منگل، 28 اکتوبر، 2025

کسی کے پیار کی جادو گری-تاج محل

 

 آگرہ میں  دریائے جمنا کے کنارے سنگ مر مر سے تعمیر کردہ تاج محل مغل فن تعمیر کا ایک عظیم شاہکار سمجھا جاتا ہے۔ یونیسیف نے اسے ’انڈیا میں مسلم فن تعمیر کا نگینہ اور دنیا کا ایک عظیم شاہکار‘ قرار دیا ہے۔مورخین کے مطابق تاج محل 1632 سے 1648 میں تعمیر ہوا تھا۔ سوشل میڈیا پر مورخ رانا صفوی نے ایک پوسٹ میں لکھا ہے کہ بادشاہ کے سرکاری مورخ عبدالحمید لاہوری نے اپنی کتاب 'بادشاہ نامہ' میں اس کی تعمیر کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ(تاج محل) کی تعمیر کا کام اس کی بنیاد رکھنے کے ساتھ شروع ہو گیا ہے۔'رانا صفوی نے مزید لکھا ہے کہ مورخ آر ناتھ نے اپنی کتاب 'تاج محل: ہسٹری اینڈ آرکیٹکٹ' میں لکھا ہے کہ 'شہنشاہ نے ممتاز محل کی قبر کے اوپر ایک بڑے گنبد کے ساتھ ایک ایسی شاندار عمارت تعمیر کرانے کا فیصلہ کیا جو  اس کی محبت کی یادگار کے طور پر  باقی رہے  ۔یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ ممتاز محل کی وفات کے بعد شاہ جہاں نے دو برس تک اپنا شاہی لباس نہیں پہنا اور دنیا ترک کر دی تھی 


 


اپنے فنِ تعمیر کی خوبیوں اور خصوصیات  کی بنا پر دنیا بھرکے عجائبات عالم میں شمار ہوتا ہے۔ ہر سال لاکھوں سیاح اس کو دیکھنے  کے لیے آتے ہیں۔شاہ جہاں آگرہ کے جنوب کی طرف زمین کی خوبصورتی  پر دل و جان سے فدا  تھا لیکن  جو جگہ شاہ جہاں کو پسند تھی وہاں  راجہ جئے سنگھ اول کی حویلی  موجود  تھی۔ اس نے ممتاز کے مقبرے کی تعمیر کے لیے اس جگہ کا انتخاب کیا جس کے بعد جئے سنگھ نے آگرہ کے وسط میں ایک بڑے محل کے بدلے اسے شہنشاہ شاہ جہاں کو دینے پر رضامندی ظاہر کی۔ اس طرح  دنیا کا نادر روزگار    تاج محل وجود میں آیا -دنیا کی مختلف زبانوں کے نظم و نثر میں تاج محل اور اس کے عجائب پر اس قدر لکھا جا چکا ہے کہ ان سب کا احاطہ بے حد مشکل ہے۔تاج محل مغل طرز تعمیر کا عمدہ نمونہ ہے۔ اس کی تعمیراتی طرز فارسی، ترک، بھارتی اور اسلامی طرز تعمیر کے اجزاء کا انوکھا ملاپ ہے۔ 1983ء میں تاج محل کو اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تعلیم، سائنس اور کلچر نے عالمی ثقافتی ورثے میں شمار کیا۔

 



 اس کے ساتھ ہی اسے عالمی ثقافتی ورثہ کی جامع تعریف حاصل کرنے والی، بہترین تعمیرات میں سے ایک بتایا گیا۔ تاج محل کو بھارت کے اسلامی فن کا عملی اور نایاب نمونہ بھی کہا گیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ عیسیٰ شیرازی نامی ایک ایرانی انجینئر نے اس کا نقشہ تیار کیا تھا، لیکن بادشاہ نامے میں لکھا ہے کہ خود شاہ جہاں نے اس کا خاکہ تیار کیا۔ یہ عمارت 1632ء سے 1650ء تک کل25 سال میں مکمل ہوئی۔ اس کی تعمیر میں ساڑھے چار کروڑ روپے صرف ہوئے اور بیس ہزار معماروں اور مزدوروں نے اس کی تکمیل میں حصہ لیا۔ تمام عمارت سنگ مرمر کی ہے۔ اس کی لمبائی اور چوڑائی 130 فٹ اور بلندی 200 فٹ ہے۔ عمارت کی مرمری دیواروں پر رنگ برنگے پتھروں سے نہایت خوبصورت پچی کاری کی ہوئی ہے۔ مقبرے کے اندر اور باہر پچی کاری کی صورت میں قرآن شریف کی آیات نقش ہیں۔

 



 عمارت کے چاروں کونوں پر ایک ایک مینار ہے۔ عمارت کا چبوترا، جو سطح زمین سے 7 میٹر اونچا ہے، سنگ سرخ کا ہے۔ اس کی پشت پر دریائے جمنا بہتا ہے اور سامنے کی طرف، کرسی کے نیچے ایک حوض ہے۔ جس میں فوارے لگے ہوئے ہیں اور مغلیہ طرز کا خوبصورت باغ بھی ہے۔دیگر باغ: تاج محل کے چاروں اطراف مختلف نوع کے چار باغ ہیں - یہ خوبصورت  باغات انتہائ ترتیب سے   لگائے گئے ہیں   لیکن کو ئ  باغ بہت بڑا ہے کوئ درمیانہ اور کوئ چھوٹا ہے ،  اور یہ سب باغات    تاج محل کا   اہم حصہ ہیں  اور  تاج محل کو خوبصورتی اور دلکشی فراہم کرتے ہیں ۔ہر سال اس تاریخی یادگار کو50 لاکھ افراد دیکھنے آتے ہیں۔ یہ تعداد بھارت کے کسی بھی سیاحتی مقام پر آنے والے افراد کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔ تاج محل مغلیہ دور کے فن تعمیر کا ایک عظیم شاہکار ہے اور ایک ایسی بے مثال عمارت ہے جو تعمیر کے بعد ہی سے دنیا بھر کے سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنی۔ محبت کی یہ لازوال نشانی شاعروں، ادیبوں، مصوروں اور فنکاروں کے لیے اگرچہ وجدان کا محرک رہی ہے لیکن حقیقت میں ایک مقبرہ ہے۔یہ مقبرہ 17-ہیکٹر (42-ایکڑ) کا عظیم الشان کمپلیکس ہے، جس میں ایک مسجد اور ایک گیسٹ ہاؤس شامل یہ تین طرف سے باغات  سے گھرا ہوا ہے۔ تاج محل اور اس کی ترتیب، ارد گرد کے میدان، اور ڈھانچے قومی اہمیت کی ایک یادگار ہیں، جو آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے زیر انتظام ہیں۔


تاج تیرے لیے اک مظہر الفت ہی سہی

تجھ کو اس وادیٔ رنگیں سے عقیدت ہی سہی

میری محبوب کہیں اور ملا کر مجھ سے

بزم شاہی میں غریبوں کا گزر کیا معنی

ثبت جس راہ میں ہوں سطوت شاہی کے نشاں

اس پہ الفت بھری روحوں کا سفر کیا معنی

میری محبوب پس پردہ تشہیر وفا

تو نے سطوت کے نشانوں کو تو دیکھا ہوتا

مردہ شاہوں کے مقابر سے بہلنے والی

اپنے تاریک مکانوں کو تو دیکھا ہوتا

ان گنت لوگوں نے دنیا میں محبت کی ہے

کون کہتا ہے کہ صادق نہ تھے جذبے ان کے

لیکن ان کے لیے تشہیر کا سامان نہیں

کیونکہ وہ لوگ بھی اپنی ہی طرح مفلس تھے

یہ عمارات و مقابر یہ فصیلیں یہ حصار

مطلق الحکم شہنشاہوں کی عظمت کے ستوں

سینۂ دہر کے ناسور ہیں کہنہ ناسور

جذب ہے ان میں ترے اور مرے اجداد کا خوں

میری محبوب انہیں بھی تو محبت ہوگی

جن کی صناعی نے بخشی ہے اسے شکل جمیل

ان کے پیاروں کے مقابر رہے بے نام و نمود

آج تک ان پہ جلائی نہ کسی نے قندیل

یہ چمن زار یہ جمنا کا کنارہ یہ محل

یہ منقش در و دیوار یہ محراب یہ طاق

اک شہنشاہ نے دولت کا سہارا لے کر

ہم غریبوں کی محبت کا اڑایا ہے مذاق

 میری محبوب کہیں اور ملا کر مجھ سے



 






پیر، 27 اکتوبر، 2025

ہم بچھڑے ہوؤں کی سن لوٍ-طورتک کی آنسوؤں بھری داستان پارٹ- 2

 



 






 طور تک  بلتی  علاقہ1971/16 دسمبر  تک پاکستان کا حصہ تھا جس کے بعد اس پر بھارت  قبضہ ہوا۔۔بلتی برادری زیادہ تر شیعہ مسلمان ہے۔ ان کی زبان، ثقافت اور خوراک مختلف ہے۔ ہرداسی نے بتایا کہ شیرین فاطمہ جیسی ہماری بلتی آرٹسٹ سرحد کی دوسری جانب بہت مشہور ہیں۔ اسی طرح پاکستان کے منظور بلتستانی کے گانے یہاں بہت ہٹ ہیں۔ ایک ہمہ موسمی سڑک علاقے کو قریبی شہر دسکیت سے جوڑتی ہے۔ یہ شہر بھی سو کلومیٹر دور ہے۔ گرمیوں میں روزانہ سو سے زیادہ سیاح اس گاؤں کا رخ کرتے ہیں۔گلگت بلتستان کے حافظ وزیراعلٰی حفیظ الرحمٰن سے گذشتہ ہفتے اسلام آباد میں کسی نجی ٹی وی کے رپورٹر نے کرگل سڑک کی بحالی کے حوالے سے سوال کیا، تو اُنہوں ناقابل یقین انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ خواہش تو ہماری بھی ہے لیکن اس سڑک کی بحالی کیلئے 100 ارب کا بجٹ چاہیئے وہ ہم کہاں سے لائیں۔ حالانکہ اسکردو کرگل شاہراہ ماضی میں آل ویدھر روڈ رہے ہیں اور بالکل آخری گاؤں (ہندرمو) تک سڑک بھی تیار ہے اور یہ اس شاہراہ کو پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط اور وسیع انداز میں بنایا جارہا ہے 100ارب کےبجٹ کی منطق سمجھ سے بالاتر ہے



 یہی صورتحال خپلو کی طرف کی بھی ہے (فرانو ) گاؤں تک سڑک تیار ہے، آگے صرف چند میل کی دوری پر بھارت کے زیر قبضہ بلتستان کا گاؤں تورتک آتا ہے۔کارگل کی بات کریں تو وہاں کے صحافی دانشور سیاست دان اس حوالے سے زیادہ فعال نظر آتے ہیں لیکن وہ ہندوستان کی ہٹ دھرمی کے آگے بےبس ہیں۔ اس حوالے سے گذشتہ سال جموں کشمیر کی وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے کرگل میں ایک عوامی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کرگل اسکردو اور تورتک خپلو سڑک کھولنے کی بات کی تھی، انہوں نے کہا تھا کہ اس سٹرک سے زمانہ قدیم کے تاریخی روابط پھر سے بحال ہو جائیں گے اور کرگل سنٹرل ایشیا کا گیٹ وے بنے گا۔محترم قارئین اپنے لوگوں کی جدائی کی تکلیف اور بچھڑ جانے کا غم تو وہی لوگ محسوس کر پائیں گے، جس کا بھائی لائن آف کنٹرول کی دوسری جانب ہو اور ایک بھائی کی شادی اس جانب ہو رہی ہو اور وہ اس میں شامل نہ ہو پارہا ہو


، یہ درد وہی محسوس کر سکتا ہے جس کی ماں بلتستان میں گزر چکی ہو اور اس کی موت کی خبر کئی سالوں بعد اس کے بیٹے کو کرگل میں ملے، غرض یہ کہ لائن آف کنٹرول صرف دو علاقوں کو تقسیم ہی نہیں کرتی بلکہ رشتوں، جذبات اور انسانیت کا بھی قتل کرتی ہے۔  یہاں تک کہ مظفر آباد اور سری نگر کے درمیان سرحدی کشیدگی کے باوجود ان علاقوں کے عوام کو آپس میں ملوانے کی غرض سے مظفر آباد سری نگر سٹرک کھول دی گئی ہے۔پونچھ اور راولاکوٹ کا رابطہ بھی کسی حد تک بحال کیا گیا،   قارئین افواج پاکستان کا گلگت بلتستان کی ترقی اور تعمیر میں جو کردار رہا ہے وہ کسی سے ڈھکا چُھپا نہیں۔ مختلف قدرتی آفات کے مواقع  پر افواج پاکستان کا عوام کی خدمت اور سہولت کیلئے جو ناقابل فراموش خدمات ہیں اُسے عوام بہتر انداز میں محسوس کرتے ہیں لیکن بتایا جاتا ہے کہ عوام کے کچھ افسران کے حوالے سے شکوے بھی ضرور تھے۔


 یقینا مقتدر حلقوں نے اس پر نوٹس لیا ہوگا اور آج کل گلگت بلتستان میں ایک ایسے درویش صفت انسان کو فورس کمانڈر گلگت بلتستان کی ذمہ داری ملی ہوئی ہے نہ صرف اعلٰی تعلیم یافتہ ہیں بلکہ اُنہوں نے گلگت بلتستان پر عسکری تربیت سے ہٹ کر تاریخی اور علمی سٹڈی بھی کی ہوئی ہے۔ وہ گلگت بلتستان کے مسائل کو بالکل اسی طرح سمجھتے ہیں جس طرح یہاں کے عوام محسوس کرتے ہیں۔ اُنہوں نے اپنے پی ایچ ڈی کے تھیسس میں گلگت بلتستان کی تاریخ اور یہاں کی محرومیوں کو بالکل ایسے بیان کیا ہے جیسے ہم ہمیشہ سے لکھتے بولتے رہے ہیں۔ فورس کمانڈر گلگت بلتستان میجر جنرل احسان محمود نے گذشتہ ہفتے بلتستان ریجن کا دورہ کیا، اور اپنے اس اہم دورے میں وہ چھوربٹ سے لیکر کھرمنگ گنگنی تک گئے عوامی مسائل سُنے، فوج کے زیراستعمال عوامی املاک عوام کو واپس کی۔ ساتھ اُنہوں نے دہائیوں سے حکومتوں سے مایوس عوام کو کرگل، اسکردو ور خپلو تورتک سڑک کی بحالی کے حوالے سے بڑی خوشخبری سُنانے کا بھی اعلان کردیا۔  خدا کرے کہ طورتک کے آنسوؤں کی زبان حکومت ہند بھی سمجھ جائے

اتوار، 26 اکتوبر، 2025

ہم بچھڑے ہوؤں کی سن لوٍ-تورتک کی آنسوؤں بھری داستان پارٹ -1



 



لداخ کی وادی نوبرا میں ترتوک اور تین دیگر گاؤں 1947 سے پاکستان کے ساتھ تھے۔ اس رات وہ ہندوستان کا حصہ بن گئےمقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ 2016 سے اب تک نہ کوئی یہاں سے وہاں جا سکا ہے اور نہ ہی کوئی ان سے ملنے آیا ہے۔ 38 گاووں میں نو ہزار بلتی خاندانو ں کا  یہ خطہ مقامی اور غیر مقامی          سیاحوں کاپسندیدہ گاوں-دوملکوں کی دشمنی میں عوام کوبھول گئےقراقرم پہاڑوں کے دامن میں واقع حسین ودلکش ترتوک گاوں قدیم تاریخ رکھتاہے۔اور اس کے سبب اس نے جو درد جھیلاہے،اسےلفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے۔ بٹوارے کے وقت  یہ گائوں پاکستان کا حصہ بنامگر ایک وقت وہ آیا جب صبح گائوں والے سو کر اٹھے تھے،انھوں نے خود کو ہندوستان میں پایا۔حاجی شمشیر علی سامنے دریائے شیوک بہتے دیکھ رہے ہیں۔ندی کے دوسرے کنارے کی دوری صرف 30 منٹ ہے۔ 50 سال گزر گئے لیکن وہ فاصلہ عبور نہیں کرسکے۔ اب ان کی عمر 86 برس ہے۔دریا کے اس کنارے، پاکستان کے گلگت بلتستان میں، شمشیر کے چھوٹے بھائی حاجی عبدالقادر رہتے ہیں۔ ندی اورآسمان نے ان دونوں کو جوڑے رکھا ہے ورنہ تقدیر نے بہت پہلے جدا کر دیاتھا۔

1


 سال تھا 1971 اور تاریخ تھی 16 دسمبرکی۔اس صبح جب ترتوک لوگ بیدار ہوئے تو انہوں نے اپنے آپ کو ایک نئے ملک میں پایا۔ ان کی شہریت راتوں رات بدل گئی تھی۔ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان لائن آف کنٹرول تھی اور یہاں رہنے والے 350 خاندانوں کی زندگیاں بدل گئی تھیں۔ آس پاس کے علاقوں میں رہنے والی بلتی برادری دو پڑوسیوں میں بٹی ہوئی ہے۔ترتوک میں خزاں بھی حسین ہےشمشیر علی ولد غلام حسین گِلی، ٹریول ایجنٹ ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ’’ان دنوں زیادہ تر نوجوان پڑھائی یا کام کے سلسلے میں اسکردو اور لاہور جیسے شہروں میں جایا کرتے تھے۔ جب سرحد بدلی تو گاؤں میں صرف چند جوان اور بوڑھے رہ گئے۔ جنگ کے بعد بہت سے شوہر اپنی بیویوں سے، باپ اپنے بیٹوں سے اور بھائی اپنے بھائیوں سے الگ ہوگئے۔'شمشیر کے بھائی قادر جنگ کے دوران اسکردو میں تھے۔ غلام حسین یاد کرتے ہیں، 'شروع میں ہمیں یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ زندہ ہیں یا نہیں۔ ان کی بیوی یعنی میری خالہ یہاں ہمارے ساتھ تھیں۔سردموسم میں برف پوش پہاڑیاں ہم مہینوں انتظار کرتے رہے کہ ان کی کوئی خبر ملے۔ پھر ایک دن اسکردو ریڈیو پر ان کے نام کا اعلان ہوا۔ ہم اس دن ریڈیو کو گلے لگا کر بہت روئے تھے۔

 

 یہ سرحد ہمارے دلوں پر لکیر بنی ہوئی ہے۔اس کے بعد خطوط اور ملاقاتوں کا طویل انتظار شروع ہو گیا۔ دونوں طرف سے ویزے کا حصول ایک مشکل کام تھا۔ خط تو آتے لیکن کئی بار پیدائش اور موت کی اطلاع مہینوں اور برسوں بعد ملتی تھی۔بالآخر 1989 میں دونوں بھائیوں کی مکہ میں ملاقات ہوئی۔ دونوں وہاں حج کرنے گئے تھے۔ شمشیر علی کو اس سے ملنا،اور اپنے بھائی کو پکڑ کر رونا یاد ہے۔اس کے باوجود فضل عباس خوش قسمت تھے۔ ان کے بھائی محمد بشیر اس وقت پاکستان میں زیر تعلیم تھے۔ 2013 میں انھیں ویزا ملا اور وہ اپنے خاندان سے ملے۔عباس کہتے ہیں، 'والد کو ہمیشہ بشیر کی یاد آتی رہتی تھی اور وہ ان کی یاد کے ساتھ ہی دنیا سے گئے لیکن کم از کم میری ماں اپنے چھوٹے بیٹے سے مل سکی تھی۔میں بھی 42 سال بعد اپنے بھائی سے ملا۔ عباس پولیس والے ہیں۔ دراس میں پوسٹنگ ہے۔ وہ اپنے بھائی کو لینے دہلی گئے تھے۔ پورا گاؤں ان کے استقبال کے لیے سجا تھا۔ بشیر جب دو ماہ بعد واپس جارہے تھے تو سب کی آنکھوں میں آنسو 

 





تھے۔عباس کہتے ہیں، 'الوداع کہنا بہت مشکل تھا'۔ بشیر کو دوبارہ ویزا نہ مل سکا۔ وہ علاقائی جغرافیائی سیاست کے اتار چڑھاؤ کے ساتھ سکون سے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ منقسم خاندانی رابطہ کمیٹی کے رکن صادق ہرداسی کہتے ہیں، 'دونوں ملکوں کی دشمنی میں بلتی برادری کو بھلا دیا گیا ہے۔غلام حسین اسی نکتے کو آگے بڑھاتے ہیں، 'جب بھی ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات میں تلخی آتی ہے تو ہم جیسے لوگوں کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔' اکثر نے اس سچائی کو قبول کیا اور اس کے ساتھ صلح کر لی۔محکمہ بجلی سے ریٹائر ہونے والے ثناء اللہ کے بھائی کی اہلیہ پاکستان میں پھنس گئیں۔ ثناء اللہ نے بتایا کہ ان کے بھائی نے 12 سال انتظار کیا۔ سوچا پھر ملیں گےلیکن آخر کار صبر کا پیمانہ لبریز ہوا اور ایک دن انھوں نے طلاق نامہ بھیج دیا۔ ثناء اللہ کا سوال یہ ہے کہ کوئی کب تک جھوٹی امید لے کر بیٹھ سکتا ہے؟ٹکنالوجی نے کم کیا فاصلہ تاہم، حالیہ برسوں میں ٹیکنالوجی نے کچھ ریلیف دیا ہے۔ ٹیکنالوجی نے ایل او سی کی وجہ سے آنے والی دوری کو ختم کرنے میں مدد کی ہے۔عباس نے کہا، 'اب ہم فون پر بات کر سکتے ہیں۔



 

 ہم بچھڑے ہوؤں کی سن لوٍ-تورتک کی آنسوؤں بھری داستان  -نیٹ ورک کا مسئلہ ہے، لیکن اب کم از کم ہم ایک دوسرے سے کٹے ہوئے نہیں ہیں۔پاکستان میں گلگت بلتستان اور ہندوستان میں لداخ، اتراکھنڈ اور جموں و کشمیر میں رہنے والی اس چھوٹی سی برادری کے لوگوں کو موسیقی اور شاعری کے دھاگے نے جوڑ رکھا ہے۔بلتی برادری زیادہ تر شیعہ مسلمان ہے۔ ان کی زبان، ثقافت اور خوراک مختلف ہے۔ ہرداسی نے بتایا کہ شیرین فاطمہ جیسی ہماری بلتی آرٹسٹ سرحد کی دوسری جانب بہت مشہور ہیں۔ اسی طرح پاکستان کے منظور بلتستانی کے گانے یہاں بہت ہٹ ہیں۔ترتوک ایک طویل عرصے سے باقی دنیا سے کٹا ہوا تھا۔ اسے 2010 میں سیاحوں کے لیے کھول دیا گیا تھا۔ ایک ہمہ موسمی سڑک علاقے کو قریبی شہر دسکیت سے جوڑتی ہے۔ یہ شہر بھی سو کلومیٹر دور ہے۔ گرمیوں میں روزانہ سو سے زیادہ سیاح اس گاؤں کا رخ کرتے ہیں۔ترتوک کے سرپنچ عنایت اللہ کا کہنا ہے کہ 'لوگ یہ دیکھنے آتے ہیں کہ ہم اتنے مشکل حالات میں کیسے رہتے ہیں؟'وبا سے پہلے غیر ملکی سیاح بلتی خاندان کے ساتھ رہتے تھے، کھاتے تھے اور یہاں کی ثقافت کے بارے میں جانتے تھے۔  یہاں کے لوگ  شکوہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم نے ہر دور میں حکومتوں کو خطے لکھے لیکن ہم مایوس ہوئے۔


 

  

ہفتہ، 25 اکتوبر، 2025

انڈونیشیا کی ثقافتی کشتی ریس میں ننھا ڈانسرریان

انڈونیشیا میں کشتی رانی کے مقابلے کی تاریخ کئ سو سال پرانی ہے اس مقابلے میں بہت بڑی تعداد میں کشتیا ں شامل ہوتی ہیں ہر کشتی پر متعدد کشتی راں  اپنے ہاتھوں میں چپو لے کر بیٹھے ہوتے ہیں جو  ریفری کی وسل کے ساتھ چپو چلاتے ہوئے سمندر کے سینے پر دوڑنے لگتے ہیں -کشتی رانوں کی ہمت افزائ کے لئے ایک ایک کشتی راں بغیر چپو کے کھڑا ہوتا ہے جو گیت گا کر یا نعرے لگا کر اپنی کشتی کے ملاحوں کی ہمت بندھاتا ہے ایسے ہی ایک کشتی پر آ پ گیارہ برس کے ننھے ڈانسر ریان کو دیکھ سکتے ہیں ریان ارکان بھی اپنی ٹیم کی حوصلہ افزائی کے لیے کشتی کے فرنٹ پر ڈانس میں محو تھا کہ ان کی ویڈیو نے دنیا بھر کی توجہ حاصل کرلی اور ان کا کیا گیا ڈانس ورلڈ سینسیشن بن گیا۔کالا چشمہ اور نیلا لباس پہنے کشتی پر جھومتے 11 سالہ ریان کون ہیں جن کا ڈانس دنیا بھر میں وائرل ہو رہا ہےیہ پہلے صرف ایک ڈانس تھا،پھر وائرل میم بنا اور اب بڑے ایتھلیٹ اس رقص میں شامل ہو گئے ہیں۔


 گذشتہ کچھ  مہینوں  پہلے   سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر ایک ویڈیو بار بار نظر آتی  رہی ہے جس میں ایک انڈونیشین لڑکا ریس میں حصہ لینے والی کشتی کے کنارے کھڑا رقص کر رہا ہے۔ اس کم عمر لڑکے نے نیلے رنگ کا لباس پہنا ہوا ہے، آنکھوں پر کالا چشمہ ہے اور سر پر ایک ٹوپی بھی پہنی ہوئی ہے۔سوشل میڈیا پر اس لڑکے کے عمل کو 'اورا فارمنگ' کے مترادف قرار دیا جا رہا ہے۔ 'اورا فارمنگ' انٹرنیٹ پر استعمال ہونے والی ایک اصطلاح ہے جس کا مطلب لوگوں پر سحر طاری کرنا ہوتا ہے۔اس لڑکے کا یہ ڈانس اتنا وائرل ہو چکا ہے کہ امریکی فٹبالر ٹریوس کیلسی، فارمولہ ون ڈرائیور ایلکس ایلبن اور پیرس سینٹ جرمین کی فُٹبال ٹیم بھی انھیں کاپی کرتی ہوئی نظر آئی۔دنیا کی بڑی بڑی شخصیات کو اپنے سحر میں جکڑ لینی والی اس ویڈیو کے پیچھے ایک 11 سالہ لڑکا ہے جس کا نام ریان ارکان ہے۔انھوں نے بی بی سی انڈونیشیا کو بتایا کہ اس ویڈیو کو بنانے کا آئیڈیا انھیں یوں ہی اچانک بیٹھے بیٹھے آگیا۔وہ کہتے ہیں کہ 'یہ ڈانس میں نے خود بنایا تھا اور یہ سب بہت اچانک ہوا۔'ریان کا تعلق انڈونیشیا کے علاقے کوانتان سنگنگی ریجینسی سے ہے اور وہ پانچویں جماعت کے طالب علم ہیں۔


 یہ ویڈیو اس وقت بنائی گئی تھی جب وہ پہلی مرتبہ کشتیوں کی ریس (پاکو جالور) میں پہلی مرتبہ حصہ لے رہے تھے۔ کشتی میں سوار ریان دراصل 'توگک لوان' تھے۔ 'توگک لوان' کا کام کشتی چلانے والوں کو پُرجوش رکھنا ہوتا ہے۔سوشل میڈیا پر ہر طرف پھیل جانے والی اس ویڈیو میں ریان انڈونیشیا کا ثقافتی لباس تیلوک بیلنگا پہنے ہوئے ہیں جبکہ انھوں نے سر پر مالے ریو رومال سر پر باندھا ہوا ہے۔جس کشتی کے کنارے پر کھڑے ہو کر وہ ہوائی بوسے اچھال رہے ہیں اور رقص کر رہے ہیں اُسے دراصل 11 لوگ مل کر چلا رہے ہیں۔اس ویڈیو کو متعدد گانوں کے ساتھ شیئر کیا جا رہا ہے اور جون سے لے کر اب تک اس ویڈیو پر کروڑوں ویوز آ چکے ہیں۔ایک ویڈیو کلپ کے نیچے کمنٹ میں لکھا ہے کہ 'اس لڑکے کو 'دا ریپر' کہا جاتا ہے کیونکہ وہ کبھی شکست نہیں کھاتا۔'ایک اور سوشل میڈیا صارف نے لکھا کہ 'یہ بھائی مخالفین کو شکست بھی دے رہے ہیں اور ساتھ ساتھ لوگوں کو اپنے سحر میں بھی جکڑ رہے ہیں۔'سوشل میڈیا پر بہت سارے صارفین ریان کے ڈانس کی نقل کر کے اپنی ویڈیوز اپلوڈ کر رہے ہیں۔


ایک اور سوشل میڈیا صارف نے لکھا کہ 'یہ بھائی مخالفین کو شکست بھی دے رہے ہیں اور ساتھ ساتھ لوگوں کو اپنے سحر میں بھی جکڑ رہے ہیں۔'سوشل میڈیا پر بہت سارے صارفین ریان کے ڈانس کی نقل کر کے اپنی ویڈیوز اپلوڈ کر رہے ہیں۔سپورٹس ٹیموں نے بھی ان کی ویڈیو کو دیکھا ہے۔ یکم جولائی کو فرانسیسی فٹبال ٹیم پیرس سینٹ جرمین نے بھی اپنے ٹک ٹاک اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو اپلوڈ کی تھی جس میں کھلاڑی ریان کی طرح ڈانس کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔اس ویڈیو کو صرف پہلے دس دنوں میں 70 لاکھ مرتبہ دیکھا گیا تھا۔بدھ کو انڈونیشیا کے وزیرِ ثقافت فضلی زون نے ریان کی ویڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ 'کشتی کے کنارے پر رقص۔ شاید اسی وجہ سے اس کردار کے لیے بڑوں کے بجائے بچوں کا انتخاب کیا جاتا ہے کیونکہ ان کے لیے اپنا توازن برقرار رکھنا آسان ہوتا ہے۔'تاہم ریان کی والدہ رانی رداوتی کہتی ہیں کہ وہ اپنے بیٹے کے رقص کو دیکھ کر پریشان ضرور ہوئی تھیں 'یہ پریشانی لاحق رہتی ہے کہ کہیں وہ گِر ہی نہ جائے۔' تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ ان کے بیٹے ایک ماہر تیراک ہیں۔'اگر وہ کبھی پانی میں گِر جائے تو مجھے ڈر لگتا ہے کہ کہیں وہ چپّو لگنے سے زخمی نہ ہو جائے۔'

بدھ، 22 اکتوبر، 2025

آسمان کی خوبصورت زینت"چاند"

 



 · 
چاند ہماری زمین کا ایک سیارچہ ہے۔ زمین سے کوئی دو لاکھ چالیس ہزار میل دور ہے۔ اس کا قطر 2163 میل ہے۔ چاند کے متعلق ابتدائی تحقیقات گلیلیو نے 1609ء میں کیں۔ اس نے بتایا کہ چاند ہماری زمین کی طرح ایک کرہ ہے۔ اس نے اس خیال کا بھی اظہار کیا کہ چاند پر پہاڑ اور آتش فشاں پہاڑوں کے دہانے موجود ہیں۔ اس میں نہ ہوا ہے نہ پانی۔ جن کے نہ ہونے کے باعث چاند پر زندگی کے کوئی آثار نہیں پائے جاتے۔ یہ بات انسان بردار جہازوں کے ذریعے ثابت ہو چکی ہے۔ دن کے وقت اس میں سخت گرمی ہوتی ہے اور رات سرد ہوتی ہے۔ یہ اختلاف ایک گھنٹے کے اندر واقع ہو جاتا ہے۔چاند کا دن ہمارے پندرہ دنوں کے برابر ہوتا ہے۔ یہ زمین کے گرد 29 یا 30 دن میں اپنا ایک چکر پورا کرتا ہے۔ چاند کا مدار زمین کے اردگرد بڑھ رہا ہے یعنی اوسط فاصلہ زمین سے بڑھ رہا ہے۔ قمری اور اسلامی مہینے اسی کے طلوع و غروب سے مرتب ہوتے ہیں۔ چاند ہمیں رات کو صرف تھوڑی روشنی ہی نہیں دیتا بلکہ اس کی کشش سےسمندر میں مد و جزر بھی پیدا ہوتا ہے۔


سائنس دان وہاں سے لائی گئی مٹی سے اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ چاند کی ارضیات زمین کی ارضیات کے مقابلے میں زیادہ سادہ ہے۔ نیز چاند کی پرت تقریباً میل موٹی ہے۔ اور یہ ایک نایاب پتھر اناستھرو سائٹ سے مل کر بنی ہے۔چاند کی ہییت کے متعلق مختلف نظریات ہیں، ایک خیال یہ ہے کہ یہ ایک سیارہ تھا جو چلتے چلتے زمین کے قریب بھٹک آیا، اور زمیں کی کشش ثقل نے اسے اپنے مدار میں ڈال لیا۔ یہ نظریہ خاصہ مقبول رہا ہے، مگر سائنسدانوں نے اعتراض کیا ہے کہ ایسا ممکن ہونے کے لیے چاند کو ایک خاص سمتار سے زمین کے قریب ایک خاص راستے (trajectory) پر آنا ضروری ہو گا، جس کا امکان بہت ہی کم ہے۔ 
ہمارا ایمان ہے کہ سورج اور چاندبھی اللہ کی مخلوق ہیں جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا {وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ وَالشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ كُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ} وہی اللہ ہے جس نے رات اور دن، سورج اور چاند کو پیدا کیا ہے ان میں سے ہر ایک اپنے اپنے مدار میں تیرتے پھرتے ہیں ۔( الأنبیاء : ۳۳ )



ہمارا ایمان اس بات پر بھی ہے کہ سورج اور چاند دو نوں چلتے ہیں جیسا کہ اللہ سبحانہ تعالی نے فرمایا {وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ(۳۸) اور سورج کے لئے جو مقررہ راہ ہے وہ اسی پر چلتا رہتا ہے یہ ہے مقرر کردہ غالب، باعلم اللہ تعالیٰ کا(۳۸) وَالْقَمَرَ قَدَّرْنَاهُ مَنَازِلَ حَتَّى عَادَ كَالْعُرْجُونِ الْقَدِيمِ(۳۹) اور چاند کی منزلیں مقرر کر رکھی ہیں کہ وہ لوٹ کر پرانی ٹہنی کی طرح ہوجاتا ہے (۳۹) لَا الشَّمْسُ يَنْبَغِي لَهَا أَنْ تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَلَا اللَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ وَ كُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ(۴۰)} نہ آفتاب کی یہ مجال ہے کہ چاند کو پکڑے اور نہ رات دن پر آگے بڑھ جانے والی ہے اور سب کے سب آسمان میں تیرتے پھرتے ہیں (۴۰) ۔ (یس :۳۸-۴۰)اور یہ دونوں اللہ کے حکم سےچلتے ہیں، ان دونوں کےچلنے میں بندوںہی کافائدہ ہے اور یہ اللہ تعالی کی طرف سے بندوں کے لئے بہت بڑی رحمت ہے جیسا کہ قرآن کہتا ہے { وَسَخَّرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دَائِبَيْنِ وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ}اسی نے تمہارے لئے سورج چاند کو مسخر کردیا ہے کہ برابر ہی چل رہے ہیں اور رات دن کو بھی تمہارے کام میں لگا رکھا ہے ۔(ابراھیم :۳۳)


انسان کی رہنمائی کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس کو حواس خمسہ کی نعمت سے بہرہ ور کیا ہے لیکن حواس خمسہ کئی مرتبہ حقیقت کا ادراک کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔ اس کی ایک مثال سراب ہے کہ انسان صحرا یاچمکتی ہوئی دوپہر میں کچھ فاصلے پر پانی کھڑا ہوا محسوس کرتا ہے لیکن حقیقت میں یہ نظر کا دھوکا ہوتا ہے۔ عقل انسانی اس کی رہنمائی کرتی ہے کہ آنکھ حقیقت کو نہیں دیکھ پا رہی۔ اسی طرح بخار کی حالت میںجب میٹھی چیزبھی انسان کو کڑوی محسوس ہوتی ہے تو انسان کی عقل اس کی رہنمائی کرتی ہے کہ اشیاء حقیقت میں کڑوی نہیں ہیں بلکہ بخار کی وجہ سے کڑوی محسوس ہورہی ہیں۔ حواس خمسہ کو لگنے والے ٹھوکر کی صورت میں انسان کی رہنمائی اس کی عقل کرتی ہے۔ اسی طرح اگر انسانی عقل حیرانگی ،تشویش، وہم اور شکوک و شبہات کا شکار ہو جائے تو وحی الٰہی انسان کی رہنمائی کا فریضہ سر انجام دیتی ہے۔ وحی کی رہنمائی کے بغیر انسان عقائد اور ایمانیات کے باب میں کئی مرتبہ حیرانگی کا شکار ہو جاتا ہے ۔ اسی لیے ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ دنیا کے معاملات میں اچھی خاصی سمجھ بوجھ رکھنے والے لوگ بھی کئی مرتبہ پتھروں، مورتیوں اوربتوں کے سامنے سر جھکا دیتے ہیں۔کچھ یہی معاملہ اجرام سماویہ کے ساتھ بھی رہا ہے ۔ مختلف ادوار کا انسان ستاروں کے بارے میں مافوق الفطرت تصورات کا حامل رہا ہے ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قوم کے لوگ بت پرستی کے ساتھ ساتھ ستارہ پرست بھی تھے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یکے بعد دیگرے چاند ،ستارے اورسورج کی حقیقت پر غور کیا اور جب ہر ایک کو  ڈوبتے ہوئے دیکھا تو بستی کی بداعتقادی سے لاتعلقی کا اظہار فرما    یا

ازمنہ قدیم میں گھر 'گھر بتوں کی پوجا کیسے شروع ہوئ

 

 


 


حضرت نوح (علیہ السلام) کے والد کا نام شیث تھا-والدہ کا نام قیشوش بنت برکابیل تھا‘‘- آپ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے اس وقت مبعوث فرمایا جب بتوں کی عبادت اورشیطانوں کی  اطاعت شروع ہوچکی تھی-لوگ کفراور گمراہی میں مبتلا ہوچکے تھے  کلام مقدس میں بارہا مقامات پر بتوں کی پوجا سے روکا گیا ہے اور ان کی مذمت اور بے بسی کا جابجا ذکر کیا گیا ہے کہ نفع اور نقصان کا تعلق ان سے نہیں اور نہ ہی یہ کسی کا نفع کرسکتے ہیں جب ان کی ماندگی کا یہ عالم ہے کہ اپنے اوپر سے مکھی کو بھی نہیں اُڑا سکتے تو تمہارا نفع اور نقصان کیا کرسکتے ہیں-تو گھر 'گھر بت رکھنے  کی ابتداء کیسے ہوئی ؟ابن جریر ؒ نے اپنی سند کے ساتھ محمد بن قیس سے روایت کی ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) اور نوح (علیہ السلام)کے درمیان کچھ نیک لوگ تھے اور ان کے پیروکار ان کی اقتداء کرتے تھے جب وہ نیک لوگ فوت ہوگئے تو ان کے پیروکاروں نے کہا کہ اگر ہم ان کی تصویریں بنائیں تو اس سے ہماری عبادت میں زیادہ ذوق اور شوق ہوگا سو انہوں نے اُن نیک لوگوں کی تصویریں بنادیں-


جب وہ فوت ہوگئے اور ان کی دوسری نسل آئی تو ابلیس ملعون نے ان کے دل میں یہ خیال ڈالا کہ ان کے آباء تصویروں کی عبادت کرتے تھے اور اسی سبب سے ان پر بارش ہوئی سو انہوں نے ان تصویروں کی عبادت کرنا شروع کردی-وَد، یغوث، یعوق، سراغ، نسر ودان تمام نیک تھا-امام ابن حاتم ؒ نے امام باقر ؒ سے روایت کی کہ وَد ایک نیک شخص تھا اوروہ اپنی قوم میں بہت محبوب تھا-جب وہ فوت ہوگیا تو اس کی قوم کے لوگ بابل کی سرزمین میں اس کی قبر کے اردگرد بیٹھ کر روتے رہے-جب ابلیس نے ان کی آہ و بکاہ دیکھی تو وہ ایک انسان کی صورت میں    آیا اور کہنے لگا مَیں نے تمہارے رونے کو دیکھا ہے تو تمہارا کیا خیال ہے کہ مَیں تمہارے لئے بت کی ایک تصویر بنادوں تم اپنی مجلس   میں اس تصویر کو دیکھ کر اسے یاد کیا کرو تو انہوں نے اس سے اتفاق کیا تو اس نے بت کی تصویر بنادی جس کو وہ اپنی مجلسوں میں رکھ کر اس کا ذکر کیا کرتے-


جب ابلیس نے یہ منظر دیکھا تو کہا مَیں تم میں سے ہر ایک کے گھر بت کا ایک مجسمہ بناکر رکھ دوں تاکہ تم میں سے ہر شخص اپنے گھر میں بت کاذکر کیا کرے انہوں نے اس بات کو بھی مان لیا پھر ہر گھر میں وَد کا ایک بت بنا کر رکھ دیا گیا- پھر ان کی اولاد بھی یہی کچھ کرنے لگی پھر اس کے بعد ان کی جو بھی  نسلیں آئیں تو وہ بھول گئی کہ وَد ایک انسان تھا- وہ اس  کوخدا مان  کر اس کی عبادت کرنے لگیں -پھر انہوں نے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر اس بت کی پرستش شروع کردی -پس اللہ پاک کو چھوڑ کر جس بت کی سب سے پہلے پرستش شروع کی گئی وہ وَد نام کا بت تھا


-حافظ ابن عساکر(رضی اللہ عنہ)حضرت شیث علیہ السلام کے واقعہ میں حضرت ابن عباس (رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت آدم( علیہ السلام) کے چالیس (۴۰)بچے تھے بیس (۲۰)بیٹے اور بیس (۲۰)بیٹیاں ان میں سے جنہوں  نے طویل عمر یں پائیں-ہابیل،قابیل ، صالح اور عبدالرحمٰن تھے جن کا پہلا نام عبدالحارث تھا آپ (علیہ السلام) کے ایک بیٹے وَد تھے جنہیں شیث اور’’ھبۃ اللہ‘‘ کہا جاتا تھا-تمام بھائیوں نے سیارت ان کے سپردکر رکھی تھی-سراع، یغوث، یعوق اور نسر ان کی اولاد تھی-ابن ابی حاتم میں حضرت عروہ بن زبیر (رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں کہ حضرت آدم (علیہ السلام) بیمار ہوئے توآپ کے پاس اس وقت پانچ(۵) بیٹے تھے-وَد، یغوث، یعوق، سواع اور نسر-وَد سب سے بڑا اور سب سے زیادہ فرمانبردار اور حسن سلوک والا تھا عرب میں سب سے پہلے بت پرستی کا آغاز کرنے والا عمر و بن لحیّ بن قمعہ تھا-یہ ان لوگوں سے متاثر ہوا اس نے تین سو چالیس سال کی طویل  عمر پائی  


کعبہ کی تولیت پانچ سو سال تک اس کے اور اس کی اولاد کے پاس رہی اور اس نے بت پرستی کو رواج دینے میں اپنی پوری کوششیں صرف کیں-کعبۃ اللہ جس کو حضرت خلیل (علیہ السلام) 

نے اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کے لئے تعمیر کیا تھا اسی بدبخت کے زمانے میں بت خانہ بنا-  

 مراۃ العارفین سے اقتباس


منگل، 21 اکتوبر، 2025

قدیم یونان کی سات دانا شخصیات پارٹ 2

 

بقراط کے دونوں بیٹوں تھیالیس اور ڈراکو کے ایک ایک بیٹے کا نام اپنے دادا کے نام پر بقراط تھا۔ سورانس کا کہنا ہے کہ بقراط نے علم طب اپنے باپ اور دادا سے سیکھا تھا جبکہ دوسرے علوم ڈیموکریٹس اور گور جیاس سے حاصل کیے۔ افلاطون نے مقالات حکمت میں لکھا ہے کہ بقراط نے اسکلیپیون کی شفا بخش درس گاہ سے تعلیم حاصل کی اور طب کی تربیت لی تھی۔ بقول افلاطون بقراط نے اسکلیپیون میں تھیرس کے حکیم اعظم ہیروڈیکوس آف سیلیمبریا سے بھی تعلیم حاصل کی تھی۔بقراط کی بعض تصانیف میں نرمی، شفقت، انکسار، تواضع و محبت جیسی ہدایات ملتی ہیں چونکہ ہمارے ہاں اس کی تصانیف کا سب سے پہلے ترجمہ ہوا اور یہ دنیا کا کامل ترین طبیب تھا اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ فن طب پر لوگوں کی رائے یہاں نقل کروں۔فن طب کی اختراع و مخترع کے مختلف علماءمیں اختلاف ہے۔ اسحق بن حنین اپنی تاریخ میں کہتا ہے کہ ایک قوم اہل مصر کو فن طب کا موجد سمجھتی ہے اور ساتھ ہی ایک حکایت بھی سناتی ہے کہ پرانے زمانے میں مصر کی ایک عورت ہمیشہ رنج و غم اور غیض و غضب کا شکار رہا کرتی تھی اور ساتھ ہی چند بیماریوں مثلاًضعف معدہ، فساد خون، احتباس حیض میں مبتلا تھی۔ ایک دفعہ اتفاقاً نرنجیل شامی (ایک پودا) کو کھا بیٹھی اور تمام روگ دور ہوگئے اس تجربے سے اہل مصر نے فائدہ اٹھایا اور فن طب کا آغاز ہوگیا۔ 

 

بعض علماءفلسفے، طب اور دیگر صنائع کا موجد ہرمس (حضرت ادریسؑ) کو قرار دیتے ہیں۔ بعض اختراع کا سہرا اہل قوس (یاقولوس) کے سرباندھتے ہیں۔بعض ساحروں کو اس کا موجد قرار دیتے ہیں بعض کے ہاں اس کی ابتداءبابل، بعض کے ہاں ایران، بعض کے ہاں ہندوستان، بعض کے ہاں یمن اور بعض کے ہاں مقلب سے ہوئی۔یحییٰ نحوی اپنی تاریخ میں لکھتا ہے کہ جالینوس کے زمانے تک8 بڑے بڑے طبیب گزرے ہیں۔ اسقلیبوس اول، غورس،مینس، برمانیذس، افلاطون الطبیب، اسقلیبیوس دوم، بقراط اور جالینوس۔اسقلیبوس اول اور جالینوس کے درمیان 5560 سال کا عرصہ حائل ہے اسی طرح ہر طبیب کی وفات اور دوسرے کی ولادت تک سینکڑوں سال کے لمبے لمبے وقفے ہیں۔بقراط اپنے زمانے میں ریئس الاطباءتھا۔ یہ اسقلیبوس ثانی کے شاگردوں میں سے ہے۔ اسقلیبوس کی وفات کے وقت اس کے3 شاگرد زندہ تھے یعنی ماغاریس، فارخس و بقراط، ماغارلیس ومارخس کی وفات کے بعد بقراط ریئس اطباءقرار پایا۔ یحییٰ نحوی سکند رانی کہتا ہے کہ بقراط گیانہ وہر، کامل فاضل، تمام اشیاءسے واقف اور ایک فلسفی طبیب تھا۔

 

 بعض لوگ اس کی عبادت کیا کرتے تھے۔ اس نے صنعت قیاس و تجربے کو اس قدر تقویت دی کہ اب کسی ردوقدح کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔بقراط پہلا حکیم ہے جس نے اپنی اولاد کی طرح غرباءکو بھی فن طب کی تعلیم دی۔ اس حکیم کو یہ خطرہ پیدا ہوگیا تھا کہ کہیں امراءکی بے توجہی سے یہ فن مٹ ہی نہ جائے۔ اس لیے غرباءکو بھی شامل کرلیا۔ایک مؤرخ نے ذکر کیا ہے کہ بقراط بہمن بن اردشیر کے زمانے میں تھا۔ ایک دفعہ بہمن بیمار پڑ گیا اور بقراط کو بلا بھیجا۔ شہر والوں نے بہمن کی اس خواہش کے خلاف سخت صدائے احتجاج بلند کی اور کہا کہ اگر ہم سے بقراط کو چھیننے کی کوشش کی گئی تو ہم علم بغاوت بلند کر دیں گے اور سردھڑ کی بازی لگا دیں گے۔ بہمن کو ان لوگوں پر رحم آگیا اور بقراط کو وہیں رہنے دیا۔ بقراط کا ظہور94 سال بخت نصر اور شاہ یمن کے چودھویں سال جلوس میں ہوا تھا۔یحییٰ نحوی لکھتا ہے کہ دنیا کے مشہور بڑے طبیبوں میں یہ ساتواں تھا اور جالینوس آٹھواں کہ جس پر یہ ریاست طب ختم ہوگئی۔ بقراط اور جالینوس میں665 سال کا عرصہ تھا بقراط کی عمر95 سال تھی جن میں سولہ سال بچپن اور طلب علم میں گزرے اور 79 سال تعلیم و تدریس میں بسر کئے۔ اس کے2 بیٹے اور1 بیٹی تھی بیٹوں کے نام تاسلوس و دارقن اور بیٹی کا نام مانارسیا۔ بہن بھائیوں سے زیادہ ذہن تھی۔ بقراط کے2پوتوں کا نام بھی بقراط تھا ایک تاسلوس اور دوسرا دارقن کا بیٹا تھا۔

 

 تلامذہ بقراط کے اسمائیہ یہ ہیں لاذن، ماسرجس، ساوری، فولوس، اسطات، غورس،جالینوس کے عہد تک مندرجہ ذیل حضرات بقراط کے مفسر رہے: سنبلقیوس، نسطاس، دپسقوریدس الاول، طیماوس الفلسطینی، مانطیاس، ارسراطس ثانی، القیاسی بلاذیوس۔تفاسیر جالینوس بقراط کی چند کتابوں کی تفسیر جالینوس نے بھی کی ہے۔ تفصیل یہ ہے-1 کتاب عہد بقراط: جالینوس نے تفسیر کی اور حنین نے یونانی اور ابن سینا جیسے نامور طبیبوں کی کاوشوں کے طفیل طب یونانی کو حیرت انگیز ترقی ملتی چلی گئی ۔ارسطو :یہ شمالی یونان کے شہر اسٹیگرا میں 384 قبل مسیح میں پیدا ہوا۔اس کا باپ شاہی طبیب تھا ۔اس نے ابتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی مگر دس سال کی عمر میں اس کے والد کاانتقال ہو ا تو یہ اپنے والد کے ایک رشتہ دار کی سرپرستی میں آ گیا۔اٹھارہ سال کی عمر میں یہ افلاطون کی اکیڈمی میں داخل ہو ا اور 37سال کی عمر تک وہیں رہا۔اس کے بعد اس نے '' لائسم ‘‘کے نام سے اپنی اکیڈمی بنائی۔سکندر اعظم بھی ارسطو کا شاگرد تھا ۔ سکندر اعظم نے تقریباتین سال تک ارسطو سے تعلیم و تربیت حاصل کی۔ ارسطو علم طب، علم حیوانیات، ریاضی،علم ہئیت ، سیاسیات،طبعیات اور علم اخلاقیات میں اعلیٰ مقام رکھتا تھااسی لئے اسے اپنے دور کا سائنسدان بھی کہتے ہیں کیونکہ جب تک نیوٹن روئے زمین پر نہیں آیا تھا ،فزکس کے بنیادی اصول و ضوابط ارسطو کے تشکیل کردہ ہی چلتے رہے

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

انقلاب چین جو چینی قوم کی نجات کا باعث بن گیا

  چین کے انقلاب میں تاریخی لانگ مارچ کو ایک سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے جو اکتوبر1934ء سے اکتوبر 1935ء تک جاری رہا۔ یہ لانگ مارچ چھے ہزار میل ط...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر