کروٹو میں اس نے اپنے ہم خیال پیرو کاروں کے ہمراہ ایک تحریک کی بنیاد ڈالی جس کا مقصد مذہبی ، سیاسی اور فلسفیانہ نظریات کو لوگوں تک پہچانا تھا ۔اس تحریک کو ''فیثا غورث ازم‘‘کے نام سے جانا جاتا ہے ۔فیثا غورث کے بارے میں مورخین اس بات پر متفق ہیں کہ وہ کسی بھی دوسرے فلسفی سے زیادہ گہرائی تک جا کے تحقیق کرنے کا عادی تھا اور جب تک کامیابی حاصل نہ کر لیتا ، چین سے نہیں بیٹھتا تھا ۔افلاطون:یہ 460 قبل مسیح ایتھنز کے ایک ممتاز گھرانے میں پیدا ہوا ۔نوجوانی میں اس کی ملاقات فلسفی سقراط سے ہوئی جو اس کا دوست اور رہبر بن گیا۔اس کو یہ منفرد اعزاز حاصل تھا کہ یہ مایہ ناز فلسفی سقراط کا شاگرد اور نامور فلسفی ارسطو کا استاد تھا۔ 387قبل مسیح میں اس نے ایتھنز میں ''اکادمی‘‘ نامی علم گاہ کی بنیاد رکھی۔اس کے بعد اس نے اپنی زندگی کے باقی چالیس سال علم وتدریس میں ایتھنز میں گزار دئیے۔ مورخین اسکی قائم کردہ ''اکادمی‘‘ کے بارے کہتے ہیں کہ اس علم گاہ سے 900 سال تک لوگ فیض یاب ہوتے رہے ۔ حتیٰ کہ ارسطو بھی اسی اکیڈمی سے فیض یاب ہوا۔ یہ اکیڈمی مغربی دنیا کی اولین تعلیمی درسگاہ ہونے کا اعزاز بھی رکھتی ہے ۔ اس نے اسی درسگاہ سے مغربی فلسفہ         ،سائنس اور ریاضی کی بنیاد رکھی ۔یہ فلسفہ کی تدریس کرتا رہا اور لکھتا بھی رہا۔   

 

 افسس کاسورانوس نے دوسری صدی عیسوی میں یونان کے زیرانتظام افسس شہر میں ماہرامراض مخصوصہ (گائناکالوجسٹ) کے طور پر شہرت پائی۔ یہی سورانوس بقراط کا اولین سوانح نگار تھا۔ سورانوس نے بقراط کے بارے میں بیرونی ذرائع سے بہت سی معلومات کو اکٹھا کیا اور ان معلومات سے استفادہ کرنے کے علاوہ اس نے ارسطو کی تحریروں میں سے بھی بقراط کے بارے میں مواد حاصل کیا۔ دسویں صدی عیسوی میں سوداس اور بارہویں صدی عیسوی میں جان ٹزٹیز نے بھی بقراط کی سوانح لکھیں۔ سورانوس کا کہنا ہے کہ بقراط کے باپ کا نام ہیراگلاڈیس تھا۔ ہیرا کلاڈیس اپنے زمانے کا نامور طبیب تھا۔ بقراط کی ماں کا نام پراکشٹیلا تھا جو کہ اپنے دور کے نامی گرامی شخص فینا ریٹنس کی بیٹی تھی۔ بقراط کے دو بیٹے تھے ایک کا نام تھیسایس اور دوسرے کا ڈراکو تھا۔ بقراط کی ایک بیٹی تھی جس کے خاوند کا نام پولی بس تھا۔ بقراط کے دونوں بیٹے اور داماد اس کے شاگرد تھے۔ انہوں نے علم طب کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد بہت شہرت پائی۔ حکیم جالینوس کا کہنا تھا کہ بقراط کے علم و تجربے کا حقیقی جانشین پولی بس تھا کیونکہ اس نے تمام قواعد صحیح طور پر سیکھے  

ڈاکٹر پیزادہ قاسم 'ایک مایہء ناز ماہرتعلیم اور شاعر

 

پروفیسر ڈاکٹر پیرزادہ قاسم صدیقی 8جون 1943ء کو دہلی کے ایک علمی و ادبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔  ابھی بچپن کے ابتدائ ایام  ہی گزر رہے تھے کہ  پاکستان اور ہندوستان کا بٹوارہ ہو گیا  چنانچہ تقسیم ہند کے وقت ان کے خاندان نے بھی اپنا  تمام اثاثہ  ہندوستان میں چھوڑا اور پاکستان کی سرزمین کو اپنا نیا مسکن بنا لیا - گھر کے اندر تعلیمی ماحول تھا  انہوں نے بھی ابتدائ تعلیمی مدارج طے کرتے ہوئے  انہوں نے ڈی جے سائنس کالج سے انٹر کا امتحان امتیازی نمبروں سے کامیاب کیا اس کے بعد جامعہ کراچی سے بی ایس سی آنرزکرنے کے  بعد ایم ایس سی کا امتحان پاس کیا۔ایم ایس سی کے بعد نیو کیسل یونیورسٹی برطانیہ سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد درس و تدریس کا پیشہ اختیار کیا اور جامعہ کراچی میں بحیثیت لیکچرار مقرر ہوئے۔ دوران ملازمت وہ جامعہ کراچی کے پرو وائس چانسلر اور رجسٹرار رکن سنڈیکیٹ، مشیر امور طلبہ اور دیگر اہم کمیٹیوں کے رکن رہے۔پیرزادہ قاسم اردو یونیورسٹی کے پہلے وائس چانسلر مقرر ہوئے تھے لیکن چند ماہ بعد وہ کراچی یونیورسٹی کے وائس چانسلر مقرر کردیئے گئے۔


  پیرزاد قاسم پسندیدہ شعرا میں سے ہیں ۔  ان  کی شاعری  ان کے مخصوص ترنم میں  بہت  لطف دیتی  ہے -پروفیسر ڈاکٹر پیرزادہ قاسم صدیقی  کا کہنا ہےکہ شاعری میری پہلی محبت ہے  لیکن  میری  شاعری کا سرمایہ اتنا بھی نہیں کہ جتنا ہونا چاہئے۔ پیرزادہ قاسم  نے تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد درس و تدریس کا پیشہ اختیار کیا۔ 1960ء میں جامعہ کراچی میں بحیثیت لیکچرار مقرر ہوئے۔ دوران ملازمت وہ جامعہ کراچی کے پرووائس چانسلر اور رجسٹرار، رکن سنڈیکیٹ، مشیر امور طلبہ اور دیگر اہم کمیٹیوں کے رکن بھی رہے۔ پیرزادہ قاسم 2012ء تک جامعہ کراچی کے وائس چانسلر بھی رہے۔، وفاقی اردو یونیورسٹی اور ضیاء الدین یونیورسٹی کے بھی وائس چانسلر بنے رہےسمجھتے ہیں کہ ادبی و علمی ورثہ اگلی نسل تک منتقل کئے بغیر معاشروں میں ایسے روبوٹس تیار ہوتے ہیں جو اچھے ڈاکٹر اور اچھے انجینئر تو ہو سکتے ہیں مگر انہیں مکمل شخصیت کہنا غلط ہوگا۔ہمیں ایسا معاشرہ چاہئے کہ جہاں افراد کو شعر و ادب سے دلچسپی ہو اور جو اچھے شعر پر داد دے سکیں اور اچھی تحریر کی پرکھ رکھتے ہوں۔۔1996ء میں دبئی میں جشن پیرزادہ قاسم بڑی شان و شوکت سے منایا گیا۔


یہ حقیقت ہے کہ ترقی پذیر معاشروں میں ایسے لوگوں کی مثال بہت کم دیکھنے کو ملتی ہے جو یورپ جا کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کریں، اور  پھر واپس اسی مٹی کا رخ کریں جہاں سے وہ تعلق رکھتے ہیں۔پیرزادہ قاسم کا  شمار ایسے ہی چند مٹھی بھر لوگوں میں کیا جا سکتا ہے جنہوں نے وطن اور اپنی زبان سے محبت کی خا طر پردیس کی پُر آسائش زندگی کو نظر انداز کر کے پاکستان کی مٹی کو عزیز تر رکھا 60ء کی دہائی میں برطانیہ سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل                         کی لیکن  ان کے دل میں اپنی زبان اپنا ماحول اس طرح سے رچا ہوا تھا کہ  تعلیم مکمل کرنے کے بعد  وہ دیار غیر میں رہ نہیں سکے اور پاکستان واپس آ گئے حالانکہ پردیس جانا اور پھر واپس پاکستان  آ کر یہاں ایڈجسٹ کرنا یہ ایک بڑامشکل مرحلہ ہوتا ہے لیکن ان کے ارادے اتنے پختہ تھے کہ انہوں نے پیچھے پلٹ کر دیکھا ہی نہیں                                 


                                                                                                                 پاکستان واپسی کے سفر میں ان کی ایک سوچ کارفرما نظر آئ جس میں  ان کی اردو زبان سے محبت شامل تھی  ان کی خواہش تھی کہ ان کی اگلی نسل بھی وہی زبان بولے جو وہ خود بولتے ہیں اور ان کے والدین بولتے ہیں ۔ پیرزادہ قاسم پاکستان میں شعبہ تدریس کی ایک قابل قدر شخصیت کے طور پر نمایاں سمجھے جاتے ہیں۔ وہ 1960ء سے جامعہ کراچی کے شعبہ فزیالوجی سے منسلک رہے- دوران ملازمت وہ جامعہ کراچی کے پرووائس چانسلر اور رجسٹرار، رکن سنڈیکیٹ، مشیر امور طلبہ اور دیگر اہم کمیٹیوں کے رکن بھی رہے۔انہوں نے 1960ء سے شاعری کا آغاز کیا اور غزل سمیت مختلف اصنافِ سخن میں اپنی صلاحیتوں کا اظہار کیا۔ ان کی معروف تصانیف میں ’’تند ہوا کے جشن میں‘‘ اور ’’شعلے پہ زبان‘‘ شامل ہیں۔       بےمسافت سفرا'نھوں نے تمام  اصناف سخن میں طبع آزمائی کی ہے، مگر غزل ان کا خاص میدان  ہے


پیر، 20 اکتوبر، 2025

کل میں اس کے ہاتھ پر چپکےسے کچھ رقم دے آؤ ں گی 'میں سہاگن بنی 'مگر'

 

 اور اس کے بعد ہم کو پتا چلا کہ وہ موت کے منہ میں پہچ گئ ہیں مگر امّا ں کا دل نا پسیجا ،میں اس رات کو دیر تک نا جانے کیوں جاگ رہی تھی شائد گھرکے اندر کچھ کچھ نامانوس مسموم ہوا کے چلنے احسا س ہو رہا تھا کہ اتنےمیں مجھے امّاں اور ابّا کی باتیں کو آوازیں سنائ دینے لگیں پہلے ابّا کی کمزور لہجے میں آواز آئ ابّا کہ رہے تھے لگتا ہے منجھلی مر جائے گی تب بھی تمھارے کان پر جوں نہیں رینگے گی تو امّاں نے ابّا کو اپنی رعب دارآواز میں جوابدیا اسلا م الدّین موت زندگی اللہ کے ہاتھ ہے وہ جتنی لائ       ہے اس سے کوئ نہیں چھین سکتا ہےپھر ابّا نے امّاں سے کہا میں منجھلی کے گھر ہوتا آیا ہوں ،اس کی طبیعت بے حد خراب نظر آرہی تھی، بلکل زرد چہرہ ہو رہا ہے اور سوکھ کر کانٹا ہو گئ ہے ابّا کا لہجہ منجھلی آپا کا زکر کرتے ہوئے اور بھی آزردہ ہو گیا ابّا پھر کہنے لگے نیک بخت تم ہمیشہ منجھلی کو ڈانٹ کر چپ کر دیتی ہو کبھی تو اس کی بھی سن لو ، شائد وہ سچ ہی کہتی ہو ،لیکن امّاں خاموش رہیں لیکن جب ابّا نے کہا مجھے لگتا ہے منجھلی سسرال کے دکھ ا ٹھا کر مر جائے گی - تب امّاں کی خاموشی کی مہر ٹوٹی

 

 ابّا کی بات پر امّاں نے ان کو بھڑک کر جواب دیا ،اسلام الدّین پرائے لوگوں میں جگہ بنانا اتنا آسان نہیں ہوتا ہے ،وہ اگرمشکل میں بھی ہے تو اس کا حل یہ نہیں ہے کہ میں بیٹی کو بلا کر سینے پرمونگ دلنے کو بٹھا لوں ،رہا مرنے اور جینے کا حساب تو جس کی امانت ہے وہ     جانے ،لیکن اللہ ہی نے تو نباہ نا ہونے کی صورت میں علیحد گی کی گنجائش رکھّی   ہے،ابّا نے دھیمے لہجے میں کہا اور میں نے اپنی جاگتی آنکھو ں سے منجھلی آپا کے جنازے کو قبرستان جاتے دیکھا حقیقت یہ تھی کہ میں اپنی منجھلی آپا کی شادی سے خو ف ذدہ ہو گئ  تھی پھر رات کے سکوت میں امّا ں کی آواز مجھ کو سنائ د یا  یاد ہے تمھاری امّاں نے تمھاری چھوٹی بہن نادر ہ کو اس کی سسرال کی مصیبتوں کا رونا سن سن کر کیسے طمطراق سے یہ کہ کر خلع دلوایا تھا کہ ہماری بیٹی کی دو روٹی ہم پر بھاری نہیں یہ خلع نادرہ نے امّاں کے گلے منڈھ کر کہا تھا،،،آ پ میری ماں تھیں ،طلاق لینے میں میری حوصلہ افزائ کرنے کے بجائے مجھے سمجھا بجھا کر سسرال بھیجنا تھا ،یو ن طلاقن بیٹیا ں ماؤں کے کلیجے پر مونگ دلتی ہیں طلاق کے بعد سارے میکے کا جینا حرام کر کے رکھ دیتی ہیں ،یاد تو ہو گا تمھیں،

 


 ابّا خاموشی سے سنتے رہے اور امّاں نے کہا ،اسلا م الدّین میں تم کو طعنےنہیں دے رہی ہوں بلکہ حقیقت بتا رہی ہو ں ،میرے آگے ابھی تین پہاڑ رکھّےہیں ان کو کھسکاؤں یا بیاہی کو بھی طلاقن بنا دوں انصا ف سے سوچو کہ میں کیا کہ رہی ہوں اور تمھیں یہ بھی یاد ہو گا کہ اس دکھیا کو دوجی سسرال بھی کیسی ملی  پھر اس نے مرتے دم تک طعنے سنے کہ تو طلاقن ہے اس لئے اپنی اوقات میں رہ   کر بات کر وہ تو اللہ نے اس کا پردہ رکھ کر اسے اپنے پاس بلا لیا ورنہ   ساری عمر ہی روتی رہتی بہن تمھاری اسی لئے سیانوں کی کہاوت ہے "دوجے میاں سے پہلامیاں ہی بھلا "تم مرد زات ہو ایسی نزاکتوں کو سمجھ نہیں سکتے ہو جس گھر میں ایک طلاق ہوجاتی ہے اس گھر میں دنیا والے رشتے ناطے کرتے ہوئے ڈرتے ہیں کہ ہمارے ساتھ بھی یہ لوگ ایسا ہی کریں گے ابھی دل پر صبر کا بھاری پتھّر رکھ کر صبر کر لو اسی میں ہم سب کی بہتری ہے ،،امّاں کی بات کے جواب میں ابّا کی ایک ٹھنڈی سسکاری سی مجھ کو سنائ دی- تم کتنی صحیح با ت کر رہی نیک بخت کہ ہم کو اب باقی کی فکر کرنی چاہئے چہ جائکہ ہم بیاہی بیٹیوں کی الجھنوں میں گرفتاررہیں  

 

ورامّاں کی باتوں کےجواب میں ابّا نے ایک ٹھنڈی سانس بھر کر کہا فریال کے رشتے کا کیا ہوا تو امّا ں نے ان کو جوابدیا ،ابھی تو بس سلام آیا ہے ،پیام آئے تو ارادے پتا چلیں گے،لیکن تمھارے ماموں کی بیٹی اپنے دیورکے لئے نرگس کا ہاتھ مانگ رہی ہے ،،میں نے تو کانوں کو ہاتھ لگائے ہیں وہ  کون سے اچھّے ہیں ، ظالموں کے نرغے میں ایک منجھلی کو ہی دے کر پچھتا رہی ہوں ، ابّا نے کہا  ہا ں نیک بخت بڑی کو اٹھائے بغیر چھوٹی کو کیسے اٹھا دیں ،نہیں اسلام الدّین بڑی چھوٹی کی کوئ بات نہیں ہے جس کا رشتہ پہلے آئے اسی کو اٹھا ناہے دیکھ نہیں رہے ہو نرگس کیسے ڈھور ڈنگروں کی طرح منہ کو آرہی ہے رشتہ اچھّا ہوتا تو اس کوفریال سے پہلے ہی ر خصت کر دیتی امّاں نے کہا اور میں اندر سے لرز کر رہ گئ اور پھر ماحول میں رات کا سکوت چھا گیا پھر کچھ ثانئے کے بعد امّاں کی آواز آئ ،اسلام الدّ ین تم  بیٹی کی طرف سے اپنا دل میلا نہیں کرنا میں نے اسکو جنم دیا ہے اس کی تکلیف پر میری کوکھ پھڑکتی ہے میں راتوں کو سکون سے سوتی نہیں ہوں مگرمیں کیا کروں ،مجبور ہوں ،تم بے فکر رہو کل میں اس کی سسرال جا کرکچھ اس کے ہاتھ پر چپکےسے دے آؤ  ں  گی  


حضرت بی بی ام البنین سلام اللہ علیہا کا خواب

 


حضرت بی بی  ام البنین سلام اللہ علیہا  کا خواب

حضرت ام البنین سلام  اللہ علیہا  فرماتی ہیں کہ  مولا  علی علیہ السلام  کا رشتہ  آنے سے پہلے میں نے ایک   خواب دیکھا کہ میں ایک سرسبز اور گھنے باغ میں بیٹھی ہوں۔ وہاں بہتی  ہوئ  نہریں اور بے شمار پھل درخت  موجود  ہیں ۔ آسمان پر چمکتا ہوا چاند اور ستارے روشن  ہیں  اور میں انہیں دیکھ رہی  ہوں ۔ میں اللہ کی تخلیق کی عظمت اور بغیر ستون کے  مظبوط  آسمان، چاند کی روشنی اور ستاروں کے بارے میں غور و فکر کر رہی تھی۔ اسی دوران اچانک چاند آسمان سے زمین پر اترا اور میری گود میں آ گیا۔ اس چاند سے ایک ایسی روشنی نکل رہی تھی جو آنکھوں کو خیرہ کر رہی تھی۔ میں حیرت اور تعجب میں مبتلا تھی کہ اسی وقت چار روشن ستارے اور میری گود میں آ گرے۔ بی بی  ام البنین نے خواب کا زکر اپنی مادر گرامی سے کیا اور انہوں اس خواب کا زکر اپنے شوہر  سے کیا حضرت ام البنین کے والد حزام بن خالد نے اپنی قوم کے خوابوں کی تعبیر  بیان کرنے والے عالم  کے پاس گئے اور ان سے اس خواب کی تعبیر پوچھی۔ معبر نے کہا یہ خواب کسی کو مت بتائیں اور یقین رکھیں کہ آپ کی بیٹی کے لیے عرب و عجم کے کسی بڑے  عظیم الشان شخص کا رشتہ آئے گا، اور اللہ تعالیٰ اسے چار بیٹے عطا کرے گا۔



عقیل، علم انساب میں بہت آشنائی رکھتے تھے اور ان کی بات اس سلسلہ میں حجت مانی جاتی تھی۔ ان کے لیے مسجد النبی (ص) میں ایک چٹائی بچھائی جاتی تھی جس پر وہ نماز ادا کرتے تھے اور اس کے بعد عرب قبائل علم انساب کے بارے میں آگاہی حاصل کرنے کے لیے ان کے گرد جمع ہوتے تھے۔ وہ ایک حاضر جواب شخص تھے۔ بی بی سیدہ سلام اللہ علیہا کی وفات کے بعد حضرت عقیل کی جانب سے اصرار تھا کہ  ان کے چھوٹے بھائ مولا علی علیہ السلام دوسرا عقد کریں  اسی لیے حضرت علی بن ابیطالب  علیہ السلام نے  اپنے  ماہر انساب بھائی سے مخاطب ہو کر فرمایا: میرے لیے ایک ایسی  خانون  کا انتخاب کریں کہ، جو شجاع اور دلیر مرد عربوں کی نسل سے ہو  جو   کر بلا میں میرے حسین کے لئے  ایک بہادر اور شہسوار بیٹے کو جنم دے۔"حضرت عقیل بن ابیطالب نے ، بنی کلاب کے خاندان سے ام البنین کا انتخاب کیا،جو شجاعت میں بے مثال خاندان تھا، اور اپنے بھائی کے جواب میں کہا:" آپ فاطمہ  کلابیہ سے شادی کریں، کیونکہ ان کے آباء و اجداد سے شجاع تر عربوں میں کوئی نہیں ہے۔ حضرت عقیل نے بنی کلاب خاندان کی دوسری خصوصیات بھی بیان کیں اور  مولا علی علیہ السلام نے اس انتخاب کو پسند فرمایا اور  اپنے بھائ عقیل کو رشتہ لینے کے لیے ام البنین  سلام اللہ علیہا کے باپ کے ٍپاس بھیجا۔



جب حضرت علی علیہ السلام کے بھائی حضرت عقیل  خواستگاری کے لیے حزام بن خالد کے پاس آئے، تو حزام نے اپنی بیٹی کے خواب کو یاد کرتے ہوئے انہیں خوشخبری دی اور کہا: میری بیٹی! یقیناً اللہ تعالیٰ نے تمہارے خواب کو حقیقت میں بدل دیا ہے۔ دنیا اور آخرت کی خوش بختی کی بشارت ہو! پھر حزام نے اپنی اہلیہ ثمامہ سے مشورہ کیا اور کہا کہ کیا تم ہماری بیٹی فاطمہ (ام البنین) کو امیرالمومنین علی علیہ السلام کے نکاح کے لائق سمجھتی ہو؟ جان لو کہ ان کا گھر وحی، نبوت، علم، حکمت، ادب اور اخلاق کا مرکز ہے۔ اگر تم اپنی بیٹی کو اس گھر کے لائق سمجھتی ہو تو ہم اس مبارک رشتے کو قبول کریں گے۔تاریخ میں لکھا گیا ہے کہ حضرت ام البنین سلام اللہ علیہا نے جب حضرت علی علیہ السلام کے گھر میں قدم رکھا تو انہوں نے امام علی علیہ السلام سے درخواست کی کہ انہیں ان کے اصل نام فاطمہ کے بجائے "ام البنین" کے لقب سے پکارا جائے۔ یہ اس لیے کہ امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام اپنی والدہ حضرت فاطمہ زہرا علیہا السلام کا نام سن کر اپنی والدہ کی یاد میں غمگین نہ ہوں اور ان کے دلوں میں یتیمی کا درد تازہ نہ ہو۔



حضرت ام البنین علیہ السلام نے نہ صرف حضرت علی علیہ السلام کی بہترین زوجہ ہونے کا حق ادا کیا بلکہ حضرت امام حسن علیہ السلام، حضرت امام حسین علیہ السلام اور بی بی زینب علیہا السلام کے لیے ایک شفیق اور محبت کرنے والی ماں کی حیثیت سے بھی اپنی مثال قائم کی۔ اپنے بیٹوں کو امام حسین علیہ السلام کے مشن کے لیے قربان کر دینا ان کی وفاداری اور ایمان کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام کی حضرت ام البنین علیہا السلام سے خواستگاری کا واقعہ اسلامی تاریخ کا ایک خوبصورت واقعہ ہے جو اس عظیم خاتون کی شرافت، ایمان اور بلند مقام کو واضح کرتا ہے۔ حضرت ام البنین سلام  اللہ علیہا کے امام علی علیہ السلام سے چار بیٹے تھے: حضرت عباس علیہ السلام، عبد اللہ، عثمان اور جعفر۔ ان سب میں سب سے بڑے حضرت عباس علیہ السلام تھے، جو 4 شعبان 26 ہجری کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئےاور یہ چاروں میدان کارزار کربلا میں داد شجاعت دیتے ہوئے  مولا حسین پر قربان ہوگئے ۔ 


ائیر مارشل نور خان سے روشن خان تک 'پاکستان کے روشن چہرے 'parT'1

ہما رے پیارے پاکستان کے ائر وائس  مارشل نور خان صاحب میں ایک خاص صلاحیت تھی وہ ایک ہونہار اور  باصلاحیت کھلاڑی  کے اندر  چھپی ہوئ صلاحیتوں کا  فوراً  اندازہ لگا  لیتے تھے۔ کھلاڑی کسی کھیل کا ہو، اس سے بحث نہیں، مگر اس میں آگے اور  بڑھنے کی  تھوڑی سی بھی صلاحیت  ہوتی تو وہ نور خان صاحب کی نظر سے اوجھل نہیں رہ سکتی تھی۔  بس نور خان کی جہاندیدہ نظروں نے روشن خان میں چھپے ہوئے کھلاڑی سے ملاقات کر لی پشاور کے قریب ایک چھوٹا سا گاوں تھا، بلکہ اب بھی ہے، جسے غالباً نواں کلی کہتے ہیں۔ وہاں کے بیشتر رہنے والے پشاور ائر فورس بیس پر ملازم تھے۔ آفیسر میس کے تمام بیرے تو تقریباً اسی گاوں سے تھے، ان کے علاوہ جو ٹینس اور سکوائش کھلانے پر معمور تھے، نورخان صاحب کی نظر کا کمال بھی بھلایا نہیں جا سکتاہے-روشن خان (پیدائش: 1927ءپشاور : وفات: 6جنوری 2006ءکراچی) سکواش کے سابق عالمی چیمپئن۔ ورلڈ سکواش فیڈریشن کے صدر اور سکواش کے سابق عالمی چیمپئن جہانگیر خان کے والد تھے ان کے والد آرمی میں ملازم تھے لیکن انھوں نے پاکستان نیوی میں ملازمت اختیار کی۔ وہ بال بوائے تھے اور نیوی افسران جب سکواش کھیلتے تو وہ ان کو بال اٹھا کر دیا کرتے تھے۔ یہیں سے ہی ان میں سکواش کھیلنے کا شوق پیدا ہوا۔ بعد میں انھیں نیوی کی جانب سے سکواش کے مقابلوں میں شرکت کرنے کا موقع ملا۔ ان کی ان کامیابیوں سے سکواش کی دنیا میں پاکستان کی طویل حکمرانی کا آغاز ہوا۔


 روشن خان نے پہلی مرتبہ 1957ء میں برٹش اوپن سکواش چیمپئن شپ جیتی تھی۔ وہ تین مرتبہ یو ایس اوپن کے فاتح بھی رہے۔یہ شخص روشن خان تھے جنھیں آج کی نسل سکواش کے عظیم کھلاڑی جہانگیر خان کے والد کے طور پر جانتی ہے لیکن درحقیقت وہ خود اپنے دور کے عظیم کھلاڑیوں میں شامل تھے۔ اور سب سے بڑھ کر جن مشکل حالات میں رہتے ہوئے انھوں نے اپنے خواب کو حقیقت کا روپ دیا، ایسی مثالیں بہت کم نظر آتی ہیں۔روشن خان کی زندگی جہد مسلسل سے عبارت تھی۔ کچھ لوگوں کو ان کے سخت مزاجی سے شکوہ رہا لیکن درحقیقت اس تلخی کے پیچھے وہ حالات اور واقعات تھے جن کا سامنا روشن خان کو اپنے کریئر کے دوران کرنا پڑا۔ لیکن جو لوگ انھیں قریب سے جانتے تھے وہ بتاتے ہیں کہ روشن خان اندر سے ایک نرم مزاج انسان تھے۔اس دور میں پیشہ ورانہ رقابت عروج پر تھی سیاست عروج پر تھی-روشن خان نے بتایا تھا کہ یہ وہ دور تھا جب وہ قومی چیمپئن ہونے کے باوجود انگلینڈ میں ہونے والے مقابلوں میں شرکت سے محروم تھے 


جبکہ اس دور میں ہاشم خان، اعظم خان، سفیراللہ اور محمد امین انگلینڈ جا رہے تھے۔ان کے مطابق محمد امین کراچی جمخانہ اور سفیراللہ سندھ کلب سے وابستہ تھے لیکن یہ دونوں ان کے ساتھ کھیلنے کے لیے تیار نہیں ہوتے تھے بلکہ انھیں ان دونوں جگہوں میں کھیلنے کی اجازت بھی نہیں تھی۔روشن خان کے مطابق ’سیاست اپنے عروج پر تھی۔‘ ان کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود میں رات کے وقت میں ایک کھلے میدان میں جا کر دوڑ لگایا کرتا تھا تاکہ خود کو فٹ رکھ سکوں۔ اسی میدان میں انٹرکانٹینٹل ہوٹل بنا۔ ایک دن میں نے مایوسی کے عالم میں بڑے بھائی نصراللہ سے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ مجھے ہاشم خان اور دوسرے کھلاڑیوں سے کھیلنے کا موقع مل سکے گا لہذا مجھے کوئی نوکری تلاش کرنی چاہیے تاکہ گذر اوقات ہو سکے۔ʹپھر دنیا زمانے  نے دیکھا کہ روشن خان کے بیٹے جہانگیر خان نے 10 مرتبہ برٹش اوپن سکواش چیمپئن شپ جیتنے کا ریکارڈ قائم کیا۔ جہانگیر 6 مرتبہ ورلڈ اوپن کے فاتح بھی رہے ہیں۔سکواش کی تاریخ میں روشن اور جہانگیر خان واحد باپ اور بیٹا ہیں کہ جنھوں نے برٹش اوپن ٹائٹل جیتا ہے۔


روشن خان کو کئی ممالک نے کوچنگ کی پیشکش کی تھی جسے انھوں نے ٹھکرادیا اور ملک میں رہنے کو ترجیح دی۔ ان کے تینوں بیٹوں طورسم خان، حسن خان اور جہانگیر خان نے سکواش کھیلی۔ روشن خان کے بیٹے جہانگیر خان نے 10 مرتبہ برٹش اوپن سکواش چیمپئن شپ جیتنے کا ریکارڈ قائم کیا۔ جہانگیر 6 مرتبہ ورلڈ اوپن کے فاتح بھی رہے ہیں۔سکواش کی تاریخ میں روشن اور جہانگیر خان واحد باپ اور بیٹا ہیں کہ جنھوں نے برٹش اوپن ٹائٹل جیتا ہے۔روشن خان کو کئی ممالک نے کوچنگ کی پیشکش کی تھی جسے انھوں نے ٹھکرادیا اور ملک میں رہنے کو ترجیح دی۔ ان کے تینوں بیٹوں طورسم خان، حسن خان اور جہانگیر خان نے سکواش کھیلی۔روشن خان کے وہ عزیز جو ان کو اپنے ساتھ کھلانا پسند نہیں کرتے تھے آ ج بلکل نے نام زندگی گزار رہے ہیں جبکہ روشن خان کا نام آ ج بھی ایک تابندہ ستارے کی مانند پاکستان کے آسمان پر روشن ہے اللہ پاک روشن خان کی مغفرت فرمائے آمین

تحریر انٹر نیٹ کی مدد سے لکھی گئ

ائیر مارشل نور خان سے روشن خان تک 'پاکستان کے روشن چہرے

 

' ائیر مارشل نور خان سے روشن خان تک 'پاکستان کے روشن چہرے 'روشن خان نے آج سے تقریباً 35 سال پہلے مجھے دیے گئے انٹرویو میں ان مشکل حالات کا تفصیل سے ذکر کیا تھا۔ʹمیں راولپنڈی کلب میں اپنے والد فیض اللہ خان کے ساتھ کام کرتا تھا لیکن بہتر مستقبل کی خاطر میں راولپنڈی سے کراچی آ گیا مگر میرے پاس سر چھپانے کے لیے ٹھکانہ تھا نہ کوئی ملازمت تھی۔ میں نے کئی راتیں سڑکوں پر گزاری تھیں۔  روشن خان   اپنی پہچان بنانا چاہتے تھے لیکن حالات اس کی اجازت نہیں دیتے تھے۔روشن خان نے سنہ 1949 میں کاکول میں پاکستان پروفیشنل سکواش چیمپئن شپ جیتی تھی لیکن اس میں ہاشم خان نہیں کھیلے تھے۔ روشن خان چاہتے تھے کہ ان کی صلاحیت کا پتہ اس وقت چلے گا جب وہ ہاشم خان سے مقابلہ کریں گے۔روشن خان کے ذہن میں یہ تھا کہ ہاشم خان پاکستان میں چیمپئن شپ نہیں کھیلتے ہیں لہذا کراچی میں ان کے لیے مواقع ہو سکتے ہیں کہ وہ یہاں سے لندن جاکر قسمت آزمائی کر سکیں۔ اس دوران ان کے بڑے بھائی نصراللہ جو کراچی میں ٹینس اور سکواش کھیلتے تھے، نے ان کی مدد کی۔


سنہ 1952 میں جب پاکستان پروفیشنل چیمپئن شپ ہوئی تو ہاشم خان اور ان کے چھوٹے بھائی اعظم خان نے اس میں حصہ نہیں لیا۔  ۔ روشن خان ن بار پھر چیمپئن شپ جیت لی لیکن انھیں ہاشم خان کے ساتھ نہ کھیلنے کا دکھ تھا۔ روشن خان اور ایوب خان-ان کے مطابق محمد امین کراچی جمخانہ اور سفیراللہ سندھ کلب سے وابستہ تھے لیکن یہ دونوں ان کے ساتھ کھیلنے کے لیے تیار نہیں ہوتے تھے بلکہ انھیں ان دونوں جگہوں میں کھیلنے کی اجازت بھی نہیں تھی۔روشن خان کے مطابق ’سیاست اپنے عروج پر تھی۔‘ ان کا کہنا تھا ʹرات کے وقت میں ایک کھلے میدان میں جا کر دوڑ لگایا کرتا تھا تاکہ خود کو فٹ رکھ سکوں۔ اسی میدان میں انٹرکانٹینٹل ہوٹل بنا۔ ایک دن میں نے مایوسی کے عالم میں بڑے بھائی نصراللہ سے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ مجھے ہاشم خان اور دوسرے کھلاڑیوں سے کھیلنے کا موقع مل سکے گا لہذا مجھے کوئی نوکری تلاش کرنی چاہیے تاکہ گزر اوقات ہو سکے۔ʹیہ غالباً 1953 کی بات ہے جب روشن خان سکواش سے مکمل طور پر مایوس ہو چکے تھے۔ اس موقع پر نصراللہ خان نے اپنے ایک دوست سے ذکر کیا جو روشن خان کو پاکستان نیوی کے ایک افسر کے پاس لے گیا۔ 

 

روشن خان نے انھیں اپنے میچوں سے متعلق اخبارات کے تراشے دکھائے۔افسر نے روشن خان سے کہا کہ وہ انھیں پاکستان بحریہ میں چپڑاسی کی ملازمت دلوا سکتے ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اگرچہ یہ ملازمت ان کے شایان شان نہیں ہے لیکن اس سے آگے کا راستہ کھل سکتا ہے۔ اور اس کے بعد جو ہوا وہ تاریخ کا حصہ بن گیا۔روشن خان نے جب تیسری مرتبہ قومی پروفیشنل چیمپئن شپ جیتی تو پاکستان نیوی کے افسران بہت خوش تھے۔ روشن خان کو چپڑاسی کی ڈیوٹی سے ہٹا دیا گیا۔ ان کی تنخواہ میں اضافہ کر دیا گیا اور اب ان کا کام صرف سکواش کھیلنا تھا۔ پھر وہ وقت بھی آیا جب نیوی نے اپنا وعدہ پورا کرتے ہوئے روشن خان کو انگلینڈ بھجوا دیا۔پندرہ پاؤنڈ کی خریداری مگر جیب میں ایک سکہروشن خان لندن تو پہنچ گئے لیکن ان کی حالت کچھ اس طرح تھی کہ جیب میں صرف پانچ شلنگ تھے۔ ان کا کل سامان صرف دو ٹراؤزر، ایک شرٹ، ٹینس شوز کی   ایک جوڑی اور ایک اوور کوٹ پر مشتمل تھا۔ 


یہ اوور کوٹ بھی نیوی کے سٹور سے انھیں دیا گیا تھا جسے وطن واپسی پر سٹور میں واپس کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔روشن خان اپنی رہائش کا پیشگی کرایہ ادا کر کے جب پاکستان ہائی کمیشن پہنچے تو ان کی جیب میں صرف ایک شلنگ باقی بچا تھا۔ ان کی خوش قسمتی کہ انھیں برٹش سکواش ریکٹس ایسوسی ایشن کے سیکریٹری ہینری ہیمین کے پاس پہنچایا گیا جو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ روشن خان کے پاس کھیل کا مناسب سامان تک نہیں تھا۔وہ انھیں پکِیڈ لی سرکس میں کھیلوں کے سامان کی مشہور دکان لِلی وائٹس لے گئے جہاں انھوں نے روشن خان کے لیے ریکٹ، جوتے، جرابیں اور شرٹس خریدیں۔ بل پندرہ پاؤنڈ کا آیا جو ہیمین نے  اپنی جیب سے اداکیا دراسل وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ روشن خان کو اپنے ٹریولرز چیک کیش کرانے کا وقت نہیں مل سکا ہے۔اور پھر اللہ نے روشن خان کی سخت جان محنت خدائے واحد پر یقین نے ان کو بین الاقوامی  شہرت بھی دی اور بے حساب دولت بھی عطا کی اللہ پاک ان کی مغفرت فرمائے

 

اتوار، 19 اکتوبر، 2025

شہرکراچی میں امام بارگاہوں کی تاریخ حصہ دوم

 

 امام بارگاہ کھارادر سے ملحق ایک بڑا علم بھی ہے، یہ علم بھی سو سال سے زائد قدیم بتایا جاتا ہے اسی علم مبارک کے لئے روائت ہے کہ یہ علم پاک کھارادر کے سمندر میں بہتا ہوا ایک مچھیرے کو ملاتھا جس نے علاقے کے معززین کے حوالے کیا اور اس پاک گروہ نے یہ علم ایک وسیع میدان میں نصب کیا تھا'اب وسیع میدان تو نہیں ہے لیکن مولا  کاعلم پاک موجود ہے۔ کسی وقت یہ کراچی کا سب سے بڑا اور بلند علم کہلاتا تھا۔امام بارگاہ بارہ امام,ضلع جنوبی کے علاقے سابقہ لارنس روڈ موجودہ نشتر روڈ پر بھی ایک قدیم امام بارگاہ واقع ہے، یہ امام بارگاہ کراچی کے سول اسپتال سے نصف کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، یہ امام بارگاہ بارہ امام کے نام سے مشہور ہے۔ اس امام بارگاہ کو چوہدری اللہ دتہ نامی مخیر عقیدت مند نے کم و بیش سو سال قبل تعمیر کرایا تھا۔ یہاں عشرہ محرم سمیت دیگر ایام میں بھی مجالس عزا منعقدکی جاتی ہیں، یہاں ماضی میں عشرہ محرم میں علامہ عقیل ترابی مرحوم نے بھی مجلس عزا سے خطاب کیا کرتے تھے۔


اس امام بارگاہ سے ہر سال تین بڑے ماتمی جلوس 9 اور10محرم اور21 رمضان المبارک کو نکالے جاتے ہیں جو ڈینسو ہال کے قریب نشتر پارک سے آنے والے مرکزی جلوس میں شامل ہوجاتے ہیں۔ پہلے اس امام بارگاہ میں ایران، عرق، شام اور سعودی عرب جانے والے زائرین، عازمین حج اور معتمرین کے لئے عارضی رہائش گاہ کا انتظام تھا۔انجمن حسینیہ ایرانیاں,کراچی کے قدیمی علاقے کھارادرکے عقب میں نواب مہابت خان جی روڈ پر واقع حسینیہ ایرانیاں بھی کراچی کی قدیم اما بارگاہوں میں شامل ہے۔اسے کراچی میں مقیم ایرانی باشندوں نے 1948ءمیں تعمیر کرایا تھا۔ اس امام بارگاہ کوکراچی میں عزاداری کے حوالے سے مرکزی اہمیت حاصل ہے۔ حسینیہ ایرانیاں میں فارسی زبان میں بھی مجالس منعقد کی جاتی ہیں، جن میں کراچی میں مقیم ایرانیوں کے علاوہ فارسی زبان سے شناسائی رکھنے والے پاکستانی بھی شرکت کرتے ہیں، یہاں عشرہ محرم پر رات میں مجلس عزا منعقد کی جاتی ہے،

 

جس سے علامہ رشید ترابی مرحوم، علامہ عقیل ترابی مرحوم سمیت صف اوّل کے علماء نےخطاب کیا تھا۔امام بارگاہ مارٹن روڈ،جیل چورنگی کے قریب تین ہٹی جانے والی سڑک پر دائیں جانب زرا اندر جاکر کراچی کی ایک اور قدیم امام بارگاہ و جامع مسجد امام بارگاہ مارٹن روڈ کے نام سے مشہور ہے۔ یہ امام بارگاہ قیام پاکستان کے بعد اس علاقے میں بھارت سے ہجرت کرکے آباد ہونے والے شیعہ مہاجرین نے اپنی مدد آپ کے تحت 1949ء میں قائم کی تھی، جو 1956ءمیں مکمل ہوئی تھی، یہاں محرم کی مجالس سمیت تمام مذہبی ایام پر مجالس منعقدکی جاتی ہیں۔کراچی کے مختلف علاقوں میں قیام پاکستان کے بعد شیعہ مہاجرین جہاں، جہاں آباد ہوتے گئے، وہاں انہوں نے امام بارگاہیں بنالیں، لائنز ایریا کے علاقے جٹ لائن میں ایک قدیم امام بارگاہ حسینی کے نام سے مشہور ہے، 


یہاں محمود آباد اور ملحقہ علاقوں سے نکلنے والے جلوس 9 محرم کی رات جمع ہوتے ہیں اور مجلس کے اختتام پر صبح سویرے مرکزی جلوس میں شامل ہونے کےلئے نشتر پارک پہنچ جاتے ہیں۔ یہاں پہلی مجلس 1950ءمیں منعقد ہوئی  تھی امام بارگاہ باب العلم نارتھ ناظم آباد-یہ کراچی کی ایک پُر شکوہ امام  بہت مشہور و مروف  اما م بارگاہ جس میں ماہ محرم کی  مجالس کے علاوہ دیگر علمی کام بھی کئے جاتے ہیں 'کراچی شہر میں ایک معجزاتی امام بارگاہ جہاں بدھ کی شام پورے کراچی سے مومنین زیارت اور عبادت کے لیئے حاضر ھوتے  ہیں یہ   بدھ  کی امام بارگاہ امام موسی  کاظم علیہ السلام  سے منسوب ھے جہاں  پہنچنے پر احساس ہوتا ہے   کہ  جیسے   کاظمین عراق  پہنچ گئے  ہوں  اگر دیکھا جائے تو ہزارہ برادری  نے  کراچی  کے دور افتادہ مضافاتی شہر منگھو پیر میں اپنی امام بارگاہ بنا لی جس میں ہزاروں ہزارہ شیعہ مجالس کرتے ہیں -


نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

انقلاب چین جو چینی قوم کی نجات کا باعث بن گیا

  چین کے انقلاب میں تاریخی لانگ مارچ کو ایک سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے جو اکتوبر1934ء سے اکتوبر 1935ء تک جاری رہا۔ یہ لانگ مارچ چھے ہزار میل ط...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر