منگل، 14 اکتوبر، 2025

وینزویلا تیل و گیس کی دولت سے مالا مال ہے۔

 

  اللہ پاک کی یہ دنیا نا جانے کب سے قائم اور دائم ہے 'نا جانے کتنی تہزیبیں آتی ہیں پھلتی پھولتی ہیں اور پھر صفحہ  ہستی سے مٹ جاتی ہیں لیکن    وینزویلا کے نام سے جانے والے  اس  خطہ ء زمین پر 15000 سال قدیم    انسانی رہائش کے شواہد موجود ہیں۔ اس دور میں مستعمل  اوزار مغربی وینزویلا میں ریوپیڈریگال دریا کے بلند کناروں پر پائے گئے ہیں۔ دیر سے پلائسٹوسین شکار کے نمونے، بشمول نیز وں   کا استعمال  -ریڈیو کاربن ڈیٹنگ کے مطابق، یہ تاریخیں 13,000 سے 7,000 قبل مسیح تک ہیں۔ یہ معلوم نہیں ہے کہ ہسپانوی فتح سے پہلے وینزویلا میں کتنے لوگ رہتے تھے۔ اس کا تخمینہ دس لاکھ تک لگایا گیا ہے۔ مقامی لوگوں کے علاوہ جن کو آج جانا جاتا ہے، اس آبادی میں تاریخی گروپس جیسے کالینا (کیریبس)، آوکی، کاکیٹیو، ماریچے اور ٹموٹو-کیوکا شامل تھے۔  ٹموٹو-کیوکا Timoto-Cuica ثقافت پری کولمبیائی وینزویلا کا سب سے پیچیدہ معاشرہ تھا، جس میں پہلے سے منصوبہ بند مستقل گاؤں تھے، جن کے چاروں  اطراف   کھیت تھے۔ ان کے گھر بنیادی طور پر پتھر اور لکڑی کے بنے ہوئے تھے جن کی چھتیں بھوسے کی تھیں لیکن  مظبوط تھیں ۔



وہ  ایک پرامن  معاشرے کے امین تھے اور ان کا گزر بسر موسم کی  فصلوں کو اگانے پر  ہوا  کرتا تھا  ۔  ان کی  علا قائی فصلوں میں آلو اور آلوکو (ایک مقامی سبزی) شامل تھے۔ انھوں نے آرٹ کے بہت سے نمونے چھوڑے، خاص طور پر چینی کے برتن، لیکن کوئی بڑی یادگار عمارت  نہیں بنائی۔ وہ ٹیکسٹائل اور رہائش کے لیے چٹائیوں میں بُننے کے لیے سبزیوں کے ریشے کاتتے تھے۔ انھیں اریپا ایجاد کرنے کا سہرا جاتا ہے، جو وینزویلا کے کھانوں کا ایک اہم حصہ ہے۔فتح کے بعد، آبادی میں نمایاں کمی واقع ہوئی، خاص طور پر یورپ سے نئی متعدی بیماریوں  نے ان کے معاشرے  کی آبادی کو کم کیا  ۔ کولمبیا سے پہلے کی آبادی کے دو اہم شمال-جنوبی محور موجود تھے، جنھوں نے مغرب میں مکئی اور مشرق میں مین یوک کی کاشت کی۔ وینزویلا کا بیشتر رقبہ جنگل، چراہ گاہ، گھاس میدان اور پہاڑ پر مبنی ہے۔ وینزویلا اقوام متحدہ (UN)، آرگنائزیشن آف امریکن سٹیٹس (OAS)،  جنوبی امریکا کی قوموں کی یونین (UNASUR)، مرکوسول Mercosur،  بولیویرین اتحاد (ALBA)، لاطینی امریکی ایسوسی ایشن (LAIA) اور آئیبیرو امریکی ریاستوں کی تنظیم (OEI)  کا چارٹر ممبر ہے۔



براعظمی خطہ شمال میں بحیرہ کیریبین اور بحر اوقیانوس، مغرب میں کولمبیا، جنوب میں برازیل، شمال مشرق میں ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو اور مشرق میں گیانا سے متصل ہے۔ وینزویلا ایک صدارتی جمہوریہ ہے جو 23 ریاستوں، کیپٹل ڈسٹرکٹ اور وفاقی علاقے پر مشتمل ہے جس میں وینزویلا کے سمندری جزائر بھی شامل ہیں۔ وینزویلا لاطینی امریکا کے سب سے زیادہ شہری آبادی والے ممالک میں شامل ہے۔ اس کے دار الحکومت کا نام کاراکاس ہے۔ وینزویلا کی کرنسی کا نام بولیوار ہے۔ وینزویلا کی اکثریت شمال کے شہروں اور دار الحکومت میں رہتی ہے۔اقوام متحدہ کے شعبہ شماریات کے مطابق 2012 میں وینزویلا کی آبادی 29,954,782 تھی۔ وینزویلا کا رقبہ 916,445 مربع کلومیٹر (353,841 مربع میل) ہے۔ وینزویلا ایک مرکزی آمرانہ ریاستی حکمرانی کے تحت ایک وفاقی صدارتی جمہوریہ ہے۔ اس کے موجودہ صدر نکولس مدورو ہیں اور نائب صدر ڈیلسی روڈریگیز ہیں۔


 ·


    وینزویلا تیل و گیس کی دولت سے مالا مال ہے۔ ملکی کنوؤں میں 300,878 ملین بیرل تیل محفوظ ہے۔ وینزویلا کے بعدسعودی عرب (266455) کا نمبر آتا ہے-کینیڈا (169709)وینزویلا ایک ترقی پزیر ملک ہے جس کے پاس دنیا کے سب سے بڑے معلوم تیل کے ذخائر ہیں اور یہ دنیا کے سب سے بڑے تیل برآمد کنندگان میں سے ایک رہا ہے۔ پہلے، ملک کافی اور کوکو جیسی زرعی اجناس کا ایک چھوٹا برآمد کنندہ تھا، لیکن تیل تیزی سے برآمدات اور حکومتی محصولات پر حاوی ہو گیا۔ ملک ریکارڈ افراط زر، بنیادی اشیا کی قلت، بے روزگاری، غربت، بیماری، بچوں کی شرح اموات، غذائی قلت، سنگین جرائم اور بدعنوانی کے ساتھ جدوجہد کر رہا ہے۔ ان عوامل نے وینزویلا کے پناہ گزینوں کے بحران کو جنم دیا ہےجہاں ستر لاکھ سے زیادہ لوگ ملک چھوڑ کر چلےگئے ہیں۔ سنہ 2017ء تک، وینزویلا کو کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں کے ذریعے قرض کی ادائیگیوں کے سلسلے میں ڈیفالٹ قرار دیا گیا تھا۔ وینزویلا کے بحران نے انسانی حقوق کی تیزی سے بگڑتی ہوئی صورت حال کو بڑھاوا دیا ہے۔اور لوگ نقل مکانی  کو یا بیرون ملک چلے جانے کو بہتر سمجھنے لگے ہیں 

پیر، 13 اکتوبر، 2025

کہاں ملیں گے اب ایسے لوگ ؟

  لاہور سے ملتان جانے والی بس دیپالپور چوک اوکاڑہ  پر رکی اور ایک بارعب چہرہ , اور خوبصورت شخصیت کا مالک نوجوان اترا اسے سول ریسٹ ہاؤس جانا تھا ،اس نے آس پاس دیکھا تو کوئ سواری نظر نہ آئ مگر ایک تانگہ جو کہ چلنے کو تیار تھا نوجوان نے اسے آواز دے کر کہا کہ اسے بھی سول ریسٹ ہاؤس تک لیتے جائیں مگر کوچوان نے صاف انکار کر دیا ، نوجوان نے  التجائیہ الفاظ میں کوچوان سے پھر کہا تو اس نے سخت لہجے میں یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ آگے پھاٹک پر ایک سنتری کھڑا ہے وہ مجھے نہیں بخشے گا لہذا میں چار سواریوں سے زیادہ نہیں بٹھا سکتا تانگے میں بیٹھی سواریوں نے جب نوجوان کو بے بس دیکھا تو کوچوان سے کہا کہ ہم سب مل کر اس نوجوان کی سفارش کریں گے لہذا اسے بھی ساتھ بٹھا لیں,  کوچوان نے نہ چاہتے ھوۓ بھی نوجوان کو سوار کر لیا, جب پھاٹک آیا تو پولیس والے نے سیٹی بجا کر تانگہ روک لیا


   سنتری کوچوان پر برس پڑا کہ اس نے 4 سے زیادہ سواریوں کو تانگے میں کیوں بٹھایا  ؟ کوچوان نے 5ویں سواری کی مجبوری  بیان  کی مگر پولیس والےکا لہجہ تلخ سے تلخ ھوتا گیا۔ نوجوان نے 5 روپے کا نوٹ کوچوان کو دیا کہ سنتری کو دے کر جان چھڑاؤ ۔مگر جب سنتری نے 5روپے دیکھے تو وہ اور بھی زیادہ غصے میں آگیا اس نے کوچوان سے کہا کہ تم نے مجھے رشوت کی پیش کش کی ہے جوکہ ایک جرم ھے لہذا اب تمہارا لازمی چالان ھو گا,سنتری نے کہا کہ اگر یہی سب کچھ کرنا تھا تو پاکستان ہی کیوں بنایا ؟یہ کہہ کر اس نے کوچوان کا چالان کر دیا , تانگہ چلا گیا ۔سول ریسٹ ھاؤس کے قریب نوجوان اترا تو اس نے کوچوان سے کہا کہ یہ میرا کارڈ رکھ لو اور کل نو بجے ادھر آجانا میں تمہارا جرمانہ خود ادا کروں گا ۔اگلی صبح 9بجے کوچوان سول ریسٹ ھاؤس پہنچا تو پولیس کے جوانوں نے اگے بڑھ کر کوچوان کو خوش آمدید کہا


اور پوچھا کہ گورنر صاحب سے ملنے آۓ ھو؟کوچوان کیا جانے کہ گورنر کیا ھوتا ھے ۔ پولیس کے جوان کوچوان کو دفتر کے اندر لے گۓ رات والے نوجوان نے کوچوان سے اٹھ کر مصافحہ کیا اور بیٹھنے کو کہا پھر اپنے پاس بیٹھے ڈی سی او کو رات والا واقعہ سنایا ,نوجوان نے رات والے سنتری کو فورا طلب کیا اور ڈی سی او کوحکم دیا کہ اس ایماندار پولیس والے جوان کو فورا ترقی دے کر تھانہ صدر گوگیرہ کا ایس ایچ او تعینات کرو ۔اور کوچوان کا جرمانہ بھی اپنی جیب سے ادا کیا ۔اپنی جیب سے جرمانہ ادا کرنے والا وہ نوجوان سردارعبدالرب نشتر گورنر پنجاب تھے ۔ وہی  سردار عبد الرب نشتر جنہوں  نے مسلم لیگ کیلیے بے شمار خدمات سر انجام دیں اور وہ  قائد اعظم محمد علی جناح کے دست راست اور ایمانداری کی اعلی مثال سمجھے جاتے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد قائد اعظم نے انھیں پہلا وزیر مواصلات بنایا پھر انھیں پنجاب کا گورنر بنایا گیا -


خان لیاقت علی خان کی شہادت کے بعدسردارعبدالرب نشترکو   مرکزمیں وزیربننے کی پیشکش کی گئی لیکن ان لوگوں کے ساتھ چلنا سردارصاحب کے لیے ممکن نہ تھاجس کی وجہ سے آپ نے معذرت کرلی۔سردارعبدالرب نشترکی دورس نظر ان حالات کابغور مشاہدہ کررہی تھی،ان کے لیے ایک راستہ تھااور انہوں نے بہت جلد حزب اقتدارسے حزب اختلاف  کے خیمے میں آن بیٹھے اور آج تک بیٹھے ہیں اور غلامی زدہ،بدعنوان ،مفادپرست اورنااہل لوگ اقتدارکے جھولے میں حکومت   کے مزے لے رہے ہیں ۔   تحریک پاکستان کایہ مرد مجاہد14فروری1958ء کو داعی اجل کو لبیک کہہ گیا۔انہیں قائداعظم محمد علی جناح کے مزارکے ساتھ ہی دفن کیاگیا۔سردارعبدالرب نشتربہت اچھے سیاستدان ہونے کے ساتھ ساتھ شاعر بھی تھے،کراچی میں ان کے نام ایک پارک”نشترپارک”اوران کے نام کی ایک سڑک”نشترروڈ”بھی موجود ہے۔

یہ تحریر انٹر بیٹ کی مدد سے لکھی گئ

ٹیکس، بجلی نرخوں میں اضافہ، خیبرپختونخوا کی ماربل فیکٹریاں بند

  ٹیکس  ہمارے یہاں ماربل  کی بزنس ایک بڑی صنعت شمار ہوتی ہے'لیکن شومئ قسمت کہ ٹیکسز کی بے جا بھرمار  ، بجلی نرخوں میں خوفناک اضافے نے ، خیبرپختونخوا کی ماربل فیکٹریز کو  تباہی کے گڑھے میں پھینک دیا ہے-مردان انڈسٹری ایسوسی ایشن کے سیکریٹری جنرل منیب الرحمٰن انہوں نے بتایا کہ صوبے کے مختلف اضلاع میں اس وقت تقریباً 3800 سے لے کر 4000 تک ماربل فیکٹریاں ہیں، جن میں سے تقریباً 60 فیصد تک بند ہو چکی ہیں۔عبدالستار abdulsattar2004@  منگل 30 جولائی 2024 10:45 خیبر پختونخوا میں سنگ مرمر (ماربل) کی صنعت سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ ٹیکسوں اور بجلی کی قیمت میں اضافے کی وجہ سے نصف سے زیادہ کارخانے بند ہو گئے ہیں، جس کی وجہ سے اس انڈسٹری سے وابستہ افراد مالی مشکلات کا شکار ہیں۔مردان انڈسٹری ایسوسی ایشن کے سیکریٹری جنرل اور ماربل کارخانے کے مالک منیب الرحمٰن نے انڈیپنڈنٹ اردو کو بتایا کہ اس وقت ملک کی جو مجموعی معاشی صورت حال ہے، اس میں تعمیرات کا شعبہ بہت متاثر ہوا ہے اور اس کا براہ راست اثر سنگ مرمر کی صنعت پر بھی پڑا ہے



انہوں نے بتایا کہ حالیہ بجٹ میں کارخانوں پر میکسیمم ڈیمانڈ انڈیکیٹر (ایم ڈی آئی) کی قیمت میں بہت زیادہ اضافہ کیا گیا، جو 500 روپے سے بڑھ کر 1250 روپے ہوگیا ہے۔ اسی طرح مختلف ٹیکس اور بجلی کی فی یونٹ قیمت بھی بڑھ رہی ہے، جس کی وجہ سے یہ صنعت بہت زیادہ مشکلات کا شکار ہے۔بقول منیب الرحمٰن: ’خیبر پختونخوا میں صرف واحد یہ ماربل انڈسٹری ہے، جس کی مائننگ سے لے کر آخری پروڈکشن تک سب کچھ خیبرپختونخوا میں ہی بن رہا ہے، جس کی وجہ سے بہت زیادہ لیبر اس سے وابستہ ہے۔‘ انہوں نے بتایا کہ مردان انڈسٹریل سٹیٹ میں 400 سے زائد فیکٹریز ہیں، جن میں سے تقریباً 120 بند ہو چکی ہیں اور مزید بھی بند ہوتی جا رہی ہیں، جس سے مزدوروں کو بہت زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔منیب الرحمٰن کے مطابق ایک فیکٹری میں ہمارے پاس تقریباً 15 سے 20 لوگ ہوتے ہیں، جن میں مینیجر اور مشین پر کام کرنے والے مزدور شامل ہیں۔ اس کے علاوہ لوڈنگ کرنے والے، وزن کانٹے والے لوگ، ٹرانسپورٹ انڈسٹری والے اور مائںنگ انڈسٹری والے لوگ بھی کارخانوں کی بندش سے متاثر ہوئے ہیں۔



بجلی کے نرخوں اور ٹیکسوں میں اضافے سے پریشان سنگ مرمر کی صنعت سے وابستہ افراد کے مطابق حکومت کو چاہیے کہ ماربل انڈسٹری کو ایک سپیشل ریلیف پیکج دیا جائے، جس سے یہ شعبہ چل سکے ماربل انڈسٹری بیٹھ جانے سے تقریباً سوا لاکھ مزدور بے روزگار ہوچکے ہیں۔ اسی طرح اگر ہم دیگر لوگوں کا موازنہ کریں تو خیبرپختوںخوا میں اس روزگار سے تقریباً تین سے چار لاکھ لوگ منسلک ہیں اور اب ان کے گھروں کے چولہے تقریباً بجھنے والے ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ ماربل انڈسٹری کو ایک سپیشل ریلیف پیکج دیا جائے، جس سے یہ شعبہ چل سکے۔ضلع نوشہرہ سے تعلق رکھنے والے ایک ماربل کارخانے کا مالک عرفان خان نے اس حوالے سے بتایا کہ حکومت کی جانب سے ایم ڈی آئی میں حالیہ اضافے سے نہ صرف سنگ مرمر کی انڈسٹری بند ہونے جا رہی ہے بلکہ دیگر انڈسٹریاں بھی بند ہوگئی ہیں۔



پشاور کی ماربل انڈسٹری ایسوسی ایشن کے صدر ہمت شاہ نے بتایا کہ صوبائی دارالحکومت میں پچاس فیصد سے زائد کارخانے بند ہوگئے ہیں اور مزید آئے روز بند ہوتے جا رہے ہیں جبکہ زیادہ تر کارخانوں نے بجلی منقطع کر دی ہے۔انہوں نے بتایا کہ بجلی کی فی یونٹ قیمت اور رائلٹی ٹیکس میں اضافے کی وجہ سے انڈسٹری کا پہیہ مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ضلع بونیر میں واقع ایک ماربل کارخانے کے مالک خورشید خان نے بتایا کہ اس وقت ضلعے میدوسوپندرہ 215 کارخانے حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے بند ہوگئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ بجلی کے نرخوں، ایم ڈی آئی میں بے تحاشہ اضافے اور رائلٹی میں اضافے کی وجہ سے مالکان مجبوری میں کارخانے بند کر رہے ہیں، جس سے لاکھوں مزدور بے روزگار ہو رہے ہیں۔  ماربل فیکٹری میں کام کرنے والے باجوڑ کے رہائشی شیر محمد نے بتایا کہ وہ پچھلے 10 سال سے ماربل کے کارخانوں میں لوڈنگ کا کام کر رہے ہیں لیکن اب بجلی کے نرخوں میں اضافے کی وجہ سے کارخانے بند ہوگئے ہیں، جس کی وجہ سے ہماری دیہاڑی اب نہیں لگتی۔انہوں نے بتایا کہ ’اس طرح کے حالات کبھی نہیں دیکھے


اتوار، 12 اکتوبر، 2025

شامیل کے ساتھ انتہائ عجلت میں حادثاتی شادی

 



 شامیل کے ساتھ انتہائ عجلت میں حادثاتی شادی نےاس کو زہنی اور جسمانی دونوں طرح سے بے حد تھکا دیا تھا ،جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جب شامیل نے رات گئے کمرے میں آکے اس کواس کے ماضی کے زہر بھرے کچوکے دئے تو اس کے زہن نے مزید بوجھ اٹھانے سے انکار کردیا کیونکہ اسکا د ماغ اب مذید بو جھ اٹھا نے سےقا صر ہو چکا تھا جس کا نتیجہ اب ظاہر ہو ا اس کو پتا ہی نہیں چلا کہ کب وہ بے ہوش ہوگئ البتّہ جب اسے ہوش آیا تو کمرے میں گھپ اندھیرا چھایا ہواتھا اور تمام  ماحول پر رات کی  خاموشی طاری تھی اور اس کے ہاتھوں اور پیروں کی طاقت سلب ہو چکی تھی ,کچھ دیرتو اس کی سمجھ ہی میں نہیں  آیا کہ کہ وہ کہاںپر ہے ؟ اورایک اجنبی گھر میں کیوں ہے ؟ اپنی بڑی آپا کے گھر کیوں نہیں ہے پھر جب کچھ, کچھ اس  کے حواس واپس ہونے لگے تو اس کو یاد آیا کہ اس کی شادی ہو چکی ہے اور اب وہ بڑی آپا کے گھر کے بجائے شامیل کے گھر میں موجود ہے ،پھر اس کے لئےتختہء دار پر گزرتی ہوئ اس شب مرگ و سوگ میں  اس کا دھیان یعسوب کی جانب  چلا گیا جو اس کو حالات کے منجھدھارمیں مر ،مر کے جینے اور جی، جی کے مرنے  کے لئےتنہا  چھوڑکرچلا گیا تھا  


اس نے سوچا کہ یعسوب کے بجائے اگر وہ مرجاتی تو کتنا اچھّا ہوتا بے اختیار اس کی آنکھوں سے اپنی بے بسی پر آنسوؤں کی جھڑی لگی تو اس نے آنسو پونچھنے کے لئے اپنے ہاتھ کو جیسےہی جنبش دی اس کی کلائیوں میں موجود کانچ کی چوڑیاں کھنک اٹھیں اور اس نے اپا ہاتھ وہیں پر رو ک دیا اورسنبھل کر سو چا کہ کہ کہیں اس کے رونے سے کارپٹ پر سوئے ہوئے شامیل کی آنکھ نا کھل جائے اور پھر ایک نیا ہنگامہ کھڑا ہو جائےاس لئے اس نے خاموشی سے اپنے آنسوؤں کویونہی بہتے رہنے دیا اوریہ آنسو بہتے ہوئے اس کا تکیہ بھگوتے رہے اور اسی طرح وہ ناجانے کب نیند کی آغوش میں چلی گئ ,, اور پھر صبح سویرے جب اس کی آ نکھ کھلی تواس نے سب سے پہلے بیڈ پر پھیلی ہوئ اپنی, یعسوب کے ساتھ منگنی کی تمام بے تر تیب ا لٹی اور سیدھی پڑی ہوئ وہ ار مان بھرے جذبوں سے کھینچی ہوئ تصاویرجو اس وقت ان دونو ں کی زندگی کا یادگار ترین موقع تھا , جلدی جلدی سمیٹ کر تکئے کے نیچے چھپا دیں 



اور پھر اللہ کا شکر ادا کیا کہ شامیل کے سو کر اٹھنے سے پہلے ہی وہ خود اٹھ گئ , تصویریں رکھنے کے بعد اس نے آہستگی سے بیڈ سے اتر کر  جہیز کا سوٹ کیس کھول کر اس میں سے گھر کے پہننے کے لئے سادہ جوڑا نکالا, حالانکہ اس کی ہر حرکت آہستہ آہستہ ''سے ہی عبارت تھی لیکن پھر بھی کلائیوں میں پہنی ہوئ کانچ کی چوڑیاں انہیں روکنے کے باوجود کھنک جانے سے شامیل کی آنکھ کھل گئ اور اس نے  کمرے میں پھیلی ہوئ ملگجی روشنی میں کارپٹ پرسوٹ کیس کھولے بیٹھی ہوئ نگین کو نیم وا آنکھوں سے دیکھا لیکن پھروہ جان بوجھ کر سوتا ہی بنا پڑا رہا  , اور پھروہ وہا ں سے اپنے کپڑے لے کر فورا ہی چلی گئ ،اور پھر ڈ ریسنگ روم سے تیّار ہو کر کمرے میں آئ تو شامیل کمرے سے جا چکا تھا ,اس نے شامیل کے کمرے سے یوں چلے جانے پر اللہ کا شکر ادا کیا اورایک بار پھر بیڈ پر بیٹھ کر کمرے کا جا ئزہ لیا اس وقت حجلہء عروسی میں گزری ہوئ رات کے گلاب کے سارے تازہ مہکتے ہوئے پھولو ں پر مردنی چھائ ہوئ تھی



اورموتئے کی کھلکھلاتی ہوئ تازہ معطّر کلیوں نے سہاگ رات کی سونی سیج کے سرہانےاپنی ہی بانہوں میں اداسی سے سر نیہو ڑا دیا تھا ریشمی حریری پردے اس طرح ساکت تھے جس طرح جنازہ اٹھنے سے پہلے ماحول کو سکوت ہوتا ہے اور پردوں میں کالے کوبراجنکی لال لال زبانیں رات کے اندھیرے میں اس کی طرف لپک رہی تھیں اب پردوں سے لپٹے ہوئے سو رہے تھے اور کمرے میں ہر جگہ شامیل کی نفرت کی چنگاریا  ں چٹختی پھر رہی تھیں اور اس کی سہاگ رات زندگی بھر کا سوگ بن کر گزر گئ تھی اورپھر اس سے پہلے کہ اسکی وحشت اور بھی دو چند ہو جاتی ,,کہ کمرے کے دروازے پر دستک ہوئ ،اور وہ اپنی جگہ سےاٹھ کر دروازے کی جانب بڑھی ,دروازہ بند تو تھا نہیں ادھ کھلا تھا ،چناچہ ربیکا دستک دے کراندر آ گئیں  اس نے فوراً ربیکا کو مودّبانہ سلام کیا تو ربیکا نے اسے گلے سے لگایا اور ماتھے پر پیار کر کے مسکراتے ہوئے کہنے لگیں........ ،کہو دلہن بیگم تمھیں ہمارا بھائ کیسا لگا  

میری مطبوعہ ناول میں سہگن بنی 'مگر!سے اقتباس 

پولیس ابّا کا دھڑکتا دل ساتھ لے گئ

 


 منجھلی آپا  کو اب بلکل چپ لگ گئ تھی کیونکہ ان کی سسرال سے اب کوئ بھی رفاقت بھائ سمیت  ان سے رابطے میں نہیں تھا ان حالات میں منجھلی آپا ا کا دلگرفتہ ہونا اپنی جگہ بلکل درست تھا اور کسی کسی وقت وہ ہم سب سےچھپ کر اکیلے میں روتی بھی تھیں ایسے میں ایک دن فریال بجّو نے امّاں سےآ کر کہا امّاں  !منجھلی آپا رو رہی ہیں  ،،بس امّاں فوراً  سارے کام چھوڑ کر منجھلی آ پا کے پاس پہنچ گئیں  اور انہوں نے منجھلی آپا سے پیاربھری ڈانٹ کے لہجے میں کہا  تجھے پہلے بھی کہ چکی ہوں مت رویا کر  ابھی تو زچّہ ہے  تیرا بال بال کچّا ہے  -زچّہ خانے میں رونے سے "پربال" ہوجاتے ہیں آنکھوں میں ،،امّاں کی بات کے جواب میں میں نے چپکے سے قریب بیٹھی نرگس آپی سے پوچھا آپی پر بال کیا ہوتے ہیں ،نرگس آپی نے کہا مجھے نہیں معلوم لیکن فریال بجّو نے چپکے سے جواب دیا ڈلیوری کے دنوں میں رونےسے پلکیں جھڑ جاتی ہیں اوردوبارہ نہیں آتیں  میں نے فوراً اپنے کمرے میں آ کر آئینہ میں اپنی پلکیں دیکھیں مجھے لگا بیٹی مجھلی آ پا کے یہان نہیں بلکہ میرے یہاں ہوئ ہے اور میں رو رہی ہوں اور میری پلکیں جھڑ گئ اورپھرمنجھلی آپا کے دکھ پر میری آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے  اور مجھے امّاں کی آوز آئ 


 -ارے نگین کہاں ہو آ کر زرا کام میں تو ہاتھ لگاؤ اور میں امّاں کی آواز    پر فوراً ان کے پاس چلی گئ بالآخرمنجھلی آپا کو آئے ہوئے جب مہینے سے اوپر وقت گزرا تب امّا  ں نے ان سے کہا     منجھلی  تیّاری کر لو ،بس منجھلی آپا نے بغیرکسی حیل حجّت کے امّاں کے حکم کی تعمیل کی ہم بہنوں نے بھی منجھلی آپا کاسامان رکھوانے میں مدد کی اور پھر بھیّا منجھلی آپا کو ان کی سسرال چھوڑکر آ گئے اور وقت پھر کچھ مہینے دبے پاؤں گزر گئے  اب منجھلی آپا ہمارے گھر بہت کم آتی تھیں   کہ اچانک  ہم سب کو ایک بڑی خوشخبری سننے کو ملی کہ منجھلی آپا کے گھر بس سال پیچھے  بیٹا بھی آگیا  -چھٹی بہت دھوم دھام سے منائ گئ اور چھٹی والے دن رفاقت بھائ نےمنجھلی آپا کو    سونے کے کنگن پہنائے اوران کی سسرال میں خوشی کے شادیانے بج اٹھے  اب اماں       ہر وقت  خوش رہنے لگیں اور چھٹی میں شریک ہونے کے لئے اپنی گلابی گڑیا کے ساتھ بڑی آپا  بھی آ گئیں تھیں -اور ہم بہنوں کے آزردہ دل منجھلی آپا کی سسرال میں قدر دانی سے نہال ہو گئے تھے اب وقت ہنسی خوشی گزر رہا تھا     کہ اچانک  ہمیں معلوم ہوا کہ  بھیّا  سیاست کی خار زار وادی میں قدم رکھ  چکے تھے



اور پھر ،ایک رات یہ ہوا کہ ابّا سے چھپ کر انہوں نے امّاں سے کہا کہ وہ ایک دوست کے ساتھ اس کے گھر کی شادی میں شرکت کے لئے دوسرے شہرجا رہے  ہیں اور چند روز بعد ہی انکی واپسی ممکن ہوسکے گی -بھیّا کی بات پراس وقت نا جانے کیوں امّا ں کے چہرے پر  کچھ تشویش کے سائے لرزاں ہوئے تھے, بھیّا کی سواری باہر تیّار تھی اس لئےامّاں کچھ کہ نہیں سکیں ،  لیکن صبح نور کے تڑکے پولس نے ہمارے گھر پر بھیّا کی تلاش میں چھاپا جومارا تو ابّا پر عقدہ کھلا کہ بھیّا کی گرفتاری کے لئے پولس ہمارے گھر پر  آئ ہے ,امّاں نے تو بھیّا کے اس طرح گھر سےجانے کی خبر بھی ابّا کی گرتی ہوئ  صحت کی خا طر چھپا ئ تھی لیکن پولس کی آ مد کو بھلا کیسے چھپاتیں ،  بھیّا تو گھر سے جا ہی چکے تھےاورپولس کو گھر سے خالی ہاتھ تو جانا نہیں       تھا   وہ ابّا کا دھڑکتا دل ساتھ لے گئ ،امّاں نے بیوگی کی چادر اوڑھ کر اپنا دل سنبھال کر ہم بیٹیوں سے کہا  خبردار جو کسی نے رونا دھونا مچایا ،رونے سے مرنے والے کو تکلیف ہوتی ہے  اور ہم بیٹیاں اپنے خون کے آنسو پی کر سسکیا ں لیتے اور آنسو پونچھتےہوئےابّا کی قبر کی کشادگی اور نور کے لئے پڑھنے بیٹھ گئےتھے  


   ویسے تو ہم سب بیٹیاں ہی ابّا سے بے حد قریب تھیں لیکن فریال بجّو خاص  طور پرایک چھوٹے بچّے کی طرح ابّّا کی روح اور جان تھیں جب تک ابّا دفترسے گھر نہیں آجاتے تھے وہ کھانا نہیں کھاتی تھیں ,ابّا کی موت پر فر یال بجّو کو سکتہ ہو گیا تھا  امّا ں نے ہم بہنوں ایک نظر  دیکھا اور پھر مجھ سے پوچھا فریال  کہاں ہے میں نے لاعلمی کا اظہا رکیا تو امّاں نے کہا اٹھ کر دیکھواور میں امّاں کی ہدائت پر اٹھ گئ فریال بجّو کو کمروں میں, ,اورہر جگہ دیکھ کر جب اسٹور روم میں آئ تو میں نے فریال بجّو کو دیکھا وہ اسٹور روم کی دیوار سے ٹیک لگائے سامنے ٹانگیں پسارے بلکل خاموش اپنے ہوش  حواس سے بیگانہ بیٹھی ہوئ سامنے دیوار کو پلکیں جھپکائے بغیر دیکھے جا رہی تھیں ،میں نے کہا فریال بجّو امّاں کہ رہی ہیں ابّا کے لئے سپارہ پڑھنا ہے تو  فریال بجّو میری بات کے جواب میں ایسی بنی رہیں جیسے انہوں نے کچھ سنا ہی     نہیں ہو پھر میں نے فریال بجّو کے قریب بیٹھ کر ان کاشانہ ہلا کر کہا فریال بجّو  امّاں آپ کو بلا رہی ہیں اور میرے ہلانے سے فریال بجّو سوکھی ٹہنی کی طرح  زمین پر گر گئیں اورپھر ایکدم میری چیخ گھر میں گونجی امّا ں فریال بجّو  اور میں چیخ چیخ کر رونے لگی


ہفتہ، 11 اکتوبر، 2025

نوبل انعام کی کہانی

 

نوبل انعام کا بانی الفریڈ نوبل  سویڈن میں پیدا ہوا لیکن اس نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ روس میں گزارا۔ ڈائنامائٹ الفریڈ نوبل ہی نے ایجاد کیا۔بتایا جاتا  ہے ا س نے تین سو پچاس ایجادات  دنیا کو دی ہیں اس نے شادی بھی اسی لئے نہیں کی کیونکہ وہ اپنی زندگی  میں  دنیا ک کو نت نئ ایجادات دینا چاہتا تھا -لیکن وہ اپنی موت سے بھی غافل نہیں تھا اس نے دیکھا کہ اس کی ایجادات  سے ملنے والاپیسہ  اور ڈائنامائٹ سے کمائی گئی دولت کو دنیا کے فائدے کے لئے کیسے استعمال کر سکتا ہے -اس کی وفات کے  وقت اس کے اکاؤنٹ میں 90 لاکھ ڈالر کی رقم تھی۔اس کی تمام دولت کی رقم 31 ملین سویڈیش کراؤن تھی جو امریکی ڈالر 220ملین کے برابر تھی۔ اسے ابتدائی پانچ انعامات کے لیے مختص کر دیا گیا۔ نوبل پرائز کی بنیاد جب پہلی بار 1901ء میں پڑی تو یہ انعام 4ء1ملین کے ایک چیک‘ ایک طلائی میڈل اور ایک ڈپلوما کے عطایا پر مشتمل تھا۔موت سے قبل الفرڈ نے اپنی وصیت میں لکھ دیا تھا کہ اس کی یہ دولت ہر سال ایسے افراد یا اداروں کو انعام کے طور پر دی جائے 



جنہوں نے گزشتہ سال کے دوران میں طبیعیات، کیمیا، طب، ادب اور امن کے میدانوں میں کوئی کارنامہ انجام دیا ہو۔اس وصیت کے تحت فوراً ایک فنڈ قائم کر دیا گیا جس سے حاصل ہونے والا منافع نوبل انعام کے حق داروں میں تقسیم کیا جانے لگا۔ 1968ء سے نوبل انعام کے شعبوں میں معاشیات کا بھی اضافہ کر دیا گیا ہے۔ نوبل فنڈ کے بورڈ کے 6 ڈائریکٹر ہیں جو دو سال کے لیے منتخب کیے جاتے ہیں اور ان کا تعلق سویڈن یا ناروے کے علاوہ کسی اور ملک سے نہیں ہو سکتا۔نوبل فنڈ میں ہر سال منافع میں اضافے کے ساتھ ساتھ انعام کی رقم بھی بڑھ رہی ہے۔ 1948ء میں انعام یافتگان کو فی کس 32 ہزار ڈالر ملے تھے، جب کہ 1997ء میں یہی رقم بڑھ کر 10 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی۔نوبل انعام کی پہلی تقریب الفریڈ کی پانچویں برسی کے دن یعنی 10 دسمبر 1901ء کو منعقد ہوئی تھی۔ تب سے یہ تقریب ہر سال اسی تاریخ کو ہوتی ہے۔سویڈش گورنمنٹ بھی نہیں چاہتی تھی کہ اس کی دولت ملک سے باہر جاۓ لیکن کیا کیا جا سکتا تھا۔ اس نے فزکس ، کیمسٹری ، فزیالوجی یا میڈیسن ، ادب اور امن پر عظیم کام کرنے پر  'نوبل پرائز' دینے کی وصیت کی تھی ایسا عظیم کام جو انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے ہو۔



پہلی بار یہ انعام 1901ء میں دیا گیا تھا۔1968 ء میں اکنامکس سائنس  کا نوبل انعام بھی شامل کیا گیا جس کا انتظام سویڈش سنٹرل بینک کرتا ہے۔انعام یافتگان کو صیغہ راز میں رکھا جاتا ہے۔  تمام دنیا کے ہزاروں نامزد افراد کو مدعو کیا جاتا ہے یہ افراد یونیورسٹیوں کے پروفیسرز اور  ماضی کے نوبل انعام یافتگان ہوتے ہیں۔یہی  'لا ریٹس ' کو نامزد کرتے ہیں۔یعنی مستقبل کا نوبل انعام حاصل کرنے والوں کو نامزد کرتے ہیں ۔پھر ایک کمیٹی بنائی جاتی ہے جو تحقیق کر کے اس لمبی چوڑی لسٹ کو شارٹ لسٹ کرتی ہے۔ماہرین سے رائے لی جاتی ہے ،مہینوں اسے کھوجا جاتا ہے،اس کی سچائی کو تولا جاتا ہے۔کام کی افادیت کو جانچا جاتا ہے۔یہ کام نہایت رازداری سے کیا جاتا ہے۔اگلے پچاس سال تک بھی دنیا نومینیز  کے نام نہیں جان سکتی۔سویڈن میں انعامات کی تقریب کے بعد ایک شاندار ضیافت اسٹاک ہوم سٹی ہال کے بلو ہال میں منعقد ہوتی ہے، جس میں سویڈن کا شاہی خاندان اور تقریباً 1,300 مہمان شرکت کرتے ہیں۔نوبل امن انعام کی ضیافت ناروے میں اوسلو کے گرینڈ ہوٹل میں انعامی تقریب کے بعد منعقد کی جاتی ہے۔


 اس ضیافت میں انعام یافتہ شخصیت کے علاوہ دیگر مہمانوں میں نارویجن پارلیمان (اسٹورٹنگ) کے صدر، بعض اوقات سویڈن کے وزیرِ اعظم اور 2006 سے شاہِ ناروے اور ملکہ ناروے بھی شریک ہوتے ہیں۔ مجموعی طور پر تقریباً 250 افراد اس ضیافت میں شریک ہوتے ہیں۔نوبل لیکچرنوبل فاؤنڈیشن کے قواعد کے مطابق، ہر انعام یافتہ شخصیت پر لازم ہے کہ وہ اپنے انعام سے متعلقہ کسی موضوع پر عوامی لیکچر دےنوبل لیکچر، بطورِ ایک بیانیہ صنف، کئی دہائیوں کے دوران اپنی موجودہ شکل تک پہنچا۔یہ لیکچرز عموماً "نوبل ویک" کے دوران منعقد ہوتے ہیں (یعنی وہ ہفتہ جس میں انعامات کی تقریب اور ضیافت ہوتی ہے، جو انعام یافتگان کے اسٹاک ہوم پہنچنے سے شروع ہو کر ضیافت پر اختتام پزیر ہوتا ہے)، تاہم یہ لازمی نہیں ہوتا۔انعام یافتہ کو صرف چھ ماہ کے اندر یہ لیکچر دینا ضروری ہے، مگر بعض اوقات یہ اس مدت کے بعد بھی دیے گئے ہیں۔ مثلاً، امریکی صدر تھیوڈور روزویلٹ نے 1906 میں امن کا نوبل انعام حاصل کیا، لیکن انھوں نے اپنا لیکچر 1910 میں اپنی صدارت کے بعد دیا۔


  یہ لیکچرز اسی ادارے کے زیرِ انتظام منعقد ہوتے ہیں جس نے انعام یافتہ کا انتخاب کیا اتنی سخت محنت  کے بعد کمیٹی نوبل انعام حاصل کرنے والوں کا اعلان کرتی ہے جو ہر سال اکتوبر کے پہلے ہفتے ہوتا ہے۔لا ریٹس  کو نوبل انعام میں کیا کیا ملتا ہے۔1۔ ایک سونے کا نوبل میڈل جس پر نوبل کی پروفائل پکچر اور مہر چسپاں ہوتی ہے2۔ ایک  نہایت قیمتی اور دلپزیر ڈیزائن کیا ہوا ڈپلومہ جو ہر سال سویڈش اور نارویجن آرٹسٹ تیار کرتے ہیں۔3۔ ایک کیش ایوارڈ ۔آج کل  ہر کیٹاگری پر ایک میلین ڈالر پر مشتمل ہوتا ہے۔ایک سے زیادہ لاریٹس ہوں تو یکساں تقسیم کر دیا جاتا ہےلیکن اصل انعام تو نوبل لاریٹس بننا ہے۔دنیا کا بہترین انسان جو خدمت خلق میں سب سے آگے ہے۔البرٹ آئن سٹائن کو 1921 ء میں فزکس کا نوبل پرائز ملا-میری کیوری ،پہلی خاتون جس نے فزکس اور کیمسٹری کا نوبل انعام پایا۔صرف اس نے دو بار یہ انعام حاصل کیا ابھی تک کسی بھی سائنسدان کو یہ انعام دو بار نہیں ملا۔1964ء میں مارٹن لوتھر کو امن کا نوبل انعام ملا

تحریر و تلخیص انٹرنیٹ کی مدد کے ساتھ

نیروبی میں کیا چیز کشش کا باعث ہے

 



   دریائے نیروبی کے کنارے واقع یہ شہر مشرقی افریقہ کا سب سے بڑا شہر ہے،  یہ  شہر 1907ء میں ممباسا کی جگہ ملک کا دارالحکومت بنااس کی آبادی قریباً 55لاکھ ہے۔ نیروبی اقتصادی و سیاسی لحاظ سے افریقہ کے اہم شہروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ نیروبی شہر کا نام پانی کے تالاب پر رکھا گیا جسے ماسائی زبان میں ایواسو نیروبی یعنی’’سرد پانی‘‘کہا جاتا ہے۔ برطانوی دور میں نیروبی نے بہت ترقی کی۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ برطانوی  اقوام جہاں بھی گئیں وہاں کی قسمت سنوار کر نکلیں- نیروبی ایک کثیر القومی اور کثیر الثقافتی و مذہبی شہر ہے، جسکی وجہ سلطنت برطانیہ کی نو آبادیات، ہندوستان، صومالیہ اور سوڈان وغیرہ سے یہاں آنے والے افراد ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج یہاں گرجے، مساجد، مندر اور گوردوارے سب ملتے ہیں۔ نیروبی میں اس بات سے کسی کو کوئی غرض نہیں کہ کس کا کیا مذہب ہے؟ کون کس ملک سے آیا ہے؟ کس نے کیا پہن رکھا ہے۔ تمام قومیتوں کے لوگاپنے اپنے دائروں میں رہتے ہیں   اور ہر ایک  دوسرے کا احترام کرتا ہے -شائد یہی بات نیروبی کی ہمہ جہت ترقی کی بنیاد ہے



نیروبی، کمپالا اور ممباسا کے درمیان وادی شق کے مشرقی کناروں پر واقع ہے، اس شہر سے کینیا کے بڑے پہاڑ نظر آتے ہیں جبکہ دریائے نیروبی خوبصورتی میں مزید اضافہ کرتا ہے۔ شہر کے مرکز میں کینیا کی مجلس کی عمارات، ہولی فیملی گرجا، نیروبی سٹی ہال، جعفری مسلم سینٹر، جومو کینیاٹا کا مزار اور شہر کے اہم بازار واقع ہیں۔ یہاں کینیا قومی ناٹک گھر، کینیا قومی دستاویزات خانہ، ایم زیزی فنی مرکز اور کینیاٹا بین الاقوامی اجتماعی مرکز بھی واقع ہیں۔ شہر کے دیگر اہم مقامات میں راموما رحمت اللہ عجائب گھر برائے جدید مصوری، آل سینٹس گرجا اور متعدد بازار ہیں۔نیروبی نیشنل پارک میں متنوع جنگلی حیات ہیں اور یہ شیروں، غزالوں، بھینسوں، چیتاوں، گوریلوں، زرافوں اور گینڈے کا گھر ہے۔ یہ پارک پرندوں کے ایک بڑے ذخیرے اور پرندوں کی 400 سے زائد اقسام جیسے شتر مرغ، کرین کریکٹ، عشق فشرز، جیکسن کی بیوہ، عقاب، ہاکس، سفید پیٹ والی کرکٹ، سفید سر والے کرکٹ اور پرندوں کی بہت سی دوسری اقسام کا بھی میزبان ہے۔


  نیروبی کے گرد و نواح میں چائے اور کافی کی فصلیں نظر آتی ہیں۔ یہاں ایواکاڈو اور کیلے کے باغات ہیں۔ نیروبی میں پھل اور سبزیاں آرگینک ملتی ہیں، یہاں کیمیائی کھاد کا تصور ہی نہیں۔ نیروبی کے گرد چراگاہوں میں بھیڑ بکریاں بڑی تعداد میں نظر آتی ہیں، یہاں چھوٹا گوشت بہت شاندار ملتا ہے، دودھ بھی خالص ملتا ہے۔ نیروبی کا موسم بہت شاندار ہے، نہ وہاں پنکھے کی ضرورت ہے اور نہ ہی ہیٹر کی۔ سارا سال موسم 10 سے 25 سینٹی گریڈ تک رہتا ہے، یہاں بارش تقریباً روزانہ ہوتی ہے۔ نیروبی میں سال کے چار پانچ موسم تو نہیں ہوتے البتہ یہاں دو موسموں کا تذکرہ ملتا ہے، لانگ رین اور شارٹ رین یعنی لمبی بارشیں یا پھر مختصر بارشیں۔ انہی بارشوں کے طفیل نیروبی سال بھر سر سبز رہتا ہے۔ اگر یہاں کے انفراسٹرکچر کا جائزہ لیا جائے تو مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ نیروبی میں انفراسٹرکچر اسلام آباد سے بیس درجے بہتر ہے۔ یہاں خواندگی کی شرح 85 فیصد ہے، یہاں کے لوگ اگرچہ آپس میں سواحلی زبان بولتے ہیں مگر ان کی انگریزی بہت شاندار ہے۔



 نیروبی کا ریلوے اسٹیشن پاکستان کے کئی ہوائی اڈوں سے کہیں بہتر ہے۔ ہمارے ہاں اسلام آباد اور کراچی کے درمیان پانچ چھ فلائٹس چلتی ہیں جبکہ نیروبی اور ممباسا کے درمیان صرف کینین ائر لائن کی روزانہ 28 فلائٹس چلتی ہیں، باقی ائر لائنز کی فلائٹس الگ ہیں۔ نیروبی شہر میں آپ کو دو طرح کے پاکستانی ملیں گے، ایک وہ جو 1894ء میں کینیا ریلوے لائن بچھانے آئے اور پھر یہیں کے ہو کر رہ گئے، اب ان کی یہاں پانچویں نسل ہے۔ دوسرے وہ پاکستانی ہیں جو 1970ء کے بعد کینیا آئے۔ نیروبی میں پاکستانیوں کے اڑھائی تین سو بڑی گاڑیوں کے شوروم ہیں۔ اسی طرح گوشت کی پوری مارکیٹ مسلمانوں کے پاس ہے۔ یہاں کے بڑے ہوٹلز اور بڑی عمارتوں کے مالکان کا تعلق زیادہ تر صومالیہ سے ہے۔نیروبی میں سب سے زیادہ پرکشش مقامات میں سے ایک آئیوری برننگ پیلس ہے،  پارک ملی نیروبی بہت سی سفاری سرگرمیاں پیش کرتا ہے جیسے کہ نیچر واک، جنگلی حیات کا نظارہ اور نیچر پکنک۔  سفر کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے، ملی کنیا کے سرفہرست پارکوں میں سے ایک کے طور پر این پارک ملی کا دورہ کریں۔نیروبی کا شمار افریقہ کی بڑی منڈیوں میں ہوتا ہے

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

انقلاب چین جو چینی قوم کی نجات کا باعث بن گیا

  چین کے انقلاب میں تاریخی لانگ مارچ کو ایک سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے جو اکتوبر1934ء سے اکتوبر 1935ء تک جاری رہا۔ یہ لانگ مارچ چھے ہزار میل ط...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر