Knowledge about different aspects of the world, One of the social norms that were observed was greetings between different nations. It was observed while standing in a queue. An Arab man saw another Arab man who apparently was his friend. They had extended greetings that included kisses on the cheeks and holding their hands for a prolonged period of time. , such warm greetings seem to be rareamong many people, . this social norm signifies the difference in the extent of personal space well.
منگل، 2 دسمبر، 2025
سرمائ پرندوں کی ہجرت
پیر، 1 دسمبر، 2025
شمس العلماء خان بہادر حافظ ڈپٹی مولوی نذیر احمد
شمس العلماء خان بہادر حافظ ڈپٹی مولوی نذیر احمد ضلع بجنور کی تحصیل نگینہ کے ایک گاؤں ریہر میں پیدا ہوئے۔ ایک مشہور بزرگ شاہ عبد الغفور اعظم پوری کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے، لیکن آپ کے والد مولوی سعادت علی غریب آدمی تھے اور یو پی کے ضلع بجنور کے رہنے والے تھے۔شروع کی تعلیم والد صاحب سے حاصل کی۔ چودہ برس کے ہوئے تو دلی آ گئے اور یہاں اورنگ آبادی مسجد کے مدرسے میں داخل ہو گئے۔ مولوی عبدالخالق ان کے استاد تھے۔یہ وہ زمانہ تھا کہ مسلمانوں کی حالت اچھی نہ تھی۔ دہلی کے آس پاس برائے نام مغل بادشاہت قائم تھی۔ دینی مدرسوں کے طالب علم محلوں کے گھروں سے روٹیاں لا کر پیٹ بھرتے تھے اور تعلیم حاصل کرتے تھے۔ نذ یر احمد کو بھی یہی کچھ کرنا پڑتا تھا، بلکہ ان کے لیے تو ایک پریشانی یہ تھی کہ وہ جس گھر سے روٹی لاتے تھے اس میں ایک ایسی لڑکی رہتی تھی جو پہلے ان سے ہانڈی کے لیے مصالحہ یعنی مرچیں، دھنیا اور پیاز وغیرہ پسواتی تھی اور پھر روٹی دیتی تھی اور اگر کام کرتے ہوئے سُستی کرتے تھے تو ان کی انگلیوں پر سل کا بٹہ مارتی تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس لڑکی سے ان کی شادی ہوئی۔کچھ عرصہ بعد دلی کالج میں داخل ہوئے جہاں انھوں نے عربی، فلسفہ اور ریاضی کی تعلیم حاصل کی۔مولوی نذیر احمد نے اپنی زندگی کا آغاز ایک مدرس کی حیثیت سے کیا لیکن خداداد ذہانت اور انتھک کوششوں سے جلد ہی ترقی کرکے ڈپٹی انسپکٹر مدارس مقرر ہوئے۔
جارجیا کی سب سے حیرت انگیز مثال پولیس کا مکمل خاتمہ تھی
جارجیا کی سب سے حیرت انگیز مثال پولیس کا مکمل خاتمہ تھی اور انتہائی حیران کن پہلو یہ تھا کہ انہوں نے پورے کے پورے اداروں کو مکمل طور پر ختم کر کے نئے سرے سے بنایا۔سب سے حیرت انگیز مثال پولیس کا مکمل خاتمہ تھی۔2004 سے پہلے جارجیا کی پولیس کرپشن میں اتنی ڈوبی ہوئی تھی کہ ہر چھوٹے بڑے کام کے لیے رشوت لازمی تھی عوام پولیس سے خوفزدہ رہتی تھی پولیس خود مجرموں کے ساتھ ملی ہوئی تھی-نئی حکومت نے کیا کیا؟ایک رات کے اندر پوری کی پوری پولیس فورس برطرف کر دی-یہ قدم انتہائی حیران کن تھا۔ایک رات میں سب کے سب پولیس اہلکاروں کی جگہ نئے اہلکاروں نے کام سنبھال لیانئی پولیس کے لیے ایک بھی پرانا اہلکار نہیں رکھا گیا-صرف ایک سال کے اندر کرپشن 90% تک کم ہو گئی عوام کا پولیس پر اعتماد مکمل بحال ہو گیا-جرائم کی شرح میں تیز ترین کمی آئی-یہ دنیا بھر میں اصلاحات کی تاریخ کا سب سے بڑا اور جرات مندانہ تجربہ تھا۔ کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ پورے کا پورا ادارہ ختم کر کے نئے سرے سے بنایا جا سکتا ہے۔جارجیا نے ثابت کیا کہ کبھی کبھی مرمت سے کام نہیں چلتا، بلکہ پورا ڈھانچہ ہی توڑ کر نیا بنانا پڑتا ہے۔
اتوار، 30 نومبر، 2025
اجنٹا کے غار -عجوبہءروزگار
جنوبی ہند کے غار، جو قدیم زمانے کے انتہائ ماہر کاریگروں نے پہاڑ تراش کر بنائے تھے۔ دراصل یہ حیدرآباد دکن کے نزدیک اورنگ آباد سے تیرہ میل شمال مغرب کی جانب واقع ہیں۔ ان کا زمانہ پانچویں سے دسویں صدی عیسوی خیال کیاجاتا ہے اور یہ 4\1 مربع میل علاقے میں پھیلے ہوئے ہیں۔ کل غار یا عمارتیں چونتیس ہیں۔ ان میں بدھ مت کی بارہ۔ برہمنوں کی سترہ اور جینیوں کی پانچ ہیں۔پہاڑ کی جن چٹانوں کو تراش کر یہ غار بنائے گئے ہں۔ وہ خشک پہاڑ ہیں۔ ان غاروں کی ترتیب اور تراش میں معماروں نے کمال دکھایا ہے۔ چٹانوں کو کاٹ کر دو منزلہ اور سہ منزلہ عمارتیں تیار کی گئی ہیں۔ ایک ہی چٹان سے دو منزلہ اور سہ منزلہ عمارت کے چھت ،پیلپائے، دلان، حجرے، سیڑھیاں اور دیواروں کے ساتھ ساتھ بڑے بڑے بت بنانا آسان کام نہیں۔ ان سنگ تراشوں کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ انھوں نے نہایت کامیابی کے ساتھ یہ اندازہ کر لیا کہ چٹان میں وہ عمارت کھودنے والے ہیں وہ اندر سے ٹھوس اور دراڑ کے بغیر ہےن عمارتوں کے کمرے بھی اس قدر وسیع ہیں کہ ان میں ایک ہزار سے زیادہ آدمی ایک ساتھ بیٹھ سکتے ہیں۔
تمام عمارتوں میں دو طرفہ زینے تراشے گئے ہیں جن پر چار رپانچ آدمی بیک وقت ایک ساتھ چڑھ سکتے ہیں۔ اسی سے باقی عمارتوں کی وسعت اور عظمت کا اندازہ ہو سکتا ہے۔ ان میں ہوا اور روشنی کا بھی انتظام تھا۔ صرف چند کمرے ایسے ہیں جنھیں تاریک کہا جا سکتا ہے۔ان غاروں میں بے شمار تراشیدہ بت ہیں جن کی ساخت بتاتی ہے کہ اس زمانے کے سنگ تراش اپنے فن میں کس قدر ماہر تھے۔ بعض بت بہت بڑے لیکن طبعی تناسب کے لحاظ سے کاریگری کے بہترین نمونے ہیں۔ سب سے زیادہ بت بدھ،مہادیو اور پاربتی کے ہیں۔ مشہور ہے کہ مہادیو سب سے پہلے انھی پہاڑیوں پر ظاہر ہوئے تھے اور اپنی بیوی پاربتی کے ساتھ یہاں رہا کرتے تھے۔ماہرین آثار قدیمہ کا خیال ہے کہ ایلورا کی عمارتیں کسی ایک زمانے میں تعمیر نہیں ہوئیں بلکہ مختلف زمانوں میں ایک طویل عرصے یعنی صدیوں کی محنت اور صبر و استقلال کا نتیجہ ہیں۔یہ غار دنیا بھر کے سیاحوں کی دلچسپی کاباعث ہیں ا جنتا کے غاروں کی نقاشی کا سب سے بڑا راز ان کی خطوط کشی ہے۔ خطوط کا جتنا نظر نواز استعمال اجنتا کی نقاشی میں پایا جاتا ہے اس کی مثال کسی اور جگہ نہیں ملتی ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تصویریں ابھی بول پڑیں گی۔کنول کے پھول کو اجنتا کی مصوری میں ہر موقع پر کام میں لایا گيا ہے اور کنول کی یہ امتیازی شان ہمیں کہیں اور نظر نہیں آتی
عورت کی عظمت کو اجنتا کی نقاشی میں نمایاں مقام دیا گيا ہے جس سے ان دور میں عورت کے مرتبے کی نشاندہی ہوتی ہے۔ہاتھی کی تصویر کشی بھی اجنتا کی مصوری کا موضوع ہے۔ ڈیزائن سازی میں غاروں کے نقاش اپنا جواب نہیں رکھتے۔ دیوی دیوتاؤں، چرند و پرند اور انسانوں سے لے کر پھولوں کومنقش کیا ہے سنہ 1822 میں ایک دوسرے شخص ولیم آئیکسن نے ان غاروں پر مبنی ایک مقالہ پڑھا اور صدیوں سے دنیا کی نظروں سے اوجھل ان غاروں کو زندہ جاوید کر دیا۔ بہت جلد یہ غار اپنی نقاشی اور سنگ تراشی کے بہترین نمونوں کی وجہ سے نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا بھر میں مشہور ہوئے اور دنیا بھر سے نامور نقاش اور سنگ تراش انھیں دیکھنے آنے لگے۔ دھیرے دھیرے یہ غار سیاحوں کا پسندیدہ مرکز بن گئے۔جب اورنگ آباد کا علاقہ ریاست حیدرآباد کا حصہ بنا تو نظام نے ان غاروں کی تجدید پر توجہ دی اور سنہ 1920 میں غاروں کو میوزیم کی شکل دی، آمد و رفت کے ذرائع فراہم کیے اور داخلے کی فیس مقرر کر دی۔ آج بھی لوگ جوق در جوق ان غاروں کو دیکھنے آتے ہیں۔عالمی ادارے یونیسکو کا کہنا ہے کہ یہ 30 غاروں کا یہ مجموعہ مختلف زمانے میں بنا ہے۔
پہلا مجموعہ قبل مسیح کا ہے تو دوسرا مجموعہ بعد از مسیح کا ہے۔ الغرض اجنتا کے ان غاروں کی نقاشی قابل دید ہے جو تیز رنگوں سے بنائی گئی ہے اور تصویریں ہوش ربا منظر پیش کرتی ہیں۔ نقاشی میں استعمال کیے جانے والے رنگی بیشتر، سرخ، زرد، بھورے، کالے یا سفید ہیں۔ لاجورد اور زرد رنگ کی آمیزش سے سبز رنگ تیار کیا گيا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ کسی بھی رنگ کو نقاشی میں دوبارہ استعمال نہیں کیا گيا ہے۔ان غاروں میں مہاتما بدھ کے آثارو احوال کو پیش کیا گيا ہےیہ غار مہاتما بدھ کے آثار کا آئینہ ہیں اور بودھ مت کی مختلف کہانیوں کے عکاس ہیں۔ اس کے ذریعے بودھ مت کی تاریخی اور تہذیبی عظمت کے ساتھ مصوری کی ارتقائي صورت بھی نظروں کے سامنے آ جاتی ہے۔ ان کی ساخت، چہروں پر چھائے جذبات، حرکات و سکنات کے دلفریب انداز ایسا منظر پیش کرتے ہیں کہ جن کا تصور برسوں تک دماغ سے محو نہیں ہوتا۔ا۔اس کی نرم و نازک پنکھڑیوں سے لے کر ڈنٹھل تک کی نقاشی میں وہ مہارت ہے کہ اصل کا دھوکہ ہوتا ہے۔
ہفتہ، 29 نومبر، 2025
نتھیاگلی پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کا ایک تفریحی مقام ہے
نتھیاگلی پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کا ایک تفریحی مقام ہے - یہ 2501 میٹر کی بلندی پر زیریں ہمالیائی خطے میں واقع ہے، نتھیا گلی اپنے خوب صورت مناظر، ہائکنگ ٹریکس کے لیے مشہور ہے یہ پر فضا سیاحتی مقام ہے جو ضلع ایبٹ آباد میں مری کو ایبٹ آباد سے ملانے والی سڑک پر 8200 فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ اسلام آباد سے اس کا فاصلہ 80 کلومیٹر ہے۔نتھیاگلی می گرمیوں میں موسم نہایت خوشگوار ہوتا ہے۔ جولائی اور اگست کے مہینوں میں یہاں تقریباً روزانہ بارش ہوتی ہے۔ سردیوں میں یہاں شدید سردی اور دسمبر اور جنوری کے مہینوں میں شدید برف باری ہوتی ہے۔یہاں گورنر ہاؤس، سیاحوں کے لیے قیام گاہیں اور آرام گاہیں واقع ہیں۔ قصبہ میں کچھھ دوکانیں اور تھوڑی بہت آبادی بھی ہے۔ گرمیوں میں یہاں سیاحوں کا رش ہوتا ہے اور قیام گاہوں اور آرام گاہوں کے کرائے بہت زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔کوہ مکشپوری اور کوہ میرانجانی قریب ہی واقع ہیں۔
1
نتھیا گلی کے لالہ زار پارک میں سندر نامی تیندوا پنجرے میں قید تو ہے لیکن برفانی موسم کا لطف بھی اٹھا رہا ہے۔ تیندوا- بارہ دسمبر کو پاکستان کے شمالی علاقے گلیات کے پہاڑوں پر پڑنے والی معمولی برف باری نے سرد موسم کی شدت میں اضافہ کردیا تھا۔ ایسے میں نتھیاگلی کے لالہ زار پارک میں ایک پنجرے میں بند برفانی تیندوا بھی برفباری کا لطف اٹھا رہا تھا۔تیندوابرفانی تیندوا جس کو سندر کا نام دیا گیا ہے اپنے رکھوالے سردار امانت کے اشارے سمجھتا ہے۔ رکھوالا جب پنجرے کے ساتھ دوڑتا تو وہ بھی اس کے ساتھ ہی دوڑ پڑتا۔تیندواسردار امانت نے بتایا کہ سندر ان کے پاس گزشتہ چھ سال سے ہے۔ جب یہ ان کے پاس لایا گیا تو اس کی عمرچھ ماہ کے لگ بھگ تھی۔گلیات-سردار امانت نے بتایا کہ ہر سال جب گلیات میں برفباری سے راستے بند ہونے کا وقت قریب آتا ہے تو وہ سندر کو ایبٹ آباد کے جنگلی حیات کے دفتر میں منتقل کردیتے ہیں اور پھر مارچ کو اس کو واپس لے آتے ہیں۔
2
انھوں نے کہا کہ اب برفباری شروع ہوچکی ہے اس لیے اس کو منتقل کرنا ناگزیر ہے کیونکہ بعد میں راستے بند ہونے کی وجہ سے اس کو خوراک اور پانی فراہم نہیں کیا جاسکتا۔ٹریپ پنجرہ سندر کو منتقل کرنے کے لیے اس کے ٹریپ پنجرے میں خوراک کا انتظام کیا جاتا ہے اور جب وہ بھوکا ہو تو ٹریپ ہو ہی جاتا ہے۔ٹریپ پنجرہ-اس کوشش میں کئی گھنٹے لگ گئے، جب بھی سندر ٹریپ پنجرے کی طرف آنے لگتا کوئی نہ کوئی سیاح آ جاتا اور سندر بِدک جاتا۔سندر بند کمرے میں رہنے کے بجائے کھلی کھلے پنجرے میں برف میمُشکپوری 2800 میٹر / 9100 فٹ بلند پہاڈی جو نتھیاگلی،پاکستان میں واقع ہے۔ درختوں میں گھری یہ چوٹی سیاحوں کی دلچسپی کا مرکز ہے۔ اسلام آباد سے 90 کلومیٹر اور نتھیاگلی سے 4 کلومیٹر دور یہ پہاڈی ہندووں کے نزدیک مقدس ہے۔مُشکپوری (مکشپوری) سنسکرت زبان کا لفظ ہے۔ اس کا مطلب ہے نجات کی جگہ۔
3
مکش(امن/نجات) + پوری(جگہ)۔ھندو روایات کے مطابق رام کی لنکا جنوبی ہندوستان کے روان کے ساتھ جنگ کے دوران اس کا بھائی لکشمن زخمی ہو جاتا ہے۔ اس کا علاج ایسی جڑی بوٹی سے ہی ممکن تھا جو صرف مُشکپوری پر پائی جاتی تھی۔ چنانچہ ہنومان یعنی بندر دیوتا پورے مُشکپوری پہاڑ کو اٹھا کر جنوبی ہند لے جاتا ہے۔ جہاں وید اس بوٹی کو ڈھونڈ کر کر لکشمن کا علاج کر دیتا ہے اور ہنومان پہاڑ کو واپس لے آتا ہے۔ اس لیے یہ پہاڑ ھندوؤں کے نزدیک مقدس ہے۔ بھارت کے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو پاکستان آئے تھے اور اس پہاڑ کی خاطر نتھیاگلی گئے تھے۔ اکثر بھارتی وفد اس پہاڑ کی خاطر نتھیاگلی ٹہرے ہیں اور انھیں نے وہاں تحفتا بندر بھی چھوڑے ہیں ہ ایک خوبصورت تو ہماتی کہانی تو ہو سکتی ہے اور کچھ بھی نہیں۔ مُشکپوری خوبصورت اور سرسبز پہاڑ ہے انسان وہاں پہنچ کر سکوں اور راحت محسوس کرتا ہے۔ اس کی چوٹی پر جگہ بھی زیادہ ہے اور وہاں کا منظر انتہائی دلکش ہے اس لیے ہزاروں سال سے انسان اسے پسند کرتا آیا ہے اور پنڈت اور مزہبی لوگ ہمیشہ اونچی جگہوں کو پسند کرتے ہیں۔ پنڈت علاج معالجہ بھی کرتے تھے
4
ا
ور ایسی جگہوں پر ہمیشہ فائدہ مند جڑی بوٹیوں کو بھی اگاتے تھے جیسا کہ ٹلہ جوگیاں پر بھی رواج تھا۔ بیماروں کو شفا تو مل گئی مگر اس طرح کی مزہبی کہانیاں بھی وجود میں آئيں اور مزہبی کہانیوں کی تفتیش کرنا ہر مذہب میں ویسے بھی بڑا رسک ہے۔15 فروری سے 15 ستمبر مُشکپوری سیر کے لیے بہترین ہے۔ 15 مارچ تک اس پر برف ہوتی ہے۔ یورپی یونین نے اس پہاڑ پر جنگلی پرندوں کے تحفظ اور افزآئش نسل کے لیے ایک مخصوص جگہ پر باڑ اور اس کے اندر پرندوں کے گھر بنائے ہیں۔ نتھیاگلی سے مُشکپوری چوٹی تک قریبا 2 گھنٹے لگتے ہیں۔ راستہ درختوں ميں گرا ہوا ہے اور خوبصورت ہے آہستہ آہستہ اوپر بلند ہوتا ہے۔ چوٹی کی طرف سے ڈونگا گلی کی طرف محض آدھے گھنٹے میں اتر سکتے ہیں لیکن ادھر سے اترائی اور چڑھائی دونوں مشکل ہیں۔ مُشکپوری کی برف اور چشموں کے پانی کو ڈونگا گلی میں ایک بہت بڑے ٹینک میں محفوظ کیا جاتا ہے اور پھر اس پانی کو پائپ کے ذریعے مری پہنچایا جاتا ہے۔اگر سیاح کے پاس خیمہ ہو تو مُشکپوری کے اوپر ایک خوبصورت رات گزاری جا سکتی ہے۔ آلودگی سے پاک ہونے کی وجہ سے مُشکپوری کے اوپر آسمان انتہائی صاف ہوتا ہے۔ ستارے بالکل قریب دکھائی دیتے ہیں۔ مری بہت نیچے محسوس ہوتی ہے اور دور اسلام آباد اپنی لکیر دار پیلی روشنیوں میں کھویا نظر آتا ہے۔ مُشکپوری پہ صبح زندگی کا خوشگوار ترین تجربہ ہے۔مُشکپوری کے اوپر درختوں، بیلوں، پھولوں، جھاڑیوں، پرندوں، جانوروں اورکیڑے مکوڑوں کی کئی قسمیں پائی جاتی ہیں
بیکانیر کی کوئل -ریشماں
محض بارہ برس کی معصوم بہن دیکھ رہی تھی کہ اس کے بھائ کا جہاں بھی رشتہ ہوتا ہے کسی ناکسی بہانے سے ختم ہو جاتا ہے پہلے تو وہ دل گرفتہ ہوئ پھر اس نے منت مانی کہ وہ حضرت لال شہباز قلندر کے مزار پر منقبت گائے گی -اب بھلا اللہ میاں اس معصوم بہن کی خواہش کو پورا کیوں ناکرتا چنانچہ بھائکی شادی خیرو خوبی سے انجام پائ اور ریشماں کراچی سے سفر کر کے حضرت لال شہبازقلندر کے مزار پر پہنچی مزار پر اس کی تقدیر کا تالہ کھولنے کے لئے ریڈیو کے ایک پروڈیوسر سلیم گیلانی بھی آئے ہوئے تھے 'گوہر شناس جوہری نے ہیرے کو پہچان لیا جب انہوں نے ننھی ریشماں کو گاتے ہوئے سنا، اور اس طرح بارہ سال کی عمر میں ریشماں کو ریڈیو پاکستان پر آواز کا جادو جگانے کا موقع ملا۔ گلِ صحرائی اور لمبی جدائی، معروف لوک گلوکارہ ریشماں راجستھان میں پیدا ہو ئ برصغیر کی تقسیم کے بعد ان کا خاندان ہجرت کر کے کراچی منتقل ہوگیا، خانہ بدوش خاندان سے تعلق رکھنے والی ریشماں نے کم عمری میں ہی صوفیانہ کلام گانا شروع کر دیا۔ ریشماں نے کلاسیکی موسیقی کی کوئی تربیت حاصل نہیں کی،1960ء کی دہائی میں پاکستان ٹیلی ویژن کی بنیاد رکھی گئی تو ریشماں نے ٹی وی کیلئے گانا شروع کر دیا، انہوں نے پاکستانی فلموں کیلئے متعدد گیت گائے اور خوب شہرت سمیٹی، ریشماں کی مقبولیت سرحد پار بھی پہنچی اور بالی ووڈ میں یہ سحر انگیز آواز گونجی۔ معروف فوک گلوکارہ کے مشہور گیتوں میں ’’سُن چرخے دی مِٹھی مِٹھی کُوک‘‘، ’’وے میں چوری چوری‘‘، ’’اکھیاں نوں رین دے اکھیاں دے کول کول‘‘، ’’ہائے ربا نیئوں لگدا دِل میرا‘‘، ’’عاشقاں دی گلی وچ مقام دے گیا‘‘ شامل ہیں۔ریشماں کو ستارہ امتیازاور لیجنڈز آف پاکستان کے اعزاز سے بھی نوازا گیاریشماں نے گائیکی کی کوئی باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ ان کی عمر بارہ برس تھی جب ریڈیو کے ایک پروڈیوسر سلیم گیلانی نے شہباز قلندر کے مزار پر انہیں گاتے ہوئے سنا اور انہیں ریڈیو پر گانے کا موقع دیا۔ اس وقت انہوں نے ’لال میری‘ گیت گایا جو بہت مشہور ہوا۔ سلیم گیلانی بعد ازاں ریڈیو پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل بھی بنے۔دھیرے دھیرے ریشماں پاکستان کی مقبول ترین فوک سنگر بن گیئں۔ 1960ء کی دہائی میں پاکستان ٹیلی وژن کی بنیاد رکھی گئی تو ریشماں نے ٹی وی کے لیے بھی گانا شروع کر دیا۔ انہوں نے پاکستانی فلموں کے لیے بھی متعدد گیت گائے۔ ان کی آواز سرحد پار بھی سنی جانے لگی۔ معروف بھارتی ہدایت کار سبھاش گھئی نے ان کی آواز اپنی ایک فلم میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا۔ یوں ریشماں نے ان کی فلم ’ہیرو‘ کے لیے ’لمبی جدائی‘ گایا جو آج بھی سرحد کے دونوں جانب انتہائی مقبول ہے۔ 1983ء کی اس فلم کو آج بھی ریشماں کے اس گانے کی وجہ سے ہی جانا جاتا ہے۔ ریشماں کے کچھ دیگر مقبول گیتوں میں’سُن چرخے دی مِٹھی مِٹھی کُوک ماہیا مینوں یاد آؤندا‘، ’وے میں چوری چوری‘، ’دما دم مست قلندر‘، ’انکھیاں نوں رین دے انکھیاں دے کول کول‘ اور ’ہائے ربا نیئوں لگدا دِل میرا‘ شامل ہیں۔انہیں پاکستان میں متعدد ایوارڈز سے نوازا گیا۔ انہیں ستارہ امیتاز اور ’لیجنڈز آف پاکستان کا اعزاز بھی دیا گیا تھا۔ ’ گزشتہ دہائیوں میں ان سے ملاقات اور ان کے گانے سننے کو یاد کر رہی ہوں۔ ان کی آواز پُردرد تھی اور درد ہی گیت بن گیا۔یہ الفاظ ایک بھارتی فنکار کے ہیں ‘‘ ۔ ان کا تعلق راجستھان کے علاقے بیکانیر سے تھا۔ برصغیر کی تقسیم کے بعد ان کا خاندان ہجرت کر کے کراچی منتقل ہو گیا تھا۔ انہوں نے سوگواروں میں بیٹا عمیر اور بیٹی خدیجہ چھوڑی ہے۔ڈی ڈبلیو کے ساتھ اپنے ایک انٹرویو میں اُنہوں نے اپنے اس بیٹے کا نام ’ساون‘ بتایا تھا ا ور کہا تھا کہ وہ اُسے اس لیے ساون کہتی تھیں کیونکہ وہ ساون کے مہینے میں پیدا ہوا تھامعروف فوک گلوکارہ ریشماں کو مداحوں سے بچھڑے 12 برس بیت گئے،
جمعہ، 28 نومبر، 2025
ریاض الرحمان ساغر ٍ-سُروں کے بادشاہ
نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے
انقلاب چین جو چینی قوم کی نجات کا باعث بن گیا
چین کے انقلاب میں تاریخی لانگ مارچ کو ایک سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے جو اکتوبر1934ء سے اکتوبر 1935ء تک جاری رہا۔ یہ لانگ مارچ چھے ہزار میل ط...
حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر
-
میرا تعارف نحمدہ ونصلّٰی علٰی رسولہ الکریم ،واٰ لہ الطّیبین الطاہرین جائے پیدائش ،جنوبی ہندوستان عمر عزیز پاکستان جتنی پاکستان کی ...
-
خوبصورت اور لہلہاتے قدرتی نظاروں سے مالامال جزیرہ ماریشس (موریطانیہ )کے ائر پورٹ 'پورٹ لوئس کے سرشِو ساگر رام غلام انٹرنیشنل ائیرپ...
-
نام تو اس کا لینارڈ تھا لیکن اسلام قبول کر لینے کے بعد فاروق احمد لینارڈ انگلستانی ہو گیا-یہ سچی کہانی ایک ایسے انگریز بچّے لی...