جمعہ، 17 اکتوبر، 2025

بیگم جہاں آرا شاہنوازکا تحریک پاکستان میں حصہ

    بیگم  جہاں آرا شاہنواز  ہند وستان کے ایک روشن خیال سیاسی گھرانے میں 7/  اپریل 1897ء کو باغبان پورہ لاہور میں پیدا ہوئیں۔آپ پاکستانی سیاستدان اور سماجی کارکن میاں سر محمد شفیع کی دختر تھیں۔آپ کے والد میاں محمد شفیع ایک  کشادہ زہن کے   بلند خیال آدمی تھے اس لیے انھوں نے جہاں آرا کی تعلیم پر خصوصی توجہ دی۔آپ کی والدہ امیر النساء بھی عورتوں کی تعلیم وترقی کے لیے ہمیشہ سرگرداں رہیں۔ابتدائی تعلیم کے بعدجہاں آرانے کوئین میری کالج کا رُخ کیا جہاں آپ کی صلاحیتیں کھل کر سامنے آئیں۔ 1914ء میں جہاں آرا سر شاہنواز بار ایٹ لا کے ساتھ رشتۂ ازدواج میں بندھ گئیں۔سر شاہنواز تحریک پاکستان کے اہم ارکان میں شامل تھے۔آپ متحدہ ہندوستان کی مرکزی اسمبلی کے رکن بھی رہے۔آپ اردو اور انگریزی زبان کی ادیبہ ہونے کے ساتھ ساتھ تحریک پاکستان کی سر گرم رکن بھی تھیں۔ بیگم جہاں آرا شاہنواز کا شمار بھی تحریک پاکستان میں نمایاں کردار ادا کرنے والی خواتین میں ہوتا ہے۔



ابتدائی تعلیم کے بعدجہاں آرانے کوئین میری کالج کا رُخ کیا جہاں آپ کی صلاحیتیں کھل کر سامنے  آئیں۔ 1914ء میں جہاں آرا سر شاہنواز بار ایٹ لا کے ساتھ رشتۂ ازدواج میں بندھ گئیں۔سر شاہنواز تحریک پاکستان کے اہم ارکان میں شامل تھے۔آپ متحدہ ہندوستان کی مرکزی اسمبلی کے ارکان بھی رہے۔جہاں آرا نے ابتدائی عمر سے سماجی کاموں میں دلچسپی لینا شروع کی۔ پہلی خاتون ہیں جو آل انڈیا مسلم لیگ کی ممبر بنیں۔ 1929ء میں لاہور میں سماجی اصلاحات کی کانفرنس کی نائب صدر چنی گئیں۔ 1933ء میں تیسری گول میز کانفرنس میں ہندوستان کی نمائندگی کے فرائض انجام دیے۔ 1941ء میں قومی دفاعی کونسل کی رکن منتخب ہوئیں۔ 1943ء تا 1945ء حکومت ہند کے محکمہ  اطلاعات کی جائنٹ سیکرٹری اورعورتوں کے شعبے کی انچارج رہیں۔ 1946ء میں پنجاب اسمبلی کی رکن منتخب ہوئیں۔ مسلم لیگ کی سول نافرمانی کی تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ 


  قیام پاکستان کے بعد مغربی پاکستان کی مجلس قانون ساز کی رکن چنی گئیں۔ آپ مسلمانوں کی نمائند ہ  بیگم جہاں آرا شاہنواز کو آل انڈیا مسلم لیگ کی پہلی خاتون رکن ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔ آل انڈیا مسلم لیگ کی خاتون سیاسی رکن ہونے کے باعث انھوں نے تینوں گول میز کانفرنسوں میں مسلمانوں کی نمائندگی کی۔ اس کے علاوہ لیگ آف نیشنز کے اجلاس سمیت آپ نے مزدوروں کی بین الاقوامی کانفرنس میں بھی شرکت کی۔ 1930ء میں برطانیہ سے جن اہم سیاسی رہنماؤں کو گول میز کانفرس میں مدعوکیا گیا تھا، ان میں بیگم جہاں آرا کے علاوہ اہل خانہ سے ان کے والد اور بیٹی ممتا ز شاہنواز نے بھی شرکت کی۔ قیام پاکستان سے قبل بیگم جہاں آرا کو دو مرتبہ پنجاب اسمبلی کا رکن منتخب کیا گیا جبکہ قیام پاکستان کے بعد وہ پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کی رکن منتخب ہوئیں۔بیگم جہاں آرا شاہنواز کی بیٹی ممتاز شاہنواز نے بھی مسلمانوں کے لیے علیحدہ ریاست کی جدوجہد کی۔  سیاسی و سماجی خدمات   'جہاں آرا نے ابتدائی عمر سے سماجی کاموں میں دلچسپی لینا شروع کی۔ آپ  پہلی خاتون ہیں جو آل انڈیا مسلم لیگ کی ممبر بنیں۔


 1929ء میں لاہور میں سماجی اصلاحات کی کانفرنس کی نائب صدر چنی گئیں۔ 1933ء میں تیسری گول میز کانفرنس میں ہندوستان کی نمائندگی کے فرائض انجام دیے۔ 1941ء میں قومی دفاعی کونسل کی رکن منتخب ہوئیں۔ 1943ء تا 1945ء حکومت ہند کے محکمہ اطلاعات کی جائنٹ سیکرٹری اورعورتوں کے شعبے کی انچارج رہیں۔ 1946ء میں پنجاب اسمبلی کی رکن منتخب ہوئیں۔ مسلم لیگ کی سول نافرمانی کی تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ جنوری 1947ء میں قید بھی کاٹی۔ قیام پاکستان کے بعد مغربی پاکستان کی مجلس قانون ساز کی رکن چنی گئیں۔ اپوا کے بانی ارکان میں سے تھیں اور اس کی نائب صدر بھی رہ چکی ہیں۔آپ اردو اور انگریزی زبان کی ادیبہ ہونے کے ساتھ ساتھ تحریک پاکستان کی سر گرم رکن بھی تھیں۔ اپوا کے بانی ارکان میں سے تھیں اور اس کی نائب صدر بھی رہ چکی ہیں۔آپ نے 27 نومبر 1979ء کو لاہور میں وفات پائی اور باغبان پورہ میں اپنے خاندانی قبرستان میں سر شاہنواز کے پہلو میں دفن ہوئیں

1 تبصرہ:

  1. تحریک پاکستان میں حصہ لینے والی خواتین کی اللہ پاک مغفرت فرمائے آمین

    جواب دیںحذف کریں

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

کہو دلہن بیگم ! ہمارا بھائ تمھیں کیسا لگا

  میں سہاگن بنی مگر    !نگین دلہن بنی مثل ایک زندہ لاش کے سر جھکائے بیٹھی تھی اس نے آج کے دن کے لئے بڑی آپا کے اور منجھلی آپا کے سمجھانے سے ...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر