بدھ، 24 ستمبر، 2025

پرنس ایڈورڈ آئی لینڈ ، کینیڈا کا ایک صوبہ ہے

  




پرنس ایڈورڈ آئی لینڈ ، کینیڈا کا ایک صوبہ ہے جو اسی نام کے ایک جزیرے پر مشتمل ہے۔ پورے ملک میں رقبے اور آبادی کے لحاظ سے یہ صوبہ دیگر تمام صوبوں سے چھوٹا ہے۔ اس کے کئی مختلف نام ہیں۔خلیج کی جنت کے نام سے مشہور یہ جزیرہ سینٹ لارنس کی خلیج میں کیپ بریٹن آئی لینڈ کے مغرب، نووا سکوشیا جزیرہ نما کے شمال اور نیو برنزوک کے مشرق میں واقع ہے۔ اس کے جنوبی ساحل نارتھمبر لینڈ سٹریٹ تک پھیلے ہوئے ہیں۔ جزیرے میں دو شہری علاقے ہیں۔ بڑا علاقہ چارلٹ ٹاؤن بندرگاہ کے ارد گرد موجود ہے جو جزیرے کے جنوبی ساحل پر واقع ہے اور یہاں چارلٹ ٹاؤن نامی شہر صوبے کا صدر مقام ہے۔ اس کے کناروں پر کارن وال اور سٹراٹفورڈ کے قصبے ابھر رہے ہیں۔ نسبتاً بہت چھوٹا شہری علاقہ سمر سائیڈ بندرگاہ کے ارد گرد موجود ہے جو چارلٹ ٹاؤن کے شہر سے چالیس کلومیٹر دور ہے۔ یہ دراصل سمر سائیڈ کے شہر ہی پر مشتمل ہے۔ دنیا کی دیگر تمام قدرتی بندرگاہوں کی طرح یہ دونوں بندرگاہیں بھی سمندری عمل کے نتیجے میں پیدا ہوئی تھیں۔



جزیرہ بہت خوبصورت مناظر رکھتا ہے۔ یہاں اونچی نیچی پہاڑیاں، گھنے جنگل، سرخ و سفید ساحل، سمندر اور سرخ مٹی کی وجہ سے یہ جزیرہ اپنے قدرتی حسن کی بدولت شہرت رکھتا ہے۔ صوبے کی حکومت نے یہاں کے ماحول کو بچانے کے لیے کئی قوانین بنائے ہیں تاہم ان کے پوری طرح نفاذ نہ ہونے کی وجہ سے یہاں کی تعمیرات میں موجودہ چند سالوں میں کوئی نظم و ضبط نہیں دکھائی دیتا۔جزیرے کی سر سبز لینڈ سکیپ کا صوبے کی معیشت اور ثقافت پر گہرا اثر ہے۔ آج بھی سیاح ان مناظر سے لطف اندوز ہونے کے لیے ادھر جوق در جوق آتے ہیں۔ یہاں پرتعیش سرگرمیوں میں ساحل، بے شمار گولف کے میدان، ایکو ٹورزم اور شہر کے باہر سیر وغیرہ یہاں کے عام مشاغل ہیں۔چھوٹی دیہاتی آبادیوں، قصبوں اور شہروں میں آج بھی سست رفتار زندگی دکھائی دیتی ہے جس کی وجہ سے یہاں لوگ بکثرت آرام کرنے آتے ہیں۔ یہاں کے لوگوں کا ذریعہ معاش چھوٹے پیمانے پرکاشت کاری ہے۔



 یہ چھوٹا پیمانہ کینیڈا کے دیگر صوبوں کے حوالے سے۔ یہاں اب صنعتیں لگ رہی ہیں اور پرانے فارموں کی عمارتیں نئے سرے سے اور جدید طور پر بنائی جا رہی ہیں۔ساحل سمندر پر طویل ساحل، کھاڑیاں، سرخ ریتلی چوٹیاں، کھارے پانی کی دلدلیں اور بہت ساری خلیجیں اور بندرگاہیں ہیں۔ ساحلوں، کھاڑیوں اور چونے کی چٹانیں بھربھری ہیں اور یہاں فولاد کی کثرت ہے جو کھلے ماحول میں فوراً زنگ آلود ہو جاتا ہے۔ جغرافیائی اعتبار سے بیسن ہیڈ میں موجود سفید ریت کی خصوصیات صوبے بھر میں بے مثال ہیں۔ جب ان پر چلا جائے تو یہ ایک دوسرے سے رگڑ کھا کر عجیب سی آواز پیدا کرتے ہیں۔ انھیں عرف عام میں گنگناتی ہوئی ریت کہا جاتا ہے۔ شمالی ساحل پر بیرئر جزیرے پر بڑی پہاڑیاں پائی جاتی ہیں۔ گرین وچ میں موجود ریت کی پہاڑیاں بہت اہمیت رکھتی ہیں۔


 یہ متحرک ریت کا علاقہ بے شمار پرندوں اور نایاب نسل کے پودوں کا مسکن ہے اور یہاں آثار قدیمہ کے حوالے سے بھی کافی کچھ موجود ہے۔فروری کے آغاز تک درجہ حرارت گرتا چلا جاتا ہے۔ دسمبر سے لے کر اپریل تک یہاں اکثر برفانی طوفانوں کے باعث زندگی کئی کئی دنوں تک معطل ہو جاتی ہے۔ بہار کے آغاز میں اطراف میں موجود برف یہاں کے د رجہ حرارت کو کم رکھتی ہے۔ نتیجتاً یہاں بہار کا موسم چند ہفتے کی تاخیر سے شروع ہوتا ہے۔ برف کے پگھلتے ہی یہاں کا درجہ حرارت ایک دم بڑھنے لگ جاتاہے۔ مئی کا درجہ حرارت 25 ڈگری تک ہو سکتا ہے۔29 نومبر 1798 کو فیننگ کی گورنری کے دوران برطانیہ نے کالونی کا نام سینٹ جان آئی لینڈ سے بدل کر پرنس ایڈورڈ آئی لینڈ رکھنے کا فیصلہ کیا تاکہ اسے دیگر جزیروں جیسا کہ سینٹ جان اور سینٹ جانز کے شہروں سے فرق کیا جا سکے۔ کالونی کا نیا نام برطانوی باشادہ جارج سوم کے چوتھے بیٹے کے نام پر رکھا گیا جو پرنس ایڈورڈ آگسٹ تھے۔ انھیں ڈیوک آف کینٹ بھی کہا جاتا ہے۔

 


صوبائی معیشت میں زراعت کو اہمیت حاصل ہے۔ یہ اہمیت نوآبادیاتی دور سے چلی آ رہی ہے۔ بیسویں صدی کے دوران آلوؤں نے مخلوط کاشت کی جگہ لے لی اور اسے نقد آور فصل کہا جاتا ہے۔ یہ صوبے کی کل زراعت کا ایک تہائی ہے۔ صوبہ اس وقت کینیڈا کے آلوؤں کی کل پیدوار کا ایک تہائی پیدا کرتا ہے جو ایک اعشاریہ تین ارب کلو ہے۔ امریکی ریاست ایڈاہو کل چھ اعشاریہ دو ارب کلو آلو سالانہ پیدا کرتی ہے جس کی آبادی پرنس ایڈورڈ آئی لینڈ کی آبادی سے ساڑھے نو گنا بڑی ہے۔ صوبہ آلوؤں کے بیج کی پیداوار کا بھی اہم مرکز ہے اور یہ بیس سے زیادہ ممالک کو بیج برآمد بھی کرتا ہے۔

منگل، 23 ستمبر، 2025

حضرت فاطمہ بنت اسد تاریخ کے آئینہ میں

ِ


  مولائے کائنات حضرت  علی علیہ السلام  اور نبئ کریم  صلی اللہ  علیہ   واٰلہ وسلم کے پردادا جنابِ ہاشم کے ایک فرزند جنابِ اسد بن ہاشم بھی تھے۔  حضرت فاطمہ بنت اسد جنابِ ہاشم کے اسی فرزند کی بیٹی تھیں۔ فاطمہ بنتِ اسد کا نکاح اپنے چچا زاد ابوطالب بن عبدالمطلب بن ہاشم سے ہوا۔ گویا بنی ہاشم کی ایک شاخ بنی عبدالمطلب تھی تو دوسری شاخ بنی اسد تھی۔ مولا علی کا ددھیال بنی عبدالمطلب تھا اور ننھیال بنی اسد۔ یوں مولا علی علیہ السلام  نجیب الطرفین ہاشمی تھے۔ اسد بن ہاشم قریش کے معزز سرداروں میں سے تھے۔ حجاج کو کھانا کھلانا بنی ہاشم کی ذمہ داری تھی۔ اسد اس فرض کی ادائیگی میں ہمیشہ پیش پیش رہے۔ ایثار اور ہمدردی کا جذبہ بہت زیادہ تھا۔ سخاوت کے حوالے سے پورے عرب میں مشہور تھے۔جناب اسد بن ہاشم عرب کے ان شرفاء میں سے بھی تھے جو دینِ ابراہیمی پر قائم تھے اور بت پرستی سے بیزار تھے۔ آپ کا انتقال رسول اللہ ص کی ولادت سے کچھ عرصہ پہلے ہی ہوگیا تھا۔ بعثتِ نبوی کے بعد سب سے پہلے اسلام لانے والوں میں بنی اسد پیش پیش تھےآپ سلام اللہ علیہا کوقبر مبارک میں نبئ مکرم نے خود اتارا - آپ کو اپنی قمیض کا کفن دیا  آپ کی قبر مبارک میں لیٹ کر اس کی کشادگی دیکھی سبحان اللہ


حنین بہت فصیح شاعری بھی کرتے تھے۔ اپنے والد کی طرح توحید پر قائم تھے۔حنین کے دو فرزند عبداللہ بن حنین اور عبدالرحمان بن حنین بھی صحابی ہیں اور کتبِ احادیث میں ان سے روایات بھی مروی ہیں۔ جناب اسد کی ایک دوسری بیٹی یعنی فاطمہ بنت اسد س کی ایک بہن، مولا علی ع کی خالہ خلدہ بنتِ اسد تھیں۔ خلدہ رض اور ان کی بیٹی امِ سائب بھی سابقون الاولون میں سے ہیں۔ مادرِ مولا علی ع اس خاندان کی شہزادی تھیں۔ رسولِ خدا ص سے آپ کا رشتہ چچی کا بھی تھا اور پھپھی کا بھی کیونکہ آپ سلام اللہ علیہا جنابِ عبداللہ بن عبدالمطلب کی چچا زاد بہن بھی تھیں۔ فاطمہ بنت اسد ان چھ خواتین میں سے ہیں جنہیں رسول اللہ ص نے ماں کہا ہے۔ ان میں سیدّہ آمنہ سلام اللہ علیہا، جنابِ ام ایمن سلام اللہ علیہا، حلیمہ سعدیہ رض، ثویبہ اور امِ ابیہا جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا بھی شامل ہیں۔ ان خواتین میں رسول اللہ ص کا سب سے زیادہ وقت ام ایمن س اور فاطمہ بنت اسد س کی محبت کی چھاؤں میں گزرا۔


فاطمہ بنت اسد ان چھ خواتین میں سے ہیں جنہیں رسول اللہ ص نے ماں کہا ہے۔ ان میں سیدّہ آمنہ سلام اللہ علیہا، جنابِ ام ایمن سلام اللہ علیہا، حلیمہ سعدیہ رض، ثویبہ اور امِ ابیہا جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا بھی شامل ہیں۔ ان خواتین میں رسول اللہ ص کا سب سے زیادہ وقت ام ایمن س اور فاطمہ بنت اسد س کی محبت کی چھاؤں میں گزرا۔ جب جنابِ عبدالمطلب کا انتقال ہوا تو آپ وصیت کرگئے کہ میرے بعد ابوطالب بنی ہاشم کے سردار ہوں گے اور محمد ص کی کفالت کے ذمہ دار بھی۔ یوں آٹھ برس کی عمر میں رسولِ خدا ص ابوطالب کے گھر آگئے اور نکاح ہونے، یعنی پچیس برس کی عمر تک وہیں رہے۔ گویا رسالتماب نے سترہ سال تک فاطمہ بنت اسد س کی مادرانہ شفقت کی چھاؤں میں زندگی بسر کی۔ خدا کے حبیب ص فاطمہ بنت اسد کے ہاتھ کا بنا کھانا کھا کر جوان ہوئے۔ اس وقت تک 
مولا علی ع کی ولادت نہیں ہوئی تھی مگر ابوطالب اور فاطمہ بنت اسد س کی دیگر اولاد موجود تھی۔ 


مولا علی ع کے تین بڑے بھائیوں اور تین بہنوں کا تذکرہ تاریخ اور رجال کی کتب میں ملتا ہے۔ فاطمہ بنت اسد اپنی اولاد سے زیادہ خیال رسول اللہ ص کا رکھتی تھیں۔ کھانے میں سب سے پہلے اور سب سے بہتر حصہ رسول اللہ ص کے لیے نکال کر رکھتیں۔ سب سے بہتر اور پرسکون بستر اپنے یتیم بھتیجے کو دیتیں۔ ابوطالب یمن، شام اور یثرب کے تجارتی سفر کرکے آتے تو اہل خانہ کے لیے بھی کپڑے لاتے۔  حضرت فاطمہ بنت اسد  سب سے بہتر کپڑا نبی علیہ السلام کے لیے علیحدہ کردیتیں.  جنابِ ابوطالب اور فاطمہ بنت اسد کے درمیان غیر معمولی مثالی محبت تھی۔ عرب میں تعددِ ازدواج عام تھا اور اکثر مرد ایک سے زیادہ شادیاں کرتے تھے لیکن ابوطالب نےحضرت  فاطمہ بنتِ اسد کے سوا کسی سے عقد نہیں کیا۔  جب جنابِ حضرت  عبدالمطلب کا انتقال ہوا تو آپ وصیت کرگئے کہ میرے بعد ابوطالب بنی ہاشم کے سردار ہوں گے اور محمد ص کی کفالت کے ذمہ دار بھی۔ یوں آٹھ برس کی عمر میں رسولِ خدا ص ابوطالب کے گھر آگئے اور نکاح ہونے، یعنی پچیس برس کی عمر تک وہیں رہے۔


 گویا رسالتماب نے سترہ سال تک حضرت  فاطمہ بنت اسد س کی مادرانہ شفقت کی چھاؤں میں زندگی بسر کی۔ خدا کے حبیب ص فاطمہ بنت اسد کے ہاتھ کا بنا کھانا کھا کر جوان ہوئے۔ اس وقت تک مولا علی ع کی ولادت نہیں ہوئی تھی مگر حضرت ابوطالب اورحضرت  فاطمہ بنت اسد س کی دیگر اولاد موجود تھی۔ مولا علی ع کے تین بڑے بھائیوں اور تین بہنوں کا تذکرہ تاریخ اور رجال کی کتب میں ملتا ہے۔حضرت  فاطمہ بنت اسد اپنی اولاد سے زیادہ خیال رسول اللہ ص کا رکھتی تھیں۔ کھانے میں سب سے پہلے اور سب سے بہتر حصہ رسول اللہ ص کے لیے نکال کر رکھتیں۔ سب سے بہتر اور پرسکون بستر اپنے یتیم بھتیجے کو دیتیں۔ حضرت ا بوطالب یمن، شام اور یثرب کے تجارتی سفر کرکے آتے تو اہل خانہ کے لیے بھی کپڑے لاتے اور بی بی فاطمہ بنت اسد سب سے اچھا پیرہن حضرت محمد  مصطفےٰ کے لئے رکھتی تھی -اللہ آپ سلام اللہ علیہا پر تاابد اپنی  ٹھنڈی چھاؤ ں کا سایہ رکھے آمین۔ 

پنجہ صاحب -سکھوں کا مشہور گردوارہ ضلع اٹک کے مقام پر واقع ہے

 


 پنجہ صاحب -سکھوں کا مشہور گردوارہ جو حسن ابدال ضلع اٹک کے مقام پر واقع ہے۔ وہاں ایک پتھر پر گرونانک جی کا پنجہ لگا ہوا ہے۔ یہ پتھر قصبے کے اندر ایک مکان میں محفوظ ہے، جو بالعموم مقفل رہتا ہے اور سکھ زائرین یا دوسرے زائرین کی آمد پر کھولا جاتا ہے۔ اسے 1823ء میں سردار ہری سنگھ نے تعمیر کرایا تھا۔ 1920ء تک یہ ہندو مہنتوں کے قبضے میں رہا۔ سکھوں کی مزاحمت کے بعد دوسرے گردواروں کے ساتھ یہ بھی سکھ پنتھ کے زیر انتظام آگیا۔ 1933ء میں اس عمارت کی تجدید کی گئی۔گردوارہ پنجہ صاحب حسن ابدال اٹک گردوارہ پنجہ صاحب سکھوں کا سب سے بڑا گردوارہ ہے۔ اس کا گھیرائو 396 گز ہے۔ اس کے چاروں طرف دو منزلہ کمرے ہیں۔ کئی کمرے زیرزمین بھی ہیں باہر اطراف میں تین طرف دکانیں بنی ہوئی ہیں گردوارے کی ملکیت میں صرف دکانیں ہی نہیں بلکہ حسن ابدال میں کئی مکان‘ راولپنڈی‘ اٹک اور حضرو میں کافی جائداد گردوارے کے نام ہے۔ گردوارہ پنجہ صاحب‘ مہاراجا رنجیت سنگھ کے جرنیل سردار ہری سنگھ نلوہ نے بنوایا تھا۔


یہ وہی ہری سنگھ نلوہ ہے جس کے نام سے ہری پور منسوب ہے۔ پنجہ صاحب کی تعمیر نو کا کام 1920ء میں شروع ہوا جو 1930ء تک وقفے وقفے سے جاری رہا پنجے کی چھتری 1932ء میں تعمیر ہوئی۔ پنجہ کے معنی پنجابی زبان میں ہاتھ کا پنجہ اور صاحب کے معنی عربی میں مالک کے ہوتے ہیں یعنی جناب مالک کا پنجہ‘ تاریخ سکھ میں روایات ہیں کہ مذہب کے بانی بابا گرونانک اور بابا ولی قندھاری میں کافی پنجہ آزمائی ہوتی رہتی تھی اور ایک روز بابا گرونانک علیل ہو گئے۔ بابا گرونانک نے اپنے شاگرد بھائی مردانہ سے کہا کہ وہ بابا ولی قندھاری کے آستانہ سے پانی لے آئے۔ بھائی مردانہ پانی لینے کے لیے بابا ولی قندھاری کے پاس گیا لیکن بابا قندھاری نے پانی دینے سے انکار کر دیا۔ بھائی مردانہ ناکام لوٹا۔ بابا گرونانک نے پھر بھائی مردان کو کہا کہ وہ ولی بابا قندھاری کے آستانہ سے پانی بھر لائے۔ بھائی مردانہ پھر بابا قندھاری کے پاس گیا۔ بابا قندھاری نے پھر جواب دے دیا اور بھائی مردانہ کو کہا کہ اگر بابا گرونانک کو اپنے عقائد پر یقین ہے تو اسے کہو کہ وہ خود پانی نکال لے آپ کو میرے پاس کیوں بار بار بھیج رہا ہے۔  


 بھائی مردانہ نے بابا گرونانک کو بابا قندھاری کی یہ بات سنائی تو بابا گرونانک نے اپنا عصا زمین پر مارا اور زمین سے چشمہ پھوٹ پڑا۔ چشمہ پھوٹنے کے بعد بابا گرونانک نے خوب سیر ہو کر پانی پیا اور بھائی مردانہ کو کہا کہ وہ بابا ولی قندھاری کو بھی بتا دے کہ ہم نے پانی نکال لیا ہے۔ بھائی مردانہ بابا ولی قندھاری کے دربار پر گیا اور آگاہ کیا کہ پانی نکل آیا ہے۔ تاریخ سکھ کی روایات کے مطابق بابا ولی قندھاری نے اس چشمہ کو بند کرنے کے لیے اپنے آستانہ سے پتھر پھینکا جسے گرونانک نے پنجہ سے روکا۔ بابا گرونانک کا پنجہ اس میں نقش ہو گیا پتھر رک گیا اور چشمہ جاری رہا اس چشمہ کے پانی کو سکھ انتہائی مقدس خیال کرتے ہیں۔ بیساکھی کے موقع پر اس چشمہ کے پانی میں غسل کرتے ہیں اور پھر بابا گرونانک کے نقش شدہ پنجہ پر اپنا پنجہ رکھتے ہیں سکھ عقائد و نظریات کے مطابق ایسا کرنے سے ان کے گناہ ختم ہو جاتے ہیں اور وہ پاک صاف ہو جاتے ہیں۔


 پنجہ صاحب کی زیارت سکھوں کے لیے گناہ دھو دیتی ہے۔پنجہ صاحب پر دیا جانے والا لنگر سکھوں کے لیے متبرک تو ہے ہی لیکن وہ اسے صحت کے لیے بھی بڑا مفید قرار دیتے ہیں۔ لنگر میں خالص دیسی گھی استعمال کیا جاتا ہے۔ بھارت اور پاکستان کے علاوہ دنیا بھر کے سکھ دیسی گھی کے چڑھاوے چڑھاتے ہیں اس کے علاوہ صفائی اور حفظان صحت کے اصولوں کا بھی بڑا خیال رکھا جاتا ہے،ہر سال اپریل کے مہینے میں ’بیساکھی‘ کا میلہ یہاں سجتا ہے اور پوری دنیا سے، خاص طور پر ہندوستان سے ہزاروں کی تعداد میں سکھ یاتری ’پنجا صاحب‘ کی زیارت کرنے یہاں آتے ہیں۔ اس سال بھی بھارت سے تقریباً ساڑھے تین ہزار سکھ یاتری اور دوسرے ممالک سے جن میں یورپ کے ممالک بھی شامل ہیں لگ بھگ پندرہ سو یاتری اس میلے میں شرکت کے لیے آئے ہیں۔ اگر ملک بھر سے آنے والے یاتریوں کو بھی شامل کر لیا جائے تو اس میلے میں شرکت کرنے والے یاتریوں کی تعداد تقریباً دس سے بارہ ہزار ہو جاتی ہے۔ 

پیر، 22 ستمبر، 2025

بیگم وقار النسا نون تحریک پاکستان کی پر عزم سپاہی


فیروز خان نون نے اپنی خود نوشت 'چشم دید' میں لکھا ہے کہ 'ان ایام کی کوئی بھی یادداشت اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتی جب تک میں اپنی بیوی وقار النسا نون کا تذکرہ شامل نہ کروں۔ انھوں نے ہماری گرفتاریوں کے خلاف دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے عورتوں کے احتجاجی مظاہروں کی قیادت کی تھی۔ اس دفعہ کے تحت پانچ سے زائد افراد کا اجتماع ممنوع تھا۔'قانون کی خلاف ورزی کی بنا پر انھیں کئی بار جیل جانا پڑا۔ ہر جلوس کے بعد انھیں چند دوسری خواتین کے ساتھ جیل پہنچا دیا جاتا اور پھر چھوڑ دیا جاتا تھا۔ ایک دن پولیس انھیں چند دوسری عورتوں کے ساتھ ایک بس میں بٹھا کر شہر سے سات آٹھ میل دور لے گئی وہاں سے کہا گیا کہ گاڑی سے نیچے اتریں، جب انھوں نے اترنے سے انکار کر دیا تو بس کے اندر گیس کے بم پھینک کر دروازے بند کر دیے گئے۔ وہ اور کچھ دوسری عورتیں بے ہوش ہو گئیں۔'وہ لکھتے ہیں کہ 'لاہور کی چند خواتین ان دنوں جیل کے صدر دروازے پر رات دن پہرا دیتی تھیں اور کچھ خواتین مظاہرین کے ساتھ ساتھ چلتی تھیں۔



 ان کے پاس کاریں ہوا کرتی تھی، چنانچہ جب پولیس کی گاڑی مظاہرین کو بھر کر کسی طرف کو روانہ ہوتی تو یہ کارکن خواتین فوراً ان کا پیچھا کرتیں اور جب پولیس انھیں شہر سے دور لے جا کر چھوڑتی تو وہ انھیں کاروں میں بٹھا کر لے آتی تھیں۔ وقار النسا اور ان کے ساتھیوں کو میرا بڑا بیٹا نور حیات کار میں واپس لایا تھا۔ فیروز خان نون بعد ازاں ہندوستان کے وزیر دفاع کے منصب پر فائز ہوئے مگر 1945 میں وہ مسلم لیگ کے لیے کام کرنے کی غرض سے اس عہدے سے استعفیٰ دے کر لاہور آ گئے جہاں بیگم وقار النسا نون نے حصول پاکستان کی جدوجہد میں حصہ لیا۔'نورالصباح بیگم نے اپنی کتاب 'تحریک پاکستان اور خواتین' میں لکھا ہے کہ 'سنہ 1947 میں فیروز خان نون نے ضلع کانگڑا میں اپنی اہلیہ کے قیام کے لیے ایک خوب صورت بنگلہ خریدا۔ ان دنوں کسی کو بھی یہ اندازہ نہیں تھا کہ لوگوں کو اپنی آبائی جائیدادوں کو چھوڑ کر جانا پڑے گا اور یہ جائیدادیں یا تو تباہ کر دی جائیں گی یا وہاں کی حکومت ان پر قبضہ کر لے گی۔نھوں نے خواتین کے سیاسی شعور کو بیدار کرنے اور ان میں جوش و ولولہ پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا



مارچ 1940ء کا سورج ایک ایسے ناقابل فراموش دن کا اجالا لے کر طلوع ہوا، جس نے مسلمانانِ ہند کی تقدیر بدل کر رکھ دی۔ لاہور کے اقبال پارک میں منظور کی گئ قرار دار کی بدولت اس دن کو پاکستانی تاریخ میں نہایت اہمیت حاصل ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ تحریکِ پاکستان میں کس طرح مسلسل جدوجہد کے ذریعےمسلمانوں نے انگریزوں اور ہندؤں کی ایذارسائی سے نجات حاصل کی۔تحریکِ پاکستان میں مردوں کی طرح خواتین کا کردار بھی خاصا نمایاں رہا ہے۔ فاطمہ علی جناح، امجدی بانو بیگم، سلمیٰ تصدق حسین، بی اماں، رعنالیاقت علی خان اور فاطمہ صغریٰ کے شانہ بشانہ بے شمار خواتین تھیں جنھوں نےاپنی زندگیاں جدوجہدِ پاکستان کے لیے وقف کیں۔اس طرح  خواتین کی فعال شرکت نے تحریک پاکستان میں ایک نئی روح پھونکی۔


آج کی تحریر میں تحریکِ پاکستان میں نمایاں کردار ادا کرنے والی چند خواتین پر بات کرتے ہیں۔وہ دھیمے مزاج کے انسان تھے مگر گوادر پر انہوں نے بہت سخت اقدامات اٹھائے تھے۔ اگر اس وقت انہوں نے گوادر خریدا نہ ہوتا تو آج پاکستان کا نقشہ نامکمل ہوتااور پاکستان جغرافیائی طور انتہائی کمزور ہوچکا ہوتا ۔اس بات کو ذرا اس زاویہ سے دیکھیں کہ کشمیر پاکستان کی رگ ہے جس کو ابھی تک دشمن سے نہیں چھڑوایا جاسکااورہمارادشمن کشمیر پر قبضہ کرکے پاکستان کو جس انداز میں نقصان پہنچا رہا ہے اگر گوادر بھی ملک فیروز خان نون نے حاصل نہ کیا ہوتا تو افغانستان ،بلوچستان،سندھ ،خلیجی ممالک اور ایران سے اٹھنے والی بہت سی سازشیں پاکستان کولپیٹ میں لئے رکھتیں ۔چھیالیس بلین سے تیار ہونے والی سی پیک کا خواب بھی شرمندہ تعبیر نہ ہوتا ۔ 


بیگم وقار النساء نون فخر پاکستان لیڈی

 

بیگم وقار النساء نون ساتویں پاکستانی وزیر اعظم فیروز خان نون کی دوسری بیوی ہیں محترمہ کا سابقہ نام وکٹوریہ ریکھی تھا یہ آسٹریا میں پیدا ہوئیں تعلیم و تربیت برطانیہ میں ہوئی، ملک فیروز خان نون جب برطانیہ میں حکومت ہند کے ہائی کمشنر تھے تب ان سے ملاقات ہوئی، ملک صاحب کی دعوت پر حلقہ بگوش اسلام ہوئیں، 1945میں بمبئی میں ان سے شادی کی اور اپنا نام وکٹوریہ سے وقار النساء نون رکھ لیا، انہیں وکی نون بھی کہا جاتا ہے۔ حلقہ بگوش اسلام  ہونے والی  جب  فیروز خان نون کے عقد میں آئیں  تو انہوں نے اپنا اسلامی نام   وقار النسا نون  رکھا اور پھر اپنی زندگی  کا ہر پہلو مشرقی  رنگ میں رنگ لیا  - محترمہ نے تحریک پاکستان کو اجاگر کرنے کے لیے خواتین کے کئی دستے بھی مرتب کئے اور سول نافرمانی کی تحریک میں انگریز کی خضر حیات کابینہ کیخلاف احتجاجی مظاہرے اور جلوس منظم کرنے کی پاداش میں تین بار گرفتار بھی ہوئیں۔ قیام پاکستان کے بعد انہوں نے لٹے پٹے مہاجرین کی دیکھ بھال کے لیے بڑا متحرک کردار ادا کیا، خواتین ویلفیئر کی اولین تنظیم اپواء کی بانی ارکان میں آپ بھی شامل ہیں



، وقار النساء گرلز کالج راولپنڈی اور وقار النساء اسکول ڈھاکہ کی بنیاد بھی انہوں نے رکھی، ہلال احمر کے لیے بھی آپ نے گراں قدر خدمات سر انجام دیں. ضیاء الحق کے دور میں بطور منسٹر ٹورازم کے فروغ کے لیے دنیا بھر کو پاکستان کی طرف بخوبی راغب کیا، پاکستان ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن انہی کی نشانی ہے -1956ء میں جب ملک فیروز خان نون نے وزارت خارجہ سنبھالی تو ہر قیمت پر گوادر کو واگزار کرانے کا عہد کیا اور نہایت باریک بینی سے تمام تاریخی حقائق و کاغذات کا جائزہ لے کر یہ مشن محترمہ کو سونپ دیا، محترمہ نے دو سال پر محیط یہ جنگ تلوار کے بجائے محض قلم،دلائل اور گفت و شنید سے جیتی جس میں برطانیہ کے وزیر اعظم مکمیلن جو ملک صاحب کے دوست تھے انہوں نے کلیدی کردار ادا کیا، یوں دو سال کی بھرپور جنگ کے بعد 8ستمبر 1958 کو گوادر کی 24مربع میل یا 15 لاکھ ایکڑ سے زائد رقبہ پاکستان کی ملکیت میں شامل ہو گیا۔گوادر کا علاقہ اٹھارویں صدی کے خان آف قلات میر نصیر نوری بلوچ کی ملکیت تھا جسکاآدھا ریوینیو خان صاحب کو دیا جاتا تھا



لیکن انتظام سارا گچکی قبائل کے ہاتھ میں تھا۔1783 میں جب عمان کے حکمران کو اپنے بھائی کے ہاتھوں شکست ہوئی تو اس نے خان آف قلات نے اس کی بہتر گزر بسر کی خاطر یہ علاقہ اس شرط پر اسکے سپرد کیا کہ جب سلطان کو ضرورت نہیں رہے گی تب تمام حقوق خان آف قلات کے پاس واپس چلے جائیں گے لیکن ایسا ممکن نہ ہو پایااور جب معاملہ مزید خرابی کی طرف گیا توثالثی کے بہانے برٹش نے مداخلت کردی لیکن عمان سے کچھ مراعات لیکر قلات خاندان کا دعویٰ ٹھکرا دیا اور بہانہ یہ بنایا کہ مزید گواہیاں سامنے آرہی ہیں حتمی فیصلہ کسی کے حق میں نہیں دیا جاسکتا۔اس خدمت کے بدلے برٹش نے عمان سے گوادر کا انتظام اپنے ہاتھ میں لے لیا اور اپنی افواج گوادر میں داخل کر دیں ہاں البتہ عمان کو آدھا ریوینیو جاتا رہا اس طرح ایک عرصہ تک برطانیہ اس علاقہ پر قابض رہا،قیامِ پاکستان کے بعد جب خان آف قلات نے اپنی جائیداد پاکستان میں شامل کرنے کا ارادہ کیا تو گوادر کا معاملہ پھر اٹھایا گیا


 لیکن کوئی فائدہ نہ ہوسکا اور پھر اسی دور میں ایک امریکی سروے کمپنی نے گوادرکی بندرگاہ کے بہت سارے فوائد بتائے۔ ایران کو جب یہ پتہ لگا تو اس نے اسے چابہار کے ساتھ ملانے کی کوششیں شروع کردیں اس دور میں شاہِ ایران کا طوطی بولتا تھا اور سی آئی اے اس کی پشت پناہی پر تھی امریکی صدر کے ذریعے کافی دباو ڈالا گیا کہ گوادر کو شاہِ ایران کے حوالے کیا جائے۔لیکن کوئی کامیابی نہ حاصل ہوسکی۔ جیسا کہ میں پہلے عرض کر چکا ہوں کہ اس جنگ کو محترمہ نے دوسال لڑا اور قلم ، دلائل اور گفت و شنید سے اسے جیتا۔عمان کے سلطان سعید بن تیمور نے بھی وطن عزیز پر کمال احسان کیا اور حامی تو بھر لی اور گوادر کو پاکستان کے حوالے کر دیا۔اس گراں قدر خدمت کے بدلے محترمہ کو 1959 میں سرکار کا سب سے بڑا سول اعزاز’’ نشان ِامتیاز‘‘ عطا کیا گیا۔محترمہ وقار النسا نون طویل علالت کے بعد 16 جنوری 2000 کو اسلام آباد میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملیں


 ایک عمرہ کے بعد انہوں نے وصیت کی تھی کہ مجھے غیر سمجھ کر نہ چھوڑ دینا بلکہ میری تدفین بھی ایک کلمہ گو مسلمان کی طرح انجام دینا    اصل نام وکٹوریہ ریکھی تھا اور وہ 23 جولائی 1920 کو آسٹریا کے ایک یہودی خاندان میں پیدا ہوئی تھیں جو نازیوں کے ظلم و ستم سے تنگ آ کر انگلینڈ میں آباد ہو گیا-فیروز خان سے ان کی پہلی ملاقات اس وقت ہوئی جب وہ لندن میں انڈیا کے ہائی کمشنر کے منصب پر تعینات تھے۔ یہ ملاقات سنہ 1942 میں اس وقت شادی پر منتج ہوئی جب فیروز خان نون دہلی میں وائسرائے کی ایگزیکٹو کونسل کے ممبر تھے۔ اس وقت فیروز خان نون کی عمر 49 سال اور وکٹوریہ کی عمر 22 سال تھی، یہ شادی بمبئی میں ہوئی۔فیروز خان نون نے ان کی ملاقات قائداعظم سے کروائی جسکے بعد وقار النسا نون نے خود کو مسلمانوں کے الگ وطن کے مطالبے اور نظریہ پاکستان کو سمجھانے کے لیے خود کو اس عظیم جدوجہد کا حصہ بنا لیا۔

اتوار، 21 ستمبر، 2025

آزاد کشمیر کی بہترین سیاحتی جنت’بنجوسہ جھیل ‘

 





آزاد کشمیر کے ضلع پونچھ میں راولا کوٹ سے 20 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع بنجوسہ جھیل کو پاکستان کے بہترین سیاحتی مقامات میں شمار کیا جاتا ہے۔راولا کوٹ سے آدھے گھنٹے کے فاصلے پر گھنے جنگلات میں واقع بنجوسہ جھیل کی خوبصورتی دیکھنے والوں کو حیران کر دیتی ہے، سر سبز وادی میں گھری جھیل سیاحوں کی دلچسپی کا مرکز بنی رہتی ہے۔جھیل کے ارد گرد گھنے جنگل اور پہاڑوں نے اسے اور بھی دلکش بنا دیا ہے، جھیل کے اطراف پھیلا ہوا سبزہ ہی سبزہ، تازا ہوا اور نیلا پانی سیاحوں کی تسکین کا باعث بنتا ہے، بنجوسہ جھیل آنے والے بوٹنگ سے بھی خوب لطف اندوز ہوتے ہیں۔یہاں گرمیوں میں بھی موسم خوش گوار رہتا ہے جبکہ سردیوں میں شدید سردی ہوتی ہے اور درجۂ حرارت منفی 5 سینٹی گریڈ تک گر جاتا ہے، دسمبر اور جنوری میں برف باری بھی ہوتی ہے۔بنجوسہ جھیل میں سیاحوں کی آمد سارا سال جاری رہتی ہے، جن کا کہنا ہے کہ حکومت کے ساتھ مل کر سیاحوں کو بھی جھیل کی صفائی کا خاص خیال رکھنا چاہیے تاکہ قدرت کے اس شاہکار کا حسن ماند نہ پڑے۔بنجوسہ جھیل کی خوبصورتی کا خیال رکھتے ہوئے آزاد کشمیر میں سیاحت کو مزید فروغ دیا جاسکتا ہے تاکہ قدرت کے دیے ہوئے اس تحفے سے بھرپور لطف حاصل کیا جا سکے۔آج کل جب پاکستان کے اکثر علاقے قیامت خیز گرمی کی لپیٹ میں ہیں وہیں کچھ ایسے بھی علاقے ہیں جو لوگوں کے لیے تفریح اور راحت کا سبب ہوتے ہیں۔پاکستان کو قدرت نے بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔ بلند وبالا برف پوش پہاڑ اور حسین وادیاں نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کے سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہیں۔ اسی پاکستان میں آسمان کو چھوتے درخت، سبز رنگ اوڑھے پہاڑ، ٹھنڈی ہوائیں، جھیل کا شفاف پانی، پرندوں کی چہچہاہٹ اور ہر قسم کی آلودگی سے پاک ایک ایسی جگہ بھی ہے جو زمین پر جنت کا ٹکڑا لگتی ہے۔


یہ دلکش اور دلفریت تفریحی مقام راولا کوٹ آزاد کشمیر کی بنجوسہ جھیل ہے۔ جو آپ کو دعوت نظارہ دیتی ہے۔ جب ملک بھر میں گرمیاں عروج پر ہوں تو یہ مقام گرمی کے ستائے لوگوں کو راحت بخشتا ہے۔اس جھیل پر کراچی، ملتان سمیت ملک کے ان مختلف گرم ترین علاقوں سے فیملی سمیت تفریح کے لیے آئے ہوئے ہیں، جہاں درجہ 45 ڈگری سے بھی تجاوز کر رہا ہے۔ لیکن یہاں کا ٹھنڈا موسم انہیں خوب لطف دے رہا ہے۔ سیاحوں کا کہنا ہے کہ گرمی اور آلودگی سے پاک یہ ماحول ٹھنڈی ہوائیں، ماحول، قدرتی نظارے ان کے مزاج پر خوشگوار اثر ڈال رہے ہیں-بڑے تو بڑے بچے بھی بہت یہاں آکر مبہوت ہو گئے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اتنی حسین جگہ انہوں نے اس سے قبل کبھی نہیں دیکھی۔ جو پنجوسہ جھیل آ رہا ہے وہ اس کے قدرتی حسن کا ایسا دیوانہ ہو رہا ہے کہ دیگر لوگوں کو بھی یہاں آنے کی دعوت دے رہا ہے۔



گرمی کے ماروں کو جب حسین نظارے دیکھنے کا موقع ملے تو فرصت کے لمحات میں جنت جیسی زمین پر کیوں نہ کھنچے چلے آئیں۔یہاں ملک بھر سے آنے والے سیاح خوب انجوائے کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ کوئی کشتی رانی کرتا ہے، تو کوئی گھڑ سواری سے حسین وادی کے چپے چپے کو دیکھنا چاہتا ہے اور کوئی تفریح کے ساتھ لذت کام ودہن کے لیے بار بی کیو کرتا دکھائی دیتا ہے کہ دلفریب موسم میں کھانا کھانے کا مزا ہی الگ ہے۔وادی کشمیر کی ایک جھیل۔ سری نگر کا شہر اسی کے کنارے آباد ہے۔ دنیا کی چند ممتاز سیرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ چونکہ دریائے جہلم اس کے بیچ سے ہو کر نکلتا ہے اس لیے اس کا پانی شریں ہے۔سرینگر شہر کے بیچ 25 مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلی اس جھیل میں دلہن کی طرح سجائی گئی ہاؤس بوٹس اور شکارے اس کی خوبصورتی کو چار چاند لگا دیتے ہیں۔ڈل جھیل کو دنیا بھر میں اس خطے کی پہچان سمجھا جاتا ہے


ڈل جھیل میں ہاؤس بوٹ مالکان اور شکارا چلانے والوں کا کہنا ہے کہ یہ جھیل 2012ء میں سیاحوں، مقامی سیلانیوں اور بچوں کی موجودگی سے چہکتی  ہے کشمیر میں ہاوس بوٹ نا صرف اس خوبصورت جھیل ڈل کا زیور ہیں بلکہ یہ کشمیر کی دستکاری کا بھی نمونہ ہیں۔ دیودار کی لکڑی سے بنا ہاوس بوٹ ایک چھوٹے بحری جہاز کی طرح ہوتا ہے جس میں ہوٹل کی طرح کمرے اور اوپر ایک دالان ہوتا ہے۔ لکڑی پر خوبصورت اور دلکش نقاشی کی جاتی ہے اور سیاح ہاؤس بوٹ میں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔1880ء کی دہائی میں نارائن داس نامی ایک کشمیری تاجر کی دکان آگ سے تباہ ہو گئی تو ااس نے جھیل ڈل میں کشتی کو دکان کی شکل دے دی، جس میں وہ رہنے بھی لگے۔بعد میں جب اس وقت کے ڈوگرہ مہاراجہ نے غیر کشمیریوں کے وادی میں زمین یا مکان خریدنے پر پابندی عائد کردی تو انگریزوں کو مشکلات پیش آئیں۔نارائن داس نے اپنی کشتی ایک انگریز کو فروخت کر دی۔ اس طرح کشمیر کا پہلا ہاؤس بوٹ وجود میں آیا جس کا نام 'کشمیر پرنسیس ' رکھا گیا۔ نارائن داس کو جب لگا کہ یہ منافع بخش کام ہے  


البرٹا اپنے بے شمار دریاؤں اور جھیلوں کی وجہ سے مشہور ہے

 



کینیڈا کا نام زہن میں آتے ہی بس انسان خیالوں کی دنیا میں کھو جاتا ہے-تو آئیے دیکھتے ہیں البرٹا کیسا خطہء زمین ہے -ایڈ منٹن کا  موسم گرما اور خزاں   دلکش ہوتے ہیں۔  گرمی میں چہار جانب سبزہ نظر آتا ہے۔ اس ملک کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں پہاڑ، جھیلیں اور جنگل اتنی بڑی تعداد میں ہیں کہ پانی اور سبزہ کا شمار نہیں۔  تیز ہوائیں، بارش اور پتوں کا مسلسل گرنا خزاں کے بعد موسم سرما کی آمد کی نوید ہوتا  ہے اور گرمیوں میں امریکہ سے ہجرت کرکے کینیڈا کے مختلف علاقوں میں آنے والے پرندے اب سردی اور برفباری سے پہلے یہاں سے واپس  اپنے آشیانوں کو  جانے کے لئےبڑے بڑے میدانوں میں اکٹھے نظر آتے ہیں۔سردیوں میں، البرٹا کلپر، ایک قسم کا شدید، تیز رفتار موسم سرما کا طوفان جو عام طور پر صوبے کے اوپر یا اس کے آس پاس بنتا ہے اور براعظمی قطبی جیٹ اسٹریم کے ذریعے بڑی رفتار سے دھکیلتا ہے، بقیہ جنوبی کینیڈا اور ریاستہائے متحدہ کے شمالی حصے پر اترتا ہے۔ جنوب مغربی البرٹا میں، سرد سردیوں میں اکثر پہاڑوں سے چلنے والی گرم، خشک  ہواؤں کی وجہ سے خلل پڑتا ہے، جو بہت ہی کم عرصے میں درجہ حرارت کو ٹھنڈے حالات سے نقطہ انجماد سے اوپر تک لے جا سکتی ہے۔ 


البرٹا اپنے بے شمار دریاؤں اور جھیلوں کی وجہ سے مشہور ہے جہاں تیراکی، واٹر سکیینگ اور مچھلی کا شکار کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ دیگر آبی کھیل بھی کھیلے جا سکتے ہیں۔ یہاں تین بڑی جھیلیں ہیں اور 260 مربع کلومیٹر سے چھوٹی بے شمار جھیلیں ہیں۔ جھیل اتھابسکا کا 7898 مربع کلومیٹر جتنا حصہ ساسکچیوان میں موجود ہے۔ جھیل کلائیر کا رقبہ 1436 مربع کلومیٹر ہے اور یہ جھیل اتھابسکا کے مغرب میں موجود ہے۔ یہ جھیل وڈ بفیلو نیشنل پارک میں واقع ہے۔ لیسر سلیو جھیل 1168 مربع کلومیٹر پر محیط ہے اور ایڈمنٹ کے شمال مغرب میں واقع ہے۔ البرٹا کا سب سے لمبا دریا دریائے اتھابسکا ہے جو 1538 کلومیٹر طویل ہے۔ یہ دریا برٹش کولمبیا کے منجمد علاقے سے نکل کر راکی پہاڑوں سے ہوتا ہوا جھیل اتھابسکا میں جا گرتا ہے۔ایڈمنٹن تھوڑا سا جنوب میں ہے۔ ایڈمنٹن کینیڈا کے تیل کی صفائی اور دوسری شمالی صنعتوں کا مرکز ہے۔ موجودہ اندازوں کے مطابق کلیگری اور ایدمنٹن ان دونوں شہروں کی آبادی دس لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔



 دوسرے بڑے شہروں میں ریڈ ڈئیر، لتھ برج، میڈیسن ہٹ، فورٹ مکمری، گرانڈ پریری، کیمروز، لائڈز منسٹر، بروکس، وٹاسکیون، بینف، کولڈ لیک اور جیسپر ہیں۔البرٹا کا نام پرنسس لوئز کیرولن البرٹا کے نام پر رکھا گیا ہے جو 1848ء سے 1939ء تک بقید حیات رہیں۔ یہ ملکہ وکٹوریا اور پرنس البرٹ کی بیٹی تھیں۔ پرنسس لوئز مارکوس آف لورن کی بیوی تھیں جو 1878 تا 1883 تک کینیڈا کے گورنر جنرل تھے۔ کیرولن کی بستی اور ماؤنٹ البرٹا کو انہی شہزادی کے نام پر رکھا گیا ہے۔البرٹا مغربی کینیڈا میں واقع ہے اور اس کا کل رقبہ 661848 مربع کلومیٹر ہے۔ یہ علاقہ ٹیکساس سے پانچ فیصد کم اور فرانس کے کل رقبے سے بیس فیصد زیادہ ہے۔ اس لیے کیوبیک، اونٹاریو اور برٹش کولمبیا کے بعد یہ کینیڈا کا چوتھا بڑا صوبہ کہلاتا ہے۔ جنوب میں صوبے کی سرحدیں امریکی ریاست مونٹانا سے، شمال میں نارتھ ویسٹ ریاست سے، مشرق میں ساسکچیوان سے اور مغرب میں برٹش کولمبیا سے ملتی ہیں۔البرٹا کینیڈا کا ایک زرعی صوبہ ہے۔ اسے صوبے کا درجہ یکم ستمبر 1905ء میں ملا۔کیوبیک، اونٹاریو اور برٹش کولمبیا کے بعد یہ کینیڈا کا چوتھا بڑا صوبہ کہلاتا ہے۔



 جنوب میں صوبے کی سرحدیں امریکی ریاست مونٹانا سے، شمال میں نارتھ ویسٹ ریاست سے، مشرق میں ساسکچیوان سے اور مغرب میں برٹش کولمبیا سے ملتی ہیں۔جنوب مشرقی علاقے کے سوا صوبے میں پانی کی کثرت ہے۔۔ یہاں تین بڑی جھیلیں ہیں اور 260 مربع کلومیٹر سے چھوٹی بے شمار جھیلیں ہیں۔ جھیل اتھابسکا کا 7898 مربع کلومیٹر جتنا حصہ ساسکچیوان میں موجود ہے۔ جھیل کلائیر کا رقبہ 1436 مربع کلومیٹر ہے اور یہ جھیل اتھابسکا کے مغرب میں موجود ہے۔ یہ جھیل وڈ بفیلو نیشنل پارک میں واقع ہے۔ لیسر سلیو جھیل 1168 مربع کلومیٹر پر محیط ہے اور ایڈمنٹ کے شمال مغرب میں واقع ہے۔ البرٹا کا سب سے لمبا دریا دریائے اتھابسکا ہے جو 1538 کلومیٹر طویل ہے۔ یہ دریا برٹش کولمبیا کے منجمد علاقے سے نکل کر راکی پہاڑوں سے ہوتا ہوا جھیل اتھابسکا میں جا گرتا ہے۔


البرٹا کا صدر مقام ایڈمنٹن ہے اور صوبے کے وسط سے تھوڑا سا جنوب میں ہے۔ یہاں کینیڈا کی زیادہ تر تیل کی صفائی کی ریفائنریاں موجود ہیں۔ کینیڈا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر بھی یہاں نزدیک ہی موجود ہیں۔ ایڈمنٹن کینیڈا کا سب سے بڑا شمالی شہر ہے۔ اس کے علاوہ یہ شمالی کینیڈا میں تعمیر و ترقی کے لیے راستے کا کام دیتا ہے۔ البرٹا کا ایک اور بڑا شہر کیلگری ایڈمنٹن سے 240 کلومیٹر جنوب میں واقع ہے۔ اس کے چاروں طرف رینچوں کی کثرت ہے۔ صوبے کی 75 فیصد آبادی کیلگری ایڈمنٹن'  ان دونوں شہروں  میں آباد ہے۔صوبے کی شمالی نصف کا زیادہ تر حصہ بوریل جنگلات سے بھرا ہوا ہے جبکہ راکی پہاڑی سلسلے کی جنوب مغربی حدوں پر زیادہ تر جنگلات موجود ہیں۔ 


نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

انقلاب چین جو چینی قوم کی نجات کا باعث بن گیا

  چین کے انقلاب میں تاریخی لانگ مارچ کو ایک سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے جو اکتوبر1934ء سے اکتوبر 1935ء تک جاری رہا۔ یہ لانگ مارچ چھے ہزار میل ط...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر