اگر آپ آثار قدیمہ میں دلچسپی رکھتے ہیں تو پھر پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر لاڑکانہ میں موئین جو دڑو سر فہرست رکھئے مو ہنجودڑوکا قلعہ اصل شہر کے اندر ایک منفرد اور ممتاز حیثیت رکھتا تھا، جس کے ارد گرد گلیاں ایک جال کی شکل میں پھیلی ہوئی ہیں -ہم جب موہنجودڑو جیسا عالی شان شہر دیکھتے ہیں جس کے مکانات پختہ، مضبوط اور دو تین منزلہ اونچے تھے، ساتھ ہی وہاں سڑکیں اور بازار قائم تھے، تو اس شہرخاموشاں کے باشندوں کی زندگی و رواج اور عادات سانچے میں ڈھلی ہوئی معلوم ہوتی ہیں ۔ یہ عجیب بات ہے کہ موہنجودڑو کے وہ آثار جو سب سے زیادہ گہرائی میں ہیں، سب سے زیادہ ترقی کا پتہ دیتے ہیں، جس کا مطلب یہی ہے کہ انسانی تہذیب کے سارے معاملات صدیوں پہلے عمل میں آچکے تھے اور یہ بنیادی ترقی میں یا تو بہت آگے نکل گئے ، یا پھر ختم ہوتے چلے گئے۔ آج کے ترقی یافتہ دور میں ہم اپنے شہروں کو دیکھیں تو وہ اتنے منظم نظر نہیں آتے جتنا کہ صدیوں پرانی تہذیب کے شہر نظر آتے ہیں۔ اس پر ہمیں سوچنے سمجھنے کی ضرورت ہے-
خیا ل کیا جاتا ہے کہ موئن جو دڑو میں کم از کم 40,000 لوگ آباد تھے، اس شہر نے 2500 قبل مسیح سے 1700 قبل مسیح تک ترقی کی۔’یہ اپنے علاقے کا ایک مرکز ی شہر تھا جس کے سماجی، ثقافتی، اقتصادی اور مذہبی روابط میسوپوٹیمیا اور مصر کے ساتھ تھے۔ قدیم مصر اور میسوپوٹیمیا کے شہروں کے مقابلے میں، جنھوں نے ایک ہی وقت میں ترقی کی تھی، یہ تہذ یب یافتہ شہر 1700 قبل مسیح میں ختم ہو گیا تھا، اور آج تک کسی کو قطعی طور پر یقین نہیں ہے کہ اس شہر کے باشندے یہاں سے کیوں نقل مکانی کر گئے یا وہ کہاں گئے۔آئے اب شہر کی سیر کرتےہیں -اس شہر کی شمال مشرقی سمت میں ایک طویل عمارت ہے۔ جو 230.78 فٹ ہے۔ اس کے وسط میں وسیع عریض صحن بھی ہے۔ اس میں تین برآمدے کھلتے ہیں۔ چاروں طرف بیرکوں کی طرح سے کمرے بنے ہوئے ہیں۔ اکثر کمروں کے فرش پختہ اینٹوں کے ہیں۔ اس عمارت کو شاہی محل یا بڑے بچاری کا گھر سمجھنا مشکل ہے۔
کیوں کہ اس کا طرز تعمیر رہائشی مکانوں جیسا نہیں ہے۔ اس لیے کھدائی کرنے والوں نے اسے کالج کا نام دیا تھا۔ جب تک مزید کھدائی سے اس کا فیصلہ نہیں ہوجاتا کہ یہ عمارت کیا تھی اور اس کا مقصد کیا تھا۔اشنان گھر اور کالج کے جنوب میں ایک اور اجتماعی مقصد کی عمارت ملی ہے۔ جو بعد میں تبدیل کردی گئی ہے۔ لیکن ابتد میں یہ ایک بہت بڑا مربع شکل کا ہال تھا۔ جس کا ہر مربع 90 فٹ کا تھا۔ اس کے اندر اینٹوں سے بیٹھنے کی نشتیں تعمیر کی گئی ہیں۔ پورے ہال میں گزرنے کے پانچ رستے ہیں۔ ہر دو رستوں کے درمیان میں نشتوں کی چار قطاریں ہیں۔ ہر قطار میں پانچ نشتیں ہیں۔ یا تو ان کے اوپر لکڑی کی خوبصورت نشتیں لگائی گئی تھیں یا انہی پر ہی سامعین بیٹھے تھے۔ یہ کل ایک سو نشتیں ہیں موہن جو وڑو میں ایک ایسی عمارت ملی ہے۔ جو اگرچہ رہائشی قسم کی ہے مگر بہت بڑی ہے۔ یہ شرقاً غرباً 250 فٹ لمبی ہے۔ یقیناً یہ ایک محل ہے۔ بیرونی دیوار 1/2 3 فٹ سے لے کر 7 فٹ تک موٹی ہے، اس میں دو بڑے صحن ہیں۔ جن کو ایک پانچ فٹ چوڑی غلام گردش آپس میں ملاتی ہے۔
اس کے ایک سرے پر 8 فٹ چوڑا دروازہ ہے۔ گھر کے دو مختلف کمروں میں کنویں تھے۔ ایک کمرے میں ایک گول تنور تھا۔ اس کا قطر تین فٹ آٹھ انچ اور اونچائی 1/2 3 فٹ ہے، اس کی شکل موجودہ تنوروں سے جیسی ہے۔ محل میں چار زینے اوپر جاتے تھے۔شہر میں ایک اور پبلک بلڈنگ ملی ہے جو یا تو مسافروں کے ٹہرنے کے لیے سرائے تھی یا پھر ترتھ یاتریوں کے ٹہرنے کے یاتری استھان تھی۔ اصل عمارت ایک بہت بڑے ہال پر مشتمل ہے جو انگریزی کے حروف ایلL کی شکل کا ہے۔ اس ہال کی دیواروں کے باہر ارد گرد اینٹوں کے ستون بنے ملے ہیں، جن کے اوپر غالباً برآمدے کی چھت ڈالی گئی تھی۔ جو ہال کو چاروں طرف سے گھیرے ہوئے تھی۔ جنوب مشرقی کونے پر ایک چار فٹ گیارہ انچ چوڑا دروازہ گلی میں کھلتا تھا۔ بعد میں یہ دروازہ بند کرکے شمالی جانب مرکز میں دیوار کاٹ کر ایک دروازہ نکلا گیا تھا۔ اس کے قریب ایک رستہ پانی کے نکاس کا بنایا گیا تھا۔
جو زمین دوز سفالی پائپ سے ملحق تھا۔ ہال کے ایک کونے میں ایک فلیش سسٹم بیت الخلا بنایا گیا تھا۔ایک اور بڑی عمارت ملی ہے، 87 * 1/2 64 فٹ ہے۔ اس میں کچھ کمرے تو اندر صحن میں کھلتے ہیں جو رہائشی معلوم ہوتے ہیں اور کچھ باہر گلی میں کھلتے ہیں۔ ان کے فرش پختہ اینٹوں کے ہیں اور نہایت عمدگی سے بنائے گئے ہیں۔ باہر کا ایک بہت بڑا کمرہ ایسا ہے جس میں پانچ گول مخروطی گڑھے اینٹوں سے بنائے گئے۔ ان میں کڑاہ یا دوسرے برتن جو دھات کے ہوں گے ٹکائے جاتے ہوں گے۔ یا تو یہ کوئی ریستوان ہوگا یا رنگریز کا کارخانہ۔ایک اور اجتماعی نوعیت کی عمارت ملی ہے جو 52 * 40 فٹ ہے۔ اس کی دیواریں چار فٹ موٹی ہیں۔ اس کا دروازہ جنوب کی طرف سے ہے۔ جس میں دو متوازی سیڑھیاں اوپر چڑھتی ہیں۔ جو مرکز میں آ کر مل جاتی ہیں۔ دروازہ بہت بڑا ہے۔ اس عمارت کے اندر صحن میں اینٹوں کا ایک دائرہ تعمیر کیا گیا ہے۔ جس کا اندونی قطر چار فٹ ہے۔
جاری ہے