منگل، 24 مارچ، 2026

بلدھا گارڈن بنگال کا قدیم نباتاتی باغ

 

بلدھا گارڈن بنگال کے اس حصے میں قائم قدیم ترین نباتاتی باغات میں سے ایک ہے۔ اسٹیٹ آف بلدہ کے زمیندار نریندر نارائن رائے چودھری نے اسے 1909 میں بنانا شروع کیا اور 1943 میں اپنی موت تک اس میں اضافہ کرتے رہے۔ اس نے بیک وقت میوزیم کا مجموعہ بنایا، جو بلدہ میوزیم کے نام سے جانا جاتا تھا۔ میوزیم کے مجموعے اب بنگلہ دیش کے نیشنل میوزیم میں رکھے گئے ہیں۔ بلدھا گارڈن پرانے ڈھاکہ میں واری میں واقع ہے جو 3.36 ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا ہے جس میں 672 اقسام کے پودوں کا ایک بہت بڑا ذخیرہ شامل ہے جس میں بہت سے نایاب بھی شامل ہیں۔ یہ گواہی دی جاسکتی ہے کہ ملک میں غیر ملکی پودوں کا سب سے زیادہ ذخیرہ بلدھا گارڈن میں رکھا گیا ہے۔ ایک ماہر فطرت، انسان دوست اور شاعر نریندر نارائن رائے چودھری نے 1909 میں اپنی جائیداد پر باغ قائم کیا۔ انہوں نے مختلف ممالک سے پھول اور نایاب پودے لا کر انتظامات کا آغاز کیا۔ ایک اندازے کے مطابق باغ کے گھر میں 50 مختلف ممالک سے نایاب پھول آتے ہیں۔ اس نے میوزیم کا مجموعہ بھی بنایا جسے بلدھا میوزیم کہا جاتا ہے۔ محکمہ جنگلات کے تحت نیشنل بوٹینیکل گارڈن اب بلدھا گارڈن کا انتظام کرتا ہے۔باغ کو دو یونٹوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ بڑی اکائی کا نام زرخیزی کی یونانی فطرت کی دیوی سائبیل کے نام پر رکھا گیا ہے۔ سائکی چھوٹی اکائی کا نام ہے جس کا مطلب ہے روح۔ 1971 میں بنگلہ دیش کی آزادی کے بعد، محکمہ جنگلات نے ماضی کی اس شان کو بحال کرتے ہوئے باغ کی ترقی اور تزئین و آرائش کی اور دو نئے گرین ہاؤسز بھی تعمیر کیے اور شہری سہولیات کو جدید بنایا۔

 

 

سائنسی نام:- Betea Monosperma 

ڈھاک جسکو بنگال کینو ، پالش ، Bastard  جنوبی ایشیا کا گھنے سائے   اور نارمل گروتھ والا پھولدار درخت ہے اسکے خوبصورت چمکیلے پھولوں کی وجہ سے ڈھاک کو Ornamental Tree کا درجہ حاصل ہے اور پھولوں کے چمکدار ڈارک  سرخ رنگ کی وجہ سے جانا جاتا  ہے      Flame Of The Forest  ۔ ڈھاک جنوبی ایشیا کا مقامی پودا ہے اس ڈھاک کا پودا انڈیا ، بنگلادیش ، نیپال , سری لنکا ، تھائی لینڈ اور پاکستان میں بکثرت پایا جاتا ہے ۔ ڈھاک کا درخت 49 فیٹ تک قد کر سکتا ہے جہاں تک اسکے فوائد کی بات کریں تو ڈھاک کی لکڑی نرم اور پائیدار ہونے کے ساتھ ساتھ واٹر پروف ہوتی ہے اور پانی والی جگہوں پر استعمال کے لئے بہترین ہے ۔ ڈھاک کے پتوں کو ریشم کے کیڑوں کو پالنے کے لئے انڈیا میں بکثرت استعمال کیا جا رہا ہے ۔ ڈھاک کی گوند کو کمرک کہا جاتا ہے جو کہ مخصوص کھانوں میں استعمال کی جاتی ہے ڈھاک کے پھولوں سے رنگ کشید کیا جاتا ہے اور اس رنگ کو کیسری رنگ کہا جاتا ہے درختی پودوں میں ڈھاک کا اپنا مقام ہے، ایک پودا ضوور لگائیں- .خوبصورت پودا ہےسائنسی نام:- Betea Monosperma ڈھاک جسکو بنگال کینو ، پالش ، Bastard   جنوبی ایشیا کا گھنے سائے والا نارمل گروتھ والا پھولدار درخت ہے اسکے خوبصورت چمکیلے پھولوں کی وجہ سے ڈھاک کو Ornamental Tree کا درجہ حاصل ہے اور پھولوں کے چمکدار ڈارک ریڈ رنگ کی وجہ سے ڈھاک کو Flame Of The Forest بھی کہا جاتا ہے۔ ڈھاک جنوبی ایشیا کا مقامی پودا ہے اس طرح ڈھاک کا پودا انڈیا ، بنگلادیش ، نیپال , سری لنکا ، تھائی لینڈ اور پاکستان میں بکثرت پایا جاتا ہے ۔


 ڈھاک کا درخت 49 فیٹ تک قد کر سکتا ہے جہاں تک اسکے فوائد کی بات کریں تو ڈھاک کی لکڑی نرم اور پائیدار ہونے کے ساتھ ساتھ واٹر پروف ہوتی ہے اور پانی والی جگہوں پر استعمال کے لئے بہترین ہے ۔ ڈھاک کے پتوں کو ریشم کے کیڑوں کو پالنے کے لئے انڈیا میں بکثرت استعمال کیا جا رہا ہے ۔ ڈھاک کی گوند کو کمرکس کہا جاتا ہے جو کہ مخصوص کھانوں میں استعمال کی جاتی ہے ڈھاک کے پھولوں سے رنگ کشید کیا جاتا ہے اور اس رنگ کو کیسری رنگ کہا جاتا ہے درختی پودوں میں ڈھاک کا اپنا مقام ہے بلدھا گارڈن بنگال کے اس حصے میں قائم قدیم ترین نباتاتی باغات میں سے ایک ہے۔ اسٹیٹ آف بلدہ کے زمیندار نریندر نارائن رائے چودھری نے اسے 1909 میں بنانا شروع کیا اور 1943 میں اپنی موت تک اس میں اضافہ کرتے رہے۔ اس نے بیک وقت میوزیم کا مجموعہ بنایا، جو بلدہ میوزیم کے نام سے جانا جاتا تھا۔ میوزیم کے مجموعے اب بنگلہ دیش کے نیشنل میوزیم میں رکھے گئے ہیں۔ بلدھا گارڈن پرانے ڈھاکہ میں واری میں واقع ہے جو 3.36 ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا ہے جس میں 672 اقسام کے پودوں کا ایک بہت بڑا ذخیرہ شامل ہے جس میں بہت سے نایاب بھی شامل ہیں۔ یہ گواہی دی جاسکتی ہے کہ ملک میں غیر ملکی پودوں کا سب سے زیادہ ذخیرہ بلدھا گارڈن میں رکھا گیا ہے۔ ایک ماہر فطرت، انسان دوست اور شاعر نریندر نارائن رائے چودھری نے 1909 میں اپنی جائیداد پر باغ قائم کیا۔ انہوں نے مختلف ممالک سے پھول اور نایاب پودے لا کر انتظامات کا آغاز کیا۔ ایک اندازے کے مطابق باغ کے گھر میں 50 مختلف ممالک سے نایاب پھول آتے ہیں۔



 اب کچھ ڈھا ک کے  نباتاتی  فوائد  اور روز مرہ    کے استعمال  کے   بارے میں   جانئے :   اس کے تین پتوں کو گھاس یا تیلیوں کی مدد سے جوڑ کر ایک برتن کی سی شکل دے دی جاتی ہے جسے دونا کہا جاتا ہے- ہزاروں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں ڈھاک کے پتے روزانہ دونے بنانے کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں- اس کو پتل یا پتر بھی کہا جاتا ہے جس پر دال بھات وغیرہ رکھ کر پروسا جاتا ہے- ہندوستان اور بنگلہ دیش میں  حلوائی ڈھاک کے پتوں کے دونے میں ہی رسگلے گلاب جامن اور قلاقند رکھ کر دیا کرتے تھے- دوسری کھانے پینے کی اشیا اور گوشت  اور ’’پھول‘‘ اور ’’ہا ر‘‘ وغیرہ انہی پتوں میں رکھ کر دیئے جاتے تھے - لیکن ڈھاک نے ہمیں ایک عجیب محاورہ دیا اور وہ ڈھاک کے تین پات رہ گئے اس لئے کہ ڈھاک کے تین ہی پات یعنی پتے ہوتے ہیں اور   اکثر کوششیں نا کام ہوتی ہیں اور کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلتا ایسے ہی موقع پر ڈھاک کے تین پات محاورہ استعمال کیا جاتا ہے ۔(اتنی بار کوشش کی مگر نتیجہ وہی ڈھاک کے تین بات  - گل ٹیسو‘‘ ڈھاک ہی کے پھول ہوتے ہیں- ڈھاک کا گوند کمرکس کہلاتا ہے- کمر پشت اور رحم کی طاقت کیلئے دوسری دواؤں کے ہمراہ یا گھی میں بھون کر اس کی پنجبری بناکر زچہ کو کھلاتے ہیں۔  اسی وجہ سے اس کانام کمرکس مشہور ہے۔حکیموں اور ویدوں  کے مطابق اس کے مستقل استعمال سے انسان کے چہرے پر نہ جھریاں پڑتی ہیں نہ مسوڑھے گلتے ہیں اور نہ بال سفید ہوتے ہیں بلکہ چہرہ گلابی اور جلد شادابی ہوجاتی ہے-ڈھاک کے بیج پنساری کے پاس تخم پلاس پاپڑا کے نام سے ملتے ہیں۔  یہ نیم، پیپل، برگد کی طرح با آسانی ہوجاتا ہے پاکستان میں بھی اکثر علاقوں میں اگایا جاتا ہے

یہ تحریر گوگل سرچ کی مدد سے لکھی گئ ہے

1 تبصرہ:

  1. نباتاتی باغ (Botanical Garden) ایسے باقاعدہ منصوبہ بند باغات ہوتے ہیں جہاں سائنسی تحقیق، مطالعہ، تحفظ (Conservation) اور تعلیم کے لیے زندہ پودوں کا دستاویزی مجموعہ رکھا جاتا ہے۔ ان باغات میں مختلف اقسام کے نایاب، مقامی اور غیر ملکی پودوں کی نشوونما کی جاتی ہے، جن پر ان کی درجہ بندی اور خصوصیات کے مطابق لیبل لگے ہوتے

    جواب دیںحذف کریں

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

بلدھا گارڈن بنگال کا قدیم نباتاتی باغ

  بلدھا گارڈن بنگال کے اس حصے میں قائم قدیم ترین نباتاتی باغات میں سے ایک ہے۔ اسٹیٹ آف بلدہ کے زمیندار نریندر نارائن رائے چودھری نے اسے 1909...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر