اہل بیت اطہار میں امامت کی منزل نہم پر آپ حضرت محمد بن علی رضا علیہ السلام ہیں۔ آپ کا نام ’’محمد‘‘ ہے اور مشہور لقب ’’تقی‘‘ اور ’’جواد‘‘ ہے اسی وجہ سے آپ کو امام محمد تقی یا امام محمد جواد کہا جاتا ہے۔ آپ کی کنیت ابو جعفر ہے۔ تاریخ ومقام ولادت اور شہادت: آپ کی ولادت باسعادت سن195 ہجری میں ہوئی اور آپ نے سن220 ہجری میں 25سال کی عمر میں جام شہادت نوش کیا۔ آپ نے اپنے والد کے ساتھ 7سال زندگی گزاری اور اپنے والد کی شہادت کے بعد 18سال زندہ رہے۔ والدہ ماجدہ: آپ کی والدہ ام ولد ہیں کہ جن کا نام جناب سکن ہے۔ اولاد: شیخ مفید لکھتے ہیں کہ امام محمد تقی علیہ السلام کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں بیٹے امام علی نقی علیہ السلام اور موسی ہیں جبکہ بیٹیوں کے نام فاطمہ اور امامہ ہیں۔ مامون کے ساتھ: شیخ مفید لکھتے ہیں کہ جب مامون نے دیکھا کہ امام محمد تقی علیہ السلام کے کم سنی میں ہی ظاہر ہونے والے فضائل و مناقب، علم و دانائی، تہذیب و ادب اور عقل کے کمال میں اُس زمانے کا کوئی بھی شخص برابری نہیں کر سکتا تو اس کا دل امام محمد تقی علیہ السلام کے لیے ظاہری طور پر نرم ہو گیا اور اس نے اپنی بیٹی ام فضل کی شادی امام محمد تقی علیہ السلام سے کر دی اور اسے امام کے ساتھ ہی مدینہ بھیج دیا۔
مامون ہمیشہ امام محمد تقی علیہ السلام کی بہت زیادہ تعظیم کرتا۔ عباسیوں نے مامون کو اپنی بیٹی کی شادی امام محمد تقی علیہ السلام سے کرنے سے روکا اور کہا: ہم تمہیں اللہ کا واسطہ دیتے ہیں جس کام کا تم نے ارادہ کیا ہے اسے نہ کرو، ہمیں ڈر ہے کہ کہیں حکومت ہمارے ہاتھ سے نہ نکل جائے اور ہمارے اور ابو طالب کی اولاد کے درمیان جو کچھ ہے اسے تم بخوبی جانتے ہو۔ مامون نے ان کے جواب میں کہا: جو اختلاف و دشمنی تمہارے اور ابوطالب کی اولاد میں ہے اس کا سبب تم خود ہو اگر تم انصاف سے کام لو تو وہ تم سے زیادہ افضل و اولی ہیں، میں نے محمد بن علی علیہ السلام کو اختیار کر لیا ہے کیونکہ وہ اپنی کم سنی کے باوجود تمام اہلِ علم و فضل سے برتر اور افضل ہے عنقریب وہ تمہارے سامنے آئے گا اور پھر تمہیں بھی معلوم ہو جائے گا کہ صحیح فیصلہ وہی ہے جو میں نے کیا ہے۔ عباسیوں نے کہا: وہ تو ابھی کافی چھوٹا ہے اس کے پاس علمی معرفت، فقہ اور سمجھ بوجھ نہیں ہے۔ مامون نے کہا: تمہاری بربادی ہو میں اُسے تم سے زیادہ جانتا ہوں، وہ اہل بیت میں سے ہے اور اہل بیت کا علم اللہ کی طرف سے عطا کردہ ہوتا ہے، اب تک اس کے آباء و اجداد دینی و ادبی علوم میں لوگوں سے بے نیاز ہیں اگر تم چاہتے ہو تو اس کا امتحان لے لو تاکہ تم پر بھی یہ بات واضح ہو جائے۔ عباسیوں نے کہا: ٹھیک ہے ہم اس بات پہ راضی ہیں۔
پھر عباسیوں نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ قاضی القضاۃ یعنی چیف جسٹس یحیی بن اکثم کو امام محمد تقی علیہ السلام کے مقابلے میں لایا جائے۔ مقررہ دن عباسی اپنے قاضي القضاة يحيى بن اكثم کو مامون کے دربار میں لے آئے، جبکہ مامون کے ساتھ امام محمد تقی علیہ السلام تشریف لائے، اس علمی مقابلے کو دیکھنے کے لیے دونوں کے گرد لوگوں کی بہت بڑی تعداد جمع تھی۔ یحیی بن اکثم نے امام محمد تقی علیہ السلام سے پوچھا: احرام کی حالت میں شکار کرنے والے کا کیا کفارہ ہے؟ تو امام محمد تقی علیہ السلام نے اس سے کہا: کیا اس نے حرم کے علاقے میں شکار کو مارا ہے یا حرم کے علاقہ سے باہر ایسا کیا ہے؟ کیا وہ احرام میں شکار کرنے کے حرام ہونے کو جانتا تھا یا اسے اس کا علم نہیں تھا؟ کیا اس نے جان بوجھ کر ارادی طور پر شکار کیا یا اس سے یہ کام غلطی سے ہو گیا؟ احرام میں شکار کرنے والا آزاد تھا یا کسی کا غلام تھا؟ کیا وہ کم سن تھا یا بڑا تھا؟ اس نے پہلی مرتبہ شکار کیا تھا یا بار بار شکار کر چکا تھا؟ شکار پرندہ تھا یا کو ئی اور جانور تھا؟ شکار چھوٹے پرندوں میں سے تھا یا وہ بڑا پرندہ تھا؟ شکار ی شکار کرنے پر مُصِر تھا یا اسے ایسا کرنے پہ شرمندگی تھی؟ اس نے یہ شکار رات میں کیا تھا یا دن میں؟ اس نے حج کے لیے احرام باندھا تھا یا عمرہ کے لیے؟ امام کی گفتگو سننے کے بعد یحییٰ کے ہوش اڑ گئے اُس نے اپنے ذہن میں کبھی اتنی شقیں نہیں سو چی تھیں وہ عاجز اورخاموش ہو گیا۔
مجمع میں اللہ اکبر اور لا الہ الا اللہ کی آوازیں بلند ہونے لگیں، سب پر یہ آشکار ہو گیا کہ اللہ نے اہل بیت کو علم و حکمت اور دانائی اسی طرح عطا کی ہے جس طرح اُس نے انبیاء اور رسولوں کو عطا کی تھی۔ یہ سب دیکھ کر مامون نے کہا:اِس نعمت اور توفیق پر خدا کی حمد وثنا ہے۔ پھر مامون نے اپنے خاندان والوں کی طرف متوجہ ہو کر کہا: کیا تمہیں اب اُس کی معرفت ہو گئی جس کا تم انکار کر رہے تھے ؟ عباسیوں نے کہا: تم نے جو فیصلہ کیا ہے اس کے بارے میں تم ہم سے زیادہ جانتے ہو۔ مامون نے کہا: یہ جو فضل و کمال تم دیکھ رہے ہو پوری مخلوق میں صرف اس گھرانہ کے افراد کو عطا کیا گیا ہے، ان کی کم سنی ان کے کمالات میں حائل نہیں ہوتی، رسول خدا صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے حضرت علی علیہ السلام کو جب اسلام کی دعوت دی تو وہ دس سال کے تھے رسول خدا صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے حضرت علی علیہ السلام سے ان کے اسلام کو قبول کیا اور ان کے لیے اسلام کا حکم لگایا، جس طرح سے حضرت علی علیہ السلام کو
اس کم سنی میں اسلام کی دعوت دی گئی
حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کی چند حدیثیں
امام أبو جعفر محمّد تقی الجواد بن علی بن موسی الرضا (علیہ السلام) نے فرمایا:
1۔ تین خصلتوں کی حاجت
"الْمُؤمِنُ يَحْتاجُ إلى ثَلاثِ خِصالٍ: تَوْفيقٍ مِنَ اللّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَواعِظٍ مِنْ نَفْسِهِ، وَقَبُولٍ مِمَّنْ يَنْصَحُهُ؛
مؤمن ہر حال میں تین خصلتوں کا محتاج ہے؛ توفیق اللہ کی جانب سے، واعظ اپنے اندر سے، اس شخص کی نصیحت و خیرخواہی قبول کرنا جو اس کو نصیحت کرے”۔
2۔ بھائیوں سے ملاقات
"مُلاقاةُ الإخوانِ نَشْرَةٌ، وَتَلْقيحٌ لِلْعَقْلِ وَإنْ كانَ نَزْرا قَليلا؛
ایمانی بھائیوں سے ملاقات دل کی طراوت اور نورانیت کا باعث اور عقل و درایت کی پھلنے پھولنے کا سبب ہے خواہ وہ مختصر ہی کیوں نہ ہو”۔
3۔ اشرار سے دور رہو
"إيّاكَ وَمُصاحَبَةُ الشَّريرِ، فَإنَّهُ كَالسَّيْفِ الْمَسْلُولِ، يَحْسُنُ مَنْظَرُهُ وَيَقْبَحُ أثَرُهُ؛
خیال رکھو شریر اور شرپسند افراد کی رفاقت و مصاحبت سے، کیونکہ یہ مصاحبت سونتی ہوئی تلوار کی مانند ہے جو بظاہر خوبصورت ہے لیکن اس کے اثرات قبیح اور خطرناک ہیں”۔
مومن کی فلاح امامت کے تلے زندگی گزارنے میں ہے
جواب دیںحذف کریں