محبت بذات خود بری بات نہیں لیکن کسی کا ہنستا بستا آنگن اجاڑ کر اس آنگن کے بچے در بدر کر کے اپنا آنگن محبت کے نام پر بسا لینا اخلاقی انحطاط کی بد ترین مثال ہے -ا نجو اور نصر اللہ کی محبت کی یہ کہانی کیسے شروع ہوئی اور انجو کو پاکستان کا ویزہ اور دیر بالا جانے کی اجازت کیسے ملی؟ لیکن پہلے جانتے ہیں کہ انجو کے شوہر نے اس صورتحال کے بارے میں کیا کہا ہے۔انجو کا فون کبھی چیک نہیں کیا کیونکہ ’اس سے رشتہ خراب ہوتا ہے‘انجو کے شوہر اروند نے بی بی سی ہندی کو بتایا ہے کہ ’میں 40 سال کا ہوں اور انجو 35 کے لگ بھگ ہے۔ ۔‘وہ بتاتے ہیں کہ ’ہماری شادی سنہ 2007 میں ہوئی تھی۔ اب ہمارے دو بچے ہیں۔ بڑی بیٹی کی عمر 15 سال ہے اور ایک چھوٹا بیٹا ہے اور وہ دونوں سکول جاتے ہیں۔‘اروند کا کہنا ہے کہ انھوں نے بارہویں تک تعلیم حاصل کی ہے جبکہ ان کی اہلیہ انجو دسویں پاس ہے۔اروند کے مطابق ’انجو بھیواڑی میں ہی ایک کمپنی میں کام کرتی ہیں۔ میں بھی پاس ہی کی ایک اور کمپنی میں کام کرتا ہوں۔‘اروند کہتے ہیں کہ انھوں نے کبھی بھی انجو کا فون چیک نہیں کیا کیونکہ ’اس سے رشتہ خراب ہوتا ہے۔‘انجو کے شوہر اروند نے فی الحال اس سلسلے میں پولیس میں کوئی شکایت درج نہیں کروائی ہے۔ویزہ حاصل کرنے میں دو سال لگے
‘نصر اللہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا انجو سے فیس بک کے ذریعے چند سال پہلے رابطہ ہوا۔لیکن اس پہلے رابطے کے بعد اگلے مراحل بہت جلدی طے ہوئے۔جب بی بی سی نے انجو سے بات کرنے کی درخواست کی تو نصر اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ انجو اس وقت میڈیا سے بات نہیں کرنا چاہتیں۔نصر اللہ کہتے ہیں کہ ’پہلے یہ رابطہ دوستی اور پھر محبت میں تبدیل ہو گیا جس کے بعد ہم دونوں نے ایک ساتھ زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا تھا۔‘نصر اللہ کے مطابق ان کے گھر والے اس فیصلے میں ان کے ساتھ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’دونوں میں طے ہوا کہ انجو پاکستان کا دورہ کریں گی، میرے خاندان سے ملیں گی اور ہم پاکستان میں منگنی کریں گے، جس کے کچھ عرصے بعد ہم شادی کر لیں گے۔‘نصراللہ کا کہنا تھا کہ ’انجو کے لیے پاکستان کا ویزہ حاصل کرنا بہت مشکل تھا، مگر ہماری نیت تھی اور خلوص تھا جس کی وجہ سے ہم دونوں نے بالکل ہمت نہیں ہاری ہے۔‘ایک جانب انجو دہلی میں پاکستانی سفارت خانے کے چکر لگاتی رہیں جبکہ نصر اللہ پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں وزارت خارجہ اور دیگر دفاتر کے چکر کاٹتے رہے۔
نصر اللہ کا کہنا تھا کہ ’وہ وہاں پر حکام کو قائل کرتی رہیں اور میں یہاں پر حکام کو قائل کرتا رہا کہ ویزہ انجو کا حق ہے اور ہم اگر ملنا چاہتے ہیں تو ہمیں ملنے دینا چاہیے۔‘ان کی کوششیں بلاآخر رنگ لائیں۔ لیکن حکام کو قائل کرنے میں ان کو دو سال کا عرصہ لگا جس کے بعد انجو کو پاکستان کا ویزہ بھی مل گیا اور ان کو دیر بالا جانے کی اجازت بھی دے دی گئی۔نصراللہ کا کہنا ہے کہ ’پاکستان اور پھر دیر بالا داخلے کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے۔‘’انجو اور میں نے ویزہ حاصل کرنے کے لیے ہزاروں روپے خرچ کیے ہیں۔ اب ایک دفعہ ویزہ لگ گیا ہے تو امید ہے کہ کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔‘ پاکستانی اور انڈین جوڑی کی شادی کیسے ممکن ہوئی؟مستقبل کا فیصلہ شادی کے بعد کریں گے‘نصر اللہ بتاتے ہیں کہ انجو انڈیا میں اپنی کمپنی سے چھٹی لے کر پاکستان آئی ہیں اور دوبارہ واپس جا کر اپنی ملازمت جاری رکھیں گی۔انھوں نے بتایا کہ ’انجو اس وقت میرے گھر میں ہے جہاں پر وہ بالکل پرسکون اور آرام سے رہائش پزیر ہے۔‘تاہم یہ خبر منظر عام پر آنے کے بعد میڈیا کی موجودگی سے وہ خوش نہیں۔
بہت بڑی تعداد میں میڈیا اور لوگ اکھٹے ہوچکے ہیں۔ میں سب سے کہتا ہوں کہ جو ضروری ہوگا میں خود میڈیا کو بتا دوں گا۔ میں نہیں چاہتا کہ ہمارے تعلق کو کوئی مسئلہ بنایا جائے۔ ہمارے تعلق میں مذہب بھی شامل نہیں ہے۔انجو مذہب تبدیل کرے گی یا نہیں، یہ اس کا اپنا فیصلہ ہو گا اور میں اس کے فیصلے کا احترام کروں گا جیسے وہ میرے فیصلے کا احترام کرتی ہے۔‘نصراللہ کا کہنا تھا کہ ان کے تعلق سے انجو کے خاندان کو بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے۔’اس لیے میں کہتا ہوں کہ ہماری پرائیویسی کا احترام کیا جانا چاہیے۔ انجو پختونوں کی مہمان ہے‘ایک انڈین خاتون کی موجودگی سے اہل علاقہ بھی خوش ہیں لیکن موسم اور حالات ان کے استقبال کی تیاریوں کی راہ میں رکاوٹ بن گئے۔نصر اللہ کے مقامی علاقے کی سیاسی و سماجی شخصیت فرید اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’انجو جمعہ کے روز صبح کے وقت پہنچی جب شدید بارش ہو رہی تھی۔‘اہلیان علاقہ شدت سے اس کا انتظار کر رہے تھے۔ ہمارا خیال تھا کہ ہم سنیچرکو شاندار استقبالہ دیں گے مگر بدقسمتی سے علاقے میں ایک فوتگی ہو گئی۔ اب ہم یہ استقبالیہ جلد دیں گے۔‘
فرید اللہ کا کہنا تھا کہ ’انجو پختونوں کی مہمان اور بہو ہے۔ہم اس بات کو ہر صورت میں یقینی بنائیں گے کہ اس کو ہمارے پاس کوئی تکلیف نہ پہنچے اور اس کو ساری سہولتیں میسر ہوں۔‘انھوں نے بتایا کہ ’ہمارے علاقے میں خوشی کا سماں ہے۔ ہمارے گھروں کی خواتین جوق در جوق انجو کو ملنے جا رہی ہیں، اس کو تحفے تحائف بھی دے رہی ہیں اور اس کو یہ یقین بھی دلا رہی ہیں کہ وہ کسی بات کی فکر نہ کرے۔‘ڈی پی او دیر بالا محمد مشتاق کے مطابق دیر بالا پہنچنے والی انڈین لڑکی انجو کے ویزہ کاغذات کی ’پولیس نے جانچ پڑتال کی اور وہ کاغذات بالکل درست ہیں۔‘انھوں نے بتایا کہ انجو کو ایک ماہ کا ویزہ دیا گیا ہے اور ان کو دیر بالا میں داخلے کی اجازت بھی دی گئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے اتوار کی شام نصراللہ اور انجو کو مقامی پولیس سٹیشن ایک رسمی پوچھ گچھ کے لیے طلب کر رکھا ہے۔’یہ رسمی انٹرویو تمام غیر ملکیوں کے لیے ہوتا ہے جہاں پر ان سے بات کرنے اور انٹرویو کرنے کے بعد ان کو واپسی کی اجازت دے دی جائے گی۔‘محمد مشتاق کا کہنا تھا کہ ’پولیس انجو کو مکمل سیکورٹی فراہم کرے گی اور اس کے ساتھ ساتھ ان کی پرائیویسی کا بھی مکمل خیال رکھے گی
یہ زمہ داری ماؤں کی ہے کہ وہ بیٹوں کی تربیت کرتے ہوئے ایمان داری کا درس ضرور دیں
جواب دیںحذف کریں