اتوار، 26 اپریل، 2026

بابائے جدید طبیعیات ( گلیلیوگلیلی)حصہ دوم

 


گلیلیو نے 1634ء اپنی اجرام فلکی سے متعلق  کتاب  کیا شائع کی تو سارا ملک اس کے خلاف ہو گیا اور روم کی مذہبی عدالت میں اس پر مقدمہ چلایا گیا۔  اس نے ستاروں کے علم کا مزید مطالعہ کیا اور اپنے دوستوں کو بتایا کہ نظام شمسی کا مرکز آفتاب ہے1607 میں نیدر لینڈ کے ایک چشمے کے لینس کاریگر ہانس لپرہے نے جب دو لینس ایک دفتی کے ٹیوب میں رکھے تو اس نے یہ دیکھا کے اس کی مدد سے دور کی چیزیں بڑی اور پاس دکھائی دیتی ہیں۔ جلد ہی یہ پہلی دوربین بچوں کے کھلونے کی شکل میں یورپ کے شہروں میں بازاروں اور میلوں میں مقبول ہونے لگی، خاص طور پر فرانس میں۔1609 میں جب گیلیلیو نے اس کھلونے کے بارے میں سنا تو اس کو اس کی اہمیت کا احساس ہوا اور اس نے فوراً ہی اس کو بجائے زمین پر دور کی چیزوں کو دیکھنے کے اس کا رخ آسمان کی طرف کیا جو آج تک کسی نے نہیں کیا تھا۔ یہ کائنات میں انسان اور ہماری زمین سے مطابق ہماری سمجھ میں آنے والے ایک زبردست انقلاب کی شروعات تھی۔سب سے پہلے گیلیلیو نے اپنے اس نئے کھلونے کا رخ چاند کی طرف کیا تو اس نے یہ پایا کہ چاند کی سطح اوبڑ کھابڑ ہے کہیں گڈھے ہیں تو کہیں چھوٹی پہاڑیاں اور بڑے پہاڑ ہیں۔ارسطو کے نظریہ کے مطابق ہماری زمین اٹل ہے اور سورج ، چاند ، سیارے اور ستارے اس کے گر د چکر لگاتے ہیں ۔ اس سمجھ کو عیسائی چرچ کی پر زور حمایت حاصل تھی اور یہ یورپ کی مکمل سمجھ کا صدیوں تک حصہ رہی ۔ اس سمجھ کو پہلا سخت چیلنج سولہویں صدی میں ’کوپرنیکس‘ نے کیا۔ اس نے مشاہدہ کی بنیاد پر یہ کہا کہ اصل میں سارے سیار ے (مع ہماری زمین) سورج کے چاروں طرف چکر لگاتے ہیں ۔ارسطو کے حرکت کے بارے میں فلسفہ کو پوری طرح غلط ثابت کرنے کا اصل سہرا گیلیلیو کے سر ہی جاتا ہے۔ گیلیلیو ایک ریاضی داں ، فلسفی تھا اور فلورینس کے بادشاہ کا مشیر خاص تھا۔ 


اس نے نہ صرف ریاضی کی لیاقت کا استعمال کیا بلکہ بڑی ہوشیاری کے ساتھ تجربات بھی کئے۔اس کی مشہور کتاب (Dialogue Concerning the Two Chief World Systems) نہایت دلچسپ طریقہ سے دو لوگوں کی بات چیت کی شکل میں سائنسی دلائل کے استعمال کی بہترین مثال ہے۔ اس کتاب میں اس نے دلیلوں کی مدد سے ارسطو کی سمجھ کو ہمیشہ کے لئے غلط ثابت کردیا اور سائنسی سمجھ کی بنیاد کو شاید پہلی بار مشاہدوں کی کسوٹی پر پرکھنے کا طریقہ رائج کیا۔گلیلیو کایہ کہنا کہ زمین سورج کے چاروں طرف گھومتی ہے چرچ کو بہت ہی ناگوار گزرا جس کے نتیجہ میں اس کو نظر بند کر دیا گیا ۔ چرچ کو اپنی غلطی ماننے میں تقریباً 400 سال لگے۔ارسطو کا ماننا تھا کہ حرکت کے لئے مستقل قوت کی ضرورت ہوتی ہے۔ گلیلیو صحیح معنی میں حرکت اور قوت کے رشتہ کو سمجھ پایا۔ اس نے تجربہ کرکے یہ دکھایا کہ قوت صرف حرکت میں تبدیلی کے لئے ضروری ہوتی ہے اور اگر قوت کا استعمال نہ ہوتا تو حرکت کرنے والی چیز کی رفتار میں کوئی تبدیلی نہ ہوگی۔ لیکن کتنی قوت سے رفتار میں کتنی تبدیلی ہوگی یہ تب معلوم ہوا جب1687 میں نیوٹن کی کتاب (The Mathematical Principle of Natural Philosophy) منظر عام پر آئی۔ اس کتاب میں حرکت کو سمجھنے اور ناپنے کے تین مقولوں نے ساری سمجھ کو صاف کردیا۔ اس کے اس مشاہدے سے یہ بھرم ٹوٹ گیا کہ آسمانی چیزیں کسی ایسی خاص مادہ سے نہیں بنی ہیں جو ہم اپنی زمین پر ہر جگہ دیکھتے ہیں۔


اس نے پھر دوربین کو اپنی کہکشاں (Miley Way) کو دیکھنے کے لئے استعمال کیا۔ اس وقت یہ خیال تھا کہ یہ کہکشاں آسمان میں پھیلے ہوئے ایک بادل کی طرح ہے۔ دوربین سے دیکھنے کے بعد اس نے یہ پایا کہ بجائے ایک بادل کے اس کہکشاں میں کروڑوں ستارے ہیں۔گیلیلیو کو سب سے زیادہ حیرت انگیز چیز دکھائی دی جب اس نے اپنی دوربین کا رخ جوپیٹر (عطارو) کی طرف کیا۔ اس وقت تک فلکیاتی سائنسداں جوپیٹر کو ایک آوارہ سیارہ کے نام سے جانتےتھے اور آسمان میں اس کے چلنے کے راستہ کو اچھی طرح سمجھنے میں کافی دشواریاں تھیں اور ایسا لگتا تھا کہ یہ سیارہ کچھ اپنی مرضی سے گھوم رہا ہے۔گیلیلیو حیرت میں پڑ گیا جب اس نے دوربین سے جوپیٹر کے پاس تین چھوٹے کالے نقطے دیکھے۔ شروع میں اس نے سوچا کہ شائد یہ کچھ نئے ستارے ہیں جن سے کسی وجہ سے روشنی نہیں آرہی ہے۔ کچھ دن اور انتظار کرنے کے بعد جب اس نے دوبارہ دوربین سے دیکھا تو اس مرتبہ تین کے بجائے چار چھوٹے نقطے کچھ اپنی جگہ سے ہٹے دکھائی دیئے اس مشاہدے کے بعد گیلیلیو فوراً ہی سمجھ گیا کہ یہ چار نقطے اصل میں جوپیٹر کے چاند ہیں جو اس کے چاروں طرف چکر لگا رہیں ہیں۔ اس دریافت کے اس زمانے میں بڑے دور رس نتائج تھے۔ یہ ثابت ہوا کہ جس طرح ہماری زمین کے گِرد ایک چاند چکر لگا رہا ہے ویسے اور سیاروں کے گرد بھی ان کے چاند چکر لگا رہے ہیں۔ یعنی کائنات میں ہماری زمین کی کوئی خاص جگہ نہیں ہے کہ ہر چیز اس کے گرد چکر لگائے  ۔



یہ سوچ کہ سارا علم پرانی کتابوں میں موجود ہے سائنسی مشاہدوں نے بار بار غلط ثابت کیا ہے کہ سارے سیارے سورج کے گرد چکر لگا رہے ہیں یہ سمجھ اور مستحکم ہوئی جب گیلیلیو نے اپنی دوربین کا رخ وینس (زہرہ) کی طرف کیا۔ اس نے یہ دیکھا کہ بالکل جس طرح ہمارے چاند کا روشن حصہ مہینہ بھر میں بدلتا ہے ویسے ہی زہرہ کا روشن حصہ وقت کے ساتھ بدلتا ہے۔ جیسے چاند کی پہلی تاریخ سے چودہ تاریخ تک چاند کا روشن زیادہ ہوتا ہوا روشن حصہ دکھائی دیتا ہے اور اس کے بعد پھر چاند سے آنے والی روشنی غائب ہو جاتی ہے اسی طرح زہرہ (وینس) کا روشن حصہ وقت کے ساتھ بدلتا ہے صرف فرق یہ کہ زہرہ کے روشن حصہ میں بدلاؤ پورے ایک سال میں ہوتا ہے۔ ان مشاہدوں نے یہ ثابت کردیا کہ سارے سیارے سورج کے گرد چکر لگا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ گیلیلیو نے یہ بھی ثابت کیا کہ زہرہ (وینس) زمین اور سورج کے بیچ میں ہے۔یہ ساری حیرت انگیز دریافت ایک معمولی سے دفتی کے سلینڈر میں دورلینس کی دوربین سے ہے۔اب بھی بہت چیزیں دریافت ہونے کے انتظار میں ہیں صرف اپنے اندھے اعتقادوں کو چھوڑنے کی ضرورت ہے۔گلیلیو (انگریزی: Galileo) ایک اطالوی ماہر فلکیات اور فلسفی تھا۔ سائنسی انقلاب پیدا کرنے میں گیلیو کا کردار اہم ہے۔ وہ شاقول اور دوربین كا نامور موجد ہے- گالی لیو نے اشیا کی حرکات، دوربین، فلکیات کے بارے میں بیش قیمت معلومات فراہم کیں۔ اسے جدید طبیعیات کا باپ کہا جاتا ہے۔

ہفتہ، 18 اپریل، 2026

اطالوی ماہر طبیعات گلیلیو گلیلی

 

 مشہور اطالوی سائنسدان گلیلیو گلیلی              جب         سترہ سال کا نوجوان طالب علم تھا  ایک شام  اٹلی کے مقام پیسا کے ایک گرجا میں کھڑا چھت سے لٹکے ہوئے ایک لیمپ پر نظریں جمائے ہوئے تھا۔ ہوا چل رہی تھی۔ لیمپ ہوا سے جھول رہا تھا، کبھی کم کبھی زیادہ۔ ہزاروں آدمیوں نے اس سے پہلے لیمپ کو اسی طرح جھولتے دیکھا ہو گا، لیکن کسی نے اس سائنسی اصول کی طرف توجہ نہیں دی تھی جو سادہ مثال کی حرکت میں چھپا تھا۔وہ دیکھتا رہا اورغور کرتا رہا  اور پھر  اپنی دوربین         سے فلکیات میں انقلاب برپا کیا جب اس نے 17ویں صدی کے اوائل میں بیرونی اجسام کے مطالعہ کے لیے دوربین کا استعمال کیا۔ اس وقت تک اس مقصد کے لیے میگنیفیکیشن کے آلات استعمال نہیں کیے گئے تھے۔ گیلیلیو کے اہم کام کے بعد سے، دنیا میں تیزی سے زیادہ طاقتور نظری دوربینیں تیار کی گئی ہیں، جیسا کہ برقی مقناطیسی طیف کے ہر علاقے میں تابکاری کا پتہ لگانے اور اس کی پیمائش کرنے کے قابل آلات کی ایک وسیع صف ہے۔ مختلف قسم کے معاون آلات (مثلاً کیمرہ، سپیکٹروگراف، اور چارج کپلڈ ڈیوائس) کی ایجاد اور ٹیلی سکوپ سسٹم کے ساتھ مل کر الیکٹرانک کمپیوٹر، راکٹ اور خلائی جہاز کے استعمال سے مشاہداتی صلاحیت کو مزید بڑھایا گیا ہے۔ ان پیش رفتوں نے نظام شمسی، آکاشگنگا کہکشاں، اور مجموعی طور پر کائنات کے بارے میں سائنسی علم میں پیشرفت میں ڈرامائی طور پر تعاون کیا ہے۔،


 نے 1609ء میں اس ڈیزائن کو بہتر بنا کر پہلی بار فلکیاتی مشاہدات کے لیے استعمال کیا، جس کی وجہ سے اکثر انہیں دوربین کا موجد سمجھا جاتا ہے۔ دیکھا گیا  کہ جو  جو لوگ اپنے کام سے لگن رکھتے ہیں    ان کی زندگی شروع ہی سے عام لوگوں سے کچھ مختلف ہوتی ہے۔ ان کی طبیعت میں کھوج اور تجسس کا مادہ شروع سے موجود ہوتا ہے۔ اس ہونہار طالب علم کا نام گلیلیو تھا۔اس زمانے میں گھڑیاں تو تھیں نہیں اور یہ طالب علم اس جھولتے ہوئے لیمپ کا وقفہ معلوم کرنا چاہتا تھا۔ اس نے گھڑی کا کام اپنی نبض سے لیا اور یہ معلوم کیا کہ لیمپ خواہ زیادہ جھول رہا ہو یا کم اس کی ایک حرکت میں یکساں وقت لگتا ہے۔ وجہ ظاہر ہے جسم جب زیادہ فاصلہ طے کرتا ہے تو اس کی رفتار بھی زیادہ ہوتی ہے اور جب وہ کم فاصلہ طے کرتا ہے تو اس کی رفتار بھی کم ہوتی ہے۔ پس ایک حرکت کا وقفہ برابر ہی رہتا ہے۔ یہ تجربہ اور اس کا اصول بظاہر سادہ معلوم ہوتا ہے لیکن آج ہماری زندگی میں اس کی بڑی اہمیت ہے۔ اب بھی پینڈولم والے کلاک کہیں کہیں نظر آ جاتے ہیں۔ پینڈولم کا فائدہ یہ ہے کہ کلاک اس کی مدد سے وقت صحیح دیتے ہیں۔لیلیو جس وقت ان باتوں پر غور کر رہا تھا، اس وقت اس کی عمر صرف سترہ برس تھی۔ اس کا دریافت کیا ہوا اصول آج بھی موجود ہے اور ہمارے کام آتا ہے۔


 گلیلیو اٹلی کے شہر پیسا میں پیدا ہوا۔ اس کا باپ ایک قابل ریاضی دان تھا۔ وہ اپنے بیٹے کو تاجر بنانا چاہتا تھا۔ لیکن گلیلیو کو کاروبار سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔ وہ علم حاصل کرنا چاہتا تھا۔ لہٰذا اسے پیسا کی یونیورسٹی میں داخل کرا دیا گیا۔ طالب علمی کے زمانے میں ہی اس نے ان اصولوں کی مخالفت شروع کر دی جو ایک ہزار سال سے مشہور چلے آ رہے تھے اور جنہیں قدیم یونانی فلسفیوں نے وضع کیا تھا۔جلد ہی اس نے ریاضی میں اتنا نام پیدا کیا کہ اسے اسی یونیورسٹی میں پروفیسر کا عہدہ مل گیا۔بات دراصل یہ تھی کہ اس زمانے کے تمام سائنس دان قدیم یونانی فلسفی ارسطو کو اپنا استاد مانتے تھے۔ ارسطو نے ایک اصول وضع کیا تھا کہ اگر سو پونڈ اور ایک پونڈ کے دو وزنی جسم ایک ساتھ ایک ہی اونچائی سے نیچے گرائے جائے تو سو پونڈ والا جسم ایک پونڈ والے جسم کے مقابلے میں سو گنا زیادہ تیزی سے زمین پر گرے گا۔ گلیلیو نے یہ قانون غلط ثابت کر دکھایا اور لوگوں کو بتایا کہ ایک ہی شکل اور حجم کے دو جسم بلندی سے ایک ساتھ گریں گے خواہ ان کا وزن کچھ بھی ہو۔ 1602ء میں گلیلیو نے ایک تھرمامیٹر ایجاد کیا لیکن اس کی زیادہ شہرت اس دوربین کی وجہ سے ہوئی جو دن رات کی محنت سے تیار کی اور جو بائیس میل دور تک کی چیزوں کو بڑھا چڑھا کر دکھا سکتی تھی۔کچھ اور تحقیق اور تجربے کے بعد گلیلیو نے ایک ایسی دوربین بنائی جو اجرام فلکی کے مشاہدے کے کام آ سکتی تھی۔ اس نے اس کا رخ چاند کی طرف پھیرا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ چاند پر ہماری زمین کی طرح پہاڑ اور ریگستان موجود ہیں۔


 قدیم ہیئت دان ان کو سمندر سمجھتے تھے۔ یہ تو زمین آسمان کا فرق نکل آیا۔ گلیلیو نے معلوم کیا کہ کہکشائیں بہت سے ستاروں کا مجموعہ ہیں۔ اس کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ اس نے نتائج کی پروا کیے بغیر قدیم خیالات کی مخالفت کی کیونکہ وہ ان کو غلط سمجھتا تھا۔ اس وقت لوگوں کو یہ بتایا جاتا تھا کائنات کا مرکز زمین ہے اور سورج ہماری زمین کے گرد گھومتا ہےگلیلیو نے کہا زمین تو صرف ایک سیارہ ہے وہ دوسرے سیاروں کی طرح سورج کے گرد گھومتی ہے۔ لوگوں نے یہ بات سنی تو ان کے غصے کی حد نہ رہی۔ وہ سمجھے کہ گلیلیو ان کے قدیم مذہبی اعتقادات سے کھیلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے گلیلیو کو مذہبی رہنماؤں کا دشمن بنا دیا۔ گلیلیو خود روم گیا اور بات صاف کی۔ 1611ء میں گلیلیو نے روم میں یہ اعلان کر ڈالا کہ سورج کی سطح پر سیاہ داغ ہیں۔ اب اس کے دشمنوں کو نیا بہانہ مل گیا۔ مذہبی عدالت نے گلیلیو کو تنبیہ کر دی۔ بے چارہ چند روز خاموش رہا۔ اب وہ بوڑھا ہو گیا تھا اور بیمار بھی رہنے لگا تھا۔ لیکن اس کی ایجادات کا سلسلہ جاری رہا۔ اس نے خوردبین بھی ایجاد کی جو بعد میں طبی سائنس کی ترقی کا سبب بن گئی۔

ہفتہ، 4 اپریل، 2026

ایران کی ایک عالی دما غ مقناطیسی شخصیت 'علی ارد شیرلاریجانی

 

علی اردشیر لاریجانی (3 جون 1958– 17 مارچ 2026ء)، ایران کے ایک قدامت پسند سیاست دان، فلسفی اور سابق فوجی افسر تھے۔وہ قُم کے حلقہ انتخاب سے منتخب ہوئے اور 12 جون 2008 سے مجلس شورائ اسلامی ایران کے سپیکر رہے تھے۔مارچ 2016 میں مجلس شورائی اسلامی ایران کے دسویں دور کے انتخابات میں قُم سے دوسری بار منتخب ہوئے۔ وہ اسلامی جمہوریہ ایران کے نشریاتی ادارے کے سربراہ، وزیر ثقافت و اسلامی راہنمائی اور سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سیکریٹری بھی رہ چکے ہیں۔علی لاریجانی: ’فلسفی‘ سے ایران کی طاقتور ترین شخصیت تکلاریجانی ایک ہی وقت میں دانشور، سخت گیر قانون ساز اور پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر تھے۔ ان کے قتل کے بعد ایران کی جنگی حکمت عملی کیا رخ اختیار کرے گی؟ایران کے طاقتور ترین خاندانوں میں سے ایک سے تعلق رکھنے والے علی لاریجانی ایرانی سیاست کا ایک ایسا نام تھے جو گذشتہ تین دہائیوں سے طاقت کے ایوانوں میں مسلسل موجود رہے-علی لاریجانی کی طاقت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ جنوری 2026 میں منتخب صدر مسعود پزشکیان نے کابینہ اجلاس میں تسلیم کیا تھا کہ انٹرنیٹ پابندیاں ہٹوانے کے لیے انہیں لاریجانی سے اپیل کرنی پڑتی ہے۔ان کا پورا نام علی اردشیر لاریجانی تھا اور وہ ہر فن مولا شخص تھے۔ انہوں نے مشہور جرمن فلسفی امانوئل کانٹ پر کتاب لکھی، اس کے ساتھ ہی انہوں نے پاسداران انقلاب میں اہم عہدوں پر کام کیا۔ وہ پارلیمان کی سپیکر شپ سے لے کر جوہری مذاکرات تک ہر محاذ پر موجود رہے


۔وہ اسرائیلی حملے میں قتل ہونے سے قبل سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری کی حیثیت سے ایرانی کی سب سے طاقتور شخصیات میں سے ایک تھے۔ان کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ منتخب صدر مسعود پزشکیان کی بجائے عملی طور پر ایران کی روزمرہ حکومت چلا رہے تھے۔تین جون 1958 کو پیدا ہونے والے علی لاریجانی کا تعلق ایران کی مذہبی اور سیاسی اشرافیہ سے ہے۔ والد آیت اللہ میرزا ہاشم آملی ایک معروف عالم دین تھے جو 1931 میں رضا شاہ کے دباؤ کی وجہ سے نجف چلے گئے تھے، لیکن 1961 میں ایران واپس آئےلاریجانی خاندان ایران میں طاقت کا مترادف ہے۔ ان کے بھائی صادق لاریجانی عدلیہ کے سابق سربراہ رہے۔ دوسرے بھائی محمد جواد اور باقر لاریجانی نے بھی اعلیٰ مذہبی اور تعلیمی عہدے سنبھالے۔ لاریجانی خود آیت اللہ مرتضیٰ مطہری کے داماد تھے، جب کہ مطہری ایران کے 1979 کے انقلاب کے نظریاتی بانیوں میں سے ایک تھے۔ایران کی سلامتی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی کی موت کی تصدیقکی-ایران میں اس وقت انچارج کون ہے، نیا سپریم لیڈر کون ہوسکتا ہے؟۔انہی خاندانی روابط کی بنا پر لاریجانی نے ایرانی معاشرے کے دو طاقتور ترین مراکز میں اہمیت حاصل کی، ایک طرف وہ علما کے قریب تھے جب کہ دوسری جانب پاسداران سے بھی ان کے گہرے تعلقات تھے، جب کہ بیوروکریسی میں ان کے حامی موجود تھے۔فلسفی سپاہی-لاریجانی کی شخصیت کا سب سے دلچسپ پہلو ان کا تعلیمی سفر ہے۔ انہوں نے قم کے مدرسے سے روایتی مذہبی تعلیم حاصل کی، لیکن ساتھ ہی آریامہر یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی سے کمپیوٹر سائنس اور ریاضی میں بیچلرز کی ڈگری لی۔اس کے بعد انہوں نے تہران یونیورسٹی سے مغربی فلسفے میں پی ایچ ڈی کی۔


 ان کی تحقیق کا موضوع امانوئل کانٹ، ساؤل کرپکے، اور ڈیوڈ لیوس تھے۔ لاریجانی نے ان فلسفیوں پر کتابیں لکھیں، اور تہران یونیورسٹی میں ادب اور انسانیت کے شعبے میں تدریس بھی کی۔ یہ وہ دور تھا جب وہ بیک وقت ایک اکیڈمک اور پاسداران انقلاب کے کمانڈر تھے۔سیاسی سفر-لاریجانی کا سیاسی سفر انقلاب کے فوراً بعد شروع ہوا۔ پہلے محنت و سماجی امور کے نائب وزیر، پھر انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کے نائب وزیر مقرر ہوئے۔ 1994 میں انہیں اسلامی جمہوریہ ایران براڈکاسٹنگ کا سربراہ بنایا گیا۔ ایک ایسا عہدہ جو ایران میں انتہائی طاقتور سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ عوامی رائے کو تشکیل دیتا ہے۔اس عہدے پر دس سال تک 2004 تک لاریجانی نے ایران کی میڈیا پالیسی کو کنٹرول کیا۔2004  میں لاریجانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے سکیورٹی مشیر بنے، کہا جاتا ہے کہ انہیں خامنہ ای کا مکمل اعتماد حاصل تھا۔2005  میں صدر احمدی نژاد نے انہیں سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا سیکرٹری مقرر کیا اور لاریجانی نے مغرب کے ساتھ جوہری مذاکرات کی سربراہی سنبھالی۔


 یہ وہ دور تھا جب ایران کے جوہری پروگرام پر دنیا کی نظریں تھیں اور لاریجانی نے تکنیکی علم اور سفارتی مہارت دونوں کا مظاہرہ کیا۔لیکن احمدی نژاد کے ساتھ پالیسی اختلافات کی بنا پر 2007 میں لاریجانی نے استعفیٰ دے دیا۔2008 میں لاریجانی ایران کی پارلیمنٹ (مجلس) کے سپیکر منتخب ہوئے اور مسلسل 12 سال اس عہدے پر رہے۔ اس دوران انہوں نے مختلف دھڑوں میں توازن برقرار رکھا، اور خود کو ایک تجربہ کار قانون ساز کے طور پر ثابت کیا۔اس دوران لاریجانی کو ’قدامت پسند سے اعتدال پسند‘ کی طرف بڑھنے والے سیاست دان کے طور پر دیکھا جانے لگا۔ 2016 کے پارلیمانی انتخابات میں اصلاح پسندوں کی تحریک نے انہیں سپورٹ کیا، حالانکہ وہ خود کو ’آزاد امیدوار‘ کہتے رہے۔میں اسرائیلی حملے میں مارے جانے والے ایران کے چیف سکیورٹی افسر علی لاریجانی اور بسیج فورس کے کمانڈر غلام سلیمانی کے جنازے میں ہزاروں افراد شریک ہوئے۔

تحریر انٹر نیٹ سے لی گئ ہے 

منگل، 31 مارچ، 2026

عظیم جراح اور طبیب ابوالقاسم خلف ابن العباس الزہراوی

 اسپین کےجنوبی علاقہ  اندلس کے مردم خیز خطے                 اورقرطبہ کے شمال   میں شہر الزہرا میں    پیدا ہونے والے  عظیم تر جراح اور طبیب                       ابوالقاسم خلف ابن العباس  الزہراوی                مانے جاتے ہیں جن کی جراحی کا شہرہ گزرے  ہوئے کل میں بھی تھا اور آج بھی  ہے، ان کا زمانہ اندلس میں چوتھی صدی ہجری (دسویں صدی عیسوی) ہے، ان کی زندگی جلیل القدر کارناموں سے بھرپور ہے جس کے نتیجے میں قیمتی آثار چھوڑے، وہ عبد الرحمن سوم الناصر کے طبیبِ خاص تھے، پھر ان کے بیٹے الحکم دوم المستنصر کے طبیبِ خاص ہوئے، ۔  ان کی سب سے بڑی تصنیف “التصریف لمن عجز عن التالیف” ہے جو کئی زبانوں میں ترجمہ ہوکر کئی بار شائع ہو چکی ہے۔دنیائے اسلام میں ایسے ایسے نامور مسلم سائنسدان ، فلسفی ، موجد اور طبیب وغیرہ پیدا ہوئے ہیں کہ جو روشنی کے مینارے ہیں۔ جن کے کارناموں ، ایجادات نظریات سے آج بھی استفادہ حاصل کیا جاتا ہے۔الزہراوی جنھیں سرجری یعنی جراحت کے پیشے کا باوا آدم کہا اور مانا جاتا ہے ۔ ایک مسلم سائنسدان مصنف ، موجد ، جراح اور طبیب تھے- انھوں نے بہت سے آلاتِ جراحی ایجاد کئےاسی لیئے یہ موجد بھی ہیں۔ ان کے ایجاد کردہ آلاتِ جراحی کی تصاویر ان کی کتابوں میں موجود ہیں۔ اسی لیئے الزہراوی علم جراحت کے بانی کہلاتے ہیں۔زہراوی کی علمی طبّی کاوشوں کا یورپ کے طبّی مدارس میں بہت گہرا اثر رہا ہے ان کی کتابوں کا کئی یورپی زبانوں میں ترجمہ کیا جا چکا ہے ۔ ان کی کتابوں کو یورپی یونیورسٹیوں میں سر جری کے طالب علموں کو بطورِ نصاب بھی پڑھایا جاتا رہا ہے اور حوالے کی کتاب (ریفرنس بک ) کے طور پر بھی یہ کتابیں شاملِ نصاب رہی ہیں-


ابوالقاسم نے نہایت عمدہ اسلامی اور علمی ماحول میں آنکھ کھولی اور اپنے زمانے کی بہترین یونی ورسٹی میں علم حاصل کیا۔ بڑے بڑے شفاخانوں میں اس نے جراحی میں کمال پیدا کیا۔ ابوالقاسم کے زمانے میں مسلمان اس فن میں ماہر تھے اور ہسپتال میں انسان کے بدن کی تشریح سکھانے اور جراحی میں ماہر بنانے کے لیے طالب علموں کو لاشوں کی چیرپھاڑ کی مشق بھی کرائی جاتی تھی، جیسے آج کل میڈیکل کالجوں میں کرائی جاتی ہے۔ ان میں         بیان کردہ کئی اوزار آج بھی ہسپتالوں میں استعمال ہورہے ہیں جب کہ طبابت کا علم سائنس کے زور سے بہت ترقی کر چکا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ ڈاکٹروں کو سرجری میں جو رتبہ حاصل ہو اہے، وہ ابوالقاسم اور ایسے ہی دوسرے عربی اطبا کا طفیل ہے۔ انگریز دانش وروں نے بھی ابوالقاسم کی تعریف کی ہے۔ وہ اس بات کو مانتے ہیں کہ انہوں نے شروع میں سے بہت کچھ سیکھا اور جراحی کی کتاب سے خوب روشنی حاصل کی۔1368ء میں ابوالقاسم کی سرجری یورپ میں خوب مشہور ہو چکی تھی۔ ان کا تعلق اندلس سے تھا جسے اسلام کی سیاسی، سماجی اور ثقافتی تاریخ میں بڑا مقام اور اہمیت حاصل رہی ہے۔اس مسلمان سائنس داں کو قرطبہ کے شمال مغرب میں امویوں بسائے گئے شہر الزہراء سے نسبت رکھنے کے سبب الزہراوی کہا جاتا ہے۔محققین کے مطابق وہ عبد الرّحمن سوم الناصر کے طبیبِ خاص تھے اور بعد میں ان کے بیٹے الحکم دوم المستنصر کے طبیبِ خاص مقرر ہوئے۔ الزہراوی کی زندگی کے حقائق اور تفصیلات بہت کم معلوم ہوئے ہیں، لیکن ان کی اہم تصانیف میں ان کی کتاب “الزہراوی” ہے جب کہ ابوالقاسم کی کتاب التصریف برسوں تک یورپ کی یونیورسٹیوں میں پڑھائی گئی خاص طور پر اٹلی میں اس کو بڑی لگن اورتوجہ سے پڑھایا گیا۔ یہ کتاب پہلی بار 1497ء میں لاطینی زبان میں وینس میں چھاپی گئی، پھر 1500ء میں لوکے ٹس میں چھپی، اس کے بعد 1541 میں سٹرس برگ میں اور پانچ سال بعد باسل میں چھاپی گئی۔ اس کی شرحیں بھی لکھی گئیں۔ ابوالقاسم نے اس کتاب کے علاوہ بھی طب پر کئی کتابیں لکھیں ۔ اب ان کے لاطینی ترجمے یورپی لائبریریوں میں مل سکتے ہیں۔

 

 


الزہراوی نے فن ِجراحت( سرجری) کے کئی طریقوں کو ایجاد کیا ، ان کی تکنیک ، اور آلاتِ جراحی ایجاد کئے ۔موجودہ دور میں بھی ان کے آلاتِ جراحی کے نمونوں سے دنیا آج بھی مُستفید ہورہی ہے۔الزہراوی نہ صرف جراح تھے بلکہ عظیم طبیب بھی تھے-آپ نے آنکھوں کے موتیا ، مختلف امراضِ چشم ،حلق، دانت، مسوڑھے، جبڑہ ، زبان، اور ہڈیوں کے ٹوٹنے اور ہڈیوں کےاُکھڑنے اور گردوں اور سر وغیرہ کے باے میں تفصیلا ًبیان کیاہے۔ فنِ جراحی میں انھوں نے پتھری نکالنے کا طریقہ بھی بیان کیاہے جو میڈیکل سا ئنس میں جدید طریقہ سمجھا جاتا ہے ۔دانت کی دوبارہ تنصیب دانتوں کی تراش ان ہی کا کا میاب جراحی عمل ہےانھوں نے اپنی کتا بوں میں طب، خاص کر علمِ جراحت ،علم الادویہ اور صحت پر بحث کی ہے ۔ان کی تصانیف میں ایک مشہور کتاب “ الزہراوی ” ہے جبکہ ان کی ایک اور قابلِ ستائش تصنیف “التصریف لمن عجز عن التالیف” ہے جس کا کئی زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔انھوں نے ہی تصاویر کی مدد سے آلاتِ جراحی کی ساخت ، شکل کو بیان کیا اور اپنی کتابوں میں درج کیا ہے اور اُن کا استعمال بھی بتایا ہے اور اسی لیےسرجری یعنی علمِ جراحی میں انکا بڑا نام ہے۔ ابو القاسم الزہراوی "قرون ِ وسطیٰ کے متعدد بار حوالہ شد جراحی نمائندہ" کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ڈونلڈ کیمپ بیل، عرب ادویات کے تاریخ دان، یورپ میں الزہراوی کی مقبولیت کو یوں بیان کرتے ہیں:"یورپ کے طبی نظام پر ابو القاسم کا بڑا اثر یہ تھا کہ اس کے قابلِ فہم انداز اور پیش کرنے کے طریقے نے مغرب کے علما میں عربی ادب کی حمایت میں احساس اجاگر کیا:



 ابو القاسم کے طریقوں نے گیلن کے طریقوں کو گرہن لگا دیا اور پانچ سو سال تک طبی یورپ میں نمایاں حیثیت برقرار رکھی، حتیٰ کہ اس کے فائدہ مند نہ ہونے کے بعد بھی یہ اہم مقام رکھتے ہیں۔ تاہم، اس نے عیسائی یورپ میں جراحت کے معیار کو بڑھانے میں مدد کی  ہڈیوں کے چٹخنے اور جوڑنے پر اپنی کتاب میں، وہ بیان کرتا ہے کہ "جراحت کا یہ حصہ بے ہودہ اور غیرتہذیب یافتہ اذہان کے ہاتھوں میں چلا گیا ہے، اسی وجہ سے یہ حقارت میں شمار کیا جاتا ہے۔"الزہراوی نے ناسور کے علاج کے لیے ایک آلہ دریافت کیا اور بہت سارے امراض کا استری سے علاج کیا، زہراوی وہ پہلے طبیب تھے جنھوں نے “ہیموفیلیا” نہ صرف دریافت کیا بلکہ اس کی تفصیل بھی لکھی                           زہراوی کا یورپ میں بڑا عظیم اثر رہا، ان کی کتب کا یورپ کی بہت ساری زبانوں میں ترجمہ کیا گیا اور یورپ کی طبی یونیورسٹیوں میں پڑھائی جاتی رہیں، یورپ کے جراحوں نے ان سے خوب استفادہ کیا اور ان سے اقتباس بھی کیا، حتی کہ بعض اوقات بغیر حوالہ دیے ان کی دریافتیں اپنے نام منسوب کر لیں، ان کی کتاب “الزہراوی” پندرہویں صدی عیسوی کے شروع سے لے کر اٹھارویں صدی عیسوی کے اواخر تک یورپ کے اطباء کا واحد ریفرنس رہی۔ ان کے ایجاد کردہ آلات جراحی آج تک استعمال ہوتے ہیں۔قرطبہ کی گلیاں جہاں وہ رہتا تھا کو، اس کے اعزاز میں "ابو القاسم گلی" کے نام سے منسوم کیا گیا۔ اس گلی میں گھر نمبر 6 میں رہتا تھا جس کی آج طلائی تختی یافتہ ہسپانوی سیاح بورڈ حفاظت کرتا ہے جس پر کنندہ ہے : "یہ وہ گھر ہے جہاں الزہراوی رہتا تھا۔

بدھ، 25 مارچ، 2026

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سانحہ منٹھار

  غ  غربت بھی کیا بلا ہے 'کوئ میرے وطن کے غریبوں سے پوچھے جہاں کروڑوں کی گا ڑیاں  ان صاحب ثروت افراد میں مثل ریوڑیوں کے تقسیم ہوتی ہیں  جن کے پاس پہلے ہی لگژری گاڑیا مفت میں پہلے ہی ملی ہوئ  ہوتی ہیں آئیے ان غرباء کی زندگیوں پر ایک نظر ڈال لیتے ہیں  - عید سر پہ کھڑی ہے اور  غریب خواتین کو اس رقم کی ضرورت ہے جس رقم سے وہ اپنے اور گھر والوں کے لئے رزق کا بندوبست کریں گی لیکن پھر   ان پر قیامت ٹوٹ پڑتی ہےرحیم                  یار خان کے نواحی علاقے منٹھار بنگلہ کے چک نمبر 125 میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رقم وصول کرنے کیلئے آئی خواتین پر چھت گرنے سے 8 جاں بحق اور 76 زخمی ہو گئیں۔ کہا جاتا ہے کہ امداد کیلئے آنے والی خواتین کی تعداد سینکڑوں میں تھی اور 200 سے زائد خواتین ریٹیلر شاپ کی چھت پر موجود تھیں۔ حادثے کے بعد قیامت کا سماں تھا، ہر طرف چیخ و پکار اور آہ و بکا کی آوازیں آرہی تھیں۔یہ خواتین جسم اور روح کا رشتہ برقرار رکھنے کیلئے دو وقت کی روٹی کا ترلہ کر رہی تھیں کہ جان کی بازی ہار گئیں۔ بڑی بات یہ ہے کہ اتنے بڑے سانحہ پر وزیر اعظم اور وزیرا علیٰ کی طرف سے کوئی نمائندہ نہ موقع پر پہنچا اور نہ امداد کا اعلان ہوا۔


 البتہ صدر زرداری کی طرف سے وفات پانے والی خواتین کیلئے دس دس لاکھ اور زخمی خواتین کیلئے تین تین لاکھ امداد کا اعلان ہوا ہے۔ لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک سے غربت کے خاتمے کیلئے اقدامات کئے جائیں، ملک میں غربت بڑھ رہی ہے، غربت اور امارت کے درمیان فاصلے طویل ہوتے جا رہے ہیں، مانگنے والا چاہے جتنا صحت مند کیوں نہ ہو معذور بن جاتا ہے۔رحیم یار خان کے سانحہ میں بھی مجبور خواتین ماری گئیں، یہ حادثہ اُن تلخ حقائق کو بے نقاب کرتا ہے کہ سرائیکی وسیب میں غربت، بیروزگاری، جہالت، پسماندگی، محرومی و محکومی کے باعث وسیب کے غریب لوگ مشکلات کا شکار ہیں۔  ؟ یہ پروگرام عظیم خاتون محترمہ بینظیر بھٹو کے نام پر شروع کیا گیا ہے، اس کی چیئرپرسن بھی خاتون ہیں، پنجاب کی وزارت اعلیٰ بھی ایک خاتون کے پاس ہے۔ اگر بے سہارا اور بزرگ خواتین کے مسائل کا احساس ان خواتین کو نہیں تو پھر کس کو ہو گا؟۔وسیب کی یہ مجبور خواتین رمضان شریف میں کیا کیا ضرورتیں اور کیا کیا خواہشیں لے کر امدادی سنٹر گئیں مگر وہ میتوں کی صورت میں گھر پہنچیں تو نہ صرف اُن کے گھروں میں بلکہ پورے وسیب میں صف ماتم بچھی ہوئی ہے۔


 آج جب دنیا جدید ٹیکنالوجی کے دور میں داخل ہو چکی ہے، پنشن اور تنخواہوں کی طرح یہ امداد بھی بینکوں کے ذریعے خواتین کو مل سکتی ہے۔  ؟ بیمار، لاچار، ضعیف و بزرگ خواتین کی بڑی بڑی لائنیں لگوانا اور اُن کی عزت نفس مجروح کرنا ، سارا دن انہیں ذلیل و خوار کرنا، کہاں کی دانشمندی ہے؟ یہ واقعہ وطن وسیب کے ہر شخص کی آنکھیں کھول دینے کیلئے کافی ہے۔ خصوصاً خطے کے جاگیردار، سیاستدان اور مقتدر مراکز کے حکمران جنہوں نے سرائیکی وسیب میں صنعتی ترقی نہیں ہونے دی، جنہوں نے آج تک پورے وسیب میں ایک بھی ٹیکس فری انڈسٹریل زون قائم نہیں ہونے دیا اور وہ لوگ جو کہ صوبے کے راستے میں رکاوٹ ہیں میں سمجھتا ہوں کہ یہی لوگ اس سانحہ کے ذمہ دار بھی ہیں۔


انکم سپورٹ پروگرام میں طرح طرح کی شکایات ہیں، یہ بھی شکایت ہے کہ اس سے دو نمبری سے صاحب حیثیت لوگ بھی استفادہ کرتے ہیں۔ مظلوم خواتین ایک عرصے سے فریاد کرتی آرہی ہیں کہ ایجنٹ اور انکم سپورٹ پروگرام فراہم کرنے والا عملہ ہر خاتون سے پندرہ سو روپے بھتہ لیتا ہے آج تک ان شکایات کا ازالہ نہیں ہوا۔ غریب اور بے سہارا خواتین جن میں عمر رسیدہ اور علیل خواتین بھی شامل ہوتی ہیں اُن کیلئے بیٹھنے تک کا انتظام نہیں ہوتا، پانی پوچھنا تو دور کی بات ہے ، حالانکہ ریٹیلر سنٹر والے بہت پیسے اکٹھے کر رہے ہوتے ہیں۔ سانحہ رحیم یار خان نے سب کچھ آشکار کر دیا ہے۔سانحہ کے موقع پر خواتین نے جو شکایت کی اُس پر توجہ کی ضرورت ہے۔ خواتین کا کہنا ہے کہ شروع میں اے ٹی ایم کارڈ سے رقم نکالنے میں سہولت تھی مگر موجودہ نظام سے زیادہ تر خواتین کا عملے سے جھگڑا ہوتا ہے یا قطار میں پہلے کھڑے ہونے پر خواتین کو مارا پیٹا جاتا ہے جس میں کئی خواتین زخمی ہوکر واپس لوٹ جاتی ہیں، ہر جگہ یہی صورتحال ہے۔ خواتین نے جذباتی انداز میں یہ بھی کہا کہ رمضان المبارک کے مہینے میں وہ روزے سے پورا دن قطار میں کھڑی رہتی ہیں۔ بعض اوقات شدید گرمی میں عورتیں بے ہوش ہوجاتی ہیں اس طرح جینے سے بہتر ہے کہ اس رقم کو ہی نہ دیا جائے۔اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر عورت کو بینک میں اکائونٹ کھولنے کا اختیار دیا جائے تاکہ وہ جب چاہے رقم نکال سکے یا بینک میں اپنے اکائونٹ میں محفوظ رکھے تاکہ وہ قطاروں میں کھڑے ہونے کی تکلیف سے بچ سکے۔ حکومت کو سب مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ اس معاملے پر غور کرے اور بینک کے ذریعے خواتین کو عزت اور احترام کے ساتھ یہ امداد فراہم  صنعت کی مستحکم ترقی کا غربت کے خاتمے میں اہم کردار ہےصنعت غربت سے نجات دلانے اور آمدن میں اضافے کا بنیادی ستون ہے۔ حال ہی میں مرکزی حکومت اور مقامی حکومتوں نے وبا کے اثرات پر قابو پانے اور صنعت کی مستحکم ترقی میں غربا کی مدد کے لیے مختلف پالیسیاں اور اقدامات اختیار کئے ہیں

منگل، 24 مارچ، 2026

بلدھا گارڈن بنگال کا قدیم نباتاتی باغ

 

بلدھا گارڈن بنگال کے اس حصے میں قائم قدیم ترین نباتاتی باغات میں سے ایک ہے۔ اسٹیٹ آف بلدہ کے زمیندار نریندر نارائن رائے چودھری نے اسے 1909 میں بنانا شروع کیا اور 1943 میں اپنی موت تک اس میں اضافہ کرتے رہے۔ اس نے بیک وقت میوزیم کا مجموعہ بنایا، جو بلدہ میوزیم کے نام سے جانا جاتا تھا۔ میوزیم کے مجموعے اب بنگلہ دیش کے نیشنل میوزیم میں رکھے گئے ہیں۔ بلدھا گارڈن پرانے ڈھاکہ میں واری میں واقع ہے جو 3.36 ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا ہے جس میں 672 اقسام کے پودوں کا ایک بہت بڑا ذخیرہ شامل ہے جس میں بہت سے نایاب بھی شامل ہیں۔ یہ گواہی دی جاسکتی ہے کہ ملک میں غیر ملکی پودوں کا سب سے زیادہ ذخیرہ بلدھا گارڈن میں رکھا گیا ہے۔ ایک ماہر فطرت، انسان دوست اور شاعر نریندر نارائن رائے چودھری نے 1909 میں اپنی جائیداد پر باغ قائم کیا۔ انہوں نے مختلف ممالک سے پھول اور نایاب پودے لا کر انتظامات کا آغاز کیا۔ ایک اندازے کے مطابق باغ کے گھر میں 50 مختلف ممالک سے نایاب پھول آتے ہیں۔ اس نے میوزیم کا مجموعہ بھی بنایا جسے بلدھا میوزیم کہا جاتا ہے۔ محکمہ جنگلات کے تحت نیشنل بوٹینیکل گارڈن اب بلدھا گارڈن کا انتظام کرتا ہے۔باغ کو دو یونٹوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ بڑی اکائی کا نام زرخیزی کی یونانی فطرت کی دیوی سائبیل کے نام پر رکھا گیا ہے۔ سائکی چھوٹی اکائی کا نام ہے جس کا مطلب ہے روح۔ 1971 میں بنگلہ دیش کی آزادی کے بعد، محکمہ جنگلات نے ماضی کی اس شان کو بحال کرتے ہوئے باغ کی ترقی اور تزئین و آرائش کی اور دو نئے گرین ہاؤسز بھی تعمیر کیے اور شہری سہولیات کو جدید بنایا۔

 

 

سائنسی نام:- Betea Monosperma 

ڈھاک جسکو بنگال کینو ، پالش ، Bastard  جنوبی ایشیا کا گھنے سائے   اور نارمل گروتھ والا پھولدار درخت ہے اسکے خوبصورت چمکیلے پھولوں کی وجہ سے ڈھاک کو Ornamental Tree کا درجہ حاصل ہے اور پھولوں کے چمکدار ڈارک  سرخ رنگ کی وجہ سے جانا جاتا  ہے      Flame Of The Forest  ۔ ڈھاک جنوبی ایشیا کا مقامی پودا ہے اس ڈھاک کا پودا انڈیا ، بنگلادیش ، نیپال , سری لنکا ، تھائی لینڈ اور پاکستان میں بکثرت پایا جاتا ہے ۔ ڈھاک کا درخت 49 فیٹ تک قد کر سکتا ہے جہاں تک اسکے فوائد کی بات کریں تو ڈھاک کی لکڑی نرم اور پائیدار ہونے کے ساتھ ساتھ واٹر پروف ہوتی ہے اور پانی والی جگہوں پر استعمال کے لئے بہترین ہے ۔ ڈھاک کے پتوں کو ریشم کے کیڑوں کو پالنے کے لئے انڈیا میں بکثرت استعمال کیا جا رہا ہے ۔ ڈھاک کی گوند کو کمرک کہا جاتا ہے جو کہ مخصوص کھانوں میں استعمال کی جاتی ہے ڈھاک کے پھولوں سے رنگ کشید کیا جاتا ہے اور اس رنگ کو کیسری رنگ کہا جاتا ہے درختی پودوں میں ڈھاک کا اپنا مقام ہے، ایک پودا ضوور لگائیں- .خوبصورت پودا ہےسائنسی نام:- Betea Monosperma ڈھاک جسکو بنگال کینو ، پالش ، Bastard   جنوبی ایشیا کا گھنے سائے والا نارمل گروتھ والا پھولدار درخت ہے اسکے خوبصورت چمکیلے پھولوں کی وجہ سے ڈھاک کو Ornamental Tree کا درجہ حاصل ہے اور پھولوں کے چمکدار ڈارک ریڈ رنگ کی وجہ سے ڈھاک کو Flame Of The Forest بھی کہا جاتا ہے۔ ڈھاک جنوبی ایشیا کا مقامی پودا ہے اس طرح ڈھاک کا پودا انڈیا ، بنگلادیش ، نیپال , سری لنکا ، تھائی لینڈ اور پاکستان میں بکثرت پایا جاتا ہے ۔


 ڈھاک کا درخت 49 فیٹ تک قد کر سکتا ہے جہاں تک اسکے فوائد کی بات کریں تو ڈھاک کی لکڑی نرم اور پائیدار ہونے کے ساتھ ساتھ واٹر پروف ہوتی ہے اور پانی والی جگہوں پر استعمال کے لئے بہترین ہے ۔ ڈھاک کے پتوں کو ریشم کے کیڑوں کو پالنے کے لئے انڈیا میں بکثرت استعمال کیا جا رہا ہے ۔ ڈھاک کی گوند کو کمرکس کہا جاتا ہے جو کہ مخصوص کھانوں میں استعمال کی جاتی ہے ڈھاک کے پھولوں سے رنگ کشید کیا جاتا ہے اور اس رنگ کو کیسری رنگ کہا جاتا ہے درختی پودوں میں ڈھاک کا اپنا مقام ہے بلدھا گارڈن بنگال کے اس حصے میں قائم قدیم ترین نباتاتی باغات میں سے ایک ہے۔ اسٹیٹ آف بلدہ کے زمیندار نریندر نارائن رائے چودھری نے اسے 1909 میں بنانا شروع کیا اور 1943 میں اپنی موت تک اس میں اضافہ کرتے رہے۔ اس نے بیک وقت میوزیم کا مجموعہ بنایا، جو بلدہ میوزیم کے نام سے جانا جاتا تھا۔ میوزیم کے مجموعے اب بنگلہ دیش کے نیشنل میوزیم میں رکھے گئے ہیں۔ بلدھا گارڈن پرانے ڈھاکہ میں واری میں واقع ہے جو 3.36 ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا ہے جس میں 672 اقسام کے پودوں کا ایک بہت بڑا ذخیرہ شامل ہے جس میں بہت سے نایاب بھی شامل ہیں۔ یہ گواہی دی جاسکتی ہے کہ ملک میں غیر ملکی پودوں کا سب سے زیادہ ذخیرہ بلدھا گارڈن میں رکھا گیا ہے۔ ایک ماہر فطرت، انسان دوست اور شاعر نریندر نارائن رائے چودھری نے 1909 میں اپنی جائیداد پر باغ قائم کیا۔ انہوں نے مختلف ممالک سے پھول اور نایاب پودے لا کر انتظامات کا آغاز کیا۔ ایک اندازے کے مطابق باغ کے گھر میں 50 مختلف ممالک سے نایاب پھول آتے ہیں۔



 اب کچھ ڈھا ک کے  نباتاتی  فوائد  اور روز مرہ    کے استعمال  کے   بارے میں   جانئے :   اس کے تین پتوں کو گھاس یا تیلیوں کی مدد سے جوڑ کر ایک برتن کی سی شکل دے دی جاتی ہے جسے دونا کہا جاتا ہے- ہزاروں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں ڈھاک کے پتے روزانہ دونے بنانے کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں- اس کو پتل یا پتر بھی کہا جاتا ہے جس پر دال بھات وغیرہ رکھ کر پروسا جاتا ہے- ہندوستان اور بنگلہ دیش میں  حلوائی ڈھاک کے پتوں کے دونے میں ہی رسگلے گلاب جامن اور قلاقند رکھ کر دیا کرتے تھے- دوسری کھانے پینے کی اشیا اور گوشت  اور ’’پھول‘‘ اور ’’ہا ر‘‘ وغیرہ انہی پتوں میں رکھ کر دیئے جاتے تھے - لیکن ڈھاک نے ہمیں ایک عجیب محاورہ دیا اور وہ ڈھاک کے تین پات رہ گئے اس لئے کہ ڈھاک کے تین ہی پات یعنی پتے ہوتے ہیں اور   اکثر کوششیں نا کام ہوتی ہیں اور کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلتا ایسے ہی موقع پر ڈھاک کے تین پات محاورہ استعمال کیا جاتا ہے ۔(اتنی بار کوشش کی مگر نتیجہ وہی ڈھاک کے تین بات  - گل ٹیسو‘‘ ڈھاک ہی کے پھول ہوتے ہیں- ڈھاک کا گوند کمرکس کہلاتا ہے- کمر پشت اور رحم کی طاقت کیلئے دوسری دواؤں کے ہمراہ یا گھی میں بھون کر اس کی پنجبری بناکر زچہ کو کھلاتے ہیں۔  اسی وجہ سے اس کانام کمرکس مشہور ہے۔حکیموں اور ویدوں  کے مطابق اس کے مستقل استعمال سے انسان کے چہرے پر نہ جھریاں پڑتی ہیں نہ مسوڑھے گلتے ہیں اور نہ بال سفید ہوتے ہیں بلکہ چہرہ گلابی اور جلد شادابی ہوجاتی ہے-ڈھاک کے بیج پنساری کے پاس تخم پلاس پاپڑا کے نام سے ملتے ہیں۔  یہ نیم، پیپل، برگد کی طرح با آسانی ہوجاتا ہے پاکستان میں بھی اکثر علاقوں میں اگایا جاتا ہے

یہ تحریر گوگل سرچ کی مدد سے لکھی گئ ہے

پیسے دو' جیون ساتھی لو ( برائیڈل مارکیٹ آف بلغاریہ)

 

 ۔ شادی بلغاریہ  کا شادی  بازار   جہاں نوعمر لڑکیوں  کو ان کے  مستقبل کے  شوہر خر یدنے آتے ہیں'  اسٹارا زگورا میں کھلے بازار کا انعقاد سال میں چار بار ہوتا ہے۔ روما کے غریب خاندان اسے مالی طور پر فائدہ مند شادیوں کا بندوبست کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ 'دلہن کے بازار' کے طور پر تقریب کی شہرت نسلوں پرانی ہے۔بلغاریہ کے ایک 'دلہن بازار' میں متعدد نوجوان روما خواتین کو ممکنہ شادی کرنے والوں کے سامنے پیش کیا  جاتا  ہے      جہاں غریب خاندانوں کو اپنے بچوں کے لیے مالی طور پر فائدہ مند شادیوں کا بندوبست کرنے کا موقع دیا جاتا ہےیہاں ممکنہ دلہنیں بھڑکیلے   لباس پہنتی  ہیں، چمکدار زیورات، اونچی ایڑیاں اور منی اسکرٹس  خاص لباس ہیں۔اور فروخت ہونے والی تقریب میں ان کے ارد گرد ایسے نوجوان ہیں جن کے خاندان کو امید ہے کہ انہیں اچھی قیمت پر بیوی مل جائے گی۔سٹارا زگورا میں جمع ہونے والے خاندان تقریباً 18,000 روما کی کمیونٹی کا حصہ ہیں جو کالیدزی کے نام سے مشہور ہیں، جو روایتی طور پر تانبے کے کام کا کام کرتے ہیں۔وہ ایک انتہائی غریب علاقے میں سب سے زیادہ غربت زدہ لوگوں میں سے ہیں اور باہمی طور پر فائدہ مند یونینز بنانے کی کوشش کرتے ہیں ۔دلہن کا بازار' - موسم بہار اور موسم گرما کے دوران مختلف مذہبی تعطیلات پر سال میں چار بار منعقد کیا جاتا ہے - روما کے خانہ بدوشوں کے لیے ملنے اور نہ صرف گپ شپ کرنے، بلکہ اپنے نوعمر بیٹوں اور بیٹیوں کے لیے میچ میکر ملنے کا ایک موقع ہے۔


لڑکے اور لڑکیاں ایک نادر موقع پر گاڑیوں پر ساتھ ساتھ رقص کرتے ہیں ، جس میں نوجوانوں کو جنس مخالف کے ساتھ گھل مل جانے کی اجازت کم ہی ہوتی ہے۔Kalaidzhi، جو تقریباً تمام مذہبی آرتھوڈوکس عیسائی ہیں، 15 یا اس ۔یہ ایک ہائی اسکول ڈانس کی طرح شروع ہوتا ہے، لڑکوں اور لڑکیوں کے گروپوں کے ساتھ الگ الگ جھنڈوں میں، کبھی کبھار ہاتھ ملاتے اور ایک دوسرے   کا قرب اختیار   کرتے ہیں - جب کہ مائیں اور باپ احتیاط سے پس منظر میں رہتے ہیں۔سال میں دو بار ہونے والے ان دلہن میلوں کے علاوہ، لڑکے اور لڑکیاں صرف انٹرنیٹ چیٹس میں رابطہ رکھتے ہیں۔برائیڈل مارکیٹ' کے طور پر ایونٹ کی شہرت نسل در نسل چلی جاتی ہے۔ یہ ایک چھوٹے سے گاؤں میں گھوڑوں کی تجارت کے بازار کے ساتھ کھلے میدان میں ہوا کرتا تھا، جہاں دلہنیں اسٹیج پر کھڑی ہوتی تھیں اور لڑکوں کا مقابلہ ہوتا تھا۔لیکن پولیس نے گزشتہ سال گھوڑوں کے تاجروں کے ساتھ کشیدگی سے بچنے کے لیے اسے شہر میں منتقل کر دیا تھا۔ ۔اگر نوجوان ایک دوسرے سے گرم جوشی رکھتے ہیں، تو یہ میلہ اس قیمت کے بارے میں پیچیدہ مالی گفت و شنید کو متحرک کر سکتا ہے جو ایک نوجوان کے خاندان کو ایک عورت کے والدین کو اس کی منہ مانگی قیمت  ادا کرنا ہو گی اگر وہ شادی کرنا چاہتے ہیں۔دلہن کی قیمت - 5,000 اور 10,000 لیو (£ 2,200 سے £ 4,300) کے درمیان - حالیہ برسوں میں کم ہوئی ہے کیونکہ ملازمتیں ختم ہوگئی ہیں



  شادی کی تقریبات بہت زیادہ  سادہ ہوتی  ہے۔لیکن کہا جاتا ہے کہ قیمتیں اب بھی ایک 'بہت خوبصورت' نوجوان عورت کے لیے بڑھ رہی ہیں  عام طور پر لڑکی اسکرٹ، یا منی اسکرٹ اونچی ہیل کے ساتھ پہن کر بھڑکتے ہوئے لباس میں اس مارکیٹ میں اپنے والدین کے ہمراہ موجود ہوتی ہے۔ برائیڈل مارکیٹ کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں لڑکیوں کو اجازت ہوتی ہے کہ وہ منتخب ہونے والے لڑکے ساتھ رقص کرسکتی ہیں۔ اور اگر کوئی لڑکا کسی لڑکی میں دلچسپی ظاہر کرتا ہے تو ایسے موقعے پر دونوں کے والدین یا سرپرست ایک دوسرے سے ملنا ضروری سمجھتے ہیں۔بعدازاں لڑکی کی قیمت سے متعلق مذاکرات بھی اسہی موقعے پر ہوتے ہیں، برائیڈل مارکیٹ میں دلہن کی قیمت دوہزار آٹھ سو ڈالر سے پانچ ہزار چھ سو ڈالر تک ہوسکتی ہے۔ اگرچہ کہ دلہنوں کی قیمت میں حالیہ برسوں میں بے روزگاری اور مہنگائی کے سبب کافی کمی واقعے ہوئی ہے۔عام طورپر اس عیسائی کمیونٹی کے افراد انتہائی روایتی ہیں اور عام طور پر لڑکیوں کو چودہ یا پندرہ سال کی عمر کے بعد اسکول بھیجنا بند کردیتے ہیں کہ کہیں وہ لڑکوں سے میل جول نہ بڑھا لیں۔


کہا جاتا ہے کہ دلہن کے بازار کی یہ رسم یہاں پر کہیں پرانی ہے، اور پہلے یہ ایک چھوٹے دیہات میں منعقد ہوا کرتی تھی، جس میں لڑکی ایک اسٹیج پر کھڑا کیا جاتا تھا جبکہ اسکی بولی بھی لگائی جاتی تھی اور جیتنے والے کو لڑکی سونپ دی جاتی تھی۔گزشتہ سال پولیس نے امن و امان کے خدشے اور بولی لگانے والے افراد میں تنازے کے پیش نظر اس فیسٹیول کی جگہ کو اس شہر میں منتقل کیا ہے۔آپ نے اتوار بازار یا سستے بازار کا نام تو ضرور سنا ہوگالیکن آج ہم آپ کو ایک ایسے بازار کے بارے میں بتائیں گے جہاں والدین اپنی لڑکیوں کو کسی دولہے کی تلاش میں لے کر جاتے ہیں جبکہ کچھ والدین اپنے لڑکوں کو اس آس پر لے کر آتے ہیں کہ انہیں اپنے لڑکے کے لئے ’سستی لڑکی‘مل جائے گی۔’دلہن بازار‘ کے نام سے مشہور یہ بازار سال میں چار بار منعقد کیا جاتا ہے-بلغاریہ کے شہر سٹارا زاگورا کے قریب میلے میں ’روما‘ سے تعلق رکھنے والے ’کلیدزی‘قبیلے کے 18ہزار افراد شرکت کرتے ہیں۔یہ افراد بلغاریہ کے معاشرے میں انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزارتے ہیں اور اپنی ہی کمیونٹی میں کوئی مناسب رشتے کی تلاش میں سرگرداں ہوتے ہیں۔

 ۔

اتوار، 22 مارچ، 2026

باکو جدید اور قدیم کے آئینے میں

 ملک کا دارالحکومت   تیل کی دولت سے مالا مال اس ملک کا سمند ر پانیوں کے ساتھ ساتھ تیل بھی اگلتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ باکو شہر کے نواح کا سفر کرتے ہوئے یا پھر شہر سے باہر نکل کر دیگر علاقوں کی طرف جائیں تو سمندر میں لگی ہوئی کرینیں نظر آئیں گی۔ یہ مشینیں تیل کی تلاش کا کام کرتی ہیں۔جہاں تک آذربائیجان میں نظامِ حکومت  کا سوال ہے تو وہاں بھی ایک  غیر جمہوری حکومت ہے ۔ الہام علیوف ملک کے صدر ہیں   جو ان کے اجداد کی مسند ہے ۔  آبادی کے لحاظ سے یہ ایک بڑا شہر ہے۔ یہ آذربائیجان کا دارالحکومت اور سب سے بڑا شہر ہے۔ یہ بحیرہ کیسپیئن کے کنارے واقع ہے۔ باکو تیل کی دولت سے مالا مال علاقے میں واقع ہونے کے باعث تیل کی صنعتوں کا مرکز ہے۔ شہر 11 اضلاع اور 48 قصبہ جات میں تقسیم ہے۔ باکو کے وسط میں قدیم شہر واقع ہے جس کے گرد فصیل ہے۔ دسمبر 2000ء میں اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو نے اسے عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا۔ شطرنج کے عالمی شہرت یافتہ کھلاڑی گیری کیسپاروف کا تعلق اسی شہر سے ہے۔جزیرہ نما آبشاران سے پہلی مرتبہ مشینوں کے ذریعے 1842ء میں تیل نکالا گیا۔ 1877ء میں یہاں ریلوے لائن بچھائی گئی۔ 1907ء میں باکو سے باطوم (بحیرہ اسود) تک تیل کی پائپ لائن مکمل ہو گئی اور معدنی تیل برآمد ہونے لگا۔ روسی انقلاب کے بعد 31 جولائی 1918ء سے 28 اپریل 1920ء تک باکو آزاد مملکت آذربائیجان کا دار الحکومت رہا، پھر سرخ فوج نے اس پر قبضہ کر لیا۔ دسمبر 1991ء میں سقوط روس کے بعد باکو آزاد جمہوریہ آذربائیجان کا صدر مقام بن گیا۔ باکو کے قریب پارسیوں (مجوسیوں) کا آتش کدہ آج بھی قائم ہے۔ مجوسی مذہب کے بانی زرتشت کا تعلق آذربائیجان ہی سے تھا۔


اس شہر کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہ پہاڑ پر تعمیر کردہ عمارات پر مشتمل ہے۔ یہاں کہیں آپ کو سیڑھیاں اُتر کر غاروں میں تعمیرشُدہ دُکانوں میں جانا پڑتا ہے، تو کہیں سیڑھیاں چڑھ کر پتّھر سے بنی سڑک کے دونوں اطراف واقع غار نما دُکانوں کا رُخ کرنا پڑتا ہے، جن میں آذربائیجان کی مقامی مصنوعات فروخت کے لیے رکھی گئی ہیں اور ان میں بھی قالین اور شالیں نمایاں ہیں۔ ساحل پر واقع نیشنل پارک تھا۔ طویل ساحلی پٹّی پر جدید طرزِ تعمیر کے حامل ہوٹلز، ریسٹورنٹس، شاپنگ مالز اور وسیع و عریض باغ واقع ہے۔   ساحل پر غیر مُلکی سیّاحوں کے علاوہ مقامی باشندے بھی بہت بڑی تعداد میں موجود تھے اور ایسا محسوس ہوتا تھا کہ پورا باکو شہر ہی ساحل پر اُمڈ آیا ہے۔ یہاں بنے شاپنگ مالز میں دُنیا کے تمام بڑے برانڈز کی مصنوعات اور تفریحِ طبع کا سامان موجود ہے۔نیشنل پارک میں ایک ’’مِنی وینس‘‘ بھی ہے، جہاں نہریں بہہ رہی ہیں اور ان کے کنارے دِیدہ زیب سنگِ مرمر سے پختہ کیے گئے ہیں۔ نہروں کے کنارے پُھولوں سے ڈھکی راہ داریاں اور اوپر چھوٹے چھوٹے پُل ہیں۔ مِنی وینس کی سَیر کے دوران ہمیں تازہ بلیو بیری اور اسٹرا بیری فروخت کرنے والا ایک مقامی باشندہ دکھائی دیا۔ اگر آپ کے پاس مغربی پاسپورٹ ہو تو  آپ کی باکو سماج میں آؤ بھگت ہو گی  ۔باکو معاشرے میں رشوت ستانی عام ہے  میرے نزدیک اس رشوت ستانی کی وجہ یہ ہے کہ ہندوستان و پاکستان کے نوجوان یورپ جانے کے چکر میں آذربائیجان جاتے ہیں پھر وہاں سے یورپ نکلنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔ آذری حکام جانتے ہیں کہ یہ لوگ کیوں آرہے ہیں‘ ان کی اس خواہش اور ویزہ کے حصول میں غلط بیانی ان لوگوں کی کمزوری بن جاتی ہے 



اور یوں ان کے لیے رشوت دینا لازم ہوجاتا ہے۔ ایک پاکستانی کا کہنا ہے  کہ میرے ساتھ باکو ایئر پورٹ پر جب اس طرح کا برتائو کیا جانے لگا تو میں نے اپنا تعارفی کارڈ پیش کیا‘ اس پر امیگریشن افسر نے خوش اسلوبی سے نہ صرف مہر لگائی بلکہ ادب سے سلام بھی کیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر ہمارے اپنے معاملات درست ہوں تو ایسی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ آذربائیجان کے کسی بھی باشندے کو آپ ملیں تو اس کی وضع قطع اور گفت و شنید سے آپ کو مسلم ہونے کا تاثر نہیں ملے گا۔ لوگوں کی اکثریت آذری زبان کے ساتھ ساتھ روسی اور فارسی زبان بھی سمجھتی ہے۔ یہ ایک شیعہ اکثریتی ملک ہے اوراس کے ایران کے ساتھ انتہائی قریبی تعلقات ہیں۔ روسی اور مغربی کلچر کے مظہر اس ملک میں عملاً اسلام دور دور تک نظر نہیں آتا۔ شہر کے فٹ پاتھ پر چلتے ہوئے یا زیرِ زمین میٹرو ٹرین کے سٹیشنوں پر جاتے ہوئے آپ کو جگہ جگہ شراب کے ٹھیلے نظر آئیں گے، یہاں شرب پانی کے بھاؤ بکتی ہے اور سرِ بازار کھلے آسمان تلے رقص و سرود کا انتظام ہوتا ہے۔ فٹ پاتھ کے ساتھ ساتھ واقع شراب خانوں میں نوجوان لڑکیوں کا ناچنا ایک مکمل انڈسڑی کی صورت اختیار کرچکاہے۔ 



کچھ ایسے پاکستانی بھی نظر آئے جو ماؤں اور بہنوں کا زیور بیچ کر تو کوئی زمین کے ٹکڑے اور مال مویشی بیچ کراس لیے آذربائیجان آ تے ہیں  کہ  یہاں سے کسی یورپ کےملک نکل جا ئیں گے اور اپنے رزق حلال سے اپنے گھر والوں کا مقدر بدل دیں  گے۔اس معا شرے میں  نوجوان لڑکیاں اور لڑکے کسی بھی مغربی ملک سے کہیں زیادہ مادر پدر آزاد اور بے راہ روی کا شکار نظر آتے ہیں ۔ خواتین دکانیں چلاتی اور کاروبار کرتی ہیں۔ کھانا پینا اور طرزِ زندگی سو فیصد روسیوں والا ہے۔ باکو ائیر پورٹ دارالحکومت میں واقع ہے  ۔ شہر میں زیرِ زمین ریل کا نظام پہلے سے موجود ہے اور اسے مزید وسعت دی جا رہی ہے۔ آذری کرنسی کا نامــ’منات ‘ہے جو تقریباً ایک128 روپے کے برابر ہے یعنی یہ ڈالر سے بھی زیادہ مستحکم ہے۔ باکو کا نام فارسی لفظ بادکوبہ (ہواؤں کا مارا ہوا) سے مشتق ہے اور اس کے محل وقوع کے لحاظ سے بہت موزوں ہے۔ قرون وسطٰی کے مورخین اسے باکویہ، بلاکوہ اور باکہ بھی لکھتے ہیں۔ تاریخ میں اس کا ذکر تیسری صدی ہجری کے بعد برابر آتا ہے۔ باکو عرصے تک شاہان شیروان کے ماتحت رہا۔ 1550ء میں صفوی سلطان طہماسپ اول کا اس پر قبضہ ہو گیا۔ 1583ء تا 1660ء یہ شہر عثمانی ترکوں کے ماتحت رہا۔ 1806ء میں روسیوں نے اسے ایرانیوں سے چھین لیا۔  باکو کے دو بڑے قدیم ترین اور تاریخی اہمیت کے حامل مقامات کی  معلومات  اگلی تحریر  میں 

اس تحریر میں گوگل سرچ سے استفادہ کیا گیا     ہے

 

بدھ، 18 مارچ، 2026

‏قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں میں تقسیم تھا

 

 ‏قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں میں تقسیم تھا‘ قلات سب سے بڑی ریاست تھی‘ اس کے پاس بلوچستان کا 20 فیصد رقبہ تھا جب کہ باقی 80 فیصد علاقہ خاران‘ بیلا‘ مکران اور برٹش بلوچستان میں تقسیم تھا‘ قلات ریاست 1405 میں بنی اور وقت کے ساتھ ساتھ اس کی جغرافیائی حدود افغانستان میں قندہار‘ ایران میں بندر عباس اور کرمان تک پھیل گئیں‘ اس زمانے میں قلات میں بلوچ اور براہوی دونوں قبائل آباد تھے لہٰذا قلات کو بلوچ براہوی سلطنت کہا جاتا تھا‘ انگریز نے 1876میں کوئٹہ پر قبضہ کیا اور یہاں چھاؤنی بنا لی‘انگریز نے بعدازاں کوئٹہ سے ملحقہ علاقے خان آف قلات سے لیز پر لے لیے اور یوں برٹش بلوچستان وجود میں آ گیا۔بلوچستان کا نام اس سے قبل تاریخ میں موجود نہیں تھا‘ انگریز کا فوکس پشتون علاقوں کی طرف تھا لہٰذا وہ افغان سرحد کے ساتھ ساتھ پشتون علاقوں میں اپنا اثرورسوخ بڑھاتے چلے گئےکوئٹہ کے بعد زیارت اور فورٹ سنڈیمن ان کے بڑے مرکز تھے‘ ڈیرہ بگٹی‘ کوہلو‘ سبی‘ چاغی‘ لورا لائی اور پشین بھی ان میں شامل تھے‘ باقی تمام ریاستیں اور علاقے خودمختار رہے‘ بہرحال 1947میں انگریز نے ہندوستان کی 565 پرنسلی اسٹیٹس کی طرح بلوچستان کی ریاستوں کو بھی دو آپشن دیے‏بھارت میں شامل ہوجائیں یا پھر پاکستان کے ساتھ مل جائیں‘ برٹش بلوچستان (یعنی کوئٹہ) نے جون 1947میں پاکستان کے حق میں قرارداد پاس کر دی‘ نواب آف خاران نے لیڈ لی اور یہ پاکستان میں شامل ہو گئے۔چند دن بعد ریاست بیلا اور مکران بھی پاکستان میں شامل ہو گئی یوں قلات پیچھے رہ گئی‘






خان آف قلات میر احمد یار خان اپنے سرداروں کو قائل کر رہے تھے لیکن اس میں بہت وقت ضایع ہو گیا‘ اس دوران آل انڈیا ریڈیو نے قلات کے بھارت میں شامل ہونے کی خبر نشر کر دی‘ اس سے افراتفری پھیل گئ خان آف قلات نے قائداعظم سے ملاقات کی اور 30 مارچ 1948 کو پاکستان میں شمولیت کا اعلان کر دیا‘ اس اعلان میں ان کا خاندان اور دوسرے سرداروں کی رضامندی شامل نہیں تھی چناں چہ میر احمد یار خان کے بھائی پرنس عبدالکریم خان نے بلوچستان نیشنل لبریشن کمیٹی (بی این ایل سی) کے نام سے گوریلا تنظیم بنائی اور بغاوت شروع کر دی۔ پاکستان نے بی این ایل سی کو کچلنے کے لیے بلوچستان میں فوج داخل کر دی اور اس کے بعد بلوچستان میں کبھی امن قائم نہ ہو سکا‘ اس زمانے میں مشرقی پاکستان آبادی کے لحاظ سے بڑا صوبہ تھا‘ باقی صوبے چھوٹے تھے چناں چہ الیکشن کی صورت میں مشرقی پاکستان کے ایم این اے زیادہ تعداد میں اسمبلی آ جاتے تھے اور یوں حکومت بنگالیوں کے پاس چلی جاتی تھی اور یہ اسٹیبلشمنٹ کو سوٹ نہیں کرتا تھا چناں چہ سکندر مرزا کے دور میں ون یونٹ بنا دیا گیا‏جس کے بعد مشرقی پاکستان ایک صوبہ اور باقی چار صوبے مل کر دوسرا صوبہ بن گئے‘ بلوچستان نے اسے تسلیم نہیں کیا اور یوں یہاں دوسری مرتبہ بغاوت شروع ہو گئی‘ اس بغاوت کو کچلنے کے لیے فیلڈ مارشل ایوب خان نے بلوچستان میں دوسری مرتبہ فوج چڑھا دی‘ قلات پر قبضہ ہو گیا اور خان آف قلات کا محل لوٹ لیا گیا‘ اس کے بعد پے در پے آپریشن ہوتے چلے گئے یہاں تک کہ نوبت جعفر ایکسپریس پر قبضے تک پہنچ گئی۔ہمیں آگے بڑھنے سے قبل دو حقیقتوں کا ادراک کرنا ہوگا‘ پہلی حقیقت بلوچستان کی جغرافیائی صورت حال ہے‘ بلوچستان ایک بنجر اور بیابان علاقہ ہے جس کی وجہ سے م



‘ سکندر اعظم سے لے کر برطانیہ تک کبھی کسی بڑی فوج نے یہاں سے گزرنے کی غلطی نہیں کی‘ اس کی وجہ چارے‘ پانی اور خوراک کی کمی تھی‘ ماضی میں فوجیں گھوڑوں پر سفر کرتی تھیں اور گھوڑوں کو چارہ اور پانی درکار ہوتا تھا اور بلوچستان میں یہ دونوں نہیں تھے‏لہٰذا بلوچستان کو ماضی میں کسی بڑی یلغار کا سامنا نہیں کرنا پڑا‘ تمام طاقتوں بشمول مغل اور برطانیہ انھیں آزاد تسلیم کرتے رہے اوی کی تمام حکومتیں اور بادشاہ بلوچستان کے سرداروں سے ڈیل کرتے رہے‏یہ سرداروں کو دے دلا کر راضی کرلیتے تھے اور یوں بلوچستان ان کے ہاتھ میں رہتا تھا‘ انگریز نے بھی خان آف قلات سے ہزاروں مربع میل کا علاقہ کرائے پر لے رکھا تھا اور یہ انھیں اس کا کرایہ دیتے تھے چناں چہ بڑی طاقتوں اور حکومتوں سے وصولی سرداروں کے ڈی این اے میں شامل ہو گئی ہے۔ حکومت پاکستان بھی یہ غلطی کرتی رہی‘ اس نے ہر دور میں سرداروں کو ہاتھ میں رکھا‘ یہ کبھی ایک سردار کو اقتدار دے کر دوسروں کو کنٹرول کرتی تھی اور کبھی دوسرے سرداروں کو آگے لا کر پہلے سرداروں کو قابو کر لیتی تھی‘ 



صوبے کا ترقیاتی بجٹ بھی یہ سب آپس میں تقسیم کر لیتے ہیں‘ آپ المیہ دیکھیے عبدالقدوس بزنجو صرف 544 ووٹ لے کر ایم پی اے بنے (ٹوٹل رجسٹرڈ ووٹ 57666 تھے) اور یہ ان 544 ووٹوں کے ذریعے بعدازاں وزیراعلیٰ بن گئے‘ لوگ انھیں سلیپنگ وزیراعلیٰ کہتے تھے کیوں کہ یہ اپنی شبینہ مصروفیات کی وجہ سے دن بارہ بجے اٹھتے تھے اور اس کے بعد اگلی مصروفیات کا بندوبست شروع کر دیتے تھے اور یہ کھیل بلوچستان میں ہزار سال سے جاری ہے یعنی سرداروں کو ہاتھ میں رکھیں‘ ان کے مطالبات پورے کرتے رہیں اور سسٹم چلاتے رہیں‘ اس بندوبست میں سردار امیر سے امیر ہوتے چلے گئے جب کہ عوام غریب سے غریب ہوتے چلے گئے۔  


منگل، 17 مارچ، 2026

موسم سرما کے ہجرتی پرندوں کا مسکن ہالیجی جھیل

  



ہالیجی جھیل  ٹھٹھہ سے پہلے شمال کی جانب اپنی نوعیت کی انمول جھیل ہونے کے ساتھٍ  پاکستان کے آبی مقامات میں ایک بہترین تفریح گاہ ہے۔                                          کبھی جا کر دیکھئے تاحدِ نگاہ بہتا ہوا پانی، لہراتی سرسراتی تازہ ہوائیں، پیپل کے درختوں کی راحت بھری چھاؤں اور خوبصورت چہچہاتے پرندے یہاں کے ماحول میں ایسی دلکشی پیدا کر تے ہیھے کہ دیکھنے والے کے قلب کا تصور ناقابل بیان ہوتا ہے۔اِس بار ہم نے سفر کے لیے ہالیجی جھیل کا انتخاب کیا۔ ہالیجی جھیل کراچی سے ٹھٹھہ جانیوالی شاہراہ پر تقریباً 85 کلومیٹر کی مسافت پر واقع ہے۔ ٹھٹھہ سے پہلے شمال کی جانب یہ جھیل اپنی نوعیت کی انمول جھیل ہے۔ اِس نفسا نفسی کے دور میں جہاں زندگی اتنی تیز ہوگئی ہے کہ کسی کو کسی کا کچھ خیال ہی نہیں، وہاں اِس قدر پُرسکون ماحول کی موجودگی میں انسان وہ سب کچھ بھول جاتا ہے جو وہ چھوڑ کر آیا ہے۔معلومات کے مطابق اِس جھیل کی لمبائی 685 مربع میل بتائی جاتی ہے اور اِس کی گہرائی اوسط 17 فٹ تک ہے۔ اِس جھیل میں کنجھر جھیل سے بھی پانی چھوڑا جاتا تھا، لیکن اب یہ بند کردیا گیا ہے۔پرندوں حیوانات اور نباتات کی بہتات نے اسے قدرتی مناظر اور ماحول کے متلاشی لوگوں کیلئے اہم مقام بنا دیا ہے۔ کراچی سے قریب اور قومی شاہراہ سے چند کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہونے کی وجہ سے اس جھیل پر پہنچنا بھی آسان ہے اور یہ اس کی مقبولیت کی ایک اور بڑی وجہ ہے۔پاکستان کی خوبصورت جھیلیں ہر سال روس ، سائبیریا اور شمال وسطی ایشیائی ریاستوں کے انتہائی سرد علاقوں سے لا کھوں کی تعداد میں آنے والے ہجرتی مہمان پرندوں کا عارضی مسکن ہوتی ہیں  'جن میں ہالیجی جھیل خاص طور پر  ان پرندوں سے آباد ہو کر لہلہاتی ہے 



ہالیجی جھیل کی ساری دلکشی اور تمام تر حسن اس کا نیلا پانی، مقامی اور مہمان پرندوں کی بہتات اور اس کے دلکش جزیروں کے باسیوں سے عبارت ہے۔آج سے اٹھارہ ہزار سال قبل جب زمین کے موسمی حالات نے تبدیل ہونا شروع کیا اور زمین کا درجہ حرارت بتدریج بڑھنے لگا تو اس کے نتیجے میں قطبوں پر جمی برف پگھلنا شروع ہو گئی، بلندی سے پگھلتی ہوئی یہ برف زمین پر پانی بن کر پھیل گئی، جس کی وجہ سے زمین کئی خطوں میںتقسیم ہو گئی۔ پاکستان میں کئی پہاڑی سلسلے ہیں، ان پر جمی برف کے پگھلنے کے باعث یہاں بہت زیادہ آبی ذخائر بھی ہیں اور بہت سی آبی گزرگاہیں بھی۔ ہمالیائی سلسلوں سے نکلنے والے آبی راستے شمال کے بلندو بالا پہاڑوں سے جنوب کی دلدلی علاقوں تک پھیلے ہوئے ہیں۔دریائے سندھ ہمارے ملک کا مرکزی دریا ہے جو شمال کے بلندو بالا ہمالیائی خطوں سے شروع ہوتا ہے اور پھر بحیرۂ عرب میں جا گرتا ہے۔ ہالیجی جھیل در حقیقت ایک تالاب تھا جہاں بارش کا پانی جمع رہتا تھا اس کے اطراف میں قسم قسم کے پرندے، حیوانات اور نباتات پائے جاتے تھے لیکن اس صدی کی تیسری دہائی میں اس تالاب کو ایک وسیع ذخیرہ آب کی شکل دے دی گئی جس کے باعث یہ کراچی شہر کی آبادی کو پانی کی فراہمی کا ایک بہت بڑا ذریعہ بن گیا۔محل و قوع کے اعتبار سے ہالیجی جھیل قومی شاہراہ پر واقع ہے۔ کراچی سے باآسانی چند گھنٹے کی مسافت کے بعد بذریعہ سڑک وہاں پہنچا جا سکتا ہے۔ یہ کراچی سے 88کلو میٹر اور ٹھٹھہ سے صرف 21کلو میٹر کے فاصلے پر ہے ،جب آپ کراچی سے ٹھٹھہ کی جانب قومی شاہراہ پر سفر کریں تو 88کلو میٹر اور بائیں جانب ایک بورڈ نظر آتا ہے جو ہالیجی جھیل جانے والے کچے راستے کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس راستے پر 5کلو میٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد آپ ہالیجی جھیل کی حدود میں داخل ہو جاتے ہیں۔ہالیجی کے گردو نواح میں بھی مزید خوبصورت جھیلیں واقع ہیں۔ بائیں جانب جو جھیل ہالیجی سے ملحق ہے اس کا نام چنیجی جھیل ہے جس میں موسم برسات کے بعد کافی عرصہ پانی جمع رہتا ہے۔ جب اس میں پانی کی کثرت ہو تو یہاں پرندوں کی بھی بہتات ہو جاتی ہے۔ہڈیرو جھیل ہالیجی کے نواح میں دوسری جھیل ہے یہاں نمکین پانی ہے۔ پانی جب چٹانی کناروں سے ٹکراتا ہے تو ایک قابل دید منظر ہوتا ہے، اس جھیل میں آبی پرندوں کی انتہائی نایاب اقسام بھی پائی جاتی ہیں۔ ان میں بگلے، کونج اور پیلی کسن نمایاں ہیں۔  


۔ان دو جھیلوں کے علاوہ تیسری جھیل کنیھجر جھیل ہے۔ یہاں بھی انواح و اقسام کے پرندے پائے جاتے ہیں۔یہ ایک خوبصورت تفریحی مقام ہے۔ ہالیجی سے اس کا فاصلہ 50کلو میٹر ہے۔ کراچی کے باشندوں اور ملکی سیاحوں کیلئے اس پر فضا مقام پر تیراکی، پانی میں ڈبکیاں لگانا اور کھیل کود ایک پسندیدہ مشغلہ ہے۔ ہالیجی جھیل اور کینھجر جھیل دونوں بین الاقوامی اہمیت کے آبی مقامات قرار دیئے گئے ہیں۔ ہالیجی پرندوں کے مشاہدے کیلئے ایک بہترین مقام ہے، جہاں انگنت اقسام کے پرندے  تمام  سال ہی موجود ہوتے  ہیں۔یہاں پرندوں کے جھنڈ اور پودے ایک دوسرے میں مدغم نظر آتے ہیں۔شکاری پرندے مثلاً باز،شکرے وغیرہ چھوٹے پرندوں پر بار بار حملہ کرتے نظر آتے ہیں۔ سارس اور بگلے کبھی کبھار گھنٹوں پانی ہی میں کھڑے اپنی غذا سے لطف اندوز ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔  ہالیجی اور ملحقہ علاقوں میں ان کی آمد ستمبر کے مہینے سے شروع ہوتی ہے۔جھیل کی اس پرسکون دنیا کے اوپر بھی ایک دنیا محو پرواز نظر آتی ہے جس میں مچھلی خور شاہین، سار اور چیلیں وغیرہ شامل ہیں ۔حکومت سندھ نے ٹھٹھہ ضلع میں پرندوں کی جنت کےنام سے مقبول ہالیجی جھیل کو تازہ پانی کی فراہمی شروع کردی ہے۔ محکمہ جنگلی و آبی حیات کے ماہرین کو توقع ہے کہ پانی کی فراہمی کے بعد تباہ شدہ جھیل دوبارہ ملکی و غیرملکی پرندوں کی آماجگاہ اور سیاحوں کی دلچسپی کا مرکز بن سکے گی۔کراچی سے اسی کلومیٹر کی مسافت پر واقع ہالیجی جھیل کے بارے میں محکمہ جنگلی حیات سندھ کے سربراہ کنزرویٹر حسین بخش بھاگت نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ہالیجی جھیل کو بحال رکھنے کے لیے اٹھائیس فٹ پانی درکار ہوتا ہے اور حکومت سندھ کی حالیہ کوششوں کے بعد اب تک انیس فٹ پانی جھیل میں جمع ہوچکا ہے۔


ہالیجی جھیل کو کراچی واٹر بورڈ کے زیرانتظام جام برانچ نامی کینال سے پانی فراہم ہوتا رہا ہے جو ضلع ٹھٹھہ میں واقع ایک اور جھیل کینجھر سے پانی حاصل کرتا ہے مگر گزشتہ چند برسوں سے جھیل کو پانی کی اس طرح فراہمی کا سلسلہ بند ہوگیا تھا۔پانی کی کمی کی وجہ سے ہالیجی جھیل میں پرندوں کی آمد کا سلسلہ کم ہوگیا ہے۔ حسین بخش کے مطابق ان کےمحکمے کے انیس سو چہتر میں کیے گئے ایک سروے کےمطابق ہالیجی جھیل پر اندرون ملک اور بیرون ملک سے دو لاکھ پرندوں کی آمد ہوئی ہے جس میں ستر یا اسی قسم کے مختلف رنگ و نسل کے پرندے شامل ہیں مگر پانی کی کمی کی وجہ سے گزشتہ سال ان کےمحکمے کے سروے کے مطابق بمشکل آٹھ سے دس ہزار دیسی پرندوں کی آمد ہوئی ہے۔ہالیجی جھیل کےبارے میں محکمہ جنگلی حیات کی کتابوں میں درج ہے کہ برطانوی راج کے دوران ہالیجی جھیل کو پانی جمع کرنے کی جگہ بنایا گیا تاکہ کراچی میں کیمپ کرنے والے دستوں کو پانی فراہم کیا جاسکے۔ پاکستان کی آزادی سے پہلے ہی ہالیجی جھیل پانی جمع کرنے والے تالاب سے بڑھ کر ایک مکمل جھیل کی شکل اختیار کرچکی تھی۔ون یونٹ کے خاتمےکےبعد ہالیجی کا انتظام وائلڈ لائف مینیجمنٹ فنڈ نے سنبھالا۔ایران میں انیس سو اکہتر کے دوران عالمی کنزرویشن مینجمنٹ کی جانب سے ویٹ لینڈ کی فہرست بنائی گئی۔ جس کے تحت ہالیجی کو پاکستان کی پہلی ’رامسر‘ سائٹ قرار دیا گیا ہے۔ 

اتوار، 15 مارچ، 2026

زراعت و معیشت میں پاکستانی عورت کا کردار

  پاکستان  ایک زرعی ملک ہے۔ اور یہاں کی تقریباً ۷۰؍ فبصد آبادی زراعت کرتی ہے۔  پاکستان میں دیہی علاقوں کی   عورتیں بیج بویائی سے فصل کی تیاری اور اس کی کٹائی، اس کے بعد کے عمل سے لے کر مارکیٹنگ وغیرہ مراحل میں سرگرم رہتی ہیں۔ زرعی پیداوار میں اضافے کے ساتھ ساتھ کام کرنے والی عورتوں کا تناسب مردوں کے مقابل بڑھا ہے۔ ملک کی معاشی ترقی اور خوشحال زندگی کے لئے ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ جس سے ملک کی معیشت میں کافی مدد ہوئی ہے۔ وہی حکومت نے بھی عورتوں کے لئے مخلتف اسکیموں اور دیگر سہولیات کا انتظام کیا ہے۔ لیکن عورتوں کی کم علمی انہیں ان سہولتوں سے محروم رکھے ہوئے ہیں۔ یہ عورتیں واقعی میں ہمت و شجاعت اور خود اعتمادی کی مثال ہیں۔ ان کے کاموں کی فہرست بنانا ناممکن ہے تب بھی کچھ کا ذکر اس طرح....کھیت میں کام کرنے والی عورتوں کو کھیت کے سارے بھاری کاموں سے نمٹنا پڑتا ہے، رات دن بغیر کسی توقف کے وہ کھیت اور گھر کی ذمہ داریاں سنبھالتی ہیں۔ کٹائی کا زمانہ ہو یا ہل چلانے کا وقت، وہ مرد کے ساتھ ساتھ کام کرتی ہیں۔ اُس کے علاوہ انہیں پالتو جانوروں کی دیکھ بھال، چھوٹے موٹے گھریلو کام اور بچوں کی دیکھ بھال کرنی ہوتی ہے۔ وہ اپنی ساری ذمہ داریاں نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیتی ہیں۔ ان عورتوں کو واقعی خراج تحسین پیش کیا جانا چاہئے،



 اس میں کوئی شک نہیں کہ عورت کو آج کے دور میں معاشی کفالت کے لئے اپنے شوہر کا ساتھ دینا پڑتا ہے اور ماں، بیٹی، بہن، بہو اور بیوی کے روپ میں بھی اہم کردار ادا کرنا پڑتا ہے۔ گھریلو عورتیں بھی دن رات اپنی ذمہ داریوں کو خوشدلی ہی سے ادا کرتی ہیں اور ملازمت پیشہ بھی۔ لیکن ان میں کھیتوں میں کام کرنے والی مزدور عورتیں ’’ محنت کش ‘‘ عورتیں ہیں۔ وہ اپنے کاموں میں اس قدر گھری رہتی ہیں کہ انہیں اپنے آپ کو سنوارنے، بناؤ سنگھار کرنے تک کا موقع نہیں ملتا۔ دہری زندگی جینے کے باوجود یہ عورتیں اپنے ماتھے پر کوئی شکن نہیں لاتی نہ ہی زبان سے شکایت کرتی ہیں۔ ان کے کپڑے ملگجے ہوتے ہیں، بال بکھرے ہوئے پھر بھی ان کے چہرے سے بشاشت ٹپکتی نظر آتی ہے۔ وہ ہمت اور دلیری کی مثال ہے۔ غربت، مفلسی، رہنے کے لئے ڈھنگ سے گھر نہیں اور تن ڈھانکنے کے لئے صحیح سےکپڑے نہیں تب بھی وہ مسکراتی ہیں۔ زندگی کو پوری طرح نہ جیتے ہوئے بھی جیتی ہیں۔  زمانے کی  مشکلات جھیل  کر بھی وہ سورج کی پہلی کرن کے ساتھ کمر کس کر کھیت میں جٹ جاتی ہیں۔ گرمی اور سردی کے موسم ہو یا بارش یہ موسم کی سختی برداشت کر کے کام کرتی ہیں اور مہنگائی کا مقابلہ کرتی ہیں۔غریب خاندان میں عورت کے لئے زندگی بالخصوص دشوار ہوتی ہے۔پھر بھی وہ اپنے   گھر کی معاشی حالت میں اضافہ کے لئے کوشاں رہتی ہیں۔ 


یہ وہ باہمت عورتیں ہیں جو معاشی صورتحال سے نبرد آزما ہوکر بھی معاشرے کی بنیادی تشکیل کرتی ہیں۔ جبکہ وہ بنیادی سہولیات سے بھی محروم ہوتی ہیں۔ ایک اینکر پرسن  کے ساتھ  ایک محنت کش  عورت سے بات چیت کے دوران اس نے مجھے بتایا کہ، ’’بیٹی دکھ اور تکلیف کسے نہیں  ہوتے ہیں .. یہ تو زندگی کا حصہ ہے، میرے حصے میں جو آیاہے، اسے خوشی سے جی رہی ہوں۔ ‘‘بیشک یہ عورتیں خود اعتمادی، با ہمت اور دلیری کی مثال ہیں لیکن اب بھی ان میں تعلیمی بیداری پیدا کرنا ضروری ہے تاکہ وہ حکومت کے ذریعے فراہم کی جانے والی سہولیات سے مستفید ہوسکیں۔ خاندانی ملکیت میں انہیں حق حاصل ہے اس کی طرف بھی توجہ دینی ضروری ہے۔ یہ عورتیں زیا دہ پڑھی لکھی نہیں ہیں تب بھی وہ پوری ایمانداری اور خود اعتمادی سے اپنا کام کرتی ہیں۔ کھیتوں میں فصلوں کو لہلہاتے دیکھ خوش ہوتی ہیں مانو خدا نے ان کی محنت کا ثمر انہیں دے دیا ہو۔ ان مزدور عورتوں سے ہمیں جہاں ہمت و خود اعتمادی کا درس ملتا ہے وہی اس بات کا احساس بھی ہوتا ہے کہ ہماری پر سکون زندگی کے پیچھے ان کا اہم کردار پوشیدہ ہے۔


 متعلقہ خبرلیکن ہر جگہ عدم مساوات اور امتیازی سلوک زرعی نظام میں خواتین کے لیے رکاوٹیں پیدا کر رہا ہے۔ پوری دنیا میں، خواتین عام طور پر مردوں سے بدتر حالات اور کم اجرت پر کام کرتی ہیں اور بہت سے ممالک میں اب بھی زمین کی ملکیت سے متعلق خواتین کے لیے قانونی تحفظ ناکافی ہے۔ایف اے او کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، جب تک انہیں مویشیوں، پانی اور بیجوں کے ساتھ ساتھ زمین، ٹیکنالوجی اور اپنے روزگار بڑھانے کے لیے درکار مالی وسائل تک مکمل رسائی اور کنٹرول حاصل نہیں ہوتا، خواتین زرعی نظام میں اپنا مکمل   حصہ نہیں ڈال سکتیں۔امریکہ کے امداد کے عالمی ادارے یو ایس ایڈ کے فیڈ دی فیوچر پروگرام کی ڈپٹی کوآرڈینیٹر ڈینا آسپیسیٹو کا کہنا ہے "اگر زرعی نظام میں خواتین کو مردوں جیسی سہولتوں تک رسائی حاصل ہو، ان سے زیادہ نا بھی ہوں – صرف ان جیسی ہوں ۔ تو ہم قومی مجموعی پیداوار کو دس کھرب ڈالر تک پہنچا سکتے ہیں۔اُن کا کہنا تھا کہ اس وجہ سے بھوکے لوگوں کی تعداد میں ساڑھے چار کروڑ تک کمی لا سکتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ یو ایس ایڈ نے خواتین کے لیے گرو نامی پروگرام شروع کیا ہے جس سے خواتین کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ڈپٹی کوآرڈینیٹر نے کہا کہ ’’ اس کے لیے کوشش کے تین پہلو ہیں۔ پہلا خواتین کسانوں کی پیداواری صلاحیت اور لچک پر مرکوز ہے۔


ہفتہ، 14 مارچ، 2026

جنگیں 'انسانیت کی ہلاکت اور سرمایہ کی بربادی لاتی ہیں

 


’ہر شخص کو جنگ کے بارے میں کیا جاننا چاہیے‘کرس ہیجیز کی مشہور تصنیف ''’ہر شخص کو جنگ کے بارے میں کیا جاننا چاہیے‘‘ شاید ان چند ایک کتابوں میں شامل ہے، جو ماحولیاتی نقصان پر تفصیل سے بات کرتی ہیں لیکن اس کتاب کا محور بھی انسانی ہلاکتیں اور دوسرے عناصر ہیں۔مثال کے طور پر مذکورہ بالا کتاب میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ تقریباﹰ ساڑھے تین ہزار سالوں پر محیط معلوم   انسانی تاریخ میں ابن آدم نے صرف 248 سال حالت امن میں گزارے ہیں، جو ریکارڈ ڈ ہسٹری کا صرف آٹھ فیصد بنتا ہے۔اس کتاب کا یہ دعویٰ ہے کہ صرف بیسویں صدی میں ایک سو آٹھ ملین افراد جنگوں میں ہلاک ہوئے، جو کہ ناقدین کے مطابق ایک محتاط اندازہ ہے کیونکہ یہ تعداد اس سے بھی کہیں بڑھ کر ہو سکتی ہے۔ پوری انسانی تاریخ میں جنگوں سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد کا اندازہ پندرہ ملین سے لے کر ایک ارب تک کا ہے۔واضح رہے کہ یہ اعدادوشمار 2003ء تک کے ہیں۔ اس کے بعد بھی دنیا میں بہت سارے مسلح تصادم ہوئے ہیں اور اس کے علاوہ کئی ملک خانہ جنگی کا شکار بھی ہوئے اور ان پر بیرونی حملے بھی کیے گئے۔ 2003ءکے بعد بھی ایک اندازے کے مطابق 15 لاکھ سے زائد افراد جنگ، مسلح تصادم اور خانہ جنگی کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔جنگوں میں صرف انسانی جانوں کے نقصان پر ہی توجہ مرکوز رکھی جاتی ہے جب کہ ماحولیات کو پہنچنے والے نقصان پر بہت کم بات کی جاتی ہےہیجز کی اس تصنیف میں  جنگ کی ہولناکیاں تفصیل سے بیان کی گئی ہیں لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ بھی بتایا جائے کہ جنگ سے کس طرح ماحول اور ماحولیات کو نقصان پہنچتا ہے کیونکہ ہمیں زندگی گذارنے کے لئے ہوا سے لے کر پانی اور پانی سے لے کر تمام دوسرے قدرتی وسائل درکار ہوتے ہیں، جو قدرتی ماحول کا ایک حصہ ہیں۔ناقدین کا خیال ہے کہ ہمیں اکثر یہ تو بتایا جاتا ہے کہ اگر ایک پلاسٹک کا ڈبہ فلاں جگہ پر رکھ دیا جائے تو اس کا ماحولیات پر کیا اثر ہوتا ہے یا کوئی کچرے کا ڈبہ کسی سمندری حدود میں پھینک دیا جائے تو وہ ماحول کو کس طرح متاثر کرتا ہے۔ یعنی وہ عمل جو شاید ماحول کو اتنی بری طرح متاثر نہیں کرتے ہیں



، ان کا تذکرہ تو ہوتا ہے لیکن جنگ، دفاعی اخراجات، جنگ کی تیاریاں، حربی مشقیں اور ہتھیاروں کے تجربات کس طرح ماحولیات کو ایک ناقابل تلافی تباہی کا شکار کر تے ہیں، اس پر بہت کم بولا اور لکھا جاتا ہے۔تیل اور ہتھیاروں کی تجارت-شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا میں ہتھیاروں اور تیل کی خریدوفروخت میں ملوث لابیا ں بہت مضبوط ہیں اور ان دونوں لابیوں کا آپس میں بہت گہرا رشتہ ہے۔ مثال کے طور پر دنیا کی افواج کو اگر مختلف ادارہ جاتی اکائیوں میں سے ایک اکائی سمجھا جائے تو شاید یہ واحد اکائی  ہے جو دنیا میں سب سے زیادہ تیل استعمال کرتی ہے اور جس کے جلنے اور جلانے سے ماحولیات پر بہت برا اثر پڑتا ہے۔بالکل اسی طرح پینٹاگون بحیثیت ایک ادارے کے  دنیا کا وہ واحد ادارہ ہے، جو شاید سب سے زیادہ تیل استعمال کرتا ہے۔ یہ بات ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ چند جنگی طیاروں میں جتنا ایندھن استعمال ہوتا ہے وہ شاید روڈ پر چلنے والی سینکڑوں بسوں یا ممکنہ طور پر ہزاروں بسوں سے بھی زیادہ ہو۔کیوں کہ دنیا بھر کی مسلح افواج اور ان کے اضافی تربیت یافتہ دستے عالمی افرادی قوت کا ایک اچھا خاصا حصہ ہیں،س لیے یہ تصور کیا جاتا ہے کہ ماحولیاتی آلودگی پھیلانے اور ماحول کو خراب کرنے میں ان کا بھی بہت بڑا ہاتھ ہے۔یہ خیال کیا جاتا ہے کہ دنیا بھر میں مسلح افواج کی تعداد دو کروڑ دس لاکھ سے بھی زیادہ ہے۔ اسی طرح کیونکہ یہ افواج کھربوں ڈالر خرچ کرتی ہیں اس لیے اس بات کا بھی امکان ہے کہ اس خرچ سے ماحولیات پر بہت برے اثرات پڑتے ہیں۔دثال کے طور پر کر س ہی



جز کی مذکورہ  بالا کتاب میں کیے گئے ایک دعوے کے مطابق امریکہ نے 1975ء سے لے ک 2003 تک اپنے اپنی قومی مجموعی پیداوار (جی ڈی پی) کا  اوسطاﹰ تقریبا تین سے چھ فیصد حصہ قومی دفاع پر لگایا ہے، جو وفاقی بجٹ کا سالانہ 15 سے 30 فیصد حصہ بنتا ہے۔اکیسویں صدی کے ابتدائی سالوں میں یہ بجٹ تقریباﹰ 350 بلین ڈالر سالانہ تھا۔ جب کہ تعلیم کے لیے سالانہ 60 بلین ڈالرز اور ریاستی و بین الاقوامی معاونت کے لیے صرف 15 بلین ڈالر مختص تھے۔ انیس سو چالیس سے لے کر انیس سو چھیانوے تک امریکہ نے فوج پر 16.3 ٹریلین ڈالر خرچ کیے، جس میں سے پانچ ٹریلین ڈالر سے زیادہ جوہری ہتھیاروں پر خرچ کیے گئے تھے۔ اتنے وسیع پیمانے پر اخراجات سے اس بات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس نے ماحولیات پر کیا اثرات مرتب کیے ہوں گے۔ یہ خرچہ اس کے علاوہ ہے جو عراق اور افغانستان کی جنگوں میں کیا گیا۔ براؤن یونیورسٹی کے واٹسن انسٹی ٹیوٹ کے مطابق امریکہ ان جنگوں میں پانچ ٹریلین ڈالر سے زیادہ خرچ کر چکا ہے۔ کچھ اور اندازوں کے مطابق یہ خرچہ آٹھ ٹریلین ڈالر کا ہے۔لہذا اس سیریز میں ہم کوشش کریں گے کہ یہ بتایا جا سکے کہ جنگی تیاریاں، جنگی مشقیں، ہتھیاروں کے تجربات، دفاعی بجٹ اور خانہ جنگی کس طرح ماحولیات کو متاثر کر رہی ہےآبنائےہرمز وہ قدرتی آبی گذر گاہ ہے ہاں سے دنیا بھر میں استعمال ہونےوالے تیل اور قدرتی گیس کاپانچواں حصہ گذرتا ہے۔ لیکن ایران نے اپنے اوپر امریکی و اسرائیلی مشترکہ جنگ کے بعد اسے امریکہ، اسرائیل اور ان کے اتحادیوں کے جہازوں کے لیےبند کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ آبنائے ہرمز ایران کے شمالی ساحل سے متعلق ایک تنگ مگر انتہائی اہم آبی راہگذر ہے۔ 28 فروری سے جاری جنگی صورت حال میں ایران کی طرف سے کیے گئے اس اقدام کے باعث جہازوں کی تعداد 97 فیصد تک کم ہو گئی ہے۔



یہ اعدادو شمار اقوام متحدہ کی طرف سے دیا گیا ہے۔امریکہ جو اس خطے میں تقربآ دو ہفتوں سے جنگ کا کلیدی فریق ہے۔ اس کی کوشش ہےکہ جنگ جاری رہنے کے باوجود اس کے اثرات عالمی منڈیوں کے لیے تیل اور گیس کی فراہمی کے امور پر جنگی اثرات نہ پڑیں اور تیل اور گیس کی ترسیل سے متعلق اس کے اور اس کے اتحادیوں کے مفادات کا تحفظ ممکن رہے ۔ تاکہ توانائی کے کسی بحران کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ بلا شبہ توانائی کی ضرورت صرف امن کے دنوں میں ہی نہیں ہوتی جنگ کے دنوں میں اس کی ضروریات کئی سطحوں پر بڑھ جاتی ہیں۔خطرے میں کیاہے ؟جیساکہ اوپر کی سطور میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز ایک تنگ مگر انتہائی اہمیت کی حامل آبی راہداری ہے۔ یہ ایران اور اومان کے درمیان ہے۔ یہ خلیج اور خلیج اوان کوجوڑتی ہے۔ اس ناطے تیل کی ترسیل کا واحد راستہ ہے جو اس خطے میں پایا جاتا ہے۔ جسے کویت، ایران، قطر اور متحدہ عرب امارات وغیرہ بھی استعمال کرتے ہیںاس کی بندش اور جنگی اثرات کی زد میں آجانے سے دنیا میں تیل کی قیمتوں میں ایک بڑا اضافہ یوکرین کی جنگ کی وجہ سے ہوا تھا اور جس میں یوکرین پر روس نے فروری 2022 میں حملہ کیا تھا ۔ وہ جنگ ابھی تک جاری ہے۔ اب فروری 2026 میں امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف یوکرین کے خلاف روسی حملے سے کہیں زیادہ تیاری اور وسعت کے ساتھ ایک نئی جنگ چھیڑ رکھی ہے۔ اس تناظر میں اقوام متحدہ کو تشویش ہے کہ تیل کی قیمتیں مزید اونچی ہو جائیں گی۔جنگ کے اثرات صرف توانائی کے امور پر مرتب ہوتے میں ہوتے دنیا بھر کے لیے کھادوں کی تیاری و ترسیل بھی بھی متاثر ہوتی ہے اور کھادوں کی قیمتوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ یقینآ جنگ جوں جوں لمبی ہوتی جاتی ہے اس کے اثرات زرعی شعبے کو بی اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں


۔ اہم بات ہےکہ دنیا بھر میں استعمال کی جانے والی کھادوں کو 33فیصد بھی اسی آبنائے ہرمز سے گذرتا ہے۔یوں ایک پھیلتی چلی جانے والی جنگ جو خوش قسمتی سے امریکہ اور اسرائیل دونوں کی سرحدوں اور عوام کی زندگیوں اور مفادات سے ہزاروں میل کی دوری پر ہے اور دونوں ملکوں نے لازمآ مشکل جنگی دنوں کی بھی خود تو تیاری پیشگی بنیادوں پر کی ہوگی مگر اصل مسئلہ دوسرے ملکوں کو ہے جو کسی بھی اس جنگ میں شریک ہیں نہ اس کا دعویٰ رکھتتے ہیں۔



 اس لیے خطرہ 1970 کی دہائی میں ایندھن کی قیمتوں کے ذریعے پیداہونے والا تازہ بحران ایک نئے عالمی معاشی بحران کو جنم دے گا۔ایرانی دھمکی ؟پاسداران انقلاب کور نے انتباہکررکھا ہے کہ کہ آبنائے ہرمز سے اس کے سائے سے کوئی ایسا جہاز نہیں گزر سکے گا جسے ایران نہیں چاہے گا۔ ایسا جہاز جو بھی گذرے گا اسے نشانہ بنایا جائے گا، اب تک کم از کم 11 جہازوں کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔سمندر سفر اور نقل وحمل سے تعلق اعدادوشمار مرتب کرنے والے اور جائزے ترتیب دینے والے ایک ادارے کے مطابق ابتک زیادہ تر نقل وحمل رک چکی ہے۔ انتہائی کم تعداد باقی ہے جبکہ انشورینس کمپنیوں نے پریمیئم میں 300 فیصد اضافہ کر دیا ہے۔امریکہ اور دوسرے ملکوں کا وعدہ کیا ہے ؟صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 3مارچ کو کہا امریکہ کی اس جنگ کے دوران آبنائے ہرمز سے گذرنے والی ٹریفک کو تحفظ دیا جائے گا۔ تاکہ تیل کے بھرے ٹینکر آسانی سے گذرتے رہیں۔ ٹرمپ نے اس سلسلے میں امریکی ڈویلپمنٹ اینڈ فنانس کارپوریشن کو حکم جاری کیا کہ وہ جہاز راںکمپنیوں کو پوری طرح انشورنس اور ضمانتیں فراہم کرے۔ تاکہ جنگ بھی رہے اور امن بھی ہو۔فرانس کے صدر ایمانوئل میکروں نے کئی یورپی ملکوں کے علاوہ بھارت اور دیگر ایشیائی ملکوں سمیت منصوبہ بندی کررہے ہیں کہ جہازوں کو آبنائے ہرمز ،یں مشترکہ طور پر تحفظ فراہم کرنے کا اہتمام کیا جائے۔ تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ اجتماعی کوشش بحیرہ احمرکی طرح کی ہوگی جس کی صورت اسرائیل کی غزہ میں جنگ کے حامی یورپی ملکوں نے امریکہ کے ساتھ مل کر پیدا کی تھی۔ تاکہ حوثی حملے روکے جائیں اور مل کر حوثیوں کے یمن میں مراکز کو نشانہ بنایا جائے۔



البتہ ان کے مطابق یہ تحفظ بعد از جنگ دینے کا منصوبہ ہے۔ گویا جنگ کے بعد ایران کی اس آبنائے پر کنٹرول اور اجارہ داری کو باقی ررہنے نہیں دیا جائے گا، کہ یہ 'ہتھیار ' بھی ایران کے ہاتھ میں نہ رہے۔ان کے بقول فرانس اپنی بحری فوج کی 12 کے قریب جنگی کشتیاں اور ایک طیارہ بردار جہاز تعینات کرنے والا ہے۔ یہ فورس مشرقی بحر متوسط ، بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز کو امکانی طور پر دیکھے گا۔برطانوی وزیر اعظم کیر سٹارمر نے منگل کے روزجرمنی اور اٹلی کی قیادتوں سے اسی تناظر میں بات کی ہے تاکہ آبنائے ہرمز کو بے خطر بنایا جائے

جمعہ، 13 مارچ، 2026

چائے پاکستانی ثقا فت کا اہم جزو ہے

  سرکاری اور چائے کے کاروبار سے منسلک اداروں کے مطابق پاکستان میں ہر سال تقریباً دو کھرب روپے کی چائے قانونی طور پر درآمد کی جاتی ہے جبکہ محتاط اندازوں کے مطابق قانونی طور پر درآمد ہونے والے چائے کے علاوہ لگ بھگ ایک کھرب کی چائے پاکستان میں غیر قانونی طور پر لائی جا رہی ہے۔پاکستان میں پہلی مرتبہ چائے کی کاشت کا کامیاب تجربہ نیشنل ٹی ریسرچ انسٹیئیوٹ شنکیاری، جو کہ صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ میں واقع ہے، نے بفہ نامی علاقے میں کیا تھا۔پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں چائے کی ’کامیاب‘ کاشت محمد اختر نعیم کہتے ہیں کہ اُن کی معلومات کی حد تک ’پاکستان میں چائے کی کامیاب کاشت کے تجربے علاقے کی سیاسی و سماجی شخصیت اور مرحوم رستم خان ایڈووکیٹ نے پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں کیے تھے۔ رستم خان ایڈووکیٹ علاقے کے ایک بڑے زمیندار ہونے کے علاوہ اپنی زمینوں پر نئی فصلیں کاشت کرنے کے تجربے کرتے رہتے تھے۔‘وہ بتاتے ہیں کہ ’ایک برطانوی ڈاکٹر برابنٹ چائے کی کاشت کے ماہر تھے۔ وہ اس وقت کے قائم کردہ پاکستان ٹی بورڈ کی معاونت کر رہے تھے۔ انھوں نے کر اس وقت کے مغربی پاکستان میں چائے کی کاشت کے کامیاب تجربات کیے تھے۔ ڈاکٹر برابنٹ نے کئی مرتبہ رستم خان ایڈووکیٹ کے پاس پاکستان دورے کیے تھے پاکستان » مانسہرہ کے باغات جن کی چائے کو چینی کالج نے ’بہترین‘ چائے قرار دیامانسہرہ کے باغات جن کی چائے کو چینی کالج نے ’بہترین‘ چائے قرار دیاسی پیک روٹ کے متصل ضلع مانسہرہ کے علاقے شنکیاری میں چائے کے باغات کے ساتھ ہی چائے بنانے کی فیکٹری بھی لگائی گئی ہے




۔ کسان کو چائے کی فصل اگانے کے لیے پانچ سے چھ بار  قربانی دینی ہوتی ہے۔ اس لیے انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ و  ہ  کو  کسانوں کو معاوضہ دے تاکہ وہ اسے کاشت کرنے پر آمادہ ہوں۔انہوں نے کہا: ’اس بار 52 کروڑ ڈالر کی چائے درآمد کی ہے، اگر ہم چائے کا ایک ایک پیالہ بھی پینا چھوڑ دیں تو ہماری بچت ہو جائے گی۔‘خیبرپختونخوا کے ضلع مانسہرہ کے علاقے شنکیاری میں میلوں دور تک چائے کے باغات پھیلے ہوئے ہیں جن سے ملنے والی چائے کو چین کے ایک ادارے کی جانب سے بہترین چائے قرار دیے جانے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔شنکیاری میں 1986 میں قائم کیے گئے نیشنل ٹی اینڈ ریسرچ سنٹر کے ڈائریکٹر عبدالوحید کے مطابق پاکستان میں کاشت کی گئی چائے کو چین کے ٹین فو ٹی کالج نے 2008، 2009 اور 2013 میں بہترین چائے کا ایوارڈ دیا۔ان کا کہنا تھا کہ ٹین فو ٹی کالج دنیا کا واحد کالج ہے جہاں چائے پر تحقیق کی جاتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق شمالی علاقہ جات، کشمیر، مانسہرہ، بٹگرام اور سوات میں کل ایک لاکھ ایکڑ کے قریب زمین چائے کی کاشت کے لیے موزوں ہے۔ تاہم ملک میں اب تک صرف پانچ سو ایکڑ رقبے پر کی چائے کاشت کی جاتی ہے۔


 پاکستان میں استعمال ہونے والی زیادہ تر چائے درآمد ہوتی ہے۔،پاکستان اس وقت صرف 200ایکڑ پر چائے کی کاشت کرتا ہے یہ پاکستان کی چائے کی وسیع ضروریات کو پورا کرنے کے لئے کافی نہیں ہے، پا اس سے صرف سالانہ سات سے آٹھ ٹن چائے پیدا ہوتی ہے پاکستان دنیا میں چائے کے سب سے بڑے درآمد کنندگان میں سے ایک ہے۔ گوادر پرو کے مطابق چینی ثقافت کے تانے بانے میں چائے کی جڑیں گہری ہیں ۔چائے ایک عام، من پسند اور سستا مشروب ہے اس لیے اسے دنیا کے کئی ممالک میں شہری و دیہی علاقوں کے لوگ اسے شوق سے پیتے ہیں اور مہمانوں کی تواضع بھی اسی سے کرتے ہیں۔بطور ایک ڈاکٹر اور ایک سیاح، مجھے تو چائے کی شدید طلب رہتی ہے      چائے جسم کو تروتازہ اور چاق و چوبند رکھنے کے ساتھ نزلہ، سر درد اور زکام میں بھی راحت پہنچاتی ہے۔ ایک اور تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ چائے کینسر کی روک تھام میں بھی مددگار ہے۔پاکستان میں چائے کی کھپت اور درآمدچائے طویل عرصے سے دنیا بھر میں ایک محبوب مشروب رہا ہے، لیکن کچھ ممالک نے اس کی کھپت کو ایک فن کی شکل میں بڑھایا ہےان قوموں نے چائے پینے کا کلچر پروان چڑھایا ہے، جہاں چائے کے گرم گھونٹ، روزمرہ کی زندگی کا لازمی حصہ بن گئے ہیں۔

  ایک تحقیق کے مطابق 2021 میں پاکستان نے پانچ سو چھیانوے ملین ڈالر مالیت کی 2،258،000 کلو سبز اور کالی چائے درآمد کی تھی۔ یوں پاکستان 2021 میں سب سے زیادہ چائے درآمد کرنے والا ملک بن گیا۔2023 ۔پاکستان میں چائے کی کاشت کا آغازپاکستان میں چائے کی اہمیت اور ضرورت کو مدِنظر رکھتے ہوئے حکومتِ پاکستان نے 1982 میں چین سے چائے کی کاشت کا ایک معاہدہ کیا تھا جس کے تحت صوبہ خیبر پختونخواہ میں ایک تفصیلی سروے کے ذریعے چائے کے لیے موزوں علاقوں کا انتخاب کیا گیا۔ضلع مانسہرہ کے خوب صورت مقام، شنکیاری میں 33 ایکڑ رقبے پر چائے کی تجرباتی کاشت شروع کر دی۔ تجربہ کام یاب رہا تو ایک چائے ساز کمپنی نے بھی 1986 میں مانسہرہ کے مقام ''اچھڑیاں'' میں ایک تحقیقاتی اسٹیشن قائم کیا، جس کا کام شنکیاری میں پیدا ہونے والی چائے کا موازنہ عالمی منڈی میں دوسرے ممالک کی چائے سے کیا گیا۔ بین الاقوامی معیار پر پورا اترنے پر نہ صرف پاکستان کی کئی کمپنیوں نے اس پراجیکٹ میں بھرپور دل چسپی کا اظہار کیا بلکہ اردگرد کے کسانوں نے بھی اپنی زمینوں پر چائے کی کاشت شروع کردی۔نیشنل ٹی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، 1986 میں شنکیاری ضلع مانسہرہ میں 50 ایکڑ اراضی پر ریسرچ اسٹیشن کے طور پر قائم کیا گیا تھا جو نیشنل فوڈ سیکیوریٹی اسلام آباد کے تحت کام کر رہا تھا۔   
مضمون کی تیاری میں گوگل سے مدد لی گئ

جمعرات، 12 مارچ، 2026

ایک شخص نے بیٹی کی شادی پر 90 گھر غریبوں میں تقسیم کئے

 

اجے منوت اورنگ آباد، بھارت کے چھوٹے سے قصبے میں پیدا ہوئے بچپن اور جوانی شدید مشکلات اور محنت سے گزارا. مہاراشٹر آیا، کپڑے اور گندم کا کاروبار شروع کیا اور اپنی محنت سے لکھ پتی بن گئے. اجے نے اپنی بیٹی شریا منوت کی شادی کے لیے کروڑ روپے جمع کیے لیکن اس نے اپنی بیٹی کا جہیز نہیں بنایا، کپڑے جوتے اور زیورات نہیں بنائے،  داماد کو نئی گاڑی لے کر نہیں دی..اس نے اپنی بیوی، بیٹی اور داماد سے مشورہ کیا، دو ایکڑ زمین خریدی اور اس پر   نوے   گھر بنوا دئیے. پھر یہ گھر جھونپڑیوں میں رہنے والوں میں تقسیم کر دئیے. ہر گھر 20فٹ12 ہے، اس میں کچن بھی ہے، بجلی بھی ہے اور پینے کا صاف پانی بھی. گھر بانٹتے ہوئے اجے منوت کی فیملی نے خود کچی آبادیوں کا رخ کیا اور مستحق خاندانوں میں ہی گھر بانٹے گئے، یہ بھی خیال رکھا گیا کہ کوئی چرسی شرابی یا جرائم پیشہ یہ گھر نہ لے سکے.شادی کے دن شریا نے اپنے شوہر کے ساتھ مل کر خود گھروں کی چابیاں مستحق خاندانوں میں تقسیم کیں. نوے خاندانوں کے سینکڑوں افراد نے دولہا دلہن کی زندگی میں خوشیوں کے لیے دعائیں کیں اور یہ آج تک روزانہ صبح شام ان کے لیے دعائیں کر رہے ہیں. اجے منوت اور اس کی بیٹی جین مت کے ماننے والے ہیں، ان کا اللہ رسول سے، روز قیامت سے جزا و سزا سے جنت دوزخ سے کوئی لینا دینا نہیں ہے.



.اب آئیے پاکستان کی طرف، ملتان کے ایک امیر کبیر تاجر شبیر قریشی نے اپنے بیٹے نعمان کی شادی کی، بارات کے لیے دس لیموزین گاڑیاں منگوائی گئیں، دولہے کو سونے تاج پہنا کر شیر کے پنجرے پر بٹھایا گیا، اس کے علاوہ مہمانوں کی سینکڑوں گاڑیاں الگ تھیں. شادی کارڈز ہیلی کاپٹر سے پورے ملتان شہر پر پھینکے گئے۔ دلہن کے ماں باپ نے بھی اپنی بیٹی کو پانچ کروڑ روپے کا جہیز دیا جس میں ایک فل فرنشڈ گھر اور گاڑی شامل ہے. اس شادی پر ایف بی آر نے دونوں خاندانوں کو اثاثہ جات، آمدنی اور ٹیکس گوشواروں کی تفصیل جمع کروانے کے لیے نوٹس جاری کر دیئے۔قارئین، شبیر قریشی مسلمان ہے، اللہ اور روز آخرت پر یقین رکھتا ہے، یہ عاشق رسول بھی ہے اور اسے امت مسلمہ کی زبوں حالی پر پریشانی بھی ہے لیکن شبیر قریشی اجے منوت کی طرح قربانی اور ایثار کے لیے تیار نہیں.. شبیر قریشی جیسے پاکستان میں ڈھیروں امراء اشرافیہ موجود ہیں، یہ لوگ خود گاڑی میں بیٹھتے ہیں اور ملازموں کو ڈگی میں بٹھا دیتے ہیں، ملازموں کے ساتھ ہوٹل جاتے ہیں خود پیزا کھاتے ہیں اور ملازم کو ماش کی دال ملتی ہے. آپ شہر کی کسی بھی بڑی شادی کا حال دیکھ لیں، کروڑوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں، شرابیں چلتیں ہیں، کنجریوں پر لاکھوں پھینکے جاتے ہیں، لاکھوں کی فائرنگ ہوتی ہے، لیکن غریبوں کو ولیمے سے بچ جانے والا کھانا بھی نہیں ملتا..



آپ پاکستان کی تباہی و بربادی کی وجوہات تلاش کرنا چاہتے ہیں؟ اپنے اردگرد نظر دوڑائیں انگلیوں پر گن لیں اجے منوت جیسے کتنے ہیں اور شبیر قریشی؟شادی کی تصاویر اور ویڈیوز منظر عام پر آتے ہی مریم نواز سوشل میڈیا پر خصوصی توجہ کا مرکز بن گئی ہیں اور اس کی وجہ ان کے مہنگے جوڑے ہیں۔وزیراعلیٰ پنجاب نے اپنے بیٹے کی مہندی کی تقریب کے لیے مشہور پاکستانی ڈیزائنر نومی انصاری کے ڈیزائن کیے ہوئے پیلے رنگ کے خوبصورت لہنگے کا انتخاب کیا جس پر باریک گوٹا، کامدار کڑھائی اور نفیس نقش و نگار نمایاں ہیں۔نومی انصاری کی آفیشل ویب سائٹ پر جوڑوں کی قیمتیں درج نہیں ہوتیں لیکن  زیادہ تر ان کے ڈیزائن کیے ہوئے جوڑوں کی قیمت 5 لاکھ روپے سے زیادہ ہی ہوتی ہے۔مریم نواز نے بیٹے کی بارات کے دن پاکستانی ڈیزائنر اقبال حسین کے ڈیزائن کیے ہوئے خوبصورت جوڑے کا انتخاب کیا، ان کے جوڑے پر دھاگے اور سلور زردوزی کا بھاری بھرکم کام نمایاں تھا۔یہ خوبصورت جوڑا اقبال حسین کی پریمیم برائیڈل لائن میں شامل ہے اور برانڈ کی مخصوص قیمتوں کے مطابق اس جوڑے کی قیمت 2 سے 4 لاکھ روپے کے درمیان ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے صاحبزادے جنید صفدر کی اہلیہ شانزے علی روحیل کے بارات آؤٹ فٹ کی تفصیلات سامنے آگئیں۔جنید صفدر کی شادی کی تقریبات ان دنوں پوری آب و تاب کے ساتھ سوشل میڈیا پر چھائی ہوئی ہیں، شادی کی تقریبات کا آغاز جاتی اُمرا میں منعقدہ مہندی سے ہوا،


 جس میں شریف خاندان کے اہم افراد بشمول میاں نواز شریف، شہباز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر اعوان سمیت قریبی عزیز و اقارب نے شرکت کی۔ نکاح کی پروقار تقریب لاہور کے ایک خوبصورت فارم ہاؤس میں منعقد کی گئی،  اس موقع پر دلہا اور دلہن دونوں نہایت خوبصورت دکھائی دیے۔شانزے علی روحیل کا بارات پر پہنا گیا لباس فیشن حلقوں میں خاص طور پر سراہا گیا، انہوں نے معروف بھارتی ڈیزائنر ترون تہیلیانی کا تیار کردہ دیدہ زیب لباس زیب تن کیا جو حال ہی میں بالی ووڈ اداکارہ اننیا پانڈے بھی ایک تقریب میں پہن چکی ہیں۔ شانزے علی روہیل کی گہری سرخ ساڑھی پر مدھم سنہری اور آئیوری رنگ کے ریشمی دھاگوں، کشیدہ کاری اور سیکوئنز سے روایتی انداز میں نفیس کام کیا گیا تھا۔انہوں نے ساڑھی کے ساتھ بڑا دوپٹہ اوڑھا، جسے مختلف مواقع پر گھونگھٹ کے طور پر بھی استعمال کیا گیا، بلاؤز کو خاص طور پر شانزے علی روحیل کے لیے کسٹمائز کیا گیا تھا۔زیورات میں انہوں نے پولکی اور زمرد سے جڑا خوبصورت ہار اور بالیاں زیب تن کیں اور ہاتھوں میں چوڑیاں پہنیں، اگرچہ اس مخصوص ترون تہیلیانی کی ساڑھی کی درست قیمت عوامی طور پر ظاہر نہیں کی گئی، تاہم اسی نوعیت کی ہائی اینڈ ساڑھیاں اور لباس عموماً 2949 پاؤنڈ سے 6862 پاؤنڈ (تقریباً 32 لاکھ سے 75 لاکھ بھارتی روپے) کے درمیان فروخت ہوتے ہیں۔

بدھ، 11 مارچ، 2026

ولیہء کاملہ حضرت رابعہ بصری رحمہ اللہ

 

  حضرت رابعہ بصری    وہ ولیہ  ءکاملہ جنہوں نے اپنے زہدوتقویٰ، عبادت و ریاضت اور                   پاکیزگی وپرہیزگاری                         مخلوقِ خدا کی خدمت کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کے حضور بلند مقام حاصل کیا۔ رشدوہدایت کے راستوں پر چلانے والی ایک ہی ذات ہے۔ آپؒ کا شمار قرون اولیٰ کی اُن شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی زندگی کاہر پل اور ہر لمحہ اطاعت وبندگی کی نذر کرکے اپنے قلب و ذہن کو ربّ العالمین کے دربار میں سرگوشی ومناجات کے لیے وقف کردیا تھا۔ رابعہ بصریؒ کو جو بلند پایہ مقام اور اعلیٰ مرتبہ حاصل ہوا اُس کے پیچھے اسلامی تعلیم کی وہ برکتیں کارفرماہیں جن سے فیض پاکر رابعہ عدویہ نامی ایک عام خاتون حضرت رابعہ بصری رحمۃ اللہ علیہا جیسے بلند مقام پر فائز ہوگئیںرابعہ بصریؒ کی زندگی کے حالات وواقعات کا اکثر حصہ پردۂ اخفا میں ہے۔ قدیم تذکرہ نگاروں نے اس بارے میں بہت ہی کم لکھا ہے۔ آپ کی پیدائش کے بارے میں تذکرہ نگاروں نے   سنہ ۹۷؍ہجری بیان کیا ہے۔ مشہور فرانسیسی مستشرق میسنیون (Massignon)نے ۹۵؍ہجری یا ۹۹؍ ہجری پر زور دیا ہے اسی طرح ڈاکٹر مارگریٹ سمتھ نے بھی اپنے پی ایچ ڈی کے مقالہ (Rabia The Mystic) میں(جو کتابی شکل میں بھی شائع ہوچکا ہے ) ۹۵؍ یا ۹۹؍ ہجری کا ذکر کیا ہے۔ حضرت رابعہ بصریؒ کی پیدائش سے پہلے آپ کے والدین کے ہاں تین بیٹیوں کی پیدائش ہوچکی تھی۔ اسی مناسبت سے آپ کا نام رابعہ یعنی چوتھی رکھا گیا۔ 


۔ رابعہ بصریؒ کا بچپن عام بچوں سے قدرے مختلف تھا جو اسرارومعرفت کے متعدد واقعات کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔آپؒ بیان کرتے ہیں کہ جس رات آپ کی پیدائش ہوئی،اس روز شیخ اسماعیل کے ہاں کوئی فالتو کپڑا تک نہ تھا جو نومولودہ کو اوڑھایا جاسکتا، نہ ہی رات کے وقت چراغ جلانے کے لیے گھر میں تیل تھا اس حالت زار میں              ننھی رابعہ کی والدہ نے آپ کے والد سے کہا کہ ہمسائے کے گھر جاکر تھوڑا سا تیل مانگ لائیں تاکہ گھر میں روشنی کا کچھ بندوبست کیا جاسکے اور ننھی بچی کی ناف پر تیل لگایا جاسکے۔ شیخ اسماعیل نے اس بات کا عہد کر رکھا تھا کہ سوائے اللہ تعالیٰ کی ذات کے کبھی کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاؤں گا۔ مگر بیوی کے اصرار پر مجبوراً ہمسائے کے گھر گئے اور خالی ہاتھ لوٹ آئے۔.عربی زبان میں رابعہ کا مطلب چوتھی ہے.جب آپ کی ولادت ہوئی تو گھرمیں فاقوں کی نوبت تھی لہذا بی بی صاحبہ نے کہا پڑوس سے کچھ قرض لے لیں تا کہ یہ کڑوا وقت کٹ جائے. شیخ صاحب آدھی رات کو پڑوسی کے دروازے پر بادلِ نا خواستہ دستک دینے گئے کیونکہ غیر اللہ سے سوال کرنا ان کی غیرت ایمانی کو گوارہ نہ تھا. پڑوسی نیند میں تھا. کسی نے دروازہ کھٹکھانے کی آواز سنی نہ دروازہ کھولا. خالی ہاتھ گھر لوٹے تو بی بی صاحبہ بہت پریشان ہوئی. شیخ صاحب رحمۃاللہ علیہ بھی اسی پریشانی کے عالم میں سو گئے. خواب میں سرورِ کائنات حضرت محمّد صلی اللہ علیہ وسلّم تشریف لائے. بیٹی کی ولادت پر مبارک باد دی اور فرمایا اسمٰعیل! پریشان نہ ہو تیری یہ بچی عارفہ کاملہ ہو گی. اگر مالی پریشانی ہے تو صبح حاکم بصرہ عیسٰی زردان کے پاس جانا. میری طرف سے ایک خط لکھ لینا کہ تم مجھ پر ہر روز سو مرتبہ اور ہر جمعرات کو چار سو مرتبہ درود بھیجتے ہو. اس جمعرات کو تحفہ دینا بھول گئے ہو


.اس لئے چار سو دینار کفارہ حاملِ رقعہِ ہذا کو دے دو.صبح جب شیخ صاحب خط لے کر حاکم بصرہ عیسٰی کے پاس گئے تو اس نے دوڑ لگائی دروازے پر پہنچا. شیخ صاحب کا نہایت مودبانہ انداز میں شکریہ ادا کیا کہ آپ کی وجہ سے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلّم نے مجھے یاد فرمایا. اسی خوشی میں ہزار دینار غرباءمیں تقسیم کئے اور چار سو دینار شیخ صاحب کو دئیے.چار پانچ سال کی عمر میں ہی والدین کا سایہ سر سے اٹھ گیا. جب آٹھ برس کی عمر کو پہنچیں تو بصرہ سخت قحط کا شکار ہو گیااور کسی شقی القلب نے پکڑ کر آپ رحمۃ اللہ علیہ کو بصرہ کے ایک متمول شخص عتیق کے ہاتھوں بیچ دیا. چار پانچ سال تک آپ انکی خدمت کرتی رہی.انکا حاکم بہت ظالم تھا بہت بھوکا پیاسا رکھتا تھا اور سخت کام بھی لیتا. ایک روز آپ کسی کام سے جا رہی تھیں کہ کوئی نا محرم سامنے آ گیا.آپ اسے دیکھ کر بھاگیں، بھاگتے ہوئے ٹھوکر کھا کے گر گئیں اور ان کا ہاتھ ٹوٹ گیا. ربِّ کریم سے رو رو کر عرض کیا” میں غریب، یتیم اور قیدی ہوں، اب ہاتھ بھی ٹوٹ گیا، اس کا مجھے کچھ غم نہیں مگر میں چاہتی ہوں کہ ساری امانتیں، ہاتھ، پاؤں، عزت،جان وغیرہ جو تیری میرے پاس ہیں انھیں اسی طرح لوٹا دوں کہ تو مجھ سے راضی ہو جائے. ، اگر تو راضی نہیں تو پھر یہ سب میرے اعمال کی شامتیں ہیں”.. بس ایک پل میں ہی کایا پلٹ گئی،تاجر نے ان کی مناجات سن کر ان کو آزاد کر دیا. تاجر عتیق کی غلامی سے آزاد ہونے کے بعد سیدہ رابعہ بصرہ سے ایک بڑے علمی مرکز کوفہ چلی گئیں جہاں اس وقت کے بڑے بڑے علماء موجود رہتے تھے. وہاں آپ نے بہت کم وقت میں قرآن حفظ کر لیا.




 بڑے بڑے علماء آپ رحمۃاللہ علیہ سے بہت عقیدت رکھتے تھے اب ان کے گرد فرشتوں کی موجودگی کا ادراک حاصل کرلیا ایک مرتبہ آپ  کے گھر میں چور آیا اور آپ کی چادر اٹھا کر جانے لگا  تو باہر نکلنے کا راستہ ہی نظر نہیں آیا  چور نے چادر رکھ دی تو راستہ نظر آگیا  . چور کو آواز آئی اب بھی نہ باز آئے تو دائمی اندھے ہو جاؤ گے.اس گھر کی مالکہ ہماری دوست ہے،اور چور چادر چھوڑ کر چلا گیاایک دفعہ ایک بزرگ ملاقات اور کھانے کی خواہش سےحاضر ہوئے. سیّدہ رابعہ بصری نے گوشت ہنڈیا میں ڈال کر چولہے پر چڑھایا ہوا تھا لیکن آگ نہیں جلائی، زہدوتقوٰی کی گفتگو میں نہ بزرگ کو بھوک رہی اور نہ سیّدہ رابعہ کو آگ جلانے کا خیال آیا، دیکھا تو ہنڈیا میں لذیذکھانا پکا ہوا تھا.سب تعریفیں اللہ جل شانہ کیلئے ہیں جس کے سوا کوئی معبود نہیں، کوئی مالک نہیں، جو سب خزانوں، سب طاقتوں کا مالک ہے، جو ہمیشہ سے ہے ہمیشہ رہے گا، جس کا کوئی شریک کوئی ہمسر نہیں. باقی ہر شے فانی ہے. عدم سے وجود اور وجود سے عدم، یہی انسان کا اور ہر مخلوق کا مقدر ہے. اسی اصل تقدیر کے مطابق سیّدہ رابعہ طاہرہ عارفہ کاملہ بصریہ نے جس دوست کی رضا کے لئے زندگی گزار دی، اسی نے185 ہجری میں ملاقات کے لئے بلا لیا
خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

بابائے جدید طبیعیات ( گلیلیوگلیلی)حصہ دوم

  گلیلیو نے 1634ء اپنی اجرام فلکی سے متعلق  کتاب  کیا شائع کی تو سارا ملک اس کے خلاف ہو گیا اور روم کی مذہبی عدالت میں اس پر مقدمہ چلایا گیا...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر