منگل، 20 جنوری، 2026

گل پلازہ شہر کراچی کی تاریخ کا ہولناک سانحہ

    

فائر 1200 جلتی ہوئ دکانوں کی مارکیٹ میں اس وقت لگ بھگ 6000 ہزار افراد موجود تھے جن کے نکلنے کے لئے صرف دو دروازے کھلے تھے  باقی چوبیس دروازے بند تھے  اور اس طر وہ قیامت برپا ہوئ جس کو روکا بھی جا  سکتا تھا لیکن ہمارے پاکستان میں عا م آدمی کی جان کی قیمت کیڑے مکوڑوں سے زیادہ نہیں ہے   -ااطلاع دینے کے پورے دو گھنٹے  بعد فائر بریگیڈ آئ جس کے پاس پانی بھی   مناسب مقدار میں نہیں تھا    ایک ہی گاڑی آئ جس کا پانی ختم ہوجاتا تھا پھر وہ پانی لینے جاتی تھی- شہر کے تمام  وسائل پر  پیپلز پارٹی  کا قبضہ ہے جن  کے کرتاؤں دھرتاؤں کی سائن کے بغیر خاکروبوں کی تنخواہ بھی نہیں دی جا سکتی ہے  ' تو ایسے میں کراچی والوں کو منہ دھو رکھنا چاہئے  -یہ شہر تو ویسے بھی ایوب خان کے منصوبے کے تحت لاوارث چل رہا ہے -گل پلازہ کوئی عام مارکیٹ نہیں بلکہ شہر کے بڑے ہول سیل اور ریٹیل مراکز میں سے ایک تھا۔ آج سینکڑوں دکاندار اپنی زندگی بھر کی کمائی جلتے دیکھ کر بے بس  رہے۔ اگر 2009 میں جیل روڈ حادثے کے بعد مؤثر حفاظتی اقدامات کیے جاتے تو گل پلازہ جیسے سانحات ٹل سکتے تھے،  ۔ پچھلےپندرہ سالوں میں متعدد بڑے حادثات — جیل روڈ 2009، گلشنِ اقبال 2011، صدر مارکیٹ 2013 اور دیگر صنعتی علاقے 2015 تا 2017 — پیش آئے، لیکن ہر بار ردِعمل سست، غیر منظم اور ناکافی رہا۔ نتیجتاً انسانی جانیں ضائع ہوئیں اور اربوں روپے کا تجارتی سرمایہ تباہ ہوا۔کراچی کے تجارتی اور شہری زندگی کے دل ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں ہفتے کی رات لگنے والی آگ نے شہر کے تمام حفاظتی دعوؤں کو خاک میں ملا دیا۔


 یہ کوئی معمولی حادثہ نہیں تھا بلکہ ایک ایسا المیہ تھا جس نے انسانی جانوں، دکانداروں کے خواب اور اربوں روپے کے تجارتی سرمایہ کو راکھ میں تبدیل کر دیا۔گل پلازہ میں آتشزدگی رات 9:45 سے 10:15 کے درمیان شروع ہوئی اور 1200 سے زائد دکانیں جل گئیں۔ گل پلازہ کی آگ پر قابو پانے کے لیے فائر بریگیڈ کی 22 گاڑیاں، 10 واٹر باؤزرز اور 4 اسنارکل گاڑیاں شامل کی گئیں، مگر ابتدائی گھنٹوں میں پانی کی کمی اور ریسکیو اہلکاروں کی محدود رسائی انسانی جانوں کے  زیاں  کی اہم وجہ بنی۔ ریسکیو1122 کی رپورٹ کے مطابق ابتدائی مراحل میں عمارت میں داخل ہونا انتہائی دشوار تھا۔ ۔۔ 2009 میں جیل روڈ کے ”چیز اپ“ اسٹور میں لگنے والی آگ، 2011 میں گلشنِ اقبال صنعتی گودام کی تباہی اور 2013 میں صدر مارکیٹ میں ہونے والی آگ اس بات کی واضح مثالیں ہیں، سانحہ گل پلازہ کیسے رونما ہوا ؟  دل دہلا دینے والے انکشافات سامنے آگئےالمناک سانحے کے وقت عمارت میں موجود لوگوں کو 26 میں سے 24 دروازے بند ملے ، کوئی ایمرجنسی ایگزٹ نہیں تھا, متاثرہ دکاندارسانحہ گل پلازہ کیسے رونما ہوا ؟ حادثہ سانحے میں کیسے بدلا؟ دل دہلا دینے والے انکشافات سامنے آگئے۔متاثرہ دکانداروں کا کہنا ہے کہ عمارت کے کُل 26 داخلی و خارجی دروازے ہیں ، رات دس بجے تمام گیٹ بند کرکے صرف دو دروازے کُھلے رکھے جاتے ہیں۔  آگ انتہائی تیزی سے پھیل رہی تھی، پوری مارکیٹ میں دھواں ہی دھواں بھر چکا تھا۔دکانداروں کے مطابق آگ لگنے کے کچھ دیر بعد کچھ لوگ بے ہوش ہو کر زمین پر گر پڑے، دکانداروں نے بہت سے لوگوں کو  اپنی مدد  آپ کے تحت ہی عمارت سے باہر  نکالا۔



یاد رہے کہ کراچی میں ایم اے جناح روڈ پر  واقع شاپنگ مال گل پلازہ میں آگ بجھنے کے بعد ملبہ ہٹانے اور لاپتا افراد کی تلاش کا کام جاری ہے۔ اب تک 26 ہلاکتوں کی تصدیق ہوچکی ہے  جبکہ واقعے کے بعد اب بھی 76 افراد لاپتا ہیں اور اربوں روپے کا نقصان اور قیمتی جانوں کا ضائع ہو گیا اور جعلی میئر مرتضیٰ وہاب اور مراد علی  لوگوں کے نقصان کا ذمہ دار ہیں   جنہوں   نے اتنے بڑے شہر کے وسائل اپنی جیبوں میں ڈال کر اس شہر کے لوگوں کو بے یارو مدد گار چھوڑ رکھا  ہےپورے شہر کو جو کبھی پورے ملک کی معیشت کی ریڑ کی ہڈی کے طور پر جانا جاتا تھا اور پورے ملک کے لوگوں کے روزگار کی پہچان کے طور پر پہچانا جاتا تھا اس کے علاوہ خوبصورتی میں بھی اپنی کمال حیثیت رکھتا تھاآج یہ شہر بے بسی کی تصویر بن چکا ہے پورے شہر کا نظام کھنڈرات کا منظر پیش کر رہا ہے فائر  فائٹر 24 گھنٹے بعد کراچی کے آتش زدہ گل پلازہ میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے، جلی ہوئی دکانوں میں محدود پیمانے کا سرچ آپریشن کیا، ریسکیو ورکرز صدائیں لگا لگا کر زندگی کے نشان ڈھونڈتے رہے، مگر جلی ہوئی عمارت کے اندر ان صداؤں پر لبیک کہنے والا کوئی نہ مِلا۔لوگ بے بسی کی تصویر بنے ہفتے کی رات سوا 10 بجے سے جلتی ہوئی عمارت کے باہر کھڑے اپنے پیاروں کی راہ تک رہے ہیں۔سانحے میں 1200 دکانیں جل کر خاکستر ہو گئيں، آگ سے متاثرہ عمارت کے حصے ٹوٹ کر گرنے لگے ہیں۔ کراچی میں گل پلازہ میں آتشزدگی کے واقعے کو 26 گھنٹے گزر چکے ہیں، آگ پر 80 فیصد تک قابو پا لیا گیا، باقی فائر ٹینڈر اب بھی بچی کھچی آگ بجھانے میں مصروف ہیں، عمارت میں پھنسے لوگوں کے موبائل فون بند ہو گئے ہیں اور ان سے رابطہ ختم ہو گیا ہے۔



سانحے میں 1200 دکانیں جل کر خاکستر ہو گئيں، آگ سے متاثرہ عمارت کے حصے ٹوٹ کر گرنے لگے ہیں۔ عمارت میں کتنے لوگ پھنسے ہیں، درست تعداد کا اندازہ نہیں، اب تک 38 افراد کے اہلخانہ نے انتظامیہ سے رابطہ کیا ہے، حادثے میں 6 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں ایک فائر فائٹر بھی شامل ہے جبکہ 22 افراد زخمی ہوئے ہیں۔آتشزدگی کے نتیجے میں فائر فائٹر فرقان شوکت سمیت 6 افراد جاں بحق، جبکہ متعدد بے ہوش افراد کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا،خوفناک آگ نے شہر کی فضا سوگوار کردی۔ کراچی (18 جنوری 2026): گل پلازہ شاپنگ سینٹر میں لگنے والی خوفناک آتشزدگی کے باعث کئی افراد تاحال لاپتا ہیں تاہم 40 افراد کی فہرست سامنے آئی ہے جن میں نام اور عمریں درج ہیں۔اے آر وائی نیوز کو موصول فہرست میں اُن افراد کے نام شامل ہیں جنہیں اہل خانہ اور قریبی رشتے دار گزشتہ رات سے رابطہ کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔گل پلازہ آتشزدگی کے بعد سے اب تک درجنوں افراد کے لاپتا ہونے کی تفصیل جمع کروائی گئی ہے جن میں مرد و خواتین کے ساتھ ساتھ بچے بھی شامل ہیں۔سندھ حکومت کی ہدایت پر ڈپٹی کمشنر جنوبی نے مسنگ پرسن کیلیے ڈیسک قائم کر دی ہے۔ ڈپٹی کمشنر جنوبی نے کہا ہے کہ لوگ اپنے پیاروں کے لاپتا ہونے کی تفصیلات جمع کروا رہے ہیں۔ کراچی کے شہری اور تجارتی حلقے برسوں سے یہ بات دہراتے آئے ہیں کہ شہر میں فائر سیفٹی کے نام پر کوئی عملی اقدامات نہیں کیے جاتے۔

پیر، 19 جنوری، 2026

گائے گی دنیا گیت میرے-موسیقار نثار بزمی

   


گائے گی دنیا گیت میرے-سریلے رنگ میں نرالے رنگ میں نےبھرے ہیں ارمانوں میں، کانوں میں رس گھولنے والی نثار بزمی کی  موسیقی  سے سجا ہوا یہ گیت جب اس وقت کے پردہء سیمیں پر آیا تو  گلی گلی مشہور ہو گیا نثار بزمی ہماری فلم انڈسٹری کے بڑے نامور موسیقار   تھے  انہوں  نے  فن موسیقی میں بڑے بڑے فن کاروں  سے بڑھ کر  اپنی فنی خدمات سے شہرت پائی۔ پاک و ہند کی فلمی موسیقی نے نامور موسیقار اور گلوکار پیدا کیے۔ ان میں ایک معتبر نام موسیقار نثار بزمی کا بھی ہے۔ ان کا پُورا نام سید نثاراحمد تھا لیکن  موسیقی کی دنیا میں نثار بزمی کے نام سے شہرت پائی۔پاکستان میں فضل احمد کریم فضلی کی فلم ’ایسا بھی ہوتا ہے‘ بطور موسیقار نثار بزمی کی پہلی فلم تھی، لیکن تقسیمِ‌ ہند سے قبل اور بعد میں‌ بھارت میں قیام کے دوران وہ 40 سے زائد فلموں کی موسیقی ترتیب دے چکے تھے۔ یہ 1946ء کی بات ہے اور 1961ء تک وہ بھارت میں فلم انڈسٹری کے لیے کام کرتے رہے۔ تاہم کوئی خاص کام یابی ان کا مقدّر نہیں بنی تھی۔ نثار بزمی نے 1962ء میں پاکستان ہجرت کی تو جیسے قسمت کی دیوی ان پر مہربان ہوگئی۔ وہ اپنے عزیز و اقارب سے ملنے کے لیے کراچی آئے تھے اور کراچی کی گرم آغوش میں ان کے مقدر کا ستارہ چمکا  اور پھر وہ بھارت واپس نہیں جا سکے اور یہیں کے ہو رہے۔ پاکستان میں نثار بزمی نے فلم انڈسٹری کے لیے لازوال دھنیں تخلیق کیں۔


فلم ‘لاکھوں میں ایک’ کا مشہور گیت ’چلو اچھا ہوا تم بھول گئے‘ کی دھن نثار بزمی نے ترتیب دی تھی۔ اس کے علاوہ ‘اے بہارو گواہ رہنا، اک حسن کی دیوی سے مجھے پیار ہوا تھا، رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ، آپ دل کی انجمن میں حسن بن کر آ گئے، دل دھڑکے، میں تم سے یہ کیسے کہوں، کہتی ہے میری نظر شکریہ، کاٹے نہ کٹے رتیاں، سیاں تیرے پیار میں جیسے لازوال گیتوں کے اس موسیقار نے یہاں‌ عزّت، مقام و مرتبہ پایا۔ان کی ترتیب دی ہوئی دھنوں پر اپنے دور کے مشہور و معروف گلوکاروں نے اپنی آواز کا جادو جگایا۔ نوعمری ہی سے انھیں موسیقی سے لگاؤ پیدا ہوگیا تھا اور ان کا شوق اور موسیقی سے رغبت دیکھتے ہوئے والد نے انھیں استاد امان علی خان کے پاس بمبئی بھیج دیا جن سے انھوں نے اس فن کے اسرار و رموز سیکھے۔نثار بزمی نے آل انڈیا ریڈیو میں چند سال میوزک کمپوزر کی حیثیت سے کام کیا اور 1946ء میں فلم نگری سے موسیقار کے طور پر اپنا سفر شروع کیا، وہ تقسیم کے پندرہ برس تک ہندوستان کی فلم انڈسٹری سے وابستہ رہے اور پھر پاکستان آگئے جہاں اپنے فن کی بدولت بڑا نام اور مرتبہ پایا۔نثار بزمی نے طاہرہ سیّد، نیرہ نور، حمیرا چنا اور عالمگیر جیسے گلوکاروں کو فلمی دنیا میں آواز کا جادو جگانے کا موقع دیا۔ مختلف شعرا کے کلام پر دھنیں ترتیب دینے والے نثار بزمی خود بھی شاعر تھے۔ ان کا مجموعۂ کلام ’پھر سازِ صداخاموش ہوا‘ کے نام سے شایع ہوا۔حکومتِ‌ پاکستان نے نثار بزمی کو پرائیڈ آف پرفارمنس سے نوازا تھا  ۔


 اس سے قبل وہ آل انڈیا ریڈیو بمبئی پر بہ طور موسیقار ملازم بھی رہے۔ نثار بزمی ایک اعلیٰ پائے کے موسیقار تھے جو میعار پرسمجھوتہ نہیں کرتے تھے اور اس وجہ سے بڑا نقصان بھی اٹھاتے تھے۔انھوں نے فلم شمع اور پروانہ (1970) کا گیت:میں تیرا شہر چھوڑ جاؤں گا۔۔پہلے خانصاحب مہدی حسن سے گوایا تھا لیکن مطمئن نہیں ہوئے تھے۔ پھر وہی گیت گلوکار مجیب عالم سے گوایا تو ان کی کارکردگی سے اتنے خوش ہوئے تھے کہ ان سے فلم کے چھ گیت گوا لیے تھے۔نثار بزمی غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل موسیقار تھے۔ ان کی شاندار دھنوں کی بدولت کئی فلموں نے عدیم النظیر کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے پاکستان نیوی کیلئے ترانوں کی موسیقی بھی دی۔ انہوں نے شاعری بھی کی جو کتابی شکل میں دستاب ہے۔ ان کی شاعری کی کتاب کا عنوان ہے '' پھر ساز صدا خاموش ہوا ‘‘ ۔یہ ایک حقیقت ہے کہ نثار بزمی نے جن فلموں کا سنگیت دیا ان میںسے اکثرسپر ہٹ ہوئیں،جو فلمیں ناکام رہیںان کی موسیقی کو بھی پسند کیا گیا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جب وہ بھارت میں تھے تو مشہور موسیقاروں کی جوڑی لکشمی کانت پیارے لال ان سے موسیقی کے اسرارورموز سیکھتے تھے۔ 70ء کی دہائی کے آغاز میں رونا لیلیٰ کی آواز کا جادو سر چڑھ کر بولنے لگا۔


 دراصل یہ نثار بزمی تھے جنہوں نے رونا لیلیٰ کی تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کیا اور ان سے حیرت انگیز گیت گوائے۔نثار بزمی نے مشہور زمانہ فلم '' امر ائو جان ادا ‘‘ کا صرف ایک گیت میڈم نور جہاں سے گوایا باقی تمام نغمات رونا لیلیٰ سے گوائے۔ اس بارے میں وہ کہتے تھے میڈم نور جہاں نے جو گیت گایا وہ کوئی اور گلوکارہ گا ہی نہیں سکتی تھی۔اسی طرح رونا لیلیٰ نے ان کی موسیقی میں جو گیت ''انجمن‘‘ اور ''تہذیب‘‘ کیلئے گائے وہ بھی باکمال ہیں۔اسی طرح1972ء میں ریلیز ہونے والی فلم ''ناگ منی ‘‘ کے سارے نغمات بزمی صاحب نے میڈم نور جہاں سے گوائے۔ یہاں ان کو مؤقف یہ تھا کہ اس فلم کے تمام گیتوں کے لئے میڈم نورجہاں کا انتخاب ہی درست تھا کیونکہ یہ بڑے مشکل گیت تھے۔ہدایتکار حسن طارق کی بیشتر سپر ہٹ فلموں کا میوزک نثار بزمی نے دیا۔ 22 مارچ 2007ء کو نثار بزمی اس جہان فانی سے رخصت ہو گئے۔ اہل موسیقی انہیں کبھی نہیں بھول پائیں گے۔ ان کی آخری فلم ویری گڈ دنیا ویری بیڈ لوگ تھی جو 2000ء میں نمائش پذیر ہوئی تھی۔ نثار بزمی کو حکومت پاکستان نے صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔ وہ ایک خوش گو شاعر بھی تھے اور ان کا شعری مجموعہ پھر ساز صدا خاموش ہوا بھی شائع ہوچکا ہے۔ وہ شمالی کراچی میں قبرستان محمد شاہ میں آسودۂ خاک ہیں۔ 

 

اتوار، 18 جنوری، 2026

فرزند نبی (ص)امام نہم حضرت محمد تقی علیہ السلام

 


 اہل بیت   اطہار میں امامت کی منزل نہم پر  آپ  حضرت محمد بن علی رضا  علیہ السلام ہیں۔ آپ کا نام ’’محمد‘‘ ہے اور مشہور لقب ’’تقی‘‘ اور ’’جواد‘‘ ہے اسی وجہ سے آپ کو امام محمد تقی یا امام محمد جواد کہا جاتا ہے۔ آپ کی کنیت ابو جعفر ہے۔ تاریخ ومقام ولادت اور شہادت: آپ کی ولادت باسعادت سن195 ہجری میں ہوئی اور آپ نے سن220 ہجری میں 25سال کی عمر میں جام شہادت نوش کیا۔ آپ نے اپنے والد کے ساتھ 7سال زندگی گزاری اور اپنے والد کی شہادت کے بعد 18سال زندہ رہے۔ والدہ ماجدہ: آپ کی والدہ ام ولد ہیں کہ جن کا نام جناب سکن ہے۔ اولاد: شیخ مفید لکھتے ہیں کہ امام محمد تقی علیہ السلام کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں بیٹے امام علی نقی علیہ السلام اور موسی ہیں جبکہ بیٹیوں کے نام فاطمہ اور امامہ ہیں۔ مامون کے ساتھ: شیخ مفید لکھتے ہیں کہ جب مامون نے دیکھا کہ امام محمد تقی علیہ السلام کے کم سنی میں ہی ظاہر ہونے والے فضائل و مناقب، علم و دانائی، تہذیب و ادب اور عقل کے کمال میں اُس زمانے کا کوئی بھی شخص برابری نہیں کر سکتا تو اس کا دل امام محمد تقی علیہ السلام کے لیے ظاہری طور پر نرم ہو گیا اور اس نے اپنی بیٹی ام فضل کی شادی امام محمد تقی علیہ السلام سے کر دی اور اسے امام کے ساتھ ہی مدینہ بھیج دیا۔



 مامون ہمیشہ امام محمد تقی علیہ السلام کی بہت زیادہ تعظیم کرتا۔ عباسیوں نے مامون کو اپنی بیٹی کی شادی امام محمد تقی علیہ السلام سے کرنے سے روکا اور کہا: ہم تمہیں اللہ کا واسطہ دیتے ہیں جس کام کا تم نے ارادہ کیا ہے اسے نہ کرو، ہمیں ڈر ہے کہ کہیں حکومت ہمارے ہاتھ سے نہ نکل جائے اور ہمارے اور ابو طالب کی اولاد کے درمیان جو کچھ ہے اسے تم بخوبی جانتے ہو۔ مامون نے ان کے جواب میں کہا: جو اختلاف و دشمنی تمہارے اور ابوطالب کی اولاد میں ہے اس کا سبب تم خود ہو اگر تم انصاف سے کام لو تو وہ تم سے زیادہ افضل و اولی ہیں، میں نے محمد بن علی   علیہ السلام  کو اختیار کر لیا ہے کیونکہ وہ اپنی کم سنی کے باوجود تمام اہلِ علم و فضل سے برتر اور افضل ہے عنقریب وہ تمہارے سامنے آئے گا اور پھر تمہیں بھی معلوم ہو جائے گا کہ صحیح فیصلہ وہی ہے جو میں نے کیا ہے۔ عباسیوں نے کہا: وہ تو ابھی کافی چھوٹا ہے اس کے پاس علمی معرفت، فقہ اور سمجھ بوجھ نہیں ہے۔ مامون نے کہا: تمہاری بربادی ہو میں اُسے تم سے زیادہ جانتا ہوں، وہ اہل بیت میں سے ہے اور اہل بیت کا علم اللہ کی طرف سے عطا کردہ ہوتا ہے، اب تک اس کے آباء و اجداد دینی و ادبی علوم میں لوگوں سے بے نیاز ہیں اگر تم چاہتے ہو تو اس کا امتحان لے لو تاکہ تم پر بھی یہ بات واضح ہو جائے۔ عباسیوں نے کہا: ٹھیک ہے ہم اس بات پہ راضی ہیں۔


پھر عباسیوں نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ قاضی القضاۃ یعنی چیف جسٹس یحیی بن اکثم کو امام محمد تقی     علیہ السلام کے مقابلے میں لایا جائے۔ مقررہ دن عباسی اپنے قاضي القضاة يحيى بن اكثم کو مامون کے دربار میں لے آئے، جبکہ مامون کے ساتھ امام محمد تقی                     علیہ السلام  تشریف لائے، اس علمی مقابلے کو دیکھنے کے لیے دونوں کے گرد لوگوں کی بہت بڑی تعداد جمع تھی۔ یحیی بن اکثم نے امام محمد تقی   علیہ السلام سے پوچھا: احرام کی حالت میں شکار کرنے والے کا کیا کفارہ ہے؟ تو امام محمد تقی    علیہ السلام نے اس سے کہا: کیا اس نے حرم کے علاقے میں شکار کو مارا ہے یا حرم کے علاقہ سے باہر ایسا کیا ہے؟ کیا وہ احرام میں شکار کرنے کے حرام ہونے کو جانتا تھا یا اسے اس کا علم نہیں تھا؟ کیا اس نے جان بوجھ کر ارادی طور پر شکار کیا یا اس سے یہ کام غلطی سے ہو گیا؟ احرام میں شکار کرنے والا آزاد تھا یا کسی کا غلام تھا؟ کیا وہ کم سن تھا یا بڑا تھا؟ اس نے پہلی مرتبہ شکار کیا تھا یا بار بار شکار کر چکا تھا؟ شکار پرندہ تھا یا کو ئی اور جانور تھا؟ شکار چھوٹے پرندوں میں سے تھا یا وہ بڑا پرندہ تھا؟ شکار ی شکار کرنے پر مُصِر تھا یا اسے ایسا کرنے پہ شرمندگی تھی؟ اس نے یہ شکار رات میں کیا تھا یا دن میں؟ اس نے حج کے لیے احرام باندھا تھا یا عمرہ کے لیے؟ امام کی گفتگو سننے کے بعد یحییٰ کے ہوش اڑ گئے اُس نے اپنے ذہن میں کبھی اتنی شقیں نہیں سو چی تھیں وہ عاجز اورخاموش ہو گیا۔



 مجمع میں اللہ اکبر اور لا الہ الا اللہ کی آوازیں بلند ہونے لگیں، سب پر یہ آشکار ہو گیا کہ اللہ نے اہل بیت  کو علم و حکمت اور دانائی اسی طرح عطا کی ہے جس طرح اُس نے انبیاء اور رسولوں کو عطا کی تھی۔ یہ سب دیکھ کر مامون نے کہا:اِس نعمت اور توفیق پر خدا کی حمد وثنا ہے۔ پھر مامون نے اپنے خاندان والوں کی طرف متوجہ ہو کر کہا: کیا تمہیں اب اُس کی معرفت ہو گئی جس کا تم انکار کر رہے تھے ؟ عباسیوں نے کہا: تم نے جو فیصلہ کیا ہے اس کے بارے میں تم ہم سے زیادہ جانتے ہو۔ مامون نے کہا: یہ جو فضل و کمال تم دیکھ رہے ہو پوری مخلوق میں صرف اس گھرانہ کے افراد کو عطا کیا گیا ہے، ان کی کم سنی ان کے کمالات میں حائل نہیں ہوتی، رسول خدا  صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم                                نے حضرت علی  علیہ السلام  کو جب اسلام کی دعوت دی تو وہ دس سال کے تھے رسول خدا صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم    صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے حضرت علی  علیہ السلام سے ان کے اسلام کو قبول کیا اور ان کے لیے اسلام کا حکم لگایا، جس طرح سے حضرت علی   علیہ السلام  کو 
اس کم سنی میں اسلام کی دعوت دی گئی  

حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کی چند حدیثیں
امام أبو جعفر محمّد تقی الجواد بن علی بن موسی الرضا (علیہ السلام) نے فرمایا:
1۔ تین خصلتوں کی حاجت
"الْمُؤمِنُ يَحْتاجُ إلى ثَلاثِ خِصالٍ: تَوْفيقٍ مِنَ اللّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَواعِظٍ مِنْ نَفْسِهِ، وَقَبُولٍ مِمَّنْ يَنْصَحُهُ؛
مؤمن ہر حال میں تین خصلتوں کا محتاج ہے؛ توفیق اللہ کی جانب سے، واعظ اپنے اندر سے، اس شخص کی نصیحت و خیرخواہی قبول کرنا جو اس کو نصیحت کرے”۔
2۔ بھائیوں سے ملاقات
"مُلاقاةُ الإخوانِ نَشْرَةٌ، وَتَلْقيحٌ لِلْعَقْلِ وَإنْ كانَ نَزْرا قَليلا؛
ایمانی بھائیوں سے ملاقات دل کی طراوت اور نورانیت کا باعث اور عقل و درایت کی پھلنے پھولنے کا سبب ہے خواہ وہ مختصر ہی کیوں نہ ہو”۔
3۔ اشرار سے دور رہو
"إيّاكَ وَمُصاحَبَةُ الشَّريرِ، فَإنَّهُ كَالسَّيْفِ الْمَسْلُولِ، يَحْسُنُ مَنْظَرُهُ وَيَقْبَحُ أثَرُهُ؛
خیال رکھو شریر اور شرپسند افراد کی رفاقت و مصاحبت سے، کیونکہ یہ مصاحبت سونتی ہوئی تلوار کی مانند ہے جو بظاہر خوبصورت ہے لیکن اس کے اثرات قبیح اور خطرناک ہیں”۔

ہفتہ، 17 جنوری، 2026

شہریوں کے لئے چالان کے نام پر بھاری جرمانے

 شہریوں کے چالان یا جینے کا جرمانہ حکومت یہ تو بتائے؟             ٹریفک                         قوانین کی خلاف ورزی پریو رپی ممالک  میں بھی  چالان  کے لیے کیمروں سے تصاویر نکالی جاتی ہیں، بھاری جرمانے بھی عائد کیے جاتے ہیں لیکن اس سب سے پہلے وہ نظام تخلیق کیا جاتا ہے جہاں سڑکیں عوام کو میسر ہوں، سڑکوں پر نشانات بھی ہوں اور اس سے بھی پہلے ڈرائیونگ لائسنس کے حصول کا سخت ترین نظام ہوتا ہے۔ اگر آپ کو ٹریفک اشاروں سے درست آگاہی نہیں، گاڑی چلانے کا طریقہ نہیں معلوم تو پھر آپ کو لائسنس ہی نہیں ملے گا، اور لائسنس نہیں ہوگا تو گاڑی کیسے چلا سکیں گے۔مقررہ سال سے زیادہ پرانی گاڑی کو فٹنس کے سخت مرحلے سے گزر کر ہی سڑک پر چلنے کی اجازت ہوتی ہے اور کوئ ڈرائور اوور اسپیڈ کر ہی نہیں سکتا ہے ورنہ تو بھاری جرمانہ دینا پڑ سکتا ہے  سڑکیں قال رشک حد تک ہموار ہوتی ہیں  لیکن اگر کراچی سمیت سندھ بھر کا جائزہ لیں تو کئی کئی دہائی پرانی گاڑیاں سڑکوں پر دوڑ رہی ہیں، نہ ان کی فٹنس کی کسی کو فکر ہے، نہ ماحولیات کو تباہ کرنے پر کسی کی نظر ہے، ہر چھوٹی بڑی گاڑی میں پریشر ہارن ہونا عام سی بات ہے، اشارے کام کریں یا نہ کریں اس بات سے کسی کو کوئی مطلب نہیں ہے۔بھاری گاڑیوں یعنی ٹینکر، ڈمپر وغیرہ کی اکثریت پر نمبر پلیٹ ہوتی ہی نہیں ہے اور اگر ہو بھی تو سندھ سے باہر کی ہوتی ہے۔ میڈیا روزانہ کی بنیاد پر اسے رپورٹ کرتا رہتا ہے


 دکانداروں نے کوریڈرو اور فٹ پاتھ تک گھیر رکھے ہیں، جہاں خالی زمین ہو وہاں کوئی نہ کوئی قبضہ کرلیتا ہے۔ جب اور جہاں دل چاہتا ہے لٹیرا آدھمکتا ہے، سڑک، گلی حتیٰ کہ آپ اپنے گھر کے دروازے تک پر محفوظ نہیں ہیں۔ کہیں بھی آپ کو لوٹا جاسکتا ہے۔ تھانے جائیں تو پہلے تو آپ کو تھانے میں کوئی منہ نہیں لگائے گا، اگر کوئی جان پہچان یا سفارش لے کر پہنچ جائیں تو پہلے تھانے والوں کا زور ہوگا کہ آپ ایف آئی آر کے بجائے ڈکیتی یا چوری کی درخواست دے کر اپنی بھی جان چھڑائیں اور پولیس پر بھی بوجھ نہ ڈالیں۔ پارک میں جھانکیں تو وہاں بھی تجارتی سرگرمیاں نظر آئیں گی۔ بڑے بڑے شاپنگ سینٹرز ہیں لیکن انھوں نے پارکنگ کے لیے مختص جگہ پر دکانیں بنا کر بیچ ڈالی ہیں، نقشہ چیک کریں تو پارکنگ لکھی نظر آئے گی۔پہلے پارکنگ فیس ہوتی تھی اب پارکنگ فیس ختم کردی گئی لیکن گاڑی یا موٹرسائیکل پارک کرنے کے پیسے اب بھی دینا پڑتے ہیں ہر سڑک پر یا شاپنگ سینٹر کے باہر کچھ لوگ کھڑے ہوتے ہیں جو گاڑیاں لگواتے ہیں اور پہلے تو دس بیس روپے تھے اب تو موٹرسائیکل تک کے 30روپے سے کم چارج نہیں کیے جاتے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر بائیک یا گاڑی چوری ہوجائے، کوئی ٹوٹ پھوٹ ہوجائے تو آپ کوئی دعویٰ بھی نہیں کرسکتے۔ علاقے کا تھانہ سڑکوں کو ٹکڑوں میں بانٹ کر مبینہ طور پر روزانہ یا ہفتے کی بنیاد پر بھتہ وصول کرتا ہے۔



 اور اب تو مریض کی ایمبولینس بھی روک کر پہلے چالان کی رقم وصو ل کی جاتی ہے پھر ایمبولینس کو چھوڑا جاتا ہے  دودھ، سبزی، روٹی کسی چیز کی سرکاری قیمت پر شاذ ہی عمل ہورہا ہے، ہر ایک اپنی مرضی کی قیمت وصول کر رہا ہے، اگر احتجاج کرو تو دکاندار کہتا ہے کہ آگے بڑھو، جو کرسکتے ہو کرلو۔جس کا مال اس کی مرضی، جس قیمت پر چاہے فروخت کرے، وغیرہ وغیرہ۔ ایک دو یا دس نہیں اس شہر کے ہزاروں مسائل ہیں جنہیں ٹھیک کیا جانا ضروری ہے لیکن حکومت کی نظر میں سب سے بڑا کام یہی تھا کہ ای چالان نظام نافذ کردیا جائےکراچی سمیت سندھ میں کیا ہورہا ہے، اب اس پر کوئی بات نہیں کررہا سب ہی ای چالان پر بات کر رہے ہیں۔ کیا حکومت کا صرف یہی ایک کام تھا؟ باقی کام کون کرے گا؟ صوبے کو قبضہ مافیا سے نجات کون دلائے گا؟سڑکیں کون بنائے گا اور فٹ پاتھوں اور سڑکوں سے قبضہ کون چھڑائے گا؟ ڈکیتوں کو نکیل کون ڈالے گا؟ مہنگائی سے نجات کون دلائے گا؟ نوکریوں کا بندوبست کس کی ذمہ داری ہے؟ یہ اور اس جیسے لاتعداد سوالات ہیں جو عوام ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں، 


کیا حکومتی   کار پردازوں کو یہ  سب نظر نہیں آتا؟کئ  موتر سائکل  سواروں چالان نا ہونے کے سبب  سکوں پر اپنی موٹر سائکلیں نذر آتش کر دیں میڈیا رپورٹس کے مطابق اب تک تیس ہزار سے زیادہ چالان ہوچکے ہیں، ان میں سیٹ بیلٹ نہ باندھنے اور بغیر ہیلمٹ موٹرسائیکل چلانے والوں کے زیادہ چالان کیے ہیں، جرمانوں کی رقم اتنی زیادہ ہے کہ بہت سے لوگوں کے مطابق وہ چالان کی رقم جمع کرانے کے بجائے موٹرسائیکل جمع کرادیں تو زیادہ بہتر ہوگا۔ اگر عوام یا دوسری سیاسی جماعتیں یہ الزام لگائیں کہ ای چالان کا مقصد ٹریفک قوانین کا نفاذ اور ان پر عمل نہیں بلکہ عوام کی جیبوں سے پیسا نکلوانا ہے تو سندھ حکومت اس کا دفاع کیسے کرپائے گی؟ حکومت کا یہ اختیار ہے کہ صوبے یا کسی شہر کی بھلائی کے لیے بہتر سے بہتر قوانین بنائے لیکن اس سے قبل عوام کی آگاہی کے لیے بھی تو اقدامات کیے جانے چاہئیں۔پالیسی سازوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ یہ عوام ہی ہیں جو انھیں حق حکمرانی بخشتے ہیں، اپنے حقوق کے دفاع کے لیے منتخب کرکے ایوانوں میں بھیجتے ہیں۔ عوام کو ان کا حق ملنا چاہیے اگر آج آپ انھیں یہ حق نہیں دیں گے تو جب کبھی عوام کو اپنے ووٹ سے حکمرانوں کو بدلنے کا موقع ملا تو وہ یہ کر گزریں گے اور آپ خود کو ڈھونڈتے ہی رہ جائیں گے۔




 ·


























جمعہ، 16 جنوری، 2026

جامن کا پیڑپارٹ' 1-افسانہ نگار کرشن چندر


   رات  کو بڑے زور کا جھکڑ چلا۔ سکریٹریٹ کے لان میں جامن کا ایک درخت گرپڑا۔ صبح جب مالی نے دیکھا تو اسے معلوم پڑا کہ درخت کے نیچے ایک آدمی دبا پڑاہے خون کا دباؤ، سانس کی آمد و رفت، دل اور پھیپھڑوں کی جانچ‌کر کے رپورٹ بھیج دی کہ، اس آدمی کا پلاسٹک سرجری کا آپریشن تو ہو سکتا ہے، اور آپریشن کامیاب بھی ہو جائے‌گا،مگر آدمی مر جائے‌گا۔رات کو بڑے زور کا جھکڑ چلا۔ سکریٹریٹ کے لان میں جامن کا ایک درخت گرپڑا۔ صبح جب مالی نے دیکھا تو اسے معلوم پڑا کہ درخت کے نیچے ایک آدمی دبا پڑاہے مالی دوڑا-دوڑا چپراسی کے پاس گیا۔ چپراسی دوڑا-دوڑا کلرک کے پاس گیا۔کلرک دوڑا-دوڑا سپرنٹنڈنٹ کے پاس گیا۔ سپرنٹنڈنٹ دوڑا-دوڑا باہر لان میں آیا۔منٹوں میں گرے ہوئے درخت کے نیچے دبے ہوئے آدمی کے گرد مجمع ‘ اکٹھا ہو گیا۔بیچارا! جامن کا درخت کتنا پھل دارتھا۔ ایک کلرک بولا۔اس کی جامن کتنی رسیلی ہوتی تھیں۔دوسرا کلرک بولا۔میں پھلوں کے موسم میں جھولی بھر‌کےلے جاتا تھا۔ میرے بچے اس کی جامنیں کتنی خوشی سے کھاتے تھے۔تیسرے کلرک نے تقریباً آبدیدہ ہوکر کہا۔مگر یہ آدمی؟مالی نے دبےہوئے آدمی کی طرف اشارہ کیا۔ہاں، یہ آدمی! سپرنٹنڈنٹ سوچ میں پڑ گیا۔پتہ نہیں زندہ ہے کہ مر گیا! ایک چپراسی نے پوچھا۔مر گیا ہوگا۔ اتنا بھاری تنا جن کی پیٹھ پر گرے، وہ بچ کیسے سکتا ہے! دوسرا چپراسی بولا۔نہیں میں زندہ ہوں! دبےہوئے آدمی نے بہ مشکل، کراہتے ہوئے کہا۔زندہ ہے! ایک کلرک نے حیرت سے کہا۔درخت کو ہٹاکر اس کو نکال لیناچاہیے۔ مالی نے مشورہ دیا۔مشکل معلوم ہوتا ہے۔


ایک کاہل اور موٹا چپراسی بولا۔درخت کا تنا بہت بھاری اور وزنی ہے۔کیا مشکل ہے؟ مالی بولا۔ اگر سپرنٹنڈنٹ صاحب حکم دے تو ابھی پندرہ-بیس مالی، چپراسی اور کلرک زور لگاکردرخت کے نیچے سے دبے آدمی کو نکال سکتے ہیں۔مالی ٹھیک کہتا ہے۔بہت-سےکلرک ایک ساتھ بول پڑے۔ لگاؤ زور، ہم تیار ہیں۔ایک دم بہت سے لوگ درخت کو کاٹنے پر تیار ہو گئے۔ٹھہرو!، سپرنٹنڈنٹ بولا،میں انڈر-سکریٹری سے مشورہ کر لوں۔سپرنٹنڈنٹ انڈر-سکریٹری کے پاس گیا۔ انڈر-سکریٹری ڈپٹی سکریٹری کے پاس گیا۔ ڈپٹی سکریٹری جوائنٹ سکریٹری کے پاس گیا۔ جوائنٹ سکریٹری چیف سکریٹری کے پاس  گیاچیف سکریٹری نے جوائنٹ سکریٹری سے کچھ کہا۔ جوائنٹ سکریٹری نے ڈپٹی سکریٹری سے کچھ کہا۔ ڈپٹی سکریٹری نےانڈر سکریٹری سے کچھ کہا۔ ایک فائل بن گئی۔فائل چلنے لگی۔ فائل چلتی رہی۔ اسی میں آدھا دن گزر گیا۔دوپہر کو کھانے پر دبے ہوئے آدمی کے گرد بہت بھیڑ ہو گئی تھی۔ لوگ طرح-طرح کی باتیں کر رہے تھے۔ کچھ من چلے کلرکوں نے معاملے کو اپنے ہاتھ میں لینا چاہا۔وہ حکومت کے فیصلے کا انتظار کئے بغیر درخت کو خود سے ہٹانے کا تہیہ کر رہے تھے کہ اتنےمیں سپرنٹنڈنٹ فائل لئے بھاگا-بھاگا آیا، بولا-ہم لوگ خود سے اس درخت کو یہاں سے ہٹا نہیں سکتے۔ ہم لوگ محکمہ تجارت سے متعلق ہیں اور یہ درخت کا معاملہ ہے جو محکمہ زراعت کی تحویل میں ہے۔ اس لئے میں اس فائل کو ارجنٹ مارک کرکے محکمہ زراعت میں بھیج رہا ہوں۔ وہاں سے جواب آتے ہی اس کو ہٹوا دیا جائے‌گا۔



دوسرے دن محکمہ زراعت سے جواب آیا کہ درخت ہٹوانے کی ذمہ داری محکمہ تجارت پر عائد ہوتی ہے۔یہ جواب پڑھ‌کر محکمہ تجارت کو غصہ آ گیا۔ انہوں نے فوراً لکھا کہ درختوں کو ہٹوانے یا نہ ہٹوانے کی ذمہ داری محکمہ زراعت پر عائد ہوتی ہے۔ محکمہ تجارت کااس معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔دوسرے دن بھی فائل چلتی رہی۔ شام کو جواب بھی آ گیا۔ ہم اس معاملےکو ہارٹی کلچرل ڈپارٹمنٹ کے سپرد کر رہے ہیں کیونکہ یہ ایک پھل دار درخت کا معاملہ ہے اور ایگریکلچرل ڈپارٹمنٹ صرف اناج اور کھیتی باڑی کے معاملوں میں فیصلہ کرنے کامجاز ہے۔ جامن کا درخت ایک پھل دار درخت ہے اس لئے درخت ہارٹی کلچرل ڈپارٹمنٹ کےدائرہ اختیار میں آتا ہے۔رات کو مالی نے دبے ہوئے آدمی کو دال-بھات کھلایا حالانکہ لان کے چاروں طرف پولیس کا پہرا تھا کہ کہیں لوگ قانون کو اپنے ہاتھ میں لےکر درخت کو خود سےہٹوانے کی کوشش نہ کریں۔ مگر ایک پولیس کانسٹبل کو رحم آ گیا اور اس نے مالی کودبے ہوئے آدمی کو کھانا کھلانے کی اجازت دے دی۔مالی نے دبے ہوئے آدمی سے کہا،تمہاری فائل چل رہی ہے۔ امید ہے کہ کل تک فیصلہ ہو جائے‌گا۔دبا ہوا آدمی کچھ نہ بولا۔مالی نے درخت کے تنے کو غور سے دیکھ‌کر کہا،حیرت گزری کہ تناتمہارے کولہے پر گرا۔ اگر کمر پر گرتا تو ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ جاتی۔دبا ہوا آدمی پھر بھی کچھ نہ بولا۔مالی نے پھر کہا،تمہارا یہاں کوئی وارث ہو تو مجھے اس کا اتہ پتہ بتاؤ۔



میں اس کو خبر دینے کی کوشش کروں‌گا۔میں لاوارث ہوں۔دبے ہوئےآدمی نے بڑی مشکل سے کہا۔مالی افسوس ظاہر کرتا ہوا وہاں سے ہٹ گیا۔تیسرے دن ہارٹی کلچرل ڈپارٹمنٹ سے جواب آ گیا۔ بڑا کڑا جواب تھا، اورطنز آمیز۔ ہارٹی کلچرل ڈپارٹمنٹ کا سکریٹری ادبی مزاج کا آدمی معلوم ہوتا تھا-اس نےلکھا تھا ؛حیرت ہے، اس وقت جب ‘ درخت اگاؤ ‘ اسکیم بڑے پیمانے پر چل رہی ہیں، ہمارے ملک میں ایسے سرکاری افسر موجود ہیں جو درخت کاٹنے کا مشورہ دیتے ہیں،وہ بھی ایک پھل دار درخت کو!اور پھر جامن کے درخت کو! جس کا پھل عوام بڑی رغبت سےکھاتے ہیں!! ہمارا محکمہ کسی حالت میں اس پھل دار درخت کو کاٹنے کی اجازت نہیں دےسکتا۔اب کیا کیا جائے؟ ایک منچلے نے کہا۔اگر درخت کاٹا نہیں جا سکتا تو اس آدمی کو کاٹ‌کر نکال لیاجائے! یہ دیکھیے، اسی آدمی نے اشارے سے بتایا۔ اگر اس آدمی کو بیچ میں سے یعنی دھڑ کے مقام سے کاٹا جائے تو آدھا آدمی ادھر سے نکل آئے‌گا اور آدھا آدمی ادھر سےباہر آ جائے‌گا، اور درخت وہیں کا وہیں رہے‌گا۔مگر اس طرح سے تو میں مر جاؤں‌گا! دبے ہوئے آدمی نے احتجاج کیا۔یہ بھی ٹھیک کہتا ہے! ایک کلرک بولا۔آدمی کو کاٹنے والی تجویز پیش کرنے والے نے پرزور احتجاج کیا،آپ جانتے نہیں ہیں۔ آج کل پلاسٹک سرجری کے ذریعے دھڑ کے مقام پر اس آدمی کو پھر سےجوڑا جا سکتا ہے۔اب فائل کو میڈیکل ڈپارٹمنٹ میں بھیج دیا گیا۔ میڈیکل ڈپارٹمنٹ نے فوراًاس پر ایکشن لیا اور جس دن فائل ملی اس نے اسی دن اس محکمے کا سب سے قابل پلاسٹک سرجن تحقیقات کےلئے بھیج دیا۔


جامن کا پیڑ پارٹ'2'افسانہ نگار کرشن چندر

 

سرجن نے دبے ہوئے آدمی کو اچھی طرح ٹٹول‌کر، اس کی صحت دیکھ‌کر، خون کا دباؤ، سانس کی آمد و رفت، دل اور پھیپھڑوں کی جانچ‌کر کے رپورٹ بھیج دی کہ، اس آدمی کا پلاسٹک سرجری کا آپریشن تو ہو سکتا ہے،لہذا یہ تجویز بھی رد کر دی گئی رات کو مالی نے دبے ہوئے آدمی کے منھ میں کھچڑی کے لقمے ڈالتے ہوئے اس کوبتایا،اب معاملہ اوپر چلا گیا ہے۔ سنا ہے کہ سکریٹریٹ کے سارے سکریٹریوں کی میٹنگ ہوگی۔ اس میں تمہارا کیس رکھا جائے‌گا۔ امید ہے سب کام ٹھیک ہو جائے‌گا۔دبا ہوا آدمی ایک آہ بھر‌کر آہستہ سے بولا- ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو‌گے لیکن خاک ہو جائیں‌گے ہم، تم کو خبر ہونے تک!مالی نے اچنبھے سے منھ میں انگلی دبائی۔ حیرت سے بولا، کیا تم شاعرہو؟دبے ہوئے آدمی نے آہستہ سے سر ہلا دیا۔دوسرے دن مالی نے چپراسی کو بتایا۔ چپراسی نے کلرک کو، اور کلرک نےہیڈکلرک کو۔ تھوڑے ہی عرصے میں سکریٹریٹ میں یہ افواہ پھیل گئی کہ دبا ہوا آدمی شاعر ہے۔بس پھر کیا تھا۔ لوگ جوق-در-جوق شاعر کو دیکھنے کے لئے آنے لگے۔ اس کی خبر شہر میں پھیل گئی۔ اور شام تک محلے-محلے سے شاعر جمع ہونا شروع ہو گئے۔سکریٹریٹ کا لان بھانت-بھانت کے شاعروں سے بھر گیا۔ سکریٹریٹ کے کئی کلرک اورانڈر-سکریٹری تک، جن کو ادب اور شاعری سے لگاؤ تھا، رک گئے۔کچھ شاعر دبے ہوئےآدمی کو اپنی غزلیں اور نظمیں سنانے لگے۔



کئی کلرک اس سے اپنی غزلوں پر اصلاح لینےکے لئے مصر ہونے لگے۔جب یہ پتہ چلا کہ دبا ہوا آدمی شاعر ہے تو سکریٹریٹ کی سب-کمیٹی نےفیصلہ کیا کہ چونکہ دبا ہوا آدمی ایک شاعر ہے لہذا اس فائل کا تعلق نہ ایگریکلچرل ڈپارٹمنٹ سے ہے، نہ ہارٹی کلچرل ڈپارٹمنٹ سے بلکہ صرف اور صرف کلچرل ڈپارٹمنٹ سے ہے۔پہلے کلچرل ڈپارٹمنٹ سے استدعا کی گئی کہ جلد سے جلد اس معاملے کا فیصلہ کرکےبدنصیب شاعر کو اس شجرسایہ دار سے رہائی دلائی جائے۔فائل کلچرل ڈپارٹمنٹ کے مختلف شعبوں سے گزرتی ہوئی ادبی اکادمی کے سکریٹری کے پاس پہنچی۔ بیچارا سکریٹری اسی وقت اپنی گاڑی میں سوار ہوکر سکریٹریٹ پہنچااور دبے ہوئے آدمی سے انٹرویو لینے لگا۔تم شاعر ہو؟اس نے پوچھاجی ہاں۔دبے ہوئے آدمی نےجواب دیا۔کیا تخلص کرتے ہو؟عبث۔عبث! سکریٹری زور سے چیخا۔کیا تم وہی ہو جس کا مجموعہ کلام عبث کے پھول حال ہی میں شائع ہوا ہے؟دبے ہوئے شاعر نے اثبات میں سر ہلایا۔کیا تم ہماری اکادمی کے ممبر ہو؟ سکریٹری نے پوچھا۔نہیں!حیرت ہے! سکریٹری زور سےچیخا۔اتنا بڑا شاعر!’عبث کے پھول ‘ کا مصنف!! اور ہماری اکادمی کا ممبرنہیں ہے! اف، اف کیسی غلطی ہو گئی ہم سے! کتنا بڑا شاعر اور کیسے گوشہ گمنامی میں دبا پڑا ہے!گوشہ گمنامی میں نہیں بلکہ ایک درخت کے نیچے دبا ہوا…براہ کرم مجھے اس درخت کے نیچے سے نکالیے۔ابھی بندوبست کرتا ہوں۔ سکریٹری فوراً بولا اور فوراً جاکر اس نے اپنے محکمہ میں رپورٹ پیش کی۔



دوسرے دن سکریٹری بھاگا-بھاگا شاعر کے پاس آیا اور بولا، مبارک ہو،مٹھائی کھلاؤ، ہماری سرکاری اکادمی نے تم کو اپنی مرکزی کمیٹی کا ممبر چن لیا ہے۔یہ لو پروانہ انتخاب!مگر مجھے اس درخت کے نیچے سے تونکالو۔دبے ہوئے آدمی نے کراہ کر کہا۔ اس کی سانس بڑی مشکل سے چل رہی تھی اور اس کی آنکھوں سے معلوم ہوتا تھا کہ وہ شدید تشنج اور کرب میں مبتلا ہے۔یہ ہم نہیں کر سکتے۔سکریٹری نے کہا۔جو ہم کر سکتے تھے وہ ہم نے کر دیا ہے۔ بلکہ ہم تو یہاں تک کر سکتےہیں کہ اگر تم مر جاؤ تو تمہاری بیوی کو وظیفہ دلا سکتے ہیں۔ اگر تم درخواست دوتو ہم یہ بھی کر سکتے ہیں۔میں ابھی زندہ ہوں۔شاعررک رک کر بولا۔مجھے زندہ رکھو۔مصیبت یہ ہے، سرکاری اکادمی کا سکریٹری ہاتھ ملتے ہوئے بولا، ہمارا محکمہ صرف کلچر سے متعلق ہے۔اس کے لئے ہم نے ‘ فاریسٹ ڈپارٹمنٹ ‘ کو لکھ دیا ہے۔ ‘ ارجنٹ ‘ لکھا ہے۔شام کو مالی نے آکر دبے ہوئے آدمی کو بتایا کہ کل فاریسٹ ڈپارٹمنٹ کے آدمی آکر اس درخت کو کاٹ دیں‌گے اور تمہاری جان بچ جائے‌گی۔مالی بہت خوش تھا کہ گو دبے ہوئے آدمی کی صحت جواب دے رہی تھی مگر وہ کسی نہ کسی طرح اپنی زندگی کے لئے لڑے جا رہا ہے۔ کل صبح تک کسی نہ کسی طرح اس کو زندہ رہنا ہے۔


دوسرے دن جب فاریسٹ ڈپارٹمنٹ کے آدمی آری-کلہاڑی لےکر پہنچے تو ان کو درخت کاٹنے سے روک دیا گیا۔ معلوم یہ ہوا کہ محکمہ خارجہ سے حکم آیا کہ اس درخت کو نہ کاٹا جائے، وجہ یہ تھی کہ اس درخت کو دس سال پہلے حکومت پی ٹونیا کے وزیراعظم نےسکریٹریٹ کے لان میں لگایا تھا۔ اب یہ درخت اگر کاٹا گیا تو اس امر کا شدیداندیشہ تھا کہ حکومت پی ٹونیا سے ہمارے تعلقات ہمیشہ کے لئے بگڑ جائیں‌گے۔مگر ایک آدمی کی جان کا سوال ہے! ایک کلرک غصے سے چلایا۔دوسری طرف دو حکومتوں کے تعلقات کا سوال ہے۔ دوسرے کلرک نے پہلے کلرک کو سمجھایا۔ اور یہ بھی توسمجھو کہ حکومت پی ٹونیا ہماری حکومت کو کتنی امداد دیتی ہے۔ کیا ہم ان کی دوستی کی خاطر ایک آدمی کی زندگی کو بھی قربان نہیں کر سکتے؟شاعر کو مر جانا چاہیے۔بلاشبہ۔انڈر سکریٹری نے سپرنٹنڈنٹ کو بتایا۔آج صبح وزیراعظم باہر-ملکوں کے دورے سے واپس آ گئے ہیں۔ آج چار بجے محکمہ خارجہ اس درخت کی فائل ان کے سامنےپیش کرے‌گا۔ جو وہ فیصلہ دیں‌گے وہی سب کو منظور ہوگا۔شام پانچ بجے خود سپرنٹنڈنٹ شاعر کی فائل لےکر اس کے پاس آیا۔ سنتےہو؟ آتے ہی خوشی سے فائل ہلاتے ہوئے چلایا، وزیراعظم نے درخت کوکاٹنے کا حکم دے دیا ہے اور اس واقعہ کی ساری بین الاقوامی ذمہ داری اپنے سر پر لےلی ہے۔ کل وہ درخت کاٹ دیا جائے‌گا اور تم اس مصیبت سے چھٹکارا حاصل کر لو‌گے۔سنتے ہو؟ آج تمہاری فائل مکمل ہوگئی! سپرنٹنڈنٹ نے شاعر کے بازو کو ہلاکر کہا۔ مگر شاعر کا ہاتھ سرد تھا۔آنکھوں کی پتلیاں بے جان تھیں اور چیونٹیوں کی ایک لمبی قطار اس کے منھ میں جا رہی تھی۔ اس کی زندگی کی فائل بھی مکمل ہو چکی تھی۔

 

 


بدھ، 14 جنوری، 2026

پاکستان میں ہاکی کے کھیل کے زوال کی دردناک کہانی



ہاکی میں پاکستان کا عروج و زوال، ایک دردناک کہانی- پاکستان نے اولمپک گیمز میں ہاکی کا گولڈ میڈل 1960کے روم اولمپکس میں پہلی بار جیتا تھا جبکہ چار بار ہالی کا ورلڈ کپ بھی جیتا ۔اس کے علاوہ چیمپئنز ٹرافی ، ایشین گیمز اور ایشیا کپ کے اعزازات بھی حاصل کئے لیکن اس کھیل میں زقال کی یہ انتہا ہے کہ پاکستان دوسری بار اولمپک گیمز ہاکی میں دوسری بار کوالیفائی نہ کرسکا ایک وقت تھا جب شکیل عباسی ہاکی کے ایک مانے ہوئے فارورڈ تھے ، اب وہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے ہاکی کو ایک کیرئر کے طور پر چن کر بڑی غلطی کی ۔37 شکیل عباسی نے تین اولمپک گیمز میں پاکستان کی نمائندگی کی ایک وقت تھا جب وہ دنیا میں ہاکی کے بہترین سنٹر فارورڈ مانے جا تے تھے اب وہ انگلینڈ ، ہالینڈ اور ملائشیا میں پروفیشنل ہاکی کھیل کر گزر بسر کر رہے ہیں ،کورونا وائرس کے دنیا بھر میں پھیلنے کی وجہ سے کھیلوں کی سرگرمیاں بھی متاثر ہیں ۔۔انہوں نے تین اولمپک گیمز کے علاوہ آٹھ چیمپئنز ٹرافی ٹورنامنٹس میں بھی حصہ لیا ۔1984 کے لاس اینجلس اولمپکس جہاں پاکستان نے آخری بار طلائی تمغہ جیتا تھا ، شکیل عباسی کے آخری اولمپکس تھے ۔انہوں نے تین سو سے زائد میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کی ۔ہاکی میں زبوں حالی کا یہ عالم ہے کہ دنیا میں صفول کی پاکستان ہاکی ٹیم اب عالمی درجہ بندی میں اٹھارہوین نمبر پر ہے ۔ ہاکی ماہرین اور شیدائیوں کی رائے میں ہاکی اب ایک مردہ کھیل ہے جو متروک ہو چکا ۔یہ کھہل اب ویںتی لیٹر پر ہے ۔ پاکستان نے 1956 کے میلبورن اولمپک گیمز میں پہلی بار ہاکی کا نقرئی تمغہ جیتا تھا اور روم میں طلائی تمغی جیت کر بھارت کا چھٹی بار مسلسل طالئی تمغہ جیتنے کا سلسلہ توڑ دیا ۔پاکستان پہلی بار سیول اولمپکس کے لئے کوالیفائی نہیں کرسکا تھا ۔ہاکی میں پاکستان کا زوال 1980 کی دہائی سے شروع ہوا تھا ، کچھ ماہرین کی رائے میں جب 1970 کی دہائی میں آسٹرو ٹرف متعارف ہوئی تو پاکستان خود کو مصنوعی ٹرف سے مانوس نہ کرسکا ۔پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں قدرتی گھاس پر ہاکی کھیلنے کے ماہر تھے ۔اب ہاکی فٹنس کا کھیل مانا جاتا ہے اور پکاستان اس معیار پر پورا نہیں اتر پارہا ۔"ہاکی کا سلطان: پاکستان کی قومی ہاکی ٹیم کی سنہری تاریخ اور زوال کا سفر"تعارف:پاکستان کی قومی ہاکی ٹیم ایک وقت میں دنیا کی سب سے مضبوط اور کامیاب ٹیم شمار ہوتی تھی۔ 20ویں صدی میں پاکستان نے عالمی سطح پر ہاکی کے میدان میں ایسے کارنامے انجام دیے جو آج بھی تاریخ کے صفحات پر سنہری حروف میں لکھے جاتے ہیں۔سنہری دور (1950 تا 1994):اولمپکس میں فتوحات:1. 1960 روم اولمپکس – گولڈ میڈل2. 1968 میکسیکو اولمپکس – گولڈ میڈل3. 1984 لاس اینجلس اولمپکس – گولڈ میڈل4. اولمپک سلور میڈلز – 1956 (میلبورن)، 1964 (ٹوکیو)، 1972 (میونخ)5. برونز میڈل – 1976 (مونٹریال)ورلڈ کپ کی کامیابیاں:1. 1971 – چیمپیئن (پہلا ورلڈ کپ – اسپین)2. 1978 – چیمپیئن (ارجنٹینا)3. 1982 – چیمپیئن (بھارت)4. 1994 – چیمپیئن (سڈنی، آسٹریلیا)پاکستان واحد ملک ہے جس نے چار مرتبہ ہاکی ورلڈ کپ جیتا – جو کہ ایک عالمی ریکارڈ ہے۔دیگر عالمی اعزازات:ایشین گیمز گولڈ میڈلز:1958، 1962، 1970، 1974، 1978، 1982، 1990چیمپیئنز ٹرافی:فاتح – 1978، 1980، 1994سلطان اذلان شاہ کپ:جیت – 1999، 2000، 2003مشہور کھلاڑی:1. سمیع اللہ خان – فلائنگ ہارس کے لقب سے مشہور2. شہباز احمد – دنیا کے بہترین فارورڈز میں شمار3. حسن سردار – مڈ فیلڈ کے سلطان4. کلیم اللہ – مشہور اسٹرائیکر5. منصور احمد – لیجنڈری گول کیپرزوال کا آغاز:1994 کے بعد پاکستان کی کارکردگی میں واضح تنزلی نظر آئی:1996 سے آج تک کوئی ورلڈ کپ یا اولمپک میڈل حاصل نہیں ہوا2016 ریو اولمپکس اور 2021 ٹوکیو اولمپکس میں کوالیفائی کرنے میں ناکامی2014 ورلڈ کپ میں آخری پوزیشن2023 ایشین گیمز میں بھی ناقصکارکردگیوجوہات:ناقص انتظامیہ اور کرپشن-جدید ہاکی کے تقاضوں سے ناواقفیت-کوچنگ اور انفراسٹرکچر کی کمی-نوجوان کھلاڑیوں میں دلچسپی کی کمی-حالیہ کوششیں اور مستقبل کی امید:پاکستان ہاکی فیڈریشن (PHF) نے نوجوان ٹیلنٹ کو فروغ دینے کے لیے اکیڈمیز قائم کیںنجی شعبے کی شراکت سے لیگ کا منصوبہ-2025 میں نیشنل ہاکی لیگ متعارف کرانے کی تیاری-دلچسپ حقائق:پاکستان نے 1978 کے ورلڈ کپ میں تمام میچز جیت کر ورلڈ کپ جیتا-1982 کے فائنل میں بھارت کو 7-1 سے شکست دی – جو کہ سب سے بڑا مارجن ہے-شہباز احمد کو دو بار ورلڈ الیون کا کپتان بنایا گیا-اختتامیہ:پاکستان ہاکی کی کہانی محض ایک کھیل کی نہیں، بلکہ ایک قوم کی فخر کی علامت ہے۔ اگرچہ آج حالات بدتر ہیں، لیکن اگر درست سمت میں اقدامات کیے جائیں تو وہ وقت دور نہیں جب سبز ہلالی پرچم ایک بار پھر ہاکی کے میدان میں سر بلند ہوگا۔



نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

بابائے جدید طبیعیات ( گلیلیوگلیلی)حصہ دوم

  گلیلیو نے 1634ء اپنی اجرام فلکی سے متعلق  کتاب  کیا شائع کی تو سارا ملک اس کے خلاف ہو گیا اور روم کی مذہبی عدالت میں اس پر مقدمہ چلایا گیا...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر