بدھ، 8 اکتوبر، 2025

گلیشیرز کا غیر فطری انداز میں پگھلنا بڑے خطرے کی علامت ہے؟

 

  انسانی سرگرمیاں، تیزی سے کاربن کے آکسائیڈز کی ماحول میں شمولیت اور گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج ہماری زمین کے دردرجہ حرارت کو بڑھا رہا ہے۔ اس وجہ سے  ہمار ے پہاڑوں پر موجود  گلیشیرز کا پگھلاؤ غیر فطری انداز میں ہو رہا ہے۔جس کے سبب  ہماراماحولیاتی نظام اور اس کا توازن دونوں متاثر ہو رہے ہیں۔یہ گلیشیئرز دنیا کے ہر شخص کے کے لیے اہمیت کے حامل ہیں کیوں کہ سب اس ماحولیاتی نظام سے جڑے ہوئے ہیں۔ اسی طرح پودوں اور جانوروں کی تمام کمیونیٹیز بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتیں ہیں۔ گلیشیئرز کے پگھلاؤ نے سطح سمندروں میں بلندی اور مٹی کے بردگی (ایروژن) کے عمل پر گہرے اثرات مرتب کئے ہیں اس وجہ سے ساحل سمندروں کے نزدیک جنگلی حیات بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔گلیشیئرز کی تباہی نے اور بھی کئی طرح کے مسائل کو جنم دیا ہے۔ انسانی آبادی کے لیے پانی کی کمی ہو رہی ہے۔ ہائیڈرو الیکٹرک (بجلی) پاور کی پیداوار میں فرق پڑ رہا ہے۔ شعبہ زراعت کا دارومدار بروقت پانی کی فراہمی پر ہے۔یہ شعبہ بھی گلیشیئرز کی کم ہوتی تعداد سے پیداواری صلاحیت کھو رہا ہے۔

  

  طرف بے موسمی بارشیں بارشیں اور بے وقت پانی کی دستیابی بھی ایکو سسٹم کو متاثر کر رہا ہے کیوں کہ ان کے پگھلنے سے تازہ پانی کی بڑی مقدار، رسوب (سیڈیمینٹس)، نمکیات وغیرہ آبی ماحولیاتی نظام و آبی حیات کے مساکن کے توازن اور ساخت سے چھیڑ چھاڑکر رہے ہیں اور رہی سہی کسر انسانی سرگرمیوں سے پوری ہو رہی ہے اور ہمارے تمام ماحولیاتی نظام کی بقا کے سامنے سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔اس طرح پانی کا بہاؤ متعدد مچھلیوں اور آبی حیات کو مکمل تحفظ نہیں دے پا رہا جو ان کی بقا کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے کیوں کہ پانی کی پی ایچ (پی ایچ) برقرار رکھنے میں مشکل ہےپ کو اپنے پینے کے پانی کے پی ایچ کے بارے میں کیا معلوم ہونا چاہیے۔پانی پی ایچ کیا ہے؟پی ایچ کا مطلب ممکنہ ہائیڈروجن ہے اور اس کا استعمال مائع میں ہائیڈروجن کی مقدار کا تعین کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ یہ ہر شے کی تیزابیت یا الکلائنٹی کا تعین کرتا ہے۔ پی ایچ پیمانہ 0 سے 14 تک ہے، صفر انتہائی تیزابی اور 14 انتہائی الکلین ہونے کے ساتھ۔

 

 پینے کے قابل قبول پانی کے لیے پی ایچ کی حد 6.5 سے 8.5 ہے۔ یہ رینج غیر جانبدار ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پانی نہ تو ضرورت سے زیادہ تیزابی ہے اور نہ ہی بہت زیادہ الکلین۔ اس حد سے نیچے یا اس سے زیادہ کچھ بھی ہضم کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔کم پی ایچ کے اثرا6.5 سے کم پی ایچ والا پانی تیزابی ہے۔ جب پانی فراہم کرنے والے جراثیم اور دیگر نجاستوں کو ختم کرنے کے لیے کلورین کا استعمال کرتے ہیں، تو تیزابیت والا پانی اچھی طرح سے جواب نہیں دیتا۔ اس کے بجائے، آپ کے گھر کو تیزابی پینے کا پانی فراہم کیا جائے گا جس میں ممکنہ طور پر خطرناک آلودگی موجود ہو۔ اس کے علاوہ، کم پی ایچ پانی پوری پراپرٹی میں پائپوں کو زنگ آلود کر سکتا ہے۔ پانی کی تیزابیت دھاتی پائپوں کے انحطاط کو تیز کرتی ہے، پانی کی فراہمی کو مزید آلودہ کرتی ہے۔ چونکہ تیزابی پانی تیزی سے دھاتوں سے جڑ جاتا ہے، اس لیے اسے استعمال کرنا خطرناک ہے۔ہائی پی ایچ کے اثراالکلائن پانی سے مراد اعلی پی ایچ لیول کے ساتھ پینے کا پانی ہے۔ پی ایچ کی حد 8 اور 10 کے درمیان ہے۔


 زیادہ پی ایچ والے پانی میں سخت ذائقہ یا ناگوار بو ہو سکتی ہے۔ کچھ افراد کا خیال ہے کہ الکلائن پانی بہت سے صحت کے فوائد فراہم کرتا ہے، تاہم ان دعوؤں کی پشت پناہی کرنے کے بہت کم ثبوت موجود ہیں۔ الکلائن پانی پینے کے نتیجے میں آپ کو متلی اور الٹی کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔ زیادہ پی ایچ پانی آپ کے گھر کی پلمبنگ پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔ پانی کی فراہمی میں کیلشیم اور میگنیشیم زیادہ ہوتا ہے، جو جمع ہو سکتا ہے، پائپوں کو روک سکتا ہے اور سنکنرن کا سبب بن سکتا ہے۔آپ پانی کی پی ایچ لیول کو کیسے ٹھیک کر سکتے ہیں؟مقصد 6.5 اور 8.5 کے درمیان پی ایچ کو برقرار رکھنا ہے۔ خوش قسمتی سے، آپ اپنے گھر میں پینے کے پانی کی سطح کو کنٹرول کر سکتے ہیں تاکہ وہ آپ کے گھر اور آپ کی صحت دونوں کے لیے محفوظ ہوں۔ نصب کرنے کے لیے سب سے مؤثر واٹر فلٹرنگ سسٹم ریورس اوسموس واٹر سسٹم ہیں۔ واٹر فلٹر کارٹریجز کو سال میں صرف ایک بار تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ آپ تمام زہریلے مادوں کو دور کرنے اور پورے سال کے لیے اپنے پینے کے پانی کے پی ایچ کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے ریورس اوسموسس سسٹم پر بھروسہ کر سکتے ہیں۔ یہ آپ کے گھر اور پیاروں کو سال بھر محفوظ رکھنے کا سب سے مؤثر طریقہ ہے

'کون ہیں حضرت ابو طالب؟

 

سید نا  عبدالمطلب ؑ کی وفات کے بعد آغوشِ ابوطالب ؑ (۵۴۰تا۶۱۹ء)میں،درّ یتیم کی پرورش کا آغاز ہوا۔ذاتِ قدرت نے نورِ رسالت ؐ کو ابو طالب ؑ کے گھرانے میں ضم کر دیا اور سیدنا ابوطالب ؑ نے آپ ؐ کی حفاظت و خدمت گزاری کا حق ادا کر دیا۔اپنے بچوں سے بڑھ کر حضور کوپیار فرمایا۔ایک لمحہ بھی آنکھوں سے اوجھل نہ ہونے دیا۔رات ہوئ تو اپنے پہلو میں سلایا۔کھانے کے وقت حضور ؐ سے پہلے کسی کو کھانا نہ کھانے دیا۔قلتِ خوراک ہوئی تو اپنی اولاد کو بھوکا رکھااور حضور کوسیرفرمایا۔ انہی باتوں کا تذکرہ فرما تے حضور ؐ آبدیدہ ہو جایا کرتے تھے۔ قادرِ مطلق نے اسی آغوشِ ابوطالب ؑ کا قرآنِ مجید میں ذکر فرماتے اپنی آغوشِ رحمت سے تشبیہ دی ہے۔ یہ ایسی موزوں اور مامون پناہ تھی کہ جس کی بدولت دینِ متین کی تبلیغ و اشاعت ہوئی۔ آپ کی ولادت باسعادت سے پہلے سید العرب کو آپ کی بشارت دی گئی ،’’ اَنَّ عَبْدُالْمُطَّلِبْ رَأیٰ فِیْ مَنَامِہٖ کَانَ قَاءِلاً یَقُوْلَ لَہُ: اِبْشِرْ یا شَیْبَۃِالْحَمْد بِعَظِیْمِ الْمَجْدِ بِاَکْرَمِ وُلْدٍ، مِفْتَاحُ الْرُّشْدِ،لَیْسَ لِلْاَرْضِ مِنْہُ مَنْ بِدُّ‘‘،حضرت عبدالمطلب ؑ نے بعالمِ رؤیاملاحظہ فرمایاکہ کہنے والے نے اُن سے کہا، جنابِ شَیْبَۃِالْحَمْد آپ کوعدیم النظیر، سرچشمہء رشد وہدایت مکرم فرزندکے عظیم الشان شرف و مجد کی بشارت ہو ۔



؎حضرت عبدالمُطّلب ؑ کے انتقالِ پرملال کے بعدنورِرسالتؐ کی حفاظت کے لیے سیّدناابو طالب ؑ کمربستہ ہوگئے اور ہر محاذ پر کفّارِ مکہ اور جہلائے عرب کا ڈٹ کر مقابلہ کیا؛جب میں نے قوم میں چاہت کا فقدان ،بے مروتی دیکھی کہ انہوں نے تمام تعلقات اور رشتہ داریوں کوپس پشت ڈال دیا۔ ہمارے ساتھ کھلی دشمنی اور ایذارسانی کی اور ہم سے الگ ہو جانے والے دشمن کی بات مانی ۔نیز ہمارے خلاف تہمت زدہ لوگوں سے معاہدے کیے جو پسِ پشت غصے سے انگلیاں چباتے ہیں۔تو میں بذاتِ خود ایک لچکدار نیزہ اور شاہانِ سلف سے وراثت میں ملی ہوئی ایک چمک دار تلوار ۱؂لے کر ان کے مقابلے میں ڈٹ گیا اور میں نے اپنے جماعت اور اپنے بھائیوں کو بیت اللہ کے پاس بلوایا اور اس (بیت اللہ )کا سرخ دھاری دار غلاف تھام لیا۔اس کے عظیم الشان دروازے کے مقابل اس مقام پر جہاں برأت ثابت کرنے والا حلف اٹھاتا ہے ۔ سب کے ساتھ کھڑے ہو کر (اس کے غلاف کوتھام لیا۔)   مقاول ،مِقْوَلْ کی جمع ہے جویمن کے حمیری بادشاہوں کا لقب تھا۔


سیف بن ذی یزن حمیری نے دیگربیش قیمت تحائف کے ساتھ سفیدچمک دار تلوار حضرت عبدالمطلب ؑ کی خدمت میں پیش کی جووراثت میں حضرت ابوطالب ؑ کے پاس آئی جس کی جانب آپ نے یہاں اشارہ فرمایاہے ۔ابوطالب،جن کی رفاقت و نصرت اسلام کا محکم حصار بن گئی۔ابو طالب ؑ ،جنہوں نے شجر اسلام کی آبیاری کی۔ابوطالب ؑ ،جن کی قربانیوں سے محسنِ انسانیت کے بازو مضبوط ہوئے۔ابوطالب ؑ ،جن کے آہنی ارادوں اور کارگزاریوں سے جمعیتِ کفار و مشرکین لرزہ براندام رہی۔ابوطالب ؑ ،جن کی حکمتِ عملی سے کفار کی نیندیں حرام تھیں۔ابوطالب ؑ جو گلشنِ رسالت کی حفاظتی دیوار تھے۔ابوطالب ؑ ،جو حضور ؐ کے شفیق تایااور کفیل تھے۔ابوطالب ؑ ،جو مولائے کائنات علی مرتضیٰ ؑ شیر خدا ،جعفر طیّا ر ؑ اور عقیل ؑ کے والد تھے۔ابو طالب ؑ ،جو سید الشہدا امیر حمزہ ؑ ،شیر رسالت کے بھائی تھے۔ابو طالب ؑ ،جو حسنین کریمین ؑ ،سردارانِ جنت کے داداحضور تھے۔


ابوطالب ؑ ، جو سیدہ زینب ؑ و ام کلثوم ؑ کے دادا تھے۔ابوطالب ؑ ، جو شہدائے کربلا، شہدائے بغداد،شہدائے شیراز،اصفہان و ساوِہ اور شہدائے نیشاپورکے مورثِ اعلیٰ تھے۔ابو طالب ؑ ، جن کی اولاد نسبِ رسول ؐ ہے۔ ۔وہ فرزند جو حافظِ قرآن و حدیث،شب بیدار،تہجدگزار،عابد،زاہد،عالم،فقیہ،محدث اور مفسر قرآن و شارح اسلام تھے۔ جن کی آغوش کو ذاتِ قدرت نے اپنی پناہ قرار دیا وہ سوائے سیدنا ابو طالب ؑ کے اور کون ہے؟سیدنا ابو طالب ؑ نے آنحضرت ؐ کے لیے جو جانثاری فرمائی  ۔ فاقے اٹھائے،شہر بدر ہوئے،تین برس تک آب و دانہ بند رہا۔ ’’شِعْبِ اَبیْ طَالِبؑ ‘‘کے حصار کا تمغہ کس کے سینے پر سجے گا؟مقاطعہ قریش میں حصارِ رسالتؐ کے لیے شعبِ ابی طالب ؑ سے کون واقف نہیں     ا  ور اس دوران پیارے مصطفٰی ؐ کے بستر پر علی مرتضٰی ؑ شیرِخُدا اور جعفرطیار کو سلا کردشمنانِ اسلام کی تلواروں کے سامنے اپنے لختِ جگر پیش کرنے والے ابو طالب ؑ کے علاوہ اور کون ہیں۔

منگل، 7 اکتوبر، 2025

شاندار 'دلکش مناظر اور چٹانی غاروں کا ملک 'جار جیا

 

جارجیا ویسے تو ایک چھوٹا لیکن ناقابل یقین حد تک   دلکش ملک ہے جو شاندار پہاڑی مناظر سلفر حماموں ' چٹانی  غاروں کی   قدیم تاریخ اور دنیا کی مشہور مہمان نوازی   کے لئے مشہور  ہے۔ قفقاز کے علاقے میں واقع، جارجیا یورپی اور ایشیائی اثرات    کے زیر اثر ہے، جو ثقافتی گہرائی، مہم جوئی اور ناقابل فراموش تجربات کے خواہاں مسافروں کے لیے ایک پوشیدہ جوہر بنا دیتا ہے۔دیکھنے کے لیے بہترین شہرتبلیسی، جارجیا کا دل ہے، تاریخ اور جدید تخلیقی صلاحیتوں کو اپنے رنگین پرانے شہر، متنوع فن تعمیر اور جاندار ماحول کے ساتھ ملا دیتا ہے۔ Narikala قلعہ شاندار شہر کے نظارے پیش کرتا ہے، جبکہ Abanotubani سلفر حمام روایتی، آرام دہ تجربہ فراہم کرتے ہیں۔ رستاویلی ایونیو ثقافتی مرکز ہے، جس میں تھیٹر، کیفے اور تاریخی مقامات ہیں۔ ایک جدید موڑ کے لیے، فیبریکا، ایک نئے سرے سے تیار کردہ سوویت کارخانے، ایک تخلیقی ہاٹ اسپاٹ کے طور پر کام کرتی ہے جو سلاخوں، آرٹ کی جگہوں، اور ساتھ کام کرنے والے علاقوں سے بھری ہوئی ہے۔


 

    خاص طور پر شہر تبلیسی اپنے منفرد دلکش  مناظر سے دل موہ لیتا ہے۔بچاہے تاریخی سڑکوں کو تلاش کرنا ہو یا اس کے متحرک فنون لطیفہ کا تجربہ کرنا ہو' جارجیا کی سب سے بڑی سمندری منزل، جدید فن تعمیر کو آرام دہ ساحلی ماحول کے ساتھ ملاتی ہے۔ بٹومی بلیوارڈ واٹر فرنٹ کے ساتھ پھیلا ہوا ہے، جو پارکوں اور مجسموں کے ذریعے خوبصورت سیر پیش کرتا ہے۔ الفابیٹ ٹاور، ایک حیرت انگیز فلک بوس عمارت، جارجیائی رسم الخط کی علامت ہے، جبکہ ترکی کی سرحد کے قریب واقع تاریخی گونیو قلعہ، باتومی کے قدیم ماضی کو ظاہر کرتا ہے۔ فطرت سے محبت کرنے والے بٹومی بوٹینیکل گارڈن کو دیکھ سکتے ہیں، جو دنیا کے متنوع پودوں کے مجموعوں میں سے ایک ہے۔ چاہے ساحل کے کنارے آرام ہو یا ثقافتی تلاش کے لیے، باتومی تفریح اور تاریخ کا ایک انوکھا امتزاج پیش کرتا ہےKutaisi-جارجیا کے قدیم ترین شہروں میں سے ایک، Kutaisi تاریخ اور یونیسکو کے درج کردہ نشانات سے مالا مال ہے۔ گیلٹی خانقاہ، جو قرون وسطیٰ کا سیکھنے کا مرکز ہے،

 

 شاندار فریسکوز کی نمائش کرتی ہے، جبکہ باگراتی کیتھیڈرل جارجیا کے اتحاد کی علامت کے طور پر کھڑا ہے۔ فطرت سے محبت کرنے والے پرومیتھیس غار کو تلاش کر سکتے ہیں، جو سٹالیکٹائٹس اور جھیلوں کا ایک زیر زمین عجوبہ ہے، یا مارٹویلی وادی سے گزر سکتے ہیں، جہاں مرکت سبز پانی دلکش چٹان کی شکلوں سے تراشتے ہیں۔ Kutaisi تاریخ، ثقافت اور قدرتی خوبصورتی کا بہترین امتزاج ہے-جارجیا کے سابق دارالحکومت اور مذہبی مرکز کے طور پر، Mtskheta ملک کے کچھ مقدس ترین مقامات کا گھر ہے۔ جواری خانقاہ، جو ایک پہاڑی کی چوٹی پر واقع ہے، مٹکوری اور آرگوی ندیوں کے سنگم کے دلکش نظارے پیش کرتی ہے۔ Svetitskhoveli-Cathedral، جو یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل ہے، جارجیا کا سب سے اہم مذہبی نشان کے طور پر جانا جاتا ہے۔ قریب ہی، سامتاورو خانقاہ گہری تاریخی اہمیت کے ساتھ پرامن اعتکاف فراہم کرتی ہے۔ Mtskheta کا بھرپور روحانی ورثہ جارجیا کی ثقافتی جڑوں کو تلاشکرنے والوں کے لیے اسے ایک لازمی دورہ بناتا ہے


مارٹویلی وادی-مارٹویلی وادی  قدرتی عجوبہ ہے، جہاں فیروزی پانی سرسبز، کائی سے ڈھکی چٹانوں سے گزرتا ہے۔ زائرین پُرسکون دریا کے ساتھ کشتی کے سفر کر سکتے ہیں، ماضی کی ڈرامائی چٹانوں کی شکلوں اور چھپے ہوئے گرٹووں کو گلائڈ کر سکتے ہیں۔ حیرت انگیز آبشاریں زمرد کے تالابوں میں جھڑتی ہیں، جو فطرت سے محبت کرنے والوں اور فوٹوگرافروں کے لیے بہترین جادوئی ماحول بناتی ہیں۔ یہ پرفتن وادی جارجیا کی اچھوتی خوبصورتی میں پرامن اعتکاف پیش کرتی ہے۔وردزیا  غار خانقاہ-جنوبی جارجیاکی چٹانوں میں کھدی ہوئی، وردزیا ایک شاندار چٹان سے بنائی گئی خانقاہ ہے جس میں کبھی راہب پناہ گزین رہتے تھے۔ اس قدیم کمپلیکس میں سیکڑوں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے غاروں کی خصوصیات ہیں، جن میں رہائشی کوارٹر، چیپل اور سرنگیں شامل ہیں۔ خاص بات چرچ آف دی ڈورمیشن ہے، جو دلکش فریسکوز سے مزین ہے جو اس کی گہری تاریخی اور مذہبی اہمیت کی عکاسی کرتی ہے۔ وردزیا کا دورہ جارجیا کے قرون وسطی کے ماضی اور آس پاس کے مناظر کے حیرت انگیز پینورامک نظاروں کا سفر پیش کرتا ہے



 

پیر، 6 اکتوبر، 2025

اداکارو صداکارمحمد علی کی دھنک رنگ داستان زندگی'part 1

 

 پاکستان کے مایہ ناز  اداکار محمد علی 19 اپریل، 1931ء میں بھارت کے شہر رام پور میں پیدا ہوئے۔ چار بھائی بہنوں میں وہ سب سے چھوٹے تھے۔ سب سے بڑے بھائی ارشاد علی تھے۔ محمد علی ابھی تین سال کے تھے کہ ان کی والدہ فوت ہو گئیں۔ ان کے والد سید مرشد علی نے ان کی پرورش کی خاطر دوسری شادی نہیں کی حالانکہ اس وقت ان کی عمر 35 برس تھی۔  محمد علی کے والد سید مرشد علی بہت بڑے دینی عالم تھے۔ محمد علی نے 14 سال تک اسکول کی شکل نہ دیکھی وہ صرف مدرسے میں اردو، عربی، فارسی وغیرہ کی تعلیم حاصل کرتے رہے۔1943 ء میں اپنے خاندان کے ساتھ ہجرت کر کے ملتان آ گئے۔  محمد علی کے خاندان کے زیادہ تر لوگ حیدرآباد سندھ میں رہتے تھے اس لیے 1955 ء میں وہ اپنے خاندان کے ساتھ حیدرآباد منتقل ہو گئے۔ اور سٹی کالج حیدرآباد سے انٹر پاس کیا۔محمد علی کو پائلٹ بننے کا شوق تھا اور وہ پائلٹ بن کر ایئر فورس جوائن کرنا چاہتے تھے۔



 مگر معاشی حالات تنگ تھے ان کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے کہ وہ ایبٹ آباد جاکر ٹرینینگ حاصل کرسکیں۔انھیں تعلیم کا سلسلہ جاری رکھنا مشکل نظر آ رہا تھا۔ ذریعہ معاش کے لیے انھوں نے کوئی کام کرنے کا سوچا۔ ان کے بڑے بھائی ارشاد علی ریڈیو پاکستان حیدرآباد میں بطور ڈراما آرٹسٹ کام کر رہے تھے ۔محمد علی نے اپنے کیرئر کا آغاز ریڈیو پاکستان حیدرآباد، سندھ سے کیا۔ ان کی بھرپور آواز نے انھیں ایک بہترین ریڈیو صداکار کی حیثیت سے منوایا اور انھیں فلمی دنیا تک پہنچانے میں بھی ان کی آواز نے ہی اہم کردار ادا کیا۔اس وقت ایک ڈرامے کی صدا کاری کے دس روپے ملا کر تے تھے۔ بعد ازاں انھوں نے ریڈیو پاکستان بہاولپور سے بھی پروگرام کیے۔ ان کی آواز سن کر ریڈیو پاکستان کے جرنل ڈرائریکٹر ذوالفقار احمد بخاری المعروف زیڈ۔ اے بخاری صاحب نے انھیں کراچی بلا لیا۔


 سونے کو کندن بنانے میں زیڈ۔ اے بخاری مرحوم کا بہت ہاتھ تھا۔ انھوں نے محمد علی کو آواز کے اتار چڑھاؤ، مکالموں کی ادائیگی، جذبات کے اظہار کا انداز بیاں اور مائکرو فون کے استعمال کے تمام گرسکھا دیے۔ زیڈ۔ اے بخاری نے ان کی آواز کی وہ تراش خراش کی کہ صدا کاری میں کوئی ان کا مدمقابل نہ رہا۔1962ء میں فِلم ’ چراغ جلتا رہا‘ سے فلمی کیرئر کا آغاز کیا۔ محمد علی کی اداکاری اور مکالمے بولنے کے انداز نے دوسرے فلم سازوں اور ہدایتکاروں کو متوجہ کر لیا۔ اور جلد ہی ان کا شمار ملک کے معروف فلمی اداکاروں میں کیا جانے لگا۔ پہلی فلم کے بعد محمد علی نے ابتدائی پانچ فلموں میں بطور ولن کام کیا۔ محمد علی کو شہرت 1963 ء میں عید الاضحی پر ریلیز ہونے والی فلم "شرارت" سے ملی۔ انھوں نے درجنوں فلموں میں بحیثیت ہیرو کے کام کیا۔ ان کی فلموں کی زیادہ تر ہیروئن ان کی اپنی اہلیہ زیبا تھیں نیز ان فلموں میں زيادہ تر گانے جو ان پر فلمائے گئے ان کے گلوکار مہدی حسن تھے۔انھوں نے 300 فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔ "علی زیب" کی جوڑی اتنی کامیاب تھی کہ انھوں تقریباً 75 فلموں میں اکٹھے کام کیا۔



 فلم "تم ملے پیار ملا" کی شوٹنگ کے دوران ہی بروز جمعرات 29ستمبر، 1966 ء کی سہ پہر تین بجے اداکار آزاد کے گھر واقع ناظم آباد میں محمد علی نے زیبا سے نکاح کر لیا۔ علی زیب نے ایک انتہائی خوش گوار بھر پور ازدواجی زندگی گزاری، کئی یادگار فلموں میں اپنی یادگاری کے جوہر دکھائے، نہ صرف پاکستان، بلکہ دوسرے ممالک میں بھی علی زیب ایک قابل احترام جوڑی کے طور پر جانے جاتے ہیں دونوں نے حج بھی کیا اور کئی عمرے بھی ادا کیے۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں بے شماردولت، عزت اور شہرت عطا کی، لیکن اولاد جیسی نعمت سے محروم رکھا۔اس پر بھی محمد علی اﷲ کے شکر گزار تھے اور اس محرومی کو اﷲ کی مصلحت قرار دیتے تھے۔ محمد علی نے زیبا کی بیٹی ثمینہ جو لالا سدھیر سے تھی۔ اسے اپنی سگی بیٹی کی طرح پالا اسے اپنا نام دیا۔ پندرہ سال تک وہ اپنا ایک خیراتی ادارہ چلاتے رہے۔ شادی کے بعد محمد علی اور زیبا نے "علی زیب" کے نام سے اپنا پروڈکشن ہاؤس قائم کیا اور "علی زیب" کے بینر تلے کافی اچھی اور کامیاب فلمیں بنائیں۔سماجی و سیاسی زندگی-محمد علی نے کبھی سیاست میں حصہ نہیں لیا۔


یہ تحریر  میں نے انٹرنیٹ سے لی ہے 

اداکارو صداکارمحمد علی کی دھنک رنگ داستان زندگی پارٹ' 2

 

 کوٹھی کے خوبصورت لان میں سردی کی ایک دوپہر میں اورمحمد  علی اپنے ایک شناسا کے ساتھ بیٹھے    گفتگو کر رہے تھے۔اتنے میں ان کے  چپڑاسی نے   آ کر کہا کہ  صاحب باہر کوئی آدمی آپ سے ملنے آیا ہے۔ یہ اس کا چوتھا چکر ہے۔ محمدعلی بھائی نے اسے بلوا لیا۔ کاروباری سا آدمی  نظر آرہا  تھا۔لباس  تو صاف ستھرا  تھا مگر چہرے پر پریشانی   جھلک رہی تھی۔ شیو بڑھی ہوئی‘ سرخ آنکھیں اور بال قدرے سفید لیکن پریشان۔ وہ سلام کرکے کرسی پر بیٹھ گیا تو علی بھائی نے کہا۔ جی فرمایئے’فرمانے کے قابل کہاں ہوں صاحب جی! کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں۔‘‘اس آدمی نے بڑی گھمبیر آواز میں کہا اور میری طرف دیکھا جیسے وہ علی بھائی سے کچھ تنہائی میں کہنا چاہتا تھا۔ علی بھائی نے اس سے کہا:’آپ ان کی فکر نہ کیجئے جو کہنا ہے کہئے‘‘اس آدمی نے کہا ’’چوبرجی میں میری برف فیکٹری ہے علی صاحب!‘‘


’’جی‘‘’لیکن کاروباری حماقتوں کے سبب وہ اب میرے ہاتھ سے جا رہی ہے‘‘’’کیوں‘ کیسے جا رہی ہے؟‘‘ علی بھائی نے تفصیل جاننے کے لئے پوچھا’ایک آدمی سے میں نے 70ہزار روپے قرض لئے تھے لیکن میں لوٹا نہیں سکا۔‘‘ وہ آدمی بولا ’’میں نے کچھ پیسے سنبھال کر رکھے تھے لیکن چور لے گئے۔ اب وہ آدمی اس فیکٹری کی قرقی لے کر آ رہا ہے۔‘‘ یہ کہہ کر وہ آدمی رونے لگا اور علی بھائی اسے غور سے دیکھتے رہے اور اس سے کہنے لگے۔آپ کا برف خانہ میانی صاحب والی سڑک سے ملحقہ تو نہیں؟’’جی جی وہی‘‘ وہ آدمی بولا ۔۔۔۔۔۔ ’’علی بھائی میں صاحب اولاد ہوں اگر یہ فیکٹری چلی گئی تو میرا گھر برباد ہو جائے گا‘ میں مجبور ہو کر آپ کے پاس آیا ہوں۔‘‘’’فرمایئے میں کیا کر سکتا ہوں؟‘‘’’میرے پاس بیس ہزار ہیں‘ پچاس ہزار آپ مجھے ادھار دے دیں میں آپ کو قسطوں میں لوٹا دوں گا۔‘‘

:

’محمد علی اٹھ کر اندر چلے گئے۔ واپس آئے تو ان کے ہاتھوں میں نوٹوں کا ایک بنڈل تھا۔ کرسی پر بیٹھ گئے اور اس آدمی سے کہنے لگے:’پہلے تو آپ کی داڑھی ہوتی تھی۔‘‘وہ آدمی حیران رہ گیا اور چونک کر کہنے لگا ’’جی! یہ بہت پرانی بات ہے‘‘جی میں پرانی بات ہی کر رہا ہوں‘‘ علی بھائی اچانک کہیں کھو گئے۔ سگریٹ کا دھواں چھوڑ کر کچھ تلاش کرتے رہے۔ پھر اس آدمی سے کہنے لگے:’آپ کے پاس تین روپے ٹوٹے ہوئے ہیں؟‘‘جی جی ،ہیں‘‘ اس آدمی نے جیب میں ہاتھ ڈال کر کچھ نوٹ نکالے اور ان میں سے تین روپے نکال کر علی بھائی کی طرف بڑھا دیئے۔ علی بھائی نے وہ پکڑ لئے اور نوٹوں کا بنڈل اٹھا کر اس آدمی کی طرف بڑھایا۔یہ پچاس ہزار روپے ہیں‘ لے جایئے‘‘اس آدمی کی آنکھوں میں آنسو تھے اور نوٹ پکڑتے ہوئے اس کے ہاتھ کپکپا رہے تھے۔


 اس آدمی نے جذبات کی گرفت سے نکل کر پوچھا:’’علی بھائی مگر یہ تین روپے آپ نے کس لئے  ۔؟‘‘علی بھائی نے اس کی بات کاٹ کر کہا ’’یہ میں نے آپ سے اپنے تین دن کی مزدوری لی ہے۔‘‘’مزدوری …مجھ سے! میں آپ کی بات نہیں سمجھا۔‘‘ اس آدمی نے یہ بات پوچھی تو ایک حیرت اس کے چہرے پر پھیلی ہوئی تھی۔1952ء میں جب میں لاہور آیا تھا تو میں نے آپ کے برف خانے میں برف کی سلیں اٹھا کر قبرستان لے جانے کی مزدوری کی تھی۔‘‘علی بھائی نے مسکرا کر جواب دیا۔ یہ جواب میرے اور اس آدمی کے لئے دنیا کا سب سے بڑا انکشاف تھا۔ علی بھائی نے مزید بات آگے بڑھائی۔’’مگر آپ نے جب مجھے کام سے نکالا تو میرے تین دن کی مزدوری رکھ لی تھی۔ وہ آج میں نے وصول کر لی ہے۔‘‘ علی بھائی نے مسکرا کر وہ تین روپے جیب میں ڈال لئے۔آپ یہ پچاس ہزار لے جائیں‘ جب آپ سہولت محسوس کریں دے دیجئے گا۔‘‘علی بھائی نے یہ بات کہہ کر مزے سے سگریٹ پینے لگے۔   اور سائل شرمندہ قدموں سے  چلا گیا 

 یہ تحریر  میں نے انٹرنیٹ سے لی ہے

زرا عمر رفتہ کو آواز دینا ۔بچپن کے دن جو بھلائے نا گئے

  بلا شبہ  ہجرت کے مصائب بچوں  کو وقت سے بہت پہلے   ہی شعور کی منزل پر لا کر کھڑا کر دیتے ہیں  اسی لئے میرا   بچپن  بھی  عام بچّوں کے بچپن جیسا  نہیں تھا یہ وہ زمانہ تھا جب مہاجروں کے گھروں میں پانی کے لئے علاقے میں پانی کے ٹینکر آیا کرتے تھے اور میں بہت چھوٹی سی عمر میں ٹینکرکی  آواز محلّے میں آتے ہی اپنا کنستر لےکر پانی لینے والوں کی لائن میں کھڑی ہو جاتی تھی ،اور ہمارے محلّے کا کوئ خداترس انسان میرا کنستر بھر کر ہمارے دروازے تک یا گھر کے اندر تک رکھ جایا کرتا تھا اس کے علاوہ پانی کی ضرورت پوری کرنے کے لئے ماشکی بھی صبح شام ایک ایک مشک پانی  معمو لی قیمت پر ڈال جاتا تھا پھر یوں ہوا کہ کچھ عرصے بعد پانی کے ٹینکر کا آنا موقو ف ہو گیا اورہماری گلی کے ختم پر  ایک عدد حوضی بنا کر اس میں سرکاری نل سے پانی کی ترسیل کا انتظام کیا گیا،میرے والد صاحب ،،اپنے والد صاحبکے تذکرے کے تصّور سے ہی   بے اختیار میری آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے ہین کیونکہ مجھے اپنے والدکا بنک جانے سے پہلے نمازر کے وقت حوضی سے پانی بھرنا یاد آرہا ہے



 میں ابھی اتنی بڑی نہیں تھی کہ ان کاموں میں والد کا ہاتھ بٹا سکتی لیکن زرا سا وقت گزرنے پر  گھر میں پانی کی کمی پوری کرنے کے لئے میں نے یہ ڈیوٹی اپنے زمّے لے لی تھی ،اسوقت ایک خدا ترس انسان نے اپنے گھر کے سامنے ایک کنواں بنوا کر وقف عام کر دیا تھا چنانچہ میں نے زرا سا ہوش سنبھانے پر یہ اہم ڈیوٹی اپنے زمّہ لے لی تھی کہ والد صاحب کے لائے ہوئے پانی کے علاوہ جو بھی کمی ہوتی اسے خود سے چھوٹے چھوٹے ڈول لے جا کر پانی بھر کر لے آیا کرتی تھی اور گھر میں پانی کی کمی   پوریکر دیا کرتی تھی اس وقت ہمارے محلّے میں کوئ حوضی نہیں بنی تھی لیکن اپنے گھر سے بیس منٹ کے فاصلے سے  کنوئین سے پانی بھر کر لانے لگی اس کنوئیں میں چمڑے کی بالٹی ایک مو ٹے رسّے کے زریعے کنوئیں کی تہ تک اتار کر بھر لی جاتی اور پھر الٹی چرخی چلا کر پانی کھینچ لیا جاتا تھا ،یہ ایک بہت محنت طلب کام ہوتا تھا لیکن میں اس کام کو بھی سر انجام دے لیا کرتی تھی  


اس کے علاوہ جھٹ پٹا ہوتے ہی گھر کی لالٹینیں اور لیمپ روشن کرنا بھی میرے زمّے تھا میں سب لالٹینوں کی چمنیاں نکال کر ان کو چولھے کی باریک سفید ریت سے   صاف کرتی پھر صابن سے دھو کر خشک کرتی تھی تو لالٹین کی روشنی بہت روشن محسوس ہوتی تھی،کوئلو ں کی سفید راکھ بنانے کا طریقہ یہ ہوتا تھا کہ دہکتے ہوئے کوئلوں کو یونہی چھوڑ دیا جاءے تووہ خود بخود بجھتے جاتے ہیں اور ان کے اوپر سفید راکھ کی موٹی تہ جمتی جاتی ہے یہ راکھ دیگچیوں کے پیندوں کو اجلا کرنے کے لئے بھی استعمال کی جاتی تھی میں اس راکھ کو ایک ڈبّے میں محفوظ کر لیتی تھی اس کے ساتھ ساتھ میری ایک اہم ڈیوٹی گھر میں جلانے کے لئے ٹال سے لکڑیاں لانے کی بھی تھی ،اور یہ کام کوئ مجھ سے جبریہ نہیں کرواتا تھا بلکہ میں اپنی والدہ کے لئے کام کی سہولت چاہتی تھی 


میرے بچپن  کے اس دور میں ہمارے گھر میں کھانا پکانے کے لئے لکڑی استعمال ہوتی   تھی۔ جب تک کہ  ہمار ے  علاقے میں  لکڑی کی ٹال نہیں کھلی تھی میں تب تک  میں خود اپنے بازوؤں پر لکڑیاں  ا ٹھا کر لاتی رہی پھر ہماری  گلی کی  کونے  پر ایک ٹال  کھل گئ تھی  جسے ابا جان  ہر مہینے  پابندی سے  پیسے دے آتے تھے اورٹال والا ہمارے صحن کے ایک کونے میں  دو من لکڑی ڈال جاتاتھا۔ لکڑی  کا بہت  خیال رکھاجاتا تھا کہ کہیں وہ بارش میں  بھیگ نا جائے -آسمان پر بادل دیکھتے ہی اس پر ترپال ڈال دی جاتی تھی۔ گیلی لکڑی کی سزا پورے گھرکوبھگتنی پڑتی تھی۔ دھواں باورچی خانے سے نکل کر برآمدے سے ہوتا ہوا سارے کمروں میں پھیل جاتا تھا اور اس کی جلن اور چبھن سے آنکھوں سے پانی بہنے لگتا تھا۔-لکڑی پر کھانا پکانے سے ہانڈیوں کے اوپر سیاہ دھوئیں کی کافی ناگوار سیاہی جم جاتی ہے لیکن اگر ملتانی مٹی کا لیپ کر دیا جائے تو ہانڈیاں بری نہیں لگتی ہیں -میں نے ملتانی مٹی  کو کٹورے میں  بھگو کر رکھنا شروع کیا اور ہانڈیوں کے پیندے صاف دکھائ دینے لگے 


اتوار، 5 اکتوبر، 2025

'کینیڈا میں سونے چاندی ہیروں کا شہر'یلو نائف

 پیج سٹی آرکٹک سرکل سے 400 کلومیٹر دور عظیم جھیل کے شمالی کنارے پر واقع ہے۔ اس کے مغرب میں ییلو نائف بے اور ییلو نائف دریا واقع ہے۔ 920 کی دہائی کے آخر میں کینیڈا کے آرکٹک علاقے کی چھان بین ہوائی جہاز کی مدد سے شروع ہوئی۔ 1930 کی دہائی میں گریٹ بیئر جھیل کے آس پاس یورینیم اور چاندی کے ذخائر دریافت ہوئے اور لوگ ادھر ادھر پھیل کر مزید دھاتوں کی تلاش کرنے لگ گئے۔ 1933 میں دو مہم جو ییلو نائف دریا کے بہاؤ کے ساتھ کشتی پر گئے اور انھوں نے کوئٹہ جھیل سے سونے کے ذرات تلاش کر لیے۔ یہ جھیل ییلو نائف دریا سے تیس کلومیٹر دور ہے۔ ہومر جھیل سے بھی چند مزید ذخائر ملے۔اگلے سال جونی بیکر مزید ماہرین کے ہمراہ دوبارہ سونے کے مزید ذخائر کی تلاش اور ان کو نکالنے کے لیے آیا۔ ییلو نائف کی مشرقی طرف سونا دریافت ہوا اور مختصر وقت کے لیے برواش کی کان بھی چلائی گئی۔ ییلو نائف کی خلیج کے مغرب میں جب حکومت کے ماہرین ارضیات نے نسبتاً آسان جگہ پر مزید سونا دریافت کیا تو کچھ وقت کے لیے پھر سے سونے کی دوڑ شروع ہو گئی۔



 کون کی کان یہاں پہلی باقاعدہ کان تھی اور اس کی وجہ سے 1936 اور 1937 کے درمیان ییلو نائف کا شہر بسایا گیا۔ 5 ستمبر 1938 میں کان سے پیداوار شروع ہوئی۔1940 میں ییلو نائف کی آبادی تیزی سے بڑھی اور 1000 کی تعدادعبور کر گئی۔ 1942 میں یہاں سونے کی پانچ کانیں کام کر رہی تھیں۔ جنگ کے لیے افرادی قوت کی ضرورت پڑی تو سونے کی پیداوار رک گئی۔ 1944 میں شہر کے شمالی سرے پر جائنٹ مائن سے بھی سونے کے ذخائر ملے۔ اس وجہ سے یہاں جنگ کے بعد پھر لوگوں کی قطاریں لگ گئیں۔ اس کے علاوہ کون کی کان سے بھی مزید دریافتیں ہوئیں اور کان کی عمر بڑھا دی گئی۔  کینیڈا کی نارتھ ویسٹ  ۔ اس کی کل آبادی 2006 میں 18700 تھی۔ یہ شہر گریٹ سلیو لیک کے شمالی کنارے پر آرکٹک سرکل سے 400 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ اس کے مغرب میں ییلو نائف کی خلیج اور ییلو نائف دریا کے دہانے کے پاس موجود ہے۔ ہاں کی گیارہ سرکاری زبانوں میں سے پانچ زبانیں بڑی تعداد میں لوگ بولتے ہیں۔یلونائف کو پہلی بار 1935 میں آباد کیا گیا تھا۔ جلد ہی یہ شہر نارتھ ویسٹ ریاست کی آبادی کا مرکز بن گیا۔


اسے 1967 میں ریاست کا صدر مقام بنایا گیا۔ ، شہر کو کان کنی کے شہر سے بدل کر حکومتی اداروں کا مرکز 1980 کی دہائی میں بنا دیا گیا۔ تاہم حال ہی میں شہر کے شمال میں ہیروں کی دریافت سے دوبارہ یہاں کان کنی کی صنعت زور پکڑنے لگی ہے۔شہر میں دریافت ہونے والے سونے کی وجہ سے  شہر  کی آبادی کو اس جگہ سے کچھ دور ہٹا دیا گیا۔ ڈسکوری مائن کے لیے اس کے ساتھ ہی ایک الگ شہر بسایا گیا جو ییلو نائف سے 81 کلومیٹر دور شمال مشرق میں تھا۔ یہ کان 1950 سے 1969 تک چالو رہی۔  یہاں سے 400 کلومیٹر دور 1991 میں ہیروں کی دریافت سے شہر کو ایک بار پھر چوتھی بار عروج ملا۔ ۔ آج یہ شہر ایک حکومتی شہر اور ہیرے کی کانوں کا سروس سینٹر ہے۔  یہ کان کنی، صنعتوں، نقل و حمل، مواصلات، تعلیم، صحت، سیاحت، تجارت اور حکومتی سرگرمیوں کا مرکز ہے۔  ۔1990 کی دہائی میں سونے کی کانوں کی بندش اور 1999 میں حکومتی ملازمین کی چھانٹی کے بعد ہیروں کی دریافت کی وجہ سے یہاں کی معیشت دوبارہ پروان چڑھ رہی ہے۔ 


یہ ہیرے ایکاٹی ڈائمنڈ مائن سے نکلتے ہیں اور بی ایچ پی بلیٹن کی ملکیت ہے۔ اسے 1998 میں کھولا گیا۔ دوسری کان ڈیاوک ڈائمنڈ مائن ہے جو 2003 میں پیداور دینے لگی ہے۔ 2004 میں ان دونوں کانوں کی پیداوار 12618000 قیراط یعنی 2524 کلو تھی۔ اس کی کل قیمت 2.1 ارب کینیڈین ڈالر ہے۔   تیسری کان ڈی بیئرز سنیپ لیک ڈائمنڈ مائن کو 2005 میں منظوری اور امداد ملی جس کے بعد 2007 میں اس نے کام شروع کر دیا۔ ایک اور کان کی منظوری کی درخواست بھی ڈی بیئرز نے دی ہوئی ہے۔یئیلونائف کے بڑے آجروں میں سے ریاستی حکومت، وفاقی حکومت، ڈیاوک ڈائمنڈ مائن انکارپوریٹڈ/ہیری ونسٹسن ڈائمنڈ کارپوریشن، بی ایچ پی بلیٹن، فرسٹ ائیر، نارتھ ویسٹل، آر ٹی ایل روبنسن ٹرکنگ اور ییلو نائف کا شہر اہم ہیں۔ حکومتی ملازمین 7644 ہیں جن کی اکثریت یلو نائف سے ہے۔ سیاحوں کی اکثریت جاپانیوں کی ہوتی ہے - شمالی موسم اور یہاں کے روایتی طرز زندگی اور شمالی روشنیوں کا بھی مطالعہ کرنے آتے ہیں۔ 

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

انقلاب چین جو چینی قوم کی نجات کا باعث بن گیا

  چین کے انقلاب میں تاریخی لانگ مارچ کو ایک سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے جو اکتوبر1934ء سے اکتوبر 1935ء تک جاری رہا۔ یہ لانگ مارچ چھے ہزار میل ط...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر