بدھ، 4 مارچ، 2026

سروں کے خوبرو بادشاہ محمد رفیع

     کہا جاتا ہے کہ ایک روز کندن لال سہگل`                         کا پروگرام تھا۔ وہ اپنے وقت کے مشہور گلوکار تھے اور انھیں سننے کے لیے سینکڑوں کا مجمع تھا، مگر بجلی فیل ہونے کی وجہ سے سہگل نے گانے سے انکار کر دیا۔ اسی وقت رفیع کے بھائی نے پروگرام کے منتظمین سے کہا کہ ان کا بھائی بھی ایک گلوکار ہے اور اسے موقع دیا جائے۔مجمعے کی ناراضی کو دیکھتے ہوئے منتظمین نے رفیع کو گانے کا موقع دیا۔ 13 سال کی عمر میں انھوں نے اِسٹیج پر   جب فر فارمنس دی تو لوگ بھول گئے کہ وہ تو سہگل کو سننے آئے  تھے ۔ اسی پروگرام میں موسیقار شیام سندر موجود تھے۔ انھوں نے ایک جوہری کی طرح رفیع کو پرکھ لیا اور انھیں بمبئی آنے کی دعوت دی۔ بس یہیں سے رفیع کا گلوکاری کا یادگار سفر شروع ہوا۔رفیع کی زندگی میں سب سے بڑا موڑ اس وقت آیا جب موسیقار اعظم نوشاد نے انھیں گانے کا موقع دیا۔ اس وقت نوشاد علی اور طلعت محمود کی جوڑی بہت کامیاب تھی نوشاد کا ہر گیت طلعت گاتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک روز نوشاد نے طلعت کو گانے سے قبل سگریٹ پیتے دیکھ لیا۔ اصولوں کے پکے نوشاد بہت برہم ہوئے اور انھوں نے طلعت کی بجائے رفیع کو چن لیا۔ رفیع نے زندگی میں کبھی سگریٹ یا شراب کو ہاتھ نہیں لگایا تھا۔نوشاد کے ساتھ رفیع کی جوڑی بہت کامیاب رہی۔ بیجوباؤرا کے سارے نغمے ہٹ ہوئے۔من تڑپت ہری درشن کو آج،جیسا کلاسیکی گیت ہو یاتقسیم ہند سے قبل انھوں نے کئی فلموں میں نغمے گائے۔ 


’یہاں بدلہ وفا کا بے وفائی کے سوا کیا ہے‘ان کے ہزا رہا یاد گار نغموں میں سے ایک ہے۔-نوشاد سے ملاقات چاہے مجھے کوئی جنگلی کہےکا چنچل نغمہ رفیع کو ہر طرح کے گیت گانے میں مہارت حاصل تھی۔ انھوں نے وہ نغمے بھی گائے جسے اس وقت کے دوسرے گلوکاروں نے گانے سے منع کر دیا تھا۔ کشور کمار نے ’ہاتھی میرے ساتھی کا گیت             نفرت کی دنیا کو چھوڑ کر‘گانے سے منع کر دیا تھا کیونکہ اس میں آواز کی لے کافی اونچی تھی لیکن رفیع نے یہ گیت گایا اور بہت مقبول ہوا۔نغمگی کا یہ سفر بہت کامیاب رہا۔ انھوں نے اردو ،ہندی ،مراٹھی، گجراتی، بنگالی بھوجپوری تمل کے علاوہ کئی زبانوں میں گیت گائے۔ رفیع کی خاصیت تھی کہ وہ جس فنکار کے لیے گاتے اسی کی آواز اور اسی کے انداز کو اپناتے۔فلم پیاسا میں جانی واکر کے لیے انھوں نے ’تیل مالش’ کا جو گیت گایا اسے سن کر لگتا ہے کہ سامنے جانی واکر ہی گا رہے ہیں اور اس کا اعتراف خود جانی واکر نے بھی کیا تھا۔رفیع بہت سیدھے اور صاف دل انسان تھے۔ کئی مرتبہ انھوں نے بغیر ایک پیسہ لیے گیت گایا۔ ایک بڑے موسیقار نے رفیع کی موت کے بعد اعتراف کیا کہ ان کے پاس رفیع کو دینے کے لیے پیسے نہیں تھے۔ گیت ختم ہونے کے بعد انھوں نے رفیع صاحب سے نظریں نہیں ملائیں اور دنیا کو دکھانے کے لیے ایک خالی لفافہ پکڑا دیا۔ رفیع نے اسے لے لیا لیکن بعد میں ملاقات کے بعد کبھی اس کا تذکرہ بھی نہیں کیا جب بھی ملے مسکرا کر ملے۔


گلوکار محمد رفیع دنیائے موسیقی کے ان نامور اور شہرت یافتہ گلوکار رہے کہ جنھوں نے اپنے فن کیرئیر میں 4516 گیت گا کر بین الاقوامی شہرت حاصل کی۔ انھوں نے انمول گھڑی، میلہ، انداز، دیدار، بیجو باورہ، دوبیگھا زمین، دیوداس، چوری چوری، پیاسا، کاغذ کے پھول، تیرے گھر کے سامنے، گائیڈ، ارادھنا، ابھیمان، نیا دور، کشمیر کی کلی، مغل اعظم، جنگلی، پروفیسر، چائنا ٹاؤن، تاج محل، میرے محبوب، سنگم، دوستی، وقت، خاندان، جانور، تیسری منزل، میرا سایہ، دل دیا درد لیا، کھلونا، دوستانہ، پاکیزہ، کاروان، لیلیٰ مجنوں سمیت تقریباً ہزار کے قریب فلموں میں گیت گائے، ان کے یادگار گیتوں میں ’کیا ہوا تیرا وعدہ‘، ’بہاروں پھول برساؤ‘، ’لکھے جو خط تجھے‘، ’چُرا لیا ہے تم نے جو دل کو‘، ’تیری پیاری پیاری صورت کو کسی کی نظر نہ لگے‘، ’دل کے جھرکوں پے تجھ کو بٹھا کے ‘، ’چاہے مجھے کوئی جنگلی کہے‘، ’چودھویں کا چاند ہو‘، ’بابل کی دعائیں لیتی جا‘، ’تعریف کروں کیا اس کی‘، ’چاہوں گا میں تمھیں سانجھ سویرے‘، ’یہ دنیا یہ محفل میرے کام کی نہیں‘، ’تیری آنکھوں کے سوا‘، ’چھپ گئے سارے نظارے ‘، ’پردہ ہے پردہ ‘، ’او میری محبوبہ‘، ’یہ ریشمی زلفیں‘، ’آنکھوں ہی آنکھوں میں ‘، ’اٹھرا برس کی تو‘، ’یہ میرا پریم پتر پڑھ کر‘، ’تجھے جیون کی ڈور سے ‘، ’یونہی تم مجھ سے بات کرتی ہو‘، ’مجھے تیری محبت کا سہارا‘، ’بھری دنیا میں آخر دل کو سمجھانے ‘، ’آدمی مسافر ہے‘، ’میرے دشمن تو میری دوستی کو ترسے‘، ’رم جھم کے گیت ساون گائے‘، ’یہ دل تم بن کہیں لگتا نہیں‘، ’آجا تجھ کو پکارے میرے گیت‘، ’سہانی رات ڈھل چکی‘، ’زندہ باد زندہ باد اے محبت‘، ’تمھاری نظر کیوں خفا ہو گئی‘، ’تیری دنیا سے دور‘، ’جو وعدہ کیا وہ نبھانا پڑے گا‘، ’میرے متوا میرے میت رے‘، ’میرے پیار کی آواز پے چلی آنا‘، ’وعدہ کرلے ساجنا‘،


 ’یہ چاند سا روشن چہرہ‘، ’اکیلے اکیلے کہاں جا رہے ہو‘، ’ایسا موقع پھر کہاں ملے گا‘، ’آنے سے اس کے آئے بہار‘، ’خوش رہے تو سدا‘، ’بار بار دیکھو‘،’باغوں میں بہار ہے‘، ’ہوئے ہم عشق میں برباد ہیں برباد رہیں گے‘، ’میرے دوست قصہ یہ ‘، ’سلامت رہے دوستانہ‘، وغیرہ شامل ہیں۔اوپی نیر رفیع کے زبردست مداح تھے، اور 60 کی دہائی کے آخر میں ہونے والی گرماگرمی سے پہلے رفیع او پی کی ہر فلم کا لازمی جزو ہوا کرتے تھے۔ انہوں نے 194 گیتوں میں رفیع کی آواز استعمال کی۔ او پی ردم کے بادشاہ کہلاتے تھے اور انہوں نے پنجاب کے کھلے میدانوں کھلیانوں کے بےمحابا کھلنڈرے پن اور شاداب شوخیوں کو برصغیر کے گوشے گوشے تک پہنچا دیا۔یہ کام وہ رفیع کے بغیر نہیں کر سکتے تھے، کیوں کہ 40 کی دہائی کے اواخر تک بالی وڈ میں ناک سے گانے والے گلوکاروں کا راج تھا۔ رفیع بھرے گلے سے گانے والے پہلے گلوکار تھے جو او پی نیر کی تھرکتی الھڑ دھنوں سے انصاف کر سکتے تھے۔  دوسری طرف او پی نیر نے جس تنوع اور کثرت سے رفیع کی آواز کے امکانات کھنگالے ہیں، اگر وہ ہمارے سامنے نہ ہوتے تو رفیع کا نام سن کر جو تصویر ذہن میں آتی ہے، اس کے رنگ ذرا پھیکے رہتے۔ مگر یہ سوال اب بھی اٹھتا ہے کہ ان  کی فرشتوں کے پروں جیسی ملائم اور مے ناب جیسی نشیلی آواز کو کس موسیقار نے سب سے عمدگی سے استعمال کیاہے ا کر تمام اہم موسیقاروں کے ساتھ رفیع کے کام کا بغور جائزہ لیا۔  محمد رفیع امرتسر کے ایک گاؤں کوٹلہ سلطان سنگھ میں پیدا ہوئے۔ بتایا جاتا ہے کہ ان کے بچپن کے دنوں میں ایک فقیر ان کی گلی میں آتا تھا، جو بلند آواز میں گیت گاتا تھا۔ رفیع کو اسے گنگناتا دیکھ کر ان کے بڑے بھائی نے استاد وحید خان کی سرپرستی میں انھیں موسیقی کی تعلیم دلوائی ۔

منگل، 3 مارچ، 2026

کیلاشی قوم کے منفرد رسم و رواج

 

کالاش (انگریزی: Kalash) کوہ ہندوکش میں واقع ایک قبیلہ ہے جو کہ صوبہ سرحد کے ضلع چترال میں آباد ہے۔ یہ قبیلہ کیلاش زبان بولتی ہے جو کہ دری زبانوں کے خاندان سے تعلق رکھتی ہے۔ یہ زبان اس خطہ میں نہایت جداگانہ مشہور ہے۔ لسانیات کے ماہر رچرڈ سٹرانڈ کے مطابق ضلع چترال میں آباد قبائل نے یہ نام قدیم کافرستان سے مستعار لیا ہے۔ کالاشہ یا کالاش قبائل نے وقت کے ساتھ چترال میں اپنا اثررسوخ بڑھایا۔ ایک حوالے سے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ کالاش نام دراصل “کاسوو“ جو کہ بعد میں “کاسیو“ استعمال ہوتا تھا۔ یہ نام نورستان کے قبائل نے یہاں آباد قبائل کے لیے مخصوص کر رکھا تھا۔ بعد کے ادوار میں یہ کاسیو نام کالاسایو بنا اور رفتہ رفتہ کالاسہ اور پھر کالاشہ اور اب کالاش بن گیا۔ کیلاش قبائل کی ثقافت یہاں آباد قبائل میں سب سے جداگانہ خصوصیات کی حامل ہے۔ یہ قبائل مذہبی طور پر کئی خداؤں کو مانتے ہیں اور ان کی زندگیوں پر قدرت اور روحانی تعلیمات کا اثر رسوخ ہے۔ یہاں کے قبائل کی مذہبی روایات کے مطابق قربانی دینے کا رواج عام ہے جو کہ ان کی تین وادیوں میں خوشحالی اور امن کی ضمانت سمجھی جاتی ہے۔ کالاش قبائل میں مشہور مختلف رواج اور کئی تاریخی حوالہ جات اور قصے عام طور پر روم قدیم روم کی ثقافت سے تشبیہ دیے جاتے ہیں۔ گو وقت کے ساتھ ساتھ قدیم روم کی ثقافت کے اثرات میں کمی آئی ہے اور اب کے دور میں زیادہ تر ہند اور فارس کی ثقافتوں کے زیادہ اثرات واضع ہیں۔ کالاش قبائل کے قبائلی رواج میں اختلاف پایا جاتا تھا۔ بیسویں صدی سے پہلے تک یہاں رواج نہایت وسیع تھے اور گذشتہ صدی میں ان غیر مسلم قبائل میں ان رواجوں کی پیروی اسلام قبول کرنے کے بعد سے کافی کمی آئی ہے۔



 کیلاش قبائل کے سردار سیف جان جو کہ اقلیت کے مطابق، “اگر کوئی کیلاش فرد اسلام قبول کر لے، وہ ہمارے درمیان زندگی بسر نہیں کر سکتا۔ ہم اپنی شناخت کے لیے انتہائی سخت مزاج رکھتے ہیں “تقریباً تین ہزار کیلاش اسلام قبول کر چکے ہیں یا پھر ان کی اولادیں مسلمان ہو چکی ہیں۔ یہ لوگ اب بھی وادی کیلاش کے علاقے میں رہائش پزیر ہیں اور اپنی زبان اور قدیم ثقافت کی پیروی کرتے ہیں۔ اب ان لوگوں کو “شیخ“ کہا جاتا ہے اور کالاش قبائل کی تقریباً نصف آبادی پر مشتمل یہ لوگ اپنا جداگانہ اثررسوخ رکھتے ہیں۔ کالاش عورتیں لمبی اور کالی پوشاکیں پہنتی ہیں، جو کہ سیپیوں اور موتیوں سے سجائی گئی ہوتی ہیں۔ کالے لباس کی وجہ سے یہ چترال میں سیاہ پوش کہلائے جاتے ہیں۔ کیلاش مردوں نے پاکستان میں عام استعمال کا لباس شلوار قمیص اپنا لی ہے اور بچوں میں بھی پاکستانی لباس عام طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔پاکستانی معاشرے کے برعکس عورتوں اور مردوں کا سماجی میل ملاپ برا نہیں سمجھا جاتا۔ “باشیلانی“ ایک جدا گاؤں ہے جو کہ عورتوں کے لیے مخصوص ہے۔ یہاں حاملہ عورتیں ہی لازمی رہائش پذیر ہوتی ہیں اور پیدا ہونے والے بچوں کو باشیلانی کہا جاتا ہے۔ بچے کی پیدائش کے بعد عورتوں کا پاک ہونا لازم ہے اور ایک رواج بھی عام ہے جس کو اپنانے کے بعد ہی کوئی عورت اپنے شوہر کی طرف واپس جا سکتی ہے۔ گھر سے فرار ہو کر شادی کا رواج عام ہے۔ نوعمر لڑکیاں اور شادی شدہ عورتیں بھی گھر سے فرار اختیار کرتی ہیں۔ زیادہ تر یہ قبائل اس رویہ کو عمومی خیال کرتی ہے اور اس صورت میں جشن کے موقع پر قبول کر لیا جاتا ہے۔



کئی مواقعوں پر زیلی قبیلوں میں اس موضوع پر فساد بھی برپا ہو جاتا ہے۔ امن کے قائم ہونے تک تلخی برقرار رہتی ہے اور صلح عام طور پر ثالث کی موجودگی کے بغیر طے نہیں ہوتی۔ صلح کے لیے جو رواج عام ہے اس کے مطابق مرد جس کے ساتھ عورت فرار اختیار کرے وہ اس عورت کے خاندان یا پہلے شوہر کو قیمت ادا کرتا ہے۔ یہ قیمت عام طور پر دگنے خرچے کے برابر ہوتا ہے جو اس عورت کا شوہر شادی اور عورت کے خاندان کو ادا کرتا ہےرومبور، بریر اور بمبوریت کو ملا کر وادی کالاش کا نام دیا گیا ہے، کالاش پاکستان کے ضلع چترال کی وادی کالاش میں آباد ایک قبیلہ ہے جنہیں کالاش کافر بھی کہا جاتا ہے ان کے آباواجداد شام سے نقل مکانی کرکے چترال کے رومبور، بریر اور بمبوریت میں آبسے ہیں۔چترال کی وادی کیلاش میں آباد تہذیب کے باسیوں کی ابتدا سے متعلق حتمی رائے قائم کرنا ممکن نہیں اور یہاں کے لوگوں کے نسلی اجداد کا تعین بھی مشکل ہے۔ تاہم اس ضمن میں دو نظریات ہیں۔ پہلے تصور میں کالاش قبیلے کے بارے میں کہا جاتا ہے وہ افغانستان کے راستے سکندراعظم کے ساتھ آئے تھے اور یہاں کے ہوکر رہ گئے۔ 


  ایک رائے یہ ہے کہ کالاش یونانیوں کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس کے برعکس ماہرین آثارقدیمہ کی جدید تحقیق کے مطابق کالاش کے لوگ آریائی نسل سے ہیں۔کالاش قبیلے کی زبان کالاشہ یا کلاشوار کہلاتی ہے۔ کالاش کے لوگ دو بڑے اور دو چھوٹے تہوار مناتے ہیں، جس میں چلم جوش اور چوموس شامل ہیں۔ چوموس سب سے اہم اور مشہورتہوار ہے، جو 14 دن تک جاری رہتا ہے۔ یہ تہوار دسمبر میں منایا جاتا ہے۔ یہ تہوار ان کی عبادت بھی ہے اور ثقافت بھی۔ چوموس تہوار ان کے لیے روحانی تازگی کے ساتھ ساتھ جسمانی مسرت بھی ہے۔ اس تہوار میں کالاش کے لوگ اپنے رب کے لیے، اپنے مرے ہوئے لوگوں، رشتے داروں اور اپنے مال مویشیوں کے لیے عبادت کرتے ہیں اور ان کی سلامتی کے لیے دعا کرتے ہیں۔ جیسنوک رسم بھی اس تہوار میں ادا کی جاتی ہے۔ اس رسم میں پانچ سے سات سال کے بچوں کو نئے کپڑے پہنا کر ان کو بپتسمہ دیا جاتا ہے۔ اس تہوار کے آخری تین دنوں میں، جس میں اس تہوار میں مرد اور عورتیں شراب پیتے ہیں اور تین دن کی روپوشی کے بعد یہ لوگ اپنی جگہوں سے باہر نکل آتے ہیں۔ جس کے بعد یہ لوگ ساری رات ایک جگہ پر جمع ہوکر رقص کرتے ہیں اور گیت گاتے ہیں۔ یہ ان کا سال کا آخری دن ہوتا ہے۔اس تہوار کے آخری روز لویک بیک کا تہوار ہوتا ہے، جس میں کالاش قبیلے کے مرد، خواتین، بزرگ اور بچے نئے کپڑے پہن کر مل کر رقص کرتے ہیں اور نئے سال کی خوشیاں مناتے ہیں۔ ان تہواروں میں عورتیں اونی سوتی کپڑوں کی لمبی قمیض پہنتی ہیں

پیر، 2 مارچ، 2026

آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کی دلدوز شہادت

 

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ شہید سید علی خامنہ ای کے بھارت میں نمائندے ڈاکٹر عبدالماجد حکیم الٰہی نے کہا ہے کہ سیکیورٹی حکام نے بارہا آیت اللّٰہ خامنہ ای سے کہا تھا کہ وہ دفتر سے کسی اور شہر منتقل ہوجائیں یا زیر زمین بنکر میں چلے جائیں۔میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ آیت اللّٰہ خامنہ ای نے یہ کہہ کر انکار کردیا تھا کہ کیا آپ 9 کروڑ ایرانیوں کو کسی دوسرے شہر منتقل کرسکتے ہیں یا 9 کروڑ ایرانیوں کو زیر زمین بنکر منتقل کرسکتے ہیں۔ اگر ایسا کردیا تو میں بھی کسی دوسرے شہر یا زیر زمین بنکر چلا جاؤں گا۔ڈاکٹر عبدالماجد حکیم الٰہی نے کہا کہ آیت اللّٰہ خامنہ ای اپنے گھر میں واقع دفتر ہی میں تھے جب انہیں امریکا اور اسرائیل نے میزائل حملوں کا نشانہ بنایا، حملے میں سپریم لیڈر کی اہلیہ، بہو اور انکے بعض پوتے بھی شہید ہوگئے ہیں۔واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل نے ایران پر اچانک حملہ کردیا، جس کے نتیجے میں ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللّٰہ علی خامنہ ای شہید ہوگئے ہیں۔ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد علی رضا اعرافی کو ایرانی سپریم لیڈر کے فرائض انجام دینے والی عبوری کونسل کا رکن مقرر کر دیا گیا ہے تاہم ملک میں نئے رہبرِ اعلیٰ کے انتخاب کا مرحلہ درپیش ہے۔4 دہائیوں تک ایران کی قیادت کرنے والے ایرانی رہبر اعلیٰ نے شہادت سے قبل کسی کو باقاعدہ جانشین منتخب نہیں کیا تھا، تاہم ایران کے آئین میں قیادت کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے جانشینی کا واضح طریقہ کار موجود ہے۔ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق ایرانی آئینِ کے آرٹیکل 111 کے تحت سپریم لیڈر کی وفات، استعفے یا معزولی کی صورت میں 88 سینئر علماء پر مشتمل مجلسِ خبرگانِ رہبری (Assembly of Experts) پابند ہے کہ وہ جلد از جلد نئے رہبر اعلیٰ کی تقرری اور اعلان کرے۔


نئے سپریم لیڈر کے انتخاب تک ایک عبوری کونسل قائدانہ ذمے داریاں سنبھالتی ہے۔آئینی شقوں کے مطابق اس عبوری کونسل میں صدر، عدلیہ کے سربراہ اور گارڈین کونسل کے ایک فقیہ شامل ہوتے ہیں، جس کا انتخاب ایکسپیڈینسی ڈکرینمنٹ کونسل (Expediency Discernment Council) کرتی ہے۔دریں اثناء خامنہ ای کے مشیروں میں سے ایک محمد مخبر کا کہنا ہے کہ صدر مسعود پزشکیان، عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی ایجی اور ملک کی قانونی کونسل سے وابستہ اعلیٰ قانونی عہدیدار، پر مشتمل 3 رکنی عبوری کونسل اس اہم ترین عہدے کی منتقلی کی نگرانی کریں گے-یہ عبوری باڈی اس وقت تک سپریم لیڈر کے اختیارات استعمال کرے گی جب تک مجلسِ خبرگان نئے رہنما کی تقرری کو حتمی شکل دے کر باضابطہ اعلان نہ کر دے۔1979ء میں اسلامی انقلاب کے قیام کے بعد یہ عمل صرف ایک بار انجام دیا گیا تھا، جب بانی انقلاب آیت اللّٰہ روح اللّٰہ خمینی کے انتقال کے بعد آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کو نیا رہبر منتخب کیا گیا تھا۔مزید برآں آئینی طریقہ کار کے تحت اگر عبوری کونسل کا کوئی رکن اپنی ذمے داریاں ادا کرنے سے قاصر ہو تو مجلسِ خبرگان اکثریتی فقہا کی موجودگی برقرار رکھتے ہوئے اس کی جگہ کسی اور کو مقرر کر سکتی ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ سیکیورٹی صورتحال اور امریکا و اسرائیل کی ممکنہ مزید کارروائیوں کے تناظر میں مجلسِ خبرگان کا اجلاس بلانا ایک چیلنج ہو سکتا ہے۔آئین کے تحت نئے رہبر کا مرد، شیعہ عالمِ دین، سیاسی بصیرت اور اخلاقی اتھارٹی کا حامل ہونا ضروری ہے، ساتھ ہی اسلامی جمہوریہ ایران سے مکمل وفاداری بھی لازمی شرط ہے۔




و اسرائیل نے ایران پر حملے کیلئے ہفتے کی صبح کا انتخاب کیوں کیا؟اسرائیل اور امریکا کو جیسے ہی ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کی اپنے اعلیٰ مشیروں کے ساتھ ملاقات کی خبر ملی تو دونوں ممالک نے ایران پر حملہ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق حملے میں آیت اللّٰہ علی خامنہ ای ٹارگٹ تھے اور ان کے بارے میں امریکا اور اسرائیل کو یہ خدشہ بھی تھا کہ وہ موقع ملتے ہی روپوش ہو جائیں گے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پہلے امریکی اور اسرائیلی انٹیلیجنس اداروں کو یہ اطلاع ملی تھی کہ ایرانی سپریم لیڈر ہفتے کی شام کو تہران میں اپنے اعلیٰ مشیروں کے ساتھ ملاقات کریں گے تو شام کو حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا گیا لیکن پھر اسرائیلی انٹیلیجنس رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی کہ یہ ملاقات اب ہفتے کی شام کو نہیں بلکہ ہفتے کی صبح کو ہونے والی ہے۔امریکا اور اسرائیل کا ایران پر حملہ، سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای شہید-رپورٹ کے مطابق اسرائیل اور امریکا نے ایران پر حملہ ہفتے کی صبح اس لیے کیا کیونکہ وہ آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کی اپنے مشیروں سے ملاقات کا وقت تھا۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی انٹیلیجنس کی رپورٹ میں یہ واضح نہیں تھا کہ ایرانی سپریم لیڈر اپنے مشیروں کے ساتھ ملاقات کہاں پر کریں گے، اس لیے حملے  کے آغاز میں تہران میں واقع آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کے اعلیٰ حفاظتی کمپاؤنڈ کو نشانہ بنایا گیا اور سیٹلائٹ سے لی گئی تصاویر نے ان کی شہادت کی تصدیق کر دی۔



اسلام آباد (خبر نگار) پاکستان تحریک انصاف نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو شہید کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی، خطے کے امن و استحکام کیلئے خطرہ اور عالمی سطح پر انتشار و تصادم کو ہوا دینے والا اقدام قرار دیا ہے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کی خبر سے دلی صدمہ ہوا، ایران کسی ملک کیلئے خطرہ نہیں تھا، اپنا دِفاع ایران کا حق تھا، ایسے میں حملہ کرنا بِلا جواز اور رجیم چینج کیلئے لیڈر کو مارنا مجرمانہ اقدام اور ریاستی دہشتگردی ہے۔ ہم اس کی شدید مذمت کرتے ہیں، دریں اثنا پی ٹی آئی کے مرکزی میڈیا ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری بیان میں ایران کے عوام سے اس المناک موقع پر دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا گیا۔ بیان میں کہا گیا کہ ایرانی عوام کے سپریم لیڈر کا نقصان ایران اور برادر اسلامی ملک پاکستان کے عوام کیلئے گہرے رنج و غم کا لمحہ ہے، پارٹی نے امریکہ اور اسرائیل پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر کسی بھی غیر قانونی جارحیت یا کشیدگی میں اضافے سے باز رہیں۔

ہفتہ، 28 فروری، 2026

بی بی معصومہ قم (سلام اللہ علیہا)

 امی جمہوریہ ایران کے اہم شہروں میں ایک شہر ہے۔ جسے قم المقدس کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔  ایران کا آٹھواں بڑا شہر ہے ۔ اور شیعہ مسلمانوں کا نجف اشرف عراق کے بعد سب سے اہم علمی مرکز شمار ہوتاہے۔ قم، اہل تشیع کے لیے بہت اہمیت کا حامل شہر ہے ۔ اس شہر میں شیعوں کے آٹھویں امام علی بن موسی الرضامعروف بہ امام رضا کی بہن فاطمہ معصومہ کا مزار ہے جس کی زیارت کے لیے دنیا بھر سے شیعہ یہاں پر اکٹھے ہوتے ہیں۔2016ء کی مردم شماری کے مطابق قم کی آبادی 1201000 تھی ۔ اس آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ علما اور دینی تعلیم حاصل کرنے والے طلاب کا ہے، ان علما اور طلاب میں ایرانیوں کے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں افغانی، عراقی، پاکستانی، ہندوستانی ، لبنانی، کویتی، سعودی، بحرینی ،یمنی، جزائری، مراکشی، ترکی، آذری، انڈونیشین، ملائشین، تھائیلنڈی، چینی اور دیگر یورپی ممالک کے لوگ میں شامل ہیں۔ قم کی آبادی میں سے 99.76 فی صد آبادی شیعہ اثنا عشر ی ہیں یا پھر  زرتشتی یا پھر مسیحی دین کے پیروکار آباد ہیں۔قم کا موسم بارشوں کی کمی کی وجہ سے خشک اور گرم رہتا ہے۔ چونکہ قم ایک صحرائی علاقہ میں آباد ہوا یہاں کی سوغات میں قم کا حلوا جسے یہاں کی زبان میں سوہان کہتے ہیں بہت معروف اور مشہو رہے۔آثار قدیمہ کے ماہرین کے مطابق عرب مسلمانوں کے حملے سے قبل کئی ہزار سالوں سے شہر قم آباد تھا، پستہ اور زعفران کی پیداوار کے لحاظ سے معروف تھا۔ لیکن بہت سے ماہرین اور مورخین قم شہر کی آبادکاری کو عرب مسلمانوں کے حملے اور پھر عراق سے اشعری قبیلے کے افراد کی ہجرت سے جوڑتے ہیں



کہا جاتا ہے  کہ  قم   ابو موسی اشعری نے فتح کیا اور اس فتح کے بعد اس علاقے میں عربوں کی ہجرتیں شروع ہوئیں۔ جن میں سے سب سے اہم اشعری قبیلے کی ہجرت تھی کہ جنھوں قم اور اس کے اردگرد کے دیہاتوں کو ملا کر اس شہر کی بنیاد رکھی اور چونکہ اشعری قبیلے کے افراد شیعہ مذہب سے تعلق رکھتے تھے اس لیے قم شیعہ اثنا عشری مسلمانوں کا مرکز بن گیا۔ اور فاطمہ معصومہ جو شیعہ مسلمانوں کے آٹھویں امام علی رضا کی بہن ہیں، کی ہجرت سے اس مرکز کی قوت ووسعت میں مزید اضافہ ہوا جس کی وجہ سے دنیا بھر کے شیعہ اور علما کی توجہ کا مرکز بن گیا۔شیعہ مذہب کے پیروکار ہونے کی وجہ اموی اور عباسی خلفاء کی طرف یہاں کے لوگوں پر بادشاہی ٹیکس کا تناسب زیادہ ہوا کرتا تھا جس کی وجہ سے یہاں کے لوگوں نے ان حکومتوں کے خلاف مسلحانہ قیام و جدوجہد بھی کی اور قم شہر کوکئی مرتبہ تباہی وبربادی کا سامنا کرنا پڑا، آل بویہ اور سلجوقی کے دور میں قم کو ترقی ملی جبکہ صفوی خاندان کے دور میں شیعہ مذہب کے رسمی ہونے کے بعد قم مزید ترقی کی راہ پر گامزن ہو گیا۔قاجاری دور میں قاجاری بادشاہ فتح علی شاہ نے فاطمہ معصومہ کے حرم کی توسیع اور سنہری گنبد کی تعمیر کرائی ، جنگ عظیم اول نے قم شہر کو بھی متاثر کیا اور روس کے تہران پر حملے کے خطرے کے پیش نظر بہت سارے لوگوں نے قم میں پناہ لی جبکہ پہلوی خاندان کے دور میں روح اللہ خمینی معروف بہ امام خمینی نے پہلوی حکومت 



کے خلاف قیام اور انقلاب کا آغاز بھی اسی شہر سے کیا۔ اور فروری 1979ء میں ایران کا اسلامی انقلاب کامیاب ہونے کے بعد ایران میں اسلامی حکومت کی بنیاد رکھی اور ولایت فقیہ کی حکومت قائم ہوئی۔دینی مدارس ، تعلیمی و تحقیقی ادارے اور یونیورسٹیز-قم یونیورسٹی، المصطفی انٹرنیشنل یونیورسٹی، مدرسۃ الزہراء ، مدرسہ شہید سید حسن شیرازی، مدرسہ امام حسین ، مدرسہ امام باقر ، مدرسہ علمیہ امام مہدی ، مدرسہامامالمنتظر، مدرسہ رسول اعظم، حوزہ علمیہ قم، مدرسہ رضویہ، مدرسہ ستیہ، مدرسہ امام خمینی، مدرسہ اباصالح، مدرسہ المہدی، مدرسہ الہادی، مدرسہ امام مہدی موعود، مدرسہ بقیۃ اللہ، مدرسہ حقانی، مدرسہ جانبازان، مدرسہ رسالت،مدرسہ شہیدین، مدرسہ صدوق، مدرسہ عترت، مدرسہ کرمانیہا، مدرسہ معصومیہ، مدرسہ امام عصر، مدرسہ سعد حلت، مدرسہ اثیرالملک، مدرسہ سید سعید عزالدین مرتضی، مدرسہ سید زین الدین، مدرسہ ابو الحسن کمیج، مدرسہ شمس الدین مرتضی، مدرسہ مرتضی کبیر، مدرسہ درب آستانہ، حکمت یونیورسٹی قم، طلوع مہر ایجوکیشنل انسٹی ٹیوٹ قم، شہاب دانش صنعتی یونورسٹی ، تہران یونیورسٹی قم کیمپس، ٹی وی ریڈیو کالج، قم ، صنعتی یونیورسٹی قم، آزاد اسلامی یونیورسٹی، قم کیمپس، دانشگاہ جامع علمی کاربردی واحد استان قم، مفید یونیورسٹی، قم ، پیام نور یونیورسٹی، قم ، معصومیہ یونیورسٹی، قم ، ٹیکنیکل کالج فار بوائز، قم ، میڈیکل یونیورسٹی ، قم ، جامعہ المصطفی العالمیہ، باقر العلوم یونیورسٹی قم، امام خمینی، تعلیمی اور تحقیقی ادارہ، ادیان ومذاہب یونیورسٹی، قم ، اسلامی فکر وثقافتی تحقیقی ادارہ، اسلامک انسٹی ٹیوٹ آف کلچر اور سائنسز، شہید محلاتی کالج، اسلامک رائٹنگ اور ریسرچ کالج، قرآن وحدیث یونیورسٹی، قم ، معارف اسلامی یونیورسٹی، موسسہ فکر اسلامی، مجلس خبرگان رہبری کا سیکٹریٹ۔قم شہر کو مختلف القابات اور ناموں سے یاد کیا جاتاہے۔ جن میں سے مشہور شہر حرم اہل بیت، شہر علم، ایران کا علمی اور ثقافتی دار الخلافہ، عالم تشیع کا دار الحکومت، علما کا شہر، شہر کریمہ اہل بیت ہیں۔



قم شہر میں مختلف مزار اور زیارت گاہیں ہیں جن میں سے سب سے مشہور فاطمہ معصومہ کا مزار ہے جن کا لقب کریمہ اہل بیت ہے اور اس کے علاوہ مختلف امام زادوں کے مزارات اور قم کی مشہور ترین مسجد جمکران شہر کے جنوب مشرقی سمت میں واقع ہے-فاطمہ معصومہ جنہیں معصومہ قم یا حضرت معصومہ بھی کہاجاتاہے، مشہور قول کے مطابق یکم ذی القعدہ 173 ہجری مدینہ منورہ میں پیدا ہوئیں اور 10 ربیع الثانی ، 201 ہجری وفات پائی، جب عباسی خلیفہ مامون نے امام علی رضا کو خراسان بلایا تو ایک سال بعد فاطمہ معصومہ اپنے بھائی کی جدائی برداشت نہ کرسکنے کی وجہ خراسان کی عازم سفر ہوئیں۔ ،آپ کے پدر بزرگوار حضرت امام موسیٰ بن جعفرؑ اور آپکی مادر گرامی حضرت نجمہ خاتون ہیں۔ یہی خاتون آٹھویں امام کی بھی والدہ محترمہ ہیں لہٰذا حضرت معصومہ‏ؑ اور امام رضاؑ ایک ہی ماں سے  ہیں -آپ کے پدر بزرگوار حضرت امام موسیٰ بن جعفرعلیہماالسلام اور آپکی مادر گرامی حضرت نجمہ خاتون ہیں۔ یہی خاتون آٹھویں امام کی بھی والدہ محترمہ ہیں لہٰذا حضرت معصومہ‏ؑ اور امام رضاؑ ایک ہی ماں سے ہیں ۔آپ کی ولادت با سعادت پہلی ذیقعدہ ۱۷۳ ہجری‏قمری کو مدینہ‏ منورہ میں ہوئی۔ابھی زیادہ دن نہ گزرے تھے کہ بچپنے ہی میں آپ اپنے شفیق باپ کے سایۂ عطوفت سے محروم ہو گئیں، آپ کے والد کی شہادت ہارون رشیدکے قید خانہ، بغداد میں ہوئی۔باپ کی شہادت کے بعد آپ اپنے عزیز بھائی حضرت علی بن موسیٰ الرضاؑ کی آغوش تربیت میں آگئیں ۔ 


نہر سویز (انٹر نیشنل گیٹ وے آف 2 سیز)

 




نہر سوئز مصر کی ایک  اہم ترین سمندری گذرگاہ ہے جو  دو سمندروں (بحیرہ روم کو بحیرہ قلزم )کو درمیان سے ملاتی ہے۔ اس کے بحیرہ روم کے کنارے پر پورٹ سعید اور بحیرہ قلزم کے کنارے پر سوئز شہر موجود ہے۔ یہ نہر 163 کلومیٹر (101 میل) طویل اور کم از کم 300 میٹر چوڑی ہے۔اس نہر کی بدولت بحری جہاز افریقا کے گرد چکر لگائے بغیر یورپ اور ایشیا کے درمیان آمدورفت کرسکتے ہیں۔ 1869ء میں نہر کی تعمیر سے قبل اس علاقے سے بحری جہاز ایک جانب سامان اتارتے تھے اور بحیرہ قلزم تک اسے بذریعہ سڑک لے جایا جاتا تھا۔ 1869ء میں اس نہر کے کُھل جانے سے انگلینڈ سے ہندوستان کا بحری فاصلہ نہ صرف 4000 میل کم ہو گیا بلکہ مون سون پر انحصار بھی کم ہو گیا۔پہلے اس نہر پر برطانیہ، امریکا اور فرانس کا قبضہ تھا مگر جمال عبد الناصر نے اس نہر کو قومی ملکیت میں لے لیا جس پر برطانیہ، امریکا اور اسرائیل نے مصر سے جنگ چھیڑ دی۔بحیرۂ احمر کو بحرِ اوقیانوس سے ملانے والی نہر سوئز یورپ سے ایشیا کے درمیان تیز ترین آبی گزرہ گاہ ہے اور اس سے یومیہ اربوں روپے کا مالی فائدہ حاصل کیا جاتا ہے۔اس آبی گزرہ گاہ کے ذریعے دنیا کا سات فی صد تجارتی سامان گزرتا ہے جو مصر کے لیے زرِمبادلہ کمانے کا بڑا ذریعہ ہے۔یہ نہر کئی حوالوں سے مشہور ہے جس میں اس کا اہم ترین آبی گزر گاہ ہونا اور اس کی تعمیر پر فرانس اور برطانیہ میں کشمکش اور پھراس کا فنِ تعمیر کا عجوبہ ہونا شامل ہیں۔ دو سمندروں کو جوڑنے والی اس نہر سوئز کو تعمیر ہوئے اب ڈیڑھ سو سال سے زائد ہوچکے ہیں۔


ء 1956میں اس دور کے مصری صدر جمال عبدالناصر نے اسے ریاستی ملکیت میں لینے کا جو اعلان کیا تو یورپ میں اس پر ناامیدی کا اظہار کیا گیا تھا۔ میں قومیائے جانے سے پہلے اس نہر کی ملکیت زیادہ تر برطانوی فرانسیسی کمپنی سوئز سوسائٹی کے پاس تھی۔ برطانیہ اور فرانس نے اس دور کی قاہرہ حکومت کو مذاکرات کے ذریعے اس اقدام سے روکنے کی کوشش بھی کی تھی۔سوئز کینال کی تعمیر سے قبل بحیرہ روم اور بحیرہ احمر سے آبی گزرگاہ جو تجارتی مقاصد کی تکمیل کرسکے، اس کا تصور صدیوں پرانا تھا۔ اسے مسلمانوں کی خلافتِ راشدہ کے دور میں‌ بھی زیرِ غور لایا گیا اور بعد کے ادوار میں بھی اس حوالے سے کوشش کی گئی، لیکن نہر سوئز کے موجودہ آبی راستے پر کام شروع نہیں‌ کیا جاسکا۔ پھر 1798ء میں نیپولین کے دور میں فرانسیسی ماہرین تعمیرات مصر گئے اور انھوں نے بھی یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ایسا کوئی بھی منصوبہ حقیقت پسندانہ نہیں ہو گا۔ اس کے بعد برطانوی ماہرین نے بھی اس حوالے سے یہی رپورٹ تیّار کی، لیکن بعد میں اسے حقیقت کی شکل دے دی گئی۔جدید نہرِ سوئز کا منصوبہ 19 ویں صدی کے وسط میں فرانسیسی سفارت کار فرڈیننڈ دے لیسپ نے تیار کیا تھا۔ اس منصوبے کو عملی پیش رفت کے لیے اس زمانے میں مصری  سعید پاشا کے سامنے رکھا گیا تو انھوں نے اجازت دی اور تب نہر کھودنے کے لیے سوئز کینال کمپنی قائم کی گئی۔


اس نہر کی تعمیر کے لیے لاکھوں مزدوروں نے دس سال کی مشقّت اٹھائی اور ہزاروں یورپی کارکن وہاں لائے گئے تھے۔ اس دوران متعدد مسائل اور حادثات کے ساتھ تکمیل کے حوالے سے تنقید اور مایوسی کا اظہار بھی کیا گیا، لیکن مصری حکم ران محمد سعید نے 1861ء میں بالائی مصر سے مزید مزدوروں کو بلوایا اور کام جاری رکھا گیا۔ بالآخر نہر تعمیر کرلی گئی۔17 نومبر 1869ء کو جدید نہر سوئز کا افتتاح کیا گیا بین الاقوامی انرجی ایڈمنسٹریشن کے مطابق خام اور صاف تیل دونوں سمتوں میں جاتا ہے، دسمبر اور فروری کے درمیان تین اعشاریہ چھ ملین بیرل روزانہ نہر کے ذریعے آگے جاتا ہے جس میں سے ایک اعشاریہ پانچ ملین بیرل خام تیل ہوتا ہے۔مشرق کی طرف خام تیل زیادہ جاتا ہے۔ تقریباً ایک اعشاریہ ایک ملین بیرل روزانہ اس عرصے کے دوران مشرق کی طرف گیا جبکہ سمندری راستے سے ایشیا کی طرف جانے والی تیل کا چار اعشاریہ پانچ فیصد بنتا ہے۔اسی طرح تقریباً چار لاکھ بیرل روزانہ مغرب خصوصاً یورپ کی طرف گیا۔ریفائنڈ پروڈکٹس-پچھلے ایک سال کے دوران صرف نو فیصد یا ایک اعشاریہ 54 ملین ریفائیڈ پروڈکٹس بیرل روزانہ نہر سویز کے راستے گزریں۔پلاسٹک اور اس قسم کی دوسری اشیا ریفائنڈ پروڈکٹس میں شامل ہیں۔بین الاقوامی انرجی ایڈمنسٹریشن کے مطابق مشرق کی طرف جانے والے سامان میں زیادہ تر ایندھن، نفتھا اور مائع پٹرولیم گیس شامل ہیں جبکہ زیادہ تر ڈیزل اور جیٹ فیول مغرب کی طرف گیا۔


کینال کے متوازی پائپ لائنز بھی ہیں؟امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹرین کے مطابق 320 کلومیٹر (200 میل) سمڈ پائپ لائن خلیج کو بحیرہ روم کے ساتھ ملاتی ہے اس کے ذریعے یورپ کو جانے والے تیل کا 80 فیصد حصہ جاتا ہے۔سمڈ پائپ لائن کی صلاحیت دو اعشاریہ آٹھ ملین بیرل تیل روزانہ گزارنے کی ہے تاہم عام طور پر اس کی استعداد سے کم کام ہی لیا جاتا ہے۔سویز کینال مصر کے زر مبادلہ کا اہم ذریعہ بھی ہے 2018 میں ایک اعشاری تین ملین بیرل روزانہ اسی نظام کے ذریعے بھجوایا گیا۔اسی طرح ایک اور آپشن افریقہ کے اردگرد کے لیے ہے۔ایل این جی کے لیے اہم بین الاقوامی انرجی ایڈمنسٹریشن کے مطابق نہر سویز 2020 کے دوران چھ اعشاریہ آٹھ فیصد یا بائیس ملین ٹن عالمی ایل این جی تجارت کے لیے استعمال ہوئی۔مشرق وسطیٰ سے یورپ جانے والی ایل این جی کا تقریباً 25 فیصد حصہ بھی یہیں سے گزرا۔نہر سویز کی تاریخ-بحیرہ احمر سے بحر روم کو ملانے کے لیے پہلی نہر فرعون کے دور (1849 تا 1887 قبل مسیح) میں کھو دی گئی۔ تاہم اس کو جدید نہر کی شکل 1869 میں دی گئی تھی۔

جمعہ، 27 فروری، 2026

مترانوالی بستی کے بے گھر مکین کہاں جائیں ؟حصہ دوم


 چوہدری اعجاز چیمہ نے ایک بار بتایا کہ اقتدار میں تھے تو انہیں کہا گیا گاؤں کے چھّڑوں میں ناجائز تجاوزات کو ختم کرائیں مگر میں نے اس وقت غریبوں کا احساس کرتے ہوئے  کہ جب تک انہیں کوئی متبادل جگہ نہیں مل جاتی اس منصوبے پر عمل درآمد سے روک دیا تھا۔ انہوں نے جواب دیا:’’  ترقی اپنی جگہ، مگر میں لوگوں کے گھر کیسے چھین لوں؟ جب میں انہیں چھت دے نہیں سکتا تو ان کی چھت کیوں چھینوں؟‘‘ یہ جملہ آج بھی میرے دل میں گونجتا ہے۔ڈسکہ کے بعد میترانوالی ان چند ایک قصبوں میں شامل ہے جہاں لڑکوں کا کالج ہے، لڑکیوں کا ہائی اسکول ہے، پوسٹ آفس ،کمرشل بینک، دو میل سے زیادہ لمبا بازار اور نوجوانوں کے لیے متعدد پلے گرائونڈ گذشتہ پچاس سالوں پہلے سے ہی موجود ہیں ہے۔ سب کچھ تھا، مگر دیکھ بھال نہ ہونے سے حالت خراب ہو گئی۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ آج غریبوں کے گھر گرا کر ان کی بددعائیں لی جائیں۔ زرا سوچئے یہ عبادتوں کے شبوروز -یہ روزے کے پابند لوگ  یہ روز کے کمانے اور کھانے والے لوگ  اور اجڑے گھروں کے ٹھنڈے چولھے   




مترانوالی بستی کے بے گھر مکین کہاں جائیں -اپنے دل پہ ہاتھ رکھ کر زرا سی دیر کو سوچئے  یہ عبادتوں کا  مہینہ  'عید سر پر کھڑی ہے  محنت کشوں کو تو کما کر کنبہ پالنا ہوتا  ہے ان کے پلے جمع پونجی نہیں ہوتی ہے  'وہ وقت جب ان غریبوں نےکبھی چھپر  ڈال کر گھر بنائے تھے تو اْس وقت کی انتظامیہ نے کیوں نہ روکا؟ ایف آئی آر کیوں نہ درج کی؟ عدالت سے رجوع کیوں نہ کیا؟ آج اچانک گھر گرانا ا کہاں کا  انصاف ہے  ۔ہم دل جوڑنے کے لیے بیٹھے ہیں، دل توڑنے کے لیے نہیں۔ ہمیں دکھاوے کا خلوص نہیں چاہیے—نہ ٹک ٹاک اور یوٹیوب والا۔ ہمیں دلوں کا خلوص چاہیے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ایک ہاتھ سے اگر دو تو دوسرے ہاتھ تک کو خبر نہ ہو۔ خدمت کا مقصد کسی کو طعنہ دینا نہیں بلکہ اسے اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ہے۔پیسہ آنا بڑی بات نہیں؛ ظرف آنا بڑی بات ہے۔ میں نے دنیا دیکھی ہے—اسلام آباد سے بیرونِ ملک تک، عالمی فورمز پر ملاقاتیں کیں۔



پنجاب  حکومت اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف صاحبہ سے درخواست ہے کہ وہ غیرقانونی تجاوزات پر بے شک اپنا مشن اور عمل جاری رکھیں مگر رمضان شریف کے تقدس اور آنے والی عید الفطرکی خوشیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کم از کم اتنا وقت ضرور دیں کہ ان غریب لوگوں کو سر چھپانے کے لیے کوئی متبادل جگہ مل سکے۔یقینا یہ ہمارے ہی لوگ ہیں اور ہم میں سے ہی ہیں۔ہمیں ان کی غلطیوں کی سزا نہیں دینی بلکہ اصلاح کرنی ہے۔مجھے یقین ہے کہ پنجاب حکومت میری ان گزارشات کو قبولیت بخشے گی۔یہ میترانوالی کے سینکڑوں غریبوں کی نہ صرف اشک شوئی ہو گی بلکہ ایک اصلاح کا بھی احسن ترین موجب بنے گی۔ احساس ویلفیئر کے دوستوں—سید راحت علی شاہ، ذوالفقار علی چیمہ، افضال چیمہ، ظفر بھٹی صاحب، شکیل جنجوعہ، غفور رانا اور دیگر احباب نے حساس ویلفیئر کا دفتر اور عمارت کھڑی کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔میں آج اپنے گھر، اپنی دھرتی کی بات کر رہا ہوں۔




 مگر میترانوالی آ کر قصاب سعید صابری کے پھٹے سے لے کر جارج ساغر (مرحوم) کے پھٹے تک، اور گلشن کلاتھ والے بابا گلزار (مرحوم)کے بنچوں اور پھٹوں پربیٹھ کر میترانوالی کے شہریوں کو یہ پیغام دیتا تھا کہ ہم سب اس دھرتی کے باسی ہیں۔اگر یہ ترقی ہے کہ کرینوں اور بلڈوزروں سے غریبوں کے گھر گرائے جائیں، تو پھر یہ ترقی نہیں، تباہی ہے۔ ان لوگوں کو کیا پیغام دیا گیا جو روز ہزار دو ہزار کما کر بچوں کے لیے روٹی لے جاتے تھے؟غصے سے نہیں، عقل سے سوچیں۔ اقتدار مستقل نہیں ہوتا۔ کل بھٹو تھا، آج وہ قبر میں ہے۔ کل کپتان تھا، آج وہ جیل میں ہے۔ آج کوئی اور اقتدار میں ہے، کل کوئی اور ہوگا۔ مگر مظلوم کی آہ باقی رہتی ہے۔کسی غریب کی تسکین کا باعث بنیں، کسی ظالم کی تسکین کا نہیں۔ جس گھر میں ہانڈی نہیں پکتی، اس کی چھت گرا دینا آسان ہے، مگر اس کا حساب دینا آسان نہیں۔ اللہ کا گھیرا بے آواز ہوتا ہے—اللہ ہم سب کو اس گھیرا سے محفوظ رکھے۔آئیے میترانوالی، سیالکوٹ، ڈسکہ اور پورے پاکستان کے لیے دعا کریں۔ حسد نہیں، خدمت کا مقابلہ ہو۔ نفرت نہیں، اخلاص ہو۔ اور یہ دھرتی—جس نے ہمیں جنم دیا—ہماری نیکیوں سے پہچانی جائے، نہ کہ ہمارے ظلم سے۔

تحریر انٹر نیٹ  سے لی ہے


جمعرات، 26 فروری، 2026

جپسم ایک آبی عنصرکیلشیم سلفیٹ پر مشتمل ہوتا ہے

   


جپسم جو اجزائے ترکیبی کی مناسبت سے آبی کیلشیم سلفیٹ پر مشتمل ہوتا ہے تمام غیر دھاتی قدرتی وسائل میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے ،کیوں کہ یہ صدیوں سے طبی نقطۂ نظر سے سودمند ثابت ہوا ہے۔ مثلاً ہڈیوں کی خلل کی صورت میں ’’سرجری‘‘ کے بعد حفاظتی   خول (پلاسٹر) کے طور پر بہت ہی کارآمد ثابت ہوا ہے جب کہ دوسری طرف دور جدید میں زیر زمین تیل و گیس (پٹرولیم) بردار ساخت میں بطور حفاظتی تہہ کی حیثیت سے دریافت ہونے کی وجہ سے اس کی اہمیت اور بھی دوبالا ہوگئی ہے۔ قدرتی طور پر جپسم کا تعلق تبخیری معادنی خاندان سے ہے، جس میں کیلشیم آکسائیڈ 32.5فی صد، سلیکان ڈائی آکسائیڈ 46.6فی صداور پانی 20.9فی فی صد موجود ہوتا ہے۔ تبخیری معادن سے مراد ایسے تمام قدرتی مرکبات یا معادن جو سمندری پانی کے تبخیری عمل کے نتیجے میں وقع پذیر ہوتی ہیں۔ ’’تبخیری معادن‘‘ (Evaporites) کہلاتی ہیں۔ مثلاً چٹانی نمک (بیلائٹن)، جپسم، این بائیڈر رائیٹ اور دوسری مرکبات بھی شامل ہوتی ہیں جو عام طور پر سمندر کے ان حصوں میں تشکیل پاتی ہیں جو کھلے سمندر سے کٹ جاتی ہے اور طاس نما ساخت میں تبدیل ہوجاتی ہیں، جس میں سمندر کا نمکین پانی کا محلول داخل ہوتا ہے لیکن اس کی واپسی بہت کم ہوتی ہے۔گویا پانی کی بڑی مقدار طاس میں ساکن و جامد رہتی ہے، جس پر تبخیری عمل پر درجۂ حرارت پر اثرانداز ہوتا رہتا ہے، جس کی وجہ سے پانی بھاپ بند کر فضا میں فرار ہوتا ہے اور طاس کے فرش پر نمک اور جپسم کی قلمیں مرکوز ہوجاتی ہیں لیکن محلول حل پذیری کی بنیاد پر جمع ہوتی ہیں یعنی سب سے کم حل پذیر مرکب سب سے پہلے قلم پذیر ہوتی ہیں۔



 مثلاً کاربونیٹ گروپ اور جس سے زیادہ حل پذیر مرکب والے مرکبات سب سے آخر میں قلم پذیر ہوتی ہیں۔ مثلاً کاربائیڈز۔ چناں چہ طاس میں سب سے پہلے جپسم ’’کیمیائی رسوب کی شکل اختیرا کرتی ہے اس طرح جپسم کی تہہ یکے بعد دیگرے چٹانی نمک کے ساتھ طاس کے فرش پر جمع ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں کیمیائی رسوب مثلاً کیلشیم کاربونیٹ، جپسم کی معتدل مقدار غیر آبی کیلشیم سلفیٹ (این ہائیڈرائٹ) کی آبدیدگی (Hydration) سے گہرائی میں بیرونی دباؤ (سب سے زیادہ گہرائی 100-150میٹر میں بھی تخلیق پاتی ہیں۔ یعنی اس دباؤ پر غیر آبی کیلشیم سلفیٹ پر پانی کی شمولیت اور جماڑ کے عمل سے آبی کیلشیم سلفیٹ کی تخلیق ہوتی ہے جو ’’جپسم‘‘ ہوتا ہے۔ ساتھ ہی اس کے حجم میں بھی تقریباً 35فی صد کا اضافہ ہوتا ہے۔ ’’جپسم‘‘ ایک اہم غیر دھاتی وسیلہ-یہاں پر اس بات کو ذہن میں رکھنا ہے کہ ایک معدن کے دو نام ہیں جو کیمیائی تعامل کے بعد ایک دوسرے سے تبدیل ہو کر وجود میں آتے ہیں۔ اس لئے یہ طریقہ ’عمل بدلاؤ (Reversable Rotaion) کہلاتا ہے۔ دونوں میں فرق یہ ہے کہ جب جپسم بردار تہہ پر دباؤ کے زیر اثر آبیدگی (Hydration) کا عمل ہوتا ہے تو اس میں پانی کی شمولیت ہوتی ہے ،جس سے آبی کیلشیم سلفیٹ کی تشکیل ہوتی ہے لیکن جب ’’جپسم‘‘ پر ڈی ہائیڈریشن (Dehydration) کا عمل ہوتا ہے تو پانی باہر نکل جاتا ہے اور صرف کیلشیم سلفیٹ باقی رہ جاتا ہے جسے ’’این ہائیڈرائیٹ‘‘ کہتے ہیں۔ فرق صرف ان کی سختی میں ہوتا ہے۔



جپسم کی سمتی موز (Mohs) سختی کے پیمانے کی رو سے دو ہوتی ہے لیکن جب پانی باہر نکل جاتا ہے تو ’’این ہائیڈرائٹ‘‘ کی سختی تقریباً 2.5ہوجاتی ہے چوں کہ ناخن کی سختی 2.5ہوتی ہے۔اسی وجہ سے جپسم این ہائیڈرائٹ کے مقابلے میں آسانی سے کھرچ جاتا ہے ۔یعنی اس کا پاؤڈر آسانی سے ناخن پر آجاتا ہے جب کہ این ہائیڈرائٹ کی صورت میں ناخن کھرچنے لگتا ہے۔ دنیا میں پائی جانے والی ’’جپسم‘‘ کے ذخائر زیادہ تر اسی قسم کے عمل سے وقوع پذیر ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ ریگستانی اور نیم ریگستانی خطوں میں نسوں گومڑ کی شکل میں موسم زدگی سے متاثرہ چٹانوں کے کرسٹ میں پائے جاتے ہیں۔ یہ گندھک کے تیزاب ملے پانی میں یا حل پذیر سلفائیڈز کے عمل سے بھی تشکیل پاتی ہیں۔ بعض اوقات یہ آکسائیڈز زون یا سلفائیڈ ذخائر میں بھی موجود ہوتے ہیں، جس کی وجہ یہ ہے کہ اکثر مرحلوں میں جب سلفائیڈ دھات پائیرائٹ پر مشتمل ہوتا ہے تو اس کے تکبیدی عمل سے سطح پر موجود پانی میں گندھک کے تیزاب کے اجزا میں اضافہ ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے تیزاب زدہ سطحی پانی ’’جپسم‘‘ کے ذخائر عام طور پر چٹانوں یا ابتدائی کچی دھات کے بالائی زون کے دراڑوں میں بعض دوسرے سلفیٹ کے ساتھ منسلک پائے گئے ہیں۔عمل تبخیر کے دوران مختلف نمکیات کی پائیداری کا تخمینہ تجرباتی طریقے یا پھر طبی کیمسٹری کے اعدادوشمار سے لگایا گیا ہے ،جس سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ کیلشیم سلفیٹ کی ترتیب دو صورتوں میں یعنی ہائیڈریٹڈ معدن (جپسم) اور غیر ہائیڈریٹڈ (این ہائیڈرائٹ) کے طور پر عمل میں آتی ہے۔



 دونوں صورتوں میں محلول کی بلند سپر شدگی درجۂ حرارت، حل پذیری اور بخارات کے دباؤ کو فوقیت حاصل ہوتی ہے۔ اگر محلول میں صرف کیلشیم سلفیٹ موجود ہوتا ہے تو 60ڈگری سینٹی گریڈ پر ’’این ہائیڈریٹ‘‘ کی قلم پذیری عمل میں آتی ہے جب کہ 42ڈگری سینٹی گریڈ درجۂ حرارت پر جپسم کی تہہ نشینی ہوتی ہے۔ خلیج فارس میں موجود ذخائر اس کی ایک مثال ہے جہاں 80ڈگری سینٹی گریڈ پر ’’این ہائیڈرائٹ‘‘ کی ترتیب عمل میں آتی ہے۔جب کہ کھلے پانی جہاں کا درجۂ حرارت 42ڈگری سینٹی گریڈ وہاں جپسم یک تہہ نشینی عمل میں آتی ہے۔ ’’جپسم‘‘ میں ایک غیر معمولی خصوصیت پائی جاتی ہے کہ اس کل حل پذیری 37-38ڈگری سینٹی گریڈ پر بلند ہوتی ہے اور اس کے بعد اچانک کم ہو جاتی ہے اور اس کے بعد تیزی سے گرنے لگتا ہے۔ تیزی سے گرنے کا عمل 107ڈگری سینٹی گریڈ پر ہوتا ہے۔ تھرمو گراف (Thermograph) کے ذریعہ اس حقیقت کی تصدیق ہوتی ہے کہ جب جپسم کو ہوائی دباؤ میں گرم کیا جاتا ہے تو 80-90 ڈگری سینٹی گریڈ پر پانی ضائع ہونے لگتا ہے جب کہ 120-140ڈگری پر مکمل طور پر پانی سے غیر موجود ہائیڈریٹ (Hemihydrate) کی تخلیق عمل میں آتی ہے۔جسے پلاسٹر جپسم یا پلاسٹر آف پیرس کہا جاتا ہے جو چیپ م (adhesive) ہوتا ہے ،جس میں یہ خاصیت ہوتی ہے کہ یہ ہڈیوں کے فریکچر کو درست پوزیشن میں پابند رکھتا ہے۔ جب کہ دور حاضر میں یہ حقیقت بھی سامنے آئی ہے کہ جپسم تیل و گیس بردار ساخت میں سب سے بالائی جانب حفاظتی تہہ کے طور پر موجود ہوتا ہے


نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

جنگ خندق کفر اور اسلام کی معرکۃ الآرا جنگ

  ۔اس جنگ کی ابتداء اس طرح ہوئی کہ بنو نضیر کو جب حضور انور  ﷺنے مدینہ منورہ سے جلا وطن کر دیا تو وہ خیبر میں جا کر بھی شرارتوں سے باز نہ آئ...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر