اگست 1947ء کو پاکستان کے وجود میں آنے کے فوراً بعد ستمبر کے مہینے میں جمیلہ اسٹریٹ پر جوبلی سینما کا افتتاح اداکارہ سورن لتا اور اداکار نذیر کی کاسٹیوم فلم وامق عذرا سے ہوا، اس سینما کو پاکستان کے اولین سینما کا اعزاز حاصل ہوا، بھارتی اور پاکستانی فلموں کا یہ اپنے وقت کا کامیاب سینما تھارومن طرزِ تعمیر کا یہ حسین شاہکار سینما 1997ء میں مسمار کر دیا گیا، یہاں پیش کی جانے والی آخری فلم کھلونا تھی جس کی ہدایتکارہ سنگیتا بیگم ہیں۔جوبلی کے سامنے والی سڑک مارشل اسٹریٹ پر ایک خوبصورت سینما گھر کا افتتاح 23 مارچ 1966ء کو ہوا، اس کا موتیوں کی لڑیوں سے آراستہ پردہ آج بھی اپنی یاد دلاتا ہےاس کا شو روم اور لابی اپنی خوب صورتی میں کسی 5 ستارہ ہوٹل سے کم نہ تھی، خاص طور پر گول زینہ اور اس کے ساتھ فوارہ اور زینے پر ایسے آئینے تراشے گئے تھے، جس میں بیک وقت ایک ساتھ کئی عکس دیکھے جا سکتے تھے۔اس سینما میں کئی دفاتر بھی قائم تھے ،ایک فلمی مشہور فلمی اخبار کا دفتر بھی یہیں تھا
1960ء میں ریوالی سینما کا افتتاح انگریزی فلم ’نور دی مون بائی نائٹ‘ سے ہوا، یہ کسی زمانے میں ایلائٹ تھیٹر کے نام سے موجود تھا، جہاں صرف اسٹیج ڈرامے ہوا کرتے تھے۔1991ء میں یہاں ریلیز ہونے والی آخری فلم ’کھڑاک‘ (پنجابی) تھی، اس سینما کی جگہ رہائشی اپارٹمنٹس تعمیر کر دیے گئے ہیں۔ریوالی کے برابر میں ایک وسیع رقبے پر واقع ایروز سینما ہوا کرتا تھا، جو اب ایروز کمپلیکس میں تبدیل ہو چکا ہے، اس سینما کی تعمیر کا آغاز پاکستان بننے کے بعد ہوا جبکہ پاکستان کے پہلے نئے سینما حویلی کی تعمیر کا آغاز 14 اگست 1947ء سے پہلے ہو چکا تھا ایروز سینما کو یہ اولیت حاصل ہے کہ یہ پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد تعمیر ہونے والا پہلا سینما ہائوس تھا، اس تاریخی یادگار سینما کا افتتاح 21ستمبر 1950ء کو ہوا تھا، دلیپ کمار اور نرگس کی بھارتی فلم ’بابل‘ اس سینما کی پہلی فلم تھی۔کراچی میں تعمیر کے شعبے میں مہارت رکھنے والی قدیم برادری سلائوٹ جماعت کے انجینئر حاجی ادریس گذدر عرف بابو نے اس سینما کو تعمیر کیا تھا۔
یہ پہلا سینما تھا جس کے اسکرین کے اوپر قائد اعظم کی تصویر آویزاں تھی، شو روم اور ہال میں گائوں کے پنگھٹ پر پانی بھرنے والی دیہاتی عورتوں کی خوب صورت پینٹنگ بھی خوب تھی۔اس سینما پر پہلی پاکستانی فلم ’دوپٹہ‘ 11جولائی 1952ء کو ریلیز ہوئی تھی، یہ وہ سینما تھا، جہاں 50ء کی دہائی میں بننے والی کئی پاکستانی فلموں کا بزنس غیر معمولی رہا، ایوریڈی کے توسط سے ریلیز ہونے والی فلم ’سسی‘ نے اس سینما پر 34 ہفتوں کا بزنس کر کے پہلی سلور جوبلی فلم کا اعزاز حاصل کیا۔1994ء میں یہ سینما بند ہو گیا، اس وقت یہاں پنجابی فلم ’موسیٰ خان‘ چل رہی تھی، یہ سینما اب ماضی کی ایک داستان بن چکا ہے۔ایروز کے بالکل عین سامنے قیصر کے نام سے ایک سینما ہوا کرتا تھا جس کا افتتاح بروز اتوار 31جولائی 1955ء کو اردو فلم ’داتا‘ سے ہوا تھا، صبیحہ اور سدھیر نے اس فلم میں مرکزی کردار کیے تھے۔اس کا شو روم اوپر کی منزل پر واقع تھا، یہ ایک بلڈنگ نما سینما تھا، 1965ء میں اس سینما کو ایئرکنڈیشنز کا درجہ حاصل ہوا۔
دسمبر 1987ء میں ریلیز ہونے والی اداکارہ انجمن کی پنجابی فلم ’قیمت‘ اس سینما کی آخری فلم ثابت ہوئی، یہ سینما توڑ کر نعمان سینٹر کی عمارت میں تبدیل ہو گیا۔جہاں آج کل غازیانی شاپنگ سینٹر ہے، یہاں ماضی میں گوڈین کے نام سے ایک سینما تھا، 1957ء میں بیگم ناہید اسکندر مرزا نے اس سینما کا افتتاح کیا تھا، یہ اپنے وقت کا انگریزی فلموں کا اہم سینما تھا۔انکل سریا اسپتال گارڈن روڈ پر واقع اس سینما کا افتتاح 1963ء میں بھارتی فلم ’داغ‘ سے ہوا تھالیرک کے سلاتھ بمبینو کے نام سے ایک سینما 1963ء میں قائم ہوا، یہاں پر پیش کی جانے والی پہلی فلم ’سائوتھ پیسیفیک‘ تھی۔اس سینما کا افتتاح پاکستان کے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے کیا تھا، جو اس وقت کے وزیر خارجہ تھے -یہ معیاری، خو ب صورت، کام یاب سینما کیپری آج بھی اپنی تمام رعنائیوں اور دل کشی کے ساتھ فلم بینوں کے لیے اپنی کشش برقرار رکھے ہوئے ہے۔
میرے خیال میں تعلیم عام ہو نے کے سبب سینیما ہاؤسز کی جانب لوگوں کی رغبت کم ہوئ
جواب دیںحذف کریں