اتوار، 21 ستمبر، 2025

آزاد کشمیر کی بہترین سیاحتی جنت’بنجوسہ جھیل ‘

 





آزاد کشمیر کے ضلع پونچھ میں راولا کوٹ سے 20 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع بنجوسہ جھیل کو پاکستان کے بہترین سیاحتی مقامات میں شمار کیا جاتا ہے۔راولا کوٹ سے آدھے گھنٹے کے فاصلے پر گھنے جنگلات میں واقع بنجوسہ جھیل کی خوبصورتی دیکھنے والوں کو حیران کر دیتی ہے، سر سبز وادی میں گھری جھیل سیاحوں کی دلچسپی کا مرکز بنی رہتی ہے۔جھیل کے ارد گرد گھنے جنگل اور پہاڑوں نے اسے اور بھی دلکش بنا دیا ہے، جھیل کے اطراف پھیلا ہوا سبزہ ہی سبزہ، تازا ہوا اور نیلا پانی سیاحوں کی تسکین کا باعث بنتا ہے، بنجوسہ جھیل آنے والے بوٹنگ سے بھی خوب لطف اندوز ہوتے ہیں۔یہاں گرمیوں میں بھی موسم خوش گوار رہتا ہے جبکہ سردیوں میں شدید سردی ہوتی ہے اور درجۂ حرارت منفی 5 سینٹی گریڈ تک گر جاتا ہے، دسمبر اور جنوری میں برف باری بھی ہوتی ہے۔بنجوسہ جھیل میں سیاحوں کی آمد سارا سال جاری رہتی ہے، جن کا کہنا ہے کہ حکومت کے ساتھ مل کر سیاحوں کو بھی جھیل کی صفائی کا خاص خیال رکھنا چاہیے تاکہ قدرت کے اس شاہکار کا حسن ماند نہ پڑے۔بنجوسہ جھیل کی خوبصورتی کا خیال رکھتے ہوئے آزاد کشمیر میں سیاحت کو مزید فروغ دیا جاسکتا ہے تاکہ قدرت کے دیے ہوئے اس تحفے سے بھرپور لطف حاصل کیا جا سکے۔آج کل جب پاکستان کے اکثر علاقے قیامت خیز گرمی کی لپیٹ میں ہیں وہیں کچھ ایسے بھی علاقے ہیں جو لوگوں کے لیے تفریح اور راحت کا سبب ہوتے ہیں۔پاکستان کو قدرت نے بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔ بلند وبالا برف پوش پہاڑ اور حسین وادیاں نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کے سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہیں۔ اسی پاکستان میں آسمان کو چھوتے درخت، سبز رنگ اوڑھے پہاڑ، ٹھنڈی ہوائیں، جھیل کا شفاف پانی، پرندوں کی چہچہاہٹ اور ہر قسم کی آلودگی سے پاک ایک ایسی جگہ بھی ہے جو زمین پر جنت کا ٹکڑا لگتی ہے۔


یہ دلکش اور دلفریت تفریحی مقام راولا کوٹ آزاد کشمیر کی بنجوسہ جھیل ہے۔ جو آپ کو دعوت نظارہ دیتی ہے۔ جب ملک بھر میں گرمیاں عروج پر ہوں تو یہ مقام گرمی کے ستائے لوگوں کو راحت بخشتا ہے۔اس جھیل پر کراچی، ملتان سمیت ملک کے ان مختلف گرم ترین علاقوں سے فیملی سمیت تفریح کے لیے آئے ہوئے ہیں، جہاں درجہ 45 ڈگری سے بھی تجاوز کر رہا ہے۔ لیکن یہاں کا ٹھنڈا موسم انہیں خوب لطف دے رہا ہے۔ سیاحوں کا کہنا ہے کہ گرمی اور آلودگی سے پاک یہ ماحول ٹھنڈی ہوائیں، ماحول، قدرتی نظارے ان کے مزاج پر خوشگوار اثر ڈال رہے ہیں-بڑے تو بڑے بچے بھی بہت یہاں آکر مبہوت ہو گئے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اتنی حسین جگہ انہوں نے اس سے قبل کبھی نہیں دیکھی۔ جو پنجوسہ جھیل آ رہا ہے وہ اس کے قدرتی حسن کا ایسا دیوانہ ہو رہا ہے کہ دیگر لوگوں کو بھی یہاں آنے کی دعوت دے رہا ہے۔



گرمی کے ماروں کو جب حسین نظارے دیکھنے کا موقع ملے تو فرصت کے لمحات میں جنت جیسی زمین پر کیوں نہ کھنچے چلے آئیں۔یہاں ملک بھر سے آنے والے سیاح خوب انجوائے کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ کوئی کشتی رانی کرتا ہے، تو کوئی گھڑ سواری سے حسین وادی کے چپے چپے کو دیکھنا چاہتا ہے اور کوئی تفریح کے ساتھ لذت کام ودہن کے لیے بار بی کیو کرتا دکھائی دیتا ہے کہ دلفریب موسم میں کھانا کھانے کا مزا ہی الگ ہے۔وادی کشمیر کی ایک جھیل۔ سری نگر کا شہر اسی کے کنارے آباد ہے۔ دنیا کی چند ممتاز سیرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ چونکہ دریائے جہلم اس کے بیچ سے ہو کر نکلتا ہے اس لیے اس کا پانی شریں ہے۔سرینگر شہر کے بیچ 25 مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلی اس جھیل میں دلہن کی طرح سجائی گئی ہاؤس بوٹس اور شکارے اس کی خوبصورتی کو چار چاند لگا دیتے ہیں۔ڈل جھیل کو دنیا بھر میں اس خطے کی پہچان سمجھا جاتا ہے


ڈل جھیل میں ہاؤس بوٹ مالکان اور شکارا چلانے والوں کا کہنا ہے کہ یہ جھیل 2012ء میں سیاحوں، مقامی سیلانیوں اور بچوں کی موجودگی سے چہکتی  ہے کشمیر میں ہاوس بوٹ نا صرف اس خوبصورت جھیل ڈل کا زیور ہیں بلکہ یہ کشمیر کی دستکاری کا بھی نمونہ ہیں۔ دیودار کی لکڑی سے بنا ہاوس بوٹ ایک چھوٹے بحری جہاز کی طرح ہوتا ہے جس میں ہوٹل کی طرح کمرے اور اوپر ایک دالان ہوتا ہے۔ لکڑی پر خوبصورت اور دلکش نقاشی کی جاتی ہے اور سیاح ہاؤس بوٹ میں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔1880ء کی دہائی میں نارائن داس نامی ایک کشمیری تاجر کی دکان آگ سے تباہ ہو گئی تو ااس نے جھیل ڈل میں کشتی کو دکان کی شکل دے دی، جس میں وہ رہنے بھی لگے۔بعد میں جب اس وقت کے ڈوگرہ مہاراجہ نے غیر کشمیریوں کے وادی میں زمین یا مکان خریدنے پر پابندی عائد کردی تو انگریزوں کو مشکلات پیش آئیں۔نارائن داس نے اپنی کشتی ایک انگریز کو فروخت کر دی۔ اس طرح کشمیر کا پہلا ہاؤس بوٹ وجود میں آیا جس کا نام 'کشمیر پرنسیس ' رکھا گیا۔ نارائن داس کو جب لگا کہ یہ منافع بخش کام ہے  


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

کہو دلہن بیگم ! ہمارا بھائ تمھیں کیسا لگا

  میں سہاگن بنی مگر    !نگین دلہن بنی مثل ایک زندہ لاش کے سر جھکائے بیٹھی تھی اس نے آج کے دن کے لئے بڑی آپا کے اور منجھلی آپا کے سمجھانے سے ...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر