جمعہ، 26 ستمبر، 2025

قصہ حضرت صالح علیہ السلام کا




قوم ثمود کے لوگ زیادہ ترکھیتی باڑی کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی زمین کو بڑی زرخیزی عطا   کی تھی۔  ان کے وطن کی مٹی میں بڑی طاقت  اور زرخیزی تھی۔، وافر پانی  ہونے کی بدولت فصلیں خوب لہلہاتی تھیں ۔ لوگوں نےکنویں کھودے ہوئے تھے۔ دراصل یہ اپنے وقت کے بہترین انجینئر تھے۔ان کے محلات، قلعے اور مکان ان کے ہنر کا منہ بولتا ثبوت تھے۔ میدانوںمیں بڑے بڑے محل تو ہر زمانے میں بنائے جاتے ہیں لیکن قوم ثمود کا حیران کن ہنر پہاڑ تراشنا تھا۔یہ لوگ کسی مناسب پہاڑ کا انتخاب کرتے، پھر اسے تراشنا شروع کر دیتے،یہاں تک کہ پہاڑ میں مکان بنا ڈالتے۔ یہ مکان غار نما ہر گز نہیں تھےبلکہ ان میں ہوا اور روشنی کا مناسب انتظام ہوتا۔ پہاڑ میں تعمیر ہونے کیوجہ سے یہ بہت مضبوط ہوتے تھے۔ انھی خوبیوں کی وجہ سے پورے علاقے میں ان    جتنا خوش حال اور طاقت ور ملک کسی کا نہیں تھا۔ اور یہ خوش حالی اور طاقت ہی کا گھمنڈ تھا جس نے انھیں مغرور اور ظالم بنا دیا تھا۔ ارد گرد کی بستیوں پر ظلم کرنا ان کے لیے ایک کھیل کا درجہ رکھتا تھا۔



خدا کی بخشی ہوئی نعمتوں کی وجہ سے ثمود کے لوگ عیش عشرت  کی زندگی بسر کر رہےتھے اور اپنے نبی اور رسول حضرت ہود علیہ السلام کی تعلیمات کو بھلا چکےتھے۔انھی حالات میں ایک نوجوان کا چرچا ہوا۔ سرخ و سفید رنگ، لمبے قد اورمضبوط جس کا مالک یہ نوجوان عام لوگوں سے الگ تھلگ رہتا تھا۔ اسے اپنےزمانے کی فضول رونقوں سے کوئی دل چسپی نہیں تھی۔ اسے بت کدوں میں  رکھےہوئے بتوں سے بھی سخت نفرت تھی۔ لوگ اس کی زبان سے بتوں کے متعلق نفرت کےکلمات کئی دفعہ سن چکے تھے۔ لیکن اس کی شرافت اور دیانت کی وجہ سے اسےکچھ نہیں کہتے تھے۔اس نوجوان کا نام ’’صالح‘‘ تھا۔ ایک معزز قبیلے کا باوقار شخص، جسے بعدمیں اللہ نے اپنا نبی بنایا۔ حضرت صالح علیہ السلام نے شہر کے بڑے بڑےلوگوں کی دعوت کی۔ انھوں نے کھاناکھلانے کے بعد لوگوں کی آمد کا شکریہ ادا کیا اور انھیں بلانے کا مقصد بتاتے ہوئے کہا:’’اے لوگو! آج میں نے تمھیں وہ باتیں یاد کرانے کے لیے بلایا ہے، جن کوتم بھول چکے ہو۔ 



مجھے علم ہے کہ تم اس بات کا انکار نہیں کرتے کہ اللہ ہی نے تمھیں اور تمھاری زمین کو بنایا ہے۔ لیکن اس کے باوجود تم اس کی عبادت کرنے کے بجائے جھوٹے خداؤں کے سامنے جھکتے ہو۔ اے میری قوم کے سردارو! یہ گمراہی چھوڑ دو، ایک اللہ کی عبادت کرو۔ وہی تمھارا اصل رب ہے، اسی سےاپنے گناہوں کی معافی مانگو اور سرکشی کا رویہ چھوڑ دو۔‘‘حضرت صالح علیہ السلام کی گفتگو کے جواب میں ان سرداروں نے کہا: ’’اےصالح! ہمیں تم سے بہت سی امیدیں تھیں۔ ہم تمھیں بہت معزز اور باوقار شخص سمجھتے تھے لیکن تم نے ہمیں ’’گمراہ‘‘ کہہ کر ہمارے باپ دادا کے دین کوگالی دی ہے۔ تمھاری کوئی بات ہماری سمجھ میں نہیں آئی۔ آخر ہم ان خداؤںکی پوجا کیوں چھوڑ دیں جن کو ہمارے باپ دادا پوجتے رہے ہیں۔ تم نے ہمیں بہت مایوس کیا ہے۔‘‘حضرت صالح علیہ السلام نے انھیں سمجھانا چاہا لیکن وہ ناراض ہو کر وہاں سے اٹھ آئے۔



انھوں نے حضرت صالح علیہ السلام کو خبردار کیا کہ اگر انھوں نے یہ باتیں عام لوگوں میں کیں تو نتائج کے وہ خود ذمہ دار ہوں گے۔حضرت صالح علیہ السلام نے سرداروں کی دھمکی کو کوئی اہمیت نہ دی اور اپنی رسالت کا عام اعلان کر دیا۔ یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی کہ صالح        نے رسول اللہ ہونے کا دعویٰ کر دیا ہے-انھوں نے اپنی قوم کو بتایا کہ وہ حضرت نوح ؑ اور ہودؑ کی طرح کے رسول ہیں۔ ان کا انکار کرنے پر اللہ ان پر عذاب نازل کرے گا۔ مگر طاقت کے غرورمیں پڑے ہوئے سرداروں اور مذہبی لیڈروں نے لوگوں کو یہ کہہ کر تسلی دی کہاگر وہ اللہ کی نافرمانی کر رہے ہوتے اور گناہ کی زندگی بسر کر رہے ہوتےتو اللہ انھیں پورے عرب میں اتنی عزت نہ دیتا، ان کی زمینوں کو اتناسرسبز نہ بناتا



اور ان کے محل اور پہاڑوں میں تراشے ہوئے مکان اتنے عمدہ    نہ ہوتے۔بت خانوں کے مالک یعنی کاہن کہتے: ’’اے لوگو! خود سوچو، جو ہاتھ گناہ گارہوں، ان ہاتھوں میں اللہ یہ ہنر کیوں پیدا کرے گا جن کی وجہ سے وہ پوریدنیا میں معزز بن جائیں...‘‘کچھ جھوٹے دانش ور دور کی کوڑی لائے اور کہنے لگے: ’’دراصل اس (صالح علیہالسلام) کا علیحدہ اور تنہا رہنے سے (نعوذ باللہ) ذہنی توازن بگڑ گیا ہے۔اس لیے یہ اپنے باپ دادا کو گمراہ قرار دے کر ایسی بہکی بہکی باتیں کررہا ہے۔‘‘کچھ زیادہ ہمدردی جتاتے تو کہتے: ’’بے چارے صالح پر کسی بد روح کا سایہ  پڑ  گیا ہے۔‘‘بعض تو یہ کہنے سے بھی باز نہ آئے کہ صالح جادوگر ہو گیا ہے۔ کچھ سردار کہتے:’ہمیں یقین ہے کہ صالح نے یہ سارا چکر اس لیے چلایا ہے کہ وہ لوگوں کوبے وقوف بنا کر ا ن کا سردار بن جائے۔ یہ بہت چالاک شخص ہے۔لیکن حضرت صالح علیہ السلام نے سرداروں اور بت کدوں کے کاہنوں کی باتوںکی کوئی پروا نہ کی اور اپنی تبلیغ جاری رکھی۔

زرا عمر رفتہ کو آواز دینا -میری کتاب زندگی ' ہجرت

  

 سقوط حیدرآبا د کا ظالما نہ عمل تو قائد اعظم رحمتہ اللہ علیہ کے انتقال کے اگلے روز ہی پنڈت جواہر لعل نہرو نے باقاعدہ اعلان کر کے کیا تھا   سقوط حیدار آباد میں بھی ہزاروں کی تعداد میں وہاں کی مسلمان آبادی تہ تیغ کی گئ ,,بعد از سقوط ناگفتہ بہ فرقہ وارانہ حالات کے  پاکستان ہجرت کی اوربعد از ہجرت تمام عمر اپنے پیارے محبوب وطن پاکستان کے قلب کراچی میں بسر ہوئ عرصہ سات سال ہو نے کو ہیں کہ اپنے عزیز از جان شریک زندگی کی وفات  کے بعد کینیڈا آنا ہوا اور پھر یہیں کی مٹّی نے قدم پکڑ لئے-میں اپنی داستان زندگی کے آغاز پر ہی اللہ کریم رحمٰن و رحیم , کا شکریہ ادا کرنے کے ساتھ اپنے والدین مر حومین کی بھی بے حد شکر گزار ہوں کہ جنہوں نے مجھے قرطاس وقلم کی اہمیت سےروشنا س کیا,اور زندگی کے لق ودق صحرا میں پیش آنے والی  اونچ نیچ سمجھائ ,,مشکلات کی کٹھن گھڑیوں میں  صبر اور نماز سے مدد کی  نصیحت کی  اور زندگی کے ہر ہر قدم پر میری رہنمائ کی ان ہستیوں کے ہمراہ اپنے محترم علم دوست شوہر  کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہوں گی کہ جن کی قریب قر یب بیالیس سالہ رفاقت میں مجھےا ن کے آ  نگن میں سائبا ن  علم نصیب ہوا اب میں قارئین کو اپنا خاندانی پس منظر بتانا چاہوں گی 


میری والدہ کے اجد ا دسرزمین ہند کے زی وقار اور منفرد تہزیب رکھنےوالے شہر لکھنؤ میں سادات کے سو سالہ دور حکومت  میں ایران سے وارد ہند ہوئے،ان کا شجرہء نسب نجیب الطرفین سادا ت سے ہوتا ہوا چوتھے امام حضرت اما م زین العابدین علیہ السّلام سے جا ملتا تھا اور وہ  ایران کے شاہی دربار سےمنسلک شاہانہ طرز حیات رکھنے والے  لوگ تھے   ان میں ادباء و فضلاء شعراءصاحبان علم وحکمت  تھے چنانچہ ان کی لکھنؤ میں آمد پر شاہی دربار میں بھی ان کی خاص پذیرائ ہوئ اور یہ یہاں بھی شاہی دربار سے ہی وابستہ ہوئےان کی امارت کا یہ عالم تھا کہ جب میری والدہ شادی ہو کر حیدرآباد دکن آئیں اسوقت ان کا جہیز ریل کی دو بوگیاں ریزرو کر کے لایا گیا ،ان کی شادی کے جوڑے سونے کے تاروں اور ریشم کی آمیزش سے تیّار کئے گئے تھے ( ہجرت نے ہماری والدہ کواور ہم کو ان چیزوں سے فیضیاب ہونے کی مہلت نہیں دی اور سب کچھ بھرا گھر چھوڑ کر جان بچانے کو گھر سے نکل آ ئےامارت کے باوجود علم و ادب کےان شیدا ئیو ں میں  خواتین کے علم سے بھی وابستگی کا یہ عالم تھا کہ اس دور میں جب ہند وستان میں عورت کی تعلیم ایک جرم سمجھی جاتی تھی یہ لوگ اپنے گھر کی بچّیوں کی تعلیم پر بھی بھرپور توجّہ دیتے تھے  


مجھے میری نانی جان نے بتایا تھا کہ سن انّیس سو تیس میں جب میری والدہ پانچ برس کی ہوئیں تب ان کو پڑھانے کے لئے ایک بزرگ استاد گھر پر رکھّے گئے اور میری والدہ نے اپنے استاد محترم سے فارسی عربی اردو اور انگلش کی تعلیم حاصل کی جبکہ ان کا داخلہ بھی ایک مسلم اسکول میں اسی عمر میں کروادیا گیا ،، صبح آٹھ بجے ان کی ڈیوڑھی پر پردے لگا ہوا یکّہ آکر رکتا تھا اور میری والدہ کو گھر کے کوئ  بزرگ لے جا کرایکّے میں  سوار کرواد یتے تھے  اور شام چار بجے پھر اسی طرح سے واپسی کے وقت یہی عمل دہرایا جاتا تھا اس طرح میری والدہ نے غیر منقسم ہندوستان میں ہی مڈل کلاس پاس کرلی تھی میری والدہ اور دادی جان مرحومہ کا تعلّق اسی خانوادے سے تھاچنا نچہ ہوش سنبھالنے پر میں نے اپنے گھر کے آنگن میں ادبی محفلیں سجتی ہوئ دیکھیں اور ان کا اثر بھی قبول کیا دراصل ہمارا گھرانہ بنیادی طور پر ایک ادبی لیکن ساتھ ساتھ کافی حد تک مذہبی گھرانہ تھا اس لئے مجھے ادب سے اپنے گھرانے کی وابستگی آہستہ آہستہ میرے مزاج میں بھی رچتی اور بستی گئ میری والدہ کے قبلہ محترم رئیس امروہوی صا حب  سے  گھریلو مراسم تھے ،جبکہ  محترم سجّاد ظہیر صاحب کے گھر ا نے سے  بھی والدہ کے ہمراہ آنا جانا لگا رہتا تھا


میری والدہ صاحبہ کے  یہ خا ندانی  مراسم تقسیم ہند سے پہلے لکھنؤ سے ہی چلے آرہے تھے جیسا کہ میں نے بتایا کہ میری والدہ محترمہ کا تعلّق لکھنؤ کے سادات سے تھا جبکہ والد بھی یوپی کے سادات کے اہم خانوادے سادات نو گانواں میں عابدی سادات کےجیّد علمائے دین کے قبیلے  سے تعلعق رکھتے تھے ،میرے محترم دادا جان جنوبی ہندوستان میں قطب شاہی دور حکومت میں اپنا آبائ شہر چھوڑ کر حیدرآباد دکن آئے اور انہون نے یہیں پر مستقل سکونت اختیار کی ،جسے ازاں بعد ہم بھی چھوڑ کر پاکستان آگئے یہاں پر پہلے ہم نے اچھے دن اپنے والد کی ائر فورس کی سروس کے طفیل دیکھےاسوقت ہم سب ملیر کے علاقے کی ایک فوجی چھاؤنی میں مقیم تھے ہجرت کے بعدکی زندگی میں کچھ کچھ ٹہراؤ سا محسوس ہونے لگا تھا مگر پھرہمارے گھر میں کچھ ماورائےفطرت حالات پیش آ ئےاور پھرتقدیر کی گردش نے ہم کو بارہ سال ہمارے خاندان کوبڑی مشکلات میں  رکھا،ان حالات کے گرداب میں ہمارا خاندان اس طرح آیا کہ والد صاحب اتنے شدید بیمار ہوئے کہ ان کی ائرفورس کی سروس بھی چھوٹ گئ اور ہم کو چھاؤنی کا مکان بھی بہت عجلت میں چھوڑنا پڑا اور والد صاحب

جمعرات، 25 ستمبر، 2025

حضرت جعفر طیار کی غزوۂ موتہ میں شرکت و شہادت

 

حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ کی غزوۂ موتہ میں شرکت  و شہادت -جما دی الاول سن آٹھ  ہجری میں موتہ پر فوج کشی ہوئی،حضور نبی کریم ﷺ نے فوج کا علم حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو عطا کر کے فرمایا ؛؛اگر زید (رضی اللہ عنہ) شہید ہوں تو جعفر ( رضی اللہ عنہ ) اور اگر جعفر (رضی اللہ عنہ ) بھی شہید ہوں تو عبداللہ ابن رواحہ (رضی اللہ عنہ) اس جماعت کے امیر ہوں گے۔۔۔(بخاری شریف کتاب المغازی) حضور نبی کریم ﷺ اس غزوہ کے انجام و نتیجہ سے آگاہ تھے، اسی لئے فرمایا کہ اگر زید رضی اللہ عنہ شہید ہوں تو جعفر رضی اللہ عنہ علم سنبھالیں ،اگر وہ بھی شہید ہوں تو عبداللہ ابن رواحہ رضی اللہ عنہ انکی جگہ لیں ۔۔۔(طبقات ابن سعد)موتہ پہنچ کر معرکۂ کار زار گرم ہوا، تین ہزار غازیانِ اسلام کے مقابلہ میں غنیم کا ایک لاکھ ٹڈی دل لشکر تھا،امیر فوج حضرت زید رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تو حضرت جعفر رضی اللہ عنہ گھوڑے سے کود پڑے اور علم کو سنبھال کر غنیم کی صفیں چیرتے ہوئے آگے بڑھے ،دشمنوں کا ہر طرف سے نرغہ تھا،تیغ و تبر،تیر وسنان کی بارش ہو رہی تھی،یہاں تک کہ تمام بدن زخموں سے چھلنی ہو گیا،دونوں ہاتھ بھی یکے بعد دیگرے شہید ہوئے مگر اس مجاھدِ اسلام نے اس حالت میں بھی توحید کے جھنڈے کو سرنگوں ہونے نہ دیا(اسدالغابہ) بالآخر شہادت کا جام نوش فرمایا


 حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنھما بھی اس جنگ میں شریک تھے،فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ کی لاش کو تلاش کر کے دیکھا تو صرف سامنے کی طرف پچاس(50) زخم تھے،تمام بدن کے زخموں کا شمار تو نوّے (90) سے بھی متجاوز تھا،لیکن اُن میں کوئی زخم پشت پر نہ تھا (بخاری شریف ) اللہ اکبر کبیرا-حضور نبی کریم ﷺ کا حزن و ملال ۔!میدانِ جنگ میں جو کچھ ہو رہا تھا ،اللہ تعالی کے حکم سے حضور نبی کریم ﷺ کے سامنے تھا،چنانچہ خبر آنے سے پہلے ہی آپ ﷺ نے حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ کی شہادت کا حال بیان فرمایا۔اس وقت آپ ﷺ کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو جاری ہو گئے اور روئے انور پر حزن وملال کے آثار نمایاں تھے( اسدالغابہ)حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کی اہلیہ محترمہ حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ میں آٹا گوندھ چکی تھی اور  بچو ں کو نہلا دھلا کر صاف کپڑے پہنا رہی تھی کہ حضور نبی کریم ﷺ تشریف لائے اور فرمایا جعفر کے بچوں کو لاؤ،میں نے ان کو حاضرِ خدمت کیا، تو آپ ﷺ نے آبدیدہ ہو کر ان کو پیار فرمایا ،میں نے عرض کیا میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان ہوں,حضور ﷺ آبدیدہ کیوں ہیں


   کیا جعفر (رضی اللہ عنہ ) اور ان کے ساتھیوں( رضی اللہ عنھم) کے متعلق کوئی اطلاع آئی ہے،فرمایا ہاں! وہ شہید ہو گئے ،یہ سن کر میں رونے لگی۔۔۔محلہ کی عورتیں میرے اردگرد جمع ہو گئیں،حضور نبی کریم ﷺ واپس تشریف لے گئےاور ازواجِ مطہرات(رضی اللہ عنھن) سے فرمایا کہ آل جعفر (رضی اللہ عنہ) کا خیال رکھنا،آج  انہیں شدید صدمہ ہے خاتونِ جنت سیدہ فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنھا کو بھی اپنے عمِ محترم کی مفارقت کا شدید غم تھا،شہادت کی خبر سُن کر بادیدۂ تر واعماہ! واعماہ! کہتے ہوئے بارگاۂِ نبوت ﷺ میں حاضر ہوئیں،حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا ! بیشک ! جعفر رضی اللہ عنہ جیسے شخص پر رونے والیوں کو رونا چاہیئے،آپ ﷺ کو عرصہ تک شدید غم رہا،یہاں تک کہ روح الامین نے یہ بشارت سنائی کہ اللہ تعالی نے جعفر ( رضی اللہ عنہ ) کو دو کٹے ہوئے بازوؤں کے بدلہ میں دو نئے بازو عنایت کیے ہیں ،جن سے وہ ملائکہ جنت کے ساتھ مصروفِ پرواز رہتے ہیں ۔(مستدرک حاکم) چنانچہ ذوالجناحین اور طیار ان کا لقب ہو گیا۔(رضی اللہ عنھم ورضو عنہ ) حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ کے فضائل و محاسن -حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ کشادہ دست و فیاض تھے،غرباء و مساکین کو کھانا کھلانے میں انکو خاص لطف حاصل ہوتا تھا ،


اسی لئے حضور نبی کریم ﷺ ان کو ابو المساکین کے نام سے یاد فرمایا کرتے تھے،حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اکثر بھوک کے باعث پیٹ کو کنکروں سے دبائے رکھتا تھا اور آیت یاد بھی رہتی تو اس کو لوگوں سے پوچھتا پھرتا  کہ شاید کوئی مجھ کو اپنے گھر لے جائے اور کچھ کھلائے لیکن میں نے حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کو مسکینوں کے حق میں سب سے زیادہ بہتر پایا ، وہ ہم لوگوں (اصحاب صفہ رضی اللہ تعالی عنھم اجمعین) کو اپنے گھر لے جاتے تھے،اور جو کچھ ہوتا تھا ،سامنے لا کر رکھ دیتے تھے،یہاں تک کہ بعض اوقات گھی یا شہد کا خالی مشکیزہ تک لا دیتے اور اسکو کاٹ کر ہمارے سامنے رکھ دیتے اور ہم اس کو چاٹ لیتے تھے۔(بخاری شریف )حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کے فضائل ومناقب کا پایہ نہایت بلند تھا ،خود حضور نبی کریم ﷺ ان سے فرمایا کرتے تھے کہ "جعفر" (رضی اللہ عنہ)! تم میری صورت وسیرت دونوں میں مجھ سے مشابہ ہو۔(بخاری شریف)حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مجھ سے پہلے جس قدر نبی (علیھم السلام) گزرے ہیں ان کو صرف سات رفیق دیئے گئے تھے ،لیکن میرے رفقائےِ خاص کی تعداد چودہ(14) ہے ، ان میں سے ایک جعفر (رضی اللہ عنہ) بھی ہیں۔۔

دل وہیں چھوڑ آیا تھا

 


 

 ·

 

 

اسلام آباد کے ریکٹر ملک معراج خالد تھے۔ وائس چانسلر ہی کہہ لیجیے۔ میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں ایم اے انگریزی کے دوسرے سمسٹر کا طالب علم تھا۔یونیورسٹی نے فیسوں میں دو سو فیصد اضافہ کر دیا۔ میں نے ملک معراج خالد کے خلاف ایک مقامی روزنامے میں کالم لکھ دیا۔ میں نے لکھا کہ ایک دودھ بیچنے والا ریکٹر بن جاتا ہے تو اس کی گردن میں سریا آ جاتا ہے اور وہ اپنا ماضی بھول جاتا ہے۔ یاد نہیں اور کیا کچھ لکھا لیکن وہ بہت ہی نا معقول تحریر تھی۔اگلے روز میں کلاس میں پہنچا تو ہیڈ آف دی ڈیپارٹمنٹ جناب ایس ایم رؤوف صاحب نے مجھے اپنے دفتر میں بلا کر کھا جانے والی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا کہ تمہیں ریکٹر صاحب نے طلب کیا ہے۔مجھے خوب یاد ہے جب میں ان کے کمرے سے نکل کر جا رہا تھا تو انہوں نے غصے سے کہا: جنٹل میں گو اینڈ فیس دی میوزک۔خیر میں ریکٹر آفس کی جانب چل پڑا اور راستے میں یہی سوچتا رہا کہ یہ تو طے ہے آج یونیورسٹی میں میرا آخری دن ہے،



 لیکن سوال یہ ہے کہ آج یونیورسٹی سے نکالا جاؤں گا تو گھر والوں سے کیا بہانہ بناؤں گا کہ کیوں نکالا گیا۔وہاں پہنچا تو ریکٹر کے پی ایس اسماعیل صاحب کو بتایا میرا نام آصف محمود ہے، مجھے ریکٹر صاحب نے بلایا ہے۔مجھے شدید حیرت ہوئی جب اسماعیل کے سپاٹ چہرے پر مسکراہٹ دوڑ گئی اور کہنے لگے جائیے وہ آپ کے منتظر ہیں۔ لیکن اندر داخل ہوا توحیرتوں کے جہان میرے منتظر تھے۔ ملک صاحب اکیلے بیٹھے تھے۔ میں نے ڈرتے ڈرتے کہا: سر میں آصف، آپ نے بلایا تھا؟آپ ہی نے کالم لکھا تھا؟جی سر میں نے لکھا تھا۔تشریف رکھیے مجھے آپ سے کچھ باتیں کرنا ہیں۔۔۔۔اور میں جل تو جلال تو کا ورد کرتے ہوئے بیٹھ گیا۔کافی دیر یونہی گزر گئی۔ملک صاحب ولز کی ڈبیا گھماتے رہے۔ ایک ایک لمحہ اعصاب پر بھاری تھا۔پھر ملک صاحب نے خاموشی کو توڑا اور کہا: کالم تو آپ نے اچھا لکھا لیکن آپ کی معلومات ناقص تھیں۔ میں صر ف دودھ فروش نہیں تھا۔میرے ساتھ ایک اور معاملہ بھی تھا۔



میں نے اسی لیے آپ کو بلایا ہے کہ آپ کی معلومات درست کر دوں۔ میں صرف دودھ نہیں بیچتا تھا۔ میرے ساتھ یہ مسئلہ بھی تھا کہ جوتے نہیں تھے۔میں دودھ بیچ کر سکول پہنچتا اور سائیکل وہیں کھڑی کر دیتا۔ گھر میں جوتوں کا ایک ہی جوڑا تھا جو والد صاحب کے زیر استعمال تھا۔ اس کا حل میں اور میرے ابا جی نے مل کر نکالا۔ ہمارے درمیان یہ طے ہوا کہ صبح میں یہ جوتے پہن کر جایا کروں اور جب میں واپس آ جاؤں تو یہی جوتے پہن کر ابا جی چوپال میں جا کر بیٹھا کریں۔ اب ڈر تھا کہ سائیکل چلانے سے جوتا ٹوٹ نہ جائے۔ اس لیے میں انہیں سائیکل کے ساتھ لٹکا لیتا تھا۔جب دودھ گھروں میں پہنچا کر کالج کے گیٹ کے پاس پہنچتا تو جوتا پہن لیتا۔ واپسی پر پھر سائیکل کے ساتھ لٹکا لیتا اور ننگے پاؤں سائیکل چلاکر گھر پہنچتا۔ملک صاحب پھر خاموش ہو گئے۔ یہ دورانیہ خاصا طویل رہا۔پھر مسکرائے اور کہنے لگے: سریے والی بات تم نے ٹھیک کہی۔ واقعی ، اللہ نے دودھ فروش کو نوازا تو اس کی گردن میں سریا آ گیا۔



بار بار دہراتے رہے:اللہ نے دودھ فروش کو نوازا لیکن اس کی گردن میں سریا آ گیا۔پھر اسماعیل کو بلایا اور پوچھا کہ کیا قواعد و ضوابط کے مطابق میں فیس میں کیا گیا یہ اضافہ واپس لے سکتا ہوں۔اسماعیل نے کہا سر ریکٹر کے اختیار میں نہیں ہے۔ کہنے لگے اختیار میں تو نہیں ہے لیکن اگر میں نوٹیفیکیش جاری کر دوں تو پھر؟ اسماعیل کہنے لگے: سر آپ نوٹی فیکیشن جاری کر دیں تو ظاہر ہے اس پر عمل ہو گا۔ملک صاحب نے کہا جلدی سے نوٹیفیکیشن بنا لاؤ، فیسوں میں اضافہ نہیں ہوگا۔میں کمرے سے باہر نکلا تو اس حکم نامے کی کاپی میرے ساتھ تھی،*دل البتہ وہیں چھوڑ آیا تھا* ۔ڈیپارٹمنٹ پہنچا تو ایس ایم اے رووف صاحب نے پوچھاہاں کیا ہوا؟میں نے نوٹی فیکیشن آگے رکھ دیا، سر یہ ہوا۔رووف صاحب کی آنکھوں میں جو حیرت تھی، مجھے آج بھی یاد ہے۔ آج اگر کوئی مجھ سے پوچھے: وائس چانسلر کیسا ہونا چاہیے؟ میں کہوں گا اسے ملک معراج خالد مرحوم جیسا ہوناچاہیے۔

تحریر: آصف محمود کالم نگار/ اینکر

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی

بدھ، 24 ستمبر، 2025

اللہ کی بھی ایک سپریم کورٹ ہے


زندگی کے المیوں کی کہانیا ن لکھنا میرے لئے مشکل ہوتا ہے لیکن میں پھر بھی اپنے دل پر جبر کر کے لکھتی ہوں  کہ شائد کوئ بھٹکتی نظر  میری  تحریر پڑھ کر راہ راست پر آجائے تو میری تحریر کا  صلہ   مجھے مل جائے گا یہ ایک محفل تھی  بہت سے جانے پہچانے چہرے تھے اور کئ چہرے  نا شناسا بھی تھے ان نا شناسا چہروں میں ایک لڑکی اپنی ننّھی منّی سی  بیٹی کو لئے بیٹھی تھی  لڑکی بھی شکل و صورت کی اچّھی تھی  لیکن اس کی گود میں بچّی ماشاللہ بہت پیاری تھی  میں نے  پیار سے دیکھا تو میرے پاس ہمک کر آ گئ ، میں کچھ دیر اس سے کھیلتی رہی پھر وہ  بچّی اپنی ماں کے پاس واپس چلی گئ ،محفل تمام  ہو چکی تھی لیکن کھانا  نہیں   آسکا تھا  صاحب خانہ بوکھلائ ہوئ تھیں لیکن مہمانو ں نے کہا پریشان نا ہوں ابھی وقت زیادہ نہیں ہوا ہے صاحب خانہ  ہمارے پاس سے دوسری جانب چلی گئیں  ان کے جانے  کے بعد میں پھر لڑکی سے مخاطب ہوئ مین نے لڑکی سے کہا  معلوم ہوتا ہے تمھارے والد بہت خوبصورت ہوں گے  اس نے سوال کیا آپ کس بنیاد پر کہ رہی ہیں  میں نے کہا کیونکہ بنیاد یہ ہے کہ جینیاتی طورپر    بیٹی کی اولاد اکثر اپنے نانا  کی شکل پر ہوتی ہے ،


 جو میں نے پڑھا ہے اس کے علاوہ  کوئ اور لاجک ہو تو میں نہیں جانتی ہوں لڑکی نے اپنے سینے سے ایک گہری سرد  آہ کھینچی ،،میں نے پوچھا کیا ہوا تو   کہنے لگی آپ نے  ٹھیک پہچانا   لیکن میرے والد کا مقدّر ان کی ساری وجاہت کے بر عکس بڑا کھوٹا نکلا-لڑکی پھر گویا ہوئ  ،امّی نے  ابّو کو زبردستی باہر یہ کہ کر بھیجا کہ میرا  اس پیسے میں گزارہ نہیں ہوتا ہے ابّو بلکل نہیں جانا چاہتے تھے  اور پھر  ابّو نے بالآخر امّی کے آگے ہا ر مان لی اور باہر چلے گئے ،ابّو کے باہر جانے کے بعد ہمارے ایک عزیز امّی سے کچھ چھوٹی عمر  کے امّی کے پاس آنے لگے اور ابّو کا بھیجا ہوا پیسہ ہمارے گھر میں خوشحالی تو لایا لیکن ساتھ امّی  کی بے راہروی  بھی ساتھ لایا  اور میرے ابّو کی پردیس کی خون پسینے کی کمائ امّی بے دریغ اُن پر اور اپنے بناو سنگھار پر  خرچ کرنے لگیں، ہم بہن بھائیوں کو ان کا آنا بہت ناگوار گزرتا تھا  اور ہم سب بہن بھائ  ان کے آنے پر اپنے اپنے طور پر اپنی خفگی کا اظہار کرتے تھے لیکن امّی نے سختی سے کہ دیا کہ کوئ بچّہ ان کے معاملات میں دخیل ناہو  اور ہم بہن بھائ چپ ہو گئے


اور پھر دو برس تو جیسے پلک جھپکتے میں گزر گئے اور ابّو پاکستان چھٹّیوں پر آ گئے اور  امّی نے ابّو کے آگے طلاق کا مطالبہ رکھ دیا  ابوّ نے پہلے  تو امّی کو سمجھا یا کہ بچّوں کی خاطر گھر برباد نا کریں   ابّو بہت ، بہت روئے لیکن حالات اس نہج پر تھے کہ ابّو کو با لآخر طلاق دیتے بنی  اور پھرطلاق ہوتے ہی   امّی کی تقدیر کی بساط الٹ گئ،وہ شخص جو دو برس سے امّی کا پل پل رات اور دن کا ساتھی تھا  وہ  جو امّی سے کہتا تھا کہ طلاق لے   لو   میں تم سے شادی کروں گا وہ ا مّی کی زندگی کے آسمان  سے دھواں بن کر اس طرح تحلیل ہو گیا کہ جیسے وہ امّی کی زندگی میں آ یا ہی نا ہوگیا   ابّو کے طلاق دینے کے بعد اب امّی ہم سب  کو چھوڑ کر اپنے میکہ  جاچکی  تھیں  ،اور ابّو  پردیس دوبارہ جانے سے انکاری  تھے  کیونکہ پھر ہم تینوں بھائ بہن  اکیلے رہ جاتے  -پھر ابو نے  سب سے پہلے مکان بیچ کر دوسرا مکان  پچھلے گھر سے بلکل دور  دوسرا مکان لیا   اور ہم  بچوں کو سمجھا دیا کہ یہاں ماں کے لئے سوال ہو تو کہ دینا  کہ کافی پہلے انتقال ہو گیا -


پھر نئے گھر میں زندگی بہت اچھی طرح چل پڑی -میں نے نئے گھر میں شفٹ ہو کر  گھر کی دیکھ بھال کے ساتھ 'ساتھ اپنی تعلیم پر توجہ دی 'بھائ   کو ابو نے نگرانی میں  رکھا جس کی وجہ سے وہ بھی بہتر ہوا کچھ برس اسی طرح گزرے اس عرصہ میں، میں انّیس برس کی  مجھ سے چھوٹی بہن  ستّرہ برس کی  اور بھائ پندرہ برس  کا  ہو گیا تھا اور    ابّو نے  پردیس جانے کے بجائے گھر کے قریب ہی مارکیٹ میں  ریسٹورینٹ  کھول لیا اور تاکہ ہم بہن بھائ گھر میں اکیلے نہیں رہیں  ایسے میں میرا ایک اچھّا رشتہ آیا  جسے ابّو نے دیکھ بھال کر میری شادی کر دی   اس سنگین حادثہ کی وجہ سے   میرا انتہائ  نفیس مزاج  معصوم بھائ  نفسیاتی مریض ہو گیا تھا   جس کو میں نے  ابّو کے ساتھ ملکر بہت سمجھداری سے سنبھالا اور پھر   وقت گزرتا رہا بس  رشتے داروں سے ہمیں اتنا پتا چلا کہ امّی کے بھائیوں نے ان کی شادی  کراچی کے بجائے سندھ کے کسی اور شہر میں کر دی ہے،ظاہر سی بات ہے کہ میرے ماموؤں کی اپنی فیمیلیز تھیں اور حقیقت بھی یہ تھی کہ امّی کے کردار کو ان کے میکہ  میں  سب ہی برا کہہ رہے تھے  


next part-2

کاڈ لیور آئل 'کب اور کیوں ضروری ہے

 

   یہ مضمون ان گھریلو خواتین کے لئے ہے جو مچھلی پکانے میں  مشکل کا شکار ہوتی ہیں -انسانی صحت کیلئے جس طرح مچھلی مفید ہے اسی طرح اسکا تیل بھی گوناگوں خوبیوں سے آراستہ ہوتا ہے۔ سائنسدانوں نے حالیہ تحقیق کے بعد بتایا کہ اگر گٹھیا کے مریض مچھلی کا تیل استعمال کریں تو انہیں کافی افاقہ ہوسکتا ہے۔کاڈ لیور آئل کے نام سے مشہور تیل اب تک سانس کی بیماریوں اور تپ دق کے متاثرہ افراد کو صحت مند بنانے کیلئے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ یہ تازہ خصوصیت جو گٹھیاکے مریضو ں کے فائدے کیلئے سامنے آئی ہے بہت اہمیت رکھتی ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق امریکہ میں 20فیصد افراد اس مرض میں مبتلا ہوتے ہیں۔ واضح ہو کہ مچھلی کا تیل کیپسول کی شکل میں دستیاب ہوتا ہے تاہم چونکہ یہ تیل مچھلی کے جگر کے حصوں کو استعمال کرکے بنایا جاتا ہے اسلئے عام مچھلی کے مقابلے میں زیادہ مفید اور کارگر ثابت ہوتا ہے۔


 امریکی سائنسدانوں کی یہ رپورٹ اپنی قسم کی پہلی ہے جو 2012ءمیں آنے والی اس رپورٹ سے زیادہ مفصل ہے جس میں گٹھیا کے مختلف علاج کی بات کی گئی تھی  در حقیقت  کاڈ لیور آئل صدیوں سے ہی انسان کی  غذا کا اہم حصہ رہا ہے۔ یہ اپنے بھرپور غذائیت کے پروفائل کے لیے مشہور ہے، خاص طور پر اس میں اومیگا 3 فیٹی ایسڈز، وٹامن اے، اور وٹامن ڈی کی اعلیٰ سطح۔ ا  ہم کوڈ لیور کے تیل کے صحت کے فوائد، اس کے غذائیت کے فوائد، اور اسے کیوں شامل کیا جائے اس کا جائزہ لیں گے۔ آپ کی خوراک میں فائدہ مند ہو سکتا ہے.کوڈ لیور آئل کیا ہے؟-کاڈ لیور آئل مچھلی کے تیل کا ایک قسم کا   سپلیمنٹ  ہے، جو کوڈ فش کے جگر سے نکالا جاتا ہے۔ مچھلی کے دیگر تیلوں کے برعکس، کاڈ لیور آئل خاص طور  پر وٹامن A اور D سے بھرپور ہوتا ہے۔  کاڈ لیور آئل کے غذائی فوائد-اومیگا 3 فیٹی ایسڈز کی مقدار زیادہ ہے۔اومیگا 3 فیٹی ایسڈ ضروری چربی ہیں جو جسم خود پیدا نہیں کر سکتا۔


 وہ دماغی کام، سوزش میں کمی، اور دل کی صحت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ کوڈ لیور آئل EPA اور DHA کا ایک بہترین ذریعہ ہے، جو اومیگا 3s کی سب سے زیادہ فائدہ مند شکلیں ہیں۔وٹامن اے اور ڈی سے بھرپور-کاڈ لیور آئل وٹامن A اور D کے امیر ترین قدرتی ذرائع میں سے ایک ہے۔ وٹامن A صحت مند بصارت، مدافعتی افعال اور جلد کی صحت کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے، جب کہ وٹامن ڈی ہڈیوں کی صحت، مدافعتی افعال، اور موڈ ریگولیشن کے لیے اہم ہے۔اینٹی سوزش کی خصوصیات-کوڈ لیور آئل میں موجود اومیگا 3 فیٹی ایسڈز طاقتور اینٹی  سوزش کے اثرات  کے حامل ہوتے  ہیں  اور اس کا باقاعدہ استعمال جسم میں سوزش کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے جو کہ گٹھیا اور دیگر سوزش کی بیماریوں جیسے حالات کے لیے فائدہ مند ہے۔کوڈ لیور آئل کے صحت سے متعلق فوائد-دل کی صحت -تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ اومیگا تھری فیٹی ایسڈز دل کی بیماری کے خطرے کو نمایاں طور پر کم کرسکتے ہیں۔ 


کم بلڈ پریشر، ٹرائگلیسرائڈز کو کم کرتا ہے، اور شریانوں کی تختیوں کی تشکیل کو روکتا ہے۔ کوڈ لیور آئل، ان فیٹی ایسڈز سے بھرپور ہونے کی وجہ سے، قلبی صحت کے لیے فائدہ مند ہے۔دماغی افعال کو بڑھاتا ہے۔ڈی ایچ اے، کوڈ لیور آئل میں بنیادی اومیگا 3 فیٹی ایسڈز میں سے ایک، دماغ کا ایک اہم ساختی جزو ہے۔ کاڈ لیور آئل کا باقاعدگی سے استعمال علمی افعال کو سہارا دے سکتا ہے، یادداشت کو بہتر بنا سکتا ہے، اور یہاں تک کہ نیوروڈیجنریٹیو بیماریوں کے خطرے کو بھی کم کر سکتا ہے۔مدافعتی نظام کو بڑھاتا ہے۔وٹامن اے اور ڈی صحت مند مدافعتی نظام کو برقرار رکھنے کے لیے اہم ہیں۔ وٹامن اے مدافعتی ردعمل کو منظم کرنے اور انفیکشن کے خطرے کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے،  - خون کے سفید خلیے جو آپ کے مدافعتی دفاع کے اہم حصے ہیں۔ہڈیوں کی صحت کو فروغ دیتا ہے-کوڈ جگر کے تیل میں وٹامن ڈی کیلشیم جذب اور ہڈیوں کی صحت کے لیے ضروری ہے۔ یہ روکنے میں مدد کرتا ہے۔ ہڈیوں کی خرابی جیسےآسٹیوپوروسس اور رکٹس۔ وٹامن ڈی کی مناسب مقدار ان لوگوں کے لیے خاص طور پر اہم ہے جہاں سورج کی روشنی محدود ہوتی ہے۔کاڈ لیور آئل کیسے حاصل کیا جائے تو جناب آج کے دور  میں ایما زون آ پ کے اس مسلئہ کا حل لے کر حاضر ہے ایمازون پر لاتعداد  کمپنیز کاڈ لیور آئل سیل کر رہی ہیں 

مضمون انٹرنیٹ کی مدد سے لکھا گیا ہے

پرنس ایڈورڈ آئی لینڈ ، کینیڈا کا ایک صوبہ ہے

  




پرنس ایڈورڈ آئی لینڈ ، کینیڈا کا ایک صوبہ ہے جو اسی نام کے ایک جزیرے پر مشتمل ہے۔ پورے ملک میں رقبے اور آبادی کے لحاظ سے یہ صوبہ دیگر تمام صوبوں سے چھوٹا ہے۔ اس کے کئی مختلف نام ہیں۔خلیج کی جنت کے نام سے مشہور یہ جزیرہ سینٹ لارنس کی خلیج میں کیپ بریٹن آئی لینڈ کے مغرب، نووا سکوشیا جزیرہ نما کے شمال اور نیو برنزوک کے مشرق میں واقع ہے۔ اس کے جنوبی ساحل نارتھمبر لینڈ سٹریٹ تک پھیلے ہوئے ہیں۔ جزیرے میں دو شہری علاقے ہیں۔ بڑا علاقہ چارلٹ ٹاؤن بندرگاہ کے ارد گرد موجود ہے جو جزیرے کے جنوبی ساحل پر واقع ہے اور یہاں چارلٹ ٹاؤن نامی شہر صوبے کا صدر مقام ہے۔ اس کے کناروں پر کارن وال اور سٹراٹفورڈ کے قصبے ابھر رہے ہیں۔ نسبتاً بہت چھوٹا شہری علاقہ سمر سائیڈ بندرگاہ کے ارد گرد موجود ہے جو چارلٹ ٹاؤن کے شہر سے چالیس کلومیٹر دور ہے۔ یہ دراصل سمر سائیڈ کے شہر ہی پر مشتمل ہے۔ دنیا کی دیگر تمام قدرتی بندرگاہوں کی طرح یہ دونوں بندرگاہیں بھی سمندری عمل کے نتیجے میں پیدا ہوئی تھیں۔



جزیرہ بہت خوبصورت مناظر رکھتا ہے۔ یہاں اونچی نیچی پہاڑیاں، گھنے جنگل، سرخ و سفید ساحل، سمندر اور سرخ مٹی کی وجہ سے یہ جزیرہ اپنے قدرتی حسن کی بدولت شہرت رکھتا ہے۔ صوبے کی حکومت نے یہاں کے ماحول کو بچانے کے لیے کئی قوانین بنائے ہیں تاہم ان کے پوری طرح نفاذ نہ ہونے کی وجہ سے یہاں کی تعمیرات میں موجودہ چند سالوں میں کوئی نظم و ضبط نہیں دکھائی دیتا۔جزیرے کی سر سبز لینڈ سکیپ کا صوبے کی معیشت اور ثقافت پر گہرا اثر ہے۔ آج بھی سیاح ان مناظر سے لطف اندوز ہونے کے لیے ادھر جوق در جوق آتے ہیں۔ یہاں پرتعیش سرگرمیوں میں ساحل، بے شمار گولف کے میدان، ایکو ٹورزم اور شہر کے باہر سیر وغیرہ یہاں کے عام مشاغل ہیں۔چھوٹی دیہاتی آبادیوں، قصبوں اور شہروں میں آج بھی سست رفتار زندگی دکھائی دیتی ہے جس کی وجہ سے یہاں لوگ بکثرت آرام کرنے آتے ہیں۔ یہاں کے لوگوں کا ذریعہ معاش چھوٹے پیمانے پرکاشت کاری ہے۔



 یہ چھوٹا پیمانہ کینیڈا کے دیگر صوبوں کے حوالے سے۔ یہاں اب صنعتیں لگ رہی ہیں اور پرانے فارموں کی عمارتیں نئے سرے سے اور جدید طور پر بنائی جا رہی ہیں۔ساحل سمندر پر طویل ساحل، کھاڑیاں، سرخ ریتلی چوٹیاں، کھارے پانی کی دلدلیں اور بہت ساری خلیجیں اور بندرگاہیں ہیں۔ ساحلوں، کھاڑیوں اور چونے کی چٹانیں بھربھری ہیں اور یہاں فولاد کی کثرت ہے جو کھلے ماحول میں فوراً زنگ آلود ہو جاتا ہے۔ جغرافیائی اعتبار سے بیسن ہیڈ میں موجود سفید ریت کی خصوصیات صوبے بھر میں بے مثال ہیں۔ جب ان پر چلا جائے تو یہ ایک دوسرے سے رگڑ کھا کر عجیب سی آواز پیدا کرتے ہیں۔ انھیں عرف عام میں گنگناتی ہوئی ریت کہا جاتا ہے۔ شمالی ساحل پر بیرئر جزیرے پر بڑی پہاڑیاں پائی جاتی ہیں۔ گرین وچ میں موجود ریت کی پہاڑیاں بہت اہمیت رکھتی ہیں۔


 یہ متحرک ریت کا علاقہ بے شمار پرندوں اور نایاب نسل کے پودوں کا مسکن ہے اور یہاں آثار قدیمہ کے حوالے سے بھی کافی کچھ موجود ہے۔فروری کے آغاز تک درجہ حرارت گرتا چلا جاتا ہے۔ دسمبر سے لے کر اپریل تک یہاں اکثر برفانی طوفانوں کے باعث زندگی کئی کئی دنوں تک معطل ہو جاتی ہے۔ بہار کے آغاز میں اطراف میں موجود برف یہاں کے د رجہ حرارت کو کم رکھتی ہے۔ نتیجتاً یہاں بہار کا موسم چند ہفتے کی تاخیر سے شروع ہوتا ہے۔ برف کے پگھلتے ہی یہاں کا درجہ حرارت ایک دم بڑھنے لگ جاتاہے۔ مئی کا درجہ حرارت 25 ڈگری تک ہو سکتا ہے۔29 نومبر 1798 کو فیننگ کی گورنری کے دوران برطانیہ نے کالونی کا نام سینٹ جان آئی لینڈ سے بدل کر پرنس ایڈورڈ آئی لینڈ رکھنے کا فیصلہ کیا تاکہ اسے دیگر جزیروں جیسا کہ سینٹ جان اور سینٹ جانز کے شہروں سے فرق کیا جا سکے۔ کالونی کا نیا نام برطانوی باشادہ جارج سوم کے چوتھے بیٹے کے نام پر رکھا گیا جو پرنس ایڈورڈ آگسٹ تھے۔ انھیں ڈیوک آف کینٹ بھی کہا جاتا ہے۔

 


صوبائی معیشت میں زراعت کو اہمیت حاصل ہے۔ یہ اہمیت نوآبادیاتی دور سے چلی آ رہی ہے۔ بیسویں صدی کے دوران آلوؤں نے مخلوط کاشت کی جگہ لے لی اور اسے نقد آور فصل کہا جاتا ہے۔ یہ صوبے کی کل زراعت کا ایک تہائی ہے۔ صوبہ اس وقت کینیڈا کے آلوؤں کی کل پیدوار کا ایک تہائی پیدا کرتا ہے جو ایک اعشاریہ تین ارب کلو ہے۔ امریکی ریاست ایڈاہو کل چھ اعشاریہ دو ارب کلو آلو سالانہ پیدا کرتی ہے جس کی آبادی پرنس ایڈورڈ آئی لینڈ کی آبادی سے ساڑھے نو گنا بڑی ہے۔ صوبہ آلوؤں کے بیج کی پیداوار کا بھی اہم مرکز ہے اور یہ بیس سے زیادہ ممالک کو بیج برآمد بھی کرتا ہے۔

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

انقلاب چین جو چینی قوم کی نجات کا باعث بن گیا

  چین کے انقلاب میں تاریخی لانگ مارچ کو ایک سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے جو اکتوبر1934ء سے اکتوبر 1935ء تک جاری رہا۔ یہ لانگ مارچ چھے ہزار میل ط...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر