منگل، 13 جنوری، 2026

پی ٹی وی کی ایک بے مثال اداکارہ "عظمیٰ گیلانی "

 

 یہ  بڑا مشہور محاورہ  ہے قدر گوہر شاہ داند  یا بداند جوہری  ' تو  یہ    پی ٹی وی کا بلکل ابتدائ  دور تھا اور  پی ٹی وی کے  ہونہار پروڈیوسرز اور ڈائرکٹرز کو ہونہار با صلاحیت    اور تعلیم یافتہ  لڑکیوں کی تلاش تھی  ایسے میں   پی  ٹی وی کے کسی  جوہری کی نگاہ انتخاب میں عظمیٰ   گیلانی آ گئیں    اور پی ٹی وی کی  ڈرامہ انڈسٹری کو   عظمیٰ گیلانی نام  کا  گوہر مل گیا ۔یہ عظمٰی گیلانی کے کیرئر  کی  ابتداء تھی۔لیکن اصل میں تو عظمٰی گیلانی کے عظمٰی گیلانی بننے کی ابتدا تب ہوئی جب انھیں اشفاق احمد کی مقبول ترین ڈراما سیریز ’ایک محبت سو افسانے‘ کے کھیل ’نردبانِ عرفان‘ میں کمہار کی بیوی کےکردار پر گریجویٹ ایوارڈ دیا گیا۔اس مقام تک پہنچنے میں انھیں پانچ سال لگ گئے۔وہ 45 سال پر محیط اپنے کیریئر کے ساتھ، پاکستان کی ابتدائی ٹی وی اداکاراؤں میں سے ایک ہیں جنہوں نے 1964 میں پاکستان میں ٹیلی ویژن کے ابھرنے کے بعد شہرت حاصل کی انہوں نے اپنے ٹیلی ویژن کیریئر کا آغاز کرنے سے قبل 1965 میں عنایت شاہ گیلانی سے شادی کی عظمیٰ گیلانی، جو پاکستان کی سب سے کامیاب اور متاثر کن اداکاراؤں میں سے ایک ہیں، نے اپنے فنی پہلو کو تلاش کرنے کے لیے بہت کوششیں کی ہیں اور تین دہائیوں سے زیادہ عرصے تک محنت اور لگن کے ساتھ اداکاری کی ہے۔ عظمیٰ گیلانی    نے  پی ٹی وی کے مشہور ترین ڈراموں )وارث 1979(، )دہلیز 1981(، )نشیمن 1982( اور )پناہ 1981۔ افغان تنازعہ کے پس منظر میں فلمایا گیا


'پناہ'، جس میں 20 لاکھ سے زیادہ افغان مہاجرین کو پاکستان میں حفاظت کی تلاش میں دیکھا گیا، ان کی یادگار پرفارمنس میں سے ایک تھی۔ عظمیٰ کا کردار ایک افغانی خاتون کا تھا جو رہنے کے لیے جگہ تلاش کر رہی تھی۔ ملک کے ہر فرد نے اس کردار کی تعریف کی تھی، اور انہوں نے 1982 میں پاکستان کے صدر سے "پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ" حاصل کیا۔اکثر ڈراموں میں مضبوط خاتون کے کردار میں ہی نظر آتی ہیں مگر المیہ اداکاری میں بھی ان کا جواب نہیں جس میں قابل ذکر 'پناہ' ہے جو افغان مہاجرین کے اوپر تھا۔ اسی طرح اور ڈرامے، بدلتے قالب، نشیمن، پگلی، بے وارث، نیلے ہاتھ اور دیگر متعدد کلاسیک ڈراموں میں کام کیا تاہم کرئیر کے عروج میں انہیں کینسر کا بھی سامنا رہا مگر پھر بھی وہ اپنا معیار برقرار رکھنے میں کامیاب رہیں اور اب بھی وہ ٹی وی ڈراموں میں مصروف عمل ہیں۔ان کی فنی  خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے انھیں پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ دیا۔ . اُن کے والد ریاست بہاولپور کے ایک بارسوخ فرد تھے۔ پہلے بہاول پور میں قیام پزیر رہیں پھر شادی کے بعد لاہور منتقل ہوئیں۔پاکستان شوبز انڈسٹری کی لازوال اداکارہ عظمیٰ گیلانی نے سوشل میڈیا پر نئی تصاویر شیئر کر کے مداحوں کو بتا دیا کہ وہ ان دنوں کہاں ہیں۔ پاکستان میں اردو ڈرامے کی تاریخ پی ٹی وی کے ڈراموں اور پی ٹی وی کے ڈراموں کی تاریخ عظمٰی گیلانی کے نام اور کام کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی۔بلاشبہ عظمیٰ گیلانی پاکستانی شوبز انڈسٹری کا بہت بڑا نام ہیں،


 ان کے بغیر پاکستانی اردو ڈرامے کی تاریخ نامکمل ہے۔انہوں نے ڈرامہ سیریل ’قلعہ کہانی‘ سے اپنے فنی کیریئر کا آغاز کیا جبکہ اشفاق احمد کی مقبول ڈراما سیریز ’ایک محبت سو افسانے‘ کے کھیل ’نردبان عرفان‘ میں انہیں بہترین اداکارہ کے اعزاز سے نوازا گیا-عظمیٰ گیلانی خوبرو دلکش باصلاحیت   اداکارہ  تھیں جو  اپنے کرداروں کا انتخاب انتہائی چھان پھٹک کر کرتی تھیں انہوں نے امجد اسلام امجد کے مقبول ڈرامے ’وارث‘ میں بھی اداکاری کے جوہر دکھائے ہیں۔وارث ڈرامہ بھی پی ٹی وی کا یادگار ڈرامہ تھا اور اس میں عظمیٰ گیلانی کا کردار ناقابل فراموش تھا  ، رفیق وڑائچ اور یاور حیات سے ملاقات اور اشفاق احمد کی لکھی سیریز ’قلعہ کہانی‘ کے ایک کھیل ’پاداش‘ میں ہندو باندی کا کردار ملنے کے بارے میں بتاتی ہیں۔ڈرامے میں ایک جگہ جب قطب الدین ایبک گھوڑے سےگرتا ہے تو ملکہ کو بادشاہ کی موت کی خبر سنانے کے لیے باندی محل کی راہداریوں سے بھاگتی ہوئی جاتی ہے لیکن جب ملکہ تک پہنچتی ہے تو ملکہ ہیرے کی انگوٹھی چاٹ کر مر چکی ہوتی ہے، اس پر انھیں ایک دلخراش چیخ مارنی ہوتی ہے۔عظمٰی بتاتی ہیں کہ ریہرسل کے دوران چیخ کے منظر پر ایک دو بار ایسا بھی ہوا کہ سٹوڈیو کا چوکیدار بھاگا بھاگا اندر آیا اور سرا ئیکی میں بولا: ’ کیا تھی گے، اے چیک کیں ماری اے؟‘ (کیا ہوگیا ہے ،یہ چیخ کس نے ماری ہے؟)۔


پی ٹی وی کی معروف سینئر اداکارہ عظمیٰ گیلانی نے اپنے کیریئر کے عروج پر ٹی وی چھوڑنے کی اصل اور جذباتی وجہ بیان کر دی۔عظمیٰ گیلانی پاکستان کے کلاسک ڈراموں کی پہچان رہی ہیں، ان کے مقبول ترین ڈراموں میں درجنوں شاہکار شامل ہیں، وہ گزشتہ کئی سالوں سے آسٹریلیا میں مقیم ہیں۔ان دنوں عظمیٰ گیلانی پاکستان کے دورے پر ہیں، جہاں وہ مختلف ٹی وی اور ریڈیو پروگراموں میں شرکت کر رہی ہیں اور اپنے ساتھی فنکاروں سے ملاقاتیں بھی کر رہی ہیں، حال ہی میں وہ ایک پروگرام میں شریک ہوئیں، جہاں انہوں نے پہلی بار کھل کر بتایا کہ انہوں نے شوبز کو کیوں چھوڑاعظمیٰ گیلانی ڈراموں میں پھر کام کی خواہشمند، کام کیوں نہیں کر رہیں؟پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے عظمیٰ گیلانی نے بتایا کہ اشفاق احمد صاحب نے ایک بار مجھ سے کہا تھا کہ تم بہت گہرا پیار کرنے والی ہو، تم اپنے بچوں سے اتنی محبت کرتی ہو تو اُنہیں چھوڑ کیسے پاؤ گی؟ اُنہوں نے مزید کہا کہ بچوں کی محبت نے مجھے آسٹریلیا جانے پر مجبور کیا، یہ میری سب سے بڑی قربانی تھی کہ اپنے کیریئر کے عروج پر میڈیا چھوڑ کر بچوں کے پاس چلی گئی، میں نے سوچا اگر زندگی کے صرف دس سال بھی رہ جائیں، تو میں اپنے بچوں سے صرف چند دن ہی مل پاؤں گی، اس لیے میں نے فیصلہ کیا کہ میں ہمیشہ اُن کے ساتھ رہوں۔



پیر، 12 جنوری، 2026

جب میں اپنی ماں کی خواہش پروکیل بنا

 

سکرسکردو کے ایک جج صاحب  نے ایک  واقعہ سنا یا کہ میری عدالت میں ایک نوجوان وکیل تھا اس نے پی ایچ ڈی فزکس کر رکھی تھی اور وکالت کے پیشے سے منسلک تھا انتہائی زیرک تھا بات انتہائی مدلل کرتا تھا اس کی خوبی یہ تھی کہ وہ ہمیشہ مظلوم کے ساتھ کھڑا ہوتا تھا میری وہاں پوسٹنگ کے دوران میں نے اسے کبھی کوئی کیس ہارتے ہوئے نہیں دیکھا میں اس کی سچائی کا اتنا گرویدہ تھا کہ بعض دفعہ اس کی بات پر بغیر کسی دلیل کے میں فیصلہ سنا دیتا تھا اور میرا فیصلہ ٹھیک ہوتا تھا وہاں تعنیات ہر جج ہی ان کا گرویدہ تھا پوری عدالت میں سب ہی اس کا احترام کرتے تھے بعض مواقعوں پر ججز صاحبان اس سے کیس ڈسکس کر کے فیصلہ کرتے تھے میں اتنا اس کے تعلیم یافتہ ہونے کے باوجو اس فیلڈ میں آنے اور پھر جج بن جانے کی اہلیت ہونے کے باوجود وکیل رہنے کی وجہ جاننا چاہتا تھا بہت کوشش کے بعد اپنے تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر میں نے یہ سوال اس سے پوچھ ہی لیا...اس نے بتایا کہ میرے نانا انتہائی غریب تھے ان کی اولاد میں بس دو ہی بیٹیاں تھیں انہوں نے بھٹے پر محنت مزدوری کر کے اپنی بیٹیوں کو تعلیم دلوائی ان کی پرورش کی اور پھر ان کی شادیاں کیں میری والدہ کی قسمت اچھی تھی وہ گورنمنٹ سکول میں ٹیچر لگ گئیں جب کہ میری خالہ کو سرکاری ملازمت نہ مل سکی میرے نانا نے بھٹہ سے قرض لے کر اپنی بیٹیوں کی شادی کی میری والدہ نے گھریلو اخراجات سے بچت کر کے میرے نانا کی قرض اتارنے میں مدد کی


مگر پھر میرے والد صاحب نے ان کو منع کر دیا تو میرے نانا خود ہی قرض کے عوض مزدوری کرنے لگے  جب کہ دوسری طرف میری خالہ کے ہاں کوئی اولاد نہ ہوئی تو انہوں نے میری خالہ کو تنگ کرنا شروع کر دیا کئی بار مار پیٹ کر کے میری خالہ کو گھر سے نکالا گیا پھر گاؤں والوں کی مداخلت سے ان کو راضی کر کے بھیجا گیا اور تیسرے مہینے پھر وہ سسرال والوں کے ہاتھوں مار کھا کر والد کی دہلیز پر آ بیٹھیں یہاں تک کہ أخری بار جب ان کے سسرال والے ان کو لے کر گئے تو ان کے شوہر نے دوسری شادی کر لی اور میرے خالہ کو اس شرط پر ساتھ رکھنے کی ہامی بھر لی کہ گھر کے سارے اخراجات میرے نانا اٹھائیں گے میرے نانا بیٹی کا گھر بسانے کی خاطر مزید مقروض ہوتے گئے اور پھر سردیوں کی ایک دھند میں لپٹی ہوئی صبح کو جب وہ سائیکل پر جا رہے تھے تو کسی  ٹرالے کے نیچے أ گئے اور اس دنیا سے کوچ کر گئیے جب میرے نانا فوت ہوئے تو تب بھی مقروض تھے....میری والدہ نے میرے والد سے چوری اپنا زیور بیچ کر میرے نانا کے قرض ادا کئے ان کی تجہیزو تکقین کا انتظام کیا اس معاملے میں میرے دادھیال والوں نے میری والدہ سے کوئی تعاون نہ کیا یہاں تک کہ میرے والد نے بھی نہیں نانا کی وفات کے بعد میری خالہ کے سسرال والوں نے میری خالہ کو مجبور کرنا شروع کر دیا کہ وہ میری والدہ سے گھر کے اخراجات کا مطالبہ کرے میری خالہ نے انکار کر دیا تو ان کو طلاق ہو گئی


 مگر نہ تو ان کو ان کا سامان واپس کیا گیا اور نہ ہی زیور بلکہ ان کا حق مہر بھی نہ دیا گیا میری واالدہ اور خالہ کے پاس آخری سہارا قانون کا تھا اور قانون طاقتور کی باندی ھے میری والدہ اور خالہ نے ہائی کورٹ تک کیس لڑا مگر اپنا حق نہ لے سکیں اور پھر خالہ ہائی کورٹ میں کیس سنوائی کی پیشی کے بعد واپس آئیں اور خود سوزی کر لی ان کے کی تجہیزو تکفین بھی میری والدہ کے ذمہ تھی.میری والدہ نے یہ کام بھی بخوبی کیا مگر بہن کی موت کے بعد ان کا چہرہ بجھ گیا یہاں تک کہ میری کامیابی پر میری والدہ خوش نہ ہوتیں تو یہاں تک کہ جب میں نے پی ایچ ڈی کی تو میرے دور پار کے سارے رشتہ دار خوش ہوئے مگر میری ماں کے چہرے پر پہلے جیسی خوشی نہیں تھی.میں نے اس رات مصلے پر بیٹھی دعا مانگتی اپنی ماں کو اپنے سینے سے لگا لیا اور پوچھا کہ آپ کی اداسی کی وجہ کیا ہے ؟میری والدہ نے مصلے کو تہہ کیا اور کہا کہ میں چاہتی ہوں تم وکیل بنوزندگی میں پہلی بار میری والدہ نے کسی خواہش کا اظہار کیا تھا میں نے وجہ پوچھی تو میری والدہ نے الٹا سوال داغ دیا تھا کہ أپ کو پتہ ہے آپ کی خالہ نے خودکشی کیوں کی تھی میں نے کہا نہیں تو میری والدہ نے جواب دیا کہ تمہاری خالہ کے پاس وکیل کی فیس کے پیسے نہیں تھے تو وکیل نے جسم کا تقاضا کیا تھا -میری خالہ نے اس دن گھر آ کر خود کشی کر لی تھی


 اس دن میرے دل میں خواہش آئی تھی کہ میں اپنے بیٹے کو وکیل بناؤں گی ایسا وکیل جو پیسوں کے عوض جسم کا مطالبہ نہیں کرے گا ایسا وکیل جو مظلوم کو انصاف چھین کر لے دے گا مگر میں کبھی تمہارے والد اور تمہارے ڈر سے اس خواہش کا اظہار نہیں کر سکی میری والدہ نے بات مکمل کر کے رونے لگی تو میں نے ان کے قدم چومے اور وعدہ کیا کہ میں ایسا ہی وکیل بنوں گا اور پھر وکالت میں داخلہ لے لیا میرے اس فیصلے سے تمام فیملی ممبر اور دوست احباب حیران تھے مگر میری والدہ بہت خوش تھیں میں جب تک جاگ کر پڑھتا رہتا تھا میری والدہ میرے ساتھ جاگ کر أیت الکرسی پڑھ کر مجھ پر پھونکتی رہتی تھی میں نے وکالت میں بھی گولڈ میڈل لیا اور اپنی ماں کا خواب پورا کر دیا مگر افسوس کہ میری والدہ اس خواب کی تعبیر نہ دیکھ سکیں۔میں وکیل بننے کے بعد ہمیشہ سچ کے لئیے لڑا میں نے کبھی کسی ظالم کو سپورٹ نہیں کیا میں ہر کامیابی پر اپنی والدہ کی قبر پر جاتا ہوں مگر ایک عرصہ تک میری والدہ مجھے خواب میں نہیں ملیں چند ماہ پہلے میں نے ایک یتیم لڑکی کا کیس لڑا نہ صرف اس کا سامان اور حق مہر لے کر دیا بلکہ اس کے بچوں کا ماہانہ خرچ بھی لے کر دیا اس دن جب والدہ صاحبہ کی قبر پر گیا تو رات کو میری والدہ خواب میں مجھے ملیں اسی مصلے سے اٹھ کر مجھے سینے سے لگایا اور مجھ پر کچھ پڑھ کر پھونکا اس دن مجھے لگا کہ میں نے زندگی کا مقصد حاصل کر لیا ہے۔!  

اتوار، 11 جنوری، 2026

ڈولفنز اپنی ذہانت، اور بازی گری کی صلاحیتوں سے مالامال مچھلی ہے

 

برطانوی تیراک روب ہوئی نیوزی لینڈ کے نارتھ آئی لینڈ کے ساحل کے قریب اپنی بیٹی کے ساتھ پُرسکون تیراکی سے لطف اندوز ہو رہے تھے کہ اچانک سمندر نے ایک ناقابلِ یقین منظر دکھایا۔ کہیں سے ڈولفنز کا ایک غول نمودار ہوا اور انہوں نے باقاعدہ دائرہ بنا کر باپ بیٹی کو گھیر لیا، نرمی سے انہیں اپنے درمیان رکھتے ہوئے ایک جگہ محدود کر دیا۔ ہر بار جب روب باہر کی طرف تیراکی کرنے کی کوشش کرتا، دو ڈولفنز اسے واپس اندر کی طرف موڑ دیتیں—محافظ، پُرعزم، جیسے کسی ان دیکھی خطرے سے بچا رہی ہوں۔  جلد ہی اصل خطرہ سامنے آ گیا: تقریباً تین میٹر لمبی گریٹ وائٹ شارک اسی علاقے میں داخل ہو چکی تھی۔ اسی لمحے ڈولفنز کا رویہ بدل گیا۔ وہ اپنی دُم سے پانی پر زور زور سے وار کرنے لگیں، باہمی ہم آہنگی سے تیز حرکتیں کرنے لگیں اور ایک زندہ دیوار بنا لی—واضح طور پر شکاری کو ڈرانے اور دور بھگانے کے لیے۔  تقریباً چالیس منٹ تک ڈولفنز اسی حفاظتی حصار میں رہیں، اور روب اور اس کی بیٹی کو جانے نہ دیا۔ جب آخرکار شارک پیچھے ہٹ گئی، تب جا کر ڈولفنز نے دائرہ کھولا اور دونوں کو بحفاظت ساحل کی طرف جانے دیا۔یہ حیرت انگیز منظر ایک لائف گارڈ اور ساحل پر موجود کئی افراد نے بھی دیکھا۔


 یہ واقعہ اُن متعدد رپورٹس میں شامل ہو گیا ہے جو اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ ڈولفنز بعض اوقات انسانوں کو شارک کے حملوں سے بچانے کے لیے غیر معمولی دفاعی رویہ اختیار کرتی ہیں۔ڈولفن جسے عام طور پر مچھلی کہا جاتا ہے دراصل ممالیہ جانور ہیں جو اپنے آپ کو پانی میں رہنے کے لیے پوری طرح ڈھال چکے ہیں۔ ڈولفن کے گروپ میں لگ بھگ 40 انواع کے جانورشامل ہیں جن میں سمندری ڈولفن، دریائی ڈولفن اور دیگر ڈولفن شامل ہیں۔ پانی میں رہنے والے ممالیہ جانور چونکہ مچھلیوں کی طرح پانی سے آکسیجن حاصل نہیں کر سکتے اس لیے انھیں تھوڑی تھوڑی دیر بعد سانس لینے کے لیے سطح پر آنا پڑتا ہے۔وھیل اور ناروھال کی طرح ڈولفن بھی سونار (آواز) کی مدد سے شکار اور راستہ تلاش کرتی ہیں۔ڈولفنز دانتوں والی وہیلز سے تعلق رکھنے والی 44 اقسام کا ایک گروہ ہیں۔ کرۂ ارض کے تمام سمندروں میں ڈولفنز پائی جاتی ہیں۔ ڈولفنز کی بعض اقسام جنوبی ایشیا اور جنوبی امریکا کے دریاؤں کے میٹھے پانیوں میں رہتی ہیں۔ ڈالفنز کی سب سے بڑی قسم (اوکرا) 30 فٹ سے بھی زیادہ لمبی ہو سکتی ہے جبکہ سب سے چھوٹی، ہیکٹرز ڈولفن، صرف ساڑھے چار فٹ لمبی ہوتی ہے۔


ڈولفنز اپنی ذہانت، غول میں رہنے کی فطرت اور بازی گری کی صلاحیتوں کی وجہ سے جانی مانی ہیں۔ لیکن ان میں ایسی صلاحیتیں بھی پائی جاتی ہیں جن کے بارے میں کم لوگ جانتے ہیں اور یہی ایک ڈولفن کو ڈولفن بناتی ہیں۔ ڈولفنز چھوٹے دانتوں والی فیل ماہی (Cetaceans) ہیں۔ یہ بحری میملز کا وہ گروہ ہیں جو زمینی میملز سے ارتقا پذیر ہوا۔ ڈولفنز کی خمیدہ ’’چونچ‘‘ کو دیکھ کر لگتا ہے جیسے وہ ہر وقت مسکراتی رہتی ہیں۔ ڈولفنز ان جانوروں سے ارتقا پذیر ہوئیں جن کی ٹانگیں جسم کے نیچے تھیں، اسی لیے ڈولفنز کی دُم تیرتے ہوئے اوپر نیچے حرکت کرتی ہے جبکہ مچھلیوں کی دم دائیں بائیں حرکت کرتی ہے۔ دانتوں والی دیگر وہیلز کی طرح ان میں سونگھنے کی استعداد کم ہوتی ہے۔ان کی بعض اقسام میں 130 تک دانت ہوتے ہیں۔ ڈولفنز دنیا کے تمام بحروں اور بحیروں میں پائی جاتی ہیں۔ ان میں سمندری ساحلی اور کم گہرے پانیوں کے علاقے بھی شامل ہیں۔ اگرچہ زیادہ تر ڈولفنز نسبتاً گرم، منطقہ حاری یا معتدل پانیوں میں رہنا پسند کرتی ہیں لیکن ایک قسم، اوکرا (جسے بعض اوقات کِلر وہیل بھی کہا جاتا ہے) بحر قطب شمالی اور بحر شمالی انٹارکٹیکا دونوں میں رہتی ہے۔ ڈولفن کی پانچ اقسام تازہ اور قدرے نمکین پانی کو ترجیح دیتی ہیں اور یہ براعظم جنوبی امریکا اور جنوبی ایشیا میں رہتی ہیں (اور ان میں دریائے سندھ میں پائی جانے والی اندھی ڈولفن ’’بلہن‘‘ بھی شامل ہے)۔ڈولفنز گوشت خور ہیں۔ یہ شکار کو اپنے مضبوط دانتوں سے پکڑتی ہیں، اس کے بعد اسے یا تو نگل لیتی ہیں یا چیر پھاڑ کر چھوٹے ٹکڑے کر دیتی ہیں۔


یہ نسبتاً کم کھاتی ہیں، مثال کے طور پر باٹل نوز ڈولفن اپنے وزن کا تقریباً پانچ فیصد روزانہ کھاتی ہے۔ ڈولفنز کی بہت سی اقسام کھانے کی تلاش کیلئے ہجرت کرتی ہیں۔ یہ بہت طرح کے جانور کھاتی ہیں جن میں مچھلیاں، قیر ماہی (Squid)، قشری، جھینگے اور آکٹوپس شامل ہیں۔ بڑی اوکرا ڈولفن بحری میملز جیسا کہ سِیل اور بحری پرندے جیسا کہ پینگوئن بھی کھاتی ہے۔ ڈولفن کی بہت سی اقسام گروہ کی صورت میں مچھلیوں کو نرغے میں لیتی ہیں۔ یہ ماہی گیروں کی کشتیوں کا بھی پیچھا کرتی ہیں تاکہ ان کی پھینکی ہوئی ’’بے کار اشیا‘‘ کھا سکیں۔ زیادہ تر ڈولفنز پانچ سے آٹھ برس کی عمر میں بالغ ہو جاتی ہیں۔ ڈولفن ایک سے چھ سالوں میں ایک بچہ دیتی ہیں اور اسے دودھ بھی پلاتی ہیں۔ بچہ 11 سے 17 ماہ ماں کے پیٹ میں رہتا ہے۔ اس عرصے کی طوالت پر مقام کا اثر بھی پڑتا ہے۔ پیدائش پر بچے 35-40 انچ لمبے ہوتے ہیں اور ان کا وزن 23 سے 65 پاؤنڈز ہوتا ہے۔ ماں فوراً اپنے بچے کو سطح آب پر لے آتی ہے تاکہ وہ سانس لے سکے۔ بچہ اپنے والدین سے مختلف ہوتا ہے۔ اس کی جِلد گہرے رنگ کی ہوتی ہے جس پر ہلکے نشانات ہوتے ہیں جو وقت کے ساتھ مٹتے جاتے ہیں۔۔ بچہ فوراً تیرنے کے قابل ہوتا ہے لیکن اسے غول کے تحفظ کی ضرورت ہوتی ہے۔ 

تربیلا ، ورسک اور منگلا ڈیم کے ڈیزائنر،مہتاب خان

 


مہتاب خان (مرحوم)،،،!!! (مغربی پاکستان کے پہلے چیف-(سول) انجینئر،، تربیلا ، ورسک اور منگلا ڈیم کے ڈیزائنر،، صدارتی ایوارڈ،، تمغہء امتیاز،، گولڈ میڈلسٹ)


مہتاب خان مرحوم کی زندگی نوجوانوں کیلئے ہر لحاظ سے فقید المثال ہے ،،، نہایت ہی غربت ،، پسماندگی اور نامساعد حالات میں پیدا ہونے والے مہتاب خان کے دور میں شاہڈھیرئ گاؤں اسکول نام کی چیز سے نا آشنا تھا!پر گاؤں میں اسکول کی عدم موجودگی اور غربت اس مردآہن کے راستے کی دیوار نہیں بن پائیں،، پڑھنے لکھنے کا شوق تھا،،لگن تھی،، لہذا اپنی علمی پیاس بجھانے اور جہالت کی تاریکیوں کو چھیرنے کے سفر پر نکلے اور ودودیہ اسکول سیدو شریف میں داخلہ لیا،،، جبکہ اسکول کے قریب رہنے کی غرض سے کانجو میں ایک مسجد میں رہائش اختیار کرلی،! پر مسجد کے طلباء کا رویہ ان کے ساتھ کافی سوتیلا تھا،، کیونکہ ان کی نظر میں وہ اللہ کے گھر میں بیٹھ کر انگریزوں کی کتابیں پڑھتے تھے،،!! وہ محلہ بھر کی مساجد سے "وظیفے" اکھٹے کرکے ادھر مسجد میں ہی کھا لیتے،، لیکن پھر مسجد کے طلباء نے انگریزی تعلیم کی وجہ سے ان کا سوشل بائیکاٹ کردیا،، اور انہیں ساتھ کھانے سے بیدخل کر دیا!مسجد میں ان کی زندگی کافی مشکل ہوگئ تھی،، لہذا وہاں سے نکل انہوں نے علیگرامہ میں ایک مشہور و معروف شخص کے ڈیرے  حجرے پر رہائش اختیار کرلی،، جہاں انہیں رات کو دیا جلاکر پڑھنے کی عیاشی میسر تھی،ودودیہ اسکول سیدو شریف سے مڈل پاس کرنے کے بعد انہوں نے تھانہ ہائی اسکول میں داخلہ لیا،، یہ انگریزوں کا دور تھا،، اور تھا نہ کے خوانین (خانان) کے بچوں کو پولیٹیکل ایجنٹ انتظامیہ کی طرف سے اسکالر شپ ملتا،،!! مہتاب خان کی زندگی بڑی مشکل تھی،، اور آگے اندھیرا تھا کہ ان حالات میں پڑھائی کیسے جاری رکھیں گے


،،!خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ ان دنوں ان خوانین کے بچوں نے کسی بات پر ہڑتال کرکے اسکول کا بائیکاٹ کر دیا،، بس یہ مہتاب خان کی زندگی میں ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا!اسکول کے انگریز پرنسپل نے اپنے بڑوں کو تجویز دیدی کہ اس دفعہ وہ اسکالر شپ کی رقم ایک غریب مگر ہونہار طالب علم کو دینا چاہتا ہے! پرنسپل کو اجازت مل گئ،، لہذا اس نے مہتاب خان کو اپنے دفتر میں بلاکر اسے جھولی پھیلانے کو کہا!مہتاب خان نے جھولی دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر پھیلائی،، اور انگریز پرنسپل اس کی جھولی میں سکے ڈالنے لگا،، مہتاب خان کے بقول سکے اتنے زیادہ تھے،، کہ ان کیلئے اپنی جھولی کو سنبھالنا مشکل ہوگیا،!اب رقم ہاتھ تو آگئ تھی،، پر اسے سنبھال کر رکھنے کا مرحلہ درپیش تھا،، اس کا حل یہ نکالا کہ مہتاب خان مرحوم نے تھانہ بازار میں ایک دکاندار سے بات کی،، رقم اس کے پاس امانتا رکھوائی،، اس شرط پہ کہ جب اسے رقم کی ضرورت ہوگی،، وہ تھوڑی تھوڑی لیا کریں گے،،!!اس زمانے میں پشاور بورڈ کا قیام عمل میں نہیں آیاتھا اور لاہور تعلیمی بورڈ تھا،، مہتاب خان نے میٹرک امتیازی پوزیشن سے پاس کیا،میٹرک کرنے کے بعد مہتاب خان کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ آیا ان کی تعلیم مکمل ہوگئ ہے،، یا آگے پڑھنا ہے،، اسکول کے پرنسپل نے ان کی رہنمائی کرکے بتایا کہ آگے اور پڑھنا ہے،! میٹرک میں نمایاں کامیابی کے بعد مہتاب خان کا نام کافی مشہور ہوگیا،، 


 اسلامیہ کالج پشاور کے انگریز پرنسپل تک بھی بات پہنچ گئ،، جو بڑی بےتابی سے اس نوجوان سے رابطہ کرنے کی کوشش میں لگ گئے!ان دنوں دیولئ گاؤں کے منجور خان (مرحوم) کسی کام سے پشاور گئے تھے،، وہاں پرنسپل کو پتہ چلا کہ ایک ایسا شخص سوات سے آیا ہے،، جو مہتاب خان کو جانتا ہے،،!!پرنسپل صاحب نے اسی وقت مہتاب خان کے نام ایک خط لکھ کر مرحوم و مغفور منجور خان کے ہاتھ ارسال کیا،،!! مہتاب خان کے بقول وہ اس وقت ہیدل نواں کلی (نویکلے) کی چڑھائی اتر رہےتھے کہ منجور خان کا وہاں سے گذر ہوا،، مہتاب خان پر نظر پڑتے ہی تانگہ رکوایا،، اور انہیں پاس بلاکر خط حوالے کردیا،،!! مہتاب خان کے بقول انہوں نے ادھر کھڑے کھڑے وہ خط پڑھا،، اور پڑھنے کے بعد ان پر سرور و دیوانگی کی سی کیفیت طاری ہوگئ،، اور وہیں سڑک پہ کھڑے کھڑے دیوانہ وار اچھلنے لگا،،،!!سکالر شپ ملنے کے بعد مہتاب خان نے اسلامیہ کالج پشاور سے نمایاں پوزیشن میں بی ایس سی کیا،،، اس کے بعد علیگڑھ کالج (انڈیا) سے ایم ایس سی (ریاضی) کیا ،، بعد میں انہوں نے سول انجینئرنگ (بیچلر) کی ڈگری حاصل کی!اسی دوران دوسری جنگ عظیم چھڑ گئ،، اور برطانوی راج کو نوجوان پائلٹوں کی ضرورت پیش آگئ،، جس کا حل یہ نکالا گیا کہ انجنئرنگ کے طلباء کو جہاز اڑانے کی تربیت دی جائے،، ان میں مہتاب خان بھی شامل تھے،، انہوں نے تین مہینے تک پائلٹ کی ٹریننگ لیکر کچھ عرصہ کیلئے جنگی جہاز بھی اڑایا،،!!


اس کے علاوہ انہوں نے ایل ایل بی بھی کیا تھا،،،!!جب انہوں نے سول انجینئرنگ (بیچلر) کی ڈگری مکمل کی،، تو اس وقت امریکہ کی طرف سے سالانی ایک طالب علم کو فل پیڈ اسکالر شپ دی جاتی تھی،، اس سال یہ اسکالر شپ مہتاب خان کو ملی،، اس طرح وہ امریکہ چلے گئے،، اور ٹیکساس یونیورسٹی سے ماسٹر (سول انجینئرنگ ) کی ڈگری حا صل کی،،تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ امریکہ میں رہنے کے  بجائے اپنے وطن کی خدمت کیلئے واپس آگئے،،تب سوات کے شاہی خاندان کی جانب سے انہیں جاب کی آفر مل گئ،، لیکن اس وقت ایک انگریز انجینئر نے انہیں مشورہ دیا کہ سوات میں وہ ضائع ہوجائینگے،، کیونکہ علاقہ محدود اور مواقع گنتی کے ہیں،، اس انگریز نے انہیں سول انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ میں ایس ڈی او کا عہدہ پیش کیا،مہتاب خان نے یہ پیشکش قبول کرلی،،  جس کے بعد کامیابیوں نے ان کے قدم چومے اور زندگی بھر ہم رکاب رہیں 

یہہ کلی بھی اس گلستان خزاں منظر میں تھی

ایسی چنگاری بھی یارب اپنی خاکستر میں تھی

یہ تحریر میں نے اپنی فیس بک سے عاریتاً لی ہے 

ہفتہ، 10 جنوری، 2026

سلفر (گندھک)انسان کے لئے کیوں ضروری ہے

 

ہو تمام  دینا کے مشہور و معرو   ف      ہومیوپیتھک کے  ڈاکٹر ہنیمین کہتے ہیں کہ سلفر ایک  (NoN-Matalic)پیلے رنگ کا پتھر ہے۔ 2؍ہزار سال پہلے یہ انسانی جلد پر کھجلی کے مرض میں استعمال ہوتا تھا اور آج بھی ہوتا ہے۔ حکمت میں اس کا پوڈر اور مرہم بناکر استعمال کیا جاتا ہے۔ مجھے یاد ہے بچپن میں سلفر کی ڈلی پانی کے مٹکے میں ڈال دیا کرتے تھے تاکہ جراثیم مر جائیں۔ آج کل یہ کام نہیں ہوتا۔ ڈاکٹر ہنیمین کے مطابق گرمی دانوں کو اگر کھجالیا جائے تو شدید جلن محسوس ہو تی ہے۔ اس مرض کو (PROM)کا نام دیا گیا ہے اور سلفر کو (Anti Proma)دوا کہا گیا مزید یہ کہ اس کو باریک پیس کر Liquid میں تبدیل کیا گیا پھر مختلف طاقت کی پوٹینسی بناکر صحت مند انسانوں پر تجربات کیے گئے ۔ ریسرچ سے پتہ چلا کہ دو سو سے زائد امراض میں سلفر کا ایک اہم مقام ہے اس کا تمامتر کریڈٹ ڈاکٹر ہنیمین کو جاتا ہے۔ آج ساری دنیا میں ہومیوپیتھک کو (Altenat Systam)تسلیم کیا جاتا ہے۔ڈاکٹر J.T.Kentایک بڑا نام ہے آپ کہتے ہیں کہ سلفر کی خوبیوں کا شمارا ایک مشکل کام ہے آگے کہتے ہیں تمام بیماریوں میں اس کو پسندیدیگی سے دیکھا جاتا ہے اور اچھے نتائج حاصل کیے جاتے ہیں۔ ڈاککہتے ہیں سلفر کا مریض دبلا پتلا ہوتا ہے اور ہمیشہ بھوک محسوس کرتا ہے لیکن جب کھانا سامنے آجائے تو بھوک ختم ہو جاتی ہے۔ ذہنی کیفیات کچھ اس طرح ہیں کہ اکیلا رہنا اچھا لگتاہے۔ ہومیو پیتھک کے ایک اور نامی گرامی ڈاکٹرجان ہنری اپنی کتاب (A ditionery of Prictud Matamia Modia)جس کی تین جلدی ہیں۔ سلفر کے معجزات، کمالات اور علامات کو بڑی تفصیل سے روشنی ڈالی ہے


۔ ذہنی کیفیات       میں         غصہ، رنج و غم، حسد، جلن، لالچ، ٹینشن، رونا دھونا، خوف و ڈر وغیرہ کی کیفیات معالج کو معلوم ہوں تو صحیح دوا تجویز کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔مزید یہ کہ آنکھ کا دھندلاپن،ایک حرف کے دو نظر آئیں جس کو (Mapia)کہتے ہیں سفیدپانی (Cataect) کہتے ہیں کان کا درد، سیپ، بہرہ پن کھجلی وغیرہ ناک بہنا، چھینکیں، ناک بند ہوتے میں منہ سے سانس لی جائے۔۔ صبح 10یا 11بجے جی مالش، ڈکاریں، اُلٹی، تلی اورجگر میں درد، (Stool)کالے رنگ کا ساتھ خون آنا، پیٹ میں مروڑ، قبض، پیشاب کی بیماریاں(Prostate)بڑھا ہوا۔ بدبو، سرخ سفید ذرات، شوگر پیشاب میںآنا وغیرہ۔ شامل ہیں۔ بخار میں مفید ہے جبکہ جلدی امراض کو ختم کرتی ہے۔ سلفر کے ساتھ کچھ اچھے (Combination)میں جیسے (سلفر Hydrogenisatum) آکسیجن کی کمی، دم گھٹنا (Tetamm) پرانا بخار (Sulphur to datum) 40سے زائد بیماریوں کا علاج ہوتا ہے۔ جن میں کان میں آوازیں آنا، خارش پیپ (Eczama)داد، سانس کی تکلیف(Quflnanza)چھینکیں، درد دل اورگردوں میں درد، دل کے بڑھ جانے کی بیماری وغیرہ شامل ہیں۔ اُردو زبان میں ڈاکٹر ولیم بورک کی اہم کتاب (Mataria Media)کا ترجمہ ڈاکٹر احمد عسکری نے بڑی محنت سے کیا ہے مارکیٹ میں موجود ہے خرید یں اور فائدہ اٹھائیں۔-تبلیسی، جارجیا کا دل ہے، جبکہ سلفر حمام روایتی، آرام دہ تجربہ فراہم کرتے ہیں۔ کیونکہ  یہاں کے گرم حمام میں غسل لینے کے بعد سیاحوں کو نئ چستی اور توانائ ملتی  ہے۔کوئٹہ جسے مقامی افراد سندھی میں ’’ٹھار لا کھا ٹھار‘‘بھی کہتے ہیں ،



اس چشمے کا ماخذ پیر لا کھو کا مزار ہے جس کیساتھ پتھروں سے بنی ہوئی ایک مسجد بھی ہے ۔ تحقیق کے مطابق یہ چشمہ بلند پہاڑی سلسلوں سے پھوٹتا ہے جہاں سے سلفر کی کچھ مقدار پانی میں شامل ہوتی رہتی ہے ، اس پانی میں نہانے سے یہ سلفر انسانی جلد میں داخل اور آکسی ڈائزڈ ہو کر الرجی کے امراض کی شفا کا باعث بنتاہے ۔مشرقی سعودی عرب میں قطیف گورنری کے مغربی کنارے پر کھجور کے باغات اور بادام کے درختوں کا جنگل ہوا کرتا تھا۔ وہاں پرانے وقتوں میں ایک "حمام" بنایا گیا جس کے اوپر بادام کی شکل کا گنبد تھا۔ اس کے چاروں طرف بادام کے درخت آج بھی پھیلے ہوئے ہیں۔ اسے’حمام ابو لوزہ‘ کا نام دیا جاتا ہے۔ سردیوں میں صدف کے متلاشی مچھیرے شکار چھوڑ کر اس کے چشمےکو صاف کرنے کے لیے جاتے۔ابو لوزہ‘ کا قدیم حمام تاریخی ورثے کی علامت، فن تعمیر اور تخلیقی صلاحیتوں کا شاہکار ہے۔ اس کے علاوہ یہ قطیف گورنری کے اہم ترین سیاحتی مقامات میں سے ایک ہے۔حمام اس وقت وزارتِ ثقافت کی ہیریٹیج اتھارٹی کے ذریعے مرمت اور بحالی کے مراحل سے گذر رہا ہے۔ عین ابو لوزا کے قریب "سلفر" گرم چشمہ ہے جس کا پانی ماضی میں جلد کی بیماریوں اور جوڑوں کے درد کے علاج کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔

اب ہم کراچی کے سلفر حماموں کی بات کریں گے-منگھوپیر کی درگاہ کے قریب ٹھنڈے اور گرم پانی کے دو الگ الگ چشمے ہیں اور یہاں سے آگے آدھے میل کے فاصلے پر حضرت جلیل شاہ ؒ کی درگاہ کے قریب دو اور گرم پانی کے چشمے موجود ہیں۔ ماما پارسی نے ان چشموں کے پانی کو ایک جگہ جمع کر کے اُس میں ہر خاص و عام کے نہانےکےلئے دو کشتیاں (پکے حوض) بنوائے یوں انہیں ماما باتھ بھی کہا جانے لگا۔ چشموں کے اس پانی میں گندھک و دیگر معدنی اثرات ہیں ،جس سے جلدی بیماریوں کے مریضوں کو خصوصی طور پر شفا ملتی ہے۔ آسومل نے اس پر فضا مقام پر ہفتہ بھر ٹھہرنے کے خواہش مند افراد کیلئے ایک لانڈھی (سرائے کو مقامی زبان میں لانڈھی کہا جاتا ہے) تعمیر کروائی، جہاں دوچار بستر اور کچھ ضروری سامان بھی موجود ہوتا۔ یہ تمام سہولتیں بلامعاوضہ ہوتیں۔ یہاں گرم چشموں کے ساتھ، سادھو ہیرا نند جذام ہسپتال بھی ہے جہاں کوڑھ اور جذام کے مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے۔


یہ تھی کراچی سے نو دس میل کی طویل دُوری پر موجود بستی ’’منگھو پیر‘‘ کی کہانی۔ جس کی اپنی ایک تاریخ تھی۔ جو زمانے کے سرد و گرم سہتے یا حادثوں کی نذر ہو کر بالکل ناپید ہو گئی۔ اب ٹرانسپورٹ کی سہولت نے فاصلے سمیٹ لئے اور طویل دُوری گھنٹے بھر کی مسافت رہ گئی تو شہر کے لوگ تفریح کرنے یہاں چلے آتے ہیں۔ ان میں سے شاید کسی کو اس بستی کی تاریخ جاننے کی جستجو رہی نہ ضرورت کہ یہ تاریخی اور نادر خزانہ کسی کےلئے مادی منفعت کا ذریعہ نہیں بن سکتا۔

جمعہ، 9 جنوری، 2026

محل علی قاپو 'اصفہان

 

 

اصفہان   شہر کے  لئے دنیا بھر میں ایک مشہور  کہاوت مانی جاتی ہے کہ اصفہان نصف جہان ۔کیو نکہ  قدیم قدرتی علاقوں کے ساتھ سینکڑوں اور ہزاروں سال پرانا  اور چھ ہزار سے زیادہ تاریخی یادگاروں  سے سجا ہوا   ایران  کی سر زمین پر مثل ایک نگینہ ہے۔تاریخی یادگاروں اور دستکاری کی بے مثال قسم جو صدیوں سے اس صوبے کے مختلف حصوں میں نسل در نسل گزرتی رہی ہے اور آج  دنیا  کے لئے  ایک قیمتی ورثہ کی حیثیت سے  ہے ، اصفہان   ایک فنکارانہ ، تاریخی اور قدرتی میوزیم  جیسا شہر ہے۔ اس  شہر کی سیاحت کا   دنیا بھر میں ثقافت سے محبت کرنے والے سیاحوں کا خواب ہے۔  آباؤ اجداد کی یادگاریں تاریخی اور ثقافتی وجود کا نتیجہ ہیں ، جن میں سے بیشتر تیسری صدی قبل مسیح کی تاریخ ہیں۔ اس شہر میں قدیم قبائلیوں کے لئے مٹی اور مٹی کے برتنوں سے بنا ہوا زیگ گورٹ یا عبادت گاہ ہے۔ یہ تاریخی یادگار 1310 ء میں آثار قدیمہ کی کھدائی کے بعد دریافت ہوئی تھی۔قدیم ریشم پہاڑی کے کھنڈرات میں کئی قدیم آثار ملے ہیں ، جو فرانس کے لوور میوزیم ، ایران کے نیشنل میوزیم ، فنن گارڈن میوزیم اور قدیم عمارت کے  ایک میوزیم میں رکھے گئے ہیں۔زمین اور ان پہاڑیوں کے آس پاس کئی ہزار سال قدیم برتنوں کی موجودگی سے پتہ چلتا ہے کہ ہزاروں سال قبل انسان اس علاقے میں رہتا تھا۔اصفہان کی تاریخی عمارتوں کی لمبی تاریخ اور قیمتی فن تعمیر نے بھی خطے کی کچھ تاریخی یادگاروں کو بنایا ہے ،محل علی قاپو اس وقت یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثہ   میں شامل ہو چکا ہے 


نقش جہاں اسکوائر شہر اصفہان کا ایک بہت بڑا مستطیل مربع ہے جو صفوی دور سے عمارتوں سے گھرا ہوا ہے۔     اس کی جدید شکل میں میدان شاہ عباس  کے دور میں قائم ہوا تھا۔ماضی میں ، یہ چوک مختلف رسومات اور پولو گیمز کے انعقاد کے لئے ایک جگہ تھا ، لیکن آج یہ ایک عوامی تعلق اور نماز جمعہ کے انعقاد اور قومی اور مذہبی رسومات کی جگہ بن گیا ہے۔نغش جہاں جہاں اسکوائر کی تاریخی عمارتوں میں عالی قپو ، عباسی گرینڈ مسجد ، شیخ لوطفلہ اللہ مسجد اور قیصرگیٹ شامل ہیں۔ اس عمارت کے  آس پاس دو سو  کمرے موجود ہیں ، جو اصفہان کے دستکاری اور تحائف کی فراہمی کے مقامات ہیں۔* اصفہان کی تاریخی مساجد   بھی شامل ہیں جو اس صوبے کے مختلف شہروں میں بکھری ہوئی ہیں۔ 'شیخ لوطف اللہ مسجد' اصفہان کی ایک انتہائی خوبصورت تاریخی یادگار میں سے ایک ہے ، جو ہر دیکھنے والے کو حیرت میں ڈال دیتی ہے اور ان کی تعریف کرتی ہے۔اصفہان گرینڈ مسجد اسلام کے بعد کے عہد کی عمارتوں اور فن پاروں کا ایک مجموعہ ہے جس میں بہت سارے لوگوں کے آثار شامل ہیں اور ایک ہزار سالوں میں ایران کی تاریخ میں اسلامی دور کی کچھ تعمیراتی پیشرفتوں کو دکھایا گیا ہے۔ الجائیتو التار جو اس مسجد میں واقع ہے ، بیڈنگ آرٹ کے شاہکاروں میں سے ایک ہے۔عظمت ، فن تعمیر اور سجاوٹ کے لحاظ سے 'امام مسجد' اصفہان میں واقع سب سے اہم صفوید مسجد بھی ہے۔



                 اردستان گرینڈ مسجد ایران کی قدیم مساجد میں سے ایک ہے ، اور اس کی اصل عمارت ابتدائی اسلامی صدیوں کی ہے۔'زوارہ گرینڈ مسجد' ، ارڈسٹن کے شمال مشرق میں 15 کلومیٹر شمال میں ، سلجوق کے دور میں تعمیر ہونے والی ایران کی پہلی چار پورچ مسجد ہے ، اور 'گولپیگن گرینڈ مسجد' سلجوق دور کے ایک قابل قدر کام ہے۔اونج گاؤں ، پوڈھے ، ساروار اور عباسی گاؤں ، حکیم ، جمعہ ، ہوجات السلام اور  مساجد میں جامع مساجد کی تعمیر اصفہان فن تعمیر کے دیگر تاریخی اور قیمتی کام ہیں۔* آگ کے مندر اور گرجا گھرآگ مندروں اور بہت سے تاریخی گرجا گھروں کو دوسرے مذاہب کی عبادت گاہوں کے طور پر بھی سمجھا جاتا ہے ، جس میں صوبہ اصفہان کے تاریخی پرکشش مقامات شامل ہیں۔ ہگوپ چرچ پہلا آرمینیائی چرچ تھا جو جولفا ، اصفہان میں تعمیر ہوا تھا ، لیکن فن تعمیر اور مصوری کی آرائش کے معاملے میں جولفا کا سب سے مشہور تاریخی چرچ چرچ آف سان ہے ، جسے چرچ آف وانک کے نام سے جانا جاتا ہے اور اس کی بنیاد 1065 ء میں رکھی گئی تھی۔شاہ عباس اول کے دور کے بعد جولفا کا سب سے اہم تاریخی چرچ 'بیدخم' یا 'بیت الہم' کا مشہور چرچ ہے جو جولافا اسکوائر میں واقع ہے اور مریم چرچ سے ملحق ہے۔"پتھر ماؤنٹین فائر ٹیمپل" بھی اصفہان کے قدیم ورثہ میں سے ایک ہے ، جس کی باقیات اب 1680 میٹر پر پتھر پہاڑ میں دکھائی دیتی ہیں۔'نیاسر کا قدیم آگ مندر' نیلے رنگ کے بہار کے ساتھ ہی نائسار ہال نامی ایک اونچی چٹان پر بھی کھڑا ہے 

 



عالمی شہرت کے حامل صوبہ اصفہان کے شاندار باغات بھی اس خطے کے دیگر قیمتی کاموں میں شامل ہیں اور ہمیشہ سیاحوں کی توجہ مبذول کراتے ہیں ۔'فور گارڈن' مختلف باغات کا ایک بہت بڑا اور خوبصورت مجموعہ ہے ، جن میں سے کچھ ابھی بھی کھڑے ہیں۔* مینارخصوصی فن تعمیر کے ساتھ پرانے مینار صوبہ اصفہان کی دوسری تاریخی کشش ہیں۔ محل   عالی قاپو اصفہان، ایران میں ایک شاہی محل ہے۔  یہ محل صفوی خاندان کے ایرانی شہنشاہوں کی سرکاری رہائش گاہ کے طور پر کام کرتا تھا۔  یونیسکو نے اس محل اور اسکوائر کو اس کی ثقافتی اور تاریخی اہمیت کی وجہ سے عالمی ثقافتی ورثہ کے طور پر لکھا ہے۔  محل اڑتالیس میٹر اونچا ہے اور چھ منزلیں ہیں، ہر ایک منزل سیڑھی سے قابل رسائی ہے۔  چھٹی منزل، میوزک ہال میں، دیواروں میں گہرے سرکلر طاق پائے جاتے ہیں، جو نہ صرف جمالیاتی قدر رکھتے ہیں، بلکہ صوتی بھی ہیں۔  علی قاپو کو صفوی فن تعمیر کا بہترین نمونہ اور ایران کے اسلامی ورثے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔اصفہان کا میدان نقش جہاں اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی حیثیت رکھتا ہے۔ علاوہ ازیں شہر میں 11 ویں سے 19 ویں صدی کے دوران میں اسلامی طرز تعمیر کے شاندار نمونے بھی موجود ہیں۔  یہ شہر خوبصورت اسلامی طرز تعمیر کی عمارات، محلات، مساجد اور میناروں کے باعث دنیا بھر میں معروف ہے۔ یہاں ایران کے تمام شہروں سے زیادہ سیاح آتے ہیں۔علاوہ ازیں اصفہان اپنے خوبصورت قالینوں کے حوالے سے بھی جانا جاتا ہے۔ آج کل اصفہان کی صنعتیں قالین، کپڑے کی مصنوعات، لوہا اور ہاتھ سے بنی اشیاء تیار کرتی ہیں۔ یہاں کارخانوں کی کل تعداد 2 ہزار سے زیادہ ہے۔

جمعرات، 8 جنوری، 2026

سبیل حسین'پیاسوں کی داستاں ہے

  سات محرم الحرام کے روز یزیدی فوج نے کربلا کے میدان میں  خانوادہء نبوت کے  72 جانثاروں کا  اور ان کے انصار کا  قافلہ  موجود تھا ان نفوس قُدسیہ میں نوجوان، بچے اور خواتین شامل تھیں۔ لیکن دُشمنِ اسلام کے ہاتھ پر بیت کرنے سے صاف انکار کردیا۔ جس کو دیکھتے ہوئے یزیدی فوج کی جانب سے سات محرم سے ان کا پانی بند کر دیا گیا۔ یہاں تک کہ یزیدی فوج کو بچوں پر بھی رحم نہ آیا۔ باوجود اس کے کربلا کے اس ریگستان کی کڑکتی دھوپ میں حضرت امام حسین علیہ السلام کی قیادت میں یہ مختصر قافلہ دین محمدی کی بقاء کی خاطر ڈٹا رہا۔شدید گرمی: کربلا کا علاقہ شدید گرم اور صحرائی تھا، اور پانی کی عدم دستیابی سے یہ حالت ہو گئی کہ بچوں، خواتین اور بزرگوں سمیت سب کو پیاس کی شدت کا سامنا تھا، خاص طور پر چھوٹے بچوں کو بہت تکلیف ہوئی.-یہاں تک کہ خیام اہلبیت سے  معصوم بچوں کی  العطش العطش کی صدائیں سنائ دینے لگیں ظلم کی انتہا: یہ پانی کی بندش دشمن کے ظلم اور امام حسینؑ کو کمزور کرنے کی ایک بڑی چال تھی، جس سے اہل بیتؑ کی صبر اور استقامت کا امتحان لیا گیا. یہ واقعہ عاشور کے دن تک جاری رہا، جہاں پیاس کے عالم میں ہی امام حسینؑ اور ان کے ساتھیوں نے جام شہادت نوش کیا.


 ان          سبیل حسین  سید الشہداء لگانے والوں  کا کہنا  ہے کہ سبیل لگانا عالم انسانیت کو یہ پیغام دینا ہے کہ جو پانی بند کرتے ہیں انہیں یزیدی کہا جاتا ہے اور جو پانی پلاتے ہیں انہیں حسینی کہتے ہیں۔ کیونکہ جیو اور جینے دو کا پیغام دنیا بھر میں عام کرنا ہے۔ جس کے لیے سبیل لگا کر مسافروں کو پانی پلایا جاتا ہے۔ نوجوانوں کے مطابق سات محرم الحرام کو کربلا میں امام حسین علیہ السلام اور ان کے رفقاء پر پانی کو بند کردیا گیا تھا۔یہی وجہ ہے کہ پوری دنیا میں محرم کے ان ایام میں سبیل کا اہتمام کرکے بغیر مذہب و ملت اور بغیر رنگ و نسل کے سب کو پانی پلایا جاتا ہے۔ جس دوران امت مسلمہ میں اتحاد اور بھائی چارے کا پیغام دیا جاتا ہے۔محرم الحرام کا آغاز ہوتے ہی سبیل لگانے اور لنگر تقسیم کرنے کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے، ہر سال کی طرح اس سال بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔اسی سلسلے کی ایک کڑی ملتان میں ہر سال اپنی مثال آپ ایک منفرد سبیل لگائی جاتی ہے جس کا سلسلہ 500 سال سے چلتا آ رہا ہے۔ملتان کے علاقے حسین آگاہی بازار میں لگائی جانے والی اس سبیل کی انفرادیت یہ ہے کہہ اس میں مٹی کے برتنوں میں پانی بھر کر ساری رات کے لیے رکھ دیا جاتا ہے اور پھر صبح ٹھنڈا اور خوشبودار پانی لوگوں کو پلایا جاتا ہے۔’


مٹکے والی سبیل‘ کے نام سے مشہور اس سبیل کو لگانے والے قیصر عباس کا کہنا ہے کہ 5 صدیوں سے ان کے آباؤاجداد معصومینِ کربلا کی یاد میں یہ سبیل لگاتے چلے آ رہے ہیں۔قیصر عباس اپنے آباؤاجداد سے اس سلسلے کو جاری رکھے ہوئے ہیںوہ شہریوں کو پانی پلانے کے لیے گلاس بھی مٹی کے استعمال کرتے ہیں تاکہ مٹی کی بھینی بھینی خوشبو برقرار رہے۔واضح رہے کہ 500 سال قبل شروع کی جانے والے ’مٹکوں یا گھڑوں والی سبیل‘ حضرت امام حسین ؓ اور ان کے 72 رفقاء کی یاد میں آج تک جاری ہے۔مٹی کے برتنوں میں ٹھنڈے پانی کی یہ سبیل یکم محرم الحرام سے 13 محرم تک جاری رہتی  ہے۔-پاکستان کے صوبے پنجاب میں ایک عاشق امام علیہ السلام اپنی سبیل پر تازہ گنے کا جوس پلاتے ہیں وہ عاشور سے ایک روز پہلے کئ من گنے لا کر رکھ لیتے ہیں -ایک صاحب جو لیکچرر ہیں انہوں نے اپنے سبیل کے جاری و ساری رکھنے کے لئے حضرت علی ابر کے نام سے ایک کاروں کا شو روم بنایا ہوا اور اس کی آمدنی سید الشہداء کی راہوں میں خرچ کرتے ہیں -عشق کا معیار ہے جو ہر ایک کا اپنا ہے


اس کے علاوہ صوبہ پنجاب  میں سونے کے گلاسوں میں شربت پلانے والی سبیل بھی سجائ جاتی   ہے  اس سبیل پر مفت عمرے اور حج کی قرعہ اندازی بھی ہوتی ہے ،اور جن کے نام قرعہ اندازی میں نکلتے ہیں ان کو حج اور عمرے کی زیارات پر بھیجا بھی جاتا ہے- جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے اور لوگوں کی حیثیت میں اضافہ ہو ہو رہا ہے ویسے ویسے سبیلوں پر عام طور پر  اہتمام  بھی بڑھ رہا ہے  اب پانی، کے علاوہ 'روح افزا، گلاب کا شربت، یا فالودہ پیش کیا جاتا ہے.  گرمی کے دنوں میں ٹھنڈے دودھ، لسی، یا ملک شیک (جیسے کیلے کا ملک شیک، یا فالسے کا ملک شیک) شامل کیے جا  تے ہیں تاکہ لوگوں کو زیادہ راحت مل سکے.سبیل کا بنیادی مقصد لوگوں کو پیاس بجھانے اور گرمی سے راحت دلانے کے لیے کچھ ٹھنڈا فراہم کرنا ہے، اور ملک شیک اس مقصد کو بہتر طریقے سے پورا کرتا ہے جی ہاں، اس سبیل پر دودھ اور شربت کے ساتھ ملک شیک یا ٹھنڈا دودھ بھی پیش کیا جا تا ہے، خاص طور پر گرمی کے موسم میں، یہ لوگوں کو ریفریش کرتا ہے،  عزاداروں کی زیادہ خدمت کی جاسکے حالانکہ یہ روایتی طور پر پانی، شربت یا فالودے تک محدود ہوتا ہے، مگر جدید دور میں یہ آپشن بھی مقبول ہو رہا ہے تاکہ زیادہ لوگوں کی ضروریات پوری کی جا سکیں، اس میں مختلف فلیورز (جیسے الائچی، کیوڑا) اور آئس کریم شامل کر کے اسے مزید بہتر بنایا جاتا ہے.  اور عزاداروں کی خدمت کی جاتی ہے


نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

کہو دلہن بیگم ! ہمارا بھائ تمھیں کیسا لگا

  میں سہاگن بنی مگر    !نگین دلہن بنی مثل ایک زندہ لاش کے سر جھکائے بیٹھی تھی اس نے آج کے دن کے لئے بڑی آپا کے اور منجھلی آپا کے سمجھانے سے ...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر