اتوار، 5 اکتوبر، 2025

ہجرت کے ابتدائ دور میں کراچی کے سینما ہاؤسز

 



 اگست 1947ء کو پاکستان کے وجود میں آنے کے فوراً بعد ستمبر کے مہینے میں جمیلہ اسٹریٹ پر جوبلی سینما  کا افتتاح اداکارہ سورن لتا اور اداکار نذیر کی کاسٹیوم فلم وامق عذرا سے ہوا، اس سینما کو پاکستان کے اولین سینما کا اعزاز حاصل ہوا، بھارتی اور پاکستانی فلموں کا یہ اپنے وقت کا کامیاب سینما تھارومن طرزِ تعمیر کا یہ حسین شاہکار سینما 1997ء میں مسمار کر دیا گیا، یہاں پیش کی جانے والی آخری فلم کھلونا تھی جس کی ہدایتکارہ سنگیتا بیگم ہیں۔جوبلی کے سامنے والی سڑک مارشل اسٹریٹ پر ایک خوبصورت سینما گھر کا افتتاح 23 مارچ 1966ء کو ہوا، اس کا موتیوں کی لڑیوں سے آراستہ پردہ آج بھی اپنی یاد دلاتا ہےاس کا شو روم اور لابی اپنی خوب صورتی میں کسی 5 ستارہ ہوٹل سے کم نہ تھی، خاص طور پر گول زینہ اور اس کے ساتھ فوارہ اور زینے پر ایسے آئینے تراشے گئے تھے، جس میں بیک وقت ایک ساتھ کئی عکس دیکھے جا سکتے تھے۔اس سینما میں کئی دفاتر بھی قائم تھے ،ایک فلمی مشہور فلمی اخبار کا دفتر بھی یہیں تھا



  1960ء میں ریوالی سینما کا افتتاح انگریزی فلم ’نور دی مون بائی نائٹ‘ سے ہوا، یہ کسی زمانے میں ایلائٹ تھیٹر کے نام سے موجود تھا، جہاں صرف اسٹیج ڈرامے ہوا کرتے تھے۔1991ء میں یہاں ریلیز ہونے والی آخری فلم ’کھڑاک‘ (پنجابی) تھی، اس سینما کی جگہ رہائشی اپارٹمنٹس تعمیر کر دیے گئے ہیں۔ریوالی کے برابر میں ایک وسیع رقبے پر واقع ایروز سینما ہوا کرتا تھا، جو اب ایروز کمپلیکس میں تبدیل ہو چکا ہے، اس سینما کی تعمیر کا آغاز پاکستان بننے کے بعد ہوا جبکہ پاکستان کے پہلے نئے سینما حویلی کی تعمیر کا آغاز 14 اگست 1947ء سے پہلے ہو چکا تھا ایروز سینما کو یہ اولیت حاصل ہے کہ یہ پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد تعمیر ہونے والا پہلا سینما ہائوس تھا، اس تاریخی یادگار سینما کا افتتاح 21ستمبر 1950ء کو ہوا تھا، دلیپ کمار اور نرگس کی بھارتی فلم ’بابل‘ اس سینما کی پہلی فلم تھی۔کراچی میں تعمیر کے شعبے میں مہارت رکھنے والی قدیم برادری سلائوٹ جماعت کے انجینئر حاجی ادریس گذدر عرف بابو نے اس سینما کو تعمیر کیا تھا۔


یہ پہلا سینما تھا جس کے اسکرین کے اوپر قائد اعظم کی تصویر آویزاں تھی، شو روم اور ہال میں گائوں کے پنگھٹ پر پانی بھرنے والی دیہاتی عورتوں کی خوب صورت پینٹنگ بھی خوب تھی۔اس سینما پر پہلی پاکستانی فلم ’دوپٹہ‘ 11جولائی 1952ء کو ریلیز ہوئی تھی، یہ وہ سینما تھا، جہاں 50ء کی دہائی میں بننے والی کئی پاکستانی فلموں کا بزنس غیر معمولی رہا، ایوریڈی کے توسط سے ریلیز ہونے والی فلم ’سسی‘ نے اس سینما پر 34 ہفتوں کا بزنس کر کے پہلی سلور جوبلی فلم کا اعزاز حاصل کیا۔1994ء میں یہ سینما بند ہو گیا، اس وقت یہاں پنجابی فلم ’موسیٰ خان‘ چل رہی تھی، یہ سینما اب ماضی کی ایک داستان بن چکا ہے۔ایروز کے بالکل عین سامنے قیصر کے نام سے ایک سینما ہوا کرتا تھا جس کا افتتاح بروز اتوار 31جولائی 1955ء کو اردو فلم ’داتا‘ سے ہوا تھا، صبیحہ اور سدھیر نے اس فلم میں مرکزی کردار کیے تھے۔اس کا شو روم اوپر کی منزل پر واقع تھا، یہ ایک بلڈنگ نما سینما تھا، 1965ء میں اس سینما کو ایئرکنڈیشنز کا درجہ حاصل ہوا۔



دسمبر 1987ء میں ریلیز ہونے والی اداکارہ انجمن کی پنجابی فلم ’قیمت‘ اس سینما کی آخری فلم ثابت ہوئی، یہ سینما توڑ کر نعمان سینٹر کی عمارت میں تبدیل ہو گیا۔جہاں آج کل غازیانی شاپنگ سینٹر ہے، یہاں ماضی میں گوڈین کے نام سے ایک سینما تھا، 1957ء میں بیگم ناہید اسکندر مرزا نے اس سینما کا افتتاح کیا تھا، یہ اپنے وقت کا انگریزی فلموں کا اہم سینما تھا۔انکل سریا اسپتال گارڈن روڈ پر واقع اس سینما کا افتتاح 1963ء میں بھارتی فلم ’داغ‘ سے ہوا تھالیرک کے سلاتھ بمبینو کے نام سے ایک سینما 1963ء میں قائم ہوا، یہاں پر پیش کی جانے والی پہلی فلم ’سائوتھ پیسیفیک‘ تھی۔اس سینما کا افتتاح پاکستان کے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے کیا تھا، جو اس وقت کے وزیر خارجہ تھے -یہ  معیاری، خو ب صورت، کام یاب سینما کیپری آج بھی اپنی تمام رعنائیوں اور دل کشی کے ساتھ فلم بینوں کے لیے اپنی کشش برقرار رکھے ہوئے ہے۔

میں سہاگن بنی !مگر ' سوکھے دھانوں پانی جو پڑا

 

 آج  اپنی  داستان حیات شروع کرتے ہوئے میں سوچ رہی       ہوں کہ ہر انسان اپنی زندگی مختلف ادوار میں بسر کرتا ہے بچپن جوانی بڑھاپا'میں نےجب ا پنے بچپن کا دور گزار کر دوسرے دور میں جینے کے لئے قدم رکھّا تب مجھے احساس ہوا کہ جیسے میں بچپن کے بعد اپنے دوسرے دور کےبجائے اچانک ہی تیسرے دور میں داخل ہو گئ تھی بلکل اس بچّے کی طرح جوسیڑھیاں پھلانگتے ہوئے خود بہ خود بیچ کی دوسری سیڑھی چھوڑ کر دوسری کےبجائے تیسری سیڑھی پر آ جائےاور میری اس داستان حیات کا محور میری یہی زندگی ہے جس میں ،میرے شعور نےآنکھ کھولی اور مجھے زندگی کے بہت سے ایسے فلسفوں سے آشنا کیا جن سے شائدمیری عمر کی اور لڑکیاں واقف نہیں ہوتی ہوںاللہ میاں کے دستوربھی کتنے نرالے ہیں 'ہمارےگھر میں صرف پہلوٹھی کے بھیّا کو دینے کے بعد ہم چار بہنوں  فرحین آپی جن کو میں اور ہم سب بہنیں بڑی آپا کہتے ہیں،پھر منجھلی آپا ندرت  ،ان کے بعد فریال  جو ہمارے لئے فریال بجّو ہیں اور ان کے بعد نرگس   آپی ہیں ،ان چاروں کو او پر تلےامّاں کے آنگن میں بھیج دیا ،پھر چار برس تک ان کے آنگن سوکھے دھانوں کوئ پانی ناپڑا تھا کہ میں  ان کے آنگن میں اتر آئ


،مجھے نہیں معلوم کہ امّاں لڑ کیوں سے بیزاری کے سبب اتنی تلخ زبان رکھتی تھیں یا ان کا مزاج ہی ایسا تھا ،لیکن ابّا ہم بیٹیوں کے لئے بہت مشفق و مہربان تھے ،امّاں عام بات بھی کرتی تھیں تو ہم بہنوں کو ان کا حکم ہی لگتا تھا،ابّا کبھی کبھی کہتے ارے نیک بخت ان کے ساتھ اتنی سختی نا برتو ,,یہ توہما رے آنگن کی چڑیاں ہیں ،دیکھ لیناایک دن ہو گا کہ اپنے اپنے آشیانےبنانے اڑ جائیں گی اور ہمارا یہی آنگن ان کے بنا سائیں سائیں کرتا ہو گا'اور امّاں ابّا سے کہتی تھیں تم بلاوجہ ان کے دماغ مت خراب کیا کرو ،آخران کو دوسرا گھر اپنا پتّہ مار کر سنبھانا ہے ابھی سے عادت نہیں ڈالی     جائے تو لڑکی نخرے دار اٹھتی ہےمیری سمجھ میں امّاں کی باتیں ہرگز نہیں آتی تھیں ناجانے ابّا سمجھتےتھے کہ نہیں پھر وہ امّاں سے کچھ بولتے نہیں تھے اور امّا ں کے دل شکن  نعروں کی گونج میں جب میں  با شعور ہوئ تو گھر سے بڑی آپا کی رخصت کی گھڑی آ گئ تھی    بڑی آپا ہما رے  منجھلے تایا ابّا کے گھر بچپن کی مانگ تھیں مجھے یاد ہے  وداعی  و الے دن بڑی آپا جب بیوٹی پالر جانے کے لئے گھر سے نکلنے لگیں تو اچانک ہی گھر کے دروازے سے لپٹ کر دھا ڑیں مار کر رونے لگیں ،


ایسے میں امّا ں  گھر کے کسی کونے سے برآمد ہو ئیں   اور اپنے مخصوص تھانیدار لہجے میں بڑی آپا سےکہنے لگیں بند کرو یہ بین     ا اور جاکر گاڑی میں بیٹھو اور ہم بہنیں حیران ہو کر امّاں کو دیکھنے لگے-میں نے سو چا کم از کم آ ج کے دن تو امّاں کو بڑی آپا کو اس طرح نہیں ڈانٹنا چاہئے ،،مگر امّا ں تو امّاں تھین جو اپنے ماں ہونے کےفلسفے کےبنیادی اصول اچھّی طرح جانتی تھیں اور بھیّا جو بڑی آپاکے گھر سے نکلنے کے انتظار میں دروازے پر ہی موجودتھے ایک دم جھپاک سے خود ہی گھر سے باہر چلے گئے,,مجھے لگا جیسے بڑی آپا کے ساتھ بھیّا کا دل بھی بھر آیا تھا اورمنجھلی آپا جو خود بھی رو رہی تھیں انہو ں نے بڑی آہا کو دروازے سے الگ  کرنا چاہا تو بڑی آپا منجھلی آپا کے گلے لگ کراور زیادہ چیخ چیخ کر رونےلگیں اور امّاں پھر وہاں رکیں نہیں خود بھی وہاں سے ہٹ گئیں -منجھلی آپا نے نرگس آ پی سے کہا پانی لے آؤ تو نرگس آپی کے بجائے میں بھاگ کر پانی لے آئ مجھلی آپا نے بڑی آپا کو پیار کے ساتھ سمجھاتے ہوئےان کو پانی پلایا اور پھر انکو خود اپنے سہارے سے لے جا کر بھیّا کی گاڑی  میں بٹھا کر خود بھی بڑی آپا کے ساتھ بیوٹی پارلر چلی گئیں     بڑی آپا گھر کی بڑی بیٹی ہونے کے نا طے بہت زمّہ دار تھیں لیکن مزاج کی بے حد شرمیلی اور کم گو بھی تھیں وداعی والے دن دلہن بننے کے بعد وہ میک اپ کے خراب ہونے کی پرواہ کئے بغیر چپکے چپکے گھونگھٹ کی اوٹ میں  روئے جا رہی تھیں اور رخصتی کے وقت ان کے ضبط کے بندھن ٹوٹ گئے تھے اور د ھاڑیں مار کر روئیں تو ہم سب بہنیں بھی بے حد رو ئے تھے ،


لیکن حیرت کی بات تھی کہ جب آ پا اگلے دن اپنی سسرال سے ہمارے گھر طلال بھائ کے ساتھ آئیں تو بہت خوش نظر آرہی تھیں میں بڑی آپا کو حیران ہو کردیکھ رہی تھی اور پوچھنا بھی چاہ رہی تھی کہ اب وہ رو کیوں نہیں رہی ہیں  کہ اچانک میری نظر ا نکی مہندی لگے ہاتھوں کی کلایوّں پر گئ جہاں امّاں کی پہنائ ہوئ سہاگ کی ہری اور لال کانچ کی کھنکتی ہوئ چوڑیوں کے ہمراہ سو نے کےخوبصورت جڑاؤ کنگن نظر آرہے تھے میں بڑی آپا سےاو ر سب پوچھنا بھول گئ،میں نے ان کے مہندی رچے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر پوچھا ،بڑی آپا یہ سونے کے کنگن کل تو آپ کے ہاتھ میں نہیں تھے میری بات پر بڑی آپا کا چہرہ شرم سے گلابی ہو گیا اور انہوں نے حیا بار نظریں جھکا لیں اور میری بات کا جواب نہیں -مجھے بعد میں فریال بجو نے چپکے سے بتایا تھا کنگن  طلال بھائ نے منہ دکھائ میں پہنائے ہیں اور میں ہونقوں کی طرح سوچ رہی تھی منہ دکھائ کیا ہوتی ہے فریال بجو اپنی بات کہ کر جا چکی تھیں مجھےیاد ہے کہ ہماری تائ امّی کی پوری فیمیلی بہت نیک تھی 


(میری مطبوعہ ناول میں سہاگن بنی !مگر 'سے اقتباس) 

تھر پار کر میں علم کی شمع روشن کرنے والی انیلا علی

 

   کوئی راز کی بات نہیں کہ ہندوستان، بنگلہ دیش اور سری لنکا، پاکستان سے تعلیمی سرگرمیوں میں بہت آگے نکل چکے ہیں۔ پاکستان میں تعلیم کے حصول میں کرپشن، مہنگائی اور والدین کی اجازت جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے-لیکن یہ سبھی مسائل بڑے شہروں میں ہیں۔ چھوٹے شہر اور قصبوں میں سرے سے تعلیمی ادارے ہی موجود نہیں۔ جہاں تعلیمی ادارے ہیں وہاں اساتذہ نہیں، عمارتیں نہیں، عمارتیں ہیں، تو فرنیچر نہیں۔ انیلا علی پاکستانی نژاد امریکی ہیں۔ انہوں نے پاکستان میں تعلیمی میدان میں بہتری لانے کا عزم کیا، اور اس مقصد کی خاطر CalPak Education Services کا آغاز کیا۔ یہ ادارہ کیلیفورنیا سدرن یونیورسٹی کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے اور پاکستان کے پسماندہ علاقوں، چھوٹے شہروں اور قصبوں میں تعلیمی مسائل کو حل کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ سندھ کے 12 ہزار سے زائد سکولوں میں اساتذہ ہی نہیں انیلا اور ان کی ٹیم تعلیمی اداروں میں موجود مسائل کی نشان دہی کرتی ہے


کیلیفورنیا سدرن یونیورسٹی کی ڈاکٹر گیوین فائن سٹون اس مسائل کے حل کے لیے جتنی رقم درکار ہو فراہم کرتی ہیں۔انیلا نے تھر پارکر کا رخ کیا اور وہاں تعلیمی اداروں، اسکولوں کی قلت کو شدت سے محسوس کیا۔ ڈاکٹر گیوین فائن سٹون کو ان حالات سے آگاہ کیا اور تھرپارکر میں اسکول کھولنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ ڈاکٹر گیوین نے خیر مقدم کیا۔اس طرح اس کام کا آغاز ہوا۔ حال ہی میں     نے تیسرے سکول کا سنگ بنیاد رکھا ہے۔ ڈاکٹر گیوین اس موقعے پر پاکستان میں موجود تھیں۔ وہ پاکستان میں تعلیم کی کمی پر افسردہ ہیں اور تعلیمی مسائل کو حل کرنے کے لیے پرعزم بھی۔ ڈاکٹر گیوین نہ صرف سکول بنانے میں مدد فراہم کرنے کے لیے کیلیفورنیا یونیورسٹی کے اساتذہ کی مدد سے پاکستان کے اساتذہ کو کچھ خاص کورس کروانے کا ارارے بھی رکھتی ہیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ میں پاکستان کے تعلیمی معیار یر یہاں کے اساتذہ کے پڑھانے کے طریقے کو بہتر کرنا چاہتی ہوں۔ ’


ہم نے اساتذہ کی باقاعدہ تربیت کا ارادہ کیا ہے۔ پہلے ہم صرف ان اسکولوں کے اساتذہ کی تربیت کریں گے، جو Calpak  نے بنائی ہیں۔ اس کے بعد اگر کوئی اور تعلیمی ادارہ ہم سے اساتذہ کی تربیت کے حوالے سے رابطے کرے گا تو ہم یقیناً مدد کریں گے۔‘ڈاکٹر گیوین کا کہنا تھا کہ جب وہ تھرپارکر گئیں تو انہیں ایک حیرت انگیز مسرت نے گھیر لیا۔ وہاں لوگ بجلی، پانی اور گیس جیسی بنیادی ضروریات سے محروم ہیں، لیکن والدین اپنے بچوں کو تعلیم دلانا چاہتے ہیں۔ بچے علم حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ہنر سیکھنا چاہتے ہیں۔ زبان سیکھنا چاہتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’مجھے اسکول میں پڑھنے والے بچوں کے والدین اور دیگر گھر والوں نے دعائیں دیں۔ تحفے تحائف دیے۔ مجھ پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں۔‘ڈاکٹر گیوین کا کہنا ہے کہ ’جب تھرپارکر میں سکول قائم ہوا تو انیلا نے مجھے بتایا کہ ہم نے لڑکیوں کے لیے سکول قائم کیا ہے،


لیکن اب والدین کہتے ہیں کہ لڑکوں کے لیے بھی سکول قائم کیا جائے۔ یہ بات میرے لیے حیران کن تھی۔ میں سوچ سکتی ہوں کہ لڑکے، لڑکیوں کو دو الگ کمروں میں بیٹھا کر تعلیم دی جائے، لیکن ایک مکمل الگ سکول کا قیام، یہ بات بہت حیران کن اور عجیب لگی، لیکن میں ان بچوں کو تعلیم دلانے کے حق میں ہوں تو میں نے انیلا علی کی بات مان لی۔‘اچھی بات یہ ہے کہ Cal Pak کا کوئی مخصوص مشن نہیں، کوئی خاص ہدف نہیں۔ ڈاکٹر گیوین فائن سٹون بتاتی ہیں کہ ہم نے یہ نہیں سوچ رکھا کہ ایک ہی علاقے میں سو سکول قائم کر دیں اور سب کو بتاتے پھریں، بلکہ ہم ضرورت کے مطابق کام کریں گے۔ جہاں جتنی ضرورت ہو گی اتنے سکول قائم کریں گے اور وہاں اساتذہ کی تربیت کریں گے۔ڈاکٹر گیوین فائن سٹون، انیلا علی اور ان کی ٹیم ہمارے شکریے کے مستحق ہیں کہ انہوں نے دن رات ایک کر کے پاکستان کے ایک پس ماندہ علاقے میں تعلیم کا ایک چھوٹا سا دیا روشن کرنے کی کوشش کی ہے۔تھرپارکر میں اسکول سے باہر بچوں کی تعداد تشویشناک ہے.تھرسندھ 2021 کے سروے کے مطابق، 5 سے 16 سال کی عمر کے 2,13,613 بچے اسکول نہیں جاتے۔ یہ صورتحال بچوں کے مستقبل اور تعلیم کے حق کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔تعلیمی اصلاحات اور بچوں کو اسکول میں واپس لانے کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے تاکہ ہمارے بچے ایک روشن مستقبل کے طرف قدم بڑھا سکیں۔

 

 

معصوم چہرے اور سادہ دل والے محمد شیرازسے ملئے

 


 یوٹیوب پر روزمرہ زندگی اور علاقے کی خوبصورت ثقافت کو دنیا کے سامنے پیش کر کے شہرت حاصل کرنے والے اس ننھے ستارے نے اپنی آمدنی کو وہ رخ دیا جس نے پورے گاؤں کی تقدیر بدل دی۔یہ شائد پچھلے برس کی بات ہے میں معمول کے مطابق کمپیوٹر پر کام کر رہی تھی  کہ اچانک  یوٹیوب اوپن کیا تو ایک چھوٹا خوبصورت بچہ ماشااللہ  اپنی چھوٹی بہن کے ساتھ کھڑا تھا    اس  نٹ کھٹ بچے نے اپنی بہن سے پوچھا 'تمھاری  عمر کیا ہے بہن نے جواب دیا دوسو پچاس 'اور بہن کے جواب میں بچہ کی کھلکھلاتی ہوئ ہنسی کے ساتھ کچھ دیر بہن کے جواب میں ہنستا  چلا گیا اس وقت مجھے معلوم ہوا کہ اس بچے کا نام محمد شیراز ہے ااور اس کی چھوی بہن کا نام  مسکان ہے گلگت  بلتستان کے ضلع اسکردو کے خوبصورت علاقے سے تعلق رکھنے والے محمد شیراز نے یوٹیوب پر اپنی روزمرہ زندگی اور علاقے کی خوبصورت ثقافت دنیا کے سامنے پیش کر کے بہت کم عرصے میں بے پناہ مقبولیت حاصل کی گلگت بلتستان کے حسین وادی اسکردو سے تعلق رکھنے والے معصوم چہرے اور سادہ دل والے محمد شیراز نے یہ ثابت کر دیا کہ کامیابی صرف اپنے لیے نہیں، دوسروں کے لیے بھی ہونی چاہیے۔


 یوٹیوب پر روزمرہ زندگی اور علاقے کی خوبصورت ثقافت کو دنیا کے سامنے پیش کر کے شہرت حاصل کرنے والے اس ننھے ستارے نے اپنی آمدنی کو وہ رخ دیا جس نے پورے گاؤں کی تقدیر بدل دی۔محمد شیراز کے ولاگز ہر عمر کے ناظرین کو مسحور کر دیتے ہیں۔ ان کی معصومانہ باتیں اور قدرتی انداز دیکھنے والوں کے دلوں کو چھو لیتے ہیں۔مگر حال ہی میں شیراز نے ایک ایسا قدم اٹھایا جس نے سب کو حیران بھی کیا اور متاثر بھی۔انسٹاگرام پر شیراز نے ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں سب سے پہلے انہوں نے گاؤں کے ایک پرانے اسکول کی افسوسناک حالت دکھائی۔ بچے زمین پر بیٹھنے پر مجبور تھے، کلاس رومز ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھے اور سہولیات کا شدید فقدان تھا۔ پھر ویڈیو کا منظر بدلتا ہے اور وہی اسکول ایک شاندار عمارت میں تبدیل دکھائی دیتا ہے۔ جدید کلاس رومز، کھیل کے میدان اور جھولے اس بات کی گواہی دے رہے تھے کہ خواب اگر نیک نیت سے دیکھے جائیں تو حقیقت کا روپ دھار لیتے ہیں۔   شیراز نے ویڈیو کے کیپشن میں لکھا:"لوگ پوچھتے ہیں کہ سوشل میڈیا سے مجھے کیا ملا؟ تو میرا جواب ہے: ہم نے اپنے گاؤں کا خستہ حال اسکول ایک جدید تعلیمی ادارے میں بدل دیا۔”


شیراز نے اپنے پیغام میں مزید کہا کہ وہ چاہتے ہیں میڈیا پر کام کرنے والا ہر شخص یہ سوچ لے کہ اگر سچے دل سے محنت کی جائے تو کسی ایک گاؤں یا شہر کی تقدیر بدل سکتی ہے، اور کامیابی کا اصل لطف تب ہے جب وہ دوسروں کے کام آئے۔گلگت بلتستان کے ضلع اسکردو کے خوبصورت علاقے سے تعلق رکھنے والے محمد شیراز نے یوٹیوب پر اپنی روزمرہ زندگی اور علاقے کی خوبصورت ثقافت دنیا کے سامنے پیش کر کے بہت کم عرصے میں بے پناہ مقبولیت حاصل کی۔شیراز کے ولاگز ہر عمر کے افراد شوق سے دیکھتے ہیں اور ان کی معصومانہ گفتگو سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔اب ننھے ولاگر نے ایک اور ویڈیو شیئر کی ہے جس میں شیراز نے بتایا کہ انہوں نے گاؤں کے لوگوں کے لیے مفت ایمبولنس سروس کا آغاز کیا ہے تاکہ مجبور اور مستحق افراد کی بروقت مدد کی جاسکے، کیونکہ ان کے مطابق ہر انسانی جان بہت قیمتی ہے۔ویڈیو میں شیراز نے کہا کہ گاؤں میں علاج و معالجے کے لیے کوئی اچھا ہسپتال موجود نہیں، اسی لیے لوگوں کو علاج کے لیے ایک سے دو گھنٹے کا سفر کرکے شہر جانا پڑتا ہے، جو نہ صرف مشکل ہے بلکہ اخراجات کے باعث اکثر لوگوں کی پہنچ سے بھی باہر ہوتا ہے۔


انہوں نے بتایا کہ گاؤں کی خواتین کو  بیماری  کے دوران شدید مشکلات کا سامنا رہتا ہے، جب کہ برف باری اور سخت سردی کی وجہ سے یہاں بزرگ، خواتین اور بچے سب بہت کٹھن زندگی گزارتے ہیں، ایسے حالات میں اگر کوئی بیمار ہوجائے تو ایمرجنسی میں شہر لے جانے کے لیے گاڑی بھی میسر نہیں آتی۔شیراز نے کہا کہ انہی مشکلات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنے گاؤں کے لوگوں کے لیے ایک ایمبولنس خریدی ہے تاکہ ایمرجنسی کی صورت میں بزرگوں، خواتین اور بچوں سمیت سب کو بروقت علاج کے لیے ہسپتال پہنچایا جاسکے۔گلگت بلتستان کے ضلع اسکردو کے خوبصورت علاقے سے تعلق رکھنے والے محمد شیراز نے یوٹیوب پر اپنی روزمرہ زندگی اور علاقے کی خوبصورت ثقافت دنیا کے سامنے پیش کر کے بہت کم عرصے میں بے پناہ مقبولیت حاصل کی لگت بلتستان کے حسین وادی اسکردو سے لےتعلق رکھنے والےمعصوم چہرے اور سادہ دل والے محمد شیراز نے یہ ثابت کر دیا کہ کامیابی صرف اپنے لیے نہیں، دوسروں کے لیے بھی ہونی چاہیے۔

 

اسکولز وکالجز آؤٹ سورس کرنے کی منظوری

  وزیر اعظم  شہباز شریف   کی حکومت کے حالیہ  فیصلے ' آؤٹ آف سورس کے عمل سے طلبہ اور اساتذہ  کیوں بے چین ہیں -اسکولز وکالجز آؤٹ سورس کرنے کی منظوری، خیبر پختونخوا میں طلبہ کا احتجاج -خیبر  پختونخوا کابینہ کا اسکول اور کالجز کو آؤٹ سورس کرنے کے خلاف طلباء اور اساتذہ سراپا احتجاج، حکومتی فیصلے کے خلاف صوبہ بھر میں طلبہ سڑکوں پر نکل آئے جبکہ ان کے ہمراہ اساتذہ اور خواتین لیکچررز بھی تھیں۔ جنہوں نے حکومتی فیصلہ مسترد کردیا۔وزیرِ اعلیٰ کے مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے بتایا کہ کابینہ نے سرکاری کالجز میں اساتذہ کی کمی پوری کرنے کیلیے عارضی بنیادوں پر بھرتی کی منظوری دی ہے، اس فیصلے کی روشنی میں تین ہزار سے زائد اساتذہ بھرتی کیے جائیں گے، ان عارضی اساتذہ کی بھرتی پر سالانہ تین ارب روپے لاگت آئے گی


 اسکول وکالج آؤٹ سورس کرنے کی منظوری دینے کے ساتھ صوبائی کابینہ نے ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرام کو بی اے کی ڈگری کے مساوی ملازمت کیلیے موزوں قرار دینے کی منظوری دی، صوبائی حکومت کی جانب سے سرکاری تعلیمی اداروں کو آؤٹ سورس کرنے کے مجوزہ فیصلے کیخلاف صوبہ کے مختلف اضلاع میں کالجز کے طلبہ اور اساتذہ سراپا احتجاج بن گئے۔ضلع مردان میں گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کے طلبا نے مین کالج چوک کو ہر قسم کی ٹریفک کیلیے بند کرتے ہوئے شدید نعرے بازی کی، اسی طرح مردان میں بھی کپلا کی کال پر حکومت کی طرف سے سرکاری کالجز کی آؤٹ سورسنگ اور سروس رولز میں مجوزہ تبدیلیوں کے خلاف احتجاج اور کلاسز کا بائیکاٹ کیا گیا۔


سوات کے علاقہ مٹہ میں مختلف سرکاری کالجز کے طلبہ نے کالجوں کی نجکاری کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے مٹہ چوک میں جمع ہو کر سڑک کو ٹریفک کے لیے بند رکھا اور صوبائی حکومت کے خلاف نعرے لگائے، اسی طرح تیمرگرہ میں آؤٹ سورسنگ پالیسی کے خلاف گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج تیمرگرہ کے ٹیچنگ اسٹاف نے کلاسز سے بائیکاٹ کا اعلان کیا گیا، کپلا لوکل یونٹ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج میں آج سے کلاسز کا مکمل بائیکاٹ کا اعلان کیا۔اس طرح ہری پور میں تعلیمی اداروں کو آؤٹ آف سورس کرنے کے خلاف گورنمنٹ گرلز پوسٹ گریجویٹ کالج میں اساتذہ اور طالبات نے احتجاج کیا،



تعلیمی اداروں کی نجکاری کے خلاف جمعرات کو گورنمنٹ کالج کوٹھا اور دیگر تعلیمی اداروں کے طلبا نے بھرپور احتجاجی مظاہرہ کیا، مظاہرین نے اس دوران روڈ کو بطور احتجاج بند رکھا اور سرکاری تعلیمی اداروں کی پرائیویٹائزیشن کا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیاضلع مردان میں بھی سرکاری کالجز کو آؤٹ سورس کرنے کے خلاف احتجاج دوسرے روز بھی جاری رہا، پروفیسرز، لیکچررز اور لائبریرینز نے کلاسز سے بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا، اساتذہ کا کہنا ہے کہ حکومت فیصلہ واپس لے ورنہ احتجاج جاری رہے گا، کالج میں مظاہرین کی جانب سے شدید نعرے بازی کی گئی

ہفتہ، 4 اکتوبر، 2025

پام سنڈے !غرناطہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی یاد میں جلوس پارٹ- 4

 

گھر پہنچ کر  میں نے گھر والوں کو بتایا تو ان کو بھی اشتیاق ہوا کہ  ہم بھی جلوس دیکھنے جائیں گے ، میں نے بتایا کہ اب سب بند ہوچکا ہے، جلوس ختم ہوچکا، لہٰذا کچھ نہیں ملے گا، اور شاید اب بازار بھی بند ہوچکا ہو۔ لیکن پھر بھی ہوا خوری میں کوئی مضائقہ نہیں تو گھر پہنچ کر دوبارہ ہوا خوری کے لیے گھر والوں کے ہمراہ مرکزی چرچ کی راہ لی۔ ابھی چرچ سے کچھ فاصلے پر تھے کہ دوبارہ ڈھول و بینڈ کی آواز سنائی دی، مجھے حیرت ہوئی کہ اب یہ کیا!!خیر قریب پہنچے تو دیکھا کہ ایک اور جلوس چلا آرہا ہے، اور اس کے ساتھ نیا تعزیہ ہے جس پر کوئی خاتون نہیں بلکہ ایک تابوت ہے،


باقی جلوس کی ترتیب کم و بیش وہی ہے۔یعنی وہی  ماتمی لباس 'وہی تنظیم 'وہی احترام ' اس جلوس کی بدولت اب یہ معلوم ہوا کہ اس  دن شہر میں ایک نہیں بلکہ کئی جلوس نکلتے ہیں، اور سب اپنے اپنے علاقوں سے نکلتے ہیں، اور ان کا اختتام بھی الگ الگ وقت میں لیکن ایک مقام پر ہوتا ہے یعنی مرکزی چرچ پر، جہاں فرڈیننڈ اور ازابیلا کی قبریں ہیں۔ بلکل  کراچی کی طرز پر  جہاں ہر جلوس کا اختتام نشتر پارک پر ہوتا ہے


اس جلوس کو بھی قریب سے دیکھا، اور اس کا اختتام تقریباً رات 12 بجے مرکزی چرچ میں ہوا تو تمام تقریبات بھی اگلے دن تک کے لیے اختتام پزیر ہوگئیں۔راستے میں کھلی دکانیں بھی بند ہونا شروع ہوگئیں اور لوگوں نے اپنی اپنی راہ لی۔ کیونکہ اس تہوار میں پورے اندلس سے لوگ غرناطہ آتے ہیں لہٰذا یہ سیزن ہوٹلز کے لیے بھی بہت کمائی کا ذریعہ بنتا ہے، اس کے علاوہ مقامی دکان داروں کو بھی کاروبار کے مزید مواقع فراہم ہوتے ہیں۔غرناطہ کا یہ تہوار نہ صرف اس بات کی نشانی ہے کہ یورپ میں مذہب اب تک موجود ہے بلکہ اس کی بدولت اس مذہب کو آئندہ نسلوں تک منتقل کرنے کا کام بھی بخوبی انجام دیا جارہا ہے۔ یہ اس حوالے سے اہم ہے کہ جس یورپ میں مذہب و لامذہب کی بحث موجود ہو وہاں بھی مذہب اپنی شناخت کو برقرار رکھنے کی کوشش کررہا ہے۔


 میرا مشاہدہ ہے کہ کسی بھی مذہب پر فہم کے ساتھ عمل کرنے والوں کا رویہ زیادہ بہتر اور زندگی کے بارے میں ان کا تصور بلند ہوتا ہے۔ لادینیت کے اس دور میں مذہب کو کسی بھی صورت میں زندہ رکھنا ایک بڑی بات ہے اور میرے نزدیک قابلِ ستائش بھی ہے۔غرناطہ کا آخری دن میرے لیے زندگی کے حسین مشاہدات سے بھرا ہوا تھا… ایسے مشاہدات جو شاید لوگوں کو سالوں میں ہوتے ہیں وہ مجھے اللہ کے فضل و کرم سے ایک رات میں وہ بھی حادثاتی طور پر ہوگئے۔ ان مشاہدات نے صرف مجھے زندگی کو کئی زاویوں سے دیکھنے کا موقع فراہم کیا  

غرناطہ جانے والے اس سیاح کا نام مجھے نہیں معلوم ہو سکا -اس لئے سیاح سے معذرت بھی اور تحریر عاریتاً لینے کا شکریہ بھی 


پام سنڈے !غرناطہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی یاد میں جلوس پارٹ-3

 

حتیٰ کہ پیدل بھی اس راستے پر آپ نہیں جاسکتے جو جلوس کی گزرگاہ ہے، تاہم جلوس کی گزرگاہ کے دونوں اطراف اور اس کے پیچھے آپ چل سکتے ہیں۔جلوس ڈھول و بینڈ کی مخصوص آواز پر چلتا اور رکتا تھا۔ یہ رکتا اس لیے تھا کہ اس تعزیے کو اٹھانے والی کوئی گاڑی نہیں تھی بلکہ کچھ نوجوان تھے جو اسے اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے تھے، اس کے وزن کی وجہ سے وہ رک جاتے، تھوڑا آرام کرتے اور پھر سفر شروع ہوتا، لیکن جلوس کے رکنے کے دوران بھی تعزیہ ان کے کندھوں سے نہیں اترتا تھا۔وہ کیا طریقہ کار اختیار کرتے، میں نے اس کو جانچنے کی کوشش کی، لیکن بے سود… کیونکہ ان کے اوپر تعزیہ تھا اور چاروں اطراف ایک جھالر لٹک رہی تھی جس سے اندر کا منظر نہیں دیکھا جاسکتا تھا، تاہم ان کے پیر نظر آرہے تھے۔ ساتھ ساتھ اس تعزیے کو گائیڈ کرنے والا بھی باقاعدہ ایک فرد تھا جو ہسپانوی زبان میں ان کو ہدایات دیتا تھا۔ 


اس فرد کی ہدایات اور مخصوص ضرب کی آواز سے وہ رکتے اور چلتے تھے۔اس تعزیے کے بینڈ کے افراد بھی مکمل یونیفارم میں ایک فارمیشن کے ساتھ چلتے اور رکتے تھے۔ ان کے مختلف سازوں کے ساتھ میوزک کی گائیڈ بھی موجود تھی جس کو رات کی تاریکی میں دیکھنے کے لیے انہوں نے چھوٹی لائٹس اس پر لگائی تھیں۔ اسی طرح تعزیے کی موم بتیاں چلنے سے اگر بجھ جائیں تو اس کے لیے بھی ایک فرد مقرر تھا جو لمبی موم بتی نما کوئی چیز لیے ان کو مسلسل جلاتا رہتا تھا۔ اس کے سامنے ایک فرد زنجیر سے بندھی دھونی سے دھونی دیتا چلا جارہا تھا۔تعزیے کے پیچھے سیاہ لباس میں ملبوس نوعمر لڑکیاں، چھوٹے بچے اور خواتین بھی موجود تھیں جو دو قطاروں میں بڑی موم بتیاں لیے چل رہی تھیں۔اس جلوس کی اہم ترین بات یہ تھی کہ ایک مکمل فیملی ایکٹیوٹی تھی۔



 اس جلوس میں حصہ لینے والوں کے اہلِ خانہ بھی اس جلوس کے ہمراہ چل رہے تھے۔ شاید یہ جلوس طویل ہوتے ہیں، لہٰذا جب جلوس رکتا تو وہ ان کو پانی اور دیگر سامان دینے آتے تھے۔اسی طرح چھوٹے بچے و بچیوں کو بھی اس میں خاص طور پر شریک کروایا گیا اور ان کے اہلِ خانہ ان کی حوصلہ افزائی کے لیے موجود تھے۔ یہ ایک مکمل مذہبی تربیت گاہ کا ماحول تھا کہ جہاں سال میں ایک بار اس کام کو کرنے کے لیے اور حضرت عیسیٰ ابن مریم کو مصلوب کرنے کی یاد کو تازہ کرنے اور اسے آئندہ نسلوں تک منتقل کرنے کا مکمل اہتمام موجود تھا۔ میں شاید واحد فرد ہوں گا جو اس جلوس کو بغیر کسی مذہبی جذبے کے دیکھ رہا تھا، ورنہ لوگوں کی عقیدت و محبت ان کی نگاہوں سے عیاں تھی۔اس سب کے باوجود کسی ایک فرد نے بھی نہ مجھے روکا کہ میں آگے جاکر تصاویر اور ویڈیوز کیوں بنارہا ہوں، اور نہ ہی مجھے عجیب نظروں سے دیکھا۔ اس معاملے میں ان کی وسیع النظری اور اعلیٰ ظرفی کی تعریف نہ کرنا زیادتی ہوگی۔



 حتیٰ کہ میں ایک موقع پر جلوس کے ساتھ ساتھ اُس مقام تک چلا گیا جو جلوس کا اختتام تھا اور آگے مرکزی چرچ میں صرف تعزیہ اور مخصوص لباس میں ملبوس افراد کو جانے کی اجازت تھی۔ وہاں بھی صرف ایک پولیس والے نے ہاتھ کے اشارے سے روکا تو مجھے معلوم ہوا کہ اس کے آگے تو کوئی بھی نہیں جارہا، تو میں رک گیا۔جلوس کو دیکھ کر مجھے کراچی میں محرم الحرام اور ربیع الاول کے جلوس یاد آگئے۔ یہ بھی ایک تحقیق طلب معاملہ ہے کہ کس طرح جلوسوں کی یہ روایت برصغیر سے یورپ گئی یا یورپ سے برصغیر میں آئی۔ کیونکہ تمام تر جلوس اپنی جداگانہ حیثیت اور نظریے کے باوجود بھی برتاؤ میں عملاً یکساں نظر آتے ہیں۔میں اس پر سوچ بچار کر ہی رہا تھا کہ فون کی گھنٹی بجی اور گھر والوں نے پوچھا کہ آپ کدھر چلے گئے ہیں، تو گھر کی راہ لی۔ جلوس کیونکہ ختم ہوچکا تھا، لوگ بھی جاچکے تھے اور رات کے11 بج رہے تھے تو میں نے سمجھا کہ اب جو کچھ بھی ہوگا کل ہی ہوگا۔ 

بلاگ ابھی جاری ہے


نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

انقلاب چین جو چینی قوم کی نجات کا باعث بن گیا

  چین کے انقلاب میں تاریخی لانگ مارچ کو ایک سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے جو اکتوبر1934ء سے اکتوبر 1935ء تک جاری رہا۔ یہ لانگ مارچ چھے ہزار میل ط...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر