شاعر اطہر نفیس کا اصل نام کنور اطہر علی خان تھا۔ وہ 1933ء میں علی گڑھ کے ایک قصبے میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم مسلم یونیورسٹی اسکول علی گڑھ سے حاصل کی اور پھر ان کا خاندان پاکستان چلا آیا جہاں کراچی میں اطہر نفیس نے ایک روزنامے میں ملازمت اختیار کرلی۔ وہ ادبی صفحہ کے نگراں رہے اور اس کام کے ساتھ ان کی مشقِ سخن بھی جاری رہی۔پنی شاعری کے حوالے سے ان کی اپنی یہ رائے ہے کہ یہ جذبات و احساسات نیز تجربات و مشاہدات کے اظہار کا ذریعہ ہے کے نزدیک ایک اچھا شاعر زندگی کی اعلیٰ اخلاقی اور تہذیبی قدروں کی نہ صرف ترجمانی کرتا ہے بلکہ انہیں اپنے اندر جینے کی بھی کوشش کرتا ہے۔ان کے کلام کے مطالعے سے ظاہر ہوتاہے کہ انہوں نے ایمانداری سے اپنے عہد کی صداقتوں کو اپنی شاعری کے توسط سے پیش کرنے کی سعی کی ہے اور مسلسل تخلیقی ریاضت سے اردو شعرو ادب میں اپنی شناخت مستحکم کی ہے۔شاعری واقعتاً ایک الہامی کیفیت ہے جس کا نزول حساس دلوں پر ہوتا ہے۔شعر گوئی کے لئے کسی سند یا تربیت کی ضرورت نہیں ہوتی۔
معروف گلوکارہ فریدہ خانم نے 60 کی دہائی میں جب ریڈیو اور بعد میں ٹیلی ویژن سے اپنی پہچان کا سفر شروع کیا تو کئی مشہور شعراء کا کلام ان کی آواز میں سنا گیا۔ ان کی گائی ہوئی غزلیں، گیت بہت پسند کیے گئے، لیکن ایک غزل نے فریدہ خانم کو ملک گیر شہرت اور مقبولیت عطا کی۔ شاعر تھے اطہر نفیس اور اس غزل کا مطلع تھا:
وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا اب اس کا حال بتائیں کیا
کوئی مہر نہیں، کوئی قہر نہیں، پھر سچّا شعر سنائیں کیا
آج اردو زبان کے اسی معتبر غزل گو شاعر اور صحافی اطہر نفیس کی برسی ہے۔ وہ 1980ء میں وفات پاگئے تھے۔ اطہر نفیس نے اپنی منفرد شاعری اور لب و لہجے سے ادبی حلقوں اور باذق قارئین میں اپنی شناخت بنائی اور پاکستان کے معروف شعراء میں سے ایک ہیں۔ فریدہ خانم کی مدھر آواز میں اطہر نفیس کی غزل اس قدر مقبول ہوئی کہ ریڈیو اور ٹیلی وژن کے ہر پروگرام میں باذوق سامعین اور ناظرین اسے سننے کی فرمائش کرتے تھے۔ گلوکارہ فریدہ خانم جب میڈیا اور نجی محفلوں میں غزل سرا ہوتیں تو ان سے یہی غزل سنانے پر اصرار کیا جاتا تھا۔
ڈاکٹر مناظر عاشق ہر گانوی اطہر نفیس کے متعلق لکھتے ہیں ’’اطہر نفیس کی غزل میں نیا ذائقہ اور نیا آہنگ ملتا ہے۔ ان کے لہجے میں نرمی ہے۔ زبان کی سادگی ان کی شاعری کا نمایاں وصف ہے۔ ان کی عصری حسیات نے نئے شاعرانہ وجدان کی تشکیل کی ہے۔ احساس کی شکست و ریخت سے ان کو حظ ملتا ہے اور اس کی ادائی ان کی شاعری کو ایک منفرد آہنگ عطا کرتی ہے۔ اطہر نفیس بھیڑ میں بھی اکیلے نظر آتے ہیں۔ اس لئے کہ ان کی آواز میں انفرادیت اور نیا پن ہے۔ وہ اپنے اظہار کیلئے نئی زمینیں تلاش کرکے لائے۔‘اردو کے اس معروف شاعر نے اپنے منفرد لب و لہجے، خوب صورت اور دل نشیں اسلوب سے ہم عصر تخلیق کاروں کے درمیان اپنی الگ پہچان بنائی۔ وہ اپنے تخلیقی وفور اور دل کش اندازِ بیان کے سبب ادبی حلقوں اور قارئین میں مقبول تھے۔ اطہر نفیس نے اردو غزل کو خیال آفرینی اور اس کے ساتھ ایک خوب صورت، لطیف اور دھیما لہجہ عطا کیا۔ اطہر نفیس کی شاعری کا مجموعہ 1975ء میں ’’کلام‘‘ کے عنوان سے شایع ہوا تھا۔
سو رنگ ہے کس رنگ سے تصویر بناؤں
میرے تو کئی روپ ہیں کس روپ میں آؤں
کیوں آ کے ہر اک شخص مرے زخم کریدے
کیوں میں بھی ہر اک شخص کو حال اپنا سناؤں
کیوں لوگ مصر ہیں کہ سنیں میری کہانی
یہ حق مجھے حاصل ہے سناؤں کہ چھپاؤں
اس بزم میں اپنا تو شناسا نہیں کوئی
کیا کرب ہے تنہائی کا میں کس کو بتاؤں
کچھ اور تو حاصل نہ ہوا خوابوں سے مجھ کو
بس یہ ہے کہ یادوں کے در و بام سجاؤں
بے قیمت و بے مایہ اسی خاک میں یارو
وہ خاک بھی ہوگی جسے آنکھوں سے لگاؤں
کرنوں کی رفاقت کبھی آئے جو میسر
ہمراہ میں ان کے تری دہلیز پہ آؤں
خوابوں کے افق پر ترا چہرہ ہو ہمیشہ
اور میں اسی چہرے سے نئے خواب سجاؤں
رہ جائیں کسی طور میرے خواب سلامت
اس ایک دعا کے لیے اب ہاتھ اٹھاؤں
وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا اب اس کا حال بتائیں کیا
کوئی مہر نہیں کوئی قہر نہیں پھر سچا شعر سنائیں کیا
اک ہجر جو ہم کو لاحق ہے تا دیر اسے دہرائیں کیا
وہ زہر جو دل میں اتار لیا پھر اس کے ناز اٹھائیں کیا
پھر آنکھیں لہو سے خالی ہیں یہ شمعیں بجھنے والی ہیں
ہم خود بھی کسی کے سوالی ہیں اس بات پہ ہم شرمائیں کیا
اک آگ غم تنہائی کی جو سارے بدن میں پھیل گئی
جب جسم ہی سارا جلتا ہو پھر دامن دل کو بچائیں کیا
ہم نغمہ سرا کچھ غزلوں کے ہم صورت گر کچھ خوابوں کے
بے جذبۂ شوق سنائیں کیا کوئی خواب نہ ہو تو بتائیں کیا
اچھا شاعر زندگی کی اعلیٰ اخلاقی اور تہذیبی قدروں کی نہ صرف ترجمانی کرتا ہے بلکہ انہیں اپنے اندر جینے کی بھی کوشش کرتا ہے۔ان کے کلام کے مطالعے سے ظاہر ہوتاہے کہ انہوں نے ایمانداری سے اپنے عہد کی صداقتوں کو اپنی شاعری کے توسط سے پیش کرنے کی سعی کی ہے اور مسلسل تخلیقی ریاضت سے اردو شعرو ادب میں اپنی شناخت مستحکم کی ہے
میری رائے میں شاعری انسان کے الہام و وجدان کی دنیا پر منحصر ہوتی ہے
جواب دیںحذف کریں