بِسْمِ اللہِ الرَّحمٰنِ الرَحیِمِْ
Knowledge about different aspects of the world, One of the social norms that were observed was greetings between different nations. It was observed while standing in a queue. An Arab man saw another Arab man who apparently was his friend. They had extended greetings that included kisses on the cheeks and holding their hands for a prolonged period of time. , such warm greetings seem to be rareamong many people, . this social norm signifies the difference in the extent of personal space well.
جمعہ، 10 جنوری، 2025
نفس انسانی کا نفیس سرمایہ ''متعہ''از روئے قران
جمعرات، 9 جنوری، 2025
سری نگر میں فیض احمد فیض اور ایلس فیض کے نکاح کا پس منظر
حقیقت میں یہ روایت مغلیہ دور سے چلی آ رہی ہے کہ موسم گرما میں کشمیر اکثر بادشاہوں یا مہاراجوں کا مسکن بنتا تھا بادشاہوں یا ان کے بعد راجے مہاراجوں نے اپنے زمانے میں باغات اور محل قائم کر کے خود بھی لطف اٹھایا اور عوام کی تفریح کے لیے بھی خوبصورت وراثت چھوڑ گئے ہیں جن سے وہاں کے عوام آج بھی فیض یاب ہو رہے ہیں جب سری نگر میں فیض احمد فیض کا 'ایلس جارج' سے نکاح ہوا-یہ 28 اکتوبر 1941 کی بات ہے۔فیض احمد فیض اور ایلس فیض کے رومان پرور دن اپنے عروج پر تھے اور انہوں نے اپنے اس رومان کو دائمی رشتے میں بدلنے کا فیصلہ کر لیا تھا -اس دن کشمیر کے دارالحکومت سری نگر میں موسم خوشگوار تھا اور ڈوگرہ حکومت کے خلاف تحریک کے چوٹی کے رہنما تاریخی پری محل میں منعقدہ ایک تقریب میں جمع تھے۔دنیا بھر میں اپنے منفرد حسن و جمال کے لیے مشہور خطہ کشمیر میں یہ نکاح انجام پایا تھا۔فیض احمد فیض کا ایلس جارج (جن کا بعد میں نام کلثوم رکھا گیا لیکن وہ ایلس فیض کے نام سے ہی یاد کی جاتی رہی ہیں) سے نکاح ڈوگرہ راج کے خلاف تحریک آزادی کے روح رواں اور قدآور سیاسی رہنما شیخ محمد عبداللہ نے پڑھا۔ نکاح نامے پر دستخط کرنے والوں میں غلام محمد صادق اور بخشی غلام محمد بھی تھے۔یہ دونوں (صادق اور بخشی) بعد ازاں کشمیر کے وزیر اعظم بن گئے اور فیض احمد فیض کے گہرے دوست بھی تھے۔
نکاح خوانی کی تقریب میں ڈاکٹر نور حسین، خورشید حسن خورشید اور ایلس جارج کے بہنوئی ڈاکٹر ایم ڈی تاثیر بھی شریک تھے۔فیض احمد فیض کے نکاح کا خطبہ کس نے پڑھا اور کس نے پڑھوایا اس بارے میں مورخین میں اختلاف رائے ہے۔ تاہم شیخ محمد عبداللہ کے قریبی ساتھی اور مورخ محمد یوسف ٹینگ کا کہنا ہے کہ فیض کا نکاح شیخ عبداللہ نے کشمیر کے اس وقت کے بلند پایہ عالم دین مولانا سید احمد اللہ ہمدانی سے پڑھوایا تھا۔محمد یوسف ٹینگ نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں اس نکاح کے بارے میں کہا: 'شیخ محمد عبداللہ نے فیض احمد فیض کا ایلس سے نکاح کا خطبہ خود نہیں پڑھا تھا بلکہ مولانا سید احمد اللہ ہمدانی سے پڑھوایا تھا۔'یہ پوچھے جانے پر کہ نکاح خوانی کی تقریب سری نگر میں منعقد کیوں ہوئی تو ان کا کہنا تھا: 'فیض احمد فیض ہر سال پنجاب سے موسم گرما گزارنے کے لیے کشمیر آیا کرتے تھے۔ جب انہیں محسوس ہوا کہ یہاں موسم خوشگوار ہے تو وہ نکاح خوانی کی تقریب انجام دینے کے لیے یہاں آئے۔ اُن دنوں پنجاب سے اکثر لوگ گرمیوں میں یہاں براستہ چناب ویلی آیا کرتے تھے۔'محمد یوسف ٹینگ کو فیض احمد فیض کے ساتھ لاہور میں واقع ان کی رہائش گاہ پر 14 مارچ 1983 کو ملاقات کرنے کا شرف بھی حاصل ہوا ہے تاہم یہ ملاقات اس وقت ہوئی جب شیخ محمد عبداللہ راہی ملک عدم ہوچکے تھے۔
چالیس برس پہلے ان کی بارات سری نگر محلہ میں آئی تھی۔ ایلس کہتی ہیں کہ''شادی پر فیض تو وہی روزمرہ کے گرم سوٹ میں تھے،کوئی خاص اہتمام نہیں تھا بس گلے میں گوٹے کا ایک موٹا ہار ڈال رکھا تھا، جو اُن کی والدہ نے لاہور سے بھیجا تھا۔ سہرے وغیرہ کا دور دور تک پتا نہ تھا۔ اس گوٹے کے ہار کو میں نے عمر بھر اس توجہ سے محفوظ رکھا کہ ان کی دونوں بیٹیوں کی شادی میں دلہوں کے گلوں میں باری باری یہی ہار بطور تبرک ڈالا گیا تھا۔''ایلس نے مزید لکھا ہے کہ '' اس موقعے پر میں نے لال رنگ کی بہت خوبصورت ساڑی پہنی تھی جس پر سنہرے تاروں کا شاندارکام کیا گیا تھا۔ یہ ساڑی فیض نے چند ماہ قبل شملہ سے میرے لیے خریدی تھی۔ شاہی محل میں یوں تو سب انتظام تھا، بس مہمان گنتی کے تھے۔ عورتیں محض چند ایک ہی تھیں۔ ان میں سب سے زیادہ پُرجوش تو تاثیر اورکرس کی چھوٹی بیٹی سلمیٰ تھی جو حیرت سے کبھی مجھے دیکھتی تھی اورکبھی فیض اور دوسرے لوگوں کو۔ اس کے لیے یہ سب کچھ عجیب اور عام زندگی سے کتنا مختلف تھا۔ ادھر تاثیرکی خوبصورت پرکشش اور ہنس مکھ والدہ تھیں جو الگ تھلگ بیٹھی اپنا چھوٹا سا حقہ گڑگڑا رہی تھیں۔ رفیع پیرکی بہن اور اس کی لڑکیاں بھی تھیں۔
عورتوں میں تو بس ایک ہی سرگوشی جاری تھی کہ لو بھلا یہ کیا شادی ہوئی؟ فیض اور ایلس کی شادی اور ایسی روکھی پھیکی ' نہ کوئی بارات ہے، نہ بینڈ باجا، نہ کہیں ڈھولک بجی ہے، نہ سہاگ کے گیت گائے گئے ہیں۔ اتنے میں کمرے کا دروازہ کھلا۔ دروازے میں شیخ عبداللہ کھڑے تھے۔ چھریرے بدن کے قدر آور، اسمارٹ، چاق و چوبند اور جاذب نظر شیخ عبد اللہ نپے تُلے قدموں سے پہلے تاثیرکی والدہ کی طرف بڑھے اور بہت ادب سے جھک کر انھیں سلام عرض کیا۔انھوں نے بھی سر جھکا کر شیخ عبداللہ کے سلام کا جواب دیا۔ پھر وہ میری طرف آئے اور مجھے بھی جھک کر تعظیم دی اور پھر بہت نرمی سے انگلش اور اردو میں مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ '' اسلام میں شادی کا بندھن دراصل ایک طرح کا باہمی معاہدہ ہوتا ہے، دلہا دلہن کے درمیان جس کی دونوں فریقوں کو لازماً پابندی کرنی ہوتی ہے۔ آپ کی شادی کی سب شرائط تحریری طور پر نکاح نامے میں شامل کرلی گئی ہیں اور اسلامی طریق کار کے مطابق اس نکاح کی کارروائی کو شروع کرنے سے پہلے مجھے آپ کی باقاعدہ اجازت کی ضرورت ہے۔ پھر انھوں نے نکاح کی جملہ شرائط مجھے انگلش میں سمجھائیں اور کہا کہ آپ کا نکاح نامہ آپ کی بہن کرس اور ایم ڈی تاثیرکے نکاح نامے کی بنیاد پر ہی تیار کیا گیا ہے جسے علامہ اقبال نے مرتب کیا تھا۔''
یوں ایلس اور فیض کی شادی پایہ تکمیل کو پہنچی۔ تاثیر اورکرس نے براتیوں اور مہمانوں کے لیے کشمیری کھانوں کا اہتمام کیا ہوا تھا۔ دو ایک دن سری نگر میں قیام کیا گیا۔ دلہا دلہن نے ڈل جھیل پر بوٹ میں ہنی مون منایا ۔ دونوں بھائی اور بعض دوسرے لوگ شادی کے دوسرے ہی دن لاہورکے لیے روانہ ہوچکے تھے کہ یہاں پہنچ کر انھیں ولیمے کی دعوت کا اہتمام کرنا تھا ۔ واپسی میں فیض، ایلس، جوش اور مجاز بس کے ذریعے راولپنڈی کے لیے روانہ ہوئے اور وہاں سے بذریعہ ریل لاہورکا سفر اختیارکیا۔ جیب میں بس اتنی ہی رقم تھی جس میں تین انٹرکلاس کے ٹکٹ اور ایک سلیپر میرے لیے مخصوص کرائی جاسکی۔ سلیپرکا اہتمام اس لیے کیا گیا کہ مجھے راستے میں لیٹنے کی سہولت رہے۔یہ بھی نئی نویلی دلہن کا اعزاز تھا ورنہ پورا سفر ہی بیٹھے بیٹھے طے کرنا پڑتا۔ جیسا کہ فیض، جوش اور مجاز نے کیا۔ پروگرام کے مطابق ایلس کو راولپنڈی کے ویٹنگ روم میں گھس کر روزمرہ لباس کی جگہ دلہن کا شادی والا جوڑا بدلنا پڑا، کیونکہ یہاں سے روانہ ہوکر ٹرین کو لاہور ہی پہنچنا تھا جہاں پروگرام کے مطابق بارات کے خیر مقدم کا اہتمام تھا، وہاں فیض کے گھر والے، عورتیں اور بچے بھی جمع ہوں گے۔ ویٹنگ روم میں موجود عورتوں نے ایک گوری میم کو ہندوستانی دلہن کے روپ میں حیرت سے دیکھا اور ان میں سے جو ایک دو اسمارٹ اور نوجوان لڑکیاں تھیں،انھوں نے ایلس کے سنگھار میں اس کی خوب مدد بھی کی۔ انھیں بہرحال اس بات پر بہت حیرت تھی کہ یہ کیسی دلہن ہے جس نے نہ تو کوئی زیور پہنا ہے اور نہ کوئی بھڑ ک دار جھمکے وغیرہ، نہ میک اپ کی چمک دمک ہے، نہ سر پر دلہنوں والا گھونگھٹ ہے 'لیکن وہ دونوں دنیاوی رسومات سے آزاد ہو کر اللہ کی شریعت کا راستہ اختیار کر کے ایک دوسرے کا ہاتھ تھام چکے تھے
فیض احمد فیض شعرو ادب کی دنیا کے بادشاہ
بدھ، 8 جنوری، 2025
الکھ نگری کا مسا فر ''ممتاز مفتی''
گیارہ ستمبر 1905کو بٹالہ ضلع گرداسپورمشرقی پنجاب میں پیدا ہونے والے ممتاز مفتی نے میانوالی،اور ڈیرہ غازی میں ابتدائی تعلیم حاصل کی پھر 1929میں اسلامیہ کالج لاہور سے بی اےاور1933 میں سنٹرل کالج لاہور سے ایس اے وی کا امتحان پاس کیا۔ پھر آل انڈیا ریڈیو اور ممبئی فلم انڈسٹری میں ملازمت کرتے رہے۔ 1947میں پاکستان چلے گئے۔وہاں حکومت پاکستان کے مختلف عہدوں پر فائز رہےپاکستان کے جید لکھاریوں میں صف اول کے لکھاری مانے جاتے ہیں ۔ان کے افسانوی مجموعے ان کہی ، گہماگہمی،چپ، گڑیاگھر،روغنی پتلے، کے نام سے شائع ہوئے۔ انہوں نے انشائیے بھی لکھے جو بہت مشہور ہوئے اور شوق سے پڑھے گئے ۔ ’غبارے ‘ کے نام سے انشائیوں کا مجموعہ شائع ہوا۔’ کیسے کیسے لوگ‘ اور ’پیاز کے چھلکے‘ کے نام سے خاکوں کے دو مجموعے شائع ہوئے۔عمر کے آخری برسوں میں ممتاز مفتی سفر حج پر گئے اور واپسی پر’لبیک‘ کے نام سے سفر حج کی رودار لکھی جو بے پناہ مقبول ہوئی اور ان کی کہانیوں کی طرح دلچسپی کے ساتھ پڑھی گئی۔ممتاز مفتی اردو افسانے کی روایت میں ایک اہم افسانہ نگار کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ انہوں نے موضوع، مواد اور تکنیک کی سطح پر کئی تجربے کیے۔ ان کے افسانے خاص طور پر گھمبیر نفسیاتی مسائل کو موضوع بناتے ہیں۔ ممتاز مفتی نے ’علی پور کا ایلی ‘ کے نام سے ایک ضخیم ناول بھی لکھا ۔ اشاعت کے بعد اس کا شمار اردو کے بہترین ناولوں میں کیا گیا۔
پیر، 6 جنوری، 2025
بندر گاہ کیٹی بندر کے مکین کہاں جائیں ؟
کیٹی بندر ماضی میں درآمد و برآمد کا مرکز رہا ہے-کیٹی بندر سے کراچی اور گجرات تک اناج جاتا تھا-اب یہاں بیوپار کا کوئی جہاز نہیں آتا، بس مچھلیوں کے پکڑنے کی کشتیاں ہیں جن پر بادبانوں کی جگہ رنگین جھنڈے لہراتے ہیں اور شور کرتے انجن ہیں جو دریا کے پانی پر چنگھاڑتے پھرتے ہیں۔ اگر آپ ان میں کبھی بیٹھے ہیں تو آپ کو ضرور اندازہ ہوگا کہ آپ وہاں آپس میں بات نہیں کرسکتے۔ البتہ چیخ و پکار کے بعد بھی جو بات کریں گے وہ آدھی ادھوری ہی سمجھ میں آئے گی۔ایمرجنسی سینٹر کی چھت پر میرے ساتھ اس علاقے ’جھالُو‘ کے مشہور زمیندار محترم عثمان شاہ صاحب بھی کھڑے ہیں۔ 65 سال کی حیات میں انہوں نے ڈیلٹا کے اس مشہور مرکزی علاقے کے بہت سارے مناظر کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ انہیں ابھی تک کیکر کے گھنے جنگل یاد ہیں۔ ان کیکر کے درختوں پر سردی کے دنوں میں پیلے پھول لگتے اور ہلکے پیلے سونے کے رنگ جیسا ان کیکروں میں سے گوند نکلتا جس کو طاقت کے لیے مختلف طریقوں سے پکا کر کھایا جاتا۔ ان درختوں پر لگی پھلیاں دودھ دینے والے جانوروں کے لیے ایک طاقتور خوراک ہوتی تھی۔ ان جنگلوں میں دن کو تیتر بولتے اور صبح کو سورج اگنے کے ساتھ فاختائیں بیٹھ کر اپنی مخصوص آواز میں بولتیں اور جب تیز ہواؤں کے دن آتے تو درختوں سے گزرتی ہوئی ہوا سیٹیاں بجانے لگتی۔کیکر کا وہ گھنا جنگل وہاں تھا، میلوں میں پھیلا ہوا‘، عثمان شاہ نے شمال مشرق کی طرف اشارہ کیا۔ ’اس چھت سے وہ فاصلہ کوئی 2 میل سے زیادہ نہیں تھا۔ اس جنگل کے قریب سے کبھی ’اوچتو دریا‘ بہہ کر کیٹی بندر کے قریب سمندر کی کھاڑی میں گرتا تھا مگر اب وہاں کچھ تمر کی جھاڑیوں کے سوا کچھ نہیں ہے اور زمین کی سطح پر نمک کی سفید تہہ جمتی ہے
کیٹی بندر شاہ بندر کے زمین میں دھنس جانے اور دریائے سندھ کا رخ تبدیل ہونے کی وجہ سے تعمیر کیا گیا تھا، ’سندھ کے بندر اور بازار‘ کے مصنف دادا سندھی لکھتے ہیں کہ شاہ بندر کی تعمیر حیدرآباد شہر کے بانی میاں غلام شاہ کلہوڑو نے 1659 میں کی تھی اس سے قبل ارونگ بندر کے ذریعے تجارت ہوتی تھی جس کی تعمیر اورنگزیب عالمگیر نے کرائی تھی، شاہ بندر کی تعمیر کے بعد ارونگ بندرگاہ کی اہمیت ختم ہوگئی اور لوگ نقل مکانی کرکے شاہ بندر آگئے جہاں قلعہ بھی تعمیر کرایا جس کے نشانات آج بھی موجود ہیں۔شاہ بندر 1819 میں اجڑنا شروع ہوا تھا جس کے بعد کیٹی بندر قائم کیا گیا تھا، جہاں سے بمبئی، مدراس، خلیج فارس اور سون میانی و مکران سے تجارت ہوتی تھی، نائو مل اپنی یادداشتوں کی کتاب میں لکھتے ہیں کہ اس بندر سے کچھ بہج اور کاٹھیاواڑ سے یہ عمارتی لکڑی اور بھاری اشیا کی تجارت ہوتی تھیی۔
کیٹی بندر تو دھان کی وجہ سے مشہور تھا مگر ہمارا گاؤں جھالو جو کیٹی بندر میں آج سے 15 برس پہلے کیلے، خربوزے اور کھیرے کی اتنی شاندار فصل ہوتی تھی کہ، ہماری زمین سے ان اشیا سے لدے 11 ٹرک روز نکلتے تھے۔ کراچی، ملتان، فیصل آباد، لاہور اور پشاور تک ہماری فصلوں کی مارکیٹ ہوتی تھی، بلکہ یہاں تک کہ بیوپاری جھالو کے کھیرے اور خربوزے کے آنے کا انتظار کرتے تھے۔ان دنوں ہماری 200 ایکڑ زمین آباد ہوتی تھی مگر اب نہروں میں میٹھے پانی کی بہت کمی ہے، ، جس کی وجہ سے سیم و تھور کا مسئلہ انتہائی پیچیدہ ہوگیا ہے۔ جہاں پہلے 200 ایکڑ پر فصلیں ہوتی تھیں اب 20 ایکڑ بھی مشکل سے کر پاتے ہیں۔ اب یہاں نہ کیلا ہوتا ہے، نہ خربوزے اور نہ کھیرے۔ بس دھان ہوتی ہے جس کے لیے بھی کھاد اور اسپرے پر اتنی رقم لگ جاتے ہے کہ نام کا ہی منافع کما پاتے ہیں۔ پھر جس زمین میں 2 برس دھان لگاتے ہیں تو ان 2 برسوں میں میٹھا پانی سمندری پانی کو نیچے دھکیل دیتا ہے یوں تیسرے برس پھر کپاس یا سورج مکھی لگاتے ہیں تو دو پیسے ہاتھ میں آجاتے ہیں۔ اس ڈیلٹائی بیلٹ کا ہر کاشتکار اور عام آدمی اجڑتی زمینوں کے ساتھ مہنگائی اور غربت کی وجہ سے سخت پریشان ہے-اگر کاشتکار کو میٹھا پانی اتنا ملے جتنی ہماری زمینیں ہیں تو کوئی مسئلہ نہیں ہوگا اور جو زمینیں ہیں ہم ان کو بچا لیں گے۔ کیونکہ میٹھے پانی کی نہروں میں پانی کی موجودگی اور فصلوں کے لیے پھرپور پانی ہونا اس حقیقت کو یقینی بناتا ہے کہ سمندر کا پانی میٹھے پانی کی وجہ سے اوپر نہیں آئے۔دوسرا یہ کہ دریا میں جو پانی ہر برس چھوڑنے کو کہا گیا ہے وہ آنا چاہیے۔ اگر ایسا ہوتا رہے تو مجھے نہیں لگتا کہ سمندر کی بربادی اتنی تیزی سے آگے بڑھ سکتی ہے۔ مگر آب پاشی نظام میں رشوت خوری اپنے عروج پر ہے۔ یہاں سب برباد کرنے کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔
یہاں سے نقل مکانی کرنے والے خاندانوں سے بھی میں ملا ہوں، یہاں کیلے اور کھیروں کی شاندار فصلوں کو بھی میں نے دیکھا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو 15 یا 18 برس اتنے زیادہ نہیں ہوتے۔ مگر ان برسوں میں، میں نے جو سمندر کی بربادی دیکھی ہے وہ ان لوگوں نے بھی ضرور دیکھی ہوگی جو مسلسل یہاں آتے رہے ہیں۔ میٹھے پانی کے لیے اتنی چیخ و پکار کے بعد بھی یہاں کچھ بہتری نہیں آئی۔انڈس ڈیلٹا فقط سمندر کا نام نہیں ہے، بلکہ اس میں آب گاہیں، قدرتی جنگل اور زراعت بھی شامل ہے۔ 1980ء تک ریوینیو ڈیپارٹمنٹ کی رپورٹ کے مطابق 12 لاکھ ایکڑ زرعی زمین سمندر کے نذر ہوگئی تھی اور اب 2020ء تک ڈیلٹا کی 41 لاکھ ایکڑ زرعی زمین یا تو سمندر نگل گیا ہے یا سمندر کے شوریدہ پانی کی وجہ سے زمینوں نے اپنی زرخیزی گنوادی ہے۔ یہاں تک کہ گھاس کا ایک تنکا تک نہیں اگتا۔ ساتھ میں لاکھوں لوگوں کو انتہائی مجبوری کی حالت میں نقل مکانی کرنی پڑی ہے سندھ کا ڈیلٹا شاید دنیا کی جہازرانی والی بندرگاہوں میں سب سے بڑا دفن ہونے والا ڈیلٹا ہے۔ یہ ڈیلٹا سندھ کی تہذیب کی ابتدا سے گزشتہ صدی کے آخر تک وادئ سندھ اور دور دراز ملکوں مصر، عرب، سمیر، ایران، مشرقی افریقا، مہاراشٹر، سری لنکا اور چین کے باہمی بیوپار کا مرکز رہا ہے۔ دریا کا میٹھا پانی اُس دھرتی سے کبھی بیوفائی نہیں کرتا جس پر سے وہ گاتا گنگناتا، زمین کو مالا مال اور خوشحالی کے پھول بانٹتا بہتا سمندر کی گود میں تو سما جاتا ہے۔جہاں جہاں سے سمندر سے ملتا ہے وہاں اپنے ساتھ لائی ہوئی مٹی اور ریت سے زمین بُننا شروع کردیتا ہے بالکل ایسے جیسے ننھی منی چڑیائیں گھاس کے تنکوں سے گھونسلے بُنتی ہیں
۔ دریا اور سمندر مل کر جو زمین بناتے ہیں اُس زمین کو ’ڈیلٹائی زمین‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔انڈس ڈیلٹا کی موجودہ زمینی پٹی جو 16,000 مربع میل یعنی 41,440 مربع کلومیٹرز کے رقبے پر پھیلی ہوئی ہے، اس پٹی کی زمین سمندر کے ساتھ 130 میل یعنی 210 کلومیٹرز تک ساتھ چلتی ہے۔دریائے سندھ 3000 کلومیٹر کا سفر کرتا یہاں جنوبی سندھ تک آتا ہے، یہ دوسری بات ہے کہ اب برائے نام پانی آتا ہے اس شہنشاہ دریا میں وہ زمانہ کب کا گزر گیا جب 350 ملین ایکڑ فٹ (ایم اے ایف) پانی آتا تھا اور سمندر سے مل کر ڈیلٹا کی اس زرخیز زمین کی تخلیق کرتا۔ ساتھ میں جنم دیا اُس کلچر کو جو اپنی الگ، خوبصورت اور حیاتیاتی تنوع سے بھرپور پہچان رکھتا ہے۔آپ کوہستان، کاچھو یا تھر جائیں، وہاں کے لوگ اس ڈیلٹائی پٹی کو 'سندھ' کے نام سے جانتے ہیں۔ خشک سالی میں جب تھر سے یہاں کی طرف نقل مکانی زیادہ ہوتی ہے۔ ان دنوں میں آپ اگر تھر جائیں اور اُن کے خالی گھروں کو دیکھ کر مقامی لوگوں سے پوچھیں کہ، ’یہ لوگ کہاں گئے ہیں؟‘ تو فوری جواب ملے گا ’سندھ‘ ۔ان کے سامنے سندھ کی زمین وہ ہے جسے دریائے سندھ کی مٹی اور ریت نے بنایا ہے۔ جہاں کا منظر نامہ اور ساری سندھ سے مختلف ہے کہ یہاں جھیلوں کی بہتات ہے اور کیوں نہ ہو آخر دریائے سندھ کا ہزاروں کلومیٹرز کا سفر یہاں اس ساحلی پٹی پر آکر جو ختم ہوتا۔
اتوار، 5 جنوری، 2025
آنکھیں خالق کائنات کی بہت بڑی نعمت ہیں
یوں تو انسان کے لئے حواس خمسہ خالق کائنات کی بہت بڑی نعمت ہیں لیکن ان تمام اعضا میں آنکھوں کو خصوصی اہمیت حاصل ہے ، بلاشبہ اگر انسان بینائی سے محروم ہو جائے تو زندگی ہی بے معنی لگنے لگتی ہے-آس مضمون میں آپ کو ایک ایسے باہمت بچے کی علمی کاوش پڑھنے کو ملے گی جو اپنے بچپن میں اپنی بینائ کی نعمت سے محروم ہو گیا تھا - یہ 1812 کی بات ہے۔ ایک دن فرانس کے شہر پیرس کے قریب کوپورے میں ننھا لوئس بریل ورکشاپ میں کھیل رہاتھا جہاں اس کے والد نے ’زِین‘ بناتے تھے۔ (زِین یعنی چمڑے کی وہ بیلٹ جس سے گھوڑے یا کسی بھی اور جانور کو قابو میں رکھنے کے لیے اُس کے چہرے کو بندھا جاتا تھا)۔تین سال کی عمر میں اس کے لیے چمڑے کے کام کے لیے استعمال ہونے والے اوزاروں کی طرف راغب ہونا کوئی غیر معمولی بات نہیں تھی کیونکہ وہ یہ سب دیکھتارہتا تھا کہ اسکے والد کیسے اس کی مدد سے زِین بناتے تھے۔ بس ایک دن اس نے اپنے والد کی نقل کرتے ہوئے ورکشاپ میں سے چمڑے میں سوراخ کرنے والا ایک انتہائی تیز دھار اوزار اْٹھایا اور اْس سے کھیلا شروع کر دیا۔شاید یہ پہلی بار نہیں تھا جب وہ ایسا کر رہاتھالوئس بریل ابھی اس سب میں مشغول ہی تھا کہ اچانک ایک ایسا حادثہ پیش آیا کہ جس نے اس کی زندگی بدل دی۔جیسے لوئس نے اس تیز دھار اوزار سے چمڑے میں سوراخ کرنے کی کوشش کی، اس کے ہاتھ سے وہ اوزار پھسل گیا اور اس نے آنکھ پر گہری ضرب لگائی۔آنکھ متاثر ہوئی اور انفیکشن نے نہ صرف زخمی ہونے والی آنکھ کو متاثر کیا بلکہ یہ انفیکشن دوسری آنکھ تک پھیل گیا۔لوئس پانچ سال کا ہواتو وہ مکمل طور پر نابینا ہو چکاتھا
اگرچہ مقامی سکول میں نابینا افراد کے لیے کوئی خاص پروگرام موجود نہیں تھا لیکن اس کے والدین کی یہ کوشش تھی کہ وہ تعلیم سے محروم نہ ہواور اسے پڑھنے کا موقع ملنا چاہیے، لہٰذا انھوں نے اسے مقامی تعلیمی ادارے میں داخل کروا دیا۔ اب بریل 7 سال کاہو چکا تھا اور اس نے باقاعدہ طور پر کلاسز لینا شروع کر دیں تھیں۔اگرچہ اس کا تعلیم حاصل کرنے کا انداز مختلف تھا یعنی وہ بس سن کر تعلیم حاصل کر رہاتھا، لیکن وہ ایک ہونہار شاگرد ثابت ہوا۔ تاہم جو مشکل اس کی راہ میں حائل رہی وہ یہ تھی کہ وہ پڑھنے یا لکھنے کے قابل نہ ہو سکے جس کی وجہ سے اسے نقصان اٹھانا پڑتا تھا۔آخر کاراس کی یہ تمام مشکلات تب ختم ہوئیں کہ جب اسے فرانس کے رائل انسٹی ٹیوٹ فار بلائنڈ یوتھ (آر آئی جے سی) میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے سکالرشپ مل گئی۔بریل 10 سال کاتھا جب وہ پیرس اور آر آئی جے سی پہنچا۔اس وقت، اس ادارے میں بھی پڑھنے کا جو نظام استعمال کیا جاتا تھا وہ بہت بنیادی تھا، ان چند کتابوں کو ابھرے ہوئے حروف کے ساتھ چھاپا گیا تھا، ایک ایسا نظام جسے سکول کے بانی ویلنٹین ہائے نے ایجاد کیا تھا۔اس کا مطلب یہ تھا کہ طالب علموں کو ہر حرف میں آہستہ آہستہ اپنی انگلیاں چلانی پڑتی تھیں تاکہ الفاظ کی بناوٹ کو وہ سمجھ سکیں مگر ایک جملہ بنانے میں اور لفظ کی بناوٹ سمجھنے میں اْنھیں خاصی مْشکل ہوتی تھی۔
1821 میں فرانسیسی فوج کے ایک کیپٹن چارلس باربیئر انسٹی ٹیوٹ میں ایک چھونے والے ریڈنگ سسٹم کو شیئر کرنے کے لیے آئے تاکہ فوجی اندھیرے میں میدان جنگ میں فلیش لائٹس آن کر کے دشمن کو خبردار کیے بغیر پیغامات پڑھ سکیں۔لوئس کے ذہن میں یہ خیال آیا تھا کہ ان کی ’’نائٹ رائٹنگ‘‘، شاید بینائی سے محروم ان افراد کے لیے فائدہ مند ثابت ہو۔ایمبوسڈ خطوط استعمال کرنے کے بجائے، ابھرے ہوئے حروف والی تحریر، نقطوں اور دھبوں کا استعمال کیا گیا تھا۔طالب علموں نے تجربات کیے لیکن جلد ہی جوش و خروش کھو دیا کیونکہ اس نظام میں نہ صرف سرمایہ کاری اور نہ ہی نشانات شامل تھے، بلکہ الفاظ معیاری فرانسیسی ہجے کے بجائے اس طرح لکھے گئے تھے جیسے وہ بولے گئے تھے۔تاہم لوئس بریل نے اصرار کیا۔اس نے کوڈ کو ایک بنیاد کے طور پر لیا اور اسے بہتر بنایا۔تین سال بعد جب وہ 15 سال کاتھا تو اس نے اپنا نیا نظام مکمل کر لیا تھا۔اس کی تحریر کے نظام کا پہلا شمارہ 1829 میں شائع ہوا۔اس میں حروف کے ساتھ نقطوں کے ساتھ اشارے دیے گئے تھے۔بریل نے بابیئر کے نظام کو آسان بنایا تھا اور ابھرے ہوئے نقطوں کو کم کیا تھا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ یہ اس مناسب سائز کے ہوں تاکہ آپ انھیں اپنی انگلی کے پور سے ایک ہی بار میں چھو کر محسوس کر سکیں۔
اس نے کاغذ پر ابھرے ہوئے نقطے بنانے کے لیے اسی ستالی (سوراخ کرنے کے لیے نوکدار اوزار) کا استعمال کیا جس سے اس کی بینائی متاثر ہوئی تھی۔اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ یہ لکیریں سیدھی اور درست ہیں اس نے ایک ہموار گرڈ کا استعمال کیا۔جیسا کہ لوئس بریل کو موسیقی پسند تھی لہٰذا اس نے موسیقی کے نوٹس لکھنے کے لیے بھی ایک طریقہ متعارف کروایاوقت گزرتا گیا۔طب کی دنیا بریل کی ایجاد کو اپنانے میں بہت قدامت پسند اور سست تھی۔ یہاں تک کہ اس کی موت کے دو سال بعد بینائی سے محروم افراد کو اس طریقہ کار کے ذریعے پڑھایا جانے لگا۔ اور اس کا آغاز بھی اسے ادارے میں ہوا جہاں سے اس نے تعلیم حاصل کی تھی۔وہ 43 برس کی عمر میں تپ دق کے باعث اس دنیا سے رخصت ہو اتھا۔
یہ حقیقت ہے کہ خدا کی طرف سے سب سے قیمتی تحفہ اس رنگین اور خوبصورت دنیا کو دیکھنے کی صلاحیت ہے! افسوس کی بات ہے کہ ہر کوئی اسے نہیں دیکھ سکتا۔ تاہم 1829 میں لوئس بریل نے بریل ایجاد کر کے اپنے نابینا معاشرے کو ایک عظیم تحفہ دیا۔ ہر سال 4 جنوری کو بریل کا عالمی دن اپنے موجد لوئس بریل کی پیدائش کی یاد میں منایا جاتا ہے(جو گزشتہ روز منایا گیا)۔ لوئس نے اپنی زندگی میں حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ اس رسم الخط کو نابینا افراد کی زبان کے طور پر منظوری دی جائے لیکن اس وقت اسے منظوری نہ دی گئی۔یہ لوئس کی بدقسمتی رہی کہ اس کی کوششوں کو کامیابی نہیں مل سکی اور معاصر ماہرین تعلیم نے اسے زبان کے طور پر تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔لوئس کی موت کے بعد 2 برس ماہرین تعلیم نے اسے اس وقت سنجیدگی سے دیکھنا شروع کیا جب اس کی مقبولیت نابینا افراد کے درمیان میں مسلسل بڑھتی رہی، یہ دیکھ کر اسے منظوری دینے پر غور و فکر ہونے لگا۔ 1854 میں اسے صرف پیرس تک مقبولیت حاصل ہوئی پھر آہستہ آہستہ 1965 تک اسے دنیا کے دیگر ممالک میں کافی غور و فکر اور تبدیلیکےبعد اسے تسلیم کر لیا گیا -یہ طریقہ ء تعلیم نابینا افراد کے لئے علمی کائنات کا درجہ رکھتا ہے
یہ مضمون میں نے انٹرنیٹ سے لے کر یہاں کاپی پیسٹ کیا ہے
ہفتہ، 4 جنوری، 2025
ہزارہ یونیورسٹی مانسہرہ -قابل فخر مادر علمی
صوبے بلوچستان میں دہشتگردی کا نشانہ بننے والے ہزارہ قبیلے کو تاریخ میں ایک خاص حیثیت حاصل رہی ہے جس کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ چنگیز خان کی نسل سے تعلق رکھتا ہے۔مورخین کہتے ہیں کہ اس قبیلے کا جنم مشرق وسطیٰ سےہوا ہے جبکہ اس کی جڑیں چین، افغانستان، پاکستان اور ایران سمیت یورپ کے دھانے پر واقع ترکی تک پھیلی ہوئی ہیں۔ ہزارہ قبیلے میں اثنا عشری، اسماعیلی اور محدود تعداد میں اہل سنت مسلک سے تعلق رکھنے والوں کی بھی ہے۔بتایا جاتا ہے کہ یہ قبیلہ منگول نسل سے نکلا ہے یعنی ہزارہ چنگیز خان کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔’ جب چنگیز خان کے پوتے نے اسلام قبول کیا اور یہیں سے ہزارہ قوم کی ابتداء ہوئ ‘بتایا جاتا ہے کہ یکم رجب 660ھ کو چنگیزخان کے پوتے برقائی خان نے اپنے زمانے کے ایک شیعہ عالم دین کے ہاتھوں مشرف بہ اسلام ہونے کا اعلان کرتے ہوئے مصر کے سلطان رکن الدین بیبرس کو ایک خط کے زریعے اپنے اور اپنے قبیلے کے مسلمان ہونے کی اطلاع دی تھی
اور آج یہ قوم پوری دنیا میں اپنی قابلیت کے جھنڈے گاڑ رہی ہے -اور اب ہزارہ یونیورسٹی مانسہرہ اور علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد کے درمیان نصابی ،سائنسی، تکنیکی اور ثقافتی تعاون کو بڑھانے کے لئے معاہدہ طے پا گیا ۔ معاہدے پر وائس چانسلر ہزارہ یونیورسٹی مانسہرہ پروفیسر ڈاکٹر جمیل احمد اور علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ضیاء القیوم نے دستخط کیے۔تین سالہ معاہدے کے تحت دونوں ادارے فیکلٹی ممبرا ن اور ریسرچ سکالرز سمیت ،سائنسی مقالہ جات اور نصابی موادکے تبادلے اور مشترکہ تحقیقی مقالہ جات کی اشاعت کر سکیں گے جبکہ جوائنٹ ریسرچ پراجیکٹس اور مختلف تعلیمی شعبہ جات میں طلباء کی رہنمائی کے لئے دوطرفہ کوششوں کو فروغ دیا جائے گا۔مذکورہ معاہدے کے تحت دونوں ادارے باہمی تعاون کو بروئے کار لاتے ہوئے مختلف تعلیمی شعبوں کے طلباء کے نصاب اورکورسزمیں بہتری اور جدت لانے کے حوالے سے اقدامات کریں گے جبکہ آن لائن کتب کی فراہمی ، سیمینارز،اور کانفرنسز کے انعقاد سمیت نصابی مواد تک رسائی بھی معاہدے کا حصہ ہیں ۔
اس موقع پر وائس چانسلر ہزارہ یونیورسٹی مانسہرہ پروفیسر ڈاکٹر جمیل احمد نے کہا کہ ہزارہ یونیورسٹی اپنے جغرافیائی محل وقوع ، پرفضا اور پر امن تعلیمی ماحول کی بدولت ملکی جامعات میں ایک منفرد مقام رکھتی ہے جبکہ تاریخی شاہرا ہ قراقرم اور سی پیک کے سنگم پر واقع ہونے کی وجہ سے ہزارہ یونیورسٹی بین الاقوامی اہمیت حاصل کر چکی ہے ۔وائس چانسلر نے کہا کہ ہزارہ یونیورسٹی اس وقت ملکی اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ کئے گئے کئی معاہدوں پہ عمل پیرا جس سے یونیورسٹی میں پہلے سے جاری تعلیمی سرگرمیوں میں مزید وسعت آئی ہے ۔ پروفیسر ڈاکٹر جمیل احمد نے کہا کہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے ساتھ ہونے والے آج کے معاہدے سے ہزارہ یونیورسٹی ایک نئے دور میں داخل ہو گئی ہے جس میں تحقیق اور تخلیق کی نئی راہیں کھلیں گی اور دونوں اداروں کے طلبا اورمحققین ایک دوسرے کے تجربات اور علمی بصیرت سے بھرپور استفادہ کریں گے۔
اس موقع پر وائس چانسلر علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام اباد پروفیسر ڈاکٹر ضیاء القیوم نے کہا کہ دنیا بھر میں تعلیم کے میدان میں جدید ٹیکنالوجی کا بھرپور استعمال کیا جا رہا ہے جس سے اس شعبے میں بہت تیزی آئی ہے وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے اداروں کو سائنٹفک بنیادوں پر استوار کرتے ہوئے دیگر اقوام سے قدم ملائیں تاکہ عصری تقاضوں کو پورا کیا جا سکے ۔انھوں نے کہا کہ ہمیں کورونا وباء کے دوران درپیش چیلنجز کو موقع جان کر فاصلاتی نظام تعلیم کے فروغ اور اسے دور افتادہ اور پسماندہ علاقوں تک پہنچانے کے لئے اپنی توانیائیاں صرف کرنی چاہیئں اور اس مقصد کے حصول کے لئے مختلف تعلیمی اداروں کو ایک دوسرے کی صلاحیتوں سے استفادہ حاصل کرتے ہوئے بھرپور کوششیں کرنا ہونگی ۔ اس موقع پر ہزارہ یونیورسٹی کے ڈائریکٹر ORICپروفیسر ڈاکٹر محسن نواز، منیجر ر یونیورسٹیز لینکجز زبیر عالم خان، رجسٹرار علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی رانا سہیل ، ایگزیکٹو ڈائریکٹر ORICڈاکٹر لطیف گوندل،ایڈیشنل ڈائریکٹر ORICڈاکٹر صائمہ ناصر اور مینجر آپریشن محمد مشتاق بھی موجود تھے۔-
ہزارہ یونیورسٹی مانسہرہ کے ہونہار سٹوڈنٹ عمر صدیق Fully Funded Italian Scholarshipsحاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ ہزارہ یونیورسٹی کے شعبہ بائیو ٹیکنالوجی اینڈ جینیٹک انجینئرنگ کے طالب علم عمر صدیق جنہوں نے سال 2023ء میں مذکورہ شعبے سے بی ایس کی ڈگری حاصل کی، اب مزید اعلیٰ تعلیم کے لئے اٹلی کی University of Naples Federico IIروانہ ہو رہے ہیں جہاں وہ فوڈ بائیو ٹیکنالوجی میں دو سالہ ماسٹرز ڈگری مکمل کریں گے۔عمر صدیق نے اطالوی حکومت کی Regional Scholarshipاور Merit Scholarshipحاصل کی ہیں ہے جس کے تحت انہیں تعلیم مکمل کرنے کے لئے مجموعی طور پر 19000یورو سالانہ دیئے جائیں گے۔عمر صدیق ہزارہ یونیورسٹی میں تعلیم کے ساتھ ساتھ ہم نصابی سرگرمیوں میں بھی یکساں متحرک تھے اور بلڈ ڈونیشن ، تھیلیسیمیا کے بارے میں عوامی آگاہی سمیت دیگر سماجی خدمات میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے ہیں۔مانسہرہ کے دور افتادہ اور پسماندہ گاؤں دانئی بٹل سے تعلق رکھنے والے عمر صدیق بچپن میں ہی یتیم ہو گئے تھے لیکن اعلیٰ تعلیم کے حصول کا شوق اور کچھ کر گذرنے کے جذبے سے انہیں اعلیٰ تعلیم کے میدان میں کامیابی نصیب ہوئی ہے۔ عمر صدیق کا یورپ میں ماسٹرز پروگرام اور بین الاقوامی سکالر شپس حاصل کرنا نوجوان طلباء کے لئے مشعل راہ ہے کہ حالات چاہے کتنے ہی سخت کیوں نا ہوں، محنت، لگن اور جستجو سے ہر چیلنج پر قابو پاکر کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔
نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے
انقلاب چین جو چینی قوم کی نجات کا باعث بن گیا
چین کے انقلاب میں تاریخی لانگ مارچ کو ایک سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے جو اکتوبر1934ء سے اکتوبر 1935ء تک جاری رہا۔ یہ لانگ مارچ چھے ہزار میل ط...
حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر
-
میرا تعارف نحمدہ ونصلّٰی علٰی رسولہ الکریم ،واٰ لہ الطّیبین الطاہرین جائے پیدائش ،جنوبی ہندوستان عمر عزیز پاکستان جتنی پاکستان کی ...
-
خوبصورت اور لہلہاتے قدرتی نظاروں سے مالامال جزیرہ ماریشس (موریطانیہ )کے ائر پورٹ 'پورٹ لوئس کے سرشِو ساگر رام غلام انٹرنیشنل ائیرپ...
-
نام تو اس کا لینارڈ تھا لیکن اسلام قبول کر لینے کے بعد فاروق احمد لینارڈ انگلستانی ہو گیا-یہ سچی کہانی ایک ایسے انگریز بچّے لی...