منگل، 12 اگست، 2025

یرقان کے بر وقت علاج سے کالے بخار سے بچا سکتا ہے


 


  یہ ایک ایسا مرض ہے جس میں جِلد اور آنکھ کا سفید  حصہ پیلا پڑ جاتا ہے ۔ یہ بیماری خون، جگر، یا پتے کے مسائل کی علامت بھی ہو سکتی ہے۔ یرقان کا سامنا اس وقت کرنا پڑتا جب خون میں بلی روبین کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ یہ ایک زرد سے نارنجی رنگ کا مادہ ہوتا ہے جو خون کے سرخ خلیوں میں موجود ہوتا ہے۔ جب یہ خلیےختم ہو جاتے ہیں تو جگر انہیں خون سے فلٹر کر لیتا ہے۔ لیکن اگر جگر صحیح طرح سے کام نہ کرے تو بلی روبین کی مقدار بڑھنا شروع ہو جاتی ہے جس کی وجہ  سے جِلد پیلی معلوم ہوتی ہے-یرقان کی وجوہا ت-یرقان کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں جن میں سے کچھ مندرجہ ذیل ہیں۔ہیپاٹائٹس-یہ انفیکشن ایک وائرس کی وجہ سے ہوتا ہے جو کہ مختصر وقت تک بھی لاحق ہو سکتا ہے اور دائمی بھی۔ اگر دائمی لاحق ہو تو پھر یہ چھ ماہ تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مدافعتی نظام کی کمزوری اور مخصوص ادویات کا استعمال ہیپاٹائٹس کی وجہ بن سکتی ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ہیپاٹائٹس جگر کو متاثر کر کے یرقان کا سبب بن سکتا ہے۔بعض ادویات کا استعمال-پینسیلین نامی اینٹی بائیو ٹکس، حمل روکنے والی دوائیں، اور اسٹیرائڈز کا استعمال جگر کو متاثر کر سکتا  ہے جس سے یرقان کے خطرات بڑھ جاتے ہیں

 

پت نالی میں رکاوٹ-یہ تنگ نالی ہوتی ہے جس میں سیال (پت) دوڑتا ہے۔ یہ نالی سیال کو جگر اور پتے سے چھوٹی آنت تک پہنچاتی ہے۔ کبھی کبھی یہ نالی کینسر، جگر کے امراض، یا پتے کی پتھری کی وجہ سے بند ہو جاتی ہے جس سے یرقان لاحق ہو سکتا ہے۔لبلبے کا کینسر-یہ کینسر عورتوں میں پایا جانے والا نواں جب کہ مردوں میں پایا جانے والا دسواں سب سے عام کینسر ہے۔ یہ کینسر بھی پت نالی بلاک کر سکتا ہے جس سے یرقان لاحق ہونے کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔جگر کا کینسر-جگر کا کینسر اس وقت لاحق ہوتا ہے جب جگر کے سیلز کینسر زدہ بن جاتے ہیں اور بہت زیادہ مقدار میں بننا شروع ہو جاتے ہیں۔ جگر کے کینسر کی وجہ سے بھی یرقان لاحق ہو سکتا ہے۔یرقان کی وجوہات کے ساتھ ساتھ اس کی علامات بھی مختلف ہوتی ہیں۔یرقان کی علامات-یرقان کی علامات مندرجہ ذیل ہو سکتی ہیں۔ 

 

اگر آپ کو کھانا کھانے کے بعد متلی یا قے کی لگاتار شکایت رہتی ہے تو آپ کو فوری طور پر معائنہ کروانے کی ضرورت ہے کیوں کہ متلی اور قے یرقان کی علامات ہو سکتی ہیں۔جِلد اور آنکھوں کی پیلاہٹ-جِلد اور آنکھوں کی پیلاہٹ یرقان کی سب سے عام علامت ہے۔ یرقان کی وجہ سے جِلد کا کوئی حصہ یا آنکھوں کا سفید حصہ پیلا ہو جاتا ہے۔بھوک اور وزن میں کمی ایسے افراد جو یرقان کا شکار ہوں ان کو بھوک کم لگتی ہے جس کی وجہ سے ان کا وزن تیزی سے گھٹنے لگتا ہے۔یرقان کے شکار افراد کو اکثر پیٹ درد کی شکایت رہتی ہےتھکاوٹ یرقان کی وجہ سے آپ کو جلد تھکاوٹ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تھوڑا سا کام کرنے کے بعد بھی آپ تھکاوٹ کا شکار ہو سکتے ہیں۔خارش، بخار، اور پیشاب کا گہرا رنگ -یرقان کی وجہ سے جسم کے کسی بھی حصے پر خارش کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جب کہ بخار کی علامات بھی ظاہر ہو سکتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یرقان کے مریضوں میں پیشاب کا رنگ بہت گہرا ہو جاتا ہے۔یرقان کی علامات کے دوران عمومی طور پر ادویات تجویز نہیں کی جاتیں اور گھریلو علاج کے ذریعے اس کی علامات کو کنٹرول کیا جاتا ہے۔


 

ہلدی کا استعمال-ہلدی اینٹی آکسیڈنٹس خصوصیات سے بھرپور ہوتی ہے جس سے جگر کے سیلز مضبوط ہوتے ہیں-کد دو کو ٹکڑوں میں کاٹ کر شوربے دار پکائیں۔ کوشش کریں کہ اس شوربے میں چکنائی نہ ہو۔ بہترین ذائقے کے لیے سفید زیرہ، دھنیا، ادرک، ہلکا سا نمک، کالی مرچ، اور لہسن شامل کیا جا سکتا ہے۔ جب کہ ہری یا سرخ مرچ، کھٹائی، اور کسی بھی قسم کا گرم مصالحہ شامل کرنے سے گریز کریں۔ بھوک لگنے کی صورت میں کدو کے ٹکڑے کھا کر شوربہ پی لیں۔کھیرے کے استعمال سے معدے اور جگر کی گرمی ختم ہوتی ہے اس لیے یرقان کے دوران اس کا استعمال نہایت مفید ہوتا ہے۔ آپ کھانے سے پہلے کھیرے پر کالا نمک بھی چھڑک سکتے ہیں

 

ادرک-تھوڑی سی ادرک، پودینہ کی دس پتیاں، اور سونف ایک چائے کا چمچ ایک کپ پانی میں شامل کر کے قہوہ بنا لیں اور دن میں تین سے چار مرتبہ استعمال کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ پسی ہوئی ادرک، ایک چمچ پانی، لیموں، پودینے کا عرق، اور ایک شہد کا چمچ شامل کر کے آمیزہ بنا لیں اور اس آمیزے کو بھی دن میں تین سے چار مرتبہ استعمال کریں۔ارجن کے پتے-شام کے وقت ارجن کے پتے پانی میں بھگو دیں۔ صبح انہیں پانی میں مکس کرنے کے بعد چھان کر پی لیں۔ صبح کے وقت پھر ان پتوں کو بھگو دیں اور شام کے وقت استعمال کر لیں۔مولی-یرقان کا شکار افراد کے لیے یہ سبزی نہایت مفید ہے۔ اسے کچا کھائیں۔ اس کے ساتھ آپ گُڑ بھی استعمال کر سکتے ہیں تا کہ یہ جلدی ہضم ہو جائےگاجر-اس مرض میں مبتلا مریضوں کے لیے گاجر کا مربہ بہت مفید ثابت ہوتا ہے۔ مربہ آپ گھر پر بھی بنا سکتے ہیں اور بازار سے بھی خرید سکتے ہیں۔ ہر روز دو چمچ مربہ کھانے کے بعد سونف اور سبز الائچی کا قہوہ پی لیں۔لیموں -ہر روز دو سے تین لیموں کا رس پانی میں استعمال کرنے سے کچھ دنوں میں یرقان کی علامات ختم ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔انار-یرقان کی علامات کے دوران انار کا رس بھی نہایت مؤثر ثابت ہوتا ہے۔ ہر روز رات کو اس کا رس استعمال کرنے سے علامات میں واضح کمی آئے گی۔ اس مرض میں  گنے کے رس کا استعمال نہایت شفاء بخش ہوتا ہے۔

ایک بات زہن نشین کر لیجئے کہ یرقان کا مرض بگڑ جائے یا  مریض اپنے مرض سے ہی لا علم ہو  تب کالا بخار ہوتا ہے 

پیر، 11 اگست، 2025

مراکش کی مقدس ترین زیارت گاہ

 مراکش میں مولائے  إدريس جبل زرہون‘ کے دامن میں واقع ایک چھوٹا سا قصبہ ہے۔یہ المغرب کے پہلے بڑے مسلمان حکمران ادریس بن عبداللہ کی قبر کی جگہ ہونے کی وجہ سے مشہور ہے، جن کے نام پر اس قصبے کا نام رکھا گیا ہے۔یہ مکناس کے قریب واقع ہے اور چند کلومیٹر دور ولیلی کے کھنڈر کے قریب ہے مراکش کے اس مقدس‘ قصبہ جس کے کچھ حصوں میں عمارتیں سبز و سفید اور راہداریاں اور زینے مختلف  رنگوں سے مزین نظر آتی ہیں، 1912 تک ا قصبے میں غیرمسلموں کا داخلہ مکمل طور پر ممنوع تھارنگوں اور روایتوں میں ڈوبا یہ چھوٹا سا قصبہ صدیوں تک بیرونی دنیا کی نگاہوں سے اوجھل رہا ہے۔ ’یہ قصبہ مولائے   ادریس زرہون  مراکش کے شہر ’شیفشاون‘ سے تین گھنٹے کی مسافت پر ہے-


تاریخی طور پر غیر مسلموں کے لیے بند ہونے اور براہ راست یہاں تک ٹرین کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے مولائے ادریس سیاحوں کی نظروں سے اوجھل رہا ہے۔ اس رنگ برنگے قصبے کا مراکش کی پہلی اسلامی سلطنت کے بانی ادریس اول سے تعلق ہے اور مولائے ادریس کو مراکش کی مقدس ترین زیارت گاہ تصور کیا جاتا ہے۔اگر آپ مولائے ادریس زیارت کے لیے آئیں، تو یہ ایسا ہی ہے جیسے آپ نے سعودی عرب کے شہر مکہ کی زیارت کی ہو۔‘اپنے شاندار رنگوں اور مقدس حیثیت کے باوجود، یہاں کی زندگی سادہ، خاموش اور روایتوں میں رچی بسی ہے۔ اس قصبے میں غیرمسلموں کے داخلے پر عائد پابندی سنہ 1912 میں ختم کر دی گئی تھی اور اب مراکش کے تیز رفتار ریلوے نظام میں بہتری کے ایک منصوبے کے تحت یہاں آنا مزید آسان ہو جائے گا، کیونکہ اس قصبے کے قریب واقع شہر ’مکناس‘ میں ایک نیا ریلوے سٹیشن بنایا جا چکا ہے۔



عماد المیلودی کہتے ہیں: کہ ’ہم مزید زائرین کے منتظر ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ دنیا کو مراکش کے اس اہم شہر کے بارے میں پتہ چلے۔‘کھنڈرات میں پناہ -یہ شہر سترہویں صدی میں آباد ہونا شروع ہوا تھا -سنہ 786 میں ایک ناکام بغاوت کے بعد مراکش کی پہلی اسلامی سلطنت کے بانی ادریس اول یعنی ادریس بن عبداللہ (جن کا نسب پیغمبر اسلام کے خاندان سے جا ملتا ہے) نے ولوبیلس یا ولیلی نامی کھنڈرات کو اپنا مرکز بنایا تاکہ وہ اسلام کی تبلیغ کر سکیں۔سنہ 791 میں زہر دیے جانے کے سبب ادریس اول کی موت واقع ہو گئی اور انھیں ان کھنڈرات سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر دفنایا گیا۔ کچھ ہی عرصے بعد ان کے پیروکاروں نے اُن کی قبر کے گرد گھر بنانا شروع کیے، جس سے اس قصبے کی بنیاد پڑی۔آج ولیلی کے کھنڈرات میں ستونوں، قدیم گھروں، عوامی حماموں اور نقش و نگار سے مزین در و دیوار کی باقیات، زرد پھولوں سے بھرے کھیتوں، زیتون اور انگوروں کے باغات کے بیچ، بکھری ہوئی ہیں۔ 


پہلے لوگ یہاں زرخیز زمین کی وجہ سے آباد ہوئے۔ ان کے پاس سب کچھ تھا۔‘مقدس شہروں کا مرکزاس قصبے کا وہ مقام جہاں سے آگے آج بھی غیر مسلموں کا داخلہ ممنوع ہےجیسے جیسے مولای ادریس نے ترقی کرنا شروع کی یہ تیزی سے مراکش کا سب سے اہم مذہبی شہر بنتا گیا۔ اس کی تقدیس کو برقرار رکھنے کے لیے، اس میں غیرمسلموں کے داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی جو سنہ 1912 تک نافذ العمل رہی۔اس کے بعد بھی یہاں غیرمسلموں کو رات گزارنے کی اجازت نہیں تھی تاہم سنہ 2005 میں مراکش کے بادشاہ حمد ششم کے حکم پر غیر مسلموں کو یہاں رات گزارنے کی اجازت دی گئی۔ اس اجازت کا مقصد مغربی تہذیبوں اور مراکش کے درمیان فاصلے کم کرنا اور مولای ادریس کو دنیا کے سامنے متعارف کروانا  ضروری سمجھا گیا تھا۔


تاہم اس کے باوجود اس قصبے کے کچھ سب سے مقدس مقامات آج بھی صرف مسلمانوں کے لیے مخصوص ہیں، جیسے ادریس اول کا مزار اور اُن سے منسلک مسجد۔ قصبے کے مرکزی چوک سے ایک محرابی راستے کے ذریعے آپ چمکدار سفید فرش پر چلتے ہوئے مسجد اور مزار کے اندر جاتے ہیں، یہاں وہ مقام ہے جہاں سے آگے غیرمسلموں کا داخلہ ممنوع ہے اور اس کے آگے صرف مسلمان ہی جا سکتے ہیں۔اذان کی آواز-مقامی گیسٹ ہاؤس میں میرے میزبانوں میں سے ایک صاحبہ ضاحک مجھے کئی پُرپیچ راستوں سے گزارتے ہوئے مسجد کے سامنے ایک عام نظروں سے اوجھل مقام پر لے گئیں۔ یہاں اذان کی آواز تنگ گلیوں میں گونج رہی تھی۔ محراب دار کھڑکیوں سے ہم نے چند نمازیوں کو مسجد کی طرف جاتے ہوئے دیکھا۔جب ہم سبز و سفید پتھروں سے بنی ایک راہداری سے مسجد کو دیکھ رہے تھے تو انھوں نے کہا کہ ’رمضان میں یہ راہداریاں نمازیوں سے بھری ہوتی ہیں۔ اور ماہ اگست میں، مولای ادریس کی تعظیم میں ایک تہوار منایا جاتا ہے جس میں پورے مراکش سے مسلمان شریک ہوتے ہیں۔ اس تہوار کے دوران لوگ زمین پر سوتے ہیں، اور موسیقی سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔


اتوار، 10 اگست، 2025

راک فیلر-جو مرتے مرتے بھی جی گیا حصہ دوم

 


''  اب وہ مصمم ارادہ کر چکا تھا کہ وہ اب اپنی زندگی اور اپنی دولت  فلاحی کاموں میں خرچ کرے گا ۔اس نے ''راک فلر فاؤنڈیشن'' کی بنیاد رکھی کیونکہ  فیلر جا  ن چکا تھا کہ دنیا میں بے شمار اچھے کام ہیں جن کو انجام دینے سے  دلی سکون اور راحت حاصل کی جا سکتی  ہے اس نے سوچا صرف تریپن برس کی عمر میں اس کے پاس صرف وہ دولت  ہے جو اس کی زندگی نہیں خرید سکتی ہے  اس کی صحت اور زہنی سکون نہیں خرید سکتی ہے ،اس نے بار بار سوچا اور  اس نتیجے پر پہنچا کہ انسان کی زندگی اور اس کی تمام حرکات سکنات کا ملک ایک اس زات سے  ہے جس کے پاس اختیارات کی کنجی ہے پھر اس نے    ان فلاحی تنظیموں کے بارے میں  سوچا ، جنہیں باشعور اور دانشمند اور انسانیت  کے لئے درد رکھنے والے انسان چلا رہے ہیں، یہ لوگ  مختلف علوم و فنون میں تحقیقات کرتے ہیں، کالج  اور دوسرے ادارے قائم کرتے  جاتے ہیں۔ کسی بیماری کا تدارک کرنے کے لیے ڈاکٹرز جدوجہد کرتے ہیں۔ لیکن اکثر اوقات یہ اعلیٰ پائے کا کام محض روپے کی کمی کی وجہ سے ادھورا اور نامکمل رہ جاتا ہے۔ اس نے انسانیت کے ان  مسیحا ؤں  کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا۔  انہیں مالی مدد دینے کا تاکہ وہ اپنی مدد آپ کرسکیں۔



جب ڈاکٹروں نے راک فیلر کی زندگی بچانے کی ذمہ داری قبول کی، تو انہوں نے اسے تین اصول بتائے، جن پر وہ آخری دم تک حرف بہ حرف عمل کرتا رہا اور وہ اصول مندرجہ ذیل ہیں۔- فکر و تردد سے گریز کریں۔ کسی حالت میں بھی کسی چیز کے متعلق پریشان نہ ہوں۔ اپنے جسم کو آرام پہنچائیے اور کھلی ہوا میں کافی دیر تک ہلکی ورزش کریں۔ اپنی خوراک کا خاص خیال رکھیں۔ جب ابھی تھوڑی سی بھوک باقی ہو، کھانے سے ہاتھ کھینچ لیں۔جان ڈی راک فیلر ان اصولوں پر عمل کرنے لگا اور غالباً انہی نے اس کی جان بچائی، وہ کام سے سبکدوش ہوگیا۔ اس نے گولف کھیلنا سیکھا۔ وہ باغبانی میں دلچسپی لینے لگا اور اپنے پڑوسیوں سے ہنسی مذاق کرنے لگا۔ وہ مختلف قسم کے کھیل کھیلنے اور گیت گنگنانے لگا۔ 


لیکن اس نے اس کے علاوہ بھی کچھ کیا اذیت کے ایام اور بے خوابی کی راتوں کے دوران میں جان کو سوچنے کا موقع ملا۔ وہ دوسرے لوگوں کے متعلق سوچنے لگا۔ اس نے فوراً سوچنا چھوڑ دیا کہ وہ کس قدر روپیہ کما سکتا ہے، اس کے بجائے وہ سوچنے لگا کہ وہ روپے کے عوض کس طرح انسانی مسرت خرید سکتا ہے۔''اس نے ''راک فلر فاؤنڈیشن'' کی بنیاد رکھی۔ ۔ آج آپ اور میں راک فیلر کے شکر گزار ہیں کہ اس نے پنسلین اور درجنوں معجزاتی دریافتوں سے دنیا کو مستفید ہونے کے مواقع بہم پہنچائے۔ اس کی دولت نے انہیں معرض وجود میں لانے اور پھلنے پھولنے میں مدد دی۔اور پھر راک فیلر کا کیا بنا؟ جب وہ اپنی دولت تقسیم کرنے لگا تو کیا اسے ذہنی سکون مل گیا؟ ہاں آخر کار وہ بالکل مطمئن ہوگیا۔ ایلن نیونز کا کہنا ہے،''اگر 1900ء کے بعد بھی لوگ سمجھیں کہ وہ سٹینڈرڈ آئل کمپنی کی مخالفت کے متعلق سوچ رہا تھا تو وہ سخت غلطی پر ہیں۔



'' راک فیلر خوش تھا، اس میں مکمل تبدیلی آچکی تھی۔ وہ اب بالکل پریشان نہیں ہوتا تھا۔ حتیٰ کہ جب اسے اپنی زندگی کے سب سے بڑے نقصان کو قبول کرنے پر مجبور ہونا پڑا تو یہ حقیقت ہے کہ اس نے ایک رات کی نیند بھی گنوانے سے انکار کردیا۔ اس کا اسے اس وقت سامنے کرنا پڑا جب اس کی قائم کردہ عظیم الشان کارپوریشن، سٹینڈرڈ آئل کو،''تاریخ کا سب سے بڑا جرمانہ'' ادا کرنے کا حکم دیا گیا۔ حکومت امریکا کے دعوے کے مطابق سٹینڈرڈ آئل ایک اجارہ دار کمپنی تھی، جو انٹی ٹرسٹ قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتی تھی۔ یہ عدالتی جنگ پانچ سال تک جاری رہی۔ ملک کے بہترین قانونی دماغوں نے اس مقدمے میں حصہ لیا، جسے اس وقت تاریخ کا سب سے بڑا عدالتی مقدمہ کہا جاتا تھا۔ لیکن سٹینڈرڈ آئل کو شکست ہوئی جب جسٹس کینے ٹاؤماؤنٹین لینڈس نے اپنے فیصلے کا اعلان کیا، راک فیلر کے وکیلوں کو اندیشہ ہوا کہ وہ اسے برداشت نہیں کرسکے گا۔


 لیکن وہ نہیں جانتے تھے کہ راک فیلر میں کتنی بڑی تبدیلی آچکی ہے۔ اس شام کو ایک وکیل نے اسے فون کیا اور جس قدر ممکن تھا، نرم ترین لہجے میں اس کے ساتھ اس موضوع پر بات چیت کی اور پھر متفکر ہوکر کہا۔''مجھے امید ہے کہ آپ کو یہ فیصلہ بے چین نہیں کرے گا، مسٹر راک فیلر، مجھے امید ہے کہ آپ رات کو اچھی طرح سو سکیں گے۔'' اس نے فوراً سے ٹیلی فون پر جواب دیا۔''مسٹر جانسن فکر نہ کیجئے۔ میں رات کو سونا چاہتا ہوں اور آپ کو بھی پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اچھا شب بخیر۔''یہ اس شخص کے الفاظ ہیں جو ایک دفعہ محض اس لیے بیمار ہوگیا تھا کہ اسے ڈیڑھ سو ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ ہاں جان راک فیلر کو اپنے تفکرات، اپنی پریشانیوں اور اپنی الجھنوں پر غالب آنے میں کافی وقت لگا۔ وہ 53 سال کی عمر میں موت کی آغوش میں جارہا تھا لیکن وہ 97سال تک زندہ رہا۔یہ نئی سمت بالآخر پینسلین کی دریافت کا باعث بنی، ملیریا، تپ دق اور خناق کا علاج۔ اپنی موت سے پہلے، اس نے اپنی ڈائری میں  لکھا، *"سپریم انرجی نے مجھے سکھایا، کہ سب کچھ اس کا ہے، اور میں اس کی خواہشات کی تعمیل کرنے کے لیے صرف ایک چینل ہوں۔میری زندگی ایک طویل، خوشگوار چھٹی رہی؛  کام اور کھیل سے بھرپور۔میں نے پریشانی کو راستے میں چھوڑ دیا اب میں تھا اور میرا خدا تھا_میرے لیے ہر دن اچھا تھا۔ 

راک فیلر-جو مرتے مرتے بھی جی گیا حصہ اول





  جان ڈی راک فیلر سینئر 33 سال کی عمر میں لکھ پتی بن چکا تھا اور 43 سال کی عمر میں اس نے دنیا میں تیل کی سب سے بڑی کمپنی، سٹینڈرڈ آئل کمپنی، قائم کرلی تھی۔لیکن 53 ویں سال وہ کہاں تھا؟ 53 سال کی عمر میں پریشانیاں اس پر غالب آچکی تھیں۔ تفکرات اور اعصاب زدگی کی زندگی اس کی صحت کا پہلے ہی دیوالیہ نکال چکی تھی۔ اس کے ایک سوانح نگار جان کے ونکر کے الفاظ میں،''53 سال کی عمر میں وہ ایک حنوظ شدہ نعش کی مانند نظر آتا تھا۔'' 53 سال کی عمر میں ہاضمے اور معدے کی عجیب و غریب اور پراسرار بیماریوں نے راک فیلر پر حملہ کیا اور پلکوں سمیت اس کے سارے بال گرادیئے۔ صرف اس کی بھنوؤں کی ہلکی سی لکیر باقی رہ گئی۔ ونکر لکھتا ہے،''اس کی حالت اس قدر خطرناک ہوچکی تھی کہ وہ صرف دودھ پر گزارہ کرنے پر مجبور ہوگیا۔''عالم شباب میں راک فیلر کی جسمانی بناوٹ آہنی تھی۔


 اس نے ایک زراعتی فارم پر پرورش پائی تھی اور اس زمانے میں اس کے بازو تنومند، اس کی کاٹھی مضبوط اور سیدھی، اس کی ٹانگیں لکڑی کی طرح سخت اور چال میں چستی چالاکی اور بندر کی سی پھرتی تھی۔ لیکن صرف53 سال کی عمر میں، جب اکثر لوگ بھرپور صحت مند زندگی گزار رہے ہوتے ہیں، اس کے کندھے خمیدہ ہوگئے اور اس کی چال میں لڑکھڑاہٹ پیدا ہوگئی۔ حالت اس قدر خطرناک ہوچکی تھی کہ وہ صرف دودھ پر گزارہ کرنے پر مجبور ہوگیاراک فیلر 53 سال کی عمر میں موت کے قریب پہنچ کر بھی وہ 97 برس کیسے زندہ رہا؟ اس کا ایک دوسرا سوانح نگار جان۔ ٹی۔ فلین کہتا ہے،''جب اس نے آئینے میں اپنی صورت دیکھی تو اسے ایک بوڑھا آدمی نظر آیا۔ مسلسل کام، پیہم پریشانیاں، بے خواب راتیں، گالیوں کی بوچھاڑ، ورزش اور آرام کی عدم موجودگی اپنا رنگ دکھانے لگے۔'' انہوں نے اس کے جسم کا رس نکال لیا اور اسے گھٹنوں پر جھکا دیا۔



 وہ اب دنیا کا امیر ترین شخص تھا۔ پھر بھی اسے ایسی خوراک پر گزر بسر کرنی پڑتی جسے ایک بھکاری بھی ٹھکرا دے۔ اس کی ہفتہ وار آمدنی 10 لاکھ ڈالر تھی۔ لیکن جو کچھ وہ کھاتا تھا، اس پر ایک ہفتے میں غالباً دو ڈالر سے زیادہ خرچ نہیں آتا تھا اور وہ کھاتا کیا تھا؟ دودھ اور چند بسکٹ۔ ڈاکٹروں نے اسے صرف یہی کھانے کی اجازت دی تھی۔ اس کی جلد کا رنگ اڑ چکا تھا۔ اسے سوائے معجزاتی علاج کے دنیا کی ایسی کوئی چیز نہ بچا سکتی تھی، جسے پیسوں سے خریدا جا سکتا ہو۔یہ سب کیسے ہوا؟ پریشانیاں، تفکرات، صدمات، دباؤ اور کشمکش کی زندگی اور اعصابی تناؤ اس چیز کے ذمہ دار تھے۔ سچ پوچھیے تو وہ موت کی آغوش میں پہنچ چکا تھا۔ 23 سال کی عمر میں بھی راک فیلر اتنے آہنی عزم کے ساتھ اپنے نصب العین کے پیچھے لگا ہوا تھا کہ اس کے جاننے والوں کے الفاظ میں ''اچھے سودے کی خبر کے سوا کوئی چیز اس کے چہرے کو گداز نہ کرسکتی۔'' جب اسے کہیں سے معقول منافع ہوتا تو وہ ایک عجیب و غریب قسم کا جنگی رقص کرتا۔


 اپنی ٹوپی اتار کر فرش پر پھینک دیتا اور ناچنے لگتا۔ لیکن اگر اسے خسارہ ہوتا تو وہ بیمار پڑجاتا۔ اس نے ایک دفعہ گریٹ لیکس کے راستے 40 ہزار ڈالر کا اناج ایک دخانی جہاز پر باہر بھیجا۔ اس کا بیمہ نہیں کرایا گیا تھا کیونکہ رقم ''بہت زیادہ'' تھی۔ کتنی؟ ایک سو پچاس ڈالر۔ اس رات جھیل ایری میں خوفناک طوفان آیا۔ راک فیلر جہاز کے تباہ ہونے کے متعلق اس قدر متردد اور پریشان تھا کہ جب اس کا شریک کار جاج گارڈنر صبح کے وقت دفتر پہنچا تو اس نے دیکھا کہ راک فیلر نہایت بے قراری سے فرش پر ٹہل رہا ہے۔جلدی کرو،'' اس نے کانپتی ہوئی آواز میں کہا،''اگر دیر نہ ہوگئی ہو تو جلد از جلد جہاز کا بیمہ کرا لو- گارڈنر شہر کی طرف بھاگا اور بیمہ کرا آیا۔ لیکن وہ واپس دفتر پہنچا تو اس نے راک فیلر کو پہلے سے بھی بدترین حالت میں دیکھا۔ گارڈنر کی عدم موجودگی میں ایک تار آیا تھا کہ جہاز لنگر انداز ہوچکا ہے اور طوفان سے بالکل صحیح سلامت نکل آیا ہے۔


اس کی حالت بہت خراب ہوچکی تھی کیونکہ اس نے ڈیڑھ سو ڈالر خوامخواہ ضائع کردیئے تھے۔ اسے اس ''نقصان عظیم'' کا اس قدر صدمہ پہنچا کہ وہ شدید بخار میں مبتلا ہوگیا اور اسے گھر جاکر آرام کرنا پڑا۔جب ڈاکٹروں نے راک فیلر کی زندگی بچانے کی ذمہ داری قبول کی، تو انہوں نے اسے تین اصول بتائے، جن پر وہ آخری دم تک حرف بہ حرف عمل کرتا رہا اور وہ اصول مندرجہ ذیل ہیں1 فکر و تردد سے گریز کریں۔ کسی حالت میں بھی کسی چیز کے متعلق پریشان نہ ہوں۔-2 اپنے جسم کو آرام پہنچائیے اور کھلی ہوا میں کافی دیر تک ہلکی ورزش کریں۔-3 اپنی خوراک کا خاص خیال رکھیں۔ جب ابھی تھوڑی سی بھوک باقی ہو، کھانے سے ہاتھ کھینچ لیں۔جان ڈی راک فیلر ان اصولوں پر عمل کرنے لگا اور غالباً انہی نے اس کی جان بچائی، وہ کام سے سبکدوش ہوگیا۔ اس نے گولف کھیلنا سیکھا۔ وہ باغبانی میں دلچسپی لینے لگا اور اپنے پڑوسیوں سے ہنسی مذاق کرنے لگا۔ وہ مختلف قسم کے کھیل کھیلنے اور گیت گنگنانے لگا۔ لیکن اس نے اس کے علاوہ بھی کچھ کیا۔ ونکلر لکھتا ہے،''اذیت کے ایام اور بے خوابی کی راتوں کے دوران میں جان کو سوچنے کا موقع ملا۔ وہ دوسرے لوگوں کے متعلق سوچنے لگا۔ اس نے فوراً سوچنا چھوڑ دیا کہ وہ کس قدر روپیہ کما سکتا ہے، اس کے بجائے وہ سوچنے لگا کہ وہ روپے کے عوض کس طرح انسانی مسرت خرید سکتا ہے۔

 

لال سوہانرا نیشنل پارک، صوبہ پنجاب ضلع بہاولپور

 




  کیا  نہیں ہے میرے وطن میں شور مچاتے دریا   گنگناتے آبشار فلک بوس پہاڑ'گھنے جنگل  طویل ساحل بس اگر کمی ہے تو ایمان دار لوگوں کی جو اس وطن کوسنوار دیں -چلئے اس موضوع کو پھر کبھی دیکھیں گے ابھی تو میں بھاولپور کے ضلع میں واقع ایک خوبصور ت پارک  کی بابت بتانا چاہوں گی اس پار ک کا نام ہے  لال سوہانرا نیشنل پارک،یہ صوبہ پنجاب کے ضلع بہاولپور میں32کلومیٹر شمال میں واقع ہے۔اس کا رقبہ ایک لاکھ24ہزار480ہیکٹرز پر مشتمل ہے۔ بتایا جاتا ہے کیونکہ اس میں مقامی آبادی بھی ہے ،صحرائی اور میدانی علاقے بھی ہیں اور گھنے جنگل اور بنجر علاقے بھی۔نہریں بھی ہیں اور بے آباد  ویرانے بھی۔بتایاجاتا ہے کہ لال سوہانرا نیشنل پارک کو کالے ہرن کے تحفظ کے لئے قائم کیا گیا تھا جو اس علاقے سے نا پید ہوچکے تھے۔ ورلڈ وائلڈ فنڈ فارنیچر کی اپیل کے جواب میں امریکہ سے جنگلی حیات کے حامیوں نے دس کالے ہرنوں کو ان کے اصل مسکن چولستان کے صحرائی علاقے میں بھیجا     



:سفاری پارک:یہ حقیقت بھی دلچسپی کا باعث ہے کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکی فضائیہ کا ایک افسر بہاولپور سے سیاہ ہرنوں کا تحفہ امریکہ لے گیا تھا اور اب وہاں ان کی تعداد 50ہزار سے زائد ہوچکی ہے جبکہ پاکستان میں اندھا دھند شکار کے باعث اس کی نسل ختم ہو گئی ہے۔ دراصل امریکہ سے کالے ہرنوں کا تحفہ امریکی فضائیہ کے افسر کو دئیے گئے تحفے کی واپسی تھی۔ ورلڈ وائلڈ فنڈ کی ایک اور اپیل کے جواب میں ہالینڈ کے بچوں نے اپنا جیب خرچ چندے میں دے کر12فٹ بلند اور70کلومیٹر طویل تار کی جالیاں تحفے میں دیں تاکہ کالے ہرن کی قیمتی اور نایاب نسل کی مزید افزائش کے لئے لال سوہانرا نیشنل پارک میں حفاظتی جنگلے بنائے جاسکیں۔ چنانچہ اس عطیے سے 18 کلو میٹر، 9کلومیٹر اور 8 کلو میٹر کے رقبے کے چار بڑے انکلوژر بنائے گئے۔ ان محفوظ باڑوں میں کالے ہرن کی تعداد اپریل1996 ء میں325 کے لگ بھگ تھی۔سیاہ ہرن کی افزائش نسل گھنے جنگل میں ممکن نہ تھی اس طرح شکاری ان کو ہر گز نہ چھوڑتے۔ حالانکہ انکلوژر میں بھی وہ شکاریوں کے دست برد سے محفوظ نہیں ہیں



حکومت پنجاب نے منصوبہ بنایاہے کہ یہاں معیاری قسم کا سفاری پارک قائم کیاجائے یہاں شیروں کے لیے قدرتی ماحول بنایاجائے گا تاکہ سیاح شیروں کو ان کے اصلی مسکن میں قریب سے دیکھ سکیں اس کے علاوہ نیپال سے لائے گئے گینڈوں کے لیے نسل میں اضافہ کے لیے ایک مرکز بھی ہے جو پاکستان میں معدوم ہے تقریباََ400 سے زائد جنگلی جانوروں اور پرندوں کی نسل افزائش کے لیے کام کیاجا رہاہے مثلاََ کالا ہرن، جو پاکستان میں خطرناک حد تک کم ہو رہاہے۔ یہ پارک آبی حیا ت سے مالا مال ہے  -ان میں سے کچھ کا تعارف اس طرح ہےیہ پارک جنگلی حیات (جنگلی پرندوں اور جنگلی جانوروں) سے بھر پور ہے۔ جنگلی بلی،خرگوش،تلور،ہرن، چھپکلیاں، سانپ، کوبرا، عقاب،شاہین،گدھیں،روسی عقاب،چڑیاں،الو یہاں بہت بڑی تعداد میں موجود ہیں،اس کے علاوہ تالابوں اور جھیلوں میں پانی کےجانور(مچھلیاں،کچھوے) بھی پائے جاتے ہیں یہاں تقریباََ 10 ہزار سے 30 ہزار تک آبی پرندوں کی آمدورفت جاری رہتی ہے

 


لیکن اس طرح پھر بھی ان کی حفاظت اور دیکھ بھال نسبتاً آسان ہو گئی ہے۔ سیاہ ہرن کو ان وسیع و عریض انکلوژرز میں چنکاراGazellاور نیل گائے کے ساتھ رکھا گیا ہے۔ اس پارک میں جنگلی حیات کی اقسام میں کالے ہرن کے علاوہ ہرن کے سہیہ، بھیڑیا، لومڑی، صحرائی لومڑی، گورپٹ، مشک بلاؤ،سرمئی نیولا،قراقال،بلی،صحرائی بلی،کلغی والاخارپشت، بڑے خرگوش، کالا تیتر، بھورا تیتر، کونک، بڑااُلو،چتی دار چھوٹا الو، کچھوے،چتی سانپ، سنگھاڑاور کھگا مچھلی شامل ہیں۔لال سوہانرا نیشنل پارک میں داخل ہوں تو ایک پختہ سڑک دور تک بل کھاتی جاتی ہے۔ تھوڑے فاصلے پر بہاول نہر ایک پیڈ ریگولیٹر کی مدد سے کئی شاخوں میں تقسیم ہوتی ہے جس کے بائیں جانب چلڈرن پارک ہے جہاں جھولوں اور سبزہ زار کے علاوہ مختلف حیوانوں کے جنگلے ہیں جن میںہندوستان نسل کے گینڈے، چنکارا، مختلف پرندے اور بندروغیرہ رکھے گئے ہیں۔

ہفتہ، 9 اگست، 2025

ہائے ! پیاسی ہے سکینہ

 




 


سرکا دو عالم صلی اللہ علیہ واِ لہ وسلم  کی آنکھوں کی ٹھنڈک بی بی فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اور اما م حسین علیہ السلام کی آنکھوں کی ٹھنڈک بی بی سکینہ ہیں ،حبیبِ خدا، رحمت العالمین، محمد مصطفٰی    صلی اللہ علیہ واِ لہ وسلم  کے چھوٹے اور لاڈلے نواسے ، علی و فاطمہ (س) کے دل کا چین، نورِ عین شافیِ محشر حضرت امام حسین علیہ السلام نے فرمایا کہ سکینہ میری نمازِ شب کی دعاؤں کا نتیجہ ہے ۔بی بی سکینہ (س) ۲۰ رجب ۵۶ ھجری میں اس جہانِ فانی میں متولد ہوئیں سکینہ کے معنی ہیں قلبی و ذہنی سکون۔ پر یہ بچی سکون سے نہ رہ سکی ناز و نعم سے پلی، باپ کے سینے پر سونے والی اپنی پھوپیوں کی چہیتی                                            پیاری سکینہ - سال ہی میں یتیم ہو گئیں   ہمارے لاکھوں سلام اس معصومہ پر جو عاشور کے دن ڈھلنے تک اپنے سے چھوٹے بچوں کو یہ کہہ کر دلاسہ دیتی رہی کہ ابھی چچا پانی لائیں گے۔ معصوم کو کیا خبر تھی کہ اس کے چچا عباس تو آج نہر کے کنارے اپنے بازو کٹائیں گے۔عصرِ عاشور سے پہلے جنابِ عباس کی شہادت کے بعد سکینہ خاموش ہوگئی اور پھر موت کے وقت تک پانی نہ مانگا کیونکہ سکینہ کو آس تھی کہ چچا عباس ہی پانی لائیں گے تاریخ گواہ ہے کہ شہادتِ جنابِ عباس علمدار   کے بعد العطش العطش (ہائے پیاس ہائے پیاس) کی صدائیں نہیں آئیں۔مقتل میں لکھا ہے کہ جب ۱۱محرم 61 ھجری کو آلِ اطہار کو پابندِ سلاسل کر بازاروں سے گزارا گیا و اس معصوم کو سب سے زیادہ تکلیف اٹھانی پڑی کربلا سے کوفہ اور کوفہ سے شام اور ۔۔ پھر زندانِ شام کہ آخری آرامگاہ بھی وہی قیدخانہ بن گیا۔ ایک روز جب بی بی سکینہ اپنے بابا کو بہت یاد کررہی تھیں اور بہت آہ و بکا کیا ۔  تمام بیبیاں رو رہی تھیں یزید نے پریشانی کے عالم میں پوچھا کہ کیا معاملہ ہے اس کو بتایا گیا کہ حسین ابنِ علی کی چھوٹی بچی اپنے بابا کو یاد کر کے رو رہی ہے ۔


  یزید ملعون نے اپنے حواریوں سے پوچھا کہ اس کو کس طرح خاموش کیا جائے یزید کو بتایا گیا کہ اگر سرِ حسین (ع) زندان میں بجھوادیں تو یہ بچی خاموش ہوجائے گی ، پھر ایسا ہی ہوا سرِ امام حسین علیہ السلام  زندان میں لایا گیا ۔۔۔ اک حشر برپا ہوا ، تمام بیبیاں احتراماً کھڑی ہوگئیں۔سید سجاد ، عابدِ بیمار طوق و زنجیر سنبھالے بابا حسین کے سر کو لینے آگے بڑھے سکینہ کی گود میں جب بابا کا سر آیا بے چینی سے لرزتے ہونٹ امامِ عالی مقام کے رخسار پر رکھ دیے ، کبھی ماتھا چومتی کبھی لبوں کا بوسہ لیتیں روتی جاتیں اور شکوے کرتی جاتیں۔بابا ۔بابا مجھے طمانچے مارے گئے ۔ بابا میرے کانوں سےگوشوارے چھینے گئے ۔ میرے کان زخمی ہوگئے میرے دامن میں آگ لگی بابا نہ آپ آئے نہ عمو آئے نہ بھائی اکبر آئے  ۔ بابا ہمیں بازاروں میں گھمایا گیا بابا اس قید خانے میں میرا دم گھٹتا ہے ۔  پیاسی سکینہ روتی رہی ہچکیوں کی آواز بتدریج ھم ہوتی گئی ۔ ۔ پھربالآخر خاموشی چھاگئی  ۔ سید سجاد کھڑے ہو گئے پھوپی زینب کو سہارا دیا اور بلند آواز میں فرمایا:                      انا للہِ وانا الیہِ راجعون سکینہ ہمیشہ کے لیئے خاموش ہو گئی شام میں یزید کے محل کے ساتھ اس چھوٹے سے قید خانہ میں ہی اس معصوم بچی کو اسی خون آلود کرتے میں دفنا دیا گیا جو لوگ شام میں زیارات کے لیے جاتے ہیں اس بی بی کے مزار پر ضرور دیا جلاتے ہیں


۔اے پروردگار اس معصوم سکینہ  کی یتیمی کے صدقے کسی بچی کو اس کم سنی میں یتیم نہ کرنا ۔۔آمین۔روائت ہے کہ شام غریباں میں زوجہء حر کچھ اناج اور پانی لے کر لٹے ہوءے قافلے کو دینے آئین اور بی بی زینب سلام اللہ علیہا نے ایک کوزہ پانی بی بی سکینہ کو دیا تو وہ کوزہ لے کر مقتل کی جانب جانے لگیں -بی بی زینب نے آگے بڑھ کر بی بی سکینہ کو روک کر پوچھا کہاں جا رہی ہو  تو بی بی سکینہ نے کہا پھوپھی اماں آ پ ہی نے تو کہا پہلے چھوٹوں کو پانی پلاتے ہیں میرا اصغر بھی پیا ساہے میں اس کو پانی پلانے جا رہی ہوں -ہائے سکینہ پیاسی ہے سکینہ ہاۓ پیاسی ہے سکینہ بچوں کا تمہیں واسطہ یہ بھول نہ جانا پیاسی ہے سکینہ ہاۓ پیاسی ہے سکینہ یہ سوچ کے جی -کھول کے تم اشک بہاناپیاسی ہے سکینہ ہاۓ پیاسی ہے سکینپیاسی ہے سکینہ ہاۓ پیاسی ہے سکینہ ہاۓ مجلس جہاں ہوگی وہاں ارے آتی ہے سکینہارے پانی نہ ملا آج بھی پیاسی ہے سکینہ پیاسی ہے سکینہ ہاۓ پیاسی ہے سکینہاللہ کرے آۓ کبھی ایسا زمانہ ہو شام کے زنداں کی طرف آپ کا جاناارے پھٹ جاۓ گا دل دیکھ کے وہ غم کا ٹھکانہارے بے حال ہوئ قبر میں ارے سوتی ہے -سکینہ ارے پانی نہ ملا آج بھی پیاسی ہے سکینہ پیاسی ہے سکینہ ہاۓ پیاسی ہے سکینہ'ارے یوں جانب دریا گۓ عباس دلاوراور دریا سے مشکیزہ بھرا با دل مضطردریا کی ہر اک موج یہ کہتی تھی تڑپ کرہے تیسرا دن ہاۓ ارے تڑپتی ہے سکینہارے پانی نہ ملا آج بھی پیاسی ہے سیکنہ پیاسی ہے سکینہ ہاۓ پیاسی ہے سکینہ'ارے شام آگئی جب چھانے لگا بن میں اندھیرازینب نے کیا بھائ کے لاشے پہ یہ نوحہ - کیا تم نے سکینہ کو کہیں دیکھا ہے بھیا-اک کونے میں سہمی ہوئ ارے بیٹھی ہے سکینہ  ارے پانی نہ ملا آج بھی پیاسی ہے سکینہ پیاسی ہے سکینہ ہاۓ پیاسی ہے سکینہ

جمعرات، 7 اگست، 2025

جوش ملیح آبادی اردو ادب کا ایک مظبوط ستون

 

 ۔ جوش نہ صرف اپنی مادری زبان اردو میں ید طولیٰ رکھتے تھے بلکہ آپ عربی، فارسی، ہندی اور انگریزی پر عبور رکھتے تھے۔ اپنی اِسی خداداد لسانی صلاحیتوں کے وصف آپ نے قومی اردو لغت کی ترتیب و تالیف میں بھرپور علمی معاونت کی۔ نیز آپ نے انجمن ترقی اردو ( کراچی) اور دارالترجمہ (حیدرآباد دکن) میں بیش بہا خدمات انجام دیں۔   حسین اور انقلاب“  جو 68بندوں پر مشتمل ہے۔ اس مرثیے کا آغاز حیات کی ناپیداری کے فسانے، آہ وفغاں اور تلخیِ حیات کی ہولناک داستان کے بیان سے ہو تا ہے- دسمبر 1898ء کو اترپردیش ہندوستان کے مردم خیز علاقے ملیح آباد کے ایک علمی اور متمول گھرانے میں پیدا ہوئے۔ تقسیم ہند کے چند برسوں بعد ہجرت کر کے کراچی میں مستقل سکونت اختیار کر لی۔جوش ملیح آبادی کا نام اردو ادب کا بلند پایہ نام ہے-تعارف جوش ملیح آبادی 5دسمبر 1898ء کو ملیح آباد میں پیدا ہوئے، اصل نام شبیر حسن تھا۔ 1914میں سینئر کیمبرج کا امتحان پاس کرنے کے بعد عربی اور فارسی کی تعلیم حاصل کی۔ چھ ماہ ٹیگور یونیورسٹی میں گزارے،1916ء میں والد کی ناگہانی وفات کی وجہ سے کالج کی تعلیم حاصل نہ کر سکے۔ ان کے والد بشیر احمد خاں بشیر، دادا محمد احمد خاں احمد اور پردادا فقیر محمد خاں معروف شاعر تھے۔ اس طرح شاعری انہیں وراثت میں ملی تھی۔شعر کہنے کا آغاز کیا تو عزیز لکھنوی سے اصلاح لی۔ دارالترجمہ عثمانیہ میں ملازمت سے فنی زندگی کا آغاز کیا ، کچھ مدت وہاں گزارنے کے بعد دہلی آگئے اور رسالہ ’’کلیم‘‘ جاری کیا۔



 آل انڈیا ریڈیو سے بھی وابستہ رہے، سرکاری رسالہ ’’آج کل‘‘ کے مدیر مقرر ہوئے۔جوش نے کچھ غزلیں بھی کہیں لیکن ان کی شہرت کا دارومدار نظموں پر ہے۔ انہوں نے تحریک آزادی کی حمایت میں نظمیں کہیں تو انہیں ملک گیر شہرت حاصل ہوئی اور انہیں ’’شاعرانقلاب‘‘ کے لقب سے نوازا گیا۔ جوش کے شعری مجموعوں میں ’’شعلہ و شبنم‘‘،’’جنون و حکومت‘‘،’’فکر ونشاط‘‘،’’سُنبل و سلاسل‘‘،’’حرف و حکائیت‘‘، ’’سرود و خروش‘‘ اور’’ عرفانیاتِ جوش‘‘ قابل ذکر ہیں۔نثر میں اُن کی خود نوشت’’یادوں کی برات‘‘ مقبول ہوئی۔نظم ’’حسین اور انقلاب‘‘ لکھنے پر انہیں ’’شاعرِانقلاب‘‘ کا خطاب دیا گیا۔ جوش ملیح آبادی  کا اصل نام  شبیر حسن خان تھا،آپ1894 یا      1898میں ملیح آباد، ہندوستان میں نوابوں کے خاندان میں پیدا ہوئے. آپ   نے عربی، فارسی، اردو اور انگریزی کی تعلیم ابتدائی طور پر گھر پر ہی حاصل کی اور اس دور کی روایات کے مطابق سینئر کیمبرج 1914 میں کیا۔ اگرچہ جوش نے بعد میں عربی اور فارسی کی تعلیم حاصل کی۔ 1916 میں ان کے والد بشیر احمد خان کی موت نے انہیں کالج کی تعلیم حاصل کرنے سے روک دیا۔ریاست حیدرآباد کی عثمانیہ یونیورسٹی میں ملازمت کے دوران انہوں نے حیدرآباد کے نظام (حکمران) کے خلاف ایک طویل نظم لکھی جس کے نتیجے میں جوش کو حیدرآباد سے جلاوطن کردیا گیا۔



 وہ ایک بے خوف، دلیر اور بے باک انسان  تھے اس لیے انھوں نے اپنے لبرل خیالات کے اظہار میں کبھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی۔ فوراً بعد، انہوں نے کلیم نامی رسالہ قائم کیا، جس میں انھوں نے ہندوستان میں برطانوی راج سے آزادی کے حق میں کھل کر مضامین لکھے۔ ان کے انقلابی افکار اور خیالات کا اظہار ان کی شاعری میں ہوا،خاص طور پر ان کی نظم  (حسین اور انقلاب) کے حوالے سیجس نے ان کے انقلابی افکار اور تصورات کی تصدیق کی۔جیسے جیسے ان کی شہرت پھیلی، انہیں شاعر انقلاب کہا جانے لگا۔ اس کے بعد، وہ آزادی کی جدوجہد میں زیادہ فعال طور پر شامل ہو گئے اور اس دور کے کچھ سیاسی رہنماؤں، خاص طور پر جواہر لال نہرو (بعد میں آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم) کے قریب ہو گئے۔جوش 1956 میں پاکستان آگئے تھے، کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ ہندو اکثریت والے ہندوستان میں اردو کا کوئی مستقبل نہیں، اردو زبان سے ان کی محبت نے انہیں ایک ایسے ملک میں سکونت اختیار کرنے پر مجبور کیا جہاں اس زبان کا روشن مستقبل تھا۔ ہندوستانی وزیر اعظم جواہر لعل نہرو ا ر جوش کے پرستار تھے، لیکن انہوں نے نہرو کی مخالفت کے باوجود پاکستان منتقل ہونے کا فیصلہ کیاتھا۔پاکستان منتقل ہونے کے بعدجوش ملیح آبادی مسلسل شاعری لکھنے اور ادبی کانفرنسوں کے انعقاد میں شامل رہے۔ معروف دانشور اور ادبی نقاد پرویز ہودبھائی نیجوش ملیح آبادی کے بارے میں کہا تھا کہ شاعری جوش کے قلم سے اس طرح بہتی ہے جیسے چشمے سے پانی۔جوش فطرتاً باغیانہ تھے اور سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف تھے اور زندگی بھر دولت کی غیر مساوی تقسیم کے خلاف ہر فورم پر اپنی تحریروں میں زبردست طریقے سے سرمایہ داروں کی مذمت کرتے رہے۔



جوش کے الفاظ کا انتخاب ایسا تھا کہ ان کی اردو نثر یا شاعری پڑھتے ہوئے تعریف  ہی کی جا سکتی ہے، کیونکہ ان کے پاس اردو الفاظ کا خزانہ تھا۔ہندوستان سے آپ کے پسندیدہ شعرا اور لکھاریوں میں کنور مہندر سنگھ بیدی، فراق گورکھپوری، ساحر لدھیانوی اور کرشن چندرتھے۔وہ ایک نرم دل اور ہمدرد دل کے مالک تھے اور معاشرے کے غریب طبقے کے دکھوں اور پریشانیوں سے باخبررہا کرتے تھے، ملک کے پسماندہ حالات اور معاشرے کے امیر طبقے کے لاتعلق رویوں سے رنجیدہ ہوا کرتے  تھے۔جوش زندگی سے بھرپور تھے اور زندگی کو قدرت کا سب سے قیمتی تحفہ مانتے تھے۔آپ نیکہاتھا کہ اردو زبان میں گرامر کی سنگین خلاف ورزیاں پیدا ہو گئی ہیں۔ آپ علاقائی زبان کے الفاظ استعمال کر سکتے ہیں لیکن آپ کو گرامر کا خیال رکھنا چاہیے لسانی بگاڑ ناخواندگی کی وجہ سے ہے۔ یونیورسٹی کی ڈگری نوکری کی التجا کرنے والے بھکاری کے پیالے سے زیادہ نہیں۔علم اور علم اب صرف پیٹ بھرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے دماغ کو پالنے کے لیے نہیں۔وہ مزیدکہتے ہیں کہ  میں سچ بولتا ہوں اور سچ، جیسا کہ آپ جانتے ہیں، ایک خطرناک چیز ہے۔ لیکن میں نے اپنے نظریات اور اپنے نظریے پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔جوش نے ایک بار فیض پر تبصرہ کیا تھا، ’’میں اردو شاعروں کی پیش گوئی کے بارے میں اچھی رائے نہیں رکھتا،وہ ایک دوسرے کو برا بھلا کہتے ہیں۔ میں نے اپنی پوری زندگی میں صرف تین چار اچھے شاعر دیکھے ہیں اور فیض ان میں سے ایک ہیں۔جوش کو میر تقی میر کے بعد اردو زبان کی لغت اور ذخیرہ الفاظ میں بھرپور اضافے کے لیے دوسرے نمبر پر سمجھا جاتا ہے۔جوش نے ادب کی ہر صنف میں خود کو بہترین ثابت کیا۔ اپنے ابتدائی سالوں میں انہوں نے خوبصورت غزلیں لکھیں تاہم بعد کی زندگی میں انہوں نے نظم کو اپنی پسندیدہ صنف کے طور پر منتخب کیا۔



جوش نے اپنی مرثیہ نگاری کے ذریعے ایک مقام بنایا، وہ اس صنف کو جدید بنانا چاہتے تھے۔انہوں نے ایک اندازے کے مطابق اپنی زندگی میں 100,000 سے زیادہ خوبصورت اشعار اور 1,000 سے زیادہ رباعیات لکھیں۔ ان کی سوانح عمری ''یادوں کی برات'' کو اردو میں اب تک کی بہترین کتابوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ بے تکلفانہ انداز میں لکھی گئی ہے۔ماہرالقادری جوش کے بارے میں کہتے ہیں، میرے محدود علم کے مطابق کوئی بھی بڑا شاعر اپنی زندگی کو قلمبند کرنے میں اتنا صاف گو نہیں ہوا۔وہ شاید واحد جنوبی ایشیائی شاعر ہیں جنہوں نے اپنی خدمات کے لیے پدم بھوشن (1954) اور ہلال امتیاز (2013) جیتا ہے۔اردو ادب کا یہ درخشاںستارہ 22 فروری 1982 کو انتقال کر گیا۔ اردو شاعری کے حوالے سے ان کی خدمات ادبی شائقین کے تخیل کو ہمیشہ روشن کرتی رہیں   //جوش کو زبان پر زبردست قدر ت حاصل تھی، اس لیے مراثی میں بھی ان کا فن عروج پر نظر آتا ہے۔ یو ں تو جوش نے کئی مراثی لکھے ہیں لیکن ان کا مرثیہ ”حسین اور انقلاب“ ایک الگ انداز کا مرثیہ ہے۔

 فروری 1982ء کو آپ کا انتقال ہوا۔



نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

انقلاب چین جو چینی قوم کی نجات کا باعث بن گیا

  چین کے انقلاب میں تاریخی لانگ مارچ کو ایک سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے جو اکتوبر1934ء سے اکتوبر 1935ء تک جاری رہا۔ یہ لانگ مارچ چھے ہزار میل ط...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر