حضرت نوح (علیہ السلام) کے والد کا نام شیث تھا-والدہ کا نام قیشوش بنت برکابیل تھا‘‘- آپ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے اس وقت مبعوث فرمایا جب بتوں کی عبادت اورشیطانوں کی اطاعت شروع ہوچکی تھی-لوگ کفراور گمراہی میں مبتلا ہوچکے تھے کلام مقدس میں بارہا مقامات پر بتوں کی پوجا سے روکا گیا ہے اور ان کی مذمت اور بے بسی کا جابجا ذکر کیا گیا ہے کہ نفع اور نقصان کا تعلق ان سے نہیں اور نہ ہی یہ کسی کا نفع کرسکتے ہیں جب ان کی ماندگی کا یہ عالم ہے کہ اپنے اوپر سے مکھی کو بھی نہیں اُڑا سکتے تو تمہارا نفع اور نقصان کیا کرسکتے ہیں-تو گھر 'گھر بت رکھنے کی ابتداء کیسے ہوئی ؟ابن جریر ؒ نے اپنی سند کے ساتھ محمد بن قیس سے روایت کی ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) اور نوح (علیہ السلام)کے درمیان کچھ نیک لوگ تھے اور ان کے پیروکار ان کی اقتداء کرتے تھے جب وہ نیک لوگ فوت ہوگئے تو ان کے پیروکاروں نے کہا کہ اگر ہم ان کی تصویریں بنائیں تو اس سے ہماری عبادت میں زیادہ ذوق اور شوق ہوگا سو انہوں نے اُن نیک لوگوں کی تصویریں بنادیں-
جب وہ فوت ہوگئے اور ان کی دوسری نسل آئی تو ابلیس ملعون نے ان کے دل میں یہ خیال ڈالا کہ ان کے آباء تصویروں کی عبادت کرتے تھے اور اسی سبب سے ان پر بارش ہوئی سو انہوں نے ان تصویروں کی عبادت کرنا شروع کردی-وَد، یغوث، یعوق، سراغ، نسر ودان تمام نیک تھا-امام ابن حاتم ؒ نے امام باقر ؒ سے روایت کی کہ وَد ایک نیک شخص تھا اوروہ اپنی قوم میں بہت محبوب تھا-جب وہ فوت ہوگیا تو اس کی قوم کے لوگ بابل کی سرزمین میں اس کی قبر کے اردگرد بیٹھ کر روتے رہے-جب ابلیس نے ان کی آہ و بکاہ دیکھی تو وہ ایک انسان کی صورت میں آیا اور کہنے لگا مَیں نے تمہارے رونے کو دیکھا ہے تو تمہارا کیا خیال ہے کہ مَیں تمہارے لئے بت کی ایک تصویر بنادوں تم اپنی مجلس میں اس تصویر کو دیکھ کر اسے یاد کیا کرو تو انہوں نے اس سے اتفاق کیا تو اس نے بت کی تصویر بنادی جس کو وہ اپنی مجلسوں میں رکھ کر اس کا ذکر کیا کرتے-
جب ابلیس نے یہ منظر دیکھا تو کہا مَیں تم میں سے ہر ایک کے گھر بت کا ایک مجسمہ بناکر رکھ دوں تاکہ تم میں سے ہر شخص اپنے گھر میں بت کاذکر کیا کرے انہوں نے اس بات کو بھی مان لیا پھر ہر گھر میں وَد کا ایک بت بنا کر رکھ دیا گیا- پھر ان کی اولاد بھی یہی کچھ کرنے لگی پھر اس کے بعد ان کی جو بھی نسلیں آئیں تو وہ بھول گئی کہ وَد ایک انسان تھا- وہ اس کوخدا مان کر اس کی عبادت کرنے لگیں -پھر انہوں نے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر اس بت کی پرستش شروع کردی -پس اللہ پاک کو چھوڑ کر جس بت کی سب سے پہلے پرستش شروع کی گئی وہ وَد نام کا بت تھا
-حافظ ابن عساکر(رضی اللہ عنہ)حضرت شیث علیہ السلام کے واقعہ میں حضرت ابن عباس (رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت آدم( علیہ السلام) کے چالیس (۴۰)بچے تھے بیس (۲۰)بیٹے اور بیس (۲۰)بیٹیاں ان میں سے جنہوں نے طویل عمر یں پائیں-ہابیل،قابیل ، صالح اور عبدالرحمٰن تھے جن کا پہلا نام عبدالحارث تھا آپ (علیہ السلام) کے ایک بیٹے وَد تھے جنہیں شیث اور’’ھبۃ اللہ‘‘ کہا جاتا تھا-تمام بھائیوں نے سیارت ان کے سپردکر رکھی تھی-سراع، یغوث، یعوق اور نسر ان کی اولاد تھی-ابن ابی حاتم میں حضرت عروہ بن زبیر (رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں کہ حضرت آدم (علیہ السلام) بیمار ہوئے توآپ کے پاس اس وقت پانچ(۵) بیٹے تھے-وَد، یغوث، یعوق، سواع اور نسر-وَد سب سے بڑا اور سب سے زیادہ فرمانبردار اور حسن سلوک والا تھا عرب میں سب سے پہلے بت پرستی کا آغاز کرنے والا عمر و بن لحیّ بن قمعہ تھا-یہ ان لوگوں سے متاثر ہوا اس نے تین سو چالیس سال کی طویل عمر پائی
کعبہ کی تولیت پانچ سو سال تک اس کے اور اس کی اولاد کے پاس رہی اور اس نے بت پرستی کو رواج دینے میں اپنی پوری کوششیں صرف کیں-کعبۃ اللہ جس کو حضرت خلیل (علیہ السلام)
نے اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کے لئے تعمیر کیا تھا اسی بدبخت کے زمانے میں بت خانہ بنا-
مراۃ العارفین سے اقتباس