جمعرات، 7 اگست، 2025

زیارت اربعین مومن کی نشانیوں میں ہے۔

 

 


20 صفر کا دن وہ دن ہے کہ امام حسین علیہ السلام کے اہل حرم شام سے مدینہ منورہ کی طرف لوٹے، اور اسی روز رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کے صحابی جابر ابن عبد اللہ انصاری، سید الشہداء علیہ السلام کی زیارت کی نیت سے مدینہ سے کربلائے معلی پہنچے اور جابر وہ پہلی شخصیت ہے جنہوں نے قبر امام حسین علیہ السلام کی زیارت کرنے کا شرف اپنے نام کیا۔ (رضی الدین علی بن یوسف مطہر حلی، العدد القویہ، ص 219)شور کے دن نواسۂ رسول اور آپ کے اصحاب کی شہادت کے بعد گیارہ محرم کو یزیدی کارندے اہلبیت رسول کو اسیر کرکے کوفہ اور وہاں سے شام لے گئے تھے ۔ اس سفر اور اسیری کے دوران جناب سید سجاد اور جناب زینب کے خطبوں نے شامیوں میں رسول و آل رسول کے سلسلے میں بیداری کی جو فضا پیدا کردی تھی اس سے مجبور ہوکر یزید کو اسیروں کی رہائی کا حکم دینا پڑا تھا اور قید سے رہائی کے بعد جس دن یہ لٹا ہوا خاندان کربلا پہنچا تھا وہ دن اربعین کا دن تھا۔ یہی وہ دن تھا جب پہلی بار صحابی رسول جناب جابر ابن عبداللہ انصاری عطیہ بن سعید کے ہمراہ کربلا پہنچے تھے ۔ بعض علما کا خیال ہے کہ یہ واقعہ دوسرے سال کے اربعین کا ہے ۔زیارت اربعین :حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام سے مروی حدیث میں زیارت اربعین کو مومن کی نشانیوں میں شمار کیا گیا ہے۔ 



اربعین کی عظیم  ریلیاں-آئمہ معصومین (ع) کی زیارت اربعین پر تاکید کی بناء پر لاکھوں شیعہ دنیا کے مختلف ممالک، بالخصوص عراق اور ایران کے شہروں اور قصبوں سے ننگے پیر کربلا کی طرف نکلتے ہیں ۔ سن 2013 عیسوی کے اربعین میں یہ تعداد دو کروڑ سے زیادہ تھی اور اس تعداد میں ہر سال اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ بنی امیہ اور بنی عباس کے زمانے میں بھی خطرناک حالات کے باوجود شیعوں نے زیارت اربعین کا یہ سلسلہ جاری رکھا تھا۔زیارت اربعین کو امام حسن عسکری علیہ السلام نے مؤمن کی نشانیوں میں بتایا ہے ۔ اسے واجب اور مستحب نمازوں کی صف میں قرار دیا گیا ہے۔ جس طرح نماز ستون دین ہے اسی طرح  سانحۂ کربلا  اور زیارت اربعین بھی ستون دین ہے۔ انی تارک فیکم الثقلین کتاب ﷲ و عترتی ، رسول خدا کے اس قول پر غور کریں تو پتہ چلتا ہے کہ کتاب الہی کا نچوڑ یا عصارہ دین الہی ہے اور عترت کا عصارہ زیارت اربعین ہے ۔



 اس زیارت میں قیام حسینی کے مقصد کو بیان کیا گیا ہے جو نبی اکرم کی رسالت کا ہدف و مقصد تھا یعنی تعلیم علم و حکمت اور تزکیۂ نفوس ۔ حسین نے بھی اپنا سب کچھ خدا کی راہ میں نثار کردیا تاکہ جہالت و نادانی سے بندگان خدا کو نکال کر انہیں پاکیزہ بنا سکیں۔جس وقت امام حسین علیہ السلام کا سر مبارک نیزے پر اور اہل بیت علیہم السلام کو اسیر کر کے شام لے جایا گیا، اسی وقت سے کربلا میں حاضری کا شوق اور امام حسین علیہ السلام کی قبر مطہر کی زیارت کا عشق ممکن ہونے سے بالکل باہر سمجھا جاتا تھا کیونکہ اموی ستم کی حاکمیت نے عالم اسلام کے سر پر ایسا گہرا سیاہ پردہ بچھا رکھا تھا کہ کسی کو یقین نہیں آ سکتا تھا کہ ظلم کا یہ پردہ آخر کار چاک ہو سکے گا اور کوئی نفاق کے اس پردے سے گزر کر سید الشہداء علیہ السلام کی زیارت کے لیے کربلا میں حاضری دے سکے گا۔ مگر امام حسین علیہ السلام کی محبت کی آگ اس طرح سے ان کے عاشقوں کے قلب میں روشن تھی کہ اموی اور عباسی طاغوتوں کی پوری طاقت بھی اسے ٹھنڈا نہ کر سکی۔


جی ہاں ! یہی محبت ہی تو تھی جو عاشق اور دلباختہ انسانوں کو کربلا تک لے گئی اور امام سید الشہداء علیہ السلام کی شہادت کے چالیس روز نہیں گزرے تھے کہ عشق حسینی جابر ابن عبداللہ انصاری کو کربلا کی طرف لے گیا۔ جابر جب کربلا پہنچے تو سب سے پہلے دریائے فرات کے کنارے چلے گئے اور غسل کیا اور پاک و مطہر ہو کر ابا عبد اللہ الحسین علیہ السلام کی قبر منور کی طرف روانہ ہوئے اور جب پہنچے تو اپنا ہاتھ قبر شریف پر رکھا اور اچانک اپنے وجود کی گہرائی سے چِلّائے اور بے ہوش ہو گئے اور جب ہوش میں آئے تو تین بار کہا: یا حسین ! یا حسین ! یا حسین اور اس کے بعد زیارت پڑھنا شروع کی۔اربعین کے دن زیارت امام حسین علیہ السلام کی تأکید:اسلامی تعلیمات میں جن اعمال کو مقدس ترین عبادات میں شمار کیا گیا ہے اور ان کی بجا آوری پر بہت تاکید کی گئی ہے ان میں اولیائے الہی اور آئمہ معصومیں علیہم السلام کی زیارت بھی شامل ہے۔



معصومین علیہم السلام کی زیارات میں امام حسین علیہ السلام کی زیارت کو ایک خصوصی اہمیت دی گئی ہے، چنانچہ کسی بھی امام معصومؑ کی زیارت پر اتنی تأکید نہیں ہوئی جتنی کہ سید الشہداء علیہ السلام کی زیارت پر ہوئی ہے۔امام صادق علیہ السلام نے ابن بکیر  جو امام حسین علیہ السلام کی راہ میں خوف و ہراس کے بارے میں بتا رہے تھے، سے ارشاد فرمایا:اما تحب ان یراک اللّٰہ فینا خائفا اما تعلم انہ من خاف لخوفنا اظلہ اللّٰہ فی عرشہ،کیا تم پسند نہیں کرتے ہو کہ خداوند تمہیں ہماری راہ میں خوف و ہراس کی حالت میں دیکھے؟ کیا تم نہیں جانتے ہو کہ جو ہمارے خوف کی بناء پر خائف ہو، اللہ تعالی اپنے عرش پر اس کے سر پر سایہ کرے گا؟ چونکہ اللہ تعالی نے لوگوں کے دلوں کو امام حسین علیہ السلام کے عشق سے پر نور کیا ہے اور عشق ہر صورت میں عاشق کو دوست کی منزل تک پہنچا ہی دیتا ہے لہذا عاشقان حسینی نے پہلے اربعین سے ہی اموی ستم کی حکمرانی اور ہر خفیہ اور اعلانیہ دباؤ کے باوجود سید الشہداء علیہ السلام کی زیارت کی راہ پر گامزن ہوئے اور آج تک ہر مسلمان مرد اور عورت کی دلی آرزو امام حسین علیہ السلام کی زیارت ہے۔

بدھ، 6 اگست، 2025

ایک درویش سپاہی ابراہیم تراورے

 ا

ابراہیم تراورے نے  عنان حکومت سنبھالتے ہی اپنی قوم سے  خطاب میں کہا 'یاد رکھو اگر غلامی کی زنجیریں توڑ نا ہیں تو ان بیگانے آقاوں سے جان چھڑانی ہو گی 'یہ تم کو ہتھیار صرف اس لئے دیتے ہیں کہ تم اپنے ہی ہم وطنوں کے گلے کاٹتے رہو اور یہ سکون سے تمھاری معدنیا ت کی دولت لوٹ'لوٹ کر اپنے اپنے ملکوں میں پہنچاتے رہیں  -یاد رکھو برکینا فاسو کی معدنی دولت تمھاری ہے - تمھارے ملک میں  دنیا کے سب سے قیمتی معدنی وسائل چھپے ہوئے ہیں جن میں  سونے کے ذخائر بھی شامل ہیں۔تمھارے  ملک کے اِن وسائل کی مدد سے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری  کر کے یہ خود امیر ہوتے ہیں اور تم سب ننگے بدن  بھوکے بچے اور علم کی روشنی سے دور رکھے جاتے   ہو دنیا بھر کی سیاست بیوروکریسی یا بیرونی مفادات سے جڑی ہوئی اشرافیہ کے ہاتھوں میں سمٹی دکھائی دیتی ہے، تو مغربی افریقہ سے تعلق رکھنے والا ایک نوجوان کیپٹن ان تمام روایتوں کو چیلنج کر رہا ہے۔ ابراہیم تراورے، برکینا فاسو کے 36 سالہ عبوری صدر، نے ستمبر 2022 میں اس وقت اقتدار سنبھالا جب ایک فوجی بغاوت کے ذریعے اُس وقت کے رہنما پال ہینری سانڈاگو ڈامیبا کو ہٹا دیا گیا۔ آج تراورے صرف افریقہ میں نہیں بلکہ دنیا بھر میں خودمختاری، بیداری، اور نوآبادیاتی نظام کے خلاف جدوجہد کی علامت بن چکے ہیں۔سوشل میڈیا پر ان کا چرچا روز بروز بڑھ رہا ہے۔ انسٹاگرام سے ٹوئٹر (ایکس) تک، ان کی تقاریر، عوامی منصوبے، اور نوآبادیاتی تسلط سے آزادی کی کوششوں پر مبنی ویڈیوز لاکھوں صارفین کو متاثر کر رہی ہیں۔ ان کے نام سے جڑے ہیش ٹیگز عالمی رجحانات کا حصہ بن چکے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ابراہیم تراورے ہیں کون، وہ ایسا کیا مختلف کر رہے ہیں، اور آخر دنیا ان پر اتنی توجہ کیوں دے رہی ہے؟


ابراہیم تراورے ایک جرات مند اصلاح پسند کی حیثیت سے سامنے آئے ہیں۔ ان کا وعدہ تھا کہ وہ ملک میں سلامتی بحال کریں گے، قومی وقار کو بلند کریں گے، اور برکینا فاسو کو حقیقی معنوں میں خودمختار بنائیں گے۔ اب تک کے اقدامات اس وعدے کی سچائی کی جھلک دکھاتے ہیں۔ انہوں نے صرف الفاظ نہیں بلکہ عملی پالیسیاں اپنائی ہیں جن کا مقصد غریب اور پسے ہوئے عوام کو مرکز میں لانا ہے۔ سعودی عرب کی طرف سے دو سو مساجد تعمیر کرنے کی پیش کش کو مسترد کرتے ہوئے انہوں نے ترقی، تعلیم، اور صحت پر زور دیا اور کہا کہ "ہمیں مزید مساجد نہیں، بلکہ ترقی کی ضرورت ہے"۔ ان کے اس واضح موقف نے انہیں کئی حلقوں میں پسندیدگی دلائی اور کچھ حلقوں میں تنقید کا نشانہ بھی بنایا، لیکن وہ اپنے مؤقف پر ڈٹے رہے۔انہوں نے پورے تعلیمی نظام کو فیس سے آزاد کر دیا، پرائمری سے یونیورسٹی تک تعلیم کو ہر شہری کا بنیادی حق قرار دیا۔ سرکاری اسپتالوں میں زچگی کو مفت کر دیا گیا تاکہ ماؤں کی شرح اموات میں کمی آئے اور صحت کی سہولت ہر کسی کی دسترس میں ہو۔ کمزور اور بے گھر افراد کے لیے حکومتی تعاون سے مکانات کی فراہمی کا منصوبہ بھی جاری ہے۔ ان تمام پالیسیوں کا مقصد صرف امداد نہیں بلکہ وقار کے ساتھ جینے کا حق دینا ہے۔ٹیکنالوجی اور خود انحصاری کے میدان میں بھی برکینا فاسو نے پہلا سولر پاور سے چلنے والا مقامی طور پر تیار کردہ الیکٹرک وہیکل متعارف کرایا، جسے چینی کمپنیوں کے تعاون سے تیار کیا گیا۔ یہ علامت ہے کہ ملک صرف ماضی کے زخم نہیں سہلا رہا، بلکہ مستقبل کی طرف بڑھ رہا ہے۔



ثقافتی بیداری بھی تراورے کی حکومت کا اہم جز ہے۔ برکینا فاسو کی عدالتوں میں اب وکلاء یورپی طرز کی  گاؤنز کی بجائے افریقی لباس میں پیش ہوتے ہیں۔ یہ فیصلہ صرف علامتی نہیں بلکہ اس سوچ کی عکاسی ہے کہ ثقافت کو خود اعتمادی کے ساتھ اپنانا ہی اصل آزادی ہے۔ ہم جنس شادی پر پابندی کا اعلان، جسے انہوں نے "روایتی افریقی اقدار کے تحفظ" کے طور پر بیان کیا، دنیا بھر میں مختلف آراء کو جنم دے چکا ہے۔ کچھ اسے ثقافتی خودمختاری کہتے ہیں، جبکہ کچھ حلقے اسے انسانی حقوق کے زاویے سے دیکھتے ہیں بین الاقوامی تعلقات میں بھی تراورے ایک نیا رخ دکھا رہے ہیں۔ برکینا فاسو نے فرانس اور امریکہ سے فاصلہ اختیار کر کے روس کے ساتھ دفاع، تعلیم، اور ترقیاتی شعبوں میں شراکت داری قائم کی ہے۔ ملک میں روسی افریقی کور کے اہلکار تعینات کیے گئے ہیں تاکہ ممکنہ بغاوتوں یا تخریب کاری کی کوششوں سے نمٹا جا سکے۔ ساتھ ہی، مالی اور نائجر کے ساتھ مل کر ایک نیا مالیاتی اتحاد قائم کیا گیا ہے تاکہ سی ایف اے فرانک سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکے جو اب بھی فرانسیسی خزانے سے جڑا ہوا ہے۔



ان اقدامات کے نتیجے میں برکینا فاسو کے وہ ماہرین، انجینئرز، اور سائنسدان جو بیرون ملک مقیم تھے، واپس آ کر ملک کی خدمت کر رہے ہیں۔ نئے STEM اسکول، روس کے ساتھ علمی تعاون، اور سائنسی ترقی کی نئی راہیں ملک کو خطے میں ایک جدت انگیز مرکز بنانے کی طرف گامزن کر رہی ہیں۔تجزیاتی سطح پر دیکھا جائے تو تراورے کا ابھار صرف ایک مقامی انقلاب نہیں بلکہ براعظم افریقہ میں ازسرِ نو شعور کی بیداری ہے۔ ان کی قیادت کو کچھ لوگ کوامی نکرومہ، تھامس سنکارا، اور پیٹریس لوممبا کی فکری وراثت کا تسلسل سمجھتے ہیں، جو ایک آزاد اور متحد افریقہ کا خواب دیکھتے تھے۔ دنیا کے کئی خطے اب ایک کثیر قطبی عالمی نظام کی جانب بڑھ رہے ہیں، جہاں مغرب کا غلبہ تنقید کی زد میں ہے اور نئی شراکت داریاں عالمی سفارتکاری کو نئی جہت دے رہی ہیں۔


بعض حلقے تراورے کو ایک ولولہ انگیز رہنما مانتے ہیں جو افریقہ کو بااختیار بنا رہے ہیں، جبکہ کچھ انہیں ایک سخت گیر فوجی حکمران تصور کرتے ہیں جن کی پالیسیاں ملک کو تنہائی میں دھکیل سکتی ہیں۔ لیکن حقیقت یہی ہے کہ ان کی شخصیت نے دنیا کو متوجہ کیا ہے اور افریقہ کے نوجوانوں کو ایک نئی امید دی ہے۔حال ہی میں ایک اور ممکنہ بغاوت کی افواہوں کے بعد دنیا بھر میں تراورے کے حق میں مظاہرے دیکھنے کو ملے۔ گھانا، گیمبیا، برطانیہ، اور امریکہ سمیت کئی ممالک میں عوام سڑکوں پر نکلے اور ان کے خلاف کسی بھی سازش کے خلاف آواز بلند کی۔ کچھ پوسٹس میں یہ بھی کہا گیا کہ لوگ خود ان کے قافلے کے ساتھ سفر کرتے ہیں تاکہ ان کی حفاظت کر سکیں۔ یہ سیاست نہیں، بلکہ عوامی طاقت کی علامت ہے۔ابراہیم تراورے صرف برکینا فاسو کے صدر نہیں بلکہ ایک نئے افریقی عہد کی علامت بن چکے ہیں۔ ان کی خود اعتمادی، بیباکی، اور روایت شکن سوچ نے عالمی سیاسی منظرنامے میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ لیکن طاقت کے ساتھ ذمہ داری بھی آتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ اندرونی استحکام، بین الاقوامی دباؤ، اور طویل مدتی قیادت کے امتحان میں کیسے پورا اُترتے ہیں۔ ایک بات طے ہے کہ افریقہ دیکھ رہا ہے، دنیا دیکھ رہی ہے، اور ابراہیم تراورے سب کی توجہ کا مرکز ہیں۔

اتوار، 3 اگست، 2025

آج کی دنیا میں سولر انرجی کا انقلاب





۔سورہ شمس میں اللہ  تعالیٰ  فرما رہا ہے'  قسم  ہے سورج کی اور اس کی  دھوپ  کی ۔ جس نعمت کا زکر خداوند عالم خود اپنے کلام بلاغت میں اعتراف کر رہاہو آئیے کچھ  سورج  اور اس کی دھوپ کے بارے میں جانتے ہیں 'سورج کی دھوپ اپنے آپ میں آلودگی سے پاک ہے اور بہ آسانی میسر ہے۔ برصغیر کے خطے  کو یہ سہولت حاصل ہے کہ سال کے 365 دنوں میں 250 سے لے کر 320 دنوں تک سورج کی پوری دھوپ ملتی رہتی ہے۔ دن میں سورج چاہے دس سے بارہ گھنٹے تک ہی ہمارے ساتھ رہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ سورج کی گرمی ہمیں رات دن کے 24 گھنٹے حاصل ہو سکتی ہے۔ اس میں نہ دھواں ہے، نہ کثافت اور نہ آلودگی۔ دیگر ذرائع سے حاصل توانائی کے مقابلے میں سورج کی روشنی سے 36 گنا زیادہ توانائی حاصل ہو سکتی ہے۔ جب کہ صورت حال یہ ہے کہ سورج کی روشنی کرنوں کی شکل میں صرف چوتھائی حصہ ہی زمین پر آتی ہے  ۔ دھوپ سے حاصل ہونے والی توانائی ”سولر انرجی“ یا ”شمسی توانائی“ کہلاتی ہے۔



 دھوپ کی گرمی کو پانی سے بھاپ تیار کرکے جنریٹر چلانے اور بجلی بنانے میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ دھوپ قدرت کا عطیہ ہے، ہر روز دنیا پر اتنی دھوپ پڑتی ہے کہ اس سے کئی ہفتوں کے لیے بجلی تیار کی جا سکتی ہے۔ سورج زمین سے تقریباً 15کروڑ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ زمین سے تیرہ لاکھ گنا بڑا ہے۔ چونکہ آفتاب میں صرف تپتی ہوئی گیس پائی جاتی ہے، اس لیے اس کی کثافت (Density) کم ہے۔ اس کا وزن زمین سے سوا تین لاکھ گنا زیادہ ہے۔ سورج کی باہری سطح کا درجہ ¿ حرارت تقریباً 6ہزار ڈگری سیلسیس ہے۔ اس کے مرکزی حصے کا درجہ  حرارت ایک کروڑ ڈگری Celcius ہے۔ اس کے چاروں طرف روشنی اور حرارت نکلتی رہتی ہے۔ سورج کی سطح کے فی مربع سینٹی میٹر سے پچاس ہزار موم بتیوں جتنی روشنی نکلتی ہے اور زمین سورج سے نکلی ہوئی طاقت کا محض دوسو بیس کروڑواں حصہ ہی اخذکر پاتی ہے۔ شمسی توانائی کے بغیر زمین پر زندگی ممکن نہیں۔    



بتایا جاتا ہے کہ دنیا میں سولر انرجی دو سو برس پہلے ہی دریافت ہو چکی تھی لیکن چونکہ بجلی کےدوسرے زرائع میسر تھے اس لئے سولر کی جانب کسی کا دھیان بھی نہیں گیا لیکن اب پوری دنیا میں بجلی کی کھپت کے بڑھ جانے کی وجہ سے    سولر انرجی نے دنیا بھر کوخصوصاپاکستان کو اپنی جانب متوجہ کیا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے سولر انرجی لوگوں کی ضرورت سے زیادہ مالی سہولت کاری کا باعث بن گئ  اور یوں دنیا بھر میں سولر انرجی آج توانائی کے شعبے میں معاشی اعتبار سے سب سے زیادہ قابل عمل حل بن کر سامنے آئ ہے-       سورج کی دھوپ اپنے آپ میں آلودگی سے پاک ہے اور بہ آسانی میسر ہے۔ برصغیر کے خطے  کو یہ سہولت حاصل ہے کہ سال کے 365 دنوں میں 250 سے لے کر 320 دنوں تک سورج کی پوری دھوپ ملتی رہتی ہے۔دن میں سورج چاہے دس سے بارہ گھنٹے تک ہی ہمارے ساتھ رہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ سورج کی گرمی ہمیں رات دن کے 24 گھنٹے حاصل ہو سکتی ہے۔ اس میں نہ دھواں ہے، نہ کثافت اور نہ آلودگی۔



 دیگر ذرائع سے حاصل توانائی کے مقابلے میں سورج کی روشنی سے 36 گنا زیادہ توانائی حاصل ہو سکتی ہے۔پاکستان دنیا میں شمسی توانائی کے سب سے تیز ترین انقلاب کا مشاہدہ کر رہا ہے۔  چین سے سستے ترین سولر پینلز کی آمد نے پاکستان کو شمسی توانائی کا تیسرا سب سے بڑا درآمد کنندہ بنا دیا ہے، جہاں 2024 میں 17 گیگاواٹ سولر پینلز درآمد کیے گئے۔ امریکی ٹی وی چینل سی این این نے پاکستان میں شمسی توانائی کے انقلاب کے حوالے سے ایک خصوصی رپورٹ جاری کی ہے اوراس سٹوری کو اپنے ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر ٹاپ پر جگہ دی ہے۔آج پیپلز پارٹی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ کراچی سمیت غریب لوگوں کو پورے سندھ میں سستے ترین سولر سسٹم مہیا کیے جائیں گےسندھ حکومت نےعالمی بینک کے اشتراک سے 7 ہزار روپے میں پورا سولر سسٹم عوام کو فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق صوبے میں 2 لاکھ گھرانوں کو 7 ہزار روپے میں پورا سولر سسٹم فراہم کیا جائے گا جس سے ایک پنکھا اور 3 ایل ای ڈی بلب جلائے جاسکیں گے۔


ڈائریکٹر سندھ سولر انرجی کے مطابق صوبے کے ہر ضلع میں 6 ہزار 656 سولر سسٹم دیئے جائیں گے،منصوبے کا آغاز اکتوبر سے متوقع ہے۔ پراجیکٹ کیلئے ورلڈ بینک نے 3 کروڑ 20 لاکھ ڈالر جاری کیے ہیں ۔ واضح رہے کہ سندھ میں شمسی توانائی سے 400 میگاواٹ بجلی پیدا کی جارہی ہے ،منصوبے کے آغاز کے بعد پیداوارمیں مزید اضافہ متوقع سے زیادہ نرخوں نے عام لوگوں کو براہ راست اس ٹیکنالوجی سے جوڑ دیا،آج شمسی توانائی سے بہت سے کام لیے جا رہے ہیں۔ چاہے کھانا پکانا ہو، پانی گرم کرنا ہو یا مکانوں کو ٹھنڈا یا گرم رکھنا ہو۔ فصلوں کے دنوں میں دھان سکھانا ہو یا پائپوں کے ذریعے سینچائی۔ ملک کے دیگر حصوں میں Solar Photovoltaic Centres قائم کیے جا چکے ہیں جو ایک کلوواٹ سے ڈھائی کلوواٹ تک بجلی پیدا کرتے ہیں۔ گھروں، ڈیریوں، کارخانوں، ہوٹلوں اور اسپتالوں میں پانی گرم کرنے کے لیے ایسے آلات لگے ہیں جو 100 لیٹر سے لے کر سوا لاکھ لیٹر تک پانی گرم کر سکتے ہیں۔ شمسی چولھے کم سے کم دو کلو لکڑی کی بچت کر سکتے ہیں۔ ان اقدامات کو دیکھتے ہوئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہمارا ملک غیر روایتی توانائی کے میدان میں داخل ہو چکا ہے اورتوانائی حاصل کرنے کا مستقبل اب دھوپ، سمندر کے پانی اور ایک قسم کی ایٹمی توانائی جو Nuclear Fusion کہلاتی ہے جیسے ذرائع سے وابستہ ہوتا جا رہاہے۔پاکستان دنیا میں شمسی توانائی کے سب سے تیز ترین انقلاب کا مشاہدہ کر رہا ہے۔  چین سے سستے ترین سولر پینلز کی آمد نے پاکستان کو شمسی توانائی کا تیسرا سب سے بڑا درآمد کنندہ بنا دیا ہے، جہاں 2024 میں 17 گیگاواٹ سولر پینلز درآمد کیے گئے۔ امریکی ٹی وی چینل سی این این نے پاکستان میں شمسی توانائی کے انقلاب کے حوالے سے ایک خصوصی رپورٹ جاری کی ہے اوراس سٹوری کو اپنے ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر ٹاپ پر جگہ دی ہے۔


ہفتہ، 2 اگست، 2025

ایک انگریز شیعہ مسلمان کی داستان زندگی

  



حیدرآباد  سندھ  میں گزشتہ کافی  برس   سےمحرم کی آٹھ تاریخ کو ایلی کاٹ کے نام سے بھی ذوالجناح  کا  ایک ماتمی جلوس نکالا جاتا ہے۔ لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ ایلی کاٹ کون تھا اور اس کی کہانی کیا ہےحیدرآباد سندھ کے چند عمر رسیدہ لوگ یہ تو جانتے ہیں کہ ایلی کاٹ  وہ انگریز شیعہ  مسلمان  تھا جس نے غم حسین کو اپنانے کے لئے  اپنا مذہب   ترک کر کے شیعہ مسلمان  مذہب اپنا لیا  تھا  اور وہ ہر سال محرم الحرام میں سیاہ کپڑے زیب تن کئے عزا داری میں پیش پیش نظر آتا تھا۔اپنی نوجوانی کی خوبصورت عمر میں بیلے ڈانس کے دلدادہ ایلی کاٹ اپنے ڈرائیور کی زبانی واقعہ کربلا سن کر ایسے مسلمان ہوئے کہ انہوں نے گھر بار بیوی بچے سب کچھ چھوڑ دیا اور مرتے دم تک ’غم حسین‘ کو سینے سے لگائے رکھا۔ ان کی والدہ لیڈی ڈفرن ہسپتال حیدرآباد میں ڈاکٹر تھیں اور والد فاریسٹ آفیسر تھے۔ جو کہ ہمیشہ شکار میں مصروف رہتے تھے۔چارلی کی ماں  اور باپ دونوں  انگریز تھے - چارلی کے والد  کے منشی  کی بیوی سے چارلی کی والدہ کا دوستانہ تھا  لیڈی ڈفرن کے یہاں شادی کے کے کافی عرصے بعد تک کوئ اولاد نہیں تھی



  محرم آنے پر وہ منشی کی بیوی کو  اور علاقے کی دوسری خواتین کو  زوالجناح  کی آمد پر نذر نیاز کرتے دیکھتی تھیں چارلی کی والدہ نے منشی کی بیگم سے محرم کی رسومات کے بارے میں کچھ سوال جواب کئے -جن کے جواب میں منشی کی بیگم نے بتایا کہ  یہاں لوگ ذوالجناح پر اولاد کی منت مانتے ہیں جو پوری ہو جاتی ہے 'کیو نکہ چارلی کی ماں بھی ابھی تک اولاد کی نعمت سے محروم تھیں چنانچہ انہوں نے بھی منت مان لی اور اللہ پاک نے اپنے کرم اور مولا حسین کے وسیلے  سے  ان کو  چارلی کی نعمت  سے صاحب اولاد کر دیا 'اور جب چارلی ان کی گود میں آ گئے تب  لیڈی  ڈفرن ان کو محرم آنے پر  ہمیشہ  کالے کپڑے پہنایا کرتی تھیں۔ چارلی اپنی والدہ سے بہت متاثر تھے  'نوجوانی آنے پر انہوں نے تعلیم مکمل کی اور محکمہ ایکسائز میں انسپیکٹر  کی  جاب   بھی جوائن کر  لی ۔ عبدالغفور چانڈیو   غم حسین سے سرشار ان  کو بطور ڈرائیور ملا ہوا  تھا۔ اُس سے ’مولا علی اور امام حسین‘ کی شہادت اور ان کی زندگی کے بارے میں سن کر ایلی کاٹ کو بھی حسینی قافلہ میں شامل ہونے کا شوق ہوا۔بعد میں ایلی کاٹ نے اسلام قبول کیا اور اپنا نام علی گوہر رکھا۔ وہ اپنا وقت قدم گاہ اور اشرف شاہ کے پڑ میں گزارتے تھے۔




وہ لندن بھی گئے جہاں والد نے ان کی شادی کی۔ اس شادی سے ان کے یہا ں  ایک بیٹی اور ایک بیٹا بھی تھا۔قیام پاکستان کے بعد انھوں نے واپس جانے سے انکار کیا اور یوں ماں بیٹا یہاں مقیم ہو گئے۔واضح رہے کہ پڑ سندھی میں اس علاقے کو کہتے ہیں جہاں علم لگایا جاتا ہے اور ذوالجناح کا جلوس نکالا جاتا ہے۔ قدیم حیدرآباد میں ہر علاقہ وہاں کے رہائشی افراد کے پیشے کے لحاظ سے آباد ہوا اور تالپور حکومت میں ہر جگہ پڑ اور علم بنائے گئے۔حیدر آباد میں گذشتہ  سال سے محرم کی آٹھ تاریخ کو ایلی کاٹ کے نام سے بھی ایک ماتمی جلوس نکالا جاتا ہے  ایلی کاٹ کے ڈرائیور کا نام عبدالغفور چانڈیو تھا اور ان سے ہی واقعہ کربلا اور حضرت علی کے حالات زندگی کے بارے میں سُن کر ایلی کاٹ کو بھی حسینی قافلے میں شامل ہونے کا شوق ہوا۔عبدالغفور چانڈیو کے بیٹے غلام قادرچانڈیو نے سنہ 2004 میں بی بی سی کو بتایا تھا کہ ایلی کاٹ نے اُن کے والد عبدالغفور سے کہا تھا کہ وہ بھی  ذوالجناح  کا ماتمی جلوس نکالنا چاہتے ہیں لیکن عبدالغفور چانڈیو گریز کرتے رہے اور کہتے رہے کہ اس کے لیے بڑی قربانی دینی پڑتی ہے



بقول غلام قادر، چارلی اپنے فیصلہ پر اٹل رہے۔ بالآخر عبدالغفور نے چارلی ایلی کاٹ کی سرپرستی میں ماتمی جلوس نکالنے کے لیے حامی بھر لی، جس پر چارلی کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی۔حیدرآباد کے پکے قلعہ میں چانڈیوں کی امام بارگاہ سے پہلی بار ذوالجناح کا جلوس نکالنے کی تیاری کی گئی۔ یکم محرم الحرام کو جب یہ جلوس روانگی کے لیے تیار تھا تو عجیب اتفاق یہ ہوا کہ چارلی کی والدہ کی وفات ہو گئی۔غلام قادر بتاتے ہیں کہ بابا عبدالغفور نے ایلی کاٹ کو یاد دلایا کہ انھیں پہلے ہی بتا دیا گیا تھا کہ اس کام میں بڑی قربانی دینی پڑتی ہے جس سے ایلی کاٹ کا ایمان اور پختہ ہو گیا۔ایلی کاٹ نے صبح کو والدہ کی حیدرآباد کے شمال میں واقع گورا قبرستان میں تدفین کی اور شام کو اپنے غم کو بھول کر اور سیاہ کپڑے پہن کر ننگے پاؤں ماتم میں شامل ہو گئے۔غلام قادر جو ایلی کاٹ کے ساتھی رہے ہیں، بتاتے ہیں کہ ایلی کاٹ نے اپنی انگریز بیوی کو بتایا کہ وہ ’مومن‘ ہونا چاہتے ہیں۔ اس لیے اُن کے سامنے دو راستے ہیں، پہلا یہ کہ وہ بھی مسلمان ہو جائیں اور دوسرا یہ کہ واپس انگلینڈ چلی جائیں اور اپنی زندگی گزاریں۔اُن کی بیوی نے دوسرا راستہ اختیار کیا اور وہ بچوں سمیت انگلینڈ چلی گئیں، جہاں سے وہ کبھی بھی چارلی کے لیے لوٹ کر نہیں آئیں۔



چارلی قیام پاکستان سے کچھ عرصہ قبل وہ اجمیر شریف میں خواجہ معین الدین چشتی کی درگاہ پر چلے گئے جہاں انھوں نے چھ ماہ تک ملنگوں والی زندگی گزاری۔ چھ ماہ بعد حیدرآباد لوٹ آئے اور بقیہ تمام زندگی اپنے ڈرائیور عبدالغفور کے پاس رہ کر گزار دی۔   اپریل 1971 کو چارلی ایلی کاٹ کی وفات ہوئی اور انھیں اُسی ماتمی گنبد میں دفن کر دیا گیا، جہاں وہ رہتے تھے۔ پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا - اللہ کریم و رحیم چارلی ایلی کاٹ کو محشرمیں امام حسین علیہ السلام کی شفاعت عطا فرمائیں آمین 

جمعہ، 1 اگست، 2025

زرا عمر رفتہ کو آواز دینا - پھر میرے نانا جان بیس دن زندہ رہے

 



 جی ہاں! آزادئ ہند کی خونچکاں داستان دہلی میں انیس سو ستاون  میں  دہلی کے مسلمانوں کے خون سےرقم ہوئ -جب  چشم فلک نے ایک  صبح  کی روشن کرنوں میں ایک دلخراش نظارہ دیکھا  کہ دہلی کے تمام  شہر  میں کوئ درخت ایسانہیں تھا جس پر  ایک مسلمان کی جھولتی ہوئ لاش نا ہو -اور دہلی کی گلیاں اور درو دیوار مسلمانوں کے خون سے رنگے ہوئے تھے  اس سے اور آگے دیکھیں تو' توپ کے دہانوں سے باندھ کر مسلمانوں کے چیتھڑے بدن ہوا میں دور تک اچھلتے دیکھے جا سکتے تھے -پھر دہلی کے باسیوں نے اس ہولناک قتل عام کے بعد  آزادی کے خواب کو ہمیشہ  کے لئے دفن کر دیا  لیکن اس کے بعد دہلی کے بجائے یو پی میں آزادئ ہند کی  لہر اٹھی جس نے آگے چل کر ایک تناور درخت کی حیثیت اختیار کر لی اوراس درخت سے نکلنے والی شاخوں نے آزادئ ہند کی فوج کا ایک ہراول دستہ تیار کیا لیکن اس مرتبہ تحریک کا مرکز لکھنؤ کا ایک بڑا مشہور مدرسہ  غالباً مدرسہ نظامیہ تھا تحریک خلافت سنہ 1919 میں خلافت تحریک کا آغاز ہوا لیکن  مولانا محمد علی جوہر کو جلاوطنی اختیار کرنی پڑی اور تحریک خلافت  قصہء پارینہ ہو گیئ  


 وقت گزر کر اب انیس سو چالیس کا زمانہ آ لگا تھا اور  لکھنؤ شہر میں آزادئ ہند کا ایک ہراول  دستہ  سر سے کفن باندھ کر پھر تیار تھا اس ہراول دستے میں میرے نانا جان سید صغیر حسین بھی شامل تھے- انگریز سر کار کو میرے نانا جان کی  شکائت پہنچا دی گئ  کہ  وہ بھی  آزادئ ہند کے ہراول دستے میں شامل ہو گئے ہیں مقدمہ درج ہوا اور پیشیاں پڑنے لگیں  ایسے میں راجہ صاحب محمود آبا د اول ان کے مددگار کے طور پر سامنے آئے انہوں نے بڑی رقم ضمانت کے طور پر پیش کی یہاں  تک کہ راجہ صاحب نے ایک مقام پر کہا کہ وہ اپنی پوری ریاست بطور ضمانے دینے کو تیار ہیں      لیکن سرکار راضی نہیں ہوئ اور پھر آخری پیشی پر   عدالت نے میرے نانا جان کو بیس برس کی قید کی سزا سنائ گئ عدالت نے ان سے کہا  کہ وہ گھر جا کر اپنی روز مرہ ضرورت کی اشیاء لے کر آ جائیں  نانا جان کو ایک پہریدار کے ساتھ گھر بھیجا گیا -ان دنوں میرے ناناجان کی دو بہنیں ضلع بہرائچ سے اپنے میکے یعنی میرے نانا جان کے گھر آئ ہوئ تھیں-نانا جان بلکل سکون کے ساتھ  گھر آئے اور اپنی قید کے بارے میں بتایا تو گھر کے اندر ایک کہرام برپا ہو گیا لیکن نانا جان نے اپنا سامان رکھتے ہوئے گھر والوں سے کہا میری قید بیسویں روز پوری ہو جائے گی اور پھر میں تم لوگوں کے درمیا ن ہو ں گا -


نانا جان جیل جا چکے تھے اورگھر میں سوگ کا سماں تھا لیکن بیس دن کی مدت پوری ہونے میں اس دن بیسسواں ہی دن تھا دربان کے مطابق رات حسب معمول عبادت میں گزار کر میرے نانا جان سوئے تھے لیکن صبح نہیں اٹھ سکے دربان نے اس کو جگایا تو وہ خدا کے گھر جا چکے تھے اور اس طرح قید کے بیس روز مکمل بھی نہیں ہونے پائے تھے کہ ان کی پیشین گوئ پوری ہو چکی تھی -اب نانا جان تو خدا کے گھر جنت مکین ہو چکے تھے اور ان کے پیچھے ان کے پسماندگان میں بے یارو مددگار  ان کے پانچ بچے اور ایک بیوہ رہ گئ تھیں -/  جی ہاں آزادئ ہند کی خونچکاں داستان دہلی میں انیس سو ستاون  میں  دہلی کے مسلمانوں کے خون سےرقم ہوئ -جب دہلی کے تمام  شہر  میں کوئ درخت ایسانہیں تھا جس پر  ایک مسلمان کی جھولتی ہوئ لاش نا ہو -اور دہلی کی گلیاں اور درو دیوار مسلمانوں کے خون سے رنگے ہوئے تھے  اس سے اور آگے دیکھیں تو توپ کے دہانوں سے باندھ کر مسلمانوں کے چیتھڑے بدن ہوا میں دور تک اچھلتے دیکھے جا سکتے تھے -اس کے بعد دہلی کے بجائے یو پی میں آزادئ ہند کی  لہر اٹھی جس نے آگے چل کر ایک تناور درخت کی حیثیت اختیار کر لی-اس درخت سے نکلنے والی شاخوں نے آزادئ ہند کی فوج کا ایک ہراول دستہ تیار کیا -



 لیکن اس مرتبہ تحریک کا مرکز لکھنؤ کا ایک بڑا مشہور مدرسہ  غالباً مدرسہ نظامیہ تھا تحریک خلافت سنہ 1919 میں خلافت تحریک کا آغاز ہوااب انیس سو چالیس کا زمانہ آ لگا تھا اور اس ہراول دستے میں میرے نانا جان سید صغیر حسین بھی شامل تھے- انگریز سر کار کو میرے نانا جان کی  شکائت پہنچا دی گئ  کہ  وہ بھی  آزادئ ہند کے ہراول دستے میں شامل ہو گئے ہیں -مقدمہ درج ہوا اور پیشیاں پڑنے لگیں  ایسے میں راجہ صاحب محمود آبا د اول ان کے مددگار کے طور پر سامنے آئے انہوں نے بڑی رقم ضمانت کے طور پر پیش کی لیکن سرکار راضی نہیں ہوئ اور پھر آخری پیشی پر   عدالت نے میرے نانا جان کو بیس برس کی قید کی سزا سنائ گئ عدالت نے ان سے کہا  کہ وہ گھر جا کر اپنی روز مرہ ضرورت کی اشیاء لے کر آ جائیں  نانا جان کو ایک پہریدار کے ساتھ گھر بھیجا گیا -ان دنوں میرے ناناجان کی دو بہنیں ضلع بہرائچ سے اپنے میکے یعنی میرے نانا جان کے گھر آئ ہوئ تھیں- نانا جان بلکل سکون کے ساتھ  گھر آئے اور اپنی قید کے بارے میں بتایا تو گھر کے اندر ایک کہرام برپا ہو گیا لیکن نانا جان نے اپنا سامان رکھتے ہوئے گھر والوں سے کہا میری قید بیسویں روز پوری ہو جائے گی اور پھر میں تم لوگوں کے درمیا ن ہو ں گا -نانا جان جیل جا چکے تھے اورگھر میں سوگ کا سماں تھا لیکن بیس دن کی مدت پوری ہونے میں اس دن بیسسواں ہی دن تھا دربان کے مطابق رات حسب معمول عبادت میں گزار کر میرے نانا جان سوئے تھے لیکن صبح نہیں اٹھ سکے دربان نے انکو جگایا تو وہ خدا کے گھر جا چکے تھے اور اس طرح قید کے بیس روز مکمل بھی نہیں ہونے پائے تھے کہ ان کی پیشین گوئ پوری ہو چکی تھی -اب نانا جان تو خدا کے گھر جنت مکین ہو چکے تھے اور ان کے پیچھے ان کے پسماندگان میں بے یارو مددگار  ان کے پانچ بچے اور ایک بیوہ رہ گئں تھیں  

جمعرات، 31 جولائی، 2025

تلوردنیا کا ایک نایاب پرندہ

 

 
 

 
   ہماری اس دنیا  میں خدائے  بزرگ و برتر نے  ہمارے لئے  کیا کچھ نعمتیں عطا کی ہیں  اب پرندوں کو لے لیجئے ہزارہا پرندوں میں تلور  ایک نایاب پرندہ ہے جو مرغی کی جسامت کا ہوتا ہے۔ اس کی دنیا میں کل تعداد 50 ہزار سے ایک لاکھ تک کے درمیان ہے۔ جزیرہ نماعرب میں یہ پرندہ تقریباً ناپید ہو چکا ہے۔تلور نامی بڑے پرندے زمین پر رہنے والے پرندوں کے گروہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ کھلی زمین اور گھاس کے میدانوں میں رہتے ہیں۔تلور مرغی کے سائز کا ہوتا ہے۔ اس کی دنیا میں کل تعداد 50 ہزار سے ایک لاکھ تک کے درمیان ہے۔ جزیرہ نما عرب میں یہ پرندہ تقریباً ناپید ہو چکا ہے۔ پاکستان میں یہ کافی تعداد میں پایا جاتا ہےتلور زمین پر گھونسلا بناتے ہیں اور ہمہ خوروں کی قسم سے تعلق رکھتے ہیں۔ اپنی مضبوط ٹانگوں اور بڑے پنجوں کی مدد سے یہ زمین پر آسانی سے چل سکتے ہیں۔ چلتے پھرتے یہ اپنی خوراک بھی تلاش کرتے رہتے ہیں۔ ان کے پروں پر اضافی پر موجود ہیں جو اڑنے میں مدد دیتے ہیں۔ مادہ تین سے پانچ تک انڈے دیتی ہے جن پر دھبے موجود ہوتے ہیں۔ یہ انڈے زمین پر موجود کسی بھی ڈھیر پر دیے جاتے ہیں اور مادہ اکیلے ہی انڈوں کو سیتی ہے۔جبکہ میل تلور  اس دواران مٹر گشتی کے ساتھ ساتھ مادہ کو خوراک بھی فراہم کرتا ہے

 
 تلور پرندوں کے درمیان بہت میل  جول رکھنے والا پر ندہ ہے لیکن  انسانوں سے سے زیادہ قربت پسند نہیں کرتا ہے -ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ کی جانب سے سفارش کی گئی ہے کہ پاکستان کو تلور کے شکار کے پرمٹس کے اجزا بند کر دینا چاہیے اور اس کے شکار پر فوری طور پر مکمل پابندی عائد کی جانی چاہیے۔ورلڈ وائلڈلائف فنڈ کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ سالانہ بنیادوں پر ہونے والے سرویز کے بعد ہی محدود پیمانے پر پرندے کے شکار کی اجازت دی جائے۔یہ سفارش بھی کی گئی ہے کہ سروے میں تمام متعلقہ فریقین کو شامل رکھا جائے اور پرندے کی تعداد اور اس میں ہوتے اضافے کا جائزہ لیا جائے۔سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور بحرین کے شاہی خاندان کے افراد تلور کے شکار کے لیے دسمبر سے فروری تک کے عرصے میں پاکستان آتےہیں۔2019 میں امریکی میگزین دی اکانومسٹ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ شکار کے لیے ہر گروپ ایک لاکھ ڈالر ادا کرتا ہے، اسی طرح دس روز کے لیے بنایا جانے والا پرمٹ ایک لاکھ ڈالر کی ادائیگی کے بعد جاری  ہوتا ہے۔رپورٹ کے مطابق اس پرمٹ کے مطابق اس پر سو پرندوں کے شکار کی اجازت ہوتی ہے۔

 
شکاریوں کی طرف سے لائے جانے ہر بازوں کے لیے فی باز ایک ہزار ڈالر وصول کیے جاتے ہیں۔مقامی   لوگوں کو کہنا ہے کہ شکاری جن علاقوں میں عارضی طور پر رہائش رکھتے ہیں، ان کی وجہ سے ان دورافتادہ علاقوں کی ترقی میں مدد ملی ہےبقول ان کے ان علاقوں میں تعلیم، صحت اور پانی کی فراہمی پرلاکھوں  ڈالرخرچ کیے گئے۔مقامی لوگوں کے مطابق جن علاقوں میں شکاری عارضی طور پر رہائش رکھتے ہیں وہاں تعلیم، صحت اور پانی کی فراہمی پر لاکھوں ڈالر خرچ کیے گئے (فوٹو: ہوبارہ فاؤنڈیشن)علاوہ ازیں ہوبار فاؤنڈیشن انٹرنیشنل پاکستان (ایچ ایف آئی پی) کے حکام کی جانب سے کہا گیا ہے کہ محدود پیمانے پر ہونے والا شکار تلور کی نسل کو بچانے کے لیے بہترین راستہ ہے۔رحیم یار خان کے رہائشی علی احمد نے عرب نیوز کو بتایا کہ ان کے خاندان کی تین نسلوں میں سے کسی نے بھی سکول نہیں دیکھا تھا لیکن ان کے بچے سکول میں پڑھنے جاتے ہیں۔

 
ان کے مطابق ’ہم مٹی کی جھونپڑیوں میں شدید گرمی اور سردی میں رہتے تھے مگر اب ہم ایک ایسی کالونی میں رہتے ہیں جو تمام سہولتیں دستیاب ہیں‘علی احمد نے یہ بھی بتایا کہ متحدہ عرب امارات سے شکار کے لیے آنے والوں شیخوں نے ہمارے علاقے میں کئی ترقیاتی کام کروائے جس سے ہماری زندگی میں آسانی آئی ہے۔نینا کماری نامی مقامی خاتون نے فون پر عرب نیوز کو بتایا کہ انہوں نے اپنی بیمار بارہ سالہ بیٹی کو شیخ زید میڈیکل کمپلیکس رحیم یار خان میں داخل کروایا جو اماراتی حکومت کا ہی بنایا ہوا ہسپتال ہے۔ان کے مطابق اس ہسپتال میں کھانا اور ادویات مفت فراہم کی جاتی ہیں۔عرب نیوز کے ساتھ گفتگو میں ہوبار فاؤنڈیشن انٹرنیشنل پاکستان کے حکام نے بھی اس امر سے اتفاق کیا کہ عرب ممالک کی اہم شخصیات کی جانب سے ان علاقوں میں آمد سے تلور کے شکار کو تحفظ ملا ہے ایسا نہ ہوتا تو پرندے کی نسل خطرات کا شکار ہو جاتی۔


ہوبار فاؤنڈیشن کے عہدیدار لیفٹیننٹ کرنل رانا کمال الدین کے مطابق عرب ملکوں سے آنے والی اہم شخصیات کی جانب سے ہر سال فروری اور مارچ کے مہینوں کے دوران تلور آزاد کیے جاتے ہیں۔کرنل رانا کمال الدین نے بتایا ’عرب ممالک سے آنے والے شکار کے لیے پرندے ساتھ لاتے ہیں، جتنے پرندے چھوڑے جاتے ہیں ان کی تعداد شکار ہونے والے پرندوں سے زیادہ ہوتی ہے‘ تلور کے شکار کے سبب علاقے کو ترقی ملی‘جنوبی پنجاب کے مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ہر سال موسم سرما میں خلیجی شکاریوں کی تلور کے شکار کے لیے ان کے علاقے میں آمد سے ان کی معاشی حالت میں بہتری آتی ہے۔تاہم جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ پرندوں کی تعداد میں سالانہ اضافے کے کسی سروے کی عدم موجودگی کے باوجود ان کا شکار جاری ہے۔عرب نیوز میں پیر کو شائع ہونے والی خبر کے مطابق فطرت کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیم نے تلور کو خطرے سے دوچار پرندوں کی فہرست میں شامل کر رکھا ہے۔
  

بدھ، 30 جولائی، 2025

نجاشی والئ حبشہ مسلمانوں کا غم گسار بادشاہ

 

 دین اسلام کے پھیلاؤ کا دائرہ وسیع ہوتے ہی کفار کے مظالم کا سلسلہ بھی دراز ہونے لگا  -آپ نبئ کریم صلی ا للہ  علیہ واٰلہ وسلم  کو معلوم تھا   ! شاہ نجاشی  جو مسلمانوں کے لئے اپنے دل میں نرم گوشہ رکھتے تھے تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کوحبشہ ہجرت کرجانے کا حکم دیا؛ چنانچہ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد مکہ سے حبشہ ہجرت کرگئی، شاہ  نجاشی نے مسلمانوں کے ساتھ بڑا اچھا سلوک کیا، قریش کو اس احسان وسلوک کا حال معلوم ہوا توبڑا پیچ وتاب کھایا، آخر میں طے کیا کہ شاہ نجاشی کے ایک وفد جائے اور یہ عرضداشت پیش کرے کہ ہمارے مجرموں (مسلمانوں) کوہمارے حوالے کر دے، اس مہم کے لیے عمروبن العاص اور عبد اللہ بن ربیعہ کو منتخب  کیا گیا  یہ لوگ حبشہ پہنچے توپہلے تمام پادریوں سے ملے اور ت بیش قیمت تحائف  پیش کیے اور مقصد کی تکمیل کے لیے ان کوہموار کر لیا؛ پھرشاہ نجاشی اصمحہ کے دربار میں بازیابی حاصل کی اور نذرانہ پیش کیا، نجاشی نے آمد کی وجہ دریافت کی؛ انھوں نے اپنا مطالبہ ظاہر کیا،نجاشی نے پادریوں سے دریافت کیا؛ انھوں نے بھی یک زبان ہوکر ان کے مطالبہ کی تائید کی؛ 



 شاہ نجاشی نے کہا: میں ان لوگوں سے خود بالمُشافہ گفتگو کروں گا؛ اگروہ لوگ جیسا کہ تم کہتے ہو مجرم ثابت ہوئے توان کوواپس کردوں گا؛ ورنہ جومیری پناہ میں آگیا ہے اس پرظلم روا نہیں رکھا جا سکتا، مسلمان دربار میں بلائے گئے تواصمحہ نے ان سے پوچھا کہ تم نے کونسا دین اختیار کیا ہے، جو نہ نصرانیت ہے نہ بت پرستی اور نہ کسی دوسری قوم کا دین ہے، مسلمانوں کی طرف سے حضرت جعفر نے وکالت کی اوربرسرِدربار ایک بہت ہی مؤثر اور دلنشین تقریر کی، جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف اور اسلام کی اخلاقی خوبیاں بیان کیں، اس کے بعد شاہ نجاشی نے حضرت جعفر کے قرآن کا کچھ حصہ پڑھنے کی فرمائش کی؛ انھوں نے سورۂ مریم کی چند ابتدائی آیتیں تلاوت کیں، نجاشی پررقت طاری ہو گئی اور آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے، اس کے بعد انھوں نے ان فدائیانِ اسلام کوقریش کے حوالے کرنے سے صاف انکار کر دیااور مسلمان زبانِ حال سے یہ شعر پڑھتے ہوئے دربار سے نکل آئے


 جب قریش کے وفد کوپہلے روز ناکامیابی ہوئی توانھوں نے دوسرے روز پھرکسی طرح دربار میں رسائی حاصل کی اور شاہ نجاشی کے سامنے عرض داشت پیش کی کہ اُن مسلمانوں سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق دریافت فرمایا جائے، مسلمان پھربلائے گئے، ان کے لیے یہ بڑی آزمائش کا وقت تھا؛اگرسچ کہتے ہیں توشاہ نجاشی ناخوش ہوتا ہے اور اس کے خلاف کہتے ہیں تودین کے وقار کوصدمہ پہنچتا ہے، آخر کار انھوں نے یہ طے کیا کہ چاہے جوکچھ بھی ہو انھیں سچ ہی بولنا چاہیے، اس روز بھی حضرت جعفر ہی گفتگو کے لیے منتخب ہوئے؛ انھوں نے فرمایا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام خدا کے بندے اس کے کلمہ اور اس کی روح ہیں، نجاشی نے زمین سے ایک تنکا اُٹھایا اور کہاخدا کی قسم! حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس تنکے کے برابر بھی اس سے زیادہ نہیں ہیں، دربار کے بطریق اور پادری اس پربہت ناراض ہوئے؛ 


لیکن ناراضی کا ان پرکوئی اثر نہ ہوا، قریش نے جوتحفے تحائف نجاشی کے حضور میں پیش کیے تھے، نجاشی نے سب واپس کردیے اور وفد وہاں سے نامراد مکہ واپس چلا آیا۔ حبشہ سے ہجرت مدینہ منورہ ۔ فتح خیبر کے وقت جعفر طیار کی واپسی کا واقعہ بہت اہم ہے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر فتح کیا تو اس وقت جعفر طیار حبشہ سے واپس آئے۔ وہ اور ان کے ساتھی اس وقت آئے جب خیبر فتح ہو چکا تھا، اور اس موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا استقبال کیا اور انہیں خوش آمدید کہا۔ 
اس واقعے کی تفصیلات کچھ یوں ہیں: حبشہ سے واپسی:جعفر طیار اپنے ساتھیوں کے ساتھ حبشہ میں تھے جہاں وہ ہجرت کر کے گئے تھے۔فتح خیبر:جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر فتح کیا تو جعفر طیار اور ان کے ساتھیوں کو اس کی خبر ملی۔مدینہ آمد:وہ مدینہ واپس آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔استقبال:نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جعفر طیار اور ان کے ساتھیوں کا والہانہ استقبال کیا اور انہیں خوش آمدید کہا۔خوشی کا اظہار:اس موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے معلوم نہیں کہ کس بات پر زیادہ خوشی کا اظہار کروں، خیبر کی فتح پر یا جعفر طیار کی واپسی  پر، ۔

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

انقلاب چین جو چینی قوم کی نجات کا باعث بن گیا

  چین کے انقلاب میں تاریخی لانگ مارچ کو ایک سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے جو اکتوبر1934ء سے اکتوبر 1935ء تک جاری رہا۔ یہ لانگ مارچ چھے ہزار میل ط...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر