اتوار، 23 نومبر، 2025

پاکستانی معیشت کی تنزلی کے اسباب زراعت کی تباہی پارٹ'2'

 

 

پاکستان: کپاس کی پیداوار تین دہائیوں میں سب سے کم سطح پرایک کسان کے بیٹے  نے بتایا کہ  ملتان میں واقع کپاس کی تحقیقات کے بڑے ادارے سینٹرل کاٹن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ملازمین نے تنخواہوں اور مراعات کی عدم ادائیگی کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ڈاکٹر یوسف ظفر نے سوال اٹھایا کہ ملازمین کو تنخواہیں اور مراعات دینے کے لیے پیسے نہیں ہیں تو ریسرچ کیسے ہو سکتی ہے، جس کے لیے بڑے فنڈز چاہیے ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گذشتہ حکومت نے سرتاج عزیز کمیٹی کی رپورٹ پر کپاس کی ریسرچ کے لیے تین ارب روپے کا انڈوومنٹ فنڈ قائم کرنے کی منظوری دے دی تھی، جو ابھی تک سرد خانے میں پڑی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹیکسٹائل ملز مالکان کپاس کی ریسرچ کی غرض سے عائد 50 روپے فی گانٹھ کی مد میں ادائیگیوں سے گریز کرتے ہیں، جو ریسرچ کے راستے میں دوسری بڑی رکاوٹ ہے۔حل کیا ہے؟  اس وقت  پاکستان کے  بڑے زمینداروں کا خیال ہے کہ  پاکستان میں کپاس کی فصل کو دوبارہ سے نفع آور بنانا ممکن نہیں ہے۔کیونکہ گنا اس وقت کی ڈیمانڈ ہے جس کے مالک پاکستان کے مالک ہیں 


انہوں نے دلیل دی: ’پاکستان کی حکومت چاہتی ہی نہیں کہ زمیندار دوبارہ سے کپاس کی طرف جائے۔‘تاہم ان کے برعکس ڈاکٹر یوسف ظفر کا کہنا ہے کہ ریسرچ پر توجہ دے کر کپاس کی فصل کو پاکستان میں واپس لایا جا سکتا ہے اور سرتاج عزیز رپورٹ پر عمل کر کے حکومت اس مردہ گھوڑے میں جان ڈال سکتی   ہے -سرتاج عزیز رپورٹ پر عمل کر کے حکومت اس مردہ گھوڑے میں جان ڈال سکتی ہے۔دوسری جانب ڈاکٹر جسومل   کا کہنا تھا کہ سینٹرل کاٹن کمیٹی کو فعال بنا کر بھی کپاس کی صورت حال میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔ اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کاٹن کمیٹی کے تحت ہی کپاس کی ریسرچ، مارکیٹنگ اور دوسری فیلڈز میں کوششوں کو تیز اور موثر بنایا جا سکتا ہے۔اس حوالے سے وفاقی وزیر برائے فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ سید فخر امام کا کہنا ہے کہ زراعت موجودہ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اور اس شعبے کے فروغ اور ترقی کے لیے ہر ممکن کوششیں کی جا رہی ہیں۔


6انہوں نے کہا کہ کپاس کی ریسرچ کے لیے انڈوومنٹ فنڈ قائم کرنے کے سلسلے میں کام ہو رہا ہے جس کی تکمیل پر اس شعبے میں تحقیقات شروع ہو جائیں گی                                        2020 کے دوران پاکستان کے ٹیکسٹائل کے شعبے کو ایک بار پھر روپے کی قدر میں کمی، پیداواری لاگت میں اضافہ اور عالمی منڈی میں مقابلہ بازی کی وجہ سے مسائل کا سامنا کرنا پڑا جس کے بعد دنیا بھر میں کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے اس انڈسٹری کی مشکلا ت میں مزید اضافہ ہوا۔کورونا وائرس کی اس وبا نے عالمی سطح پر سپلائی چین کو متاثر کیا جس کی زد میں دیگر شعبوں کے ساتھ یہ انڈسٹری بھی آئی،


7 تاہم اس کے خاتمے کے بعد مالی سال 22-2021 میں اس شعبے نے بہت اچھی پرفارمنس دکھائی۔2022 سے پاکستان میں جاری سیاسی عدم استحکام کی فضا نے اس شعبے کے 2022 سے پاکستان میں جاری سیاسی عدم استحکام کی فضا نے اس شعبے کے مسائل میں کچھ اضافہ کیا جس حوالے سے پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن فیصل آباد کے ایڈیشنل سیکرٹری طارق طیب کہتے ہیں کہ گزشتہ کئی سالوں سے پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری مسائل شکار ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جولائی میں ہماری برآمدات میں 3 فیصد کمی واقعی ہوئی ہے۔ اس وقت یہ انڈسٹری اپنی گنجائش 40 فیصد کم پر چل رہی ہے تاہم یہاں پر یہ بات بھی سمجھنے کی ضرورت ہے جب یہ کہا جاتا ہے کہ ہم 40 سے 50 فیصد کم کیپسٹی پر چل رہے ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ انڈسٹری میں 40 سے 50 فیصد ملیں بند کردی گئیں بلکہ اس کے کچھ یونٹ اخراجات بڑھنے کی وجہ سے بند کیے گئے ہیں۔

پاکستانی معیشت کی تنزلی کے اسباب زراعت کی تباہی

''جب حضرت بختیار کا کی'' کو حضرت خضرع کا دست شفقت میسر آیا

 

    ۔حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی کی پیدائش 1187ء موافق 582ھ قصبہ اوش کرغیستان میں ہوئی، آپ کا لقب قطب الدین، قطب الاقطاب اور کاکی عرفیت ہے، کاکی کے معنیٰ روٹی کے آتے ہیں، آپ کا نسب پدری حضرت امام حسین ابن علی مرتضیٰ سے ملتا ہے، جب آپ کی عمر پانچ برس کی ہوئی تو آپ کی والدہ ماجدہ نے اپنے پڑوسی بزرگ سے کہا کہ میرے بچے کو کسی اچھے معلم کے سپرد کر دیں تاکہ یہ کچھ علم دین حاصل کر لے، وہ بزرگ اس بچے کو لے کر چلے ہی تھے کہ راستے میں ایک صوفی سے ملاقات ہوئی، بزرگ نے ان سے بچے کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ یہ ایک اچھے خاندان کا بچہ ہے مگر اس کے والد سید کمال الدین کا انتقال ہو گیا ہے، بیوہ ماں نے مجھے بلا کر کہا کہ اس کو کسی اچھے مکتب میں داخل کر دو، بزرگ نے یہ سن کر فرمایا کہ تم یہ کام میرے سپرد کر دو، میں اس کو ایک ایسے معلم کے حوالے کروں گا جس کے علم کے فیض اور برکت سے یہ بڑا صاحبِ کمال بن جائے گا۔


 

 پڑوسی اس بات کو سن کر بہت ہی خوش ہوا اور بچے کو لے کر اس بزرگ کے ساتھ معلم کے گھر جانے پر راضی ہو گیا۔ یہ دونوں قصبہ اوش کے ایک معلم ابوحفص کے پاس گئے اور خواجہ قطب کو ان کے سپرد کر دیا۔ ساتھ ہی اس بزرگ نے ابو حفص کو ہدایت کی کہ یہ لڑکا اولیاء اللہ میں شمار ہو گا اس لئے اس پر خاص شفقت فرمائیں۔ جب یہ   بزرگ بچے کو چھوڑ کر چلے گئے تو معلم ابو حفص نے ان سے دریافت کیا کہ وہ کون تھے جو تم کو اس مدرسہ میں لائے تھے؟ خواجہ نے کہا کہ میں ان کو بالکل نہیں جانتا۔ میری والدہ نے تو مجھے اپنے پڑوسی کے سپرد کیا تھا۔ یہ بزرگ راستے میں مل گئے اور مجھے آپ کی خدمت میں لے آئے۔ معلم ابو حفص نے جب یہ دیکھا کہ بچہ اس بزرگ کو نہیں جانتا تو انہوں نے بتایا کہ یہ بزرگ دراصل حضرت خضر تھے۔معلم کے پاس کسب فیض لینے کے بعدآپ  کم سنی ہی میں بغداد آگئے اور خواجہ معین الدین چشتی سے بیعت کی۔ سترہ برس کی عمر میں خواجہ بزرگ سے خرقہ خلافت پایا۔ کچھ عرصے بعد اپنے پیرو مرشد کی معیت میں ہندوستان تشریف لائے اور دہلی میں قیام فرمایا۔


 

 آپ بابا فرید الدین مسعود گنج شکر کے مرشد تھے۔ آپ کی طرف دو کتابیں منسوب کی جاتی ہیں۔ ایک دیوان ہے اور دوسری کتاب فوائد السالکین ہے جو تصوف کے موضوع پر قیمتی سرمایہ ہے۔ جواجہ قطب کو سماع سے رغبت تھی۔ دہلی میں محفل سماع کے دوران شیخ احمد جام کا یہ شعر قوال گارہا تھا کہ کُشتگانِ خنجرِ تسلیم را ہر زماں از غیب جانِ دیگر اَست سن کر وجد طاری ہوا۔ کہا جاتا ہےکہ تین روز اسی وجد میں رہے، آخر 27 نومبر 1235ء مطابق 14 ربیع الاول 633ھ کو انتقال فرماگئے۔ نماز جنازہ سلطان التتمش نے پڑھائی۔ آپ کا مزار دہلی کے علاقہ مہرولی میں واقع ہے۔اہل ِعالم نے یہ حیرت انگیز نظارہ دیکھاکہ 23سال کی قلیل مدت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وہ کام یابی نصیب ہوئی کہ کئی لاکھ مربع میل کا علاقہ اسلام کے زیر ِنگیں آگیا۔اس کے بعد خلفائے راشدینؓ،تابعین ،تبع تابعین اوراولیائے عظام ؒنے یہ مشن آگے بڑھایااورانسانی اخلاق کی حقیقی تصویر دُنیا کے سامنے پیش کی۔



 دنیا میں  بہت سے خدا کے بندے ایسے بھی  گزرے ہیں جنہوں نے انسانیت کی رہبری کے لئے اپنے دن اور رات وقف کئے تھے جو اپنے  قصرِ فقیرانہ میں رہ کر ہدایت کا سرچشمہ  بن گئے تھے اور جنہوں نے مذہبِ اسلام کی سچائی اور آوازحق پر کان  دھرے اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے  بامراد ہو کر بندگان خدا کی دعائیں  اپنے ساتھ لے گئے۔،مخلص اور ہدایت یافتہ پیروانِ اسلام اپنے پیش رَو بزرگوں کے نقش ِقدم پر چلتے رہے اوران کی ہمّت و استقلال میں ذرّہ برابر بھی فرق نہ آیا ۔ان کی عملی قوّتیں مضمحل نہیں ہوئیں،ان کی دینی سرگرمیوں میں ضعف نہیں آیا اورانہوں نے حق و صداقت کو کبھی فراموش نہیں کیا۔یہی وجہ تھی کہ غیروں نے اُن پر کبھی فتح نہیں پائی ۔ 


پاکستانی معیشت کی تنزلی کے اسباب زراعت کی تباہی'پارٹ'1

 



آج اگر پاکستانی معیشت کی تنزلی کے اسباب پر اگر غور کیا جائے  تو جوسب سے پہلی چیز نظر آتی ہے وہ ہے   زراعت کی تباہی'اس تباہی   کے سبب                            مالیاتی بحران کی وجہ سے عالمی سطح پر طلب اور رسد میں  کمی واقع ہوئی جس کا اثر پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری پر بھی پڑا۔ 2010میں بجلی کی قلت اور امن و امان کی خراب صورتحال کے باعث اس انڈسٹری کو بحران کا سامنا کرنا پڑا۔گذشتہ خریف میں میری زمینوں پر کپاس کاشت کی گئ اور ہمیں 29 ہزار روپے فی ایکڑ نقصان اٹھانا پڑا، اب مارچ-اپریل کے دوران میں کپاس نہیں اگاؤں گا۔’یہ الفاظ کسی اور کے نہیں بلکہ پاکستان کے وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ہیں، جو انہوں نے دو روز قبل اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہے۔شاہ محمود قریشی، جن کا شمار ملتان کے بڑے زمینداروں میں ہوتا ہے، نے کہا کہ مارچ -اپریل میں شروع ہونے والے خریف سیزن کے لیے ان کی زمینوں پر دوسری فصلیں کاشت کرنے کی تیاری ہو رہی ہے۔شاہ محمود قریشی پاکستان میں واحد زمیندار نہیں جو کپاس جیسی نقد آور فصل، جسے دنیا میں سفید سونا (وائٹ گولڈ) بھی کہا جاتا ہے، 


  کپاس  ہماری زرعئ معیشت کا ایک بڑا ستون ہے اور ہم کپاس  کی کاشت    کو پس پشت ڈال رہے ہیں ، بلکہ ہزاروں دوسرے زمیندار بھی اسی طرح کی حکمت عملی اپنا رہے ہیں۔ملتان ہی سے تعلق رکھنے والے درمیانے درجے کے زمیندار  بھی ان کاشت کاروں میں شامل ہیں جو ہمیشہ اپنی زمینوں پر کپاس کاشت کیا کرتے تھے، لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ انہوں  نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا: ’میں اپنے فائدے کو دیکھتے ہوئے کپاس چھوڑ کے گندم، مکئی اور چاول کی طرف جا رہا ہوں، کیونکہ کپاس میں سراسر نقصان ہے اور ایسا میں اکیلا نہیں کر رہا بلکہ دوسرے زمینداروں کی بھی یہی سوچ ہے۔‘پاکستان جنرز ایسوسی ایشن کے مطابق ملک میں 15 جنوری تک کپاس کی پیداوار 55 لاکھ گانٹھیں رہیں، جو گذش سالوں میں سب سے کم ہےسٹیٹ بینک کے مطابق رواں مالی سال کے دوران کپاس 22 لاکھ ہیکٹرز رقبے پر کاشت کی گئی ہے جو 1982 کے بعد سے کم ترین رقبہ ہے۔کپاس کے زوال کی وجوہات کیا ہیں؟ایک زمانہ تھا جب پاکستان کپاس میں خود کفیل تھا اور سالانہ 25 لاکھ گانٹھیں بیرون ملک بھیجا کرتا تھا،


 لیکن اب صورت حال اتنی خراب ہو گئی ہے کہ اس سال ٹیکسٹائل ملز اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے 70 سے 80 لاکھ گانٹھیں درآمد کریں گی، جس پر تقریباً تین ارب ڈالر خرچ ہونے کا اندازہ ہے۔پاکستان میں کپاس کی فصل کی زبوں حالی کا اندازہ لگانے کے لیے پنجاب کے ضلع وہاڑی کی اکثر مثال دی جاتی ہے، جہاں دس سال قبل تک کپاس کی پیداوار 16 لاکھ گانٹھیں تھیں، لیکن گذشتہ چند سال سے وہاں سفید سونے کی ایک ڈالی بھی نہیں اگائی جا رہی۔بھارت، جس کی 2005 تک کپاس کی پیداوار 14 ملین گانٹھیں سالانہ تھیں، اب ہر سال ساڑھے تین کروڑ سے زیادہ کپاس پیدا کر رہا ہے، جبکہ پاکستان ایک عشرہ قبل تک ڈیڑھ کروڑ گانٹھوں کی پیداوار سے 55 لاکھ تک آ گیا ہے۔ماہرین کپاس کے زوال کی سب سے بڑی وجہ حکومتی عدم توجہی اور غلط پالیسیوں کو قرار دیتے ہیں، جس کے باعث کاشتکار مکئی، گندم اور چاول کی طرف راغب ہو رہے ہیں۔خواجہ شعیب کا کہنا تھا کہ گذشتہ دس سالوں کے دوران حکومتوں نے کپاس کے ساتھ بہت بڑا ظلم کیا جس کی وجہ سے آج یہ فصل پاکستان سے ختم ہوتی جا رہی ہے۔بقول شعیب: ’شاید آئندہ دس سال بعد ہم کہیں گے کہ پاکستان میں کبھی کپاس اگائی جاتی تھی۔


ان کے خیال میں موجودہ اور ماضی قریب کے حکمرانوں نے ملک بھر میں گنے کو غیر ضروری طور پر اہمیت اور مراعات دیں، جو کپاس کے لیے مضر ثابت ہوئیں۔اس سوال کے جواب میں کہ گنے کو اہمیت کیوں دی جا رہی ہے؟ انہوں نے کہا: ’گذشتہ اور موجودہ حکومتوں میں شامل اہم شخصیات شوگر ملوں کی مالک ہیں، تو انہوں نے دراصل اپنے کاروبار کو فروغ دیا ہے۔‘پاکستان جنرز ایسوسی ایشن کے چئیرمین ڈاکٹر جسومل ٹی لیمانی کا کہنا ہے کہ کپاس کے کسان کو سب سے بڑا مسئلہ معیاری بیج کی فراہمی ہے، جس کی عدم موجودگی میں روایتی بیج ہی استعمال ہو رہا ہے۔روایتی بیج کے استعمال سے فصل کی پیداوار میں کمی واقع ہوتی ہے اور آہستہ آہستہ کاشتکار کپاس اگانا چھوڑ دیتا ہے۔‘انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں کپاس کے بیج پر کوئی ریسرچ نہیں ہو رہی جبکہ اس کام کے لیے ادارے موجود ہیں۔پاکستان میں زراعت کے تحقیقی ادارے پاکستان ایگریکلچر ریسرچ کونسل کے سابق سربراہ ڈاکٹر یوسف ظفر نے تحقیقات نہ ہونے کے تاثر کو غلط قرار دیتے ہو ئے کہا کہ ریسرچ کے لیے وسائل کی ضرورت ہوتی ہے جو حکومت مہیا کرنے میں ناکام رہی ہے۔


ہفتہ، 22 نومبر، 2025

پرتگال میں فاطمہ سٹی میں عقیدت مندوں کا اژدہام

 


 13  مئ  وہ تاریخ ہے جس میں نیا بھر سے کیتھولک زائرین فاطمہ کے مزار پر حاضری دینے آتے ہیں۔کیتھولک زائرین پہلی بار مزار کی زیارت کے لیے 1927 میں فاطمہ آئے اور 1928 میں مزار پر ایک چرچ تعمیر کر دیا گیا۔اس چرچ کے بارے میں خیال ہے یہ اسی جگہ تعمیر کیا گیا ہے کہ جہاں ’حضرت مریم کا ظہور ہوا تھا‘۔ چرچ کے ٹاور کی اونچائی 65 میٹر ہے جس کے اوپر ایک بڑا کانسی کا تاج اور ایک کرسٹل کی سلیب بنی ہوئی ہے۔13 مئی 1967 کو ’ظہور‘ کی 50ویں سالگرہ کے موقع پر تقریباً دس لاکھ زائرین فاطمہ میں جمع ہوئے جہاں پوپ پال ششم نے اجتماعی دعا کروائی۔نو سال کی عمر میں ’حضرت مریم کا ظہور‘ دیکھنے والی لوسیا بعد ازاں راہبہ بن گئیں اور 97 سال کی عمر تک زندہ رہیں۔انھوں نے ’فاطمہ کے تین راز‘ (تھری سیکریٹس آف فاطمہ) لکھی اور ان کی وفات 2005 میں ہوئی۔لیکن فرانسسکو اور جیسنٹا مارٹو 1918-1919 کے انفلوئنزا کی وبا کے نتیجے میں ہلاک ہوئیں۔سنہ 2000 پوپ جان پال دوم نے دونوں بچوں کے سعادت ابدی کا اعلان کیا اور پھر 2017 میں پوپ فرانسس نے ’ظہور‘ کی صد سالہ تقریب کے موقع پر دونوں کو ’سینٹ‘ قرار دے دیا۔اس قصبے کا نام فاطمہ کیسے پڑا، اس بارے میں کئی متضاد روایات پائی جاتی ہیں۔


کچھ کا ماننا ہے کہ قصبے کا نام جزیرہ نما آئبیریا میں مسلمانوں کے دورِ حکومت میں پیغمبرِ اسلام کی بیٹی فاطمہ کے نام کی مناسبت سے رکھا گیا تھاانسائیکلوپیڈیا برٹینیکا کے مطابق اس قصبے کا نام 12ویں صدی میں اندلس کے مسلمانوں (موریش) کی ایک شہزادی کے نام پر رکھا گیا۔ موریش شمالی افریقہ سے تعلق رکھنے والے مسلمان حکمرانوں کو کہا جاتا ہے جنھوں نے آٹھویں صدی سے 15ویں  صدی               تک سپین اور آس پاس کے علاقوں پر حکمرانی کی تھی              ایک ویب سائٹ نوبیلٹی کے مطابق سنہ 1158 میں ایک پرتگالی نائٹ نے شہزادی کے والد کو شکست دینے کے بعد فاطمہ کو قیدی بنا لیا۔بعد ازاں نائٹ نے پرتگال کے بادشاہ ڈوم افونسو ہینریکس سے اس سے شادی کی اجازت مانگی۔ بادشاہ نے انھیں دو شرائط پر اجازت دی۔ ایک کہ شہزادی کیتھولک مذہب اختیار کر لے اور دوسری یہ کہ وہ نائٹ سے شادی کرنے پر راضی ہو جائے۔مذہب کی تبدیلی کے بعد شہزادی کا نیا نام اوریانا رکھا گیا۔ پرتگال کے بادشاہ نے شادی کے تحفے کے طور پر انھیں ایک شہر دیا۔ وقت کے ساتھ شہر کا نام بدل گیا اور بعد میں قریبی پہاڑی علاقہ جہاں شہزادی کچھ عرصہ مقیم رہی تھیں وہ ان کے اصل نام سے مشہور ہوا


۔ایک تیسری روایت کے مطابق، فاطمہ کا قصہ 1492 کا ہے جب سقوطہ غرناطہ ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ جب الفانسو اول اور اس کی فوج فتح یاب ہوئی اور سالٹ پیلس پر قبضی کیا تو جنگی قیدیوں میں اندلس کی ایک شہزادی بھی تھی جس کا نام فاطمہ تھا۔شہزادی نے مذہب تبدیل کیا اور اورم شہر کے گورنر نے اس سے شادی کر لی۔ شہزادی فاطمہ اپنی اعلیٰ ثقافت کے لیے مشہور تھیں۔روایت کے مطابق شہزادی بہت خوبصورت اور نرم دل تھیں جو جلد ہی عوام میں اتنی مقبول ہو گئیں کہ لوگوں نے وہ محل جہاں وہ رہتی تھیں اور آس پاس کے علاقے کا نام ان کے نام پر رکھ دیا۔وقت گزرنے کے ساتھ وہاں ان کے نام سے ایک چھوٹا سا گاؤں آباد ہوگیا جو بعد ازاں دنیا بھر سے آنے والے کیتھولک زائرین کے لیے مقدس حیثیت رکھتا ہے  اس پاکیزہ مرک کے چاروں جانب تسبیحا ت فروخت کرنے والے بیٹھے ہوتے ہیں جبکہ گھٹنوں پر پہننے والے پیڈ بھی بڑی تعداد میں ملتے ہیں کیونکہ عقیدت مند گھٹنو ں  کے بل چل کر تسبیح ہاتھ میں  پکڑ کر اپنی منزل مراد تک جاتے ہیں -یہاں پر ایک گھر بھی ہے جس میں لوسیا کا خیالی دور دکھایا گیاہے جس    سے ظاہرہو رہا کہ اس دور کی عورت با پردہ ہوتی تھی اس کے علاوہ  بڑی بڑی موم بتیاں بھی مرکز میں جلائ جاتی ہیں -

 

دنیا بھر سے کیتھولک زائرین فاطمہ کے مزار پر حاضری دینے آتے ہیں۔کیتھولک زائرین پہلی بار مزار کی زیارت کے لیے 1927 میں فاطمہ آئے اور 1928 میں مزار پر ایک چرچ تعمیر کر دیا گیا۔اس چرچ کے بارے میں خیال ہے یہ اسی جگہ تعمیر کیا گیا ہے کہ جہاں ’حضرت مریم کا ظہور ہوا تھا‘۔ چرچ کے ٹاور کی اونچائی 65 میٹر ہے جس کے اوپر ایک بڑا کانسی کا تاج اور ایک کرسٹل کی سلیب بنی ہوئی ہے۔13 مئی 1967 کو ’ظہور‘ کی 50ویں سالگرہ کے موقع پر تقریباً دس لاکھ زائرین فاطمہ میں جمع ہوئے جہاں پوپ پال ششم نے اجتماعی دعا کروائی۔نو سال کی عمر میں ’حضرت مریم کا ظہور‘ دیکھنے والی لوسیا بعد ازاں راہبہ بن گئیں اور 97 سال کی عمر تک زندہ رہیں۔انھوں نے ’فاطمہ کے تین راز‘ (تھری سیکریٹس آف فاطمہ) لکھی اور ان کی وفات 2005 میں ہوئی۔لیکن فرانسسکو اور جیسنٹا مارٹو 1918-1919 کے انفلوئنزا کی وبا کے نتیجے میں ہلاک ہوئیں۔سنہ 2000 پوپ جان پال دوم نے دونوں بچوں کے سعادت ابدی کا اعلان کیا اور پھر 2017 میں پوپ فرانسس نے ’ظہور‘ کی صد سالہ تقریب کے موقع پر دونوں کو ’سینٹ‘ قرار دے دیا۔اس قصبے کا نام فاطمہ کیسے پڑا، اس بارے میں کئی متضاد روایات پائی جاتی ہیں۔کچھ کا ماننا ہے کہ قصبے کا نام جزیرہ نما آئبیریا میں مسلمانوں کے دورِ حکومت میں پیغمبرِ اسلام کی بیٹی فاطمہ کے نام کی مناسبت سے رکھا گیا تھاانسائیکلوپیڈیا برٹینیکا کے مطابق اس قصبے کا نام 12ویں صدی میں اندلس کے مسلمانوں (موریش) کی ایک شہزادی کے نام پر رکھا گیا۔ موریش شمالی افریقہ سے تعلق رکھنے والے مسلمان حکمرانوں کو کہا جاتا ہے جنھوں نے آٹھویں صدی سے 15ویں تک سپین اور آس پاس کے علاقوں پر حکمرانی کی تھی۔

جمعہ، 21 نومبر، 2025

سر گنگا رام جو یائے علم -ائے موت ایسوں کو نہیں کھایا کر

   

    گنگارام حکومت ہند اور مہاراجہ پٹیالہ کے ہاں ملازمت کر رہے تھے  لیکن  اچانک انہوں نے ایک بڑا فیصلہ کیا  اور ملازمت سے استعفیٰ دیا اور قوم کی فلاح کا ارادہ بنا لیا انہوں نے فلاحی کاموں کیلئے سارا پیسہ اپنی جیب سے خرچ کیا۔ یہ پیسہ  انہوں نے اپنی  کاشتکاری سے حاصل کیا۔گنگا رام نے 1903ء میں سرکاری نوکری چھوڑی اور منٹگمری (موجودہ ساہیوال) کے قریب پچاس ہزار ایکڑ بے آباد زمین لیز پر لی‘ اس کی آبادکاری شروع کی اورتین سال کے مختصر عرصے میں یہ بیابان ایک سرسبز قطعہ اراضی میں تبدیل کر دیا۔اس کیلئے   انہوں نے لوئر باری دوآب کینال سے آبپاشی کا نظام قائم کیا اور رینالہ خورد میں اس نہر پر ایک میگاواٹ کاپن بجلی گھر تعمیر کیا۔ اس بجلی سے اپنی ساری زمینوں پر آبپاشی کی غرض سے ٹیوب ویل چلائے۔ یہاں چار عدد ٹربائنیں 1921ء میں نصب کی گئی تھیں اور آج انہیں ایک کم سو سال ہو چکے ہیں۔ چار میں سے تین ٹربانیں اصلی حالت میں چل رہی ہیں اور سال بھر میں قریب دس گیارہ ماہ چلتی رہتی ہیں۔

  نہر کے پانی سے چلنے والے چار عدد پنکھا نما Propeller ان ٹربائنوں کو چلاتے تھے۔ کئی سال ہوئے‘  میں سے  ایک پنکھے کے خراب ہونے کے باعث تین ٹربانیں چل رہی تھیں۔  یہ پنکھا کئی برسوں سے مرمت کا منتظر ہے۔خدا جانے ابھی یہ پنکھا مرمت ہوا ہے یا نہیں؛ تاہم دیگر تین ٹربائنیں آج بھی بجلی فراہم کررہی ہیں۔ اسی طرح گنگارام نے پٹھانکوٹ اور امرتسر کے درمیان ایک پن بجلی گھر لگا کر ہزاروں ایکڑ بنجر زمین کو قابل کاشت بنایا۔جڑانوالہ میں بچیانہ ریلوے سٹیشن کے قریب گنگا پور نامی گائوں آباد کیا اور وہاں بھی سینکڑوں ایکڑ اراضی قابلِ کاشت بنائی۔ آبپاشی کیلئے برطانیہ سے بہت بڑی اور وزنی موٹر منگوائی جسے بچیانہ سے گنگاپور لانے کی غرض سے گنگا رام نے ریلوے لائن بچھائی اور اس موٹر کو گھوڑا ٹرین کے ذریعے گنگا پور لایا۔ یہ ٹرین اپنی نوعیت کا ایک عجوبہ تھا جو اسی سال تک چلنے کے بعد بند ہو گئی۔ سنا ہے‘ اب دوبارہ چالو ہو گئی ہے۔ گنگا رام نے منٹگمری، لائلپور اور پٹھانکوٹ میں واقع وسیع اراضی سے اس زمانے میں کروڑوں کمائے اور زیادہ تر فلاحی اور رفاہی کاموں پر خرچ کر دئیے۔

 سرگنگا رام نے پنجاب میں زرعی اصلاحات کے زمن میں بہت کا م کئے اور جدید زرعئ اصلاحات  متعارف کروائیں۔   انہوں نے چشمہ نما آبپاشی کا نظام متعارف کرایا جس نے بنجر زمینوں کو زرخیز بنا دیا۔ ان کے پرائیویٹ فارم پر ایک وقت میں ہزاروں مزدور کام کرتے تھے۔  انہوں نے بیواؤں کے لیے فلاحی ادارے، یتیم خانے اور رہائش گاہیں بھی قائم کیں۔ لاہور میں  وہ تعمیرات کے بادشاہ بن گئےگنگا رام              گرلز ہائی سکول (موجودہ لاہور کالج فار ویمن) راوی روڈ‘ ادارہ برائے معذوراں، لیڈی میکلیگن ہائی سکول، ہندو بیوگان کا آشرم، لیڈی منیارڈ انڈسٹریل سکول اور سب سے بڑھ کر سر گنگا رام ہسپتال تعمیر کرائے۔ ان سب خیراتی اور رفاہی اداروں کو چلانے کیلئے مال روڈ پر گنگا رام ٹرسٹ بلڈنگ اور گنگا پور گاوں کی اراضی کو وقف کیا۔اپنے نام سے زیادہ دوسرے ناموں پر اپنے پیسے سے ادارے بنائے۔


 ماڈل ٹائون کا منصوبہ اور ڈیزائن بھی گنگا رام کے زرخیز ذہن کا کمال تھا۔ آج ہم گنگا رام کو بھول چکے ہیں۔ کم از کم ہم یہ کر سکتے ہیں کہ راوی روڈ کے علاقے میں گلیوں کے اندر واقع ان کی سمادھی کی مرمت کروائی جائے۔  یہ لاہور کے محسن کی سمادھی ہے۔سر گنگا رام ہسپتال دہلی، گنگا بھون (انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی رُڑکی) اور سر گنگا رام ہیریٹیج فاؤنڈیشن لاہور اُن کے تعمیری اور خدماتی ورثے کی دیگر یادگاریں ہیں۔ ان کے اعزازات میں رائے بہادر اور سر کے خطاب کے علاوہ ممبر آف رائل وکٹورین آرڈر (MV0) اور کوم پینیئن آف دی انڈین ایمپائر (CIE) کے اعزازات شامل ہیں۔ ان کی بنوائ ہوئ   عمارتیں آج بھی سر گنگا رام کی عظمت کی گواہی دیتی ہیں اور ان کی تعمیرات کے ماتھے پر سر گنگا رام کا نام ہمیشہ ان دنیا کو ان کی یاددلاتا رہےگا 

تلخیص و تحریر انٹر نیٹ سے کی گئ ہے


جمعرات، 20 نومبر، 2025

ابو الفتح عمر خیام بن ابراہیم نیشا پوری، المعروف، عمر خیام

 

 




 میں  خود  حیران تھی کہ وہ شاعر جس کی کتابوں کے تراجم انگریز  وں نے کئے اور ان کی شاعری سے فیض بھی اٹھایا تو ہماری نظروں سے وہ کیوں اوجھل رہے   شائداس کی وجہ یہ ہو کہ فارسی زبان معاشرے سے ناپید کر دی گئ                              ابو الفتح عمر خیام بن ابراہیم نیشاپوری، المعروف، عمر خیام   جن کے عِلم وفضل کا اعتراف اہل ِایران سے بڑھ کر اہل ِیورپ نے کیا۔لاتعداد ہستیاں شہرت و عظمت کی بلندیاں چھونے، اورکچھ عرصہ ستاروں کی مانند چمکنے کے بعد معدوم ہوکر خاک نشیں ہو گئیں، ماضی کی گرد میں ایسی گُم ہوئیں کہ نشاں تک نہ رہا، لیکن اِن ہی میں کئی ایسے نام وَر بھی ہوئے، جن کی شہرت زندگی میں بھی چاردانگِ عالم تھی، تو بعد ازمرگ بھی نام و مقام بلند رہا۔ یہاں تک کہ صدیاں گزرنے کے بعد بھی انھیں دوام حاصل ہے۔  عمرخیّام ایران کے شہر نیشا پورمیں1048ء میں پیدا ہوئے اور4دسمبر 1131ء میں اُن کا انتقال ہوا۔ وہ اپنے دَور کے نام وَر فلسفی، ریاضی دان، ماہرِ علمِ نجوم، عالم، طبیب اور کئی دیگر علوم میں یگانۂ روزگارتھے۔ ان علوم کے علاوہ شعر و سخن میں بھی بہت بلند مقام رکھتے تھے


اور بلاشبہ اُن کا شمار دنیا کے مقبول ترین شعراء میں ہوتا ہے۔ فارسی زبان میں اُن کی رباعیات آج بھی دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ بے پناہ خوبیوں کے حامل، خیّام، عہدِ سلجوقی میں سلجوقی سلطنت سے وابستہ تھے اور ان کی ہمہ گیر شہرت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انھیں خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے 1970ء میں چاند کے ایک گڑھےاور1980ء میں ایک سیارچے کا نام، اُن کے نام پر رکھا گیا۔ یوجین اونیل، اگاتھا کرسٹی اور اسٹیون کنگ جیسے مشہور ادیبوں نے اپنی کتابوں کے نام عمرخیّام کے اقتباسات پر رکھے۔عمرخیّام کو اگرچہ زیادہ شہرت شاعری کی بدولت ملی۔ تاہم، وہ اسے انتہائی غیرسنجیدہ اور فراغت کا مشغلہ سمجھتے تھے، یہی وجہ تھی کہ انھوں نے زندگی بھر اپنا کلام مرتّب نہیں کیا، لیکن، مشرق و مغرب میں انھیں اصل شہرت اُن کی شاعری ہی کی وجہ سے ملی۔ اُن کی رباعیات نے جنہیں وہ ’’وقتے خوش گزرے‘‘ سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے تھے،


 کہتے ہیں عمر خیّام جب پیچیدہ علوم کے مسائل سے فارغ ہوتے، تو تفریحِ طبع اور دل جوئی کے لیے شعر کہتے۔اُن کی شاعری کا حاصل اُن کی فارسی رباعیات ہیں، مولانا شبلی لکھتے ہیں کہ’’خیّام کی رباعیاں اگرچہ ہزاروں کی تعداد میں ہیں، لیکن سب میں قدرِ مشترک صرف چند مضامین، مثلاً، دُنیا کی بے ثباتی، خوش دلی کی ترغیب، شراب کی تعریف، مسئلہ جبر اور توبہ استغفارہیں۔ وہ ہر ایک مضمون کو سو سو بار اس طرح بدل کر ادا کرتے ہیں کہ معلوم ہوتا کہ وہ کوئی نئی چیز ہے۔مثلاً ’’توبہ استغفار‘‘ ایک قدیم موضوع ہے، لیکن جس طرح خیّام اسے ادا کرتے ہیں، سننے والے کی آنکھ سے آنسو نکل پڑتے ہیں۔ مغفرت کی دُعا، اس جدّتِ اسلوب سے مانگتے ہیں کہ دُعا کا اثر بڑھ جاتا ہے۔‘‘ جب کہ معروف ایرانی اسکالر، مجتبیٰ مینوی کا کہنا ہے کہ،’’بلاشبہ، شعرائے ایران میں ایسا کوئی نظر نہیں آتا، جسے خیّام کی مانند عالمی شہرت ملی ہو۔


‘عمر خیّام کے عہد کے فلسفی، علماء و فضلا اُن سے ملاقات کے خواہش مند رہتے اورگاہے بہ گاہے اُن کی خدمت میں حاضری دیتے۔ وہ عمر خیّام سے اختلاف کے باوجود اُن کا احترام کرتے تھے۔ ان کے علم و فضل ہی کی بدولت اُنھیں ’’حجۃ الحق‘‘ کا خطاب دیا گیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ تاحیات حق و صداقت کے متلاشی رہے۔ حکیم بو علی سینا کے مشہور شاگرد، ابو نصر محمد ابراہیم نے اُن کی مدح میں عربی میں جو قطعہ لکھا ہے، اس سے اُن کی قدر و منزلت کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ترجمہ:’’اے بادِ صبا! علّامہ خیّام کو ہمارا سلام پہنچادے۔ وہ عالی جناب، جن کے آستانے پر خود زمین یوں سجدہ ریز ہے، جیسے حکمت کی بھیک مانگنے والا۔ وہ ایسے بزرگ ہیں، جن کے سحابِ حکمت سے حکمت کی بوسیدہ ہڈیوں میں حیاتِ جاوداں پیدا ہوئی ہے۔ ’’کون و تکلیف‘‘ کے مسائل پر اُنھوں نے وہ افادات فرمائے، جس کے بعد کسی دلیل کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔‘‘

بدھ، 19 نومبر، 2025

شہرت کی بلندیوں پر مسند نشین ''عابدہ پروین''

 

عابدہ پروین (ولادت: 20 فروری 1954ء)  پاکستانی صوفی مسلم گلوکارہ، کمپوزر اور موسیقار ہیں۔گائیکی کے ذریعے صوفیانہ کلام کوپھیلانے کی بات کی جائے تو شاید اس وقت پورے برصغیر میں عابدہ پروین سے بڑا کوئی نام نہیں۔ انھوں نے صرف پاکستان اور بھارت میں ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں صوفی شعراکے پیغام کو پھیلایا۔ عابدہ پروین کاایک موسیقار گھرانے سے ہے۔ انھوں نے موسیقی کی ابتدائی تعلیم اپنے والد استاد غلام حیدر سے حاصل کرنے کے بعد ریڈیو پاکستان سے اپنی فنی زندگی کا آغاز کیا۔2012ء میں عابدہ پروین کی فنکارانہ خدمات کے اعتراف میں انھیں ہلالِ امتیازسے نوازا گیا، اسی برس انھیں بھارت کی بیگم اختر اکیڈمی آف غزل کی طرف سے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈبھی دیا گیا۔ عابدہ پروین کو اس سے پہلے حکومت پاکستان کی جانب سے پرائیڈ آف پرفارمنس بھی مل چکا ہے۔2015ءمیں بھی پاکستان اور بیرونِ ممالک میں عابدہ پروین نے کئی شوز کیے اور موسیقی کی دنیا میں منفرد شناخت کی حامل رہیں۔

 عابدہ پروین کو پاکستان اور بھارت کے مقابلہ موسیقی پروگرامسر چھترا میں بطور جج بھی رکھا گیا تھا   استاد غلام حیدر کا اپنا میوزیکل اسکول تھا،  ۔جہاں سے عابدہ پروین نے موسیقی کی تربیت حاصل کی-عابدہ پروین کو آرٹس میں بھی دلچسپی ہے۔عابدہ پروین کی گائیکی اور موسیقی کی وجہ سے ان کو 'صوفی موسیقی کی ملکہ' بھی کہا جاتا ہے۔ 2012 کو ان کو پاکستان کا دوسرا سب سے بڑا سویلین اعزاز نشان امتیاز سے نوازا گیا۔  اور 23 مارچ 2021 کو انھیں صدر پاکستان کی طرف سے پاکستان کا سب سے بڑا سویلین اعزاز ہلال امتیاز سے نوازا گیاعابدہ پروین کی پیدائش پاکستان کے سندھ کے علاقے لاڑکانہ کے محلہ علی گوہرآباد میں ہوئی تھی۔ انھوں نے موسیقی کی تربیت ابتدا میں اپنے والد استاد غلام حیدر سے حاصل کی، جنھیں عابدہ بابا سائیں اور گاوایا کے نام سے پکارتی ہیں۔پروین نے 1970ء کی دہائی کے اوائل میں درگاہوں اور عرس میں نغمے پیش کرنا شروع کیا تھا۔

 1971ء میں، جب نصیر ترابی نے مشرقی پاکستان کے خاتمے پر گہرے دکھ کا اظہار کرنے کے لیے وہ ہم سفر تھا لکھا تو پروین نے اس غزل کو خوبصورت انداز میں پیش کیا۔اگرچہ عابدہ پروین ایک انتہائی ساکھ والی گلوکارہ ہیں، لیکن انھوں نے کبھی فلموں میں اپنی آواز نہیں دی۔ عابدہ پروین کے شائقین اور فاروق مینگل کے اصرار پر ان کے پہلے سے ریکارڈ شدہ گانوں کو فلموں میں استعمال کیا گیا ہے۔ پروین اپنی شرمیلی شخصیت کی وجہ سے انٹرویوز اور ٹیلی ویژن مارننگ شوز میں کم سے کم دکھائی دیتی ہیں۔ پروین نے اعتراف کیا کہ انھیں بالی ووڈ کے فلم سازوں یعنی سبھاش گھئی اور یش چوپڑا کی طرف سے پیش کش ملتی رہتی ہیں لیکن وہ ان سے انکار کردیتی ہیں کیونکہ انھوں نے خود کو تصوف میں ڈھا لیا ہے ہے۔  یہاں تک کہ انھیں را.ون کے لیے شاہ رخ خان کی طرف سے پیش کش بھی آئیں اور میوزک ڈائریکٹر اے آر رحمان نے بھی انھیں کچھ گانوں کی پیش کش کی ہے

عابدہ پروین کے والد خود بھی ایک صوفی  سنگر ہیں اور انہوں نے عابدہ پروین کی خود تربیت کی پھر ان کو اساتذہ کی تربیت کے سپرد کیا   انھوں نے موسیقی کی ابتدائی تعلیم اپنے والد استاد غلام حیدر سے حاصل کرنے کے بعد ریڈیو پاکستان سے اپنی فنی زندگی کا آغاز کیا۔2012   استاد غلام حیدر کا اپنا میوزیکل اسکول تھا،  ۔جہاں سے عابدہ پروین نے موسیقی کی تربیت حاصل کی-عابدہ پروین کو آرٹس میں بھی دلچسپی ہےء میں عابدہ پروین کی فنکارانہ خدمات کے اعتراف میں انھیں ہلالِ امتیازسے نوازا گیا، اسی برس انھیں بھارت کی بیگم اختر اکیڈمی آف غزل کی طرف سے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈبھی دیا گیا۔ عابدہ پروین کو اس سے پہلے حکومت پاکستان کی جانب سے پرائیڈ آف پرفارمنس بھی مل چکا ہے۔2015ءمیں بھی پاکستان اور بیرونِ ممالک میں عابدہ پروین نے کئی شوز کیے اور موسیقی کی دنیا میں منفرد شناخت کی حامل رہیں۔ عابدہ پروین کو پاکستان اور بھارت کے مقابلہ موسیقی پروگرامسر چھترا میں بطور جج بھی رکھا گیا تھا۔ 

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

انقلاب چین جو چینی قوم کی نجات کا باعث بن گیا

  چین کے انقلاب میں تاریخی لانگ مارچ کو ایک سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے جو اکتوبر1934ء سے اکتوبر 1935ء تک جاری رہا۔ یہ لانگ مارچ چھے ہزار میل ط...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر