اتوار، 19 اکتوبر، 2025

شہرکراچی میں امام بارگاہوں کی تاریخ حصہ دوم

 

 امام بارگاہ کھارادر سے ملحق ایک بڑا علم بھی ہے، یہ علم بھی سو سال سے زائد قدیم بتایا جاتا ہے اسی علم مبارک کے لئے روائت ہے کہ یہ علم پاک کھارادر کے سمندر میں بہتا ہوا ایک مچھیرے کو ملاتھا جس نے علاقے کے معززین کے حوالے کیا اور اس پاک گروہ نے یہ علم ایک وسیع میدان میں نصب کیا تھا'اب وسیع میدان تو نہیں ہے لیکن مولا  کاعلم پاک موجود ہے۔ کسی وقت یہ کراچی کا سب سے بڑا اور بلند علم کہلاتا تھا۔امام بارگاہ بارہ امام,ضلع جنوبی کے علاقے سابقہ لارنس روڈ موجودہ نشتر روڈ پر بھی ایک قدیم امام بارگاہ واقع ہے، یہ امام بارگاہ کراچی کے سول اسپتال سے نصف کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، یہ امام بارگاہ بارہ امام کے نام سے مشہور ہے۔ اس امام بارگاہ کو چوہدری اللہ دتہ نامی مخیر عقیدت مند نے کم و بیش سو سال قبل تعمیر کرایا تھا۔ یہاں عشرہ محرم سمیت دیگر ایام میں بھی مجالس عزا منعقدکی جاتی ہیں، یہاں ماضی میں عشرہ محرم میں علامہ عقیل ترابی مرحوم نے بھی مجلس عزا سے خطاب کیا کرتے تھے۔


اس امام بارگاہ سے ہر سال تین بڑے ماتمی جلوس 9 اور10محرم اور21 رمضان المبارک کو نکالے جاتے ہیں جو ڈینسو ہال کے قریب نشتر پارک سے آنے والے مرکزی جلوس میں شامل ہوجاتے ہیں۔ پہلے اس امام بارگاہ میں ایران، عرق، شام اور سعودی عرب جانے والے زائرین، عازمین حج اور معتمرین کے لئے عارضی رہائش گاہ کا انتظام تھا۔انجمن حسینیہ ایرانیاں,کراچی کے قدیمی علاقے کھارادرکے عقب میں نواب مہابت خان جی روڈ پر واقع حسینیہ ایرانیاں بھی کراچی کی قدیم اما بارگاہوں میں شامل ہے۔اسے کراچی میں مقیم ایرانی باشندوں نے 1948ءمیں تعمیر کرایا تھا۔ اس امام بارگاہ کوکراچی میں عزاداری کے حوالے سے مرکزی اہمیت حاصل ہے۔ حسینیہ ایرانیاں میں فارسی زبان میں بھی مجالس منعقد کی جاتی ہیں، جن میں کراچی میں مقیم ایرانیوں کے علاوہ فارسی زبان سے شناسائی رکھنے والے پاکستانی بھی شرکت کرتے ہیں، یہاں عشرہ محرم پر رات میں مجلس عزا منعقد کی جاتی ہے،

 

جس سے علامہ رشید ترابی مرحوم، علامہ عقیل ترابی مرحوم سمیت صف اوّل کے علماء نےخطاب کیا تھا۔امام بارگاہ مارٹن روڈ،جیل چورنگی کے قریب تین ہٹی جانے والی سڑک پر دائیں جانب زرا اندر جاکر کراچی کی ایک اور قدیم امام بارگاہ و جامع مسجد امام بارگاہ مارٹن روڈ کے نام سے مشہور ہے۔ یہ امام بارگاہ قیام پاکستان کے بعد اس علاقے میں بھارت سے ہجرت کرکے آباد ہونے والے شیعہ مہاجرین نے اپنی مدد آپ کے تحت 1949ء میں قائم کی تھی، جو 1956ءمیں مکمل ہوئی تھی، یہاں محرم کی مجالس سمیت تمام مذہبی ایام پر مجالس منعقدکی جاتی ہیں۔کراچی کے مختلف علاقوں میں قیام پاکستان کے بعد شیعہ مہاجرین جہاں، جہاں آباد ہوتے گئے، وہاں انہوں نے امام بارگاہیں بنالیں، لائنز ایریا کے علاقے جٹ لائن میں ایک قدیم امام بارگاہ حسینی کے نام سے مشہور ہے، 


یہاں محمود آباد اور ملحقہ علاقوں سے نکلنے والے جلوس 9 محرم کی رات جمع ہوتے ہیں اور مجلس کے اختتام پر صبح سویرے مرکزی جلوس میں شامل ہونے کےلئے نشتر پارک پہنچ جاتے ہیں۔ یہاں پہلی مجلس 1950ءمیں منعقد ہوئی  تھی امام بارگاہ باب العلم نارتھ ناظم آباد-یہ کراچی کی ایک پُر شکوہ امام  بہت مشہور و مروف  اما م بارگاہ جس میں ماہ محرم کی  مجالس کے علاوہ دیگر علمی کام بھی کئے جاتے ہیں 'کراچی شہر میں ایک معجزاتی امام بارگاہ جہاں بدھ کی شام پورے کراچی سے مومنین زیارت اور عبادت کے لیئے حاضر ھوتے  ہیں یہ   بدھ  کی امام بارگاہ امام موسی  کاظم علیہ السلام  سے منسوب ھے جہاں  پہنچنے پر احساس ہوتا ہے   کہ  جیسے   کاظمین عراق  پہنچ گئے  ہوں  اگر دیکھا جائے تو ہزارہ برادری  نے  کراچی  کے دور افتادہ مضافاتی شہر منگھو پیر میں اپنی امام بارگاہ بنا لی جس میں ہزاروں ہزارہ شیعہ مجالس کرتے ہیں -


شہر کراچی میں امام بارگاہوں کی تاریخ

 


    شہر کراچی میں امام بارگاہوں کی تاریخ  کراچی میں امام بارگاہوں کی تاریخ پر نظر  رکھنے والے کہتے ہیں   کہ    عزادار سید الشہداء  کی  کا آغاز ہجری سال کے پہلے ماہ محرم کا آغاز ہوتے ہی کراچی میں امام بارگاہوں سمیت متعدد عوامی مقامات پر بھی مجالس عزا برپا کی جاتی ہیں۔ ان متبرک مقامات  میں   سب سے پہلے   لیاری کے علاقے  بغدادی میں قیام پاکستان سے 140سال قبل 1806ءمیں قائم کی گئی  امام بارگاہ ہے  پھر ہم    کراچی کےدیگر علاقوں کو اگر دیکھیں  تو نشتر پارک اور خالق دینا ہال سمیت متعدد پبلک مقامات پر شہدائے کربلاؓ کی یاد میں منعقد ہونے والی مجالس اور محفل میں علماءاور ذاکرین خطاب کرتے ہیں۔کراچی کے نشتر پارک میں نصف صدی سے پاک محرم ایسوسی ایشن کے تحت مرکزی مجلس عزا منعقد کی جا رہی ہے جبکہ خالق دینا ہال میں بزم حسینی کے زیر اہتمام یکم تا 9محرم مجالس عزا برپا کی جاتی ہیں۔ 



عائشہ منزل کے قریب اسلامک ریسرچ سنٹر میں بھی مجالس عزا منعقد کی جاتی ہیں۔ کراچی کی قدیم امام بارگاہوں محفل شاہ خراسان، بڑا امام باڑہ کھارادر، انجمن حسینیہ ایرانیان، امام بارگاہ شاہ نجف، امام بارگاہ حسینی، لائنز ایریا اور دیگر،جہاں آج بھی عزاداری مجالس عزاکا انعقاد مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ کیا جاتاہے ۔کراچی کے ضلع جنوبی میں سب سے زیادہ قدیم امام بارگاہیں واقع ہیں ،جن میں متعدد ایسی ہیں، جہاں قیام پاکستان سے قبل عزادری کا سلسلہ جاری تھا۔محفل شاہ خراسان,مزار قائد اور نمائش چورنگی کے قریب بریٹو روڈ پر واقع محفل شاہ خراسان قیام پاکستان کے بعد کراچی کی قدیم ترین مسجد اور امام بارگاہ ہے، اسے کراچی میں عزاداری کا ایک بڑا مرکز قرار دیا جاتا ہے۔


 

 اس کے تین حصے ہیں، پہلے حصے میں مسجد ہے، جہاں با جماعت نماز بھی اداکی جاتی ہے پھر عزا خانہ ہے، اس کے ساتھ زیارت گاہ ہے۔ یہاں قیام پاکستان کے بعد پہلے محرم میں اس مقام پر شامیانہ لگا کر مجالس عزا منعقدکی گئی تھی، پھر اسی زمین کو مخیر شیعہ افراد نے خریدا اور اس پر اس امام بارگاہ تعمیر کروائی،۔ یہاں بھی ایک بڑا علم عقید تمندوں کی توجہ کا مرکز بنا ہواہے۔اس سے چند قدم آگے ایک اور قدیم بارگاہ عزا خانہ زھرا کے نام سے مشہور ہے، یہاں بھی ایک تاریخی علم نصب ہے۔ یہاں بھی پابندی کے ساتھ مجالس منعقد کی جاتی ہیں، یہاں بھی کئی زیارتیں ہیں۔بشوکی امام بارگاہ ،بشوکی امام بارگاہ کوکراچی کی قدیم ترین امام بارگاہ قرار دیا جاتا ہے، یہ ۔ کہا جاتا ہے کہ جب یہ امام بارگاہ یہاں تعمیرکی گئی تھی، اس وقت کراچی کی مجموعی آبادی صرف 35 ہزار تھی۔


 

 اسے اب امام بارگاہ نیا آباد بھی کہا جاتا ہے۔ ابتدا میں یہ امام بارگاہ صرف ایک کمرے پر مشتمل تھی، لیکن اب یہ امام بارگاہ تین منزلہ ہے، یہاں پر عاشورہ محرم سمیت دیگر ایام میں عزاداری اور مجالس منعقدکی جاتی ہیں۔امام بارگاہ کھارادر,قیام پاکستان سے کم و بیش 80 سال قبل کراچی کے قدیم ترین کاروباری علاقے کھارادر میں 1868ءمیں قائم کیاگیا تھا۔ یہ امام بارگاہ قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کی جائے پیدائش وزیر مینشن سے دوگلیاں آگے ہے۔ اسے خوجہ اثناءعشری جماعت کے لوگوں نے تعمیر کرایا تھا، ابتدا میں اس کا صرف گراؤنڈ فلور تھالیکن عزادروں کی تعداد بڑھنے کی وجہ سے اس کی مزید دو منزلیں تعمیر کرائی گئیں، جن میں سے پہلی منزل خواتین عزاداروں کےلئے مخصوص ہے۔ یہاں کسی وقت علامہ رشید ترابی بھی مجلس پڑھاکرتے تھے۔


فرزند فلسطین کیمیا دان عمر یاغی' کیمسٹری کے نوبل 'شریک انعا م ٹہرے

 

 

زرا تصور کی نظر سے دیکھئے ایک چھوٹا سا معصوم بچہ جس  کو اپنے بچپن میں پیاس بجھانے کو صاف اور کافی پانی بھی میسر نہیں   ہو سکا تھا-جس کے کیمپ میں دھوپ سے بچاؤ کا انتظام بھی نہیں تھا  'لیکن اتنے کٹھن حالات میں وہ صرف ایک مقصد لے کر آ گے بڑھتا رہا تحقیق اور تحقیق اور بالآخر اس نے  اپنی ریسرچ مکمل  کر کے اپنے مقصد حیات کو پالیا اب ساری دنیا میں اس کے نام کی دھوم مچی ہوئ ہے-فلسطینی نژاد کیمیا دان عمر مونس یاغی نے بدھ کو کیمسٹری کا نوبیل انعام مشترکہ طور پر جیت لیا ہے۔نوبیل کمیٹی کے اعلان کے مطابق 2025 کا نوبیل انعام عمر مونس یاغی کے ساتھ شریک انعام یافتگان سوسومو کیٹاگاوا، رچرڈ روبسن ہیں۔نوبیل کمیٹی کے مطابق ان تینوں انعام یافتگان نے ایک نئی قسم کی مالیکیولائی ساخت معلوم کی ہے جس سے دھات اور آرگینک اجزا کے ملاپ سے فریم ورکس بنائے جا سکتے ہیں۔اس فریم ورک میں مالیکیول اندر اور باہر حرکت کر سکتے ہیں۔ اس عمل کو صحراؤں میں ہوا سے پانی حاصل کرنے، پانی سے آلودگی ختم کرنے اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کو ذخیرہ کرنے جیسے مفید کام لیے جا سکتے ہیں

 

۔عمر یاغی 1965 میں اردن کے دارالحکومت عمان میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا خاندان فلسطین سے ہجرت کر کے یہاں آباد ہوا تھا۔یاغی کو 2021 میں سعودی شہریت ایک شاہی فرمان کے تحت دی گئی تھی۔ یہ فرمان مختلف شعبوں میں نمایاں ماہرین کو سعودی شہریت دینے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ جب یاغی کو انعام کی خبر ملی تو ایک ہوائی اڈے پر سفر کر رہے تھے۔ انہوں نے اس موقعے پر کہا کہ انہیں حیرت اور خوشی دونوں ہوئے ہیں۔میں بہت غریب خاندان سے تعلق رکھتا ہوں۔ ہم ایک درجن اہل خانہ ایک کمرے میں رہتے تھے۔ ہمارے ساتھ ہمارے مویشی بھی ہوا کرتے تھے۔‘انہوں نے کہا کہ ’میرے والدین پناہ گزین تھے۔ میرے والد چھٹی تک پڑھے تھے، جب کہ والدہ لکھ پڑھ نہیں سکتی تھیں۔‘15 سال کی عمر میں وہ امریکہ چلے گئے۔ وسائل کی کمی کے باوجود ان کے اندر تعلیم کی لگن تھی، اور انہوں نے پہلے نیویارک سے کالج کی تعلیم اور پھر 1990  میں یونیورسٹی آف الینوئے، اربانا-شیمپین سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔

 

اسی دوران انہوں نے مالیکیولر ڈھانچوں کے اندر موجود خالی جگہوں کو سمجھنے اور استعمال کرنے کے خیالات پر کام شروع کیا، جو آگے چل کر ان کی زندگی کا سب سے بڑا تحقیقی میدان بن گیا۔یاغی نے بعد میں ایریزونا سٹیٹ یونیورسٹی میں تدریسی کیریئر شروع کیا۔   کی 1990ءدہائی میں انہوں نے ریٹیکولر کیمسٹری کا تصور پیش کیا، جس کے تحت یہ دیکھا جاتا ہے کہ کس طرح ایٹمی اور مالیکیولر اجزا کو مضبوط کیمیائی بانڈز سے جوڑ کر ایک نیا، ٹھوس، اور قابلِ پیش گوئی ڈھانچہ بنایا جا سکتا ہے۔اس نظریے سے انہوں نے میٹل-آرگینک فریم ورکس (MOFs) کی بنیاد رکھی، یعنی ایسی کرسٹل نما جالیاں جن میں بےحد چھوٹے سوراخ یا خانے ہوتے ہیں۔انہیں ایم او ایف کے شعبے کا باوا آدم بھی کہا جاتا ہے۔یہ MOFs گیسوں کو ذخیرہ کرنے، کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنے، پانی کے حصول اور توانائی کے ذخیرے میں استعمال ہونے لگے۔بعد میں انہوں نے کویلنٹ آرگینک فریم ورکس (COFs) اور ہائیڈروجن سٹوریج جیسے نئے تصورات متعارف کرائے۔


ان کا سب سے انقلابی تجربہ وہ تھا جس میں انہوں نے ہوا کی نمی سے پانی کشید کرنے والا آلہ تیار کیا، یعنی ایک ایسا آلہ جو بغیر بجلی کے ریگستان میں بھی پانی نکال سکے۔یاغی اکثر اپنے بچپن کی پیاس    اور پانی کی قلت کا ذکر کرتے  ہیں   اور اسی نے انہیں وہ سائنس بنانے پر مجبور کیا جو ہوا سے پانی نکال سکتی ہے۔ ان کے الفاظ میں ’میں نے اپنی کہانی کو سائنس میں ڈھالا۔ میں چاہتا ہوں کہ کوئی اور بچہ پیاسا نہ رہے۔‘یاغی نے امریکہ کی کئی بڑی یونیورسٹیوں میں پڑھایا: یونیورسٹی آف مشی گن، یو سی ایل اے اور بالآخر یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلی، جہاں وہ آج بھی تدریس اور تحقیق سے وابستہ ہیں۔ وہ برکلی گلوبل سائنس انسٹی ٹیوٹ کے بانی ڈائریکٹر ہیں، جس کا مقصد ترقی پذیر ممالک کے نوجوان سائنس دانوں کو عالمی سائنسی تحقیق میں شامل کرنا ہے۔ اردنی نژاد فلسطینی سائنس دان اور سعودی شہریت رکھنے والے پروفیسر عمر مؤنس یاغی نے نوبیل انعام برائے کیمیا اپنے نام کر لیا۔سویڈن کی شاہی اکیڈمی آف سائنسز نے اعلان کیا کہ یہ انعام عمر یاغی کے ساتھ جاپان کے سوسومو کیتاگاوا اور آسٹریلیا کے رچرڈ روبسن کو مشترکہ طور پر دیا جا رہا ہے۔ 

ہفتہ، 18 اکتوبر، 2025

بلتستان میں تاریخ عزاداری

 

بلتستان میں چودہویں صدی عیسوی سے قبل اسلام کا نام و نشان نہ تھا -لیکن چودہویں صدی کے بعد اسلام اس شان وشوکت سے پھیلا کہ اب یہاں علوی اورحسینی تہذیب و تمدن جا بجادکھائی دیتا ھے ۔یہاں اسلام تشیع کی صورت میں پھیلا ھے کیونکہ جنہوں یہاں نوراسلام کو پھیلایا وہ  نور ولایت محمد وآل محمد  سے منور تھے۔یہی وجہ ہے کہ صد ھا سال بعد بھی اس علاقے میں محبان اہلیبیت اطہار علیہم السلام کی اکثریت موجود ہیں جن کے دل محبت آل محمد سے سرشار ہیں ۔آل محمد کی محبت میں یہ لوگ اپنا جان مال سب کچھ قربان کرنے کے لیے تیار ہیں ۔جب بھی محرم کا چاند افق عالم پر نمودار ہوتا ہے بلتستان کے لوگ سیاہ لباس میں غم حسین منانے کے لیے تیار نظر آتے ہیں ان ایام میں کام کاج چھوڑ کر صرف سیدہ زہرا کو ان کے دلبند کا ماتم وپرستہ دیتے ھیں۔جس دن بلتستان میں پہلا مبلغ اسلام میر سید علی ہمدانی پہنچے اسی دن سے عزاداری کی ابتداء ہو چکی   تھی -لیکن  باقاعدہ آداب اسلامی کے ساتھ فرھنگ و تمدن اسلامی کو ملحوظ نظر رکھ کر انجام پانے والے عزاداری کی تاریخ کو اس سرزمین میں دیکھنا ہو تو ہمیں میرشمس الدین عراقی کے دور (1490ء سے 1515ء)کا مطالعہ کرنا ہوگا۔


جس  زمانے  میں میر شمس تبلیغ دین اور ترویج مذہب تشیع کی خاطر آئےتویہاں مقپون بوخا کی حکومت تھی۔مقپون بوخا کا بیٹا شیر شاہ میر شمس الدین عراقی معتقد تھابعد میں 1515ء میں جب وہ خود برسر اقتدار آیا تو اس نے اسلامی رسومات کے فروغ اور اشاعت اسلام کے لیے خدمات انجام دینے والوں کی سرپرستی کرتے ہوئے حکومتی سطح پر انہیں پروٹوکول دئیے بہت سے علماکرام ،مبلغین دین اور ذاکرین کو مختلف علاقوں میں بھیجے تاکہ زیادہ سے زیادہ ترویج دین ہو سکے بہت سوں کو زمین بخش دئیے۔ان علما کرام کی کوششوں سے دیگر اسلامی آداب و رسوم کے ساتھ عزاداری بھی باقاعدگی سے شروع ھوئی۔بعد میں بلتستان کے معروف راجہ علی شیر خان انچن (1588ء تا 1625ء) کے دور میں رسمِ عزاداری اور فن شاعری کو بھی عروج ملنا شروع ہو گیا۔اس وقت عزاداری حکمرانوں کے درباروں میں ھوتی تھیں -اس حقیقت سے انکار نہیں کہ مذہب تشیع کی ترویج اور فرھنگ وتمدن شیعی کو بلتستان اور گردو نواح میں مرائج کرنے میں مقپون راجاوں نے بڑا اہم کردار ادا کیاھے ۔


جب سید حسین رضوی کشمیر سے تبلیغ دین کے لئے کھرمنگ پہنچے تو وہاں کے راجہ نے از خود استقبال کئےاور اس سید بزرگوار کے حکم پر راجہ نے پولوگراونڈ میں ہی عزا خانہ بنایا گیا جہاں اب بھی عزاداری ابا عبداللہ ہوتی ہیں۔امام بارگاہ پاک و ہند میں مذہبی رسومات انجام دینے کے جگے کا نام ہے اسی کو خانقاہ بھی کہتے ہیں جنوب ہندوستان میں اسے عاشور خانہ بھی کہتے ہیں ۔پہلی بار نواب صفدر جنگ نے ۱۷۵۴م میں دھلی میں ایک مکان عزاداری کی خاطر تعمیر کروایا جسے پاک و ہند کا اولین امام بارگاہ مانا جاتا ہے اس کے بعد آصف الدولہ کا امام باڑہ ۱۷۸۴ میں تعمیر ہوا جس کے بعد سے امام باڑے تعمیر کرنے کا سلسلہ شروع ہوا ۔داءرۃ المعارف بزرگ اسلامی،ص۱۳۶، جلد دھم۔احمد شاہ مقپون کی دور حکومت 1840ء میں سکردو میں امام بارگاہ کلاں کے نام سے پہلی امام بارگاہ بنی جس کے بعد امام بارگاہ لسوپی اور امام بارگاہ کھرونگ تعمیر ہوئیں۔ امام بارگاہوں کی تعمیر کے ساتھ ہی باقاعدہ عزاداری کا سلسلہ شروع ہوا آج بلتستان کے ہر ہر علاقے میں امام بارگاہیں موجود ہیں جہاں لوگ اپنے علاقوں میں مسجد کو ضروری سمجھتے ہیں وہاں غم ابا عبداللہ الحسین منانے کے لئے عزاخانے کو بھی ضروری سمجھتے ہیں


 اس وقت  بلتستان کی سرزمین پر کوئی محلہ ایسا نہیں جہاں محرم اور صفر میں عزاداری نہ ہوتی ہو ۔لوگ امام بارگاہوں کے علاوہ اپنے گھروں میں بھی عزاداری کرتے ہیں کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ تمام رات باری باری لوگوں کے گھروں میں جا کر سیدہ زہرا کو ان کے لال حسین کا پرسہ دیتے ہیں ۔اہل بلتستان کے رگوں میں خون حسینی دوڑ رہا ہے یہ لوگ نام حسین پر سب کچھ فدا کرنے کو اپنے لیے باعث افتخار سمجھتے ہیں ۔عقیدت کی انتہا یہ ہے کہ بعض اہل معرفت لوگ سال بھر میں ہر روز نماز صبح کے بعد ایک مرثیہ پڑھ کرکربلا والوں پر چند قطرے آنسو بھاتے ہیں ۔نہ صرف مرد حضرات ایسا کرتے ہیں بلکہ بعض خواتین کا بھی یہی روش رہتا ھے۔ڈوگروں کا 108 سالہ دور بلتستان والوں کے لیے ایک سیاہ ترین دور تھا لیکن عزاداری کے حوالے سے ڈوگرہ حکمرانوں نے بھی خصوصی سہولیات فراہم کیں۔ جب جلوسِ عزا امام بارگاہ کلاں کے نزدیک پہنچتا تھا تو ڈوگرہ فوج کا ایک خصوصی دستہ تعزیہ اور عَلم کو سلامی پیش کرتا تھا اور جلوس کے اختتام تک احتراماً اپنی سنگینوں کو سرنگوں رکھتا تھا۔


بشکریہ 

بلتستان میں تاریخ عزاداری

تحریر: سید قمر عباس حسینی حسین آبادی

تلخیص (بلتی اسلامی ثقافت پاکستان)


زرا عمر رفتہ کو آواز دینا -ان دنوں میرا اسکول چل رہا تھا

  شادی کے بعد ہم نے چالیس روپئے ماہانہ کرائے پر اپنی ضروریات کے مطابق لالو کھیت چار نمبر بس اسٹاپ کے نزدیک ایک مکان لے کر زندگی کی ابتداء کی ,مکان کی مکانیت یہ تھی ایک بیڈ روم ایک بیڈروم کے ہی اتنا برامدہ اور اتنا ہی بڑا آنگن  ایک چھوٹا سا کچن غسل خانہ  اورعلیٰحدہ سے   ٹوائلٹ  -یہی اس زمانے کا رواج تھا اس مکان کا سب سے بڑا فائدہ یہ تھا کہ ہماری مالک مکان ہمارے ہی ساتھ والے گھر میں رہتی تھی جو بہت با اخلاق خاتون تھیں  اور میرا بہت خیال رکھتی تھیں  ان دنوں میرا اسکول چل رہا تھا اس لئے میں اکثر چھٹی کے بعد  اپنے میکے چلی جایا کرتی کبھی اپنے ہی گھر آجاتی تھی ,,اس وقت اپنی شادی شدہ زندگی کی زمّہ داریوں کو نباہنے کے ساتھ ساتھ   میری توجّہ کا مرکز میری والدہ اور چھوٹے بہن بھائ ہو ا کرتے تھے اور میری پوری کوشش ہوتی تھی کہ میں کسی بھی صورت وقت نکال کر اپنی پیاری ماں کی کوئ تو خدمت کر کے گھر واپس آجاؤن ،


میں نے دیکھا کہ اللہ پاک شکر خورے کو شکر ضرور دیتا ہئے چنانچہ اس مالک کے کرم سےمیری شادی کے   بعد ہی   انیّس سو پینسٹھ میں ہی والد صاحب  نے بینکنگ کا ایک امتحان پاس کیا اور ابا جان کی ترقی ہوئ اس ترقی سے ابا جان کو بنک کی جانب سے   بنگلے کی رہائش کی آ فر ہوئ اور  میرے والدین  لالوکھیت کے مکان سے اٹھ کرفیڈرل بی ایریا کے علاقے میں  دو سو چالیس گز کے بنگلے میں  دستگیر نمبر نو میں آگئے،والدہ جیسے ہی فیڈرل بی ایریا شفٹ ہوئیں انہوں نے مجھے بھی اپنے برابر کے مکان بلاکر رکھ  لیا فیڈرل بی ایریا ان دنوں نیا نیا آباد ہونا شروع ہواتھاہمارے  گھر سے بلکل قریب  اونچے اونچے درختوں کی باڑھ تھی اور اس باڑھ کے اندر تازہ سبزیوں کے کھیت ہوا کرتے تھے -ان کھیتوں کی آبیاری کے لئے صبح منہ اندھیرے رہٹ چلا کرتی تھی -وہ سبزیاں  سبزی والے  کھیتوں سے لے کر اپنے اپنے ٹھیلوں پر  لے کر گلی کوچوں میں بیچا کرتے تھے  آ م کا موسم قریب آنے پر کوئل کی کوک وہ بھی صبح صادق میں بہت ہی پیاری سنائ دیتی تھی 


 اور یہاں کے مکانات  بھی  ہرے بھرے درختوں کے درمیان اور لہلہاتے کھیتوں کے قریب ترتیب میں بھی اچھّے لگتے تھے اور رہائش کے لئے بھی کشادہ تھے  یہ نئ بستی لالوکھیت کے مقابلے میں اسوقت  کی ڈیفنس سوسائٹی دکھائ دیتی تھی   چنانچہ والد صاحب جو جہد مسلسل سے وابستہ رہتے ہوئے ترقّی کی جانب گامزن تھے ہما را یہ گھر کرائے کا تھا لیکن والد صاحب نے جلد ہی پھر بنکینگ کا امتحان پاس کیا اس کامیابی نے محض پانچ برس کی قلیل مدت میں  ان  کو  دوسو چالیس گز کے  بنگلے  سے اٹھا کر نارتھ ناظم آباد بلاک ڈی  بابلعلم کی بیک پر  پانچ سو گز کے  اپنے زاتی بنگلے میں بٹھا دیا میری والدہ  ایف بی ایریا میں پانچ سال رہیں اور میں انکے ہمراہ دوسرے گھر مین رہتی رہی اس طر ح پورے پانچ سال گزر گئے  ،لیکن پانچ سالوں  بعدجب مجھے محسوس ہوا کہ اب میں کچھ کرنے کی پوزیشن میں ہوں تب میں نے قلم کا سفر شروع کیا میرے قلمی سفر کی ابتداء  جنگ اخبار میں معاشرتی موضوعات سےہو ئ لیکن  جلد ہی  افسانہ نگاری شر وع کی

 

افسانہ نگاری کا سفر طویل رہا ،پاکیزہ ،دوشیزہ جنگ ڈائجسٹ ،حنا ،آنچل اخبار جہاں سچّی کہانیا ں آئیڈئیل اور بھئ کئ جن کے نام بھی زہن میں نہیں ہیں ان میں لکھتی رہی ،میرا خیال ہئے کہ آج کے دور میں ناول کے مقابلے میں افسانہ زیادہ پڑھا جانے والا ادب ہئے لیکن ناول پڑھنے والے بھی کم نہیں ہیں ،شائد افسانہ نگاری کی جانب میری زیادہ توجّہ کا سبب بھی یہی ہو کہ افسانہ لکھنا مجھے ناول کی نسبت ہمیشہ آسان لگا در اصل میرے خیال میں ناول ایک بڑی اور کشادہ زہنی کی تخلیق ہوتا ہے ،اور میں اپنی گونا گوں زمّے داریوں کے سبب بڑی سوچ پر آنا نہیں چاہتی ہوں یہاں کینیڈا میں میری اون لائن ناول میں سہاگن بنی !مگر، عالمی اخبار کی زینت بنی ، یہ ناول در حقیقت میں نے پاکستان میں روز افزوں بڑھتی ہوئ شرح'' طلاق''' جیسے ناروا و ناپسندیدہ امر پر لکھی اس کے لکھنے کا مقصد نوجوان نسل کو پیغام دینا تھا کہ شادی ہوجانے  کے بعد ایک دوسرے کی کوتاہیوں اور کمزوریو ں کو نظر انداز کرتے ہوئے گھر کی بنیاد کو مستحکم کرنے کی کوشش کریں

 

،اسی طرح میری کوشش یہی ہوتی ہئے کہ میں اپنی افسانوی تحریروں کے زریعے اپنے سماج کو کوئ ایسا مثبت پیغام دے سکوں جو پڑھنے والے کی رہ نمائ کا باعث ہو  افسانہ نگاری کا لم نویسی آج بھی  جاری ہئے افسانہ نگاری نا ول نویسی معاشرتی مضامین کچھ روحانیت کے کام  پر بھی توجّہ ہئےاس کے علاوہ ایک دستر خوان بھی شمع کا دستر خوان کے نام سے بازار میں آیا ،میرے ایک افسانو ی مجموعے رنگ شفق کی یہاں کینیڈاایڈمنٹن میں ہی ملٹی کلچرل  کونسل کی روح رواں محترمہ صوفیہ یعقو ب صاحبہ نے رونمائ کروائ اور ٹورانٹو سے کہنہ مشق ادیب و شاعرجناب تسلیم الٰہی زلفی نے میرے اس مجموعے پر تبصرہ لکھا  یہ مجھ جیسی کم علم رکھنے والی طالبہ کے لئے ایک یقینی  اعزاز کی بات ہے بات یہ ہئے کہ انسان سماج میں رہتے ہوئے کبھی اکیلا کچھ نہیں کر سکتا ہئے اس کو ہر حال میں سہاروں کی ضرورت ہوتی ہئے رہبری بھی چاہئے ہوتی ہئے ،یہ میری خوش قسمتی ہئے کہ مجھے تمام عمر ،اچھّے راہبر ،اور اچھّے استاد میسّر آئے جنہوں نے فراخ دلی سےمیری بھرپور رہ نمائ کی اور ادب کی دنیا میں مجھے قدم جمانے کے موقع فراہم کئے

 

جمعہ، 17 اکتوبر، 2025

ہمارے نونہال 'کس کی جانب دیکھیں

 

 ایک  دن کی بات ہےمیرا  کسی کام سے   اپنے گھر فیڈرل بی ایریا بلاک 9 سے   عزیز آبا دنمبر8جانا ہوا واپسی پر میں نے دیکھا عزیز آباد آٹھ نمبر کے کونے پر ایک وسیع عریض کمپری ہنسیو بوائز اسکو ل  کے بہت بڑے گراؤنڈ میں تین حصوں میں طالب علم اپنے انٹرویل ٹائم میں  الگ الگ کھیل 'کھیل رہے تھے -میں بچوں کے ہاتھ تھامے کھڑی ہو کر محویت سے طالب علموں کے کھیل دیکھتی رہی  -پھر اللہ کریم کی کرم نوازی سے وہ دن بھی آیا جب میرے اپنے بچے اسی اسکول  میں   امتیازی کامیابی سے ہمکنار ہو کر دہلی کالج کے طالب علم بنے-میں آج کراچی میں طالبعلموں کی حق تلفی دیکھ کر بہت دکھی ہوتی ہوں جن سے ا نکے کھیل کے میدان چھین لئے گئے اور کوئ پرسان حال نہیں کہ  قوم کے نونہالوں پر یہ ظلم  نہیں کرو-ویسے تو کراچی میں سارے ہی کھیل بڑے شوق سے کھیلے جاتے تھے لیکن ایک ایسا کھیل تھا جو شوق  کے علاوہ جنون سے کھیلا اور دیکھا جاتا اور وہ تھا کرکٹ۔کھیل کود کے اس باب میں ہم بھی زیادہ تر توجہ اسی کھیل پر مرکوز رکھیں گے۔






کرکٹ ایک ایسا کھیل تھا جو ایک بیٹ اور ایک بال کی ملکیت ہونے کے بعد چند دوستوں کو اکٹھا کرکے کہیں بھی شروع کیا جاسکتا تھا۔بیٹنگ کی باریاں لینے کا بہت خوب صورت اندازتھا۔ ایک ہموار جگہ پر کھلاڑیوں کی تعدادکے مطابق لکیریں لگا دی جاتی تھیں اور ان کے پیچھے نمبر لکھ کر بیٹ کے نیچے چھپا دیئے جاتے تھے۔ باہر سے صرف لکیریں ہی نظر آتی تھیں۔ہر کھلاڑی ان میں سے کسی ایک لکیر پر انگلی رکھ دیتا تھا۔ پھر بیٹ اٹھا دیا جاتا اور ہر ایک کو اپنا نمبر دیکھ کر پتہ چل جاتا تھا کہ اس کی بیٹنگ کی باری کب آنی ہے۔ جگہ کا بھی تکلف نہیں تھا۔ کوئی نہ کوئی چھوٹا بڑا میدان مل جاتا تو ٹھیک، اور جو نہ بھی ہوتا تو محلے کی کچی پکی گلیاں تو تھیں نا۔ عموماً ایک لڑکا جو کسی کھاتے پیتے گھر کا ہوتا تھا، اپنے ذاتی وسائل سے بیٹ بال اور وکٹیں لے آ تا تھا۔ باقی چونکہ سارے ہی مفت خورے ہوتے اس لیے اس لڑکے کی کھیل میں موجودگی بڑی اہمیت رکھتی تھی۔اس کے بڑے ناز نخرے اٹھائے جاتے اور اس کو آنکھ کا تارا بنا کر رکھتے تھے۔بلے بازی میں بھی اس کو پہلی باری دے دی جاتی تھی۔






کئی دفعہ تو وہ کلین بولڈ بھی ہو جاتا تو فیصلہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیتا۔ مزاج برہم ہونے کی صورت میں وہ اپنا بیٹ بال اوروکٹیں اٹھا کر کھلاڑیوں کو بے یار و مدد گار چھوڑ کر پتلی گلی سے نکل جاتا اور مستقبل کے عمران خان ا ور حنیف محمد منھ تکتے رہتےاس قسم کی بلیک میلنگ سے بچنے کے لیے اکثر بچے چندہ ا کٹھاکرکے ہلکا پھلکا سامان لے آتے تھے، جس میں کم از کم بلا اور ٹینس گیند ضروری ہوتے۔ وکٹوں کا اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہوتا تھا۔ پیچھے کوئی کرسی کھڑی کر لی جاتی تھی یا کسی قریبی دیوار پر کوئلے سے تین موٹی موٹی لکیریں کھینچ کر وکٹ بنا لی جاتی تھی، تاکہ کرکٹ کی رسمیں بھی پوری ہو جائیں اور کھیل کا بھرم بھی قائم رہے۔ سرکاری اسکولوں اور کالجز میں چند ہی ادارے ایسے تھے جہاں طلبا وطالبات کے لیے کھیل کود کے مواقع میسر تھے۔ ان میں بھی بیشتر اداروں میں نئے کلاس رومز تعمیر کرنے کے لیے گراؤنڈز کی جگہ کو ہی استعمال کیا گیا۔ شہروں میں پرائمری اسکولوں میں تو کھیل کے میدان کا تصور ہی نہیں تھا۔ 




بچے علاقوں میں کھلی جگہوں اور گلیوں میں جسمانی ورزش اور کرکٹ سمیت مختلف کھیلوں سے محظوظ ہوتے تھے جو ان کی ذہنی اور جسمانی نشونما کے لیے بے حد ضروری ہے۔ انہی گلیوں سے بڑے بڑے کھلاڑیوں نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر اپنا نام بنایا۔لاہور میں گورنمنٹ کالج اور اسلامیہ کالج سول لائنز کے درمیان ہونے والے کرکٹ کے مقابلے دیکھنے کے لیے لوگ شہر کے مختلف علاقوں سے گورنمنٹ کالج کے گراؤنڈ میں پہنچتے تھے۔ مگر آہستہ آہستہ اسکول اور کالج/ یونیورسٹی لیول پر کرکٹ سمیت مختلف کھیل محدود ہوتے گئے اور آج کھیلوں کے یہ مقابلے شاذونادر ہی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ قومی کھیل ہاکی اور سکواش میں پاکستان انتہائی پیچھے چلا گیا اور کرکٹ میں بھی ٹیلنٹ کی کمی کا رونا رویا جاتا ہے۔ باقی کھیلوں کے بارے میں تو حکومت نے کبھی سوچا بھی نہیں۔سرکاری اداروں کی سرپرستی میں قبضہ مافیا نے لاتعداد ایسی خالی زمینوں پر قبضہ کیا جہاں مقامی بچے مختلف گیمز کھیلتے دکھائی دیتے تھے۔ کئی میدانوں کو کھیلوں کے لیے وقف کرنے کے بجائے حکومت نے خود پلازے اور عمارتیں کھڑی کرنے میں پراپرٹی مافیا کی مدد کی یا پھر انہیں وہ جگہیں الاٹ کردیں۔


بیگم جہاں آرا شاہنوازکا تحریک پاکستان میں حصہ

    بیگم  جہاں آرا شاہنواز  ہند وستان کے ایک روشن خیال سیاسی گھرانے میں 7/  اپریل 1897ء کو باغبان پورہ لاہور میں پیدا ہوئیں۔آپ پاکستانی سیاستدان اور سماجی کارکن میاں سر محمد شفیع کی دختر تھیں۔آپ کے والد میاں محمد شفیع ایک  کشادہ زہن کے   بلند خیال آدمی تھے اس لیے انھوں نے جہاں آرا کی تعلیم پر خصوصی توجہ دی۔آپ کی والدہ امیر النساء بھی عورتوں کی تعلیم وترقی کے لیے ہمیشہ سرگرداں رہیں۔ابتدائی تعلیم کے بعدجہاں آرانے کوئین میری کالج کا رُخ کیا جہاں آپ کی صلاحیتیں کھل کر سامنے آئیں۔ 1914ء میں جہاں آرا سر شاہنواز بار ایٹ لا کے ساتھ رشتۂ ازدواج میں بندھ گئیں۔سر شاہنواز تحریک پاکستان کے اہم ارکان میں شامل تھے۔آپ متحدہ ہندوستان کی مرکزی اسمبلی کے رکن بھی رہے۔آپ اردو اور انگریزی زبان کی ادیبہ ہونے کے ساتھ ساتھ تحریک پاکستان کی سر گرم رکن بھی تھیں۔ بیگم جہاں آرا شاہنواز کا شمار بھی تحریک پاکستان میں نمایاں کردار ادا کرنے والی خواتین میں ہوتا ہے۔



ابتدائی تعلیم کے بعدجہاں آرانے کوئین میری کالج کا رُخ کیا جہاں آپ کی صلاحیتیں کھل کر سامنے  آئیں۔ 1914ء میں جہاں آرا سر شاہنواز بار ایٹ لا کے ساتھ رشتۂ ازدواج میں بندھ گئیں۔سر شاہنواز تحریک پاکستان کے اہم ارکان میں شامل تھے۔آپ متحدہ ہندوستان کی مرکزی اسمبلی کے ارکان بھی رہے۔جہاں آرا نے ابتدائی عمر سے سماجی کاموں میں دلچسپی لینا شروع کی۔ پہلی خاتون ہیں جو آل انڈیا مسلم لیگ کی ممبر بنیں۔ 1929ء میں لاہور میں سماجی اصلاحات کی کانفرنس کی نائب صدر چنی گئیں۔ 1933ء میں تیسری گول میز کانفرنس میں ہندوستان کی نمائندگی کے فرائض انجام دیے۔ 1941ء میں قومی دفاعی کونسل کی رکن منتخب ہوئیں۔ 1943ء تا 1945ء حکومت ہند کے محکمہ  اطلاعات کی جائنٹ سیکرٹری اورعورتوں کے شعبے کی انچارج رہیں۔ 1946ء میں پنجاب اسمبلی کی رکن منتخب ہوئیں۔ مسلم لیگ کی سول نافرمانی کی تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ 


  قیام پاکستان کے بعد مغربی پاکستان کی مجلس قانون ساز کی رکن چنی گئیں۔ آپ مسلمانوں کی نمائند ہ  بیگم جہاں آرا شاہنواز کو آل انڈیا مسلم لیگ کی پہلی خاتون رکن ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔ آل انڈیا مسلم لیگ کی خاتون سیاسی رکن ہونے کے باعث انھوں نے تینوں گول میز کانفرنسوں میں مسلمانوں کی نمائندگی کی۔ اس کے علاوہ لیگ آف نیشنز کے اجلاس سمیت آپ نے مزدوروں کی بین الاقوامی کانفرنس میں بھی شرکت کی۔ 1930ء میں برطانیہ سے جن اہم سیاسی رہنماؤں کو گول میز کانفرس میں مدعوکیا گیا تھا، ان میں بیگم جہاں آرا کے علاوہ اہل خانہ سے ان کے والد اور بیٹی ممتا ز شاہنواز نے بھی شرکت کی۔ قیام پاکستان سے قبل بیگم جہاں آرا کو دو مرتبہ پنجاب اسمبلی کا رکن منتخب کیا گیا جبکہ قیام پاکستان کے بعد وہ پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کی رکن منتخب ہوئیں۔بیگم جہاں آرا شاہنواز کی بیٹی ممتاز شاہنواز نے بھی مسلمانوں کے لیے علیحدہ ریاست کی جدوجہد کی۔  سیاسی و سماجی خدمات   'جہاں آرا نے ابتدائی عمر سے سماجی کاموں میں دلچسپی لینا شروع کی۔ آپ  پہلی خاتون ہیں جو آل انڈیا مسلم لیگ کی ممبر بنیں۔


 1929ء میں لاہور میں سماجی اصلاحات کی کانفرنس کی نائب صدر چنی گئیں۔ 1933ء میں تیسری گول میز کانفرنس میں ہندوستان کی نمائندگی کے فرائض انجام دیے۔ 1941ء میں قومی دفاعی کونسل کی رکن منتخب ہوئیں۔ 1943ء تا 1945ء حکومت ہند کے محکمہ اطلاعات کی جائنٹ سیکرٹری اورعورتوں کے شعبے کی انچارج رہیں۔ 1946ء میں پنجاب اسمبلی کی رکن منتخب ہوئیں۔ مسلم لیگ کی سول نافرمانی کی تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ جنوری 1947ء میں قید بھی کاٹی۔ قیام پاکستان کے بعد مغربی پاکستان کی مجلس قانون ساز کی رکن چنی گئیں۔ اپوا کے بانی ارکان میں سے تھیں اور اس کی نائب صدر بھی رہ چکی ہیں۔آپ اردو اور انگریزی زبان کی ادیبہ ہونے کے ساتھ ساتھ تحریک پاکستان کی سر گرم رکن بھی تھیں۔ اپوا کے بانی ارکان میں سے تھیں اور اس کی نائب صدر بھی رہ چکی ہیں۔آپ نے 27 نومبر 1979ء کو لاہور میں وفات پائی اور باغبان پورہ میں اپنے خاندانی قبرستان میں سر شاہنواز کے پہلو میں دفن ہوئیں

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

انقلاب چین جو چینی قوم کی نجات کا باعث بن گیا

  چین کے انقلاب میں تاریخی لانگ مارچ کو ایک سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے جو اکتوبر1934ء سے اکتوبر 1935ء تک جاری رہا۔ یہ لانگ مارچ چھے ہزار میل ط...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر