منگل، 3 فروری، 2026

کہو دلہن بیگم ! ہمارا بھائ تمھیں کیسا لگا

 

میں سہاگن بنی مگر    !نگین دلہن بنی مثل ایک زندہ لاش کے سر جھکائے بیٹھی تھی اس نے آج کے دن کے لئے بڑی آپا کے اور منجھلی آپا کے سمجھانے سے بہت ہمّت کر کےاپنے آپ کو سنبھالا ہوا تھا مگر دل پر بھلا کس کو اختیار ہوسکتا ہے ،اور اس کا دل سینے کے پنجرے میں پھڑپھڑا رہا تھا کہ اس کو جان ودل سے ا پنا بنانے والا کبھی بھی واپس نہیں آنے کے لئے اس سے روٹھ کردنیا سے جا چکا تھا,,سو چوں کے انہی جان گسل لمحات میں ,ایجاب وقبول کے لئے مولاناصاحب طلال کے ہمراہ اس کے پاس آگئے'ایجاب و قبول کا مرحلہ شروع ہوا نصرت نگین بنت اسلام الدّین آپ کو مبلغ                   مہر شرعی شامیل احمد ابن خلیق احمد کے ساتھ نکاح منظور ہے اور مولاناصاحب کے الفاظ پورے ہونے سے پہلے اس نے اپنے آپ کو بے ہوش ہونے سے بچایا ،اورپھر اس نے مولانا کے دوسر ی بار کے مرحلے پر پہنچنے پر آہستہ سے ہاںکہاور نکاح نامے کو اپنی موت کا پروانہ سمجھ کر سائن کر دئےاور نکاح کے بعد اس کی منجھلی آپا اور بڑی آپا نے ,,نے اس کے دونو ں بازوتھام کر شامیل کے پہلو میں لا کر بٹھا دیا، اس نے نا تو اپنی نگاہیں اوپراٹھائیں اور ناہی شامیل نے اس کے پہلو کی قربت کو اپنے نزدیک پسند کیا اسلئے کچھ فاصلہ پر کھسک کر بیٹھ گیا جس کو سب نے اس کی شرم و حیا کی تعبیرجانا مووی بنتی رہی تصاویر کھینچی جاتی رہیںفو ٹو گرافر مووی میکر باربار اصر ار کرنے لگا زرا سا کلوز ہو جائیے ,,زرا سا کلوز ہو جائیے اور وہ زراسا کلوز ہوتا اور پھر دور ہوجاتا ،اور وہ بے روح کی مانند ساکت ہی رہی اور بغیر ایک آنسو بہائے رخصت ہو کرشامیل کے گھر میں سر جھکائےہوئے آ گئ'اس شادی میں اس کے میکے میں ناکوئ رسمیں ہوئیں ناریتیں ہوئیں نا ڈھولک کی تھاپ پر کسی سہیلی نے کوئ سہاگ گیت گا یا ،بس منجھلی آپا ہی تو تھیں جنہوں نے اس کے ہاتھوں اور پیروں میں مہندی لگا دی تھی اور بیوٹی پارلر لے جاکر دلہن بنوا لائ تھیں-


البتّہ شامیل کے یہاں اس کے بابا جانی کی بیماری کے باوجود شادی کےہنگامے کا پورا پورا اہتمام اس لئے کیا گیا تھا کہ شامیل کہیں یہ نہیں سوچے کہ گھر میں چھوٹا ہونے کے سبب وہ نظر انداز کر دیا گیا- شامیل کے ساتھ انتہائ عجلت میں حادثاتی شادی نےجس میں اس کا پورا، پورا قصور شامل تھا ,اس کو زہنی اور جسمانی دونوں طرح سے بے حد تھکا دیا تھا ، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جب شامیل نے رات گئے کمرے میں آکے اس کواس کےماضی کے زہر بھرے کچوکے دئے تو اس کے زہن نے مزید بوجھ اٹھانے سے انکار کردیا  کیونکہ اسکا د ماغ اب مذید بو جھ اٹھا نے سے  قا صر ہو چکا تھا جس کا نتیجہ اب ظاہر ہو ا اس کو پتا ہی نہیں چلا کہ کب وہ بے ہوش ہوگئ البتّہ جب اسے ہوش آیا تو کمرے میں گھپ اندھیرا چھایا  ہواتھا اور تمام  ماحول پر رات کی  خاموشی طاری تھی اور اس کے ہاتھوں اور پیروں کی طاقت سلب ہو چکی تھی ,کچھ دیرتو اس کی سمجھ ہی میں نہیں  آیا کہ کہ وہ کہاں پر ہے ؟ اورایک اجنبی گھر میں کیوں ہے ؟ اپنی بڑی آپا کے گھر کیوں نہیں ہے پھر جب کچھ, کچھ اس  کے حواس واپس ہونے لگے تو اس کو یاد آیا کہ اس کی شادی ہو چکی ہے اور اب وہ بڑی آپا کے گھر کے بجائے شامیل کے گھر میں موجود ہے ، پھر اس کے لئےتختہء دار پر گزرتی ہوئ اس شب مرگ و سوگ میں اس کا دھیان یعسوب کی جانب  چلا گیا جو اس کو حالات کے منجھد ھار میں مر ،مر کے جینے اور جی، جی کے مرنے  کے لئےتنہا  چھوڑ کر چلا گیا تھا 


اس نے سوچا کہ یعسوب کے بجائے اگر وہ مرجاتی تو کتنا اچھّا ہوتا بے اختیار اس کی آنکھوں سے اپنی بے بسی پر آنسوؤں کی جھڑی لگی تو اس نے آنسوپونچھنے کے لئے اپنے ہاتھ کو جیسےہی جنبش دی اس کی کلائیوں میں موجود کانچ کی چوڑیاں کھنک اٹھیں اور اس نے اپنا                 ہاتھ وہیں پر رو ک دیا اورسنبھل کر سو چا کہ کہ کہیں اس کے رونے سے کارپٹ پر سوئے ہوئے شامیل کی آنکھ نا کھل جائے اور پھر ایک نیا ہنگامہ کھڑا ہو جائے اس لئے اس نے خاموشی سے اپنے آنسوؤں کویونہی بہتے رہنے دیا اوریہ آنسوبہتے ہوئے اس کا تکیہ بھگوتے رہے اور اسی طرح وہ ناجانے کب نیند کی آغوش میں چلی گئ ,,اور پھر صبح سویرے جب اس کی آ نکھ کھلی تواس نے سب سے پہلے بیڈ پر پھیلی ہوئ اپنی, یعسوب کے ساتھ منگنی کی تمام بے تر تیب ا لٹی اور سیدھی پڑی ہوئ وہ ار مان بھرے جذبوں سے کھینچی ہوئ تصاویرجو اس وقت ان دونو ں کی                   زندگی کا یادگار ترین موقع تھا , جلدی جلدی سمیٹ کر تکئے کے نیچے چھپا دیں اور پھر اللہ کا شکر ادا کیا کہ شامیل کے سو کر اٹھنے سے پہلے ہی وہ خود اٹھ گئ , کھول کر اس میں سے گھر کے پہننے کے لئے سادہ جوڑا نکالا, حالانکہ اس کی ہر حرکت آہستہ آہستہ ''سے ہی عبارت تھی لیکن پھر بھی کلائیوں میں پہنی ہوئ کانچ کی چوڑیاں انہیں روکنے کے باوجود کھنک جانے سے شامیل کی آنکھ کھل گئ اور اس نے  کمرے میں پھیلی ہوئ ملگجی روشنی میں کارپٹ پرسوٹ کیس کھولے بیٹھی ہوئ نگین کو نیم وا آنکھوں سے دیکھا لیکن پھروہ جان بوجھ کرسوتا ہی بنا پڑا رہا 


, اور پھروہ وہا ں سے اپنے کپڑے لے کر فورا ہی چلی گئ ،اور پھر ڈ ریسنگ            روم سے تیّار ہو کر کمرے میں آئ تو شامیل کمرے سے جا چکا تھا , اس نے شامیل کے کمرے سے یوں چلے جانے پر اللہ کا شکر ادا کیا او ایک بار پھر بیڈ پر بیٹھ کر کمرے کا جا ئزہ لیا اس وقت حجلہء عروسی میں گزری ہوئ رات کے گلاب کے سارے تازہ مہکتے ہوئے پھولو ں پر مردنی چھائ ہوئ تھی اورموتئے کی کھلکھلاتی ہوئ تازہ معطّر کلیوں نے سہاگ رات کی سونی سیج کے سرہانےاپنی ہی بانہوں میں اداسی سے سر نیہو ڑا دیا تھا ریشمی حریریپردے اس طرح ساکت تھے جس طرح جنازہ اٹھنے سے پہلے ماحول کو سکوت ہوتا ہے اور پردوں میں کالے کوبراجنکی لال لال زبانیں رات کے اندھیرے میں اس کی طرف لپک رہی تھیں اب پردوں سے لپٹے ہوئے سو رہے تھے اور کمرے میں ہ rجگہ شامیل کی نفرت کی چنگاریا  ں چٹختی پھر رہی تھیں اور اس کی سہاگ رات زندگی بھر کا سوگ بن کر گزر گئ تھی اورپھر اس سے پہلے کہ اسکی وحشت اور بھی دو چند ہو جاتی ,,کہ کمرے کے دروازے پر دستک ہوئ ،اور وہ اپنی جگہ سےاٹھ کر دروازے کی جانب بڑھی  دروازہ بند تو تھا نہیں ادھ کھلا تھا ،چناچہ ربیکا دستک دے کراندر آ گئیں  اس نے فوراً ربیکا کو مودّبانہ سلام کیا تو ربیکا نے اسے گلے سے لگایا اور ماتھے پر پیار کر کے مسکراتے ہوئے کہنے لگیں........ ، کہو دلہن بیگم تمھیں ہمارا بھائ کیسا لگا

پیر، 2 فروری، 2026

شکار پور چار سو سالہ تہذیب و تمدن سے آراستہ شہر

 



 سندھ کی سرزمین اپنی ابتدا سے ہی ہر لحاظ سے ایک امیر کبیر دولت دے مالا مال رہی ہے اسی سر زمین پر دریائے سندھ کے بائیں کنارے سے کچھ ہی فاصلے پر واقع چار سوسالہ تاریخ کو اپنے اندر سمونے والابالائی سندھ کا یہ تاریخی شہر شکارپور ، ماضی میں اپنی خوب صورتی اور یہاں بسنے والے لوگوں کی تہذیب ، تمدن، تعلیم و تربیت کے ساتھ ، ساتھ تجارت کے باعث بھی جانا پہچانا جاتا تھا۔ اسی وجہ سے اسے بّر صغیر سمیت دیگربیرونی ممالک کی کاروباری منڈیوں میں اہم تجارتی مرکز کی حیثیت بھی حاصل رہی ۔ اُسی زمانے میں تاجر قافلے اونٹ گاڑیوں پر سوار ہوکر یہاں پرقائم تاریخی قلعے قافلےمیں قیام و طعام کرکے اپنے تجارتی مقاصد حاصل کرلینے کے بعد یہاں سے اپنی منزلوں کو روانہ ہوجاتے تھے۔ سندھ میں برطانوی راج قائم ہونے کے بعد سندھ کو انتظامی لحاظ سے تین اضلاع کراچی،حیدرآباد اور شکارپور میں تقسیم کردیا گیا،پھر وقتاً فوقتاً یہاں مختلف شعبہ جات میں تبدیلیاں اور ترقیاں رونما ہونے لگیں، نئے طرز زندگی کو اپناتے ہوئے قدیم آلات کی جگہ جدید آلات نے لے لی۔ اس زمانے میں (ایس آر سی) سندھ ریلوے کمپنی کو کراچی سے کوٹری تک ریلوے لائین بچھانے کی ذمےداری دی گئی۔ اس سے پہلے دریائے سندھ میں انڈس فلوٹیلا کی اسٹیم بوٹس کے ذریعے سفرکیا جاتا تھا، جو کہ دریا کےبہاؤ کی مخالف سمت ہونے کے باعث کئی دن لے لیتا تھا، جب کہ واپسی کا سفر دریا کے بہاؤ کی درست سمت ہونے کے باعث کچھ کم دنوں میں طےہوپاتا تھا۔


 پھریہاں سفری سہولتوںاور مال کی ترسیل کے لیے ریل کی پٹڑیاں بچھائی گئیں، جن پرکالی تیز رفتار ریل گاڑیاں چلنے لگیں، جنہوں نے سفر کے طویل تر لمحات کو مختصر کرکے ریل کے سفر کو لوگوں کے لیےآنے جانے کا ایک آسان اور محفوظ ذریعہ بنادیا۔ اُن دنوں شکارپور سمیت دیگر ملحقہ علاقوں میں ،جن اشیائےخورونوش اور دیگراشیائے صرف کی دریائے سندھ کے راستے کشتیوں کےذریعے تجارت کی جاتی تھیں، وہ مال گاڑیوں کے ذریعےآنے جانےلگیں۔اُس وقت کوٹری براستہ دادو،ریلوے لائین پرضلع شکارپور کا پہلا ریلوےجنکشن ’’رُک اسٹیشن ‘‘ کے نام سے1898ء میں تعمیر کرایا گیا۔شروعاتی دور میں اس اسٹیشن کے ذریعے شکارپورکی تجارت کوپورےسندھ سمیت برصغیر ودیگر مغربی ممالک کے ساتھ جوڑدیا گیا۔ 120برس قبل تعمیر کرایا گیا ،یہ اسٹیشن آج تک فن تعمیر کی ایک زندہ مثال ہے،جو کہ اتنے برس بیت جانے کے باوجود آج بھی لوگوں کے لیے کسی شاہکار سے کم نہیں۔ اسٹیشن کے قیام کے بعد کئی دَہائیوں تک اس کی رونقیں دیکھنے لائق تھیں،کیوں کہ اس اسٹیشن سے ملحقہ شہروں اور دیہات کےزیادہ تر رہائشی ریل گاڑی کو ہی اپنا ذریعہ سفر بناتے تھے۔اُس وقت اسٹیشن تک پہنچنے کا ایک واحد ذریعہ بیل گاڑیاں ہوا کرتی تھیں ۔ گزشتہ دس پندرہ برسوں کے دوران پاکستان میں ریلوے کےزوال کے ساتھ ہی یہ ریلوے اسٹیشن بھی اپنی رونقیں کھو بیٹھا ہے۔

اب اس کی ویرانی کا یہ عالم ہے کہ نہ تو یہاں کوئی مسافر نظر آتا ہے اور نہ ہی یہاں وہ سہولتیں موجو دہیں، جو ماضی میں اس کا حسن ہوا کرتی تھیں۔ یہاں ریل گاڑیاں نہ رکنے کی وجہ سے آج کل ملحقہ علاقوں کے عام شہری اور دیہاتی سستے اور آرام دہ سفر سے محروم ہو چکے ہیں۔اس اسٹیشن کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ آج بھی سکون کے متلاشی لوگ اپنے دیہات میں گھومنے آتے ہیں ،تو ایک بار ہی سہی ، لیکن اس پُرسکون اور خوب صورت اسٹیشن کا چکر ضرور لگانے آتے ہیں۔ رُک کے بعد شکارپورریلوے اسٹیشن کی تعمیر کا کام عمل میں آیا،جسے 1901 میں مکمل طور پر تعمیر کر لیا گیا۔ اس اسٹیشن کو رُک اسٹیشن کی طرح زیادہ خوب صورت تو نہیں بنایا گیا تھا، لیکن شہر میں اسٹیشن کا قیام یہاں کے شہریوں سمیت تاجروں کے لیےنہایت ہی خوش آئند ثابت ہوا۔دیو قامت دھواں اڑاتے ہوئے کالے انجن والی یہ ریل گاڑیاں اس وقت کے لوگوں کے لیے حیران کن تو تھیں، ساتھ ساتھ سفری سہولتوں کے مزے لوٹنے کا ذریعہ بھی تھیں۔ اُونٹ گاڑیوں پر لدا ہوا مال اب مال گاڑیوں کے ذریعے آنے جانےلگا ۔117برس قبل تعمیر کرائے گئے اس اسٹیشن پر ریل گاڑیوں اور مال گاڑیوں کی آمد ورفت کے باعث یہاں بہت بڑا مال گودام بھی بنایا گیا، جس سےخاص طور پر یہاں پیدا ہونے والی نمایاں کاشت دھان اور گندم کے کاشت کاروں اور تاجروں کو بہت فائدہ پہنچا۔ 


بزرگوں کا کہنا ہے کہ ’’کسی زمانے میں یہاں اتنے مال کی آمد و رفت ہوتی تھی، کہ ریلوے کے گوداموں میں سامان رکھنے کی جگہ کم پڑ جاتی تھی۔ سارا دن گاڑیوں کی آمد ورفت کے باعث اسٹیشن پرلوگوں کا ہجوم ہر وقت رہنے کے باعث یہاں ایک میلے کا سماں بندھا رہتا تھا۔‘‘ اس اسٹیشن سے وابستہ ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ ایک زمانے میں اس اسٹیشن سے مختلف مقامات کو جانے والی ریل گاڑیوں کےریکارڈ ٹکٹ فروخت ہوئے تھے،کیوں کہ یہاں کے لوگوں کااپنی تعلیم، کاروبار اور ملازمت کے باعث پاکستان کے مختلف علاقوں میں آناجانا معمول کا حصہ تھا، لیکن اب یہ اسٹیشن تقریباً ساڑھے بارہ لاکھ کے آبادی رکھنے والے ضلع شکارپور کے عوام کے لیے امید کی ایک واحد کرن بنا ہوا ہے،۔ شکار پور ریلوے اسٹیشن ہمیشہ سےمقتددر حلقوں کی توجہ کا طالب رہا ہے۔ اس وقت یہاں سے مین لائین پررات کے اوقات میں کراچی کے لیے براستہ روہڑی صرف ایک گاڑی سکھر ایکسپریس چلتی ہے، جب کہ بولان میل، خوشحال خان خٹک ایکسپریس براستہ لاڑکانہ دادو لائین پر کراچی کے لیے ،اکبر ایکسپریس اور جعفرایکسپریس براستہ روہڑی تا پنجاب چلا کرتی ہیں، جن میں شکارپور کے کوٹے کی ٹوٹی پھوٹی خستہ حال بوگیاں کسی آفت زدہ علاقے سے آئی ہوئی لگتی ہیں،جن کے بیت الخلاءناقابلِ استعمال اورٹوٹی پھوٹی خستہ حال سیٹوں پر سفر مشکل ترین ہوجاتا ہے۔ شکارپور ریلوے اسٹیشن کی اراضی پر گزشتہ کئی برسوں سے منظور شدہ پارک تاحال نہیں بن پایا، جس سے ریلوے ملازمین سمیت اسٹیشن کے قریب رہنے والوں کے پاس صحت مند تفریح کے مواقع میسر نہیں ہیں۔

اتوار، 1 فروری، 2026

ایک درویش منصف اعلیٰ' جسٹس منیر مغل

   ہائی کورٹ کا ایک ولی صفت جج

میرے پاس چند دن قبل ایک ریٹائرڈ پولیس افسر آئے۔ ان کا چھوٹا سا مسئلہ تھا، میں نے ان کی جتنی مدد کر سکتا تھا کر دی۔ اس کے بعد گفتگو شروع ہوئی تو میں نے ان سے زندگی کا کوئی حیران کن واقعہ سنانے کی درخواست کی۔میری فرمائش پر انہوں نے ایک ایسا واقعہ سنایا جس نے مجھے ہلا کر رکھ دیا اور میں نے سوچا، مجھے یہ آپ کے ساتھ بھی شیئر کرنا چاہیے۔ پولیس افسر کا کہنا تھا: میں 1996ء میں لاہور میں ایس ایچ او تھا۔ میرے والد علیل تھے، میں نے انھیں سروسز اسپتال میں داخل کرا دیا۔ سردیوں کی ایک رات میں ڈیوٹی پر تھا اور والد اسپتال میں اکیلے تھے۔ اچانک ان کی طبیعت زیادہ خراب ہو گئی اور وہ الٹیاں کرنے لگے۔میرے خاندان کا کوئی شخص ان کے پاس نہیں تھا۔ وہ دو مریضوں کا کمرہ تھا، ان کے ساتھ دوسرے بیڈ پر ایک مریض داخل تھا۔ اس مریض کا اٹینڈنٹ موجود تھا۔ وہ اٹھا، اس نے ڈسٹ بین اور تولیہ لیا اور میرے والد کی مدد کرنے لگا۔ وہ ساری رات ابا جی کی الٹیاں صاف کرتا رہا۔ اس نے انھیں قہوہ بھی بنا کر پلایا اور ان کا سر اور بازو بھی دبائے۔ صبح ڈاکٹر آیا تو اس نے اسے میرے والد کی کیفیت بتائی اور اپنے مریض کی مدد میں لگ گیا۔ میں نو بجے صبح وردی پہن کر تیار ہو کر والد سے ملنے اسپتال آ گیا۔اباجی کی طبیعت اس وقت تک بحال ہو چکی تھی۔ مجھے انھوں نے اٹینڈنٹ کی طرف اشارہ کر کے بتایا: "رات میری اس مولوی نے بڑی خدمت کی۔" میں نے اٹینڈنٹ کی طرف دیکھا۔ وہ ایک درمیانی عمر کا باریش دھان پان سا ملازم تھا۔ میں نے مسکرا کر اس کا شکریہ ادا کیا لیکن پھر سوچا، اس نے ساری رات میرے والد کی خدمت کی ہے، مجھے اسے ٹپ دینی چاہیے۔ 


میں نے جیب سے پانچ سو روپے نکالے اور اس کے پاس چلا گیا۔ وہ کرسی پر بیٹھا ہوا تھا۔میں نے اپنا ایک ہاتھ اس کے کندھے پر رکھا اور دوسرے ہاتھ سے اسے پانچ سو روپے پکڑانے لگا۔ وہ کرسی پر کسمسایا لیکن میں نے رعونت بھری آواز میں کہا: "لے مولوی، رکھ یہ رقم، تیرے کام آئے گی۔" وہ نرم آواز میں بولا: "نہیں بھائی نہیں، مجھے کسی معاوضے کی ضرورت نہیں۔ میں نے رات دیکھا، آپ کے والد اکیلے ہیں اور تکلیف میں ہیں۔ میں فارغ تھا، لہٰذا میں اللہ کی رضا کے لیے ان کی خدمت کرتا رہا۔ آپ لوگ بس میرے لیے دعا کردیں، وغیرہ وغیرہ۔" لیکن میں باز نہ آیا، میں نے فیصلہ کر لیا کہ ہر صورت اسے پیسے دے کر رہوں گا۔پولیس افسر رکے، اپنی گیلی آنکھیں اور بھاری گلہ صاف کیا اور پھر بولے: "انسان جب طاقت میں ہوتا ہے تو یہ معمولی معمولی باتوں پر ضد باندھ لیتا ہے۔ یہ ہر صورت اپنی بات منوانے کی کوشش کرتا ہے۔ میں نے بھی پیسے دینے کی ضد بنا لی تھی، مگر مولوی مجھ سے زیادہ ضدی تھا۔ وہ نہیں مان رہا تھا۔ میں اس کی جیب میں پیسے ڈالتا تھا اور وہ نکال کر کبھی میری جیب میں ڈال دیتا تھا اور کبھی ہاتھ میں پکڑا دیتا تھا۔"میں نے اس دھینگا مشتی میں اس سے پوچھا: "مولوی یار تم کرتے کیا ہو؟" اس نے جواب دیا: "بس ایسے ہی لوگوں کی خدمت کرتا ہوں۔" وہ مجھے اپنا کام نہیں بتانا چاہتا تھا۔ میں نے اب اس کا ذریعہ روزگار جاننے کی ضد بھی بنا لی،


 اس سے بار بار اس کا کام پوچھنے لگا۔ اس نے تھوڑی دیر ٹالنے کے بعد بتایا: "میں کچہری میں کام کرتا ہوں۔" مجھے محسوس ہوا یہ کسی عدالت کا اردلی یا کسی وکیل کا چپڑاسی ہو گا۔ میں نے ایک بار پھر پانچ سو روپے اس کی مٹھی میں دے کر اوپر سے اس کی مٹھی دبوچ لی اور پھر رعونت سے پوچھا: "مولوی تم کچہری میں کیا کرتے ہو؟"اس نے تھوڑی دیر میری طرف دیکھا اور پھر اپنے والد کی طرف دیکھا۔ لمبی سانس لی اور آہستہ آواز میں بولا: "مجھے اللہ نے انصاف کی ذمے داری دی ہے۔ میں لاہور ہائی کورٹ میں جج ہوں۔"مجھے اس کی بات پر یقین نہ آیا، میں نے پوچھا: "کیا کہا؟ تم جج ہو!" اس نے آہستہ کہا: "جی ہاں، میرا نام جسٹس منیر احمد مغل ہے اور میں لاہور ہائی کورٹ کا جج ہوں۔"یہ سن کر میرے ہاتھ سے پانچ سو روپے گر گئے اور میرا وہ ہاتھ جو میں نے پندرہ منٹ سے اس کے کندھے پر رکھا ہوا تھا، وہ اس کے کندھے پر ہی منجمد ہو گیا۔جسٹس صاحب نے بڑے پیار سے میرا ہاتھ اپنے کندھے سے اتارا، کھڑے ہوئے، جھک کر فرش سے پانچ سو روپے اٹھائے، میری جیب میں ڈالے اور پھر بڑے پیار سے اپنے مریض کی طرف اشارہ کر کے بتایا: "یہ میرے والد ہیں۔ میں ساری رات ان کی خدمت کرتا رہا، ان کا پاخانہ تک صاف کیا۔ اس میں شکریے کی کوئی ضرورت نہیں۔"میں نے رات دیکھا، آپ کے والد اکیلے ہیں اور ان کی طبیعت زیادہ خراب ہے، لہٰذا میں انھیں اپنا والد سمجھ کر ان کی خدمت کرتا رہا۔ اس میں شکریے کی کوئی ضرورت نہیں۔ (جاوید چودھری)


جسٹس منیر مغل نے ایم۔اے اور ایل۔ایل۔بی کے بعد مولانا عبیداللہ سندھی کی تفسیر پر پی ایچ ڈی کیا۔ ان کا دوسرا پی ایچ ڈی جامعۃ الازہر مصر سے تھا، جس کے لیے انہوں نے عربی زبان بھی سیکھی۔ ان کے علاوہ ملکی جسٹس منیر مغل نے ایم۔اے اور ایل۔ایل۔بی کے بعد مولانا عبیداللہ سندھی کی تفسیر پر پی ایچ ڈی کیا۔ ان کا دوسرا پی ایچ ڈی جامعۃ الازہر مصر سے تھا، جس کے لیے انہوں نے عربی زبان بھی سیکھی۔ ان کے علاوہ ملکی و بین الاقوامی قوانین پر 24 کتابیں تصنیف کیں۔ وہ عدالت میں تیزی سے مقدمات نمٹانے کے لیے مشہور تھے۔ ان کی عدالت میں انصاف کا انداز نہایت متاثر کن تھا۔ ایک مقدمے میں جب امیر لوگوں کے وکیل اور غریب استاد کا کیس آیا، جسٹس صاحب نے استاد کے احترام میں سارا دن عدالت کھڑے ہو کر مقدمات نمٹائے اور پانچ منٹ میں فیصلہ سنایا۔جسٹس مغل والدین کی خدمت کے حوالے سے بھی مشہور تھے۔ ان کے سامنے یوں دست بستہ کھڑے ہوا کرتے تھے کہ گویا نماز کی نیت باندھ رکھی ہے۔ والد کے زیادہ بیمار ہونے پر انہوں نے بیڈ کے قریب گھنٹی رکھی تاکہ والد پاؤں سے دبائیں اور وہ فوراً پہنچ جاتے۔ اپنی بیوی اور بچوں کو بھی والد کے کام میں ہاتھ نہیں لگانے دیتے تھے۔ انہوں نے اپنی ساری زندگی علم، محنت اور والدین کی خدمت میں گزاری۔ عدالت میں بھی ان کا رویہ عاجزانہ اور ایماندارانہ تھا۔15 اپریل 2024 کو یہ فرشتہ صفت دنیا سے رخصت ہوا۔ ن کی سادہ زندگی، عاجزی اور والدین کے لیے غیر معمولی خدمت آج بھی عدلیہ اور معاشرے کے لیے ایک روشن مثال ہے۔ اللہ قرب کے اعلیٰ مراتب سے نوازے۔

ہفتہ، 31 جنوری، 2026

فصاحت و بلاغت کا بہتا ہوا سمندر صحیفہء سجادیہ

 



صحیفۂ سجّادیہ ۵۴ دعاؤں پر مشتمل ہے ، ان میں سے بعض دعائیں مفصّل اور طویل ہیں اور کچھ دعائیں نسبتاً مختصر ہیں۔ان دعاؤں کو پڑھنے کی مختلف مناسبتوں اور مواقع کو صحیفۂ سجادیہ کی فہرست میں بیان کیا گیا ہے ، ان دعاؤں کے مضامین میں دین، اخلاقی اقدار، قرآنی تعلیمات ، عبادت اور بندگی کے آداب کو نہایت حسین انداز سے پیش کیا گیا ہے ۔ اس سلسلہ میں اس کی فہرست کی طرف رجوع کیا جا دسکتا ہے ، ان دعاؤں میں سے بعض کے عناوین درجِ ذیل ہیں:خدا ، حاملانِ عرش اور فرشتوں کی حمد و ثنا میں دعا، اپنے اور اپنے رشتہ داروں کے حق میں دعا، مشکلات و مصائب میں دعا، خدا کی پناہ طلب کرنے کے لئے ، گناہوں کی مغفرت کے لئے ، گناہوں کے اقرار کے لئے ، حاجت طلب کرنے کے لئے ، بیماری کی حالت میں ، شیطانِ مردود سے خدا کی پناہ مانگنے کے لئے ، اچھے اخلاق کے لئے، تندرستی کے لئے ، ماں باپ اور اولاد کے لئے ، پڑوسیوں اور دوستوں کے لئے ، سرحدوں کے محافظوں کے لئے ، توبہ کے لئے ، وسعتِ رزق کے لئے ، رعدو برق کے وقت ، نئے مہینہ کا چاند دیکھنے کے وقت ، ماہ رمضان کی آمد اور اختتام کے موقع پر ، عیدِ فطر اور عرفہ کے موقع پر ، ختمِ قرآن کی دعا اور اس کے علاوہ دسیوں دیگر مناسبتوں پر پڑھی جانے والی دعائیں۔مختلف مناسبتوں سے اس طریقہ کے استفادے سے ایک دعا گزاراور خدا سے مانوس مسلمان کا کوئی وقت خالی نہیں بچتا چونکہ اس کی زندگی کے لمحہ لمحہ کے لئے پروردگارِ عالم کی بارگاہ میں راز و نیاز کے لئے دستور العمل موجود ہے ۔


اپنے لئے اور اپنے دوستوں کے لیے حضرت کی دعا۔صحیفہ سجادیہ                                  -اے وہ جس کی بزرگی وعظمت کے عجائب ختم ہونے والے نہیں ۔ تو محمد اوران کی آل پر رحمت نازل فرما اورہمیں اپنی عظمت کے پردوں میں چھپا کر کج اندیشیوں سے بچا لے ۔ اے وہ جس کی شاہی وفرمانروائی کی مدت ختم ہونے والی نہیں تو رحمت نازل کر محمد اور ا ن کی آل پراورہماری گردنوں کو اپنے غضب وعذاب       کے ( بندھنوں ) سے آزاد رکھ ۔ اے وہ جس کی رحمت کے خزانے ختم ہونے والے نہیں۔ رحمت نازل فرما محمد اوران کی آل پر اور اپنی رحمت میں ہمارا بھی حصہ قرار دے۔ اے وہ جس کے مشاہدہ سے آنکھیں قاصر ہیں رحمت نازل فرما محمد اور ان کی آل پر اوراپنی بارگاہ سے ہم کو قریب کر لے۔ اے وہ جس کی عظمت کے سامنے تمام عظمتیں پست و حقیر ہیں رحمت نازل فرما محمد اوران کی آل پر اورہمیں اپنے ہاں عزت عطا کر۔ اے وہ جس کے سامنے راز ہائے سر بستہ ظاہر ہیں رحمت نازل فرما محمد اوران کی آل پر اور ہمیں اپنے سامنے رسوا نہ کر۔ بارالہا! ہمیں اپنی بخشش وعطا کی بدولت بخشش کرنے والوں کی بخشش سے بے نیاز کر دے


 پروردگارا اپنی پیوستگی کے ذریعہ قطع تعلق کرنے والوں کی بے تعلقی ودوری کی تلافی کر دے تاکہ تیری بخشش وعطا کے ہوتے ہوئے دوسرے سے سوال نہ کریں اورتیرے فضل واحسان کے ہوتے ہوئے کسی سے ہراساں نہ ہوں۔ اے اللہ ! محمد اورا ن کی آل پر رحمت نازل فرما اورہمارے نفع کی تدبیر کر اورہمارے نقصان کی تدبیر نہ کر اورہم سے مکر کرنے والے دشمنوں کو اپنے مکر کا نشانہ نہ بنا اور ہمیں اس کی زد پر نہ رکھ ۔ اورہمیں دشمنوں پر غلبہ دے دشمنوں کو ہم پر غلبہ نہ دے ۔ بارالہا ! محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اورہمیں اپنی ناراضی سے محفوظ رکھ اوراپنے فضل وکرم سے ہماری نگہداشت فرما اور اپنی جانب ہمیں ہدایت کر اوراپنی رحمت سے دور نہ کر کہ جسے تو اپنی ناراضگی سے بچائے گا وہی بچے گا اورجسے تو ہدایت کرے گا وہی (حقائق پر ) مطلع ہو گا اورجسے تو (اپنی رحمت سے )قریب کرے گا وہی فائدہ میں رہے گا۔اے معبود !تو محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اورہمیں زمانہ کے حوادث کی سختی اورشیطان کے ہتھکنڈوں کی فتنہ انگیزی اورسلطان کے قہر وغلبہ کی تلخ کلامی سے اپنی پناہ میں رکھ ۔ بارالہا! بے نیاز ہونے والے تیرے ہی کمال قوت واقتدار کے سہارے بے نیاز ہوتے ہیں ۔ رحمت نازل فرما محمد اور ان کی آل پر اور ہمیں بے نیاز کر دے اورعطا کرنے والے تیری ہی عطا وبخشش کے حصہ وافر میں سے عطا کرتے ہیں ۔


 رحمت نازل فرما محمد اور ان کی آل پر اور ہمیں بھی (اپنے خزانہ رحمت سے )عطا فرما۔ اور ہدایت پانے والے تیری ہی ذات کی درخشندگیوں سے ہدایت پاتے ہیں ۔ رحمت نازل فرما محمد اوران کی آل پراورہمیں ہدایت فرما۔ بارالہا ! جس کی تو نے مدد کی اسے مدد نہ کرنے والوں کا مدد سے محروم رکھنا کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ اورجسے تو عطا کرے اس کے ہاں روکنے والوں کے روکنے سے کچھ کمی نہیں ہو جاتی ۔اورجس کی تو خصوصی ہدایت کرے اسے گمراہ کرنے والوں کا گمراہ کرنا بے راہ نہیں کر سکتا۔ رحمت نازل فرما محمد اور ان کی آل پر اوراپنے غلبہ اورقوت کے ذریعہ بندوں(کے شر) سے ہمیں بچائے رکھ اوراپنی عطا وبخشش کے ذریعہ دوسروں سے بے نیاز کر دے اوراپنی رہنمائی سے ہمیں راہ حق پر چلا۔ اے معبود ! تو محمد اوران کی آل پر رحمت نازل فرما اورہمارے دلوں کی سلامتی اپنی عظمت کی یاد میں قرار دے اورہماری جسمانی فراغت (کے لمحوں ) کو اپنی نعمت کے شکریہ میں صرف کر دے اورہماری زبانوں کی گویائی کو اپنے احسان کی توصیف کے لیے وقف کر دے۔ اے اللہ ! تو رحمت نازل فرما محمد اوران کی آل پر اور ہمیں ان لوگوں میں سے قرار دے جو تیری طرف دعوت دینے والے اورتیری طرف کا راستہ بتانے والے ہیں اوراپنے خاص الخاص مقربین میں سے قرار دے۔ اے سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والے


جمعہ، 30 جنوری، 2026

اردو کے نامور شاعر علامہ سیماب اکبر آبادی

 

 مورخ  جب بھی تاریخ اُردو ادب لکھے گا  توضرور  ایک عظیم شخصیت علامہ سیماب اکبر آبادی کا نام اس تایخ میں ضرور لکھے گا  ہمہ جہت پہلووں سے سجی ہوئ ان کی شخصیت کے لئے کہنا مشکل ہے کہ وہ بڑے ادیب تھے یا بڑے غزل گو، یا بڑے نظم نگار،وہ اپنی ذات میں ایک انجمن تھے، در حقیقت  وہ ایک  پوری اد بی اکیڈمی تھے۔ تین سو سے زائد نظم و نثر کی چھوٹی بڑی کتابوں کے خالق  جنہوں نے اپنی زندگی کے پورے پچاس سال ادب کی خدمت گزاری میں گزارے-اردو کے نامور شاعر علامہ سیماب اکبر آبادی کی تاریخ پیدائش 5 جون 1880ءہے۔علامہ سیماب اکبر آبادی آگرہ (اکبر آباد) میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا اصل نام عاشق حسین صدیقی تھا۔ وہ شاعری میں داغ دہلوی کے شاگرد تھے مگر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ خود ان کے ڈھائی ہزار تلامذہ ہندوستان بھر میں پھیلے ہوئے تھے۔علامہ سیماب اکبر آبادی کو اردو، فارسی اور ہندی زبان کے قادر الکلام شعرا میں شمار کیا جاتا ہے ان کی تصانیف کی تعداد 300 کے لگ بھگ ہے۔ انتقال سے کچھ عرصہ قبل انہوں نے قرآن پاک کا منظوم ترجمہ وحی منظوم کے نام سے مکمل کیا تھا۔ان کے پوتے  کا کہنا ہے  کہ  (حضرت سیماب اکبرآبادی) کے انتقال کے وقت میری عمر ۵؍ یا ۶؍ سال کی تھی لہٰذا اُن کے بارے میں بہت سی باتیں آنکھوں دیکھی نہیں ہیں بلکہ کانوں سنی ہیں۔ اکثر باتیں والد صاحب (مرحوم اعجاز صدیقی) کی زبانی سنی ہیں۔


اردو کے نامور شاعر علامہ سیماب اکبر آبادی کی تاریخ پیدائش 5 جون 1880ءہے۔علامہ سیماب اکبر آبادی آگرہ (اکبر آباد) میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا اصل نام عاشق حسین صدیقی تھا۔ وہ شاعری میں داغ دہلوی کے شاگرد تھے مگر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ خود ان کے ڈھائی ہزار تلامذہ ہندوستان بھر میں پھیلے ہوئے تھے۔علامہ سیماب اکبر آبادی کو اردو، فارسی اور ہندی زبان کے قادر الکلام شعرا میں شمار کیا جاتا ہے ان کی تصانیف کی تعداد 300 کے لگ بھگ ہے۔ انتقال سے کچھ عرصہ قبل انہوں نے قرآن پاک کا منظوم ترجمہ وحی منظوم کے نام سے مکمل کیا تھا۔ قصرِ ادب ادارے سے ماہنامہ پیمانہ جاری کیا۔ پھر بیک وقت ماہنامہ ثریا، ماہنامہ شاعر، ہفت روزہ تاج، ماہنامہ کنول، سہ روزہ ایشیا شائع کیا۔ ساغر نظامی جو سیماب اکبر آبادی کے شاگرد تھے وہ بھی قصر ادب سے وابستہ رہے۔ ان کی لکھی کتابوں کی تعداد 284 ہے جس میں 22 شعری مَجمُوعے ہیں جن میں "وحی منظوم" بھی شامل ہے جس کی اشاعت کی کوشش 1949 میں ان کو پاکستان لے گئی جہاں کراچی شہر میں 1951 میں انکا انتقال ہوا۔مثنوی روم کا منظوم اردو ترجمہمولوی فیروز الدین کی فرمائش پر مثنوی مولانا روم کا منظوم اردو ترجمہ شروع کیا جس کے لیے وہ لاہور منتقل ہوئے اور اپنا ادارہ قصرادب بھی لاہور ہی لے آئے۔ مثنوی مولانا روم کو فارسی سے اسی بحر میں اردو میں منظوم ترانے کام شروع کیا اور اس کا نام الہام منظوم رکھا تقریبا 45 ہزار افراد 6 جلدوں میں ترتیب پائے۔ مولوی فیروز الدین کے بقول انھوں نے مثنوی روم کا منظوم اردو ترجمہ امیر مینائی سمیت کئی نامور شاعروں کے سپرد کرنا چاہا مگر یہ مشکل کام ان میں سے کسی کے بس کا نہ تھا۔


۔ اُن کے پوتے کا کہنا ہے اُن کی محبت و شفقت اس واقعہ سے بھی جھلکتی ہے کہ جب میں تھوڑا بڑا ہوا اور گھٹنوں کے بل چلنے لگا تو گھر میں (جو بڑی سی حویلی کی شکل میں تھا) قالین بچھوا دیا تھا تاکہ میرے گھٹنوں پر خراش نہ آئے۔ سفر پر جاتے تو میرا تکیہ ساتھ لے جاتے تھے تاکہ اپنائیت کا احساس کم یا ختم نہ ہو۔ اسی طرح مشاعرہ کیلئے روانہ ہونے سے قبل کہتے تھے کہ افتخار کو میرے پاس دے دو۔ روانگی سے قبل تھوڑی دیر مجھے کھِلاتے۔دادا جان، جیسا کہ والد صاحب سے سنا ہے، شاگردوں کی تربیت بڑی شفقت کے ساتھ کیا کرتے تھے۔ چونکہ شاگردوں کی بڑی تعداد تھی جو ملک بھر میں پھیلی ہوئی تھی اس لئے کلام پر اصلاح خط و کتابت کے ذریعہ ہوا کرتی تھی۔ اُن کا طرۂ امتیاز یہ تھا کہ کسی مصرعہ میں سقم ہو تو پورا کا پورا مصرعہ کبھی نہیں بدلتے تھے بلکہ ایک آدھ لفظ کو اِدھر اُدھر کرکے اُس سقم کو دور کردیا کرتے تھے۔ جو شعر اچھا ہوتا اُس کے آگے ’’ص‘‘ لکھ دیتے تھے۔ شاگردوں کو بتاتے تھے کہ قافیہ کس طرح خیال دیتا ہے۔ اُنہیں علم قوافی سے بھی روشناس کرتے اور یہ بھی بتاتے کہ حرف روی کیا ہوتا ہے۔ شاگردو ں میں جو خصوصیات پاتے وہ اُن پر اُجاگر کردیا کرتے تھے۔ اُنہیں یہ بھی سمجھاتے تھے کہ کاغذ کیسا ہو اور روشنائی کیسی، کس طرح لکھنا چاہئے اور حاشیہ کتنا چھوڑنا چاہئے۔ اُن کے شاگردوں کی تعداد ویسے تو ہزاروں میں تھی لیکن باقاعدہ تلامذہ کی تعداد لگ بھگ ۳؍ سو تھی۔ وہ اپنے تمام شاگردوں کو معنوی اولاد کہتے تھے۔


 اگر ان میں سے کوئی اپنے اہل خانہ کے ساتھ گھر آگیا تو خوب ضیافتیں ہوتی تھیں۔ اُن کے تلامذہ میں شاعرات بھی تھیں۔ کوئی شاگرد یا شاگردہ گھر آتی تو دادی اُن کی تواضع میں گویا بچھی جاتی تھیں اور جب وہ واپس جاتے تو اُنہیں تحائف دیئے جاتے تھے۔ اب اُن کا صرف ایک شاگرد بی ایس این جوہر بقید حیات ہیں جن کی عمر ۸۰؍ سال ہے اور میرٹھ میں مقیم ہیں۔ جہاں تک شاگردوں کے شاگرد کا تعلق ہے تو وہ بہت سے ہیں۔ مثلاً شہ زور کاشمیری (جن کی یاد میں ڈاک ٹکٹ جاری ہوا تھا)، اُن کے شاگر حامدی کاشمیری ہیں۔ تخلیق شعر کے وقت اُن کی عجب کیفیت ہوتی تھی۔ اکثر اوقات یہ صبح کاذب کا وقت ہوتا۔ جب والد صاحب نے شعر کہنا شروع کیا تو ہدایت دی کہ اساتذہ کے پانچ ہزار اشعار یاد کریں تب ہی شعر کہنے کی اجازت ملے گی۔ بابو جی (والد صاحب) کیلئے یہ کام مشکل نہ تھا کیونکہ اُنہیں دیوان غالب تقریباً ازبر تھا۔ تربیت کا یہ اسلوب تھا دادا جان کا۔ یہی اسلوب والد صاحب نے میری تربیت کیلئے بھی اپنایا۔ جب میں شعر کہنے لگا تو والد صاحب نے تاکید کی تھی کہ اس سے پہلے اساتذہ کے پانچ سو اشعار یاد کریں۔ مجھے یاد ہے، میں نے اُنہیں ۱۰۰؍ شعر سنائے تھے۔ مشاعروں میں دادا جان شروع میں ترنم سے کلام سناتے تھے لیکن پھر تحت اللفظ میں سنانے لگے۔ ایچ ایم وی نے ایک ریکارڈ بنایا تھا جس میں اُنہیں ترنم اور تحت اللفظ، دونوں میں شعر پڑھتے ہوئے سنا جاسکتا ہے۔ 

جمعرات، 29 جنوری، 2026

گورنمنٹ ہاسپٹلز میں ا ینٹی ریبیز ویکسین دستیاب نہیں ہے

 

  پورے کراچی  کے    گورنمنٹ ہاسپٹلز  میں کتے  کے کاٹ لینے کی ویکسین دستیاب نہیں ہے-جبکہ کتے کے کاٹنے کے واقعات  میں بے تحاشا اضافہ ہو رہا ہے-گورنمنٹ اسپتال نیوکراچی اور عباسی شہید اسپتال میں اینٹی ریبیز ویکسین نہیں سال 2025 میں صوبے میں 22 شہریوں کی کتوں کے کاٹنے سے ہلاکت اور 29 ہزار افراد زخمی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ تفصیلات کے مطابق سندھ میں آوارہ کتوں کے خلاف کارروائی نہ کرنے اور ریبیز پروگرام کے تحت ویکسین کی عدم دستیابی کے معامل پر درخواست گزار طارق منصور ایڈووکیٹ نے آئینی بینچ کو تفصیلات سے آگاہ کردیا ہے۔عدالت نے سندھ حکومت اور دیگر فریقین سے چار ہفتوں میں رپورٹس طلب کرلی ہے۔ طارق منصور ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ عدالت نے 2024 میں آوارہ کتوں کے خلاف کارروائی کرنے اور ریبیز کنٹرول پروگرام شروع کرنے کا حکم دیا تھا۔ عدالتی احکامات کے باوجود سندھ حکومت نے ریبز کنٹرول پروگرام شروع نہیں کیا۔درخواست گزار نے کہا کہ کے ایم سی ہیلپ لائن نمبر 1093 بھی غیر فعال ہوچکا ہے۔عدالت نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ عدالتی احکامات پر عملدر آمد کیوں نہیں کیا جارہا؟ جس پر سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ ویکسینشن ہر جگہ دستیاب ہیں باقی ڈی جی سے رپورٹ جمع کروا دیں گے۔طارق منصور ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ آوارہ کتوں کے کاٹنے کے واقعات میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے۔ کیونکہ آوارہ کتوں کے غول کراچی کی ہر گلی اور محلے میں دندنا رہے ہیں


جسٹس یوسف علی سعید کا کہنا تھا کہ جواب آنے دیں تمام پہلووں کا جائزہ لے کر حکم نامہ جاری کریں گے۔ درخواست گزار کا کہنا تھا کہ کیس جلدی سنا جائے کتوں کے کاٹنے سے صوبے میں ہزاروں لوگ متاثر ہورہے ہیں۔ 2 دسمبر ،5 202کراچی (بابر علی اعوان / اسٹاف رپورٹر) سندھ میں ریبیز اور آوارہ کتوں کے کاٹنے کے واقعات ایک سنگین عوامی صحت کے بحران کی صورت اختیار کر چکے ہیں،جناح اور انڈس اسپتال میں 18 ہلاکتیں رپورٹ۔ وزارِت صحت سندھ  کے مطابق صوبے بھر میں ایک سال کے دوران کتے کے کاٹے کے 2 لاکھ 84 ہزار 138 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ ماہرین کے مطابق رپورٹ نہ ہونے والے کیسز کی تعداد بھی ہزاروں میں ہو سکتی ہے کیونکہ صوبے میں بیماریوں کے اعداد و شمار جمع کرنے کا کوئی مکمل اور منظم نظام موجود نہیں۔دوسری جانب انڈس اسپتال کورنگی میں زیرِ علاج جیکب آباد سے تعلق رکھنے والا 12 سالہ حیدر علی بدھ کو ریبیز سے انتقال کر گیا، جس کے بعد انڈس اسپتال میں رواں سال ریبیز سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 9 ہو گئی ہے۔


 انڈس اسپتال کی انتظامیہ کے مطابق ان ہلاکتوں کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ جاں بحق ہونے والے پانچ افراد نے قریبی مراکز سے ریبیز سے بچاؤ کی ویکسین لگوائی تھی اس کے باوجود ریبیز کا مرض ان میں سرائیت کرگیا اور وہ جانبرنہ ہو سکے جس سے ویکسین کی افادیت اور لگانے کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھتے ہیں۔جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر کراچی میں بھی رواں سال ریبیز سے 9 مریض جاں بحق ہوئے۔ اس طرح صرف دو اسپتالوں میں ریبیز کے باعث 18 افراد انتقال کر چکے ہیں، جو بیماری کی شدت اور سنگینی کو واضح کرتا ہے۔ماہرین کے مطابق کتے کے کاٹے کے بیشتر متاثرین کو بروقت اور مکمل پوسٹ ایکسپوژر پروفیلیکسیس (PEP) میسر نہیں آ پاتی، جس کے باعث معمولی زخم بھی جان لیوا بیماری میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ریبیز ایک مکمل طور پر قابلِ بچاؤ مرض ہے تاہم علامات ظاہر ہونے کے بعد یہ تقریباً ہمیشہ مہلک ثابت ہوتا ہے۔


ماہرین صحت کے مطابق سندھ میں آوارہ کتوں کی آبادی، ویکسینیشن، نس بندی اور ریبیز کو کنٹرول کرنے کے نظام میں واضح کمزوریاں موجود ہیں  اس لئےجب تک مؤثر ڈاگ کنٹرول، ماس ویکسینیشن اور ٹھوس عملی اقدامات نہیں کئے جاتے ریبیز سے انسانی جانوں کے ضیاع کا سلسلہ جاری رہنے کا خدشہ ہے۔سندھ میں آوارہ کتوں کے کاٹنے کے واقعات میں تشویشناک اضافے پر قانون ساز بنچ نے سماعت کی، جس میں انکشاف کیا گیا کہ صوبے میں سال 2025 کے دوران کتوں کے کاٹنے سے 22 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ 29 ہزار سے زائد شہری زخمی ہوچکے ہیں درخواست گزار ایڈووکیٹ گزار طارق منصور نے عدالت کو بتایا کہ عدالتی احکامات کے باوجود سندھ حکومت نے ء2025 میں 2000 سے زائد افراد کو کنٹرول نہیں کیا۔ کے ایم سی کی ہیلپ لائن 1093 کو بھی غیر فعال کر دیا گیا ہے۔سماعت کے دوران یہ کڑوا سچ سامنے آیا کہ سندھ گورنمنٹ اسپتال نیو کراچی اور عباسی شہید اسپتال جیسے بڑے طبی مراکز میں بھی اینٹی ریبیز ویکسین دستیاب نہیں۔ جہاں ایک طرف درخواست گزار نے ویکسین کی عدم دستیابی اور آوارہ کتوں کے خلاف کارروائی نہ ہونے کی شکایت کی۔ جہاں پراسیکیوٹر نے دعویٰ کیا کہ ویکسین ہر جگہ موجود ہے اور اس حوالے سے ڈی جی رپورٹ پیش کی جائے گی جسٹس یوسف علی سعید نے ریمارکس دیئے کہ تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد باضابطہ حکم جاری کیا جائے گا،

بدھ، 28 جنوری، 2026

عطاؤں کی بارش جب برسنے کوآئ -حصہ دوم



 پھر انسانیت کے زیور سے آراستہ صارفین نے اس ذہنیت کے خلاف ایک ٹرینڈ شروع کردیا۔ ہر طرف سے آوازیں اٹھنے لگیں کہ اس محنت کش کو تلاش کیا جائے، اس کی دل آزاری کا ازالہ کیا جائے۔اسی مرحلے پر “انسانیات” (Humanitarianism) نامی ایک معروف سماجی و فلاحی ڈیجیٹل پلیٹ فارم سامنے آیا۔ یہ کوئی کاروباری صفحہ نہیں بلکہ ایسا پلیٹ فارم ہے جو انسانی وقار، مظلوموں کی آواز اور خیر کے اجتماعی کاموں کے لیے جانا جاتا ہے۔ “انسانیات” نے اس واقعے کو محض جذباتی ردعمل تک محدود نہیں رکھا، بلکہ عملی قدم اٹھایا۔ نزرول کی تلاش شروع ہوئی۔ اس لیے نہیں کہ اس پر ترس کھایا جائے، بلکہ اس لیے کہ بنگلہ دیش  کے اُس غریب خاکروب   نزرول کی  بھر پور مدد کی جائے ۔ اس لیے نہیں کہ اس پر ترس کھایا جائے، بلکہ اس لیے کہ یہ ثابت کیا جائے کہ عزت پیشے سے نہیں، کردار سے ملتی ہے۔جب نزرول عبد الکریم کو ڈھونڈ لیا گیا تو گویا رحمت کے دروازے کھل گئے۔ ایک طرف وہی لوگ تھے، جنہوں نے دل آزاری پر شرمندگی محسوس کی اور دوسری طرف وہ ہاتھ تھے جو خیر بانٹنے کے لیے آگے بڑھے۔


سونے کے زیورات، نقد رقم، قیمتی موبائل فون، گھریلو اشیائے ضرورت اور یہاں تک کہ اپنے وطن جا کر اہلِ خانہ سے ملنے کے لیے سفری ٹکٹ مہیا کر دئے گئے ، ہر طرف سے عطاؤں کی بارش ہونے لگی  -سب سے معنی خیز منظر یہ تھا کہ وہی سونے کا سیٹ، جو کچھ دن پہلے شیشے کے پیچھے ایک خواب بن کر جھلک رہا تھا اب  نزرول  کے ہاتھوں میں تھا۔ جیسے میرے رب کی قدرت اعلان کر رہی ہو کہ جس رزق پر تمہاری نگاہ تھی، وہ تمہارے لیے ممنوع نہیں تھا، بس تمھاری دسترس میں آنے  کا  وقت مقرر تھا۔ سونے کے اس سیٹ کی  قیمت 25000 ریال سے بھی زیادہ تھی ۔ جبکہ نزرول کی تنخواہ بمشکل 700 ریال تھی ۔بعد ازاں نزرول کے بارے میں مزید باتیں سامنے آئیں۔ معلوم ہوا کہ کم آمدنی کے باوجود وہ غیر معمولی امانت دار اورنرم دل و ہمدرد انسان ہے۔ وہ اپنی معمولی سی کمائی میں سے بھی کچھ حصہ نکال کر سڑکوں پر بھٹکتی بھوکی بلیوں کو کھانا کھلا دیتا تھا۔ شاید اسی رحم نے آسمان پر اس کے لیے راستے کھول دیئے تھے۔


جب اس سے پوچھا گیا کہ وہ حسرت بھری نگاہوں سے سونا کا سیٹ کیوں دیکھ رہا تھا؟ تو اس کا جواب دل کو چیر گیا:“میں صرف اتنا چاہتا تھا کہ میرے بیٹے کی شادی میں اس کی مدد ہو جائے۔”نہ سونا اس کا خواب تھا، نہ شہرت اس کی طلب، وہ صرف ایک باپ تھا، جو اپنے بیٹے ک کی  شادی  پر اس کے لیے سہارا بننا چاہتا تھا، عزت کے ساتھ۔یہ سچی داستان عرب سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔ بلکہ  سمیت کئی عرب ذرائع ابلاغ نے اسے کور کیا۔ اس حقیقی واقعے سے کیا سبق ملا؟ یہی کہ لوگوں کے طنزیہ جملے وقتی ہوتے ہیں، مگر اللہ کریم کے فیصلے دائمی۔ اگر کبھی تمہیں تمہاری حیثیت، لباس یا پیشے کی وجہ سے حقیر سمجھا جائے تو یاد رکھو:اللہ نہ جھاڑو دیکھتا ہے، نہ سونا، وہ دل دیکھتا ہے۔اور یہی اس واقعے کا حاصل ہے:"ما عندکم ینفد۔۔۔ وما عند الله خير وأبقی“اور جو تمہارے پاس ہے، وہ ختم ہونے والا ہے اور جو اللہ کے پاس ہے وہی بہتر اور باقی رہنے والا ہے۔”


  سورہ حجرات میں  پروردگار عالم ارشاد   فرما رہا ہےقل اتعلمون اللہ ۔۔۔۔۔۔ بکل شییء علیم (49 : 16) “ اے نبی ان سے کہو کیا تم اللہ کو اپنے دین کی اطلاع دے رہے ہو ؟ حالانکہ اللہ زمین اور آسمان کی ہر چیز کو جانتا ہے اور ہر چیز کا علم رکھتا ہے ”۔ انسان اپنے علم کے بارے میں لمبے چوڑے دعوے کرتا ہے حالانکہ وہ خود اپنے نفس کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتا ۔ وہ اپنے آپ کی شعوری دنیا کے بارے میں بھی پوری معلومات نہیں رکھتا۔ اور نہ اسے اپنے نفس کی پوری حقیقت معلوم ہے اور نہ شعور اور لاشعور کی۔ انسان یہ بھی نہیں جانتا کہ اس کی عقل کس طرح کام کرتی ہے۔ کیونکہ انسان جب کوئی کام کرتا ہے تو اس وقت وہ خود اپنے دماغ کا ملاحظہ  نہیں کرسکتا۔ اور جب وہ اپنے نفس کے بارے میں سوچتا ہے تو اس کا وہ کام رک جاتا ہے جو وہ کر رہا ہوتا ہے۔ لہٰذا ملاحظہ کے لئے کوئی چیز ہی نہیں رہتی۔ اور جب انسان کسی کام میں لگا ہوتا ہے اس وقت وہ نگرانی نہیں کرسکتا۔ اس لیے انسان خود اپنی ذات کی حقیقی معرفت سے بھی عاجز ہے۔ اور اس کے معلوم کرنے سے بھی عاجز ہے کہ انسانی دماغ کس طرح کام کرتے ہیں۔ حالانکہ یہی تو وہ چیز ہے جس پر انسان نازاں ہے“اور جو تمہارے پاس ہے، وہ ختم ہونے والا ہے اور “اور جو تمہارے پاس ہے، وہ ختم ہونے والا ہے اور جو اللہ کے پاس ہے وہی بہتر اور باقی رہنے والا ہے۔جو اللہ کے پاس ہے وہی بہتر اور باقی رہنے والا ہے۔سب سے معنی خیز منظر یہ تھا کہ وہی سونے کا سیٹ، جو کچھ دن پہلے شیشے کے پیچھے  سے جس کو نزرول حسرت بھی نگاہوں سے تک تک رہا تھا آ ج اس کے ہاتھوں جگمگا رہا تھا


(عربی سے اردو ترجمہ: ضیاء چترالی)

آٹسٹک بچوں کا ہومیو پیتھک علاج

  

آٹسٹک   بچوں کا  ہومیو پیتھک علاج   – 

آٹزم ایک ایسا ذہنی عارضہ ہے جو ماں کے پیٹ میں ہی  بچے کو لاحق ہو چکا ہوتا ہے اس مرض میں  والدین کو گونا گوں  پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے   جیسے  بچے کی سمجھ بُوجھ   بات چیت کا انداز یا پھر مکمل خاموشی ، میل جول، سوچ سمجھ اور اپنے حواس کو کنٹرول کرنے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ آٹزم سے متاثرہ مریض کا دماغ عام انسان کے مقابلے میں ایک مختلف طریقے پر نشوونما پاتا اور کام کرتا ہے۔ یہ دنیا کو مختلف انداز سے دیکھتے اور سمجھتے ہیں۔ آٹزم کا شکار ہر بچہ دوسرے سے مختلف ہوتا ہے اور اس کی علامات بھی دوسرے آٹزم بچوں سے مختلف ہوتی ہیں۔ یہ بچے یا تو ہر پل تبدیلی چاہتے ہیں یا پھر یکسانیت کو پسند کرتے ہیں اور نئے ماحول یا ہر صورتِ حال کے مطابق ڈھلنا ان کے لیے مشکل ہوتا ہے۔ دیر سے بولنا شروع کرتے ہیں اور اپنی بات سمجھا نہیں پاتے۔ عام طور پر یہ بچے دوسروں سے نظریں نہیں (poor eye contact) ملاتے۔ ان کا نام پکارا جائے تو متوجہ نہیں ہوتے اگرچہ وہ اپنا نام سن رہے ہوتے ہیں۔ یہ پسند نہیں کرتے کہ کوئی ان کے زیادہ قریب آئے اور ان کو چھوئے (don’t liked to be touch)۔ یہ اپنے جذ بات کا اظہار نہیں کر پاتے۔ ان کو کچھ کام بہت آسان لگتے ہیں اور کچھ انتہائی آسان کام بہت مشکل لگتے ہیں۔ عام طور پر ایسے بچے کھلونوں سے کھیلتے نہیں ہیں بس انھیں جمع کرتے ہیں اور ایک خاص ترتیب میں رکھتے ہیں اور اس ترتیب میں تبدیلی برداشت نہیں کرتے۔ انھیں چیزوں کو گھمانا اور ان کو گھومتے ہوئے دیکھتے رہنا اچھا لگتا ہے۔یہ بہت دیر تک بغیر اکتائے پنکھے کو گھومتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں


  (hand flapping)  ۔ اپنی خوشی کا اظہار ہاتھوں کو پھڑپھڑا کر کرتے ہیں۔جبکہ کچھ آٹسٹک بچوں کے  ہاتھوں پر لرزہ بھی ہوتا ہے اپنے ہاتھوں کومختلف انداز میں گھما گھما کر ان سے کھیلتے ہیں۔ چلنے کے دوران ایڑھیاں اٹھا کر چلتے (toe walking) ہیں اور سارا وزن پنجوں پر ڈال دیتے ہیں۔ کئی مرتبہ مسلسل ایک ہی لفظ کو بہت دیر تک دہراتے رہتے ہیں۔ انھیں غصہ (aggressive) بہت زیادہ آتا ہے۔ کسی ایک ہی بات کے متعلق سوچتے رہتے ہیں۔ زیادہ تر فکر مند اور سوچوں میں رہتے ہیں یا پھر بالکل سپاٹ۔ کبھی یہ منہ سے عجیب وغریب آوازیں نکالتے ہیں تو کبھی عجیب و غریب شکلیں بناتے یعنی منہ بگاڑتے رہتے ہیں۔ منہ سے رالیں بہنا، اپنے پرائیویٹ پارٹ کو چھیڑتے رہنا، جنسی جذبات کو کنٹرول نہ کر سکنا، یکدم غصہ کرنا، چیزیں پھینکنا یا پھاڑنا یا آگ لگاتے رہنا، دانتوں سے خود کو یا دوسروں کو کاٹنا، اچانک رونے دھونے لگ جانا بھی اہم علامات ہیں۔ یہ اپنے ارد گرد کی دنیا سے غافل نظر آ سکتے ہیں۔ دنیا سے رابطہ (socially isolated) نہیں رکھنا چاہتے۔ بعض آٹسٹک بچے ہر وقت بال کٹوانا چاہتے ہیں تو بعض کے بال یا ناخن کٹوانا بہت ایک بہت بڑی مصیبت ہوتی ہے۔ یہ کئی کئی دن ایک ہی قسم کی خوراک کھانا چاہتے ہیں۔ اگر ڈر ہو تو مکھی، مچھر، چیونٹی تک کو دیکھتے ہی چیخیں مار مار کر بھاگیں گے اور اگر ڈر نہیں ہے تو کسی بھی چیز کی کوئی پروا ہی نہیں ہے۔ بادل کی گرج چمک، اندھیرا، روشنی، اونچی آواز سے بھی شدید قسم کا ڈر ہو سکتا ہے۔ یہ بہت زیادہ ایکٹو ہو سکتے ہیں کہ سارا دن چلتے، دوڑتے بھاگتے رہیں یا اتنے شل کمزور اور تھکے ہارے کہ کچھ بھی نہ کریں۔آٹزم کا شکار سب بچے ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔


 اگر آپ کا بچہ آٹزم سے متاثر ہے تو ضروری نہیں کہ یہ تمام علامات اس میں موجود ہوں۔ سب سے زیادہ پائی جانے والی علامات میں دیر سے بولنا (lack of speech)، دیر سے چلنا، تنہائی پسند ہونا اور حواس خمسہ (sensory issues) کو کنٹرول نہ کر پانا ہے۔ ان بچوں کا بولنے، سننے، چکھنے، سونگھنے اور چھونے کا انداز عام بچوں سے مختلف ہوتا ہے۔اگر ایک جگہ پر پچاس آٹزم بچے ہوں تو ان سب کی علامات ایک دوسرے سے مختلف ہوں گی۔اکثر والدین یہ سوال پوچھتے ہیں کہ ان کا بچہ کب تک ٹھیک ہو جائے گا؟ علاج کے لیے کتنا عرصہ درکار ہو گا؟درحقیقت یقینی طور پر کوئی بھی بڑے سے بڑا ڈاکٹر اس سوال کا جواب نہیں دے سکتا۔ صرف آٹزم ہی نہیں دیگر پرانے اور شدید امراض جیسے دمہ (Asthma)، الرجی(Allergy)، چنبل (psoriasis)، گنٹھیا (Arthritis)، ہائپوتھائرائڈزم (Hypothyroidism)، ایگزیما (eczema)، مرگی (epilepsy) وغیرہ میں بھی علاج کی مدت بتانا ممکن نہیں ہوتا۔ ہر انسان کے علاج کا دورانیہ دوسرے انسان سے مختلف ہوتا ہے۔ آٹزم کے پہلے لیول (mild autism) عام طور پر ایک سے تین سال کا عرصہ درکار ہوتا ہے اور تیسرے لیول (severe autism) کے کیسز میں پانچ سے دس سال بھی لگ سکتے ہیں۔مکمل طور پر شفایابی ہمیشہ ممکن نہیں ہوتی۔ مکمل صحت یابی کا مطلب ہے کہ بچہ بالکل ٹھیک ہو جائے۔


 اگر کسی ہومیو پیتھک ڈاکٹر سے جلدی اور بروقت علاج کروایا جائے تو مائلڈ آٹزم (mild autism) میں بہت سے بچے صحت یاب ہو جاتے ہیں۔ دوسرے (mild to moderate autism) اور تیسرے لیول (severe autism) کے آٹزم کیسز میں ایک عرصے تک علاج سے ہونے والی تبدیلیوں کا مشاہدہ کیا جاتا ہے۔ ہر تبدیلی مزید بہتری کی راہ ہموار کرتی ہے۔ یہ علاج لمبا ہوتا ہے اور بہتری کسی بھی وقت شروع ہو سکتی ہے۔عام طور پر ہاتھوں اور پیروں کی حرکات میں پہلے بہتری آتی ہے۔ بچے نارمل طریقے سے چلنے لگتے ہیں اور ہاتھوں کو بلاوجہ نہیں ہلاتے ۔نظریں ملانے (eye contact) کا مسئلہ بھی کچھ بہتر ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ پھر بچوں کی سمجھ بوجھ (comprehension)،بات چیت اور حسی مسائل میں بہتری آتی ہے۔ وہ سماجی طور قابل قبول حیثیت اختیار کرنے لگتے ہیں؛ لوگوں میں گھلنے ملنے لگتا ہے۔ اس دوران دوسروں سے آنکھیں ملا کر بات کرنے میں بھی سدھار آنا شروع ہو جاتا ہے۔جس طرح سب بچوں کی علامات ایک جیسی نہیں ہوتیں؛ اسی طرح ان کے علاج کا دورانیہ اور نتائج بھی ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔ کچھ بچوں میں کوئی ایک پہلو پہلے بہتر ہو جاتا ہے اور کچھ بچوں میں دوسرا۔ کچھ بچے پہلے چند ہفتوں میں ہی اچھا رسپانس دیتے ہیں اور کچھ بچوں میں بہتری آنے میں چند مہینے لگ جاتے ہیں۔ 

عطاؤں کی بارش جب برسنے کوآئ حصہ اول

 

اللہ سے 20 ڈالر کا سودا
یہ سچا واقعہ امریکی سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔
ایک لڑکی کی گاڑی نیو جرسی کی ایک ویران شاہراہ پر اچانک بند ہوگئی۔ بدقسمتی سے وہ اپنا پرس گھر بھول آئی تھی، جس میں اُس کا موبائل فون اور رقم دونوں تھے۔ سڑک سنسان تھی، نہ قریب کوئی آبادی، نہ کوئی مددگار۔ وہ حیران و پریشان کھڑی تھی کہ کیا کرے اور کس سے مدد مانگے۔اسی لمحے اس نے قریب ایک کچرے کے ڈبے کے پاس ایک درویش صفت، بوسیدہ کپڑوں میں ملبوس بے گھر شخص کو بیٹھے دیکھا۔ وہ اٹھ کر اس کے قریب آیا اور نرمی سے بولا "بیٹی! کیا تمہیں کسی مدد کی ضرورت ہے؟"لڑکی خوف زدہ ہوئی، جلدی سے بولی "نہیں!"وہ خاموشی سے واپس اپنی جگہ جا بیٹھا۔کچھ دیر گزری تو اس نے دیکھا کہ لڑکی اب بھی وہیں کھڑی ہے، پریشانی اس کے چہرے پر عیاں ہے۔ وہ دوبارہ قریب آیا اور بولا "مجھے یقین ہے تمہیں مدد چاہیے۔ ڈرو نہیں، مجھ پر بھروسہ کرو۔"لڑکی کچھ جھجکی، پھر اس کے اصرار پر بتا دیا "میری گاڑی کا پیٹرول ختم ہوگیا ہے۔ میں پرس بھول آئی ہوں۔ اب میرے پاس موبائل فون ہے اور نہ پیسے۔"اس غریب شخص نے سکون سے کہا "اچھا، تم گاڑی میں بیٹھ کر انتظار کرو، میں ابھی آتا ہوں۔"
لڑکی کے دل میں خوف مزید بڑھ گیا، نہ جانے وہ کہاں جا رہا ہے اور کیا کرنے والا ہے۔


 مگر اب اُس کے پاس سوائے انتظار کے اور کوئی چارہ بھی نہ تھا۔ تقریباً آدھے گھنٹے بعد وہ واپس آیا۔ اس کے ہاتھ میں ایک بوتل تھی، جس میں پیٹرول بھرا ہوا تھا۔ اس نے خاموشی سے گاڑی کا ٹینک کھولا، پیٹرول ڈالا، پھر لڑکی کے قریب آیا اور مسکرا کر بولا "معاف کرنا، میرے پاس صرف 20 ڈالر تھے، مگر امید ہے اتنے میں تم آرام سے گھر پہنچ جاؤ گی۔"لڑکی کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ اس نے کہا "میرے ساتھ چلو، میں تمہیں یہ رقم واپس دوں گی۔"وہ شخص مسکرا کر بولا "اس کی ضرورت نہیں۔ وہ 20 ڈالر ویسے بھی میرے نہیں تھے، کسی اجنبی نے دیئے تھے، بغیر مانگے۔"لڑکی نے اس کا شکریہ ادا کیا اور گھر جا پہنچی۔ اگلے ہی دن اس نے اپنی کہانی سوشل میڈیا پر شیئر کی۔ لوگ اس سے بہت متاثر ہوئے اور اس لڑکی سے کہا کہ چلو، اس نیک دل آدمی کے لیے چندہ مہم چلاتے ہیں۔ پھر مہم شروع ہوگئی۔ چند ہی دنوں میں اس بے گھر شخص کے لیے ایک لاکھ ڈالر سے زاید کی رقم جمع ہوگئی تھی۔ اس رقم نے خاتون نے اس کے لیے ایک اپارٹمنٹ خریدا اور ساتھ اس روزگار کا انتظام کیا گیا۔اس نے اپنی جیب کے آخری 20 ڈالر ایک اجنبی کے لیے قربان کر دیئے اور اللہ تعالیٰ نے اُس قربانی کے بدلے اُسے ایک لاکھ ڈالر عطا فرمائے۔


 نزرول عبد الکریم ایک غریب، محنت کش مزدور تھا۔ بنگلہ دیش سے روزی روٹی کی تلاش میں نکل کر سعودیہ کی سڑکوں پر جھاڑو دینے والا پردیسی۔ ایک مرتبہ وہ ریاض کی ایک مصروف شاہراہ پر واقع ایک لگژری جیولری دکان کے باہر لمحہ بھر کو ٹھہر گیا۔ شیشے کے پار سونے کا ایک عالیشان سیٹ روشنیوں میں جگمگا رہا تھا۔ نزرول کے ہاتھ میں جھاڑو تھی، لباس سادہ، چہرے پر پسینہ اور وجود تھکا ہوا، مگر آنکھوں میں ایک ایسی خاموش حسرت تھی جو صرف وہی جانتا ہے جو خواب دیکھنا جانتا ہو، مگر وسائل سے محروم ہو۔ وہ اس قیمتی سیٹ کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھ ہی رہا تھا کہ ایک امیر گھرانے سے تعلق رکھنے والے نوجوان کی اس پر نظر پڑ گئی۔نوجوان نے اس منظر کو انسانیت کی آنکھ سے نہیں، غرور کی نگاہ سے دیکھا۔ اس نے نزرول کی تصویر بنائی اور سوشل میڈیا پر ڈال دی، ساتھ ہی تمسخر سے بھرے الفاظ لکھ دیئے:
هذا حده ينظر إلى القمامة“ایسے لوگ صرف کچرے کو دیکھنے کے ہی قابل ہوتے ہیں، نہ کہ سونے کے ہار کو۔”مطل منہ اور مسور کی دال! ن الفاظ میں اس امیرزادہ نے نزرول کی غربت کا مذاق اڑایا تھا، حلال محنت کو ذلت بنا کر پیش کیا تھا اور ایک انسان کی عزت کو اس کے پیشے سے تول کر فیس بک میں لائیکس و کمنٹ وصول  کر نے کی گھٹیا کوشش کی تھی۔ 


گویا جھاڑو تھامنے والا ہاتھ انسان نہیں  محض ایک تماشہ ہو۔مگر یہ دنیا صرف انسانوں کے فیصلوں سے نہیں چلتی، یہاں ایک اور عدالت بھی ہے، وہ عدالت جو نیتوں کو دیکھتی ہے۔اللہ نے چاہا کہ ایک مظلوم کی خاموشی کو زبان ملے اور یوں وہ تصویر جو تضحیک کے لیے بنائی گئی تھی، عزت کی گواہی بن گئی۔ چند ہی گھنٹوں میں سوشل میڈیا پر فضا بدل گئی۔ لوگوں کے دل جاگ اٹھے۔ امیرزادہ کی پوسٹ پر واہ واہ کے بجائے غصے کا اظہار کرنے والے زیادہ تھے۔ غصہ طنز پر نہیں بلکہ اس ذہنیت پر تھا، جو محنت کو حقیر سمجھتی ہے۔
جاری ہے

منگل، 27 جنوری، 2026

جامعہ الازہر قاہرہ -مسلمانوں کی جامعہ افتخار

  





ہم مسلمانوں کے لئے اللہ ربالعالمین نے  اس زمین پر جو پہلا تحفہ بذریعہ فرشتہ بھیجا وہ علم کا نایاب تحفہ تھا  اور اس تحفے کی قدرو قیمت جانتے ہوئے جامعہ  الازہر جیسی عظیم درس گاہ  کی بنیاد رکھی گئ  جس میں دینی اور دنیوی تمام علوم کی تعلیم دی جاتی ہے، دینی تعلیم کے لیے جامعہ ازہر  کو عالم اسلام بلکہ پوری دنیا کا مرجع مانا جاتا ہے۔اس وقت ازہر کے طلبہ کی ٹوٹل تعداد 10 لاکھ سے زیادہ ہے جس میں تقریباً 50 ہزار غیر ملکی طلبہ ہیں۔ جن کا تعلق 100 سے زائد ممالک سے ہے، ان طلبہ کی تعلیم و تربیت کے لیے 6 ہزار سے زائد فقط مصر میں ازہر کے معاہد(انسٹیٹیوٹس) اور اسکولز عالم وجود میں آئے۔جامعہ ازہر میں تعلیم سے متعلق تمام شعبہ جات کی تعداد تقریباً 70 ہیں۔ یہاں پر عصر حاضر کی عالمی  جامعات میں اعلیٰ تعلیم کے تمام  شعبے    جیسے  میڈیکل  سائینس'  جامعہ ازہر میں  موجود ہیں،  اور دینی تمام قسم کے شعبے  مثلاً تفسیر اور علوم قرآن، حدیث اور علوم حدیث،، فقہ اور اصول فقہ، کلام اور عقیدہ، دعوہ، اسلامی معاشیات، بینکاری، تجارت، عربی زبان و ادب، تصوف، تربیت، سیرت، قراءت و تجوید، افتاء، فکر جدید اور مطالعہ غرب، استشراق و تبشیر، تقابل ادیان اور اسلامی ثقافت و حضارت وغیرہ سب کے سب تخصصات بحمد اللہ تعالی جامعہ ازہر میں موجود ہیں۔

مصری  طلبہ کے لیے  نرسری 2 سال، پرائمری 6 سال اور ثانویہ یعنی ہائی اسکول 3 سال، اس کے بعد کلیہ یعنی بی اے 4 سال (بی اے کچھ کلیات میں 5 سال کا بھی ہے)پھر  ایم اے 4 سال جس کے اخیر کے 2 سال میں 400 ؍500 صفحہ کا رسالہ لکھوایا جاتا ہے، اس کے بعد پی ایچ ڈی کم از کم 3 سال کی ہوتی ہے اس میں بھی کسی موضوع پر رسالہ لکھوایا جاتا ہے۔غیر ملکی طلبہ کے لیے نرسری اور پرائمری تو نہیں ہے، البتہ ان کے لیے ایک اضافی شعبہ ’’ معھد الدراسات الخاصۃ للغۃ العربیۃ لغیر الناطقین بہا‘‘ اور’’ مرکز تعلیم اللغۃ العربیۃ للوافدین‘‘ ہے، جس میں غیر ملکی طلبہ(جو مصر میں بغیر کسی معادلہ کے تعلیم حاصل کرنے آتے ہیں) شروع میں عربی زبان سیکھنے کے لیے داخل ہوتے ہیں، باقی ان کے دوسرے مراحل بھی مصری طلبہ ہی کی طرح ہوتے ہیں، ہاں ایک بات اوران سے مختلف ہوتی ہے وہ یہ کہ وافدین کو کلیہ کے مرحلہ میں ہر سال کم از کم ایک پارہ حفظ کرکے اس کا تحریری و تقریری امتحان دینا لازمی ہوتا ہے، مگر مصر ی طلبہ کا معاملہ ان سے مختلف  اس  لئے ہوتا  ہے کہ ان مصری طلبہ  کو ہر سال ساڑھے سات پارے حفظ کرکے اس کا تحریری و تقریری امتحان دینا ضروری ہوتا ہے،اور اس طرح مصری طلبہ کلیہ کے مرحلہ میں ہی حافظ قرآن ہو جاتے ہیں، یہ جامعہ ازہر کا تمام اسلامی جامعات کے درمیان خاص وصف اور طرئہ امتیاز ہے،


 اس کے علاوہ جامعہ ازہر میں سہ ماہی ’’دورہ تدریبیہ‘‘ جسے ’’ ائمہ کورس‘‘ بھی کہتے ہیں، ملک اور بیرون ملک کے لیے مسلسل پورے سال رواں دواں رہتا ہے، اس میں تمام اسلامی مضامین، اسلامی معاشیات و اقتصاد، کمپیوٹر، انٹرنیٹ اور دیگر تمام اسلامی موضوعات پر لیکچرز ہوتے ہیں، ہم یہاں پر مرحلہ ثانویہ(ہائی اسکول)، کلیات(بی اے)، ماجستیر(ایم اے) اور دکتوراہ(پی ایچ ڈی) کا تفصیلی منہج پیش کر تے ہیں:دراسات علیا : (ایم اے، وپی ایچ ڈی):ایم اے و پی ایچ ڈی کے ابتدائی دو سال میں تقریباً کلیہ کے تخصص والے ہی مواد ہوتے ہیں البتہ بحثیں مختلف ہوتی ہیں، اس میں مطالعہ، بحث اور مصادر و مراجع کی طرف کثرت سے رجوع اور محنت و مشقت کلیہ سے بہت زیادہ مطلوب ہوتی ہے، ایم اے کا دو سال پاس کرنے کے بعد ایم اے کا مقالہ کسی خاص موضوع پر لکھنا ہوتا ہے، اس کی مدت کم از کم دو سال ہوتی ہے جسے ’’ رسالۃ التخصص الماجستیر‘‘ کہتے ہیں، پاک و ہند میں اسے ایم فل کا درجہ دیا جا تا ہے،اس کے بعد پی ایچ ڈی کا مقالہ ’’رسالۃ العالمیۃ الدکتوراۃ‘‘ لکھنا ہوتا ہے جس کی مدت کم از کم تین سال ہوتی ہے، تقریباً تمام کلیات کے دراسات علیا کا یہی طریقئہ کار ہوتا ہے۔

شبرا مصر کے معھد القراء ات میں دو سال عام تجوید کے بارے میں کتابیں پڑھائی جاتی ہیں، پھر تین سال عالیہ اور تین سال کے تخصص کا مرحلہ طے کرنا ہوتا ہے، اس طرح یہ آٹھ سال کا تجوید و قراء ت کا کورس ہے، اس کے علاوہ کلیۃ القرآن الکریم طنطا میں(بی اے ) چار سال، دراسات علیا (ایم اے ) چار سال اور(پی ایچ ڈی ) یعنی ڈاکٹریٹ تین سال کروایا جاتا ہے-کتب خانہ جامعہ الازہر ایک عظیم کتب خانہ ہے جو مسلمانوں کے لیے اور پوری دنیا کے لیے علم کا ڈھیروں خزانہ محفوظ کیے ہوئے ہے۔س کی لائبریری کو صرف دار الكتب والوثائق القومية کے لیے مصر میں اہم سمجھا جاتا ہے۔ الازہر مطبوعات کے تحفظ اور ان کی آن لائن ("الازہر آن لائن پراجیکٹ") کو شائع کرنے کے لیے تاکہ آخرکار لائبریری کے پورے نایاب مخطوطات کے مجموعہ تک آن لائن رسائی شائع کی جاسکے، جس میں تقریباً سات لاکھ صفحات پر مشتمل مواد شامل ہے

ہفتہ، 24 جنوری، 2026

پلازہ کے نقشے میں ہنگامی اخراج کا کوئی ذکر تک نہیں ہے

  

سال 2005 میں پریڈی کوارٹرز میں کوارٹر نمبر 32 پر مقدمہ نمبر 56/2005 درج ہوا۔ یہ وہی کوارٹر ہے جہاں گل پلازہ قائم ہے۔ اس مقدمے میں کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے سابق چیف کنٹرولر مرحوم بریگیڈیئر (ر) اے ایس ناصر سمیت کئی افسران اور نجی فریقین کو بدعنوانی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور جعلسازی کے الزامات کے تحت نامزد کیا گیا تھا۔ استغاثہ نے اس وقت گل محمد خانانی نامی شخص کو پریڈی کوارٹرز(گل پلازہ) کا مالک قرار دیا تھا۔کراچی کے علاقے صدر، پریڈی کوارٹرز میں واقع گل پلازہ ماضی میں تعمیر اور غیر قانونی منظوریوں، بلڈنگ کنٹرول کی بدعنوانی اور سیاسی مداخلت کے ایک نمایاں مثال کے طور پر سامنے آتا رہا ہے جبکہ حال ہی میں آگ لگنے کے واقعے میں کئی لوگوں کی جانوں کا  نقصان  آپ کے سامنے ہے۔ اس پلازہ کی کہانی آج سے کوئی 15 سال قبل ایک کیس کے تناظر میں خوب سمجھ آسکتی ہے مذکورہ کیس کا آغاز سن 2005 میں ہوا جب کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے بعض افسران اور نجی فریقین کے خلاف بدعنوانی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور جعلسازی کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ یہ مقدمہ ایف آئی آر نمبر 56/2005 کے تحت قائم ہوا جس کا تعلق پلاٹ نمبر PR-I/32، پریڈی کوارٹرز سے تھا۔ یہ وہی پلاٹ ہے جہاں بعد میں گل پلازہ تعمیر ہوا جو وقت کے ساتھ ساتھ درآمدی اشیا کا ایک بڑا تجارتی مرکز بن گیا۔ استغاثہ کے مطابق پلاٹ میں جو جگہ گاڑیوں کی پارکنگ کے لیے مختص تھی اسے غیرقانونی طور پر دکانوں اور تجارتی استعمال میں تبدیل کیا گیا تھا جس سے شہری قوانین اور بلڈنگ ریگولیشنز کی صریح خلاف ورزی ہوئی تھی


۔اس مقدمے میں گل محمد خانانی کو گل پلازہ کے مالک کے طور پر نامزد کیا گیا تھا۔ الزام یہ تھا کہ انہوں نے کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے اعلیٰ افسران کے ساتھ ملی بھگت کے ذریعے ایسی منظوری حاصل کی جو سندھ ریگولرائزیشن کنٹرول آرڈیننس 2002 کی دفعہ 5-C کے خلاف تھی۔ یوں گل محمد خانانی اس غیرقانونی تعمیر کے براہ راست فائدہ اٹھانے والے فریق قرار پائے۔5 جنوری 2008 کو خصوصی اینٹی کرپشن جج کراچی سید گل منیر شاہ نے اس مقدمے میں سابق چیف کنٹرولر کے بی سی اے بریگیڈیئر (ر) اے ایس ناصر، دیگر افسران اور دیگر ملزمان کے ساتھ ساتھ گل محمد خانانی پر بھی فرد جرم عائد کی۔ تمام ملزمان نے صحت جرم سے انکار کیا اور مقدمہ لڑنے کا فیصلہ کیا۔ ان پر تعزیرات پاکستان اور انسداد بدعنوانی ایکٹ 1947 کے تحت متعدد سنگین دفعات لگائی گئیں جن میں کرپشن، جعلسازی اور دھوکہ دہی شامل تھیں۔2008 کے دوران یہ مقدمہ مختلف سماعتوں اور التوا کا شکار رہا۔ عدالت میں ملزمان کی جانب سے مقدمہ خارج کرنے کی درخواستیں بھی دائر کی گئیں تاہم کیس بدستور زیر سماعت رہا اور استغاثہ کی جانب سے موقف برقرار رکھا گیا کہ سرکاری افسران نے نجی فائدے کے لیے قانون کی خلاف ورزی کی       بالآخر اپریل 2010 میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی جب حکومت سندھ نے فوجداری ضابطہ کارروائی کی دفعہ 494 کے تحت یہ مقدمہ واپس لینے کی درخواست دائر کی۔ 


عدالت نے اس درخواست کو منظور کرتے ہوئے سابق کے بی سی اے چیف سمیت تمام ملزمان بشمول گل محمد خانانی کو الزامات سے بری کر دیا۔ عدالت کے فیصلے کے مطابق مقدمہ کسی عدالتی ٹرائل کے منطقی انجام تک پہنچے بغیر حکومتی فیصلے کے نتیجے میں ختم ہوا۔سابق کے بی سی اے چیف بریگیڈیئر ریٹائرڈ اے ایس ناصر سال 2024 جنوری کو گھر میں گر کر زخمی ہوئے اور کئی دنوں تک زیر علاج رہنے کے بعد انتقال کر گئے جبکہ حالیہ چند رپورٹس کے مطابق گل محمد خانانی سے متعلق بھی ابہام پایا جا رہا ہے کہ آیا وہ اس پلازہ کے مالک ہیں یا نہیں؟ بتایا جا رہا ہے کہ اس پلازہ کے مالک کا اصل نام بھی درست نہیں ہے تاہم ماضی میں گل محمد خانانی ہی مالک کے طور پر اس کیس میں نامزد کیے گئے تھے۔ ماضی کا یہ کیس اور اس پر کیا گیا فیصلہ کراچی میں غیرقانونی تعمیرات، بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے کمزور نظام اور احتساب کے سوالات کو آج بھی زندہ رکھا ہوا ہے۔ یوں سرکاری اداروں کی کمزوریوں سے بھی آپ کو اندازہ ہوگا کہ کس قدر یہ نظام کھوکھلا چلا آرہا ہے۔ 31 اکتوبر 2004 کو کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی ایک ٹیم سولجر بازار میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن کرنے پہنچی تھی۔ یہ ٹیم فیروزآباد تھانے کی حدود میں واقع غیرقانونی تعمیرات گرانے کے لیے پہنچی تھی۔ یہ کارروائی سندھ ہائی کورٹ کے احکامات پر کی جا رہی تھی تاہم پولیس نے اس پوری ٹیم کو ہی حراست میں لے لیا۔


 اطلاع ملنے پر کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے چیف کنٹرولر بریگیڈیئر (ر) اے ایس ناصر نے پولیس کے اعلیٰ حکام سے رابطہ کیا جن کی مداخلت کے بعد کے بی سی اے کے اہلکاروں کو رہا کر دیا گیا۔حالیہ کیس میں گل پلازہ میں لگنے والی آگ اور ان واقعات کی کڑیاں ملائیں تو بہت کچھ کلئیر ہوجاتا ہے۔ یہ تمام واقعات میڈیا پر بھی رپورٹ ہوچکے ہیں۔حالیہ میڈیا رپورٹس کے مطابق گل پلازہ کی عمارت اصل میں 1980 کی دہائی میں تعمیر کی گئی تھی۔ ابتدائی تعمیر کے بعد 1998 میں اس میں اضافی منزلیں بنائی گئیں اور 14 اپریل 2003 کو مالک نے کمپلیشن سرٹیفیکیٹ حاصل کیا تھا۔ نقشے کے مطابق اس میں بیسمنٹ سمیت تین منزلوں کی اجازت تھی لیکن حقیقت میں وہاں 1021 سے زائد دکانیں (تقریباً 1200) بن گئی تھیں اور کچھ دکانیں تو باہر نکلنے کے راستوں پر بھی تعمیر ہو چکی تھیں جس نے آگ کے دوران لوگوں کی انخلا کو مزید مشکل بنایا جبکہ بعض رپورٹس میں آتا ہے کہ پارکنگ اور بیسمنٹ میں اضافی سامان بھی رکھا جاتا رہا ہے۔ دعویٰ یہ بھی سامنے آرہا ہے کہ پلازہ کے نقشے میں ہنگامی اخراج کا کوئی ذکر تک نہیں ہے۔ یوں گل پلازہ میں لگنے والی آگ اور جانوں کے ضیاع سے یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ جب قانون پر عملدرآمد کرنے والے ادارے خود کمزور، باہمی کشمکش کا شکار اور سیاسی و انتظامی مداخلتوں کے تابع ہوں تو غیرقانونی تعمیرات سانحات کی بنیادیں بن جاتی ہیں 

ادیب  یوسف زئ  کی یہ  تحریر میں نے  اپنی فیس بک سے لی ہے

جمعہ، 23 جنوری، 2026

فا ٹا حکومت کی توجہ چاہتا ہے

 

‏اللہ تعالیٰ نے بلوچستان میں سونے اور تانبے کے ذخائر رکھے ہیں۔ جن کی مالیت دو کھرب ڈالر سے بھی زیادہ بنتی ہے۔ 54ملین ٹن سونے کے ذخائر موجود ہیں۔ ‏اور بلوچستان میں موجود ریکوڈیک کان دنیا کی پانچویں بڑے ذخائر ہیں۔ ضلع چاغی میں موجود ریکوڈیک کے سونے ذخائر اتنی مقدار میں موجود ہیں کہ اسے نکالنے کے لیے 20 سال زائد کا عرصہ لگ سکتا ہے۔ یہ سونے کا پہاڑ 100 کلومیٹر سے زائد کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ اور اب مزید سونا سندھ کے علاقے تھر پارکر کے قصبے نگر پارکر سونے کے ذخائر دریافت ہوئے ہیں۔ مشیر معدنیات سندھ نے کہا کہ نجی کمپنی کی کھدائی کے بعد سونے کے ذخائر کی تصدیق ہو گئی ہے۔مہمند: سنگ مرمر کی کانوں کے تنازعے اور 'تاریخ پر تاریخ'مہمند کے رہائشی وزیر خان کے مطابق قبائلی علاقوں کے خیبرپختونخوا میں انضمام سے قبل جرگہ سسٹم تھا لیکن اب جس کا بھی مسئلہ ہو وہ عدالت میں پیشیوں پر جاتا ہے، جہاں ایک تاریخ کے بعد دوسری تاریخ ملتی ہے اور کیس جلدی ختم نہیں ہوتے۔قبائلی ضلع مہمند سنگ مرمر (ماربل) کے پتھر کے قیمتی ذخائر کے حوالے سے شہرت رکھتا ہے اور یہاں سے ملک کے اندر اور باہر خوبصورت سنگ مرمر فراہم کیا جاتا ہے، تاہم آج کل مہمند میں سنگ مرمر کی تقریباً 80 فیصد کانیں بند ہیں، مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اس صنعت کو پوری طرح بحال کیا جائے تو یہاں روزگار کے مواقع میسر ہوں گے، جس سے غربت کم ہوگی۔



مہمند کے ایک رہائشی وزیر خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ضلع مہمند میں زیارت پہاڑی کا سنگ مرمر نہ صرف پاکستان میں بلکہ ایشیا بھر میں مشہور ہے لیکن یہاں سب سے بڑا مسئلہ یہ کہ ٹھیکیداروں کو بلاسٹنگ کے لیے بارود نہیں مل رہا اور جن کانوں پر قومی تنازع ہے، وہاں صرف عدالتی پیشیاں ہوتی ہیں اور کام ختم نہیں ہوتا۔ان کا کہنا تھا کہ اگر یہاں کام چل جائے اور سڑک بن جائے تو لوگوں کو سہولت ہو جائے گی، کاروبار چلے گا اور غربت میں کمی ہوگی۔وزیر خان نے بتایا کہ قبائلی علاقوں کے صوبہ خیبرپختونخوا میں انضمام سے قبل جرگہ سسٹم تھا تو لوگوں کو جو مسئلے ہوتے تھے وہ مشیران کے ذریعے آپس میں بیٹھ کر ہی حل ہو جاتے تھے، لیکن اب جس کا بھی مسئلہ ہو وہ عدالت میں پیشیوں پر جاتا ہے، جہاں ایک تاریخ کے بعد دوسری تاریخ ملتی ہے اور کیس جلدی ختم نہیں ہوتے۔مہمند میں چھپے اربوں کے قدرتی خزانے اور سرکاری بے پروائیمہمند ڈیم: کام شروع ہوا نہیں لیکن نام پر تنازع شروع-مہمند: چہل پہل کی واپسی تو بس سطحی باتیں ہیں-ضلع مہمند کے علاقہ گندہاب میں سنگ مرمر کے کارخانے کے مالک زاہد شاہ کو بھی کافی مسائل کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے روزگار پر اثر پڑا ہے۔انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ حکومت کی پالیسوں کی وجہ سے پہاڑ اور سنگ مرمر کی کانیں بند ہیں۔ پتھر نہیں مل رہا اور سڑک خراب ہونے کی وجہ سے کھلی کانوں تک گاڑیوں کے ذریعے سے رسائی بھی مشکل ہے تو اس سے ان کا کاروبار متاثر ہو رہا ہے کیونکہ وہ گاہکوں کی ڈیمانڈ پوری نہیں کر پا رہے۔



زاہد شاہ نے بتایا کہ مہمند کا سنگ مرمر مشہور ہے، جس میں زیارت کے ماربل، خانقاہ اور آج کل سٹرابیری ماربل کی بہت زیادہ مانگ ہے جبکہ زیارت وائٹ اور سٹرابیری ماربل یہاں کارخانوں میں تیار کرکے پنجاب، کراچی اور ملک کے دوسرے علاقوں کے علاوہ بیرون ممالک بھی بھیجا جاتا ہے۔ان کا کہنا تھا: 'یہاں ماربل کے پہاڑ علاقے کے عوام کی ملکیت سمجھے جاتے ہیں تاہم انضمام کے بعد حکومت نے کانوں کو لیز کرنے کا نیا قانون متعارف کرایا ہے جس سے اب کچھ علاقوں کے ماربل کی کانیں حکومت کی لیز کے مسائل کی وجہ سے بند ہیں اور مالکان عدالتوں کے چکر لگا رہے ہیں جکہ کچھ سنگ مرمر کی کانوں پر مقامی افراد کے آپس میں رائیلٹی پر اختلافات ہیں جس کی وجہ سے قیمتی اور خوبصورت سنگ مرمر کی اکثر کانیں بند پڑی ہوئی ہیں۔'زاہد شاہ نے بتایا کہ خیبر پخنونخوا میں انضمام کے بعد ماربل کے کارخانوں اور دیگر کو پانچ سال کے لیے ٹیکس فری زون قرار دیا گیا تھا لیکن ہمارے بجلی کے بلوں میں ٹیکس ابھی تک شامل ہوتا ہے۔ ان کے مطابق ایک کارخانے دار ہر ماہ بجلی کے بل میں 80 ہزار سے لے کر ایک لاکھ تک ٹیکس جمع کرواتا ہے۔انہوں نے سوال کیا: ’ٹیکس فری زون قرار دینے کے بعد ہم سے کیوں ٹیکس لیا جاتا ہے؟ یہ ہمارے لیے بڑا مسئلہ ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ ہمارے بجلی کے بلوں کو ٹیکس فری کیا جائے۔زاہد شاہ نے ضلع مہمند میں حکومت کی جانب سے ماربل سٹی پراجیکٹ کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے تو ماربل سٹی کے لیے زمین لے لی ہے اور کچھ لوگوں نے کارخانوں کے لیے پلاٹ بھی لیے ہیں لیکن سرکار کی جانب سے ترقیاتی کام بند ہونے کی وجہ سے کارخانے نہیں لگائے جا رہے۔



سنگ مرمر کے پتھر پہاڑوں میں سے بغیر کسی جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے نکالے جاتے ہیں جس میں 40 سے 60 فیصد سنگ مرمر کے پتھر ضائع ہوجاتے ہیں۔یہاں اگر تمام پتھر کی کانوں میں کام ہوتا ہو تو روزانہ کی بنیاد پر ڈھائی سے تین سو تک ٹرک لوڈ کیے جا سکتے ہیں جن میں سے فی ٹرک 60 ٹن کے پتھر ہوتے ہیں۔ایک ٹن کی قیمت چار ہزار سے 12 ہزار روپے تک ہوتی ہے جس میں سے زیارت کا وائٹ ماربل پوری دنیا میں خصوصیت رکھتا ہے اور دھوپ میں ٹھنڈا ہونے کی خاصیت رکھنے پر زیادہ قیمت پر فروخت ہوتا ہے۔سنگ مرمر کے بڑے پتھر تراشنے اور اسے مختلف سائز میں کاٹنے کے لیے کارخانوں میں لے جایا جاتا ہے لیکن ضلع مہمند میں سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے صرف چند ہی کارخانے لگائے گئے ہیں۔مچنی کے علاقے میں فاٹا ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے ماربل سٹی کی منظوری دی تھی جس کے لیے 600 ایکڑ سے زائد زمین بھی مقامی لوگوں سے خریدی جا چکی ہے اور وہاں پر بجلی کی گرڈ سٹیشن پر بھی کام مکمل کیا جاچکا ہے لیکن خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد فاٹا ڈویلمنٹ اتھارٹی کا وجود ختم ہوگیا، جس کے بعد ماربل سٹی پر کام بند ہو گیا

جمعرات، 22 جنوری، 2026

اشاعت مکرر 'نقیب انقلاب کربلا 'بی بی زینب سلام اللہ علیہا

 


سیّدالاصفیا ء خاتم الانبیاء تاجدار دوعالم حضرت رسول خدا محمّد مصطفٰے صلّی ا للہ علیہ واٰلہ وسلّم کی پیاری بیٹی جناب حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی آغوش مبارک میں گلستان نبوّت کی ایک تروتازہ کلی نے آنکھ کھولی تو آ پ سے دو برس بڑے بھائ اپنے والد گرامی حضرت امیرالمومنین کی انگلی تھام کر اپنی مادر گرامی کے حجرے میں آئے ،اور ننھی بہن کے ننّھے ملکوتی چہرے کو مسکرا کر دیکھا اور پھر اپنے پدر گرامی مولائے متّقیان کو دیکھ کر مسکرائے  اور سلطان اولیاء مولائے کائنات نے اپنی آنکھوں میں آئے ہوئے آنسو بی بی فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا سے چھپاتے ہوئے فرمایا کہ ,حضرت محمّد رسول اللہ صلّی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم تشریف لے آئیں توبچّی کا نام بھی آپ ہی تجویز کریں گے جس طرح اپنے نواسوں کے نام حسن وحسین تجویز کئے تھےنبئ اکرم ہادئ معظّم صلّی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم بی بی زینب کی ولاد ت کے وقت شہر مدینہ سے باہر حالت سفر تھے۔چنانچہ تین دن کے بعدسفرسے واپس تشریف لائے تو حسب عادت سب سے پہلے بی بی سیّدہ کےسلام اللہ علیہا حجرے پر تشریف لائے جہاں جناب فاطمہ زہرا کی آغو ش مبارک میں ننّھی نواسی جلوہ افروز تھی آپ نے وفورمحبّت و مسرّ ت سے بچّی کو آغوش نبوّت میں لیا اور جناب حسن وحسین علیہم السّلام کی مانند بچّی کےدہن مبارک کو اپنےپاکیزہ ومعطّر دہن مبارک سے آب وحی سےسرفراز کیا جناب رسالت مآ ب سرور کائنات حضرت محمّد صلّی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم بچّی کو آغوش نبوّت میں  لئے ہوئے نگاہ اشتیاق سےننّھی نواسئ معصومہ کا چہرہ دیکھتے رہے جہاں بی بی خد یجتہ الکبریٰ کی عظمت و تقویٰ اور جناب سیّدہ سلام اللہ علیہاٰ کے چہرے کے نورانی عکس جھلملا رہے تھے-



وہیں آپ صلعم کے وصی اور اللہ کے ولی مولا علی مرتضیٰ کا دبد بہ اور حشمت ہویدا تھی ننّھی نواسی کا ملکوتی چہرہ دیکھ کر حضور اکرم حضرت محمّد مصطفٰے صلّی اللہ علیہواٰ لہ وسلّم کا چہرہء مبارک خوشی سے کھلا ہوا تھااور اسی وقت بی بی فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اپنے محترم بابا جان سے مخاطب ہوئیں بابا جان ہم س انتظار میں تھے کہ آپ تشریف لے آئیں تو بچّی کا نام تجویز کریں تاجدار دوعالم  صلّی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم نے بی بی فاطمہ زہراسلام اللہ علیہا سے فرمایا کہ بیٹی میں اس معاملے میں اللہ کے حکم کا پابند ہوں جبرئیل امیں کے آنے پر ہی بچّی کا نام تجویز ہوسکے گا ،،اور پھر اسی وقت آپ کے رخ انور پر آثار وحی نمودار ہوئے اور آ پ صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے بی بی فاطمہ زہرا کے سر پر ہاتھ  رکھّا اور مولائے کائنات کو اپنے قریب بلاکر فرمایا گلستان رسالت کی اس کلی کا نام جبرئیل امیں بارگاہ ربّ العالمین سے‘‘ زینب ‘‘  لے کر آئےہیں یہی نام وہاں لو ح محفوظ پر بھی کندہ ہےبیت الشّرف میں اس نام کو سب نے پسند فرمایا ،پھر رسالتماآب صلّی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم نے نے اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں دعاء کی اے تمام جہانوں کے سب سے بہترین مالک میں تیری حمد وثناء بیان کرتے ہوئے تجھ سے دعاء مانگتا ہوں کہ تو نے  جس طرح ہمارے بچّوں کو دین مبین کی حفاظت کا زریعہ قرادیا ہے اسی طرح اس بچّی کو بھی عزّت اور سعادتو ں سے بہرہ مند فرما ،میں تیرے کرم کا شکر گزار ہوں۔اس دعائے شکرانہ میں جناب حضرت فاطمہ زہرا اور جناب حضرت علی مرتضٰی بھی شامل ہو ئےاور پھر گلستان رسالت کی یہ ترتازہ کلی ہوائے مہرو محبّت میں پروان چڑھنے لگی _وہ جس گھر میں آئ تھی


یہ دنیا کا کوئ عام گھرانہ نہیں تھا یہ گھر بیت الشّرف کہلاتا تھا ،اس محترم گھر کے مکین اہل بیت کے لقب سے سرفراز کئےگئے تھے ،اس پاکیزہ و محترم گھرکے منّو ر و ہوائے بہشت سےمعطّر آنگن میں پیغا مبر بزرگ فرشتے حضرت جبرئیل امیں وحی پروردگارعالم عرش بریں سے لےکراترتے تھے اس میں اقامت پذیر نورانی ہستیوں پر ملائکہ اور خود اللہ  درود و سلام بھیجتے تھے اور پھر بوستان محمّد کی یہ ترو تازہ کلی جس کا نام زینب( یعنی اپنے والد کی مدد گار) پرورد گار عالم نے منتخب کر کے لوح محفوظ پر کندہ کر دیا تھا ،فضائے مہرومحبّت میں پروان چڑھنے لگی چادر کساء کے زیر سایہ اس گھر کے مکینوں سے زینب سلام اللہ علیہا نے نبوّت و امامت کے علوم کے خزینے اپنے دامن علم میں سمیٹے توآپ سلام اللہ علیہا کی زبان پر بھی اپنے باباجان علی مرتضیعلیہ اسّلام اور والدہ گرامی جناب سیّدہ سلام اللہ علیہا کی مانند اللہ کی حمد و ثناء ومناجا ت کے پھول کھلنے لگے ،بی بی زینب سلام اللہ علیہا نے ہوش سنبھالتے ہی اپنے بابا جان کو اور مادرگرامی کو  اور اپنے نانا جان حضرت محّمد صلّی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم کو،فقرا و مساکین کو حاجتمندوں کی مدد کرتے ہوئے دیکھا تھا ،یہ وہ متبرّک ہستیاں تھیں جو اپنی بھوک کو سائل کی بھوک کے پس پشت رکھ دیتے تھے،کسی بھی سوال کرنے والے کے سوال کو سوالی کااعزاز بنا دیتے تھے مشورہ مانگنے والے کو صائب مشورہ دیتے تھے۔ہادیوں کے اس گھرانے کو کوئ دنیاوی معلّم تعلیم دینے نہیں آتا تھا ،


یہاں تو بارگاہ ربّ العا لمین سے حضرت جبرئیل امیں علوم کےخزانے بزریعہ وحئ الٰہی لا کر بنفس نفیس دیتے تھے چنا نچہ انہی سماوی و لدنّی علوم سےبی بی زینب سلام اللہ علیہا کی شخصیت کو مولائے کائنات اور بی بی سیّدہ سلام اللہ علیہا نے سنوارااور سجایا ،آپ جیسے ،جیسے بڑی ہونے لگیں آپ کی زات میں بی بی سیّدہ سلام اللہ علیہا کی زات کے جوہر اس طرح 
نکھرنے لگے کہ آپ کو د یکھنے والی مدینے کی عورتو ں نے آپ کا لقب ہی ثانئ زہراسلام اللہ علیہا  رکھ دیا-لیکن آپ سلام اللہ علیہا نے بچپن سے  ہی خطابت کا جوہر اپنے والد گرامی حضرت  علی علیہ السلام سے اس طرح لیا کہ جب آپ خطاب  کرتیں تو مدینے کی عورتوں کو محسوس ہوتا جیسے مولائے متقیان  بول رہے ہوں ۔''اور یہی  خطابت بعد از کربلا  نقیب انقلاب کربلا بن گئ 
خدا رحمت کند ایں عاشقان  پاک طینت را

بدھ، 21 جنوری، 2026

میر امن دہلوی برصغیر کے ایک معروف اور بہترین نثر نگار


میر امن  ایک پائے کے نثر نگار تھے  جنہوں نے اردو نثر نگاری کو چار چاند لگائےان کے بزرگ ہمایوں کے عہد میں مغلیہ دربار سے وابستہ ہوئے۔ آپ دہلی میں پیدا ہوئے اور یہیں  مکتب کی تعلیم حاصل کی ۔مغلوں کے دور آخر میں جب دلی کو احمد شاہ ابدالی نے تاراج کیا تو میر امن دہلی  چھوڑ کر عظیم آباد پہنچے۔ وہاں سے کلکتہ گئے کچھ دن بیروزگاری میں گذرے۔ بالاخر میر بہادر علی حسینی نے ان کا تعارف فورٹ ولیم کالج کے شعبہ ہندوستانی کے سربراہ ڈاکٹر گل کرائسٹ سے کرایا۔ انھوں نے میر امن کو کالج میں ملازم رکھا لیا۔ اور قصہ چہار درویش (فارسی) سلیس نثر میں لکھنے پر مامور کیا۔ چنانچہ ان کی فرمائش پر 1801ء میں باغ و بہار لکھنی شروع کی۔ 1802ء میں مکمل ہوئی اور اسی سال ہندوستانی مینول میں اس کے 102 صفحے شائع ہوئے۔ بعد ازاں 1804ء میں نظر ثانی شدہ مکمل ایڈیشن منظر عام پر آیا۔ میر امن کی دوسری کتاب گنج خوبی ہے جو ملا حسین واعظ کاشفی کی (اخلاق محسنی) کا ترجمہ ہےمیر امن کی زندگی کے حالات کسی کتاب یا تذکرہ میں نہیں ملتے، لہذا ان کی ولادت، وفات اور مدفن کے متعلق کسی کو صحت کے ساتھ کچھ معلوم نہیں۔میر امن دہلوی کا نام میر امان اللہ تھا اور امن ان کا تخلص۔ پہلے انہوں نے اپنا تخلص لطف رکھا تھا۔ میرامن دہلی میں پیدا ہوئے۔ ان کی تاریخ پیدائش میں اختلاف ہے۔ محققین کے نزدیک ان کی پیدائش ۱۷۵۰ کے آس پاس محمد شاہ کے عہد میں ہوئی۔ بعض لوگوں نے 1732کو خاص کیا ہے اور کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ1747 میں پیدا ہوئے۔ احمد شاہ ابدالی کے حملے کی وجہ سے میر امن کے خاندان نے دہلی چھوڑ کر پٹنہ کا رخ کیا۔  میر امن وہاں سے کلکتہ گئے تاکہ انہیں روزگار مل سکے۔ وہاں نواب دلاور جنگ کے چھوٹے بھائی میر محمد کاظم  خاں کو تعلیم دینے کےلیے مقرر کیے گئے۔

 اسی دوران ان کی ملاقات میر بہارد علی حسینی سے ہوئی۔  ان کے ذریعہ میرامن فورٹ ولیم کالج پہنچے  اور انہیں اس کالج میں ملازمت حاصل ہوئی۔ میر امن اس کالج کے ہندوستانی شعبہ میں 40روپے مہینے کے حساب سے منشی کے طور پر مقرر کیے گئے۔ میر امن نے اس کالج سے  وابستہ رہ  کر ’’باغ و بہار‘‘ میں لکھی۔  یہ کتاب امیر خسرو کی فارسی داستان ’’قصہ چہار درویش ‘‘کا آسان اردو ترجمہ ہے۔ اسے انہوں نے جان گلکرسٹ کی فرمائش پر لکھی۔ میر امن نے اس کتاب کے ذریعہ سادہ سلیس اور آسان زبان و اسلوب کی بنیاد ڈالی۔ میر امن اپنے اسی اسلوب کی وجہ سے کافی مقبول ہوئے۔ اردو ادب میں اپنی اسی کتاب کی بدولت میر امن اعلیٰ مقام رکھتے ہیں۔ اسی کالج سے ہی  وابستہ رہ کر  انہوں نے دوسری کتاب ’’گنج خوبی‘‘ لکھی جوکہ ملاحسین واعظ کاشفی کی کتاب ’’اخلاق محسنی‘‘ کا اردو ترجمہ ہے۔ لیکن اس کتاب کو اتنی مقبولیت نہ ملی۔ میر امن اس کالج سے پانچ سال تک  وابستہ رہے 

 باغ و بہار کا تعارف:باغ و بہار میر امن کی معروف و مشہور داستانوی کتاب ہے۔ اسے انہوں نے ۱۸۰۲ میں لکھی اور پہلی بار ۱۸۰۴ میں یہ شائع ہوئی۔ یہ داستان امیر خسرو کی فارسی  داستان ’’قصہ چہار درویش‘‘  کا اردو ترجمہ ہے۔ اس سے پہلے میر عطا حسین خاں تحسین نے اس داستان کا ترجمہ ’’نوطرز مرصع ‘‘ کے نام سے کیا جس کی زبان بہت مشکل ہے۔ اس کے بعد میر امن نے اس کا آسان اردو ترجمہ کیا۔ مولوی عبدالحق کا ماننا ہے کہ میر امن کی اس کتاب کا اصل ماخذ ’’نوطرز مرصع‘‘ ہے۔باغ و بہار کی خصوصیات:باغ و بہار کی خصوصیت یہ ہے اس میں ہندوستانی تہذیب و معاشرت کا عکس پیش کیا گیا ہے۔ خاص طور سے میر امن نے دہلی کی تہذیب کی عکاسی کی ہے۔ اس کتاب سے اس وقت کی دہلوی تہذیب، معاشرت،طرز زندگی، شادی بیاہ، رسم و رواج اور روایات سے ہمیں واقفیت  حاصل ہوتی ہے۔اسی طرح شاہی دربار، نوابوں کی حویلیاں، مختلف موسمی پھل اور مختلف کھانوں کا ذکر اس داستان میں موجود ہےمیر امن کی نثر نگاری۱۔زبان کی سادگی:   میر امن کی خصوصیت یہ ہے کہ انہوں نے اردو نثر میں آسان، سادہ اور عام فہم زبان کی بنیاد ڈالی ہے۔ میر امن سے پہلے سادہ اور آسان زبان میں لکھنے کا رواج نہ تھا۔ بلکہ مشکل سے مشکل عبارت لکھی جاتی تھی جو کہ اس وقت مہارت کی دلیل تھی۔


 لیکن میر امن نے آسان زبان کا استعمال کرکے اردو کو سادگی کا راستہ دکھایا جس کو بعد میں غالبؔ وغیرہ نے بھی اختیار کیا۲۔ زبان کی لطافت       میر امن کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ انہوں نے عبارت کو پر لطف بناکر پیش کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تحریر پڑھ کر قاری کو اکتاہت کا احساس نہیں ہوتا  بلکہ قاری مزے لے لے کر پڑھتا جاتا ہے۔۳۔ الفاظ کا استعمال:میر امن کا کمال یہ ہے انہوں نے موقع و محل کے اعتبار سے مناسب الفاظ کا استعمال کیا ہے۔ میر امن کے پاس بہت سے الفاظ ہوتے ہیں۔ پھر ان الفاظ کی جہاں ضرورت محسوس ہوئی وہاں انہوں نے استعمال میں لایا۔۴۔ لفظوں کی تکرار یا تابع مہمل:میر امن نے لفظوں کی تکرار اور تابع مہمل کے ذریعہ بھی اپنی نثر کو خوبصورت بنایا ہے۔ یہ دونوں چیزیں ان کے یہاں کثرت سے نظر آتی ہیں۔ مثال کے طور پر گھر گھر، پل پل، روتا دھوتا، لڑکے بالے وغیرہ۔۵۔ متروک الفاظ:میر امن کے یہاں ایسے الفاظ کی بھی کثرت ہے جو پہلے بولے اور لکھے جاتے  تھے لیکن آج ان الفاظ کا بولنا اور لکھنا چھوڑ دیا گیا ہے۔ مثلا کبھو، کدھو اور ایدھر اودھر وغیرہ۔۶۔ عربی و فارسی کے الفاظ:          میر امن نے ضرورت کے اعتبار سے عربی اور فارسی  کے الفاظ کو بھی بہت خوبصورتی سے استعمال میں لایا ہے۔ ایسے الفاظ مشکل نہیں ہوتے ہیں بلکہ وہ عام فہم ہوتے ہیں۔۷۔ ہندی الفاظ:            میر امن کی نثر کی ایک خوبی یہ ہے انہوں نے ہندی الفاظ کا بھی خوبصورت استعمال کیا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ عربی اور فارسی کے آسان الفاظ جو اردو میں رائج ہیں ایسے الفاظ کی جگہ پر انہوں نے ہندی الفاظ کو ترجیح دی ۔
۔ کچھ لوگوں کے مطابق   1806اور زیادہ تر لوگوں کے مطابق 1808 کو کلکتہ میں ان کا انتقال ہوا

منگل، 20 جنوری، 2026

گل پلازہ شہر کراچی کی تاریخ کا ہولناک سانحہ

    

فائر 1200 جلتی ہوئ دکانوں کی مارکیٹ میں اس وقت لگ بھگ 6000 ہزار افراد موجود تھے جن کے نکلنے کے لئے صرف دو دروازے کھلے تھے  باقی چوبیس دروازے بند تھے  اور اس طر وہ قیامت برپا ہوئ جس کو روکا بھی جا  سکتا تھا لیکن ہمارے پاکستان میں عا م آدمی کی جان کی قیمت کیڑے مکوڑوں سے زیادہ نہیں ہے   -ااطلاع دینے کے پورے دو گھنٹے  بعد فائر بریگیڈ آئ جس کے پاس پانی بھی   مناسب مقدار میں نہیں تھا    ایک ہی گاڑی آئ جس کا پانی ختم ہوجاتا تھا پھر وہ پانی لینے جاتی تھی- شہر کے تمام  وسائل پر  پیپلز پارٹی  کا قبضہ ہے جن  کے کرتاؤں دھرتاؤں کی سائن کے بغیر خاکروبوں کی تنخواہ بھی نہیں دی جا سکتی ہے  ' تو ایسے میں کراچی والوں کو منہ دھو رکھنا چاہئے  -یہ شہر تو ویسے بھی ایوب خان کے منصوبے کے تحت لاوارث چل رہا ہے -گل پلازہ کوئی عام مارکیٹ نہیں بلکہ شہر کے بڑے ہول سیل اور ریٹیل مراکز میں سے ایک تھا۔ آج سینکڑوں دکاندار اپنی زندگی بھر کی کمائی جلتے دیکھ کر بے بس  رہے۔ اگر 2009 میں جیل روڈ حادثے کے بعد مؤثر حفاظتی اقدامات کیے جاتے تو گل پلازہ جیسے سانحات ٹل سکتے تھے،  ۔ پچھلےپندرہ سالوں میں متعدد بڑے حادثات — جیل روڈ 2009، گلشنِ اقبال 2011، صدر مارکیٹ 2013 اور دیگر صنعتی علاقے 2015 تا 2017 — پیش آئے، لیکن ہر بار ردِعمل سست، غیر منظم اور ناکافی رہا۔ نتیجتاً انسانی جانیں ضائع ہوئیں اور اربوں روپے کا تجارتی سرمایہ تباہ ہوا۔کراچی کے تجارتی اور شہری زندگی کے دل ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں ہفتے کی رات لگنے والی آگ نے شہر کے تمام حفاظتی دعوؤں کو خاک میں ملا دیا۔


 یہ کوئی معمولی حادثہ نہیں تھا بلکہ ایک ایسا المیہ تھا جس نے انسانی جانوں، دکانداروں کے خواب اور اربوں روپے کے تجارتی سرمایہ کو راکھ میں تبدیل کر دیا۔گل پلازہ میں آتشزدگی رات 9:45 سے 10:15 کے درمیان شروع ہوئی اور 1200 سے زائد دکانیں جل گئیں۔ گل پلازہ کی آگ پر قابو پانے کے لیے فائر بریگیڈ کی 22 گاڑیاں، 10 واٹر باؤزرز اور 4 اسنارکل گاڑیاں شامل کی گئیں، مگر ابتدائی گھنٹوں میں پانی کی کمی اور ریسکیو اہلکاروں کی محدود رسائی انسانی جانوں کے  زیاں  کی اہم وجہ بنی۔ ریسکیو1122 کی رپورٹ کے مطابق ابتدائی مراحل میں عمارت میں داخل ہونا انتہائی دشوار تھا۔ ۔۔ 2009 میں جیل روڈ کے ”چیز اپ“ اسٹور میں لگنے والی آگ، 2011 میں گلشنِ اقبال صنعتی گودام کی تباہی اور 2013 میں صدر مارکیٹ میں ہونے والی آگ اس بات کی واضح مثالیں ہیں، سانحہ گل پلازہ کیسے رونما ہوا ؟  دل دہلا دینے والے انکشافات سامنے آگئےالمناک سانحے کے وقت عمارت میں موجود لوگوں کو 26 میں سے 24 دروازے بند ملے ، کوئی ایمرجنسی ایگزٹ نہیں تھا, متاثرہ دکاندارسانحہ گل پلازہ کیسے رونما ہوا ؟ حادثہ سانحے میں کیسے بدلا؟ دل دہلا دینے والے انکشافات سامنے آگئے۔متاثرہ دکانداروں کا کہنا ہے کہ عمارت کے کُل 26 داخلی و خارجی دروازے ہیں ، رات دس بجے تمام گیٹ بند کرکے صرف دو دروازے کُھلے رکھے جاتے ہیں۔  آگ انتہائی تیزی سے پھیل رہی تھی، پوری مارکیٹ میں دھواں ہی دھواں بھر چکا تھا۔دکانداروں کے مطابق آگ لگنے کے کچھ دیر بعد کچھ لوگ بے ہوش ہو کر زمین پر گر پڑے، دکانداروں نے بہت سے لوگوں کو  اپنی مدد  آپ کے تحت ہی عمارت سے باہر  نکالا۔



یاد رہے کہ کراچی میں ایم اے جناح روڈ پر  واقع شاپنگ مال گل پلازہ میں آگ بجھنے کے بعد ملبہ ہٹانے اور لاپتا افراد کی تلاش کا کام جاری ہے۔ اب تک 26 ہلاکتوں کی تصدیق ہوچکی ہے  جبکہ واقعے کے بعد اب بھی 76 افراد لاپتا ہیں اور اربوں روپے کا نقصان اور قیمتی جانوں کا ضائع ہو گیا اور جعلی میئر مرتضیٰ وہاب اور مراد علی  لوگوں کے نقصان کا ذمہ دار ہیں   جنہوں   نے اتنے بڑے شہر کے وسائل اپنی جیبوں میں ڈال کر اس شہر کے لوگوں کو بے یارو مدد گار چھوڑ رکھا  ہےپورے شہر کو جو کبھی پورے ملک کی معیشت کی ریڑ کی ہڈی کے طور پر جانا جاتا تھا اور پورے ملک کے لوگوں کے روزگار کی پہچان کے طور پر پہچانا جاتا تھا اس کے علاوہ خوبصورتی میں بھی اپنی کمال حیثیت رکھتا تھاآج یہ شہر بے بسی کی تصویر بن چکا ہے پورے شہر کا نظام کھنڈرات کا منظر پیش کر رہا ہے فائر  فائٹر 24 گھنٹے بعد کراچی کے آتش زدہ گل پلازہ میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے، جلی ہوئی دکانوں میں محدود پیمانے کا سرچ آپریشن کیا، ریسکیو ورکرز صدائیں لگا لگا کر زندگی کے نشان ڈھونڈتے رہے، مگر جلی ہوئی عمارت کے اندر ان صداؤں پر لبیک کہنے والا کوئی نہ مِلا۔لوگ بے بسی کی تصویر بنے ہفتے کی رات سوا 10 بجے سے جلتی ہوئی عمارت کے باہر کھڑے اپنے پیاروں کی راہ تک رہے ہیں۔سانحے میں 1200 دکانیں جل کر خاکستر ہو گئيں، آگ سے متاثرہ عمارت کے حصے ٹوٹ کر گرنے لگے ہیں۔ کراچی میں گل پلازہ میں آتشزدگی کے واقعے کو 26 گھنٹے گزر چکے ہیں، آگ پر 80 فیصد تک قابو پا لیا گیا، باقی فائر ٹینڈر اب بھی بچی کھچی آگ بجھانے میں مصروف ہیں، عمارت میں پھنسے لوگوں کے موبائل فون بند ہو گئے ہیں اور ان سے رابطہ ختم ہو گیا ہے۔



سانحے میں 1200 دکانیں جل کر خاکستر ہو گئيں، آگ سے متاثرہ عمارت کے حصے ٹوٹ کر گرنے لگے ہیں۔ عمارت میں کتنے لوگ پھنسے ہیں، درست تعداد کا اندازہ نہیں، اب تک 38 افراد کے اہلخانہ نے انتظامیہ سے رابطہ کیا ہے، حادثے میں 6 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں ایک فائر فائٹر بھی شامل ہے جبکہ 22 افراد زخمی ہوئے ہیں۔آتشزدگی کے نتیجے میں فائر فائٹر فرقان شوکت سمیت 6 افراد جاں بحق، جبکہ متعدد بے ہوش افراد کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا،خوفناک آگ نے شہر کی فضا سوگوار کردی۔ کراچی (18 جنوری 2026): گل پلازہ شاپنگ سینٹر میں لگنے والی خوفناک آتشزدگی کے باعث کئی افراد تاحال لاپتا ہیں تاہم 40 افراد کی فہرست سامنے آئی ہے جن میں نام اور عمریں درج ہیں۔اے آر وائی نیوز کو موصول فہرست میں اُن افراد کے نام شامل ہیں جنہیں اہل خانہ اور قریبی رشتے دار گزشتہ رات سے رابطہ کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔گل پلازہ آتشزدگی کے بعد سے اب تک درجنوں افراد کے لاپتا ہونے کی تفصیل جمع کروائی گئی ہے جن میں مرد و خواتین کے ساتھ ساتھ بچے بھی شامل ہیں۔سندھ حکومت کی ہدایت پر ڈپٹی کمشنر جنوبی نے مسنگ پرسن کیلیے ڈیسک قائم کر دی ہے۔ ڈپٹی کمشنر جنوبی نے کہا ہے کہ لوگ اپنے پیاروں کے لاپتا ہونے کی تفصیلات جمع کروا رہے ہیں۔ کراچی کے شہری اور تجارتی حلقے برسوں سے یہ بات دہراتے آئے ہیں کہ شہر میں فائر سیفٹی کے نام پر کوئی عملی اقدامات نہیں کیے جاتے۔

پیر، 19 جنوری، 2026

گائے گی دنیا گیت میرے-موسیقار نثار بزمی

   


گائے گی دنیا گیت میرے-سریلے رنگ میں نرالے رنگ میں نےبھرے ہیں ارمانوں میں، کانوں میں رس گھولنے والی نثار بزمی کی  موسیقی  سے سجا ہوا یہ گیت جب اس وقت کے پردہء سیمیں پر آیا تو  گلی گلی مشہور ہو گیا نثار بزمی ہماری فلم انڈسٹری کے بڑے نامور موسیقار   تھے  انہوں  نے  فن موسیقی میں بڑے بڑے فن کاروں  سے بڑھ کر  اپنی فنی خدمات سے شہرت پائی۔ پاک و ہند کی فلمی موسیقی نے نامور موسیقار اور گلوکار پیدا کیے۔ ان میں ایک معتبر نام موسیقار نثار بزمی کا بھی ہے۔ ان کا پُورا نام سید نثاراحمد تھا لیکن  موسیقی کی دنیا میں نثار بزمی کے نام سے شہرت پائی۔پاکستان میں فضل احمد کریم فضلی کی فلم ’ایسا بھی ہوتا ہے‘ بطور موسیقار نثار بزمی کی پہلی فلم تھی، لیکن تقسیمِ‌ ہند سے قبل اور بعد میں‌ بھارت میں قیام کے دوران وہ 40 سے زائد فلموں کی موسیقی ترتیب دے چکے تھے۔ یہ 1946ء کی بات ہے اور 1961ء تک وہ بھارت میں فلم انڈسٹری کے لیے کام کرتے رہے۔ تاہم کوئی خاص کام یابی ان کا مقدّر نہیں بنی تھی۔ نثار بزمی نے 1962ء میں پاکستان ہجرت کی تو جیسے قسمت کی دیوی ان پر مہربان ہوگئی۔ وہ اپنے عزیز و اقارب سے ملنے کے لیے کراچی آئے تھے اور کراچی کی گرم آغوش میں ان کے مقدر کا ستارہ چمکا  اور پھر وہ بھارت واپس نہیں جا سکے اور یہیں کے ہو رہے۔ پاکستان میں نثار بزمی نے فلم انڈسٹری کے لیے لازوال دھنیں تخلیق کیں۔


فلم ‘لاکھوں میں ایک’ کا مشہور گیت ’چلو اچھا ہوا تم بھول گئے‘ کی دھن نثار بزمی نے ترتیب دی تھی۔ اس کے علاوہ ‘اے بہارو گواہ رہنا، اک حسن کی دیوی سے مجھے پیار ہوا تھا، رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ، آپ دل کی انجمن میں حسن بن کر آ گئے، دل دھڑکے، میں تم سے یہ کیسے کہوں، کہتی ہے میری نظر شکریہ، کاٹے نہ کٹے رتیاں، سیاں تیرے پیار میں جیسے لازوال گیتوں کے اس موسیقار نے یہاں‌ عزّت، مقام و مرتبہ پایا۔ان کی ترتیب دی ہوئی دھنوں پر اپنے دور کے مشہور و معروف گلوکاروں نے اپنی آواز کا جادو جگایا۔ نوعمری ہی سے انھیں موسیقی سے لگاؤ پیدا ہوگیا تھا اور ان کا شوق اور موسیقی سے رغبت دیکھتے ہوئے والد نے انھیں استاد امان علی خان کے پاس بمبئی بھیج دیا جن سے انھوں نے اس فن کے اسرار و رموز سیکھے۔نثار بزمی نے آل انڈیا ریڈیو میں چند سال میوزک کمپوزر کی حیثیت سے کام کیا اور 1946ء میں فلم نگری سے موسیقار کے طور پر اپنا سفر شروع کیا، وہ تقسیم کے پندرہ برس تک ہندوستان کی فلم انڈسٹری سے وابستہ رہے اور پھر پاکستان آگئے جہاں اپنے فن کی بدولت بڑا نام اور مرتبہ پایا۔نثار بزمی نے طاہرہ سیّد، نیرہ نور، حمیرا چنا اور عالمگیر جیسے گلوکاروں کو فلمی دنیا میں آواز کا جادو جگانے کا موقع دیا۔ مختلف شعرا کے کلام پر دھنیں ترتیب دینے والے نثار بزمی خود بھی شاعر تھے۔ ان کا مجموعۂ کلام ’پھر سازِ صداخاموش ہوا‘ کے نام سے شایع ہوا۔حکومتِ‌ پاکستان نے نثار بزمی کو پرائیڈ آف پرفارمنس سے نوازا تھا  ۔


 اس سے قبل وہ آل انڈیا ریڈیو بمبئی پر بہ طور موسیقار ملازم بھی رہے۔ نثار بزمی ایک اعلیٰ پائے کے موسیقار تھے جو میعار پرسمجھوتہ نہیں کرتے تھے اور اس وجہ سے بڑا نقصان بھی اٹھاتے تھے۔انھوں نے فلم شمع اور پروانہ (1970) کا گیت:میں تیرا شہر چھوڑ جاؤں گا۔۔پہلے خانصاحب مہدی حسن سے گوایا تھا لیکن مطمئن نہیں ہوئے تھے۔ پھر وہی گیت گلوکار مجیب عالم سے گوایا تو ان کی کارکردگی سے اتنے خوش ہوئے تھے کہ ان سے فلم کے چھ گیت گوا لیے تھے۔نثار بزمی غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل موسیقار تھے۔ ان کی شاندار دھنوں کی بدولت کئی فلموں نے عدیم النظیر کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے پاکستان نیوی کیلئے ترانوں کی موسیقی بھی دی۔ انہوں نے شاعری بھی کی جو کتابی شکل میں دستاب ہے۔ ان کی شاعری کی کتاب کا عنوان ہے '' پھر ساز صدا خاموش ہوا ‘‘ ۔یہ ایک حقیقت ہے کہ نثار بزمی نے جن فلموں کا سنگیت دیا ان میںسے اکثرسپر ہٹ ہوئیں،جو فلمیں ناکام رہیںان کی موسیقی کو بھی پسند کیا گیا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جب وہ بھارت میں تھے تو مشہور موسیقاروں کی جوڑی لکشمی کانت پیارے لال ان سے موسیقی کے اسرارورموز سیکھتے تھے۔ 70ء کی دہائی کے آغاز میں رونا لیلیٰ کی آواز کا جادو سر چڑھ کر بولنے لگا۔


 دراصل یہ نثار بزمی تھے جنہوں نے رونا لیلیٰ کی تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کیا اور ان سے حیرت انگیز گیت گوائے۔نثار بزمی نے مشہور زمانہ فلم '' امر ائو جان ادا ‘‘ کا صرف ایک گیت میڈم نور جہاں سے گوایا باقی تمام نغمات رونا لیلیٰ سے گوائے۔ اس بارے میں وہ کہتے تھے میڈم نور جہاں نے جو گیت گایا وہ کوئی اور گلوکارہ گا ہی نہیں سکتی تھی۔اسی طرح رونا لیلیٰ نے ان کی موسیقی میں جو گیت ''انجمن‘‘ اور ''تہذیب‘‘ کیلئے گائے وہ بھی باکمال ہیں۔اسی طرح1972ء میں ریلیز ہونے والی فلم ''ناگ منی ‘‘ کے سارے نغمات بزمی صاحب نے میڈم نور جہاں سے گوائے۔ یہاں ان کو مؤقف یہ تھا کہ اس فلم کے تمام گیتوں کے لئے میڈم نورجہاں کا انتخاب ہی درست تھا کیونکہ یہ بڑے مشکل گیت تھے۔ہدایتکار حسن طارق کی بیشتر سپر ہٹ فلموں کا میوزک نثار بزمی نے دیا۔ 22 مارچ 2007ء کو نثار بزمی اس جہان فانی سے رخصت ہو گئے۔ اہل موسیقی انہیں کبھی نہیں بھول پائیں گے۔ ان کی آخری فلم ویری گڈ دنیا ویری بیڈ لوگ تھی جو 2000ء میں نمائش پذیر ہوئی تھی۔ نثار بزمی کو حکومت پاکستان نے صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔ وہ ایک خوش گو شاعر بھی تھے اور ان کا شعری مجموعہ پھر ساز صدا خاموش ہوا بھی شائع ہوچکا ہے۔ وہ شمالی کراچی میں قبرستان محمد شاہ میں آسودۂ خاک ہیں۔ 

 

اتوار، 18 جنوری، 2026

فرزند نبی (ص)امام نہم حضرت محمد تقی علیہ السلام

 


 اہل بیت   اطہار میں امامت کی منزل نہم پر  آپ  حضرت محمد بن علی رضا  علیہ السلام ہیں۔ آپ کا نام ’’محمد‘‘ ہے اور مشہور لقب ’’تقی‘‘ اور ’’جواد‘‘ ہے اسی وجہ سے آپ کو امام محمد تقی یا امام محمد جواد کہا جاتا ہے۔ آپ کی کنیت ابو جعفر ہے۔ تاریخ ومقام ولادت اور شہادت: آپ کی ولادت باسعادت سن195 ہجری میں ہوئی اور آپ نے سن220 ہجری میں 25سال کی عمر میں جام شہادت نوش کیا۔ آپ نے اپنے والد کے ساتھ 7سال زندگی گزاری اور اپنے والد کی شہادت کے بعد 18سال زندہ رہے۔ والدہ ماجدہ: آپ کی والدہ ام ولد ہیں کہ جن کا نام جناب سکن ہے۔ اولاد: شیخ مفید لکھتے ہیں کہ امام محمد تقی علیہ السلام کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں بیٹے امام علی نقی علیہ السلام اور موسی ہیں جبکہ بیٹیوں کے نام فاطمہ اور امامہ ہیں۔ مامون کے ساتھ: شیخ مفید لکھتے ہیں کہ جب مامون نے دیکھا کہ امام محمد تقی علیہ السلام کے کم سنی میں ہی ظاہر ہونے والے فضائل و مناقب، علم و دانائی، تہذیب و ادب اور عقل کے کمال میں اُس زمانے کا کوئی بھی شخص برابری نہیں کر سکتا تو اس کا دل امام محمد تقی علیہ السلام کے لیے ظاہری طور پر نرم ہو گیا اور اس نے اپنی بیٹی ام فضل کی شادی امام محمد تقی علیہ السلام سے کر دی اور اسے امام کے ساتھ ہی مدینہ بھیج دیا۔



 مامون ہمیشہ امام محمد تقی علیہ السلام کی بہت زیادہ تعظیم کرتا۔ عباسیوں نے مامون کو اپنی بیٹی کی شادی امام محمد تقی علیہ السلام سے کرنے سے روکا اور کہا: ہم تمہیں اللہ کا واسطہ دیتے ہیں جس کام کا تم نے ارادہ کیا ہے اسے نہ کرو، ہمیں ڈر ہے کہ کہیں حکومت ہمارے ہاتھ سے نہ نکل جائے اور ہمارے اور ابو طالب کی اولاد کے درمیان جو کچھ ہے اسے تم بخوبی جانتے ہو۔ مامون نے ان کے جواب میں کہا: جو اختلاف و دشمنی تمہارے اور ابوطالب کی اولاد میں ہے اس کا سبب تم خود ہو اگر تم انصاف سے کام لو تو وہ تم سے زیادہ افضل و اولی ہیں، میں نے محمد بن علی   علیہ السلام  کو اختیار کر لیا ہے کیونکہ وہ اپنی کم سنی کے باوجود تمام اہلِ علم و فضل سے برتر اور افضل ہے عنقریب وہ تمہارے سامنے آئے گا اور پھر تمہیں بھی معلوم ہو جائے گا کہ صحیح فیصلہ وہی ہے جو میں نے کیا ہے۔ عباسیوں نے کہا: وہ تو ابھی کافی چھوٹا ہے اس کے پاس علمی معرفت، فقہ اور سمجھ بوجھ نہیں ہے۔ مامون نے کہا: تمہاری بربادی ہو میں اُسے تم سے زیادہ جانتا ہوں، وہ اہل بیت میں سے ہے اور اہل بیت کا علم اللہ کی طرف سے عطا کردہ ہوتا ہے، اب تک اس کے آباء و اجداد دینی و ادبی علوم میں لوگوں سے بے نیاز ہیں اگر تم چاہتے ہو تو اس کا امتحان لے لو تاکہ تم پر بھی یہ بات واضح ہو جائے۔ عباسیوں نے کہا: ٹھیک ہے ہم اس بات پہ راضی ہیں۔


پھر عباسیوں نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ قاضی القضاۃ یعنی چیف جسٹس یحیی بن اکثم کو امام محمد تقی     علیہ السلام کے مقابلے میں لایا جائے۔ مقررہ دن عباسی اپنے قاضي القضاة يحيى بن اكثم کو مامون کے دربار میں لے آئے، جبکہ مامون کے ساتھ امام محمد تقی                     علیہ السلام  تشریف لائے، اس علمی مقابلے کو دیکھنے کے لیے دونوں کے گرد لوگوں کی بہت بڑی تعداد جمع تھی۔ یحیی بن اکثم نے امام محمد تقی   علیہ السلام سے پوچھا: احرام کی حالت میں شکار کرنے والے کا کیا کفارہ ہے؟ تو امام محمد تقی    علیہ السلام نے اس سے کہا: کیا اس نے حرم کے علاقے میں شکار کو مارا ہے یا حرم کے علاقہ سے باہر ایسا کیا ہے؟ کیا وہ احرام میں شکار کرنے کے حرام ہونے کو جانتا تھا یا اسے اس کا علم نہیں تھا؟ کیا اس نے جان بوجھ کر ارادی طور پر شکار کیا یا اس سے یہ کام غلطی سے ہو گیا؟ احرام میں شکار کرنے والا آزاد تھا یا کسی کا غلام تھا؟ کیا وہ کم سن تھا یا بڑا تھا؟ اس نے پہلی مرتبہ شکار کیا تھا یا بار بار شکار کر چکا تھا؟ شکار پرندہ تھا یا کو ئی اور جانور تھا؟ شکار چھوٹے پرندوں میں سے تھا یا وہ بڑا پرندہ تھا؟ شکار ی شکار کرنے پر مُصِر تھا یا اسے ایسا کرنے پہ شرمندگی تھی؟ اس نے یہ شکار رات میں کیا تھا یا دن میں؟ اس نے حج کے لیے احرام باندھا تھا یا عمرہ کے لیے؟ امام کی گفتگو سننے کے بعد یحییٰ کے ہوش اڑ گئے اُس نے اپنے ذہن میں کبھی اتنی شقیں نہیں سو چی تھیں وہ عاجز اورخاموش ہو گیا۔



 مجمع میں اللہ اکبر اور لا الہ الا اللہ کی آوازیں بلند ہونے لگیں، سب پر یہ آشکار ہو گیا کہ اللہ نے اہل بیت  کو علم و حکمت اور دانائی اسی طرح عطا کی ہے جس طرح اُس نے انبیاء اور رسولوں کو عطا کی تھی۔ یہ سب دیکھ کر مامون نے کہا:اِس نعمت اور توفیق پر خدا کی حمد وثنا ہے۔ پھر مامون نے اپنے خاندان والوں کی طرف متوجہ ہو کر کہا: کیا تمہیں اب اُس کی معرفت ہو گئی جس کا تم انکار کر رہے تھے ؟ عباسیوں نے کہا: تم نے جو فیصلہ کیا ہے اس کے بارے میں تم ہم سے زیادہ جانتے ہو۔ مامون نے کہا: یہ جو فضل و کمال تم دیکھ رہے ہو پوری مخلوق میں صرف اس گھرانہ کے افراد کو عطا کیا گیا ہے، ان کی کم سنی ان کے کمالات میں حائل نہیں ہوتی، رسول خدا  صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم                                نے حضرت علی  علیہ السلام  کو جب اسلام کی دعوت دی تو وہ دس سال کے تھے رسول خدا صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم    صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے حضرت علی  علیہ السلام سے ان کے اسلام کو قبول کیا اور ان کے لیے اسلام کا حکم لگایا، جس طرح سے حضرت علی   علیہ السلام  کو 
اس کم سنی میں اسلام کی دعوت دی گئی  

حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کی چند حدیثیں
امام أبو جعفر محمّد تقی الجواد بن علی بن موسی الرضا (علیہ السلام) نے فرمایا:
1۔ تین خصلتوں کی حاجت
"الْمُؤمِنُ يَحْتاجُ إلى ثَلاثِ خِصالٍ: تَوْفيقٍ مِنَ اللّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَواعِظٍ مِنْ نَفْسِهِ، وَقَبُولٍ مِمَّنْ يَنْصَحُهُ؛
مؤمن ہر حال میں تین خصلتوں کا محتاج ہے؛ توفیق اللہ کی جانب سے، واعظ اپنے اندر سے، اس شخص کی نصیحت و خیرخواہی قبول کرنا جو اس کو نصیحت کرے”۔
2۔ بھائیوں سے ملاقات
"مُلاقاةُ الإخوانِ نَشْرَةٌ، وَتَلْقيحٌ لِلْعَقْلِ وَإنْ كانَ نَزْرا قَليلا؛
ایمانی بھائیوں سے ملاقات دل کی طراوت اور نورانیت کا باعث اور عقل و درایت کی پھلنے پھولنے کا سبب ہے خواہ وہ مختصر ہی کیوں نہ ہو”۔
3۔ اشرار سے دور رہو
"إيّاكَ وَمُصاحَبَةُ الشَّريرِ، فَإنَّهُ كَالسَّيْفِ الْمَسْلُولِ، يَحْسُنُ مَنْظَرُهُ وَيَقْبَحُ أثَرُهُ؛
خیال رکھو شریر اور شرپسند افراد کی رفاقت و مصاحبت سے، کیونکہ یہ مصاحبت سونتی ہوئی تلوار کی مانند ہے جو بظاہر خوبصورت ہے لیکن اس کے اثرات قبیح اور خطرناک ہیں”۔

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

کہو دلہن بیگم ! ہمارا بھائ تمھیں کیسا لگا

  میں سہاگن بنی مگر    !نگین دلہن بنی مثل ایک زندہ لاش کے سر جھکائے بیٹھی تھی اس نے آج کے دن کے لئے بڑی آپا کے اور منجھلی آپا کے سمجھانے سے ...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر