ایک ادیب ہو یا شاعر ہو اس کے فن میں پختگی اس وقت آتی ہے جب فنکار حالات و واقعات پر مظبوط گرفت رکھتا ہو -اسی گرفت کی خوبی کے سبب فنکار کا رشتہ اپنے قاری سے قریب تر ہوتا جاتا ہے ۔ اور افتخار عارف کا کلام جدید اردو شاعری میں ایک منفرد آواز کے ساتھ قاری کے دل و دماغ پر دیر تک چھایا رہتا ہے۔اور ابلاغی تاثیر خود بخود قاری کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہے۔افتخار عارف کا کلام ایک ایسا جدید گلدستہ ہے جو کلاسیکی گلزار سخن کے رنگ و خوشبو سے ہم آمیز ہے۔کلاسیکی لفظیات کو نئے مفاہیم کے اظہار کا ذریعہ بنایا ہے۔لفظ کے مزاج سے واقفیت رکھتے ہیں اس لیے بیشتر اشعار میں زبان کا خلاقانہ اظہار ہوا ہے۔انھوں نے پرانی غزل کے احساس کے ساتھ ساتھ نئی غزل کے تقاضوں کو بھی پورا کیا ہے۔-افتخار عارف نے جس طرح ایک عام موضوع پر قلم اٹھایا اور اسے ایک خاص شعری ہیئت میں ڈھال کر ایک نیا رنگ و آہنگ عطا کر کے جو حسن بخشا وہ واقعی امتیازی وصف کے لائق ہے۔
Knowledge about different aspects of the world, One of the social norms that were observed was greetings between different nations. It was observed while standing in a queue. An Arab man saw another Arab man who apparently was his friend. They had extended greetings that included kisses on the cheeks and holding their hands for a prolonged period of time. , such warm greetings seem to be rareamong many people, . this social norm signifies the difference in the extent of personal space well.
ہفتہ، 16 اگست، 2025
زہانت کا پیکر افتخار عارف
جمعہ، 15 اگست، 2025
کالج آف نرسنگ شیخ زید میڈیکل کالج رحیم یار خان
شیخ زیدسلطا ن النہیان نے بنفس نفیس رحیم یار خان میں جن فلاحی کاموں کا بیڑہ اٹھا یا ان میں میڈیکل کالج رحیم یار خان اس لئے سر فہرست مانا جائے گا کہ اس کا تعلق صحت کے شعبے سے ہے ،PHA -انڈرگریجویٹ پروگرام-کالج پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل، پاکستان نرسنگ کونسل اور یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے ذریعے تسلیم شدہ انڈر گریجویٹ پروگرام پیش کر رہا ہے۔ ، یہ ایک پبلک میڈیکل کالج ہے جو رحیم یار خان، پنجاب، پاکستان میں واقع ہے۔ اس کا نام شیخ زید بن سلطان النہیان کے اعزاز میں رکھا گیا ہے۔ میڈیکل کالج کا الحاق شیخ زید ہسپتال رحیم یار خان سے ہے جس میں 900 بستر ہیں اور یہ ضلع رحیم یار خان کا سب سے بڑا ہسپتال ہے۔ شیخ زید میڈیکل کالج مارچ 2003 میں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال، رحیم یار خان میں قائم کیا گیا تھا۔ یہ رحیم یار خان میں جدید سہولیات سے آراستہ ہسپتال ہے۔
شیخ زید میڈیکل کالج (جے ایس زیڈ ایم سی) کا جریدہ ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ سپورٹ یونٹ، شیخ زید میڈیکل کالج/ہسپتال، رحیم یار خان کے تحت انسٹی ٹیوٹ اور ریجن میں ہیلتھ ریسرچ پبلیکیشن کے مرکز کے طور پر کام کر رہا ہے۔شیخ زید میڈیکل کالج رحیم یار خان انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل ایجوکیشن کے لیے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے ذریعے تسلیم شدہ۔ہر سال، کالج یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز، لاہور کے زیر اہتمام داخلہ امتحان کے ذریعے اوپن میرٹ پر 150 طلبہ کو داخلہ دیتا ہے۔ کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز آف پاکستان کے ذریعے تسلیم شدہ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہور سے الحاق شدہ۔ الحاق شدہ ادارے-شیخ زید ہسپتال رحیم یار خان ( پہلے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے نام سے جانا جاتا تھا ) ایم بی بی ایس-ڈاکٹر آف فزیکل تھراپی-بی ایس سی (آپریشن تھیٹر ٹیکنالوجی -بی ایس سی (میڈیکل لیبارٹری ٹیکنالوجی)بی ایس سی آنرز۔ (میڈیکل امیجنگ ٹیکنالوجی) نر سنگ ڈپلوماپوسٹ گریجویٹ پروگرام
-شیخ زاید میڈیکل کالج اور اس سے منسلک ادارے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل، کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز آف پاکستان اور یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے ذریعے تسلیم شدہ ہیں اور درج ذیل میں تربیت فراہم کر رہے ہیں۔ان پروگراموں میں داخلہ پنجاب ریذیڈنسی پروگرام کے تحت سنٹرل انڈکشن پالیسی کے ذریعے ہے۔ شعبه جات-اناٹومی-بائیو کیمسٹری-کمیونٹی میڈیسن- فرانزک دوا-پیتھالوجی-فارماکولوجی-فزیالوجی-طب اور اس سے متعلقہ محکمے۔کارڈیالوجی-ڈرمیٹولوجی-عام دوا-نیورولوجی-اطفال-بنیادی سائنس کے شعبے - روک تھام کی دوانفسیات-پلمونولوجی ( سینے کی دوا )-ریڈیو تھراپی-یورولوجیسرجری اور متعلقہ شعبہ جات-اینستھیزیالوجی-کارڈیک سرجری--کاسمیٹک سرجری-جنرل سرجری-نیورو سرجریپرسوتی اور امراض نسواں-امراض چشم-زبانی اور میکسیلو فیشل سرجری-آرتھوپیڈکس-
Otorhinolaryngologyپیڈیاٹرک سرجری-ریڈیولوجی-سٹوڈنٹ سوسائٹیزشیخ زید میڈیکل کالج میں درج ذیل سوسائٹیز طلبہ کے لیے کام کر رہی ہیں:زیدیان آگاہی اور ادبی سوسائٹی (ZALS)زیدیان میڈیا آرٹس اینڈڈرامیٹکس(ZMAD)زیدیان ایتھلیٹک اینڈ اسپورٹس کلب (ZASC)زیدیان بلڈ ڈونر سوسائٹی (ZBDS)پسماندہ طبی امداد کے نیٹ ورک کی مدد کرنا (HUMANe)پیشنٹ کیئر سوسائٹی (PCS)SZMC کے طالب علم نے مصر میں اپنے الما میٹر کی نمائندگی کی۔انڈرگریجویٹ ریسرچرز
-شیخ زید میڈیکل کالج کے طلبہ کو ہمیشہ اصل تحقیق کرنے، دنیا بھر میں قومی اور بین الاقوامی کانفرنسوں میں مقالے پیش کرنے اور ہم مرتبہ نظرثانی شدہ جرائد میں شائع ہونے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ ایس زیڈ ایم سی کے ایک طالب علم نے اپریل 2006 میں لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز حیدرآباد میں منعقدہ پاکستان فزیالوجیکل سوسائٹی کی 10ویں دو سالہ بین الاقوامی فزیالوجی کانفرنس میں بہترین پیپر پریزنٹیشن کا ایوارڈ جیتا تھا] SZMC کے طلبہ نے پہلی سارک، شفا کالج آف میڈیسن، اسلام آباد میں نومبر 2008 میں منعقدہ 11ویں دو سالہ بین الاقوامی فزیالوجی کانفرنس میں 5 اصل تحقیقی مقالے پیش کیے تھےSZMC کے ایک طالب علم نے فروری 2009 میں قاہرہ میں 17ویں بین الاقوامی عین شمس میڈیکل اسٹوڈنٹس کانگریس میں اپنا مقالہ پیش کیا ایس زیڈ ایم سی کے طلبہ نے ایم بی بی ایس کے دوران اپنے اصلی تحقیقی مقالے معروف قومی جرائد میں شائع کیے ہیں۔
بدھ، 13 اگست، 2025
شیخ زید النہیان جن کا دوسرا گھر رحیم یار خان
شیخ زید النہیان کا جب پاکستان سے دوستانہ استوار ہو تب انہوں نے اپنے لئے چولستان کے علاقے میں ایک تعمیر کرنے کا ارادہ بنایا ایک محل اور اس کے لئے رحیم یار خان شہر سے چند کلومیٹر کی دوری پر ایک قطعہ زمین کا انتخاب کیا گیا پھر محل اور شہر سے آمدو رفت کے لیے ایئرپورٹ سے محل تک خصوصی شاہراہ تعمیر ہوئی۔ اور پھر یہ محل اور یہ شاہراہ پنجاب کے لوگوں کے لئے بہت کشادگی کا باعث بن گئ رفتہ رفتہ شہر کا پھیلاؤ بھی اسی جانب ہوتا چلا گیا اور اب محل سے صرف کچھ ہی فاصلے پرحکمران نہیں، پوری حکومت آتی تھی رئیس عباس زیدی کے مطابق ستر کی دہائی میں پہلی بار شیخ زید نے رحیم یار خان ضلع میں سرکاری زمین لیز پر حاصل کی جو ریگستان میں واقع تھی۔ان کے مطابق اس کے بعد ان کے دور میں چار ہزار ایکڑ مزید زمین لیز پر لی گئی جو بنجر اور بے آباد تھی۔ ’وہاں پانی نہیں تھا لیکن اس زمین کو آباد کیا گیا، سڑکیں بنائی گئیں، اور صحرا کے خانہ بدوشوں کی زندگی بدل گئی۔‘تاہم رئیس عباس زیدی کے مطابق بطور ڈپٹی کمشنر متحدہ عرب امارات کے حکمران کی رحیم یار خان آمد کے بعد ضلعی انتظامیہ کی ذمہ داری بڑھ جایا کرتی تھی۔
جب شیخ زید زیادہ عرصے کے لیے آتے تھے تو ان کی مجلس یعنی کابینہ کا اجلاس بھی ادھر ہی ہوا کرتا تھا اور اکثر دوسرے ممالک کے عہدیداران ملاقات کے لیے آیا کرتے تھے۔ اس دوران بینظیر بھٹو وزیراعظم تھیں جو خود شیخ زید سے ملنے آیا کرتی تھیں جبکہ نواز شریف اپوزیشن لیڈر تھے، وہ بھی آتے تھے۔‘رئیس عباس زیدی کہتے ہیں کہ ’محل میں شیخ زید کے کمرے کے باہر چیتے کی کھال لگی تھی جو ذوالفقار علی بھٹو نے تحفہ کے طور پر دی تھی اور ان کی ہدایت تھی کہ اس کھال کو ہٹایا نہ جائے۔‘عرب حکمرانوں کا شکار کے لیے پاکستان آنے کا سلسلہ کب شروع ہوا؟ ایک خیال یہ ہے کہ پاکستان میں خلیجی ممالک کے سربراہان کی شکار کے لیے آمد کا باقاعدہ سلسلہ جنرل ایوب خان کے دورِ حکومت سے شروع ہوا تھا۔جبکہ ایک اور عام تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ پاکستان میں عرب حکمرانوں کی شکار کے ارادے سے آمد کا سلسلہ 1970 کی دہائی میں اس وقت شروع ہوا جب اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے تیل کی دولت سے مالامال مشرق وسطی کی ریاستوں سے بہتر تعلقات استوار کیے۔
مصنف ندیم فاروق پراچہ کی ایک تحریر میں بھی یہی دعویٰ کیا گیا ہے کہ 1970 کی دہائی کے وسط میں رحیم یار خان شکار کے لیے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے حکمرانوں کا پسندیدہ علاقہ بن گیا کیونکہ ان کے اپنے صحراؤں میں تلور معدوم ہوتا جا رہا تھا۔ یہ شیوخ دسمبر سے فروری کے مہینوں میں آتے کیونکہ پاکستان ان چند ممالک میں سے ایک ہے جہاں نایاب سمجھا جانے والا پرندہ تلور موسمِ سرما گزارتا ہے۔رفتہ رفتہ یہ حکومت اور مقامی لوگوں کے لیے منافع بخش کام بھی بن گیا۔ 2019 میں معاشی امور پر رپورٹ کرنے والے جریدے ’دی اکانمسٹ‘ کی رپورٹ کے مطابق ایک لاکھ ڈالر کے عوض شکار گاہ، ایک لاکھ ڈالر کے عوض دس دن کا اجازت نامہ دیا جانے لگا جس کے تحت صرف سو تلور کے شکار کی اجازت دی جاتی اور ہر تلور کے عوض ایک ہزار ڈالر اضافی دینا ہوتے۔
اربعین حسینی -فکر حسینی کا ارتقاء
ڈیجیٹل زمانے کی محبتوں میں سماجی ا خلاقی زوال
منگل، 12 اگست، 2025
ڈیجیٹل زمانے کی ڈیجیٹل محبتیں اور ہمارا اخلاقی زوال
جابر بن عبد اللہ انصاری
جابر بن عبد اللہ انصاری خزرجی رضی اللہ عنہٗ ہجرتِ مدینہ سے 16 سال قبل پیدا ہوئے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دادا عمرو بن حرام انصاری اپنے قبیلے کے سردار تھے 19 کے قریب تمام بڑے غزوات میں نبی پاک ﷺ کے ساتھ شریک رہے۔ آپؓ نے بڑی عمر کی بیوہ سے شادی کی، تاکہ آپؓ کی 9 چھوٹی بہنوں کی تربیت و اُمورِ خانہ داری قائم رہ سکیں۔حضرت جابرؓ نے غزوۂ خندق کے موقع پر آپ ﷺ کی دعوت کی۔ آپؐ نے صحابہ کرامؓ کے سامنے اعلان کرا دیا کہ جابر کے ہاں تمام اہلِ خندق کی دعوت ہے۔ چناں چہ اس موقع پر آپؐ کی برکت سے چند افراد کا کھانا 1400 صحابہ کرامؓ نے کھایا۔ ایک موقع پر آپؐ نے 25 بار حضرت جابرؓ کے لیے استغفار کی دعا پڑھی۔ آپؐ کو اگر قرض کی ضرورت پڑتی تو آپؐ حضرت جابرؓ سے قرض بھی لے لیتے تھے۔حضرت جابرؓ سے سینکڑوں احادیث مروی ہیں، جن میں سے ایک یہ حدیث بھی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’میری اُمت میں سے ایک جماعت ہمیشہ حق پر رہے گی،
یہاں تک کہ عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں‘‘۔ حضرت جابرؓ نے طویل عمر پائی ۔ آپؓ تفسیر، حدیث اور فقہِ دین میں کمال درجے کی مہارت رکھتے تھے۔ آپؓ نے خلفائے راشدینؓ کے زمانے میں بھی مختلف سماجی ذمہ داریوں پر فائز رہ کر بھر پور کردار ادا کیا۔ تابعینؒ کے ہر طبقے نے آپؓ سے کسبِ فیض کیا ہے۔ ایک قول کے مطابق جابر واقعہ کربلا کے چالیس دن بعد یعنی اربعین کو کربلا پہنچے۔ آپ کو حسین ابن علی کے پہلے زائر ہونے کا شرف حاصل ہے-ان کے والد نے غزوۂ احد میں شہادت حاصل کی کافروں نے مثلہ کر دیا تھا اس لیے جنازہ کپڑوں میں اڑھا کر لایا گیا، حضرت جابرؓ نے کپڑا اٹھا دیا اور دیکھنا چاہا لوگوں نے منع کیا،آنحضرت ﷺ نے یہ دیکھ کر کپڑا اٹھا دیا ، بہن پاس کھڑی تھیں، بھائی کی حالت دیکھ کر ایک چیخ ماری، آنحضرت ﷺ نے پوچھا کون ہے؟لوگوں نے کہا ان کی بہن ،فرمایا تم روؤ یا نہ روؤ جب تک جنازہ رکھا رہا ،فرشتے پروں سے سایہ کیے تھے حضرت عبد اللہؓ نے دس لڑکیاں چھوڑیں ،انھوں نے اپنے بھائی حضرت جابرؓ کے پاس ایک اونٹ بھیجا کہ ابا جان کی لاش گھر لے آئیں اور مقبرہ بنی سلمہ میں دفن کر دیں، وہ تیار ہو گئے،آنحضرت ﷺ کو خبر ہوئی فرمایا کہ جہاں ان کے دوسرے بھائی شہداء دفن کیے جائیں گے، وہیں وہ بھی دفن ہوں گے ؛چنانچہ احد کے گنج شہیداں میں دفن کیے گئے۔
ان پر قرض بہت تھا، حضرت جابرؓ بن عبد اللہ کو اس کے ادا کرنے کی فکر ہوئی، لیکن ادا کہاں سے کرتے؟ کل دو باغ تھے جن کی پوری پیدا وار قرض کو کافی نہ تھی، رسول اللہ ﷺ کے پاس گھبرائے ہوئے آئے اور کہا یہودیوں کو بلاکر کچھ کم کرا دیجئے، آپ نے ان لوگوں کو طلب فرماکر حضرت جابرؓ بن عبد اللہ کا مدعا بیان کیا انھوں نے چھوڑنے سے انکار کیا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ اچھا دو مرتبہ میں اپنا قرض وصول کرلو، نصف اس سال اور نصف دوسرے سال، وہ لوگ اس پر رضا مند نہ ہوئے، آپ ﷺ نے یہ دیکھ کر حضرت جابرؓ بن عبد اللہ کو تسکین دی اور فرمایا کہ سنیچر(ہفتہ) کے دن تمھارے ہاں آؤں گا، چنانچہ سنیچر کو صبح کے و قت تشریف لے گئے، پانی کے پاس بیٹھ کر وضو کیا،مسجد میں جاکر دو رکعت نماز پڑھی، پھر خیمہ میں آکر متمکن ہوئے، اس کے بعد حضرت ابوبکرؓ صدیق و حضرت عمرؓ بھی پہنچ گئے، تقسیم کا وقت آیا تو ارشاد ہوا کہ چھوہاروں کو قسم دار الگ کرکے خبر کرنا، چنانچہ آپ کو خبر کی گئی ،آپ تشریف لائے اور ایک ڈھیر پر بیٹھ گئے،
حضرت جابرؓ بن عبد اللہ نے بانٹنا شروع کیا اور آپ دعا کرتے رہے، خدا کی قدرت کہ قرض ادا ہونے کے بعد بھی جو کچھ بچ گیا، حضرت جابرؓ خوشی خوشی آپ کے پاس آئے اور بیان کیا کہ قرض ادا ہو گیا اور اتنا فاضل ہے، آپ نے خدا کا شکر ادا کیا، حضرت ابوبکرؓ صدیق وحضرت عمرؓ کو بھی بہت مسرت ہوئی۔اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مکان لے گئے اور گوشت ،خرما اور پانی پیش کیا، آپ نے فرمایا شاید تم کو معلوم ہے کہ میں گوشت رغبت سے کھاتا ہوں،چلنے کا وقت آیا تو اندر سے آواز آئی کہ مجھ پر اور میرے شوہر پر درود پڑھیے، فرمایا: اللھم صل علیھم والد کی موجودگی تک انھوں نے کسی غزوہ میں حصہ نہیں لیا۔ مسلم میں ہے کہ انھوں نے غزوہ بدر میں میدان کا عزم کیا،
1932ء میں عراق کے اس وقت کے بادشاہ شاہ فیصل کو خواب میں صحابیِ رسول حذیفہ بن یمانی (معروف بہ حذیفہ یمانی) کی زیارت ہوئی جس میں انھوں نے بادشاہ کو کہا کہ اے بادشاہ میری قبر میں دجلہ کا پانی آ گیا ہے اور جابر بن عبد اللہ کی قبر میں دجلہ کا پانی آ رہا ہے چنانچہ ہماری قبر کشائی کر کے ہمیں کسی اور جگہ دفن کر دو۔ اس کے بعد ان دونوں اصحابِ رسول کی قبریں سینکڑوں لوگوں کی موجودگی میں کھولی گئیں جن میں مفتیِ اعظم فلسطین، مصر کے شاہ فاروق اول اور دیگر اہم افراد شامل تھے۔ ان دونوں کے اجسام حیرت انگیز طور پر تازہ تھے، جیسے ابھی دفنائے گئے ہوں۔ ان کی کھلی آنکھوں سے ایسی روشنی خارج ہو رہی تھی کہ دیکھنے والوں کی آنکھیں چکا چوند ہو گئیں۔ ہزاروں لوگوں کو ان کی زیارت بھی کروائی گئی جن کے مطابق ان دونوں کے کفن تک سلامت تھے اور یوں لگتا تھا جیسے وہ زندہ ہوں۔ ان دونوں اجسام کو سلمان فارسی رَضی اللہُ تعالیٰ عنہُ کی قبر مبارک کے بالکل قریب سلمان پاک نامی جگہ پر دوبارہ دفنا دیا گیا جو بغداد سے تیس میل کے فاصلے پر ہے۔
نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے
انقلاب چین جو چینی قوم کی نجات کا باعث بن گیا
چین کے انقلاب میں تاریخی لانگ مارچ کو ایک سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے جو اکتوبر1934ء سے اکتوبر 1935ء تک جاری رہا۔ یہ لانگ مارچ چھے ہزار میل ط...
حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر
-
میرا تعارف نحمدہ ونصلّٰی علٰی رسولہ الکریم ،واٰ لہ الطّیبین الطاہرین جائے پیدائش ،جنوبی ہندوستان عمر عزیز پاکستان جتنی پاکستان کی ...
-
خوبصورت اور لہلہاتے قدرتی نظاروں سے مالامال جزیرہ ماریشس (موریطانیہ )کے ائر پورٹ 'پورٹ لوئس کے سرشِو ساگر رام غلام انٹرنیشنل ائیرپ...
-
نام تو اس کا لینارڈ تھا لیکن اسلام قبول کر لینے کے بعد فاروق احمد لینارڈ انگلستانی ہو گیا-یہ سچی کہانی ایک ایسے انگریز بچّے لی...