ہمارے وطن پاکستان میں کیا کیا نعمتیں موجود ہیں اس کا اندازہ تب ہی ہوتا ہے جب ہم اپنی زات کے باہر جھانکتے ہیں تو آج پیارے وطن کے انتہائ اہم شہر سرگودھا اور فیصل آباد کے درمیان، دریائے چناب کے کنارے ایک خُوب صُورت شہر ’’چنیوٹ‘‘ کی بابت جاننے کی کوشش کرتے ہیں ۔ چنیوٹ کے نواحی علاقے چناب نگر میں واقع پہاڑی سلسلے کو سرگودھا ہی کا ایک حصّہ مانا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ پہاڑیاں تاریخی اہمیت کی حامل ہیں، جو اپنے اندر بہت سے تاریخی راز اور نوادرات سموئے ہوئے ہیں۔ تاہم ارباب اختیار کی عدم توجہی کے باعث اسمگلنگ مافیا بلا روک ٹوک ان قیمتی نوادرات کی چوری میں مصروف ہے۔ دوسری طرف سرکاری سرپرستی میں پتھر کے حصول کے لیے کی جانے والی کٹائی اور بارود کے ذریعے ہونے والی توڑ پھوڑ سے بھی اس قدیم تاریخی ورثے کو نقصان پہنچ رہا ہے۔مغل تاج دار، شاہ جہاں کے عہد میں مقامی وزیر، سعد اللہ خان کا تعلق بھی چنیوٹ سے تھا،یہاں نواب عنایت اللہ خان مگھیانہ سیال کی حکومت تھی نواب عنایت اللہ خان سیال نے جھنگ سے لے کر چنیوٹ تک حکومت قائم کر رکھی تھی احمد شاہ ابدالی کا حملہ اتنا زبردست تھا کہ نواب عنایت اللہ سیال نے ہتھیار ڈال دیے اور قلعہ ریختی پٹھانوں کے حوالے کر دیا اور خود واپس چلا گیا -
احمد شاہ ابدالی نےاپنے پوتے اور بہادر جرنیل مقصود خان درانی کو چنیوٹ کا گورنر مقرر کیا اس طرح درانی پٹھانوں کی حکومت قائم ہو گئی چنیوٹ پر درانی خاندان نے تقریباً چالیس سال حکومت کی 1805مقصود خان درانی کو ا ن کے انتقال کے بعد چنیوٹ میں واقع پہاڑی کے دامن میں دفن کیا گیا جسے اب محلہ مقصود آباد کہتے ہیں آپ کا مزار پہاڑی کے دامن میں بنایا گیا ہے آپ کو قطب شہید کہتے ہیں یعنی بڑا شہید سردار مقصود خان کے دو بیٹے تھے سردار عنایت اللہ خان اور سردار جمشیر خان جن کی اولاد اب بھی چنیوٹ میں موجود ہےتاریخ داں بتاتے ہیں کہ کسی زمانے میں یہاں نواب عنایت اللہ خان مگھیانہ سیال کی حکومت تھی نواب عنایت اللہ خان سیال نے جھنگ سے لے کر چنیوٹ تک حکومت قائم کر رکھی تھی احمد شاہ ابدالی کا حملہ اتنا زبردست تھا کہ نواب عنایت اللہ سیال نے ہتھیار ڈال دیے اور قلعہ ریختی پٹھانوں کے حوالے کر دیا اور خود واپس چلا گیا -احمد شاہ ابدالی نےاپنے پوتے اور بہادر جرنیل مقصود خان درانی کو چنیوٹ کا گورنر مقرر کیا اس طرح درانی پٹھانوں کی حکومت قائم ہو گئی چنیوٹ پر درانی خاندان نے تقریباً چالیس سال حکومت کی 1805قصود خان درانی کو چنیوٹ میں واقع پہاڑی پر دفن کر دیا گیاجسے اب محلہ مقصود آباد کہتے ہیں آپ کا مزار پہاڑی کے دامن میں بنایا گیا ہے آپ کو قطب شہید کہتے ہیں یعنی بڑا شہید سردار مقصود خان کے دو بیٹے تھے سردار عنایت اللہ خان اور سردار جمشیر خان جن کی اولاد اب بھی چنیوٹ میں موجودہے
چنیوٹ کے ولی کامل، حضرت شاہ برہان کا عالی شاہ مزار اسی شہر میں مرجع خلائق ہے۔ مغلیہ طرزِ تعمیر کا یہ مزار آج بھی ماضی کے دل کش دَور کی یاد دلاتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی کئی مذہبی، ثقافتی اورتاریخی مقامات ہیں، لیکن بادشاہی مسجد چنیوٹ، عمر حیات کا محل، دریائے چناب کا پل اور حضرت بوعلی قلندر کا مزار یہاں کے مشہور مقامات ہیں۔ یوں تو چنیوٹ شہر مختلف حوالوں سے معروف ہے، تاہم یہاں کا فرنیچر اپنی مثال آپ ہے، جو دنیا بھر میں اپنی خاص بناوٹ اور خُوب صورتی کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔ تعزیہ سازی کے فن نے بھی چنیوٹ میں جنم لیا۔ جب کہ انواع و اقسام کے مزے دار کھانے پکانے اور کیٹرنگ کے حوالے سے بھی یہ شہر ایک خاص شناخت رکھتا ہے۔ یہاں کے باورچی کھانے پکانے میں یکتا ہیں۔ کُنّے کا گوشت (مٹکے کا گوشت) اپنی لذّت کی بناء پر خاص سوغات میں شمار ہوتا ہے۔ اصلاح معاشرہ کے لیے شہر میں متعدد انجمنیں قائم ہیں۔جن میں انجمنِ اسلامیہ، انجمنِ اصلاح المسلمین، مفادِ عامّہ کمیٹی سمیت مختلف طبی، تعلیمی اور فلاحی ادارے شامل ہیں۔
یہاں کے تاریخی مقامات میں بادشاہی مسجد، شیش محل، دربار بُو علی قلندر المعروف شاہ شرف، دربار شاہ برہان، عُمر حیات محل وغیرہ شامل ہیں۔جب کہ تفریحی مقامات میں دریائے چناب، چناب پارک، قائد اعظم پارک، شاہی باغ، لاہوری گیٹ شامل ہیں۔ شہر کے لوگ خوش مزاج ہیں، دُکھ سُکھ میں ایک دوسرے کا ساتھ دیتے اورہمہ وقت ایک دوسرے کی مدد کرنے میں کمربستہ رہتے ہیں۔چنیوٹ شہر کے عین وسط میں واقع پہاڑوں کی اوٹ اور قبرستان سے ملحقہ علاقے میں موجود میناروں سے نکلنے والی روشنیاں پورے علاقے کو جگ مگ کرتی ہیں۔ یہ روشنی محلہ مسکین پورہ میں موجود حضرت احمد ماہی المعروف سائیں سُکھ کے ساڑھے دس کنال پر پھیلے مزار میں لگے برقی قمقموں کی ہوتی ہے۔ جب یہ روشنی محل کی دیواروں میں نصب شیشے پر منعکس ہوتی ہے، تو عمارت کے اندرونی حصّے میں انعکاس کی وجہ سے بلوریں چمک پیدا ہوتی ہے، جو مزار کی خُوب صُورتی کو مزید بڑھا دیتی ہے۔