جمعہ، 3 اکتوبر، 2025

پام سنڈے ! غرناطہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا جلوس'part -1

  پام  سنڈے ! غرناطہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا جلوس-غرناطہ  کی  سیاحت کے دوران میں نے ایک جگہ دیکھا قدیم گرجا کے گرد  ، چند خواتین سیاہ لباس میں ہیں اور کچھ لوگ نائٹس کا قدیمی لباس زیب تن کیے ہوئے ہیں۔ نائٹس دراصل صلیبی حکومت کے محافظ یا صلیب کے محافظوں کا لقب تھا۔ یہ لباس آج کل کے ترکیہ ڈراموں میں بھی آپ کو نظر آئے گا جس میں سفید لباس اور ایک طویل سرخ ٹوپی ایک کون کی مانند، جس سے منہ بھی مکمل نقاب کی طرح ڈھکا ہوا ہوتا تھا اور صرف آنکھوں کی جگہ سوراخ ہوتے ہیں تاکہ اس کو زیب تن کرنے والا دیکھ سکے۔ہم نے ان سے پوچھا تو ٹوٹی پھوٹی معلومات ہوئیں کہ کوئی مذہبی تہوار ہے۔ کیا؟ اس کا معلوم نہ تھا۔ہم اپنے راستے سے واپسی کا سفر کرتے ہوئے گھر کے قریب ہوئے تو دیکھا کہ ایک باقاعدہ پریڈ ہورہی ہے جس میں مرد و زن، بوڑھے، بچے سب موجود ہیں، سب نے مخصوص لباس زیب تن کیا ہوا ہے، اور اس پریڈ کو دیکھنے کے لیے سڑک کے دونوں طرف لوگوں کا ہجوم ہے۔



 خیر ہم نے کچھ مشاہدہ کیا اور آگے اپنی راہ لی۔ راستے میں دو مکمل فوجی بینڈ ٹائپ کے بینڈز نظر آئے جو اپنی دھنیں بجا رہے تھے۔ ان میں سے ایک بینڈ والی پارٹی سے پوچھا تو کئی ایک کے بعد ایک فرد ملا جس کو کچھ انگریزی آتی تھی، اُس نے بتایا کہ وہ غرناطہ سے سو میل دور سے یہاں اس تہوار میں شرکت کے لیے آیا ہے۔ اب یہ تہوار کیا ہے وہ انگریزی میں بتانے سے قاصر تھا، لہٰذا وہ ایک لڑکی کو تلاش کرکے لایا کہ یہ انگریزی میں بات کرسکتی ہے، یہ بتائے گی۔ لیکن وہ بھی دو جملوں کے بعد کچھ نہ بول سکی۔ انٹرنیٹ کی مدد سے معلوم ہوا کہ  یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی یاد کا مخصوص تہوار ہے جسے ’پام سنڈے‘ بھی کہا جاتا ہے، اور یہاں اسپین میں اس کا آغاز چرچ کی جانب سے آج ہوا۔ اس کی تاریخ کا تعین بھی چاند کی تاریخ سے ہوتا ہے۔عیسائی مذہب کے مطابق چاند کی اس تاریخ کو حضرت عیسیٰؑ کا سفر یروشلم کی جانب شروع ہوا تھا کہ جہاں ان کو مصلوب کرنے کے لیے لے جایا گیا تھا۔ 



حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو   یروشلم لے جایا گیا تھا، جبکہ اس کے ساتھ پام کے درخت کی شاخ یا پتّے بھی موجود تھے۔ اندلس میں اس تہوار کو خاص اہمیت دی جاتی ہے، یہ ایک ہفتے غرناطہ میں جاری رہتا ہے کہ جہاں پورے اندلس (موجودہ اسپین کا ایک صوبہ) سے لوگ غرناطہ آتے ہیں اور اس میں حصہ لیتے ہیں۔بھی چوک سے کچھ دور ہی تھا کہ ڈھول کی زوردار آوازیں اور شام والی دھنیں دوبارہ سنائی دینے لگیں۔ مجھے حیرت ہوئی کہ رات کے اس پہر تقریباً دس بجے تو یورپ میں یہ کام نہیں ہوتا! خیر کچھ آگے گیا تو دیکھا ایک جلوس جارہا ہے جس میں ایک تعزیہ نما چیز بھی ہے۔ جلوس کے قریب پہنچا تو وہی شام والا منظر تھا۔ جلوس سڑک پر تھا اور دونوں جانب لوگوں کا ہجوم اس کو دیکھ رہا تھا۔ مجمع میں جگہ بناکر آگے آیا تو دیکھا کہ پولیس بھی موجود ہے اور پرانے شہر کی تمام گلیوں میں یہ جلوس چل رہا ہے۔ تمام گاڑیوں کا داخلہ پولیس نے پہلے ہی بند کردیا ہے تاہم اگر آپ جلوس کو دیکھنا چاہتے ہیں تو پیدل جائیں۔



 میں مجمع سے آگے گیا، لوگوں نے بخوشی راستہ دیا۔ جلوس کی ترتیب یہ تھی کہ آگے رہنمائی کرنے والے اور ایک تعزیہ جس پر ایک خاتون سفید لباس میں کھڑی تھیں، ان کے آگے بھی طویل موم بتیاں چار پانچ قطاروں میں نصب تھیں، ان خاتون کے اوپر ایک ترپال یا ٹینٹ تھا، اس کے بعد تین افراد (ایک مرد، دو خواتین) صلیب اور موم بتیاں ایک لاٹھی میں لگائے آگے تھے، ان کے پیچھے سیاہ لباس میں خواتین موم بتیاں لیے دو قطاروں میں چل رہی تھیں، ان کو منظم کرنے والی یا والیاں سفید لباس اور سرخ ٹوپی میں نائٹس کے لباس میں تھیں۔ اس میں بھی مرد و خواتین دونوں نے ہی نائٹس کے لباس زیب تب کئے ہوئے تھے، ان کے ہمراہ کچھ بچے بچیوں نے بھی یہ لباس پہنا ہوا تھا۔ ایک مکمل پروٹوکول میں یہ جلوس اپنی مخصوص منزل کی جانب جارہا تھا۔ قدیم غرناطہ شہر کی گلیاں بہت تنگ ہیں، لہٰذا اس جلوس کے لیے ان گلیوں و سڑکوں پر ٹریفک کا داخلہ مکمل بند کردیا گیا، 

  بلاگ ابھی جاری ہے  یہ خوبصورت تحریر ایک نوجوان سیاح کی ہے جو  غرناطہ کی سیاحت پر  اس نوجوان نے لکھی ہے تحریر پر مجھے اس بچے کا نام نہیں مل سکا ہے جس کے لئے میں معذرت چاہتی ہوں 

جمعرات، 2 اکتوبر، 2025

مومنہ عباسی ایک باہمت لڑکی سے ملئے

   مومنہ عباسی نام کی لڑکی  کی اس    اسٹوری نے مجھے بہت متاثر کیا -کیونکہ  اس تحریر میں مجھے ہمت اورحوصلہ نظر آیا اس لئے میں اپنے قارئین سے بھی شئر کر رہی ہوں -میرا نام مومنہ عباسی ہے اور میں مری کے ایک گاؤں سے تعلق رکھتی ہوں امید ہے آپ سب  خیریت سے ہوں گے. میں آج اپنی زندگی کی کہانی لے کر آئی ہوں کہ کیسے ایک چھوٹی سی غفلت سے میری پوری زندگی بدل گی. یہ سال 2013 کی بات ہے جب میری عمر 13 سال تھی اور میں مری کے ایف جی سکول میں ساتویں جماعت کی تعلیم حاصل کر رہی تھی. اسی سال اچانک میری کمر اور ٹانگوں میں شدید درد رہنے لگا. مری کے ڈاکٹرز سے کافی چیک اپ کرایا لیکن ڈاکٹرز کا کہنا تھا سکول چل کر جانے کی وجہ سے کمزوری ہو گی اور پٹھے کمزور ہو گے ہیں. 5 سے 6 ماہ تک یہی چلتا رہا اور  multi vitamin جیسی دواؤں کا استعمال چلتا رہا لیکن درد کے ساتھ ساتھ میری ٹانگوں سے حرکت بھی ختم ہو گی اور 16 اکتوبر 2013 کو میں مکمل طور پر ویل چئیر پہ آ گی تھی. اسلام آباد کے ڈاکٹرز سے چیک اپ اور ٹیسٹ کرانے کے بعد پتہ چلا کے ریڑ کی ہڈی میں رسولی ہو گئ ہے. جسکا آپریشن کرانا پڑا


. جس میں آپریشن کے دوران حرام مغز کو ہلکا سا کٹ لگ گیا جسکی وجہ سے میں مکمل طور پہ معذور ہو گئ.اسکے بعد کے چار سال تک تھوڑا مشکل ٹائم تھا  اس بات کا یقین کرنا مشکل تھا کے ایک دم سے زندگی اتنی بدل کیسے گئی ہے.  . میری پوری فیملی نے مجھے بہت سپورٹ کیا خیال رکھا. لیکن انسان کو خود اپنی زندگی کو صحیح کرنا ہوتا۔ ہمارے آس پاس کے لوگ زندگی میں آسانی لانے کا سبب بن سکتے ہیں لیکن ہمیں اپنی زندگی کو آسان اور خوبصورت صرف اپنی کوشش میں کرنا ہوتا ہے . مجھے بھی یہ بات سمجھنے میں 4 سال لگ گے اور پھر میں نے اپنی تعلیم دوبارہ سے شروع کی. میں نے تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ گھر والوں کی چھوٹے چھوٹے کاموں میں مدد کرنا شروع کر دی میں بس یہی دیکھتی کے ایسا کون سا کام ہے جو میں بیٹھ کے کر سکتی ہوں اور گھر والوں کی مدد کر سکتی ہوں تا کہ میں کسی پر بوجھ نا رہوں.. اور ایسے ہی میں نا صرف گھر کے سارے کام کرنے کے قابل ہو گی بلکہ خود بھی اپنا آپ سنبھالنے میں مکمل طور پر independent ہو گی.



 اس حوصلہ افزائ نے میرے  اندر یہ احساس اجاگر کیا کہ  مجھے کسی انسان کے ایسے ساتھ کی ضرورت نہیں رہی کہ وہ میری مدد کرے.  یہ   سوچ میرے اندر بہت کانفیڈینس لائ  اس کے کچھ عرصہ بعد مجھے احساس ہوا کہ آج جس دور سے ہم گزر رہے ہیں اس دور میں  بہت سے چیزیں آسان اور ممکن ہو گئ  ہیں انسان گھر بیٹھے ایک فون سے بھی پوری دنیا سے کونٹکٹ  کر سکتا ہے اور  بہت سے کام کر سکتا ہے اور میں نے اپنے فون کا استعمال اس انداز میں کرنا شروع کیا ہے  اپنے ہر فارغ ٹائم میں کسی نا کسی طرح کی نالج گین کرتی فیشن سے  لے  کر پڑھائ تک بزرگوں کی باتوں سے بچوں کے شوق تک ہر ایک بات کی معلومات رکھتی تا کہ میں ویل چیئر پر رہتے ہوۓ اپنی باتوں اور الفاظ کے استعمال سے اپنی فیملی دوست رشتہ داروں سے انکی ذات کے مطابق گفتگو کروں تا کہ میری ذات کسی کو بورنگ اور ایک بیمار معذور انسان جیسی نا لگے میں اپنے آپ کو ایک نارمل انسان کی طرح لوگوں کے دماغ میں رکھنا چاہتی تھی اور میں اس میں مکمل طور پر کامیاب رہی.



 میں آج میں اپنے خاندان میں اچھی ڈسکشن کی وجہ سے مشہور ہوں جس نے مجھے ہمیشہ تنہائی اور اکیلے رہنے سے بچائے  رکھاہے - اور اس کے ساتھ ہی میں نے موبائل فون کے استعمال سے ایسے آنلائن کام کی تلاش شروع کی جو میری جیسے انسان کو گھر بیٹھے آرام سے معاشی طور پہ مضبوط بنا سکے اور میں نے آنلائن سکلز پہ کام شروع کیا. سب سے پہلے میں نے وائس اوور آرٹسٹ کے طور پہ آنلائن کام شروع کیا مجھے لگا اپنی اواز کے استعمال سے بھی انسان کام کر سکتا ہے بس انفارمیشن کی کمی تھی اسکے بعد آہستہ آہستہ میں نے آنلائن فلیڈز کو جوائن کیا اور گیارہ سال گزر جانے کے بعد میں اپنی زندگی سے بہت خوش اور مطمئن ہوں. میرا ماننا ہے اللہ پاک نے ہر انسان کی زندگی میں کی کوئی نا کوئی مشکل ضرور رکھی ہوتی ہے  ہمیں اپنی مشکل میں ہمت  بھی کرنی چاہئے اور اپنی زندگی کو آسان بنانے کی کوشش کرنی چاہیے -الحمداللہ میں نے سپیشل افراد کے لیے معذور فاونڈیشن کے نام سے ایک ادارہ بنا رکھا ہے جس کا مقصد معذور افراد کو ویل چیئرز کی فراہمی، آلہ سماعت کی فراہمی، انکی میڈیسن اور تعلیم وغیرہ کے لئے مالی مدد فراہم کرنا ہے گورنمنٹ کی طرف سے معذور افراد کے لیے جاری کیے گئے پروگرامز کے متعلق معذور افراد کو آگاہ کرنا انکی بہترین طریقے سے تربیت کرنا اسکے علاوہ معذور افراد کو اپنے حقوق کے بارے میں شعور دینا اور زندگی سے مایوس ہوچکے لوگوں کو موٹیویٹ بھی کرنا ہے تاکہ انکے اندر کچھ کرنے کا جذبہ پیدا ہو اور وہ بھی معاشرے کے مفید شہری بن کر جی سکیں

یہ اسٹوری انٹر نیٹ سے لی ہے

لالہ زار باغوں کا شہرلاھور

 

 لاہور  کو ویسے تو  اس کے حاکموں نے ہر دور میں عزت و تکریم دی لیکن لاھور کو مرکزی حیثیت اس وقت نصیب ہوئی جب پہلے مسلمان حکمران قطب الدین ایبک نے اس شہر کو دہلی کے بعد دوسرا پایہ تخت قرار دیا تاہم غزنوی، غوری، غلاماں، تغلق اور لودھی حکومتوں میں یہ شہر دہلی کے راستے صرف ٹھہرنے کے مقام کے طور پر ہی جانا جاتا رہا، لیکن جب مغل دور حکومت شروع ہوا تو مغلوں نے اس شہر کی طرف توجہ دی اور اس میں باغ، پارک، کنوئیں اور درخت لگائے۔ ان کی پرداخت کی اور یوں یہ شہر اب تک باغوں کا شہر کہلاتا ہے۔مغلوں کی آمد سے قبل یہاں چند باغ تھے جو باغ ملک ایاز، باغ زنجانی، باغ شاہ اسماعیل، باغ قطب الدین ایبک، باغ شاہ کاکو چشتی اور باغ دولت آباد کے نام سے مشہور تھے۔ لیکن مغلوں کے دور میں لاہور جب ہندو پاک کا تیسرا بڑا شہر بنا تو اس شہر کی طرف خصوصی توجہ دی گئی۔ وہ لاہور کی اہمیت سے بخوبی واقف تھے۔ اکبر یہاں پندرہ سال تک رہا اور اس نے لاہور کی ترقی پر بھرپور توجہ دی۔ جہانگیر بھی لاہور کا گرویدہ تھا۔ حتیٰ کہ وہ فوت ہوا تو اس نے وصیت کی تھی کہ اسے لاہور میں دفن کیا جائے۔



 ملکہ نور جہاں بھی لاہور ہی میں رہی اور یہیں دفن ہوئی۔ شاہ جہاں بھی لاہور میں پیدا ہوا اور اس نے بھی اس کی طرف پوری توجہ دی۔ اس کے دور میں یہاں عمارتیں تعمیر ہوئیں اور باغ معرض وجود میں آئے۔شاہ جہاں کا بڑا بیٹا داراشکوہ ہمیشہ لاہور ہی میں رہا۔ وہ حضرت میاں میرؒ کا مرید تھا اور صوفیاء سے محبت کرتا تھا۔ اورنگ زیب کی وفات کے بعد جب مغلوں کو زوال آیا تو لاہور کی شان میں بھی کمی آنے لگی۔ سکھوں نے تو اس شہر کا حلیہ ہی بگاڑ کر رکھ دیا۔مغل بادشاہ باغات سے بہت محبت کرتے تھے۔ انہوں نے لاہور، دہلی، آگرہ اور کشمیر میں بے شمار باغ بنائے، حویلیاں تعمیر کیں، اورمسجدیں بنائیں۔ انہوں نے مخصوص پھلوں کے جو باغ لگائے وہ انگوری باغ اور انار باغ کے نام سے مشہور ہوئے۔ اس طرح ہمایوں کے زمانے میں نولکھا باغ، باغ کامران اور اکبر کے زمانے میں باغ دل افروز، باغ خان اعظم، باغ اندر جان باجو باغ، باغ مالک علی کوتوال، باغ مرزا نظام الدین احمد، باغ زین خان کوکلتاش قائم ہوئے۔ جہانگیر کے دور میں باغ دلکشا(مقبرہ جہانگیر) باغ انار کلی لگائے گئے۔



 باغ دلکشا جسے اب مقبرہ جہانگیر کہا جاتا ہے کے بارے میں مختلف آراء ہیں۔ ڈاکٹر سیف الرحمن ڈار کے مطابق سید محمد لطیف نے اسے باغ دلآمیز کا نام بھی دیا ہے اور فوق نے باغ مہدی قاسم خان کے نام سے بتایا ہے۔ یہ باغ 1775ء میں لگایا گیا بعد ازاں جب ملکہ نور جہاں نے اس پر قبضہ کیا تو اسے باغ دلکشا کا نام دے دیا گیا۔شالیمار باغ:شاہ جہاں جسے عمارتیں اور باغ تعمیر کرنے کا بے پناہ شوق تھا، مقبرہ جہانگیر کے بعد اس نے فردوس سے ملتا جلتا باغ بنانے کا خواب دیکھا چنانچہ اس نے اپنے مصاحب خلیل اللہ خان کو بلایا اور اپنی خواہش کا اظہار کیا۔ اس مقصد کیلئے راوی کے قریب ساٹھ ایکڑ اراضی حاصل کی گئی۔ ایک روایت کے مطابق یہ اراضی میاں افتخار الدین کے جدا مجد مہر مہنگا سے لی گئی تھی۔ شاہ جہاں نے جب اسے قیمت دینا چاہی تو اس نے قیمت لینے سے انکار کر دیا چنانچہ شاہ جہاں نے حکم دیا کہ اس باغ کی دیکھ بھال اس کے سپرد رہے گی۔ میاں صاحب کے جد امجد اس باغ کی دیکھ بھال کرتے رہے اور محکمہ آثار قدیمہ کے سپرد کرنے سے قبل تک یہی خاندان شالیمار کا باغبان تھا اور باغبانپورہ اس کی ہی وجہ سے مشہور ہے۔اس باغ کی تعمیر پر 17ماہ چار دن لگے۔ یہ باغ 1642ء میں مکمل ہوا



۔ شالیمار باغ کی درمیانی منزل کے مشرق کی طرف جھروکہ ہے۔ دولت خانہ خاص و عام اور نقارخانہ ہے۔ مغرب کی طرف خواب گاہ بیگم صاحبہ ہے۔ بیگم صاحبہ شاہ جہاں کی بڑی لڑکی جہاں آراء بیگم تھی۔1631ء میں ماں کی وفات کے بعد تمام مراعات بیٹی کو حاصل ہو گئیں۔درمیانے تختہ پر سنگ مر مر کی آبشار گرتی ہے جس کا نظارہ اورنگ زیب کی بیٹی زیب النساء کیا کرتی تھی۔باغ نور جہاں:جہانگیر کی وفات کے بعد نور جہاں اٹھارہ سال تک لاہور میں رہی۔ وہ 72سال کی عمر میں 1636ء میں فوت ہوئی۔ اسے جہانگیر اور آصف جاہ کے قریب اسی کے باغ میں دفن کیا گیا۔ اس باغ کو چہار چمن کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ اس کے درمیان میں جو عمارت ہے اسے اب مقبرہ نور جہاں کہا جاتا ہے۔شاہ جہاں کے دور میں ہی فیض باغ، باغ بلاول شاہ، نخلا وزیر خاں، مقبرہ بدر الدین شاہ عالم بخاری، مقبرہ حضرت سید محمد، باغ آصف جاہ، پرویز باغ، مشکی باغ، باغ عبدالحسن، باغ خواجہ ایاز، باغ نصرت، جنگ بہادر، باغ احسان، باغ علی مردان خان اور چوبرجی پارک تعمیر ہوئے۔چوبرجی:چوبرجی زیب النساء کے باغ کا دروازہ تھا۔ یہ دروازہ لاہور باغ کی دیوار 1646ء میں تعمیر ہوئی ۔ چوبرجی کے شروع میں ہی چار برج تھے۔


بدھ، 1 اکتوبر، 2025

ماریشس قدرت کی لہلہاتی ہوئ سر زمین

 

خوبصورت نظاروں سے مالامال جزیرہ ماریشس (موریطانیہ )پارت 1خوبصورت  اور لہلہاتے  قدرتی نظاروں  سے مالامال جزیرہ ماریشس (موریطانیہ )کے ائر پورٹ 'پورٹ لوئس کے سرشِو ساگر رام غلام انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر اگر آپ سورج غروب ہونے کے بعد اتریں گے تو آپ کو محسوس ہوگا کہ ایک برقی روشنی میں نہائے ہوئے شہر میں اتر رہے ہیں - بحرِہند پر واقع قدرتی خوبصورتی سے مالامال جزیرہ ماریشس ہند وستان  کے باشندوں  کا بسایا  ہوا ایک   بے مثال ملک  ہے -اس ملک میں  مشرقی اور مغربی معاشرے کا عمومی عکس پایا جاتا ہے کیونکہ یہاں کی غالب آبادی انڈیا سے تعلق رکھتی ہے، ماریشس (موریطانیہ) بحر ہند کے انتہائی جنوب میں سیر و سیاحت کے حوالے سے دنیا میں مشہور ہے۔اس کی ملکیت  مختلف جزیرے ہیں جو  نباتات اور سبزہ  سے مالامال ہیں ۔ پورے ملک میں گنے کی فصل کے علاوہ آم اور پپیتے کے درخت کثرت سے ہیں ۔ماہرینِ زراعت کے مطابق ماریشس کی زمین بہت زرخیز ہے۔ماریشس کے جزائر قیمتی پودوں اور جڑی بوٹیوں سے بھرے ہوئے ہیں۔



 ایک سروے رپورٹ میں سامنے آیا کہ یہاں کئی پودے ایسے ہیں جو کینسر کے علاج میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔ طبی ماہرین پر مشتمل ٹیموں نے یہاں پائی جانے والی نباتات پر تحقیق شروع کردی ہے۔ لیچی اور ناریل کے پھل یہاں بہت مرغوب ہیں۔ناری کے درخت بہتات میں ہیں اس لئے ناریل کا پانی بہت پیا جاتا ہے۔ پورے ملک میں گنے کی بھر پور فصل نظر آئے گی۔ اس کے علاوہ آپ کواکثر گھروں میں ناریل، لیچی، آم اور پپیتا کا درخت نظر آئے گا۔ اس کے علاوہ سڑکوں پر آم کے پیڑ اور پپیتے کے درخت بہتات میں نظر آئیں گے۔ پھلوں کا بادشاہ کہلانے والا پھل آم ماریشس میں بے قدری کا شکار ہے۔ یہ یہاں زیادہ نہیں کھایا جاتا بلکہ سڑکوں پر گاڑیوں کے ٹائروں تلے بے دردی سے کچلا جاتا ہے۔ اور تقریباً یہی حال پپیتے کا ہے۔ یہ بھی مرغوب پھل نہیں۔ماریشس کی زمین اس قدر زرخیز ہے کہ آپ یہاں فصل کاشت کر سکتے ہیں سوائے دھان کے ۔


 عجیب بات ہے کہ چاول جو یہاں کے باشندوں کی بنیادی غذا ہے تمام باہر کے ممالک سے درآمد کیا جاتا ہے۔ مقامی لوگوں نے اب سبزی ترکاری بھی اگانی شروع کر دی ہے۔ پیاز، آلو، ٹماٹر، چقندر، گوبھی، کریلا، بھنڈی، کدو، کھیرے، پالک، بینگن، اروی اور بہت سی ایسی سبزیاں مقامی طور پر اگائی جا رہی ہیں۔ لیکن بہت سی زمین قابل کاشت پڑی ہے۔ پہاڑوں میں آپ کو بندراور ہرن بھی نظر آئیں گے۔ ماریشس کے بڑے شہر قابل دید شہر ہیں۔ اس کے علاوہ اس کے طول عرض میں پھیلے ہوئے چھوٹے چھوٹے گاؤں ، قصبے اوربیچز قابل دید نظارے پیش کرتی ہیں،



سائنس دانوں نے حیرت انگیز انکشاف یہ کیا ہے کہ ان جزائر پر بعض ایسے پودے پائے جاتے ہیں جو کسی اور خطہ زمین پر موجود نہیں۔ان میں تین نباتات کو ایسالائفا انٹیگریفولیا، یوجینیا ٹینی فولیا، اور لیبروڈونیسیا گلوکا کہا جاتا ہے جو صرف اسی ملک میں پائے جاتے ہیں۔ طبی تحقیق  کے مطابق  یہاں کی کچھ مخصوص  نباتات میں سرطان کی رسولیا ں  ختم کرنے کی صلاحیت پائی جاتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ماریشس کے نباتاتی خزانے کے ایک تہائی پودے برسوں سے مختلف  امراض کے علاج میں استعمال ہورہے ہیںجہاں سفر کرتے ہوئے آپ خود کو بہت ہی ہلکا پھلکا محسوس کریں گے اور قدرت کی اس صناعی کی تعریف کیے بغیر نہیں رہ سکیں گے۔ یہ سب نظارے ایسے ہیں کہ بار بار دیکھنے پر بھی آپ کا جی نہیں بھرتا۔

نگاہوں کو مسحور کر دینے والا سوات کا سفید مرمریں محل

  میاں گل عبدالودود (المعروف بادشاہ صاحب) بہت خوبیوں کے م بڑے بازوق  صاحب اقتدار انسان  تھے۔  سفید محل کی تعمیر کے حوالے سے شاہی خاندان کے میاں گل شہر یار امیر زیب باچا (بادشاہ صاحب کا پڑپوتا) کا کہنا ہے کہ 'در اصل بادشاہ صاحب ہندوستان گئے تھے جہاں ایک دن ان کا گزر راجھستان کے علاقہ سے ہوا۔ وہاں انھوں نے سفید  سنگ مر مر  دیکھا۔ ان دنوں راجھستان   کے  علاقے میں یہ سنگ مر مر  بہت شہرت رکھتا تھا۔ بادشاہ صاحب نے راجھستان کے اس وقت کے مہاراجا کا محل دیکھا جس میں اسی سفید  سنگ مر مر  کا استعمال کیا گیا تھا۔ بادشاہ صاحب اس محل سے متاثر ہوئے بنا نہ رہ سکے۔ بعد میں جے پور سے اسی سفید سنگ مرمر  کو لایا گیا'۔سفید محل کے اندر سے صحن کا منظرایک روایت یہ بھی مشہور ہے کہ سفید محل میں استعمال ہونے والا ماربل دراصل وہی  سنگ مر مر  ہے جو تاج محل (آگرا، ہندوستان) میں استعمال ہوا ہے۔ اس محل کے گراؤنڈ فلور پر قائم کمر ےریاستی دور میں وزیروں اور مشیروں کے لیے مخصوص تھے۔سفید محل کے اندر لگے ریاستی دور کے برقی قمقمے اور پنکھے جو اَب نایاب ہیں۔بادشاہ صاحب کا ٹیبل لیمپ بادشاہ صاحب کا ٹیلی فون۔اور بادشاہ صاحب کے وقت کی نایاب اشیاء موجود ہیں 


’مرغزار‘‘ ضلع سوات کا واحد پرفضا مقام ہے جو مرکزی شہر مینگورہ سے تقریباً بارہ کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ہے۔ سیاح صرف قدرتی حسن اور معتدل موسم کی وجہ سے مرغزار کا رخ نہیں کرتے بلکہ وہاں پر قائم ریاست سوات دور کی ایک تاریخی عمارت سفید محل (1941ء) کی سیر کرنے بھی جاتے ہیں۔کیونکہ سیاح اگر سوات آیا اور اسنے مرغزار کی حدود میں اس نایاب سفید محل کی سیر نہیں کی تو پھر اس نے  سوات کی سیر کو ادھورا چھوڑا مینگورہ: جدید ریاست سوات کے بانی میاں گل عبدالودود المعروف بادشاہ صاحب (1881ء تا 1971ء) کے حکم سے جب سنہ 1941 کو سفید محل کی تعمیر مکمل ہوئی، تو اس محل کی بدولت مرغزار کا علاقہ ایک طرح سے ریاست سوات کے موسم گرما کا دارالحکومت ٹھہرا۔ گرمیوں میں یہاں سے شاہی فرمان جاری ہوا کرتے تھے۔ آج بھی سات دہائیاں گزرنے کے باوجود سفید محل مرجع خلائق ہے۔مگر سفید محل کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اس کا اولین نام ’’موتی محل‘‘ تھا۔



سفید محل کے اندر دیوار پر ٹانکی گئی میاں گل عبدالودود بادشاہ صاحب کی ایک نایاب تصویر بھی موجود ہے۔سفید محل تاریخی حوالہ سے اس لیے بھی مشہور ہے کہ یہاں سے ریاستی دور میں رعایا کے مستقبل کے فیصلے ہوا کرتے تھے۔شہر یار امیر زیب باچا کے مطابق جب محل تعمیر ہوا، تو گرمیوں کے موسم میں حکومت کے امور سیدو شریف کی بجائے مرغزار میں طے ہوتے تھے۔ باالفاظ دیگر سردیوں میں ریاست سوات کا دارالخلافہ سیدو شریف اور گرمیوں میں سفید محل کی بدولت مرغزار ہوا کرتا تھا۔ریاستی دور کی تصاویر جن میں بادشاہ صاحب اور والئی سوات کی تصاویر نمایاں ہیں۔شہر یار کا کہنا ہے کہ مین بلڈنگ کا اگر بغور جائزہ لیا جائے، تو اس میں ایک ڈرائننگ روم، ایک ڈائننگ ہال، ایک میٹنگ روم اور ایک بادشاہ کا اپنا کمرہ ہے۔ اس کے علاوہ اس کے احاطے میں دو تین درجوں میں کمرے بنائے گئے ہیں۔ جب بادشاہ صاحب گرمیوں میں مرغزار کا رخ کرتے، تو ان کے وزیر مشیر اور خان خوانین ان کے ہمراہ ہوتے۔



دوسرے درجے پر تعمیر شدہ کمروں میں یہی وزیر مشیر اور خان خوانین ہوتے اور تیسرے درجے میں تعمیر شدہ کمروں میں فیملی ممبران ہوا کرتے تھے۔بادشاہ صاحب کے بیڈ روم کے متصل ان کے خاص مہمانوں کے لیے مخصوص شدہ کمرہ۔ یہ وکٹورین طرز تعمیر کا شاہکار ہے۔ یہ اس وقت اپنی نوعیت کی پہلی عمارت تھی۔س عمارت کے تین حصے ہیں۔ محل کا پہلاحصہ بادشاہ صاحب کے لیے مخصوص تھا۔ دوسرا حصہ جس کے لیے سیڑھیاں چڑھنی پڑتی ہیں،وی آئی پی شخصیات کے لیے اور تیسرا اور آخری حصہ خواتین اور انگریزوں کے لیے مخصوص تھا جب کہ محل کی بیک سائٹ   کی جگہ  با ورچیوں اور دیگر خدام کے لیے تھی ۔بادشاہ چوں کہ مذہبی شخصیت تھے، اس لیے جا بجا مساجد نظر آتی ہیں۔ سفید محل کے کھلے علاقے میں جو مسجد تعمیر کی گئی ہے، اس میں بادشاہ نماز پڑھنے اور قرآن شریف کی تلاوت کو ترجیح دیتے تھے۔ لیکن پھر    بادشاہ  صاحب  کی وفات کے بعد یہ  نایاب محل  ان کے وارث کے حصے میں آیا۔ جنہوں نے اس کی  دیکھ بھال کی اور رینو ویٹ  کر  کے  اس کو ہوٹل میں کنورٹ کر دیا  اور  اب  سفید محل  مرغزار آ نے  والے سیاحوں کےلئے ایک اچھا پکنک پوائنٹ بن چکاہے ۔‘‘ 

پیر، 29 ستمبر، 2025

پاکستانی ادیبہ ملک کا برطانیہ کے بادشاہ چارلس سوم کی لارڈ لیفٹیننٹ کے عہدے پر تقرر

 

 یہ  برطانیہ  کا دستور ہے  کہ لارڈ لیفٹیننٹ   برطانیہ کے بادشاہ ہر کاؤنٹی سےوزیراعظم کی مشاورت سے اپنا ایک نمائندہ چنتے ہیں جو بادشاہ کے مفادات اور وقار کے لیے کام کرتا ہے۔ یہ ان کی  ویب سائٹ پر دی گئی معلومات کے مطابق ہے -ادیبہ ملک کے والد محمد صادق کا تعلق لاہور سے ہے۔ وہ 1958 میں برطانیہ منتقل ہو گئے تھے۔ ان کی والدہ فہمیدہ کا تعلق سیالکوٹ سے ہے۔ ادیبہ ملک 30 ستمبر 1966 کو بریڈ فورڈ میں پیدا ہوئیں (مسلم ویمنز کونسل فیس بک)ویسٹ یارک شائر کے شہر بریڈ فورڈ سے تعلق رکھنے والی پاکستانی نژاد خاتون ادیبہ ملک کو برطانوی بادشاہ چارلس سوم کی جانب سے لارڈ لیفٹیننٹ مقرر کیا گیا ہے۔اس طرح وہ اس عہدے پر براجمان ہونے والی پہلی خاتون، مسلمان اور ایشیائی خاتون بن گئی ہیں۔ ادیبہ ملک کون ہیں؟ یہ عہدہ کیا ہوتا ہے اور موجودہ حالات میں بادشاہ کی جانب سے اس تقرری کو کیوں اہم قرار دیا جا رہا ہے؟ادیبہ ملک کون ہیں؟58 سالہ پروفیسر ادیبہ ملک بریڈ فورڈ کےغیر سرکاری ادارے کیو ای ڈی فاؤنڈیشن سے بطور ڈپٹی چیف ایگزیکٹو آفیسر وابستہ ہیں،



ادیبہ ملک گذشتہ 30 سال سے اقلیتی طبقات کی فلاح و بہبود کے لیے کام کر رہی ہیں۔ اس ادارے کے چیف ایگزیکٹو اور بانی ڈاکٹر محمد علی ہیں جن کا تعلق ضلع اٹک کی تحصیل حضرو سے ہےادیبہ ملک کے والد محمد صادق کا تعلق لاہور سے ہے۔ وہ 1958 میں برطانیہ منتقل ہو گئے تھے۔ ان کی والدہ فہمیدہ کا تعلق سیالکوٹ سے ہے۔ ادیبہ ملک 30 ستمبر 1966 کو بریڈ فورڈ میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے گرنج سکول بریڈ فورڈ سے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد ہل یونیورسٹی سے گریجویشن اور پھر ماسٹرز کیا جس کے بعد بطور استاد پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز کیا۔ وہ کابینہ آفس کی سٹیٹ آنرز کمیٹی اور ہوم آفس کے سٹریٹیجک ریس ایڈوائزری بورڈ کی ممبر ہیں،شیفیلڈ ہالم یونیورسٹی کی گورنر بھی ہیں۔ انہیں ویمن اور ہوم میگزین نے جولائی 2023 کے ایڈیشن میں ’برطانیہ کی حیران کن خواتین‘ کی فہرست میں ٹاپ ٹین میں شمار کیا تھا۔انہیں گذشتہ سال ویسٹ یارک شائر کی ہائی شیرف بھی مقرر کیا گیا تھا۔ 


انہیں 2004 میں ایم بی ای اور 2015 میں سی بی ای کے قومی اعزازات سے بھی نوازا گیا۔نہوں نے انڈیپنڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’کاؤنٹی کی 24 لاکھ سے زائد آبادی کے لیے بادشاہ معظم نے مجھے اپنا نمائندہ مقرر کر کے میری ہی نہیں تمام اقلیتی طبقوں کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ میں لارڈ لیفٹیننٹ کی حیثیت سے ویسٹ یارک شائر کے لوگوں کے ساتھ کام کرنے کے لیے پر جوش ہوں۔‘لارڈ لیفٹیننٹ کا عہدہ کیا ہے؟لارڈ لیفٹیننٹ کی ویب سائٹ پر دی گئی معلومات کے مطابق برطانیہ کے بادشاہ ہر کاؤنٹی سے وزیراعظم کی مشاورت سے اپنا ایک نمائندہ چنتے ہیں جو بادشاہ کے مفادات اور وقار کے لیے کام کرتا ہے۔بادشاہ یا شاہی خاندان کے جتنے دورے کاؤنٹی میں ہوتے ہیں ان کا انتظام و انصرام بھی لارڈ لیفٹیننٹ کی ہی ذمہ داری ہوتی ہے۔ بادشاہ کی جانب سے رائل گارڈنز میں جتنی بھی تقریبات ہوتی ہیں ان میں جو جو لوگ شریک ہوتے ہیں انہیں بھی لارڈ لیفٹیننٹ ہی بادشاہ کی جانب سے مدعو کرنے کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ مسلح افواج کی حمایت بھی انہی فرائض کا حصہ ہے۔


بادشاہ کی جانب سے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی جن جن شخصیات کو ایوارڈز دیے جاتے ہیں ان کی نامزدگی میں سب سے اہم کردار بھی لارڈ لیفٹیننٹ کا ہی ہوتا ہے۔ لارڈ لیفٹیننٹ اپنے علاقے کی فلاح و بہبود کے لیے خیراتی اداروں کے ساتھ مل کر کام بھی کرتا ہے۔ ان سب عوامل کے باوجود ادیبہ ملک کو بادشاہ کا نمائندہ نامزد کرنا غیر معمولی ہی سمجھا جا رہا ہے۔انگلینڈ میں 48 کاؤنٹیز ہیں جن میں ویسٹ یارک شائر آبادی کے لحاظ سے چوتھی بڑی کاؤنٹی ہے۔بریڈ فورڈ کی مساجد کی تنظیم کونسل برائے مساجد کے سابق ترجمان اشتیاق احمد نے انڈیپنڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’ادیبہ ملک یہ عہدہ پانے والی پہلی غیر سفید فام، ایشیائی اور مسلمان خاتون  بور لارڈ لیفٹیننٹ تقرری کو کیوں اہم قرار دیا جا رہا ہے؟لارڈ لیفٹیننٹ کی ویب سائٹ پر دی گئی معلومات کے مطابق برطانیہ کے بادشاہ ہر کاؤنٹی سے وزیراعظم کی مشاورت سے اپنا ایک نمائندہ چنتے ہیں جو بادشاہ کے مفادات اور وقار کے لیے کام کرتا ہے۔

یہ تحریر انٹرنیٹ سے لی گئ ہے 


اتوار، 28 ستمبر، 2025

مرکزروحانیت و تجلیات 'مسجد جمکران 'ایران

 

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مسجد مقدس جمکران کے 1073 ویں سالگرہ کے موقع پر آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی نے اپنے پیغام میں ماہ مبارک رمضان کی عبادات کی قبولیت اور ایام شہادت حضرت علی (علیہ السلام) پر تسلیت پیش کرتے ہوئے مسجد جمکران کے تاریخی پس منظر پر روشنی ڈالی۔انہوں نے شیخ صدوق (رحمت اللہ علیہ) کے حوالے سے بیان کیا کہ یہ مسجد صرف ایک خواب کا نتیجہ نہیں بلکہ حضرت صاحب الامر (عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف) کی براہ راست ہدایت پر حسن بن مثله جمکرانی کے ذریعے تعمیر کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ مسجد جمکران ایک ہزار سال سے زائد عرصے سے اللہ سے راز و نیاز اور امام زمانہ (عجل اللہ تعالی فرجه الشریف) کی طرف توجہ کا مقام رہی ہے۔آیت اللہ مکارم شیرازی نے اس مسجد میں انجام دیے جانے والے مخصوص اعمال کو توحیدی اور مؤمنین کی روح و جان کو پرووان چڑھانے والے اعمال قرار دیا۔ انہوں نے زائرین کے توسل اور دعاؤں کی کیفیت کو صحرائے عرفات میں حاجیوں کی مناجات سے تشبیہ دی



 اور کہا کہ ہر زائر یہاں اپنے دل کے بوجھ کو ہلکا کرنے آتا ہے اور یہاں سے روحانی تازگی اور اجابت کے ساتھ واپس جاتا ہے۔ نہ  ۔محدث اور فقیہ بزرگوار مرزا حسین نوری نے ایک شخص بنام حسن بن مثلہ جمکرانی سے نقل کیا ہے کہ امام مہدیؑ سے ان کی ملاقات ہوئی جس میں انہوں نے مجھے اس جمکران نامی گاؤں میں مسجد تعمیر کرنے کا حکم دیا۔حسن بن مثلہ کی روایت کے مطابق 17 ماہ رمضان المبارک 373 ہجری(22 فروری، 984 عیسوی)کو جب وہ اپنے گھر سویا ہوا تھا تو ایک گروہ نے اسے آکر بیدار کیا اور کہا : اپنے مولا وآقا، امام مہدیؑ کی نداء پر لبیک کہو۔حسن بن مثلہ جمکرانی کہتاہے:میں اپنے گھر سے اس جگہ پر آیا جہاں پر ابھی مسجد جمکران موجود ہے وہاں پر میری ملاقات ایک 33 سالہ جوان اور ایک بوڑھے شخص سے ہوئی، وہ 33 سالہ جوان امام مہدیؑ اور وہ بوڑھا شخص حضرت خضرؑ تھے جنہوں نے مجھے بیٹھنے کو کہا۔ اس کے بعد امام مہدیؑ نے مجھے اس جگہ پر مسجد تعمیر کرنے کا حکم دیا۔ اس وقت سے یہ مسجد ہر خاص و عام کی توجہات کا مرکز ہے



 لیکن اسلامی انقلاب کے بعد مسجد جمکران ایک عظیم الشان عمارت میں تبدیل ہو چکی  ہے جہاں ہر ہفتے شبِ بدھ کو ہزاروں کی تعداد میں زائرین مغرب کی نماز کے بعد دعائے توسل کی تلاوت اور اپنی حاجات طلب کرتے ہیں اور  15 شعبان امام مہدیؑ کی ولادت کی شب جشن منانے کی خاطر لاکھوں کی تعداد میں مومنین اور عاشقانِ مہدیؑ جمع ہوتے ہیں اور مناجات ، دعا ، نماز اور عبادات میں شب گزارتے ہیں    انہوں نے زور دیا کہ صوبے کی مرکزی توجہ ایک بین الاقوامی کانفرنس کے انعقاد پر تھی جس کا موضوع "انتظار" تھا۔ انہوں نے بتایا کہ تخمینے کے مطابق چار دن کے دوران قم صوبے میں چار ملین سے زائد زائرین نے شرکت کی، یہ وسیع شرکت اس وقت ہوئی جب کہ بہت سے ملک کے بہت سے صوبے شدید سردی اور برفباری کا سامنا کر رہے تھے۔



حجت الاسلام حسینی مقدم نے زائرین کی سہولت کے لیے قائم کردہ اسٹاف کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس اسٹاف نے 12 کمیٹیوں کے ذریعے زائرین کو بہترین خدمات فراہم کرنے کی کوشش کی۔ ان کمیٹیوں میں سے ایک عوامی کمیٹی تھی جس کے تحت 800 عوامی گروپوں اور انجمنوں نے بلوار پیامبر اعظم کے سات کلو میٹر طویل راستے پر اپنی خدمات پیش کیں۔ اس کے علاوہ، مقامی گروپوں نے مختلف محلوں میں بھی پروگرام منعقد کیے۔انہوں نے اس دوران وسیع ثقافتی اور سماجی سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ثقافتی پروگراموں کا اہتمام بڑے پیمانے پر کیا گیا اور زائرین میں انتظار امام اور معنویت کا جذبہ واضح طور پر دیکھا جا سکتا تھا۔ مختلف قسم کی میزبانی، طبی اور صحت کی خدمات، نیز ہلال احمر کے 200 سے زائد اراکین کی جانب سے ضروری مدد کی فراہمی، زائرین کو پیش کی گئی خدمات میں شامل تھیں۔

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

انقلاب چین جو چینی قوم کی نجات کا باعث بن گیا

  چین کے انقلاب میں تاریخی لانگ مارچ کو ایک سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے جو اکتوبر1934ء سے اکتوبر 1935ء تک جاری رہا۔ یہ لانگ مارچ چھے ہزار میل ط...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر