محض بارہ برس کی معصوم بہن دیکھ رہی تھی کہ اس کے بھائ کا جہاں بھی رشتہ ہوتا ہے کسی ناکسی بہانے سے ختم ہو جاتا ہے پہلے تو وہ دل گرفتہ ہوئ پھر اس نے منت مانی کہ وہ حضرت لال شہباز قلندر کے مزار پر منقبت گائے گی -اب بھلا اللہ میاں اس معصوم بہن کی خواہش کو پورا کیوں ناکرتا چنانچہ بھائکی شادی خیرو خوبی سے انجام پائ اور ریشماں کراچی سے سفر کر کے حضرت لال شہبازقلندر کے مزار پر پہنچی مزار پر اس کی تقدیر کا تالہ کھولنے کے لئے ریڈیو کے ایک پروڈیوسر سلیم گیلانی بھی آئے ہوئے تھے 'گوہر شناس جوہری نے ہیرے کو پہچان لیا جب انہوں نے ننھی ریشماں کو گاتے ہوئے سنا، اور اس طرح بارہ سال کی عمر میں ریشماں کو ریڈیو پاکستان پر آواز کا جادو جگانے کا موقع ملا۔ گلِ صحرائی اور لمبی جدائی، معروف لوک گلوکارہ ریشماں راجستھان میں پیدا ہو ئ برصغیر کی تقسیم کے بعد ان کا خاندان ہجرت کر کے کراچی منتقل ہوگیا، خانہ بدوش خاندان سے تعلق رکھنے والی ریشماں نے کم عمری میں ہی صوفیانہ کلام گانا شروع کر دیا۔ ریشماں نے کلاسیکی موسیقی کی کوئی تربیت حاصل نہیں کی،1960ء کی دہائی میں پاکستان ٹیلی ویژن کی بنیاد رکھی گئی تو ریشماں نے ٹی وی کیلئے گانا شروع کر دیا، انہوں نے پاکستانی فلموں کیلئے متعدد گیت گائے اور خوب شہرت سمیٹی، ریشماں کی مقبولیت سرحد پار بھی پہنچی اور بالی ووڈ میں یہ سحر انگیز آواز گونجی۔ معروف فوک گلوکارہ کے مشہور گیتوں میں ’’سُن چرخے دی مِٹھی مِٹھی کُوک‘‘، ’’وے میں چوری چوری‘‘، ’’اکھیاں نوں رین دے اکھیاں دے کول کول‘‘، ’’ہائے ربا نیئوں لگدا دِل میرا‘‘، ’’عاشقاں دی گلی وچ مقام دے گیا‘‘ شامل ہیں۔ریشماں کو ستارہ امتیازاور لیجنڈز آف پاکستان کے اعزاز سے بھی نوازا گیاریشماں نے گائیکی کی کوئی باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ ان کی عمر بارہ برس تھی جب ریڈیو کے ایک پروڈیوسر سلیم گیلانی نے شہباز قلندر کے مزار پر انہیں گاتے ہوئے سنا اور انہیں ریڈیو پر گانے کا موقع دیا۔ اس وقت انہوں نے ’لال میری‘ گیت گایا جو بہت مشہور ہوا۔ سلیم گیلانی بعد ازاں ریڈیو پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل بھی بنے۔دھیرے دھیرے ریشماں پاکستان کی مقبول ترین فوک سنگر بن گیئں۔ 1960ء کی دہائی میں پاکستان ٹیلی وژن کی بنیاد رکھی گئی تو ریشماں نے ٹی وی کے لیے بھی گانا شروع کر دیا۔ انہوں نے پاکستانی فلموں کے لیے بھی متعدد گیت گائے۔ ان کی آواز سرحد پار بھی سنی جانے لگی۔ معروف بھارتی ہدایت کار سبھاش گھئی نے ان کی آواز اپنی ایک فلم میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا۔ یوں ریشماں نے ان کی فلم ’ہیرو‘ کے لیے ’لمبی جدائی‘ گایا جو آج بھی سرحد کے دونوں جانب انتہائی مقبول ہے۔ 1983ء کی اس فلم کو آج بھی ریشماں کے اس گانے کی وجہ سے ہی جانا جاتا ہے۔ ریشماں کے کچھ دیگر مقبول گیتوں میں’سُن چرخے دی مِٹھی مِٹھی کُوک ماہیا مینوں یاد آؤندا‘، ’وے میں چوری چوری‘، ’دما دم مست قلندر‘، ’انکھیاں نوں رین دے انکھیاں دے کول کول‘ اور ’ہائے ربا نیئوں لگدا دِل میرا‘ شامل ہیں۔انہیں پاکستان میں متعدد ایوارڈز سے نوازا گیا۔ انہیں ستارہ امیتاز اور ’لیجنڈز آف پاکستان کا اعزاز بھی دیا گیا تھا۔ ’ گزشتہ دہائیوں میں ان سے ملاقات اور ان کے گانے سننے کو یاد کر رہی ہوں۔ ان کی آواز پُردرد تھی اور درد ہی گیت بن گیا۔یہ الفاظ ایک بھارتی فنکار کے ہیں ‘‘ ۔ ان کا تعلق راجستھان کے علاقے بیکانیر سے تھا۔ برصغیر کی تقسیم کے بعد ان کا خاندان ہجرت کر کے کراچی منتقل ہو گیا تھا۔ انہوں نے سوگواروں میں بیٹا عمیر اور بیٹی خدیجہ چھوڑی ہے۔ڈی ڈبلیو کے ساتھ اپنے ایک انٹرویو میں اُنہوں نے اپنے اس بیٹے کا نام ’ساون‘ بتایا تھا ا ور کہا تھا کہ وہ اُسے اس لیے ساون کہتی تھیں کیونکہ وہ ساون کے مہینے میں پیدا ہوا تھامعروف فوک گلوکارہ ریشماں کو مداحوں سے بچھڑے 12 برس بیت گئے،
Knowledge about different aspects of the world, One of the social norms that were observed was greetings between different nations. It was observed while standing in a queue. An Arab man saw another Arab man who apparently was his friend. They had extended greetings that included kisses on the cheeks and holding their hands for a prolonged period of time. , such warm greetings seem to be rareamong many people, . this social norm signifies the difference in the extent of personal space well.
ہفتہ، 29 نومبر، 2025
جمعہ، 28 نومبر، 2025
ریاض الرحمان ساغر ٍ-سُروں کے بادشاہ
جمعرات، 27 نومبر، 2025
بخارسٹ' ثقافت، فنون اور جدید یورپ کا ایک روشن استعارہ ہے
بخارسٹ، رومانیہ کا دارالحکومت، ملک کے جنوب مشرق میں دریائے ڈیمبویا کے کنارے واقع ہے، اور بلغاریہ کی سرحد سے تقریباً 60 کلومیٹر شمال میں ہے۔ ۔ یہ شہر 1862ء میں رومانیہ کا دار الحکومت بنا اور رومانیہ کے میڈیا، ثقافت اور فن کا مرکز ہے۔ یہاں مشہور چیزوں میں سے ایک اس کا پیلس آف پارلیمنٹ ہے جو دنیا کی دوسری وسیع و عریض سرکاری بلڈنگ ہے.. اس کے سامنے روڈ پر لوگوں کی چہل قدمی، فواروں کا پانی اور لائٹس، آتی جاتی گاڑیاں، اور اطراف میں موجود ریسٹورنٹ اور ان کے باہر بیٹھ کر کھانے کے لئے لگے میز اور کرسیاں جن پر کھانا کھاتے لوگ اس سڑک کو مال روڈ سے زیادہ رونق والا بنا دیتے ہیں. اس ساری رونق کا مزہ دوبالا کرنے میں فواروں کی سرخ اور سبز لائٹس کا بھی بہت عمل دخل ہے. -یورپ کے دل میں دریائے دیمبووتا کے کنارے صدیوں کے نشیب و فراز کا گواہ رومانیہ کا دارالحکومت جہاں ہر گلی، ہرعمارت اور ہرپتھر اپنی کہانی خود سناتا ہے۔ طلسماتی حسن ایسا ہے کہ دنیا بھر کے سیاحوں کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔
کنوارے درخت کو اپنی دلہن چاہئے
سننے میں آیا تھا کہ کسی دھرم کے لوگ اپنی لڑکیوں کی شادی پہلے درختوں سے کرتے ہیں پھر لڑکوں سے کرتے ہیں لیکن کیو گارڈن کے اس درخت کے بارے میں سن کر یقین آگیا کہ درخت واقعئ شادی کرتے ہیں جیسےبرطانیہ کے مشہورِ زمانہ ''رائل بوٹینیکل گارڈنز'' المعروف ''کیو گارڈنز'' کے ایک گوشے میں بظاہر معمولی دکھائی دینے والا ایک درخت لگا ہوا ہے مگر اس کی داستان کسی دکھی انسان سے بھی زیادہ افسردہ کرنے والی ہے۔پام ٹری کی ایک نوع ''اینسیفالارٹوس ووڈیائی'' (Encephalartos woodii) سے تعلق رکھنے والا یہ درخت، پوری دنیا میں اپنی قسم کا اکیلا اور آخری پودا باقی رہ گیا ہے جو پچھلے سو سال سے کیو گارڈنز میں موجود ہے۔اعلی نسل کے پودوں میں نر اور مادہ پودے الگ الگ ہوتے ہیں اور مذکورہ پام ٹری اپنی قسم کا ''نر درخت'' ہے جسے اپنی نسل درست طور پر آگے بڑھانے کےلیے اپنی ہی نوع کے ایک ''مادہ درخت'' کی ضرورت ہے جس کی تلاش پچھلے 100 سال سے جاری ہے لیکن اب تک ماہرین کو اس میں کوئی کامیابی نہیں ہوسکی ہے۔
اسے 1895 میں برطانوی ماہرِ نباتیات جون میڈلے ووڈ نے جنوبی افریقہ کے علاقے زولولینڈ میں ایک پہاڑی مقام سے دریافت کیا تھا۔ اپنے عجیب و غریب تنے اور چھتری کے محراب نما پھیلاؤ کی وجہ سے یہ درخت سب سے الگ اور منفرد نظر آرہا تھا۔ جون میڈلے نے اس درخت کے تنے کا کچھ حصہ کاٹ کر برطانیہ بھجوا دیا جسے کیو گارڈن میں بطور قلم لگایا گیا جو کچھ عرصے بعد ہی تناور درخت میں تبدیل ہوگئی۔ماہرین پر انکشاف ہوا کہ یہ ''نر درخت'' ہے جسے اپنی نسل بڑھانے کےلیے ''اصل مادہ'' کی اشد ضرورت ہے۔ گزشتہ 125 سال کے دوران جنوبی افریقہ میں لگا ہوا درخت بھی موسم کی نذر ہوگیا جس کے بعد اب صرف یہی ایک نمونہ باقی رہ گیا ہے۔خوش قسمتی سے انسانوں کے برعکس، بعض پودوں اور درختوں کی قدرتی عمر سیکڑوں اور ہزاروں سال میں ہوتی ہے۔ یہ پام ٹری بھی ان ہی میں سے ایک ہے۔ اگرچہ اب تک مختلف تکنیکوں سے اس درخت کے ''بچے'' ضرور تیار کیے گئے ہیں لیکن وہ اصل درخت سے بڑی حد تک مختلف ہیں۔ ''حقیقی بچوں'' کےلیے ضروری ہے کہ نر درخت کے قریب، اسی نوع کی مادہ درخت موجود ہو؛ جو ابھی تک نہیں مل سکی۔یعنی جب تک اس درخت کی ''دلہن'' نہیں مل جاتی، یہ دنیا کا سب سے اکیلا پودا ہی رہے گا۔
سرخی مائل لکڑی کا درخت دنیا کے بہت سے نباتاتی باغوں میں پایا جاتا ہے۔ یہ دنیا کے لمبے ترین درختوں میں سے ایک ہےدرخت ہے جو اوپر جا کر کئی شاخوں میں تقسیم ہو جاتا ہے۔ ان شاخوں پر پتے، پھول اور پھل لگتے ہیں۔ کچھ ماہرین ایک درخت کے لیے کم سے کم اونچائی بھی ضروری سمجھتے ہیں جو 3 سے 6 میٹر تک ہے۔ درخت زمین پر زندگی کے لیے انتہائی ضروری ہیں کیونکہ یہ جانوروں کو خوراک فراہم کرتے ہیں، پرندوں کو رہائش فراہم کرتے ہیں اور انسانوں کو پھل فراہم کرتے ہیں۔ درخت زمین پر آکسیجن کا تناسب بگڑنے نہیں دیتے۔ دن کے وقت درخت کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کر کے آکسیجن پیدا کرتے ہیں۔ رات کو یہ عمل الٹ ہو جاتا ہے۔ دنیا کے ایک تہائی درخت آرکٹک دائرہ میں واقع ہیں۔ جب سردی کا موسم شمالی نصف کرہ میں ختم ہوتا ہے تو ادھر درختوں پر پتے آ جاتے ہیں اور یکایک لاکھوں درخت آکسیجن پیدا کرنا شروع کر دیتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ بہار کے موسم میں زمین پر آکسیجن کا تناسب قدرے بہتر ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ درخت سیلاب سے بچاؤ کرتے ہیں۔ ایک نظریہ کے مطابق درخت ہی ہیں جو لاکھوں سالوں کے عمل کے بعد کوئلہ میں تبدیل ہوئے اور اب توانائی کا وسیلہ ہیں۔ بعض درخت کچھ مذاہب میں مقدس بھی ہوتے ہیں۔ اکثر درخت کسی نہ کسی بیماری کے علاج میں بھی استعمال ہو سکتے ہیں۔ ادویات بنانے کے لیے ان کی چھال، پتے، بیج، پھول اور پھل سب استعمال ہوتے ہیں۔ بعض درختوں کی عمریں بہت لمبی ہوتی ہیں۔ کچھ ایسے درخت اس وقت زمین پر موجود ہیں جن کی عمر تقریباً پانچ ہزار سال ہے۔ مثلاً لبنان میں چیڑ کے درخت۔ ایسے بے شمار درخت جو ہزاروں سال کی عمر رکھتے تھے، انھیں یورپی اقوام نے براعظم امریکا پر قبضہ کے دوران کاٹ کر استعمال کر لیا مگر اب بھی ایسے درخت موجود ہیں جن کی عمر ہزاروں سال ہے
منگل، 25 نومبر، 2025
پاکستانی معیشت کی تنزلی کے اسباب زراعت کی تباہی قسط 3
انہوں نے اپنی بات میں اضافہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انڈسٹری چل رہی لیکن ہمارے مسائل بڑھ رہے اور اس کی بنیادی وجہ پیداواری لاگت میں اضافہ ہے۔ ہمیں بجلی کا یونٹ 42 روپے کا مل رہا ہے جبکہ ہم آریل این جی استعمال کررہے جس کے نرخ ساڑھے 7 ڈالر سے 14 ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔ دوسری طرف بجلی اور گیس کے نرخ 30 سے 40 فیصد تک بڑھنے سے ہمارے مسائل میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کی نئی مانیٹری پالیسی کے مطابق شرحِ سود ساڑھے 19 فیصد ہے لیکن اسے سنگل ڈیجٹ میں ہونا چاہیے، اس کے علاوہ ایف بی آر کے ساتھ ہمارے ریفنڈ کے مسائل بھی موجود ہیں۔طارق طیب کہتے ہیں کہ اس سے یقینی طور پرجہاں پاکستان کی برآمدات متاثر ہورہی ہیں وہی پر ڈیڑھ سے 2 لاکھ کے قریب مزدور طبقہ بھی بیروزگار ہوا ہے اور حکومت کو اس حوالے سے سنجیدگی کے ساتھ ان مسائل کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔
آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین رضوان اشرف کہتے ہیں کہ انرجی اور خام مال کی قیمتوں میں اضافہ ہونے کی وجہ سے ٹیکسٹائل کے شعبے کو مسائل کا سامنا ہے اور گزشتہ سال جب درآمدت پر بڑے پیمانے پر پابندی لگائی گئی تو اس سے زرِمبادلہ میں کمی آئی جس کے باعث بینکوں کی جانب سے ایل سی نہیں کھولی جارہی تھیں جس کے سبب ہمیں باہر سے خام مال منگوانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ ٹیکسٹائل انڈسٹری میں استعمال ہونے والے بہت سے کیمیکل باہر سے منگوانے پڑتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اس کے علاوہ کپاس کی پیدوار میں بھی کچھ کمی واقع ہوئی۔ اس سیکٹر کو بہتر کیا جاسکتا ہے
لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ اس سیکٹر کو 9 سینٹ کا ٹیرف بحال کیا جائے۔ اس کے علاوہ کچھ ایسے ٹیکسز بھی لگائے ہیں جن کی وجہ سے ہماری پیداواری لاگت میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ ہمیں اس سیکٹر کو بہت قریب سے دیکھنا ہوگا کیونکہ اس سیکٹر کی وجہ سے بہت سے لوگوں کا روزگار وابستہ ہے جو اب ختم ہوتا جارہا ہے۔پاکستان میں ٹیکسٹائل شعبے میں بحران کی وجوہات2006 کے بعد جب پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ ہوا تو بین الاقوامی برانڈز اور ان کے نمائندوں نے سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر پاکستان کے دورے ملتوی کرنا شروع کردیے۔ ان مسائل کی وجہ سے نہ صرف شہریوں کے محفوظ کام کی جگہوں تک رسائی کو متاثر کیا بلکہ روزگار کے مواقع بھی کم ہوئے۔
گزشتہ برسوں میں آنے والے سیلابوں نے پنجاب اور سندھ کے صوبوں میں کپاس کے کھیتوں کو تباہ کردیا ہے، جس کے نتیجے میں خام مال کی قلت پیدا ہوئی۔ اس کی وجہ سے پاکستان کی ملبوسات اور ٹیکسٹائل کے شعبے میں سپلائی چین میں خلل پیدا ہوا اور کپاس کی کمی کو مناسب طریقے سے پورا نہ کیا جاسکا اور اب ٹیکسٹائل کے لیے بیرون ملک سے کپاس درآمد کی جاتی ہے۔اسی طرح آئے روز کے سیاسی عدم استحکام اور اس سے افراط زر میں ہونے والے اضافے کے سبب پیداواری لاگت بڑھ جاتی ہے، جس سے اس صنعت کا منافع کم ہوجاتا ہے اور ٹیکسٹائل ملوں کو بند کرنا پڑتا ہے۔ اس صورتحال میں ایک مستحکم حکومت کا قیام اور پالیسیوں کے تسلسل کی ضرورت ہے تاکہ معیشت کا یہ اہم شعبہ تنزلی کی بجائے ترقی کرتارہے
اتوار، 23 نومبر، 2025
پاکستانی معیشت کی تنزلی کے اسباب زراعت کی تباہی پارٹ'2'
پاکستان: کپاس کی پیداوار تین دہائیوں میں سب سے کم سطح پرایک کسان کے بیٹے نے بتایا کہ ملتان میں واقع کپاس کی تحقیقات کے بڑے ادارے سینٹرل کاٹن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ملازمین نے تنخواہوں اور مراعات کی عدم ادائیگی کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ڈاکٹر یوسف ظفر نے سوال اٹھایا کہ ملازمین کو تنخواہیں اور مراعات دینے کے لیے پیسے نہیں ہیں تو ریسرچ کیسے ہو سکتی ہے، جس کے لیے بڑے فنڈز چاہیے ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گذشتہ حکومت نے سرتاج عزیز کمیٹی کی رپورٹ پر کپاس کی ریسرچ کے لیے تین ارب روپے کا انڈوومنٹ فنڈ قائم کرنے کی منظوری دے دی تھی، جو ابھی تک سرد خانے میں پڑی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹیکسٹائل ملز مالکان کپاس کی ریسرچ کی غرض سے عائد 50 روپے فی گانٹھ کی مد میں ادائیگیوں سے گریز کرتے ہیں، جو ریسرچ کے راستے میں دوسری بڑی رکاوٹ ہے۔حل کیا ہے؟ اس وقت پاکستان کے بڑے زمینداروں کا خیال ہے کہ پاکستان میں کپاس کی فصل کو دوبارہ سے نفع آور بنانا ممکن نہیں ہے۔کیونکہ گنا اس وقت کی ڈیمانڈ ہے جس کے مالک پاکستان کے مالک ہیں
انہوں نے دلیل دی: ’پاکستان کی حکومت چاہتی ہی نہیں کہ زمیندار دوبارہ سے کپاس کی طرف جائے۔‘تاہم ان کے برعکس ڈاکٹر یوسف ظفر کا کہنا ہے کہ ریسرچ پر توجہ دے کر کپاس کی فصل کو پاکستان میں واپس لایا جا سکتا ہے اور سرتاج عزیز رپورٹ پر عمل کر کے حکومت اس مردہ گھوڑے میں جان ڈال سکتی ہے -سرتاج عزیز رپورٹ پر عمل کر کے حکومت اس مردہ گھوڑے میں جان ڈال سکتی ہے۔دوسری جانب ڈاکٹر جسومل کا کہنا تھا کہ سینٹرل کاٹن کمیٹی کو فعال بنا کر بھی کپاس کی صورت حال میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔ اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کاٹن کمیٹی کے تحت ہی کپاس کی ریسرچ، مارکیٹنگ اور دوسری فیلڈز میں کوششوں کو تیز اور موثر بنایا جا سکتا ہے۔اس حوالے سے وفاقی وزیر برائے فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ سید فخر امام کا کہنا ہے کہ زراعت موجودہ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اور اس شعبے کے فروغ اور ترقی کے لیے ہر ممکن کوششیں کی جا رہی ہیں۔
6انہوں نے کہا کہ کپاس کی ریسرچ کے لیے انڈوومنٹ فنڈ قائم کرنے کے سلسلے میں کام ہو رہا ہے جس کی تکمیل پر اس شعبے میں تحقیقات شروع ہو جائیں گی 2020 کے دوران پاکستان کے ٹیکسٹائل کے شعبے کو ایک بار پھر روپے کی قدر میں کمی، پیداواری لاگت میں اضافہ اور عالمی منڈی میں مقابلہ بازی کی وجہ سے مسائل کا سامنا کرنا پڑا جس کے بعد دنیا بھر میں کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے اس انڈسٹری کی مشکلا ت میں مزید اضافہ ہوا۔کورونا وائرس کی اس وبا نے عالمی سطح پر سپلائی چین کو متاثر کیا جس کی زد میں دیگر شعبوں کے ساتھ یہ انڈسٹری بھی آئی،
7 تاہم اس کے خاتمے کے بعد مالی سال 22-2021 میں اس شعبے نے بہت اچھی پرفارمنس دکھائی۔2022 سے پاکستان میں جاری سیاسی عدم استحکام کی فضا نے اس شعبے کے 2022 سے پاکستان میں جاری سیاسی عدم استحکام کی فضا نے اس شعبے کے مسائل میں کچھ اضافہ کیا جس حوالے سے پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن فیصل آباد کے ایڈیشنل سیکرٹری طارق طیب کہتے ہیں کہ گزشتہ کئی سالوں سے پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری مسائل شکار ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جولائی میں ہماری برآمدات میں 3 فیصد کمی واقعی ہوئی ہے۔ اس وقت یہ انڈسٹری اپنی گنجائش 40 فیصد کم پر چل رہی ہے تاہم یہاں پر یہ بات بھی سمجھنے کی ضرورت ہے جب یہ کہا جاتا ہے کہ ہم 40 سے 50 فیصد کم کیپسٹی پر چل رہے ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ انڈسٹری میں 40 سے 50 فیصد ملیں بند کردی گئیں بلکہ اس کے کچھ یونٹ اخراجات بڑھنے کی وجہ سے بند کیے گئے ہیں۔
پاکستانی معیشت کی تنزلی کے اسباب زراعت کی تباہی
''جب حضرت بختیار کا کی'' کو حضرت خضرع کا دست شفقت میسر آیا
۔حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی کی پیدائش 1187ء موافق 582ھ قصبہ اوش کرغیستان میں ہوئی، آپ کا لقب قطب الدین، قطب الاقطاب اور کاکی عرفیت ہے، کاکی کے معنیٰ روٹی کے آتے ہیں، آپ کا نسب پدری حضرت امام حسین ابن علی مرتضیٰ سے ملتا ہے، جب آپ کی عمر پانچ برس کی ہوئی تو آپ کی والدہ ماجدہ نے اپنے پڑوسی بزرگ سے کہا کہ میرے بچے کو کسی اچھے معلم کے سپرد کر دیں تاکہ یہ کچھ علم دین حاصل کر لے، وہ بزرگ اس بچے کو لے کر چلے ہی تھے کہ راستے میں ایک صوفی سے ملاقات ہوئی، بزرگ نے ان سے بچے کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ یہ ایک اچھے خاندان کا بچہ ہے مگر اس کے والد سید کمال الدین کا انتقال ہو گیا ہے، بیوہ ماں نے مجھے بلا کر کہا کہ اس کو کسی اچھے مکتب میں داخل کر دو، بزرگ نے یہ سن کر فرمایا کہ تم یہ کام میرے سپرد کر دو، میں اس کو ایک ایسے معلم کے حوالے کروں گا جس کے علم کے فیض اور برکت سے یہ بڑا صاحبِ کمال بن جائے گا۔
پڑوسی اس بات کو سن کر بہت ہی خوش ہوا اور بچے کو لے کر اس بزرگ کے ساتھ معلم کے گھر جانے پر راضی ہو گیا۔ یہ دونوں قصبہ اوش کے ایک معلم ابوحفص کے پاس گئے اور خواجہ قطب کو ان کے سپرد کر دیا۔ ساتھ ہی اس بزرگ نے ابو حفص کو ہدایت کی کہ یہ لڑکا اولیاء اللہ میں شمار ہو گا اس لئے اس پر خاص شفقت فرمائیں۔ جب یہ بزرگ بچے کو چھوڑ کر چلے گئے تو معلم ابو حفص نے ان سے دریافت کیا کہ وہ کون تھے جو تم کو اس مدرسہ میں لائے تھے؟ خواجہ نے کہا کہ میں ان کو بالکل نہیں جانتا۔ میری والدہ نے تو مجھے اپنے پڑوسی کے سپرد کیا تھا۔ یہ بزرگ راستے میں مل گئے اور مجھے آپ کی خدمت میں لے آئے۔ معلم ابو حفص نے جب یہ دیکھا کہ بچہ اس بزرگ کو نہیں جانتا تو انہوں نے بتایا کہ یہ بزرگ دراصل حضرت خضر تھے۔معلم کے پاس کسب فیض لینے کے بعدآپ کم سنی ہی میں بغداد آگئے اور خواجہ معین الدین چشتی سے بیعت کی۔ سترہ برس کی عمر میں خواجہ بزرگ سے خرقہ خلافت پایا۔ کچھ عرصے بعد اپنے پیرو مرشد کی معیت میں ہندوستان تشریف لائے اور دہلی میں قیام فرمایا۔
آپ بابا فرید الدین مسعود گنج شکر کے مرشد تھے۔ آپ کی طرف دو کتابیں منسوب کی جاتی ہیں۔ ایک دیوان ہے اور دوسری کتاب فوائد السالکین ہے جو تصوف کے موضوع پر قیمتی سرمایہ ہے۔ جواجہ قطب کو سماع سے رغبت تھی۔ دہلی میں محفل سماع کے دوران شیخ احمد جام کا یہ شعر قوال گارہا تھا کہ کُشتگانِ خنجرِ تسلیم را ہر زماں از غیب جانِ دیگر اَست سن کر وجد طاری ہوا۔ کہا جاتا ہےکہ تین روز اسی وجد میں رہے، آخر 27 نومبر 1235ء مطابق 14 ربیع الاول 633ھ کو انتقال فرماگئے۔ نماز جنازہ سلطان التتمش نے پڑھائی۔ آپ کا مزار دہلی کے علاقہ مہرولی میں واقع ہے۔اہل ِعالم نے یہ حیرت انگیز نظارہ دیکھاکہ 23سال کی قلیل مدت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وہ کام یابی نصیب ہوئی کہ کئی لاکھ مربع میل کا علاقہ اسلام کے زیر ِنگیں آگیا۔اس کے بعد خلفائے راشدینؓ،تابعین ،تبع تابعین اوراولیائے عظام ؒنے یہ مشن آگے بڑھایااورانسانی اخلاق کی حقیقی تصویر دُنیا کے سامنے پیش کی۔
دنیا میں بہت سے خدا کے بندے ایسے بھی گزرے ہیں جنہوں نے انسانیت کی رہبری کے لئے اپنے دن اور رات وقف کئے تھے جو اپنے قصرِ فقیرانہ میں رہ کر ہدایت کا سرچشمہ بن گئے تھے اور جنہوں نے مذہبِ اسلام کی سچائی اور آوازحق پر کان دھرے اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بامراد ہو کر بندگان خدا کی دعائیں اپنے ساتھ لے گئے۔،مخلص اور ہدایت یافتہ پیروانِ اسلام اپنے پیش رَو بزرگوں کے نقش ِقدم پر چلتے رہے اوران کی ہمّت و استقلال میں ذرّہ برابر بھی فرق نہ آیا ۔ان کی عملی قوّتیں مضمحل نہیں ہوئیں،ان کی دینی سرگرمیوں میں ضعف نہیں آیا اورانہوں نے حق و صداقت کو کبھی فراموش نہیں کیا۔یہی وجہ تھی کہ غیروں نے اُن پر کبھی فتح نہیں پائی ۔
نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے
انقلاب چین جو چینی قوم کی نجات کا باعث بن گیا
چین کے انقلاب میں تاریخی لانگ مارچ کو ایک سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے جو اکتوبر1934ء سے اکتوبر 1935ء تک جاری رہا۔ یہ لانگ مارچ چھے ہزار میل ط...
حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر
-
میرا تعارف نحمدہ ونصلّٰی علٰی رسولہ الکریم ،واٰ لہ الطّیبین الطاہرین جائے پیدائش ،جنوبی ہندوستان عمر عزیز پاکستان جتنی پاکستان کی ...
-
خوبصورت اور لہلہاتے قدرتی نظاروں سے مالامال جزیرہ ماریشس (موریطانیہ )کے ائر پورٹ 'پورٹ لوئس کے سرشِو ساگر رام غلام انٹرنیشنل ائیرپ...
-
نام تو اس کا لینارڈ تھا لیکن اسلام قبول کر لینے کے بعد فاروق احمد لینارڈ انگلستانی ہو گیا-یہ سچی کہانی ایک ایسے انگریز بچّے لی...