بدھ، 14 ستمبر، 2022

علّا مہ طالب جوہری

 

  

علّا مہ طالب جوہری کو خراج عقیدت پیش کر نے کے لئے ایک پرانے شعر سے ابتدا کرتی ہوں

ہزاروں سال  نرکس   اپنی بے نوری پہ روتی ہے

بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

-وہ زیب ممبر ہو کرچمن کی دیدہ وری کے آئے تھے

طالب جوہری 27 اگست 1939ء کو بھارت کی ریاست بہار

 کے شہر پٹنہ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی اور اعلی مذہبی تعلیم کے لیے نجف اشرف عراق چلے گئے۔ وہاں آیت اللہ العظمی سید ابوالقاسم

 الخوئی کے زیر انتظام حوزہ میں داخلہ لیا۔طالب جوہری آیت اللہ شہید باقر الصدر کے شاگرد رہے۔ وہ آیت اللہ العظمی سید علی سیستانی کے ہم جماعت تھے۔

 اگرچہ آیت اللہ سیستانی ان سے کچھ بڑے تھے۔ علامہ ذیشان حیدر جوادی بھی نجف میں ان کے ہم درس رہے

علامہ طالب جوہری کو نجف اشرف کے ممتاز عالم آیت اللہ سید عبداللہ شیرازی،آیت اللہ سید علی رفانی،آیت اللہ سید محمد بغدادی،آیت اللہ باقر الصدر نے فارغ

 التحصیل ہونے کی سند دی،وہ 1965 کو کراچی واپس آئے،پانچ سال جامعہ امامیہ کے پرنسپل رہے،گورنمنٹ کالج ناظم آباد کراچی میں اسلامیات کے لیکچرر

 مقرر ہوئے،انہیں حکومت نے ستارہ امتیاز سے بھی نوازا،انہوں نے تفسیر قرآن پر کئی کتابیں بھی تحریر کیں۔

علامہ طالب جوہری اتحاد بین المسلمین کے بہت بڑے داعی تھے۔ انہوں نے ہمیشہ نسلی اور فرقہ ورانہ ہم آہنگی پر زور دیا۔ان کے خطبات کا موضوع احکام اللہ کی

 پیروی، اتباع سنت رسول اور حب اہل بیت ہوا کرتا تھا۔ انہیں شیعہ اور سُنی مسالک میں ایک جیسا باوقار مقام حاصل رہا ہر دو انہیں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے

 اور ان کی تقاریر و تحاریر سے استفادہ کرتے ہیں۔

عقلیات معاصر  علّامہ طالب جوہری کیونکہ اکثر اپنے مداحوں میں گھرے رہتے تھے لہٰذا کبھی کبھار وہ ان معمولات کو توڑ کر لانگ ڈرائیو یا پرندوں کے مشاہدے

 کے لیے نکل کھڑے ہوتے۔ کسی بھی دور دراز سڑک سے ہٹے ہوئے چارپائی ہوٹل پر بیٹھ کر بہت خوش ہوتے جہاں انھیں کوئی پہچاننے والا نہ ہو۔

علامہ طالب جوہری علومِ قرانی پر بہترین دسترس  رکھتے ہی تھے مگر نہ خود زاہدِ خشک تھے نہ زاہدانِ خشک کی ہمراہی میں خوش رہتے تھے۔ان کی شرارت آمیز

 خوش دلی اور حسِ جمالیات ہمیشہ توانا و تر و تازہ رہی

علامہ طالب جوہری کو نجف اشرف کے ممتاز عالم آیت اللہ سید عبداللہ شیرازی،آیت اللہ سید علی رفانی،آیت اللہ سید محمد بغدادی،آیت اللہ باقر الصدر نے فارغ

 التحصیل ہونے کی سند دی،وہ 1965 کو کراچی واپس آئے،پانچ سال جامعہ امامیہ کے پرنسپل رہے،گورنمنٹ کالج ناظم آباد کراچی میں اسلامیات کے لیکچرر

 مقرر ہوئے،انہیں حکومت نے ستارہ امتیاز سے بھی نوازا،انہوں نے تفسیر قرآن پر کئی کتابیں بھی تحریر کیں۔

 اسّی کے عشرے میں پی ٹی وی سے فہم القران کی طویل سیریز نشر ہوئی جس میں علامہ نہایت عام فہم اور زود ہضم انداز میں پیغامِ قران سمجھاتے تھے۔

شاعری کا آغاز انہوں نے آٹھ برس کی عمر سے کیا  تھا، اب تک علامہ نے خاصی تعداد میں غزلیں، قصیدے، سلام، نظمیں اور رباعیات کہی، 1968 میں علامہ

 نے وجود باری کے عنوان سے پہلا مرثیہ کہا،علامہ طالب جوہری اتحاد بین المسلمین کے بہت بڑے داعی تھے۔انہوں نے ہمیشہ نسلی اور فرقہ ورانہ ہم آہنگی پر

 زور دیا۔ان کے خطبات کا موضوع احکام اللہ کی پیروی، اتباع سنت رسول ص اور حب اہلبیت ع ہوا کرتا تھا۔ انہیں شیعہ اور سُنی مسالک میں ایک جیسا باوقار مقام

 حاصل رہا ہر دو انہیں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے اور ان کی تقاریر و تحاریر سے استفادہ کرتے ہیں ۔سنی مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے بے شمار افراد یہ علامہ

 کے انتقال کے وقت سوشل میڈیا پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے یہ تسلیم کیا کہ وہ علامہ کو محرم میں سنا کرتے تھے۔

بین المسالک ہم آہنگی کی اگر بات کی جائے تو بلا شبہ علامہ طالب جوہری کا بیان ایک شیعہ عالم ہونے کے باوجود سرکاری ٹی وی چینل پر طویل عرصے تک اس لیے

 چلتا رہا کیونکہ انہوں نے مسلک کی بنیاد پر تفریق اور فرقہ واریت پھیلانے کی کبھی کوشش نہیں کی بلکہ وہ بین المسالک ہم آہنگی کے علمبردار سمجھے جاتے تھے

 ان کی پسندیدہ جگہ ا نکی لائبریری تھی جو ان کے گھر واقع انچولی سوسائٹی میں اوپر کی منزل پر تھی۔ لائبریری کی ہزاروں کتابوں میں سے ہر کتاب علامہ کی انگلیاں

 پہچانتی تھیں چنانچہ انھیں کسی بھی ریفرینس کے لیے کوئی بھی کتاب نکالنے میں زیادہ سے زیادہ دو منٹ لگتے تھے۔ بقول محمد علی سید علامہ نے بلاشبہ ہزاروں

 مجالس پڑھیں مگر ہر مجلس کی تیاری وہ ایسے انہماک اور محنت سے کرتے گویا سپریم کورٹ میں آخری پیشی ہو۔

لباس میں ان کی وضع داری تادم حیات قائم رہی سفید پاجامہ سیاہ اچکن اور سر پر عمامہ

وہ نہائت نرم خو مزاج اور نکتہ سنج شخصیت کے مالک تھے وہ اپنی ایک ایک مجلس پر بہت توجّہ دیتے تھے انہوں قرانی اسلوب کو اپنی شبانہ روز زندگی  کا حصّہ بنا لیا تھا

اس کے بعد نو دس دن تک علامہ روزانہ کوئی ایک موضوع لے لیتے جیسے الحمد، رب العالمین، یوم الدین، نستعین وغیرہ۔ اور آدھا پونا گھنٹہ پرت در پرت سببِ

 نزول، ماخذ، تاریخی پس منظر اور منطق کے سہارے ایسے لے کر چلتے گویا بچے کو کہانی سنا رہے ہوں۔

عراق میں لگ بھگ ابتدائی دس برس حضرت قاسم الخوئی، باقر الصدر اور دیگر علمائے عظام کے آگے زانو تہہ کرنے، عربی و فارسی پر عمومی دسترس اور عرب و

 عجم کی تاریخ فہمی کا فیض تھا کہ علامہ کی مذہبی و غیر مذہبی گفتگو ادق مسائل کا احاطہ ضرور کرتی تھی مگر ان کی اجتہادیت مشکل پسندی اور علمیت کے مصنوعی

 دبدبے سے بالکل آزاد تھی۔ اسی لیے عام آدمی بھی بلا امتیازِ مسلک و نظریہ بلا دھڑک ان کی جانب کھنچتا تھا اور پورا پورا ابلاغی لطف کشید کرتا تھا۔

علامہ طالب جوہری معروف خطیب ہونے کے ساتھ ساتھ اعلیٰ پائے کے شاعر بھی تھے،آٹھ برس کی عمر سے آپ نے شاعری کا آغاز کیا تھا،علامہ طالب جوہر

 نے یادگار غزلیں،قصیدے،سلام،نظمیں اور رباعیات کہی، 1968میں آپ نے وجود باری کے عنوان سے پہلا مرثیہ بھی کہا۔تصنیفات طالب جوہری

 مرحوم-تفسیر القرآن-احسن الحدیث (قرآنی تفسیر)مقاتل-حدیث کربلا-مذہب-ذکر معصوم-نظام حیاتِ انسانی-خلفائے اثناء عشر-علامات ظہور مہدی-فلسفہ:

علامہ طالب جوہری اکیاسی برس کی عمر میں اپنی  جان جان آفریں کے سپرد کر کے کُل کے بادشاہ کی خدمت میں حاضر ہوگئے

خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را،  

 

 

:

ریگ تپاں ہے مولا

 



اللهم صلى على محمد وآل محمد وعجل فرجهم


بعد عاشور یہ گزری آل  نبی پر-شام کے بازاروں میں اہل حرم کو پا پیادہ پھرا گیا -اور پھر 

قصر یزید میں-زَحر بن قَیس نے واقعہ کربلا کی جنگ کی رپورٹ یذید کے سامنےبیان کی۔ یزید نے سارا ماجرا سننے کے بعد حکم دیا کہ محل کو سجایا جائے، بزرگان شام کو بلایا جائے اور اسیروں کو حاضر کیا جائے۔ روایات سے پتہ چلتا ہے کہ اسیروں کو رسیوں سے جکڑے ہوئی حالت میں پیش کیا گیا۔ 

: یزید قیدیوں کی موجودگی میں سونے کے تھال میں رکھے ہوئے سر امام حسینؑ کو لکڑی کی چوب سے ما رہا تھا جب سکینہ اور فاطمہ یہ منظر دیکھا تو انہوں نے اس طرح فریاد کی کہ یزید اور معاویہ بن ابوسفیان کی بیٹیوں نے گریہ کرنا شروع کیا۔شیخ صدوق سے امام رضاؑ کی مروی روایت کے مطابق یزید نے سر امام حسین کو طشت میں رکھا اور اسے کھانے کی میز پر رکھ دیا۔ پھر اپنے اصحاب کے ساتھ کھانے میں مشغول ہو گیااس کے بعد اسے شطرنج کی میز پر رکھ کر شطرنج کھیلنے مشغول ہوا۔ کہتے ہیں جب وہ بازی جیت جاتا تو ایک جام فقاع (جَو کی شرآب) کا پیتا اور اس کا آخری بچا ہوا پانی طشت کے پاس زمین پر گرا دیتا

حاضرین کا اعتراض: یزید کی اس قبیح حرکت پر حاضرین میں سے بعض نے اعتراض کیا، ان میں سے مروان بن حکم کا بھائی یحیی بن حکم تھا جس کے اعتراض کے جواب میں یزید نے اس کے سینے پر ہاتھ مارا۔اَبوبَرْزہ اَسْلَمی نے بھی اعتراض کیا تو یزید کے حکم پر اسے دربار سے نکال دیا گیا۔

زرا اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر سوچئے دس محرّم کو سیّد سجّاد پر بیماری اس قدر نقاہت طاری تھی کہ آ پ کے نیچے سے بستر جو کھینچا تو امام علیہ السّلام غشی کی حالت میں

 زمین پر آرہے اورپھر خیمہ کو شمر نے آگ لگادی اسی اثنا میں بی بی زینب سلام اللہ علیہا جو جلتے ہوئے خیام سے بچّوں کو بچانے کے لئےجمع کر رہی تھیں اور دوڑتی

ہوئ بیمار کربلا کے خیمہ میں داخل ہوئیں اور سیّد سجّاد کو اپنی پشت پر لے کر باہر آئیں اور بیمار بھتیجے کو گرم ریتی پر لٹا دیا  جی ہاں اسی بیمار کو اگلی صبح طوق و سلاسل کے

 ساتھ ماں بہنوں کے قافلے کی ساربانی کرنی  پڑی -

 آل نبی کو شہید کردینے کے  بعدعرب قبائل کے افراد نے ابن زیاد کی قربت اور اللہ کی لعنت حاصل کرنے کے لئے شہداء کے مطہر سروں کو آپس میں تقسیم

 کرکے نیزوں پر سجایا اور کوفہ جانے کے لئے تیار ہوئے؛ اور حرم رسول اللہ  صلّی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم کی بےچادر خواتین، بچیوں اور بچوں کو ، بے کجاوہ اونٹوں پر سوار

 کیا گیا اور کفار کے اسیروں کی طرح انہیں کوفہ کی جانب لے گئے۔جب ابن سعد اسیروں کے ہمراہ کوفے کے نزدیک پہنچا تو وہاں کے لوگ اسیروں کا تماشا دیکھنے کے لئے آئے تھے۔ ایک کوفی خاتون اپنے گھر کی چھت سے اسیروں کے کارواں کا نظارہ کررہی تھی۔ اس نے اسراء سے پوچھا: "تم کس قوم کے اسیر ہو؟"۔جواب ملا :"ہم اسیران آل محمدعلیہ السلام ہیں

اب ذرا تصور کریں کہ امام سجاد علیہ السلام کا حال کیا رہا ہوگا؟ ایک طرف سے بیماری کی وجہ سے نقاہت جسم مبارک پر طاری تھی، دوسری طرف سے اہل

 خاندان، بھائیوں، چچا زاد بھائیوں، رشتہ داروں، چچا اور بابا کی شہادت اپنی آنکھوں سے دیکھی تھی اور ان کے کٹے سر آپ  علیہ السلام کے سامنے نیزوں پر تھے مگر

 ان سب غموں اور دکھوں سے بڑا اور تکلیف دہ مسئلہ یہ تھا کہ آپ  علیہ السلام امام تھے اور غیرت الہی کا مظہر تامّ و تمام تھے اور اب خاندان محمد  صلّی اللہ علیہ واٰلہ

 وسلّم کی سیدانیاں اس حال میں آپ علیہ السلام کے ہمراہ اسیر ہوکر جارہی تھیں  

دارالامارہ میں اسیران آل محمد صلّی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم کے داخلے سے قبل امام حسین علیہ السلام کا سر مطہر ابن زیاد کے سامنے لایا گیا۔ ابن مرجانہ کے ہاتھ میں

 خیزران کی ایک چھڑی تھی اور امام کے لب و دندان پر اس چھڑی سے بے ادبی کرنے لگا۔ یہ بے ادبی اور جسارت حاضرین کے اعتراض و تنقید کا باعث ہوئی

 رسول الل صلّی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم کے صحابی اور جنگ صفین میں امیرالمؤمنین  علیہ السلام کے ساتھ جہاد کرنے والے بزرگ "زید بن ارقم" جو اس وقت معمر اور

 بوڑھے ہوچکے تھے، نے عبیداللہ سے خطاب کرکے تنبیہ کی: "اپنی چھڑی اٹھالینا! خدا کی قسم میں نے پیغمبر اکرم صلّی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم کو دیکھا کہ جن لبوں اور

 دانتوں کو تم چھڑی مار رہے ہو آپ صلّی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم ان کے بوسے لیا کرتے تھے"۔ ابن ارقم یہ کہہ کر رونے لگے۔یزید کے گورنر نے کہا: "اگر تم پاگل اور

 عقل باختہ بوڑھے نہ ہوتے ابھی اسی وقت تمہارا سر قلم کردیتا"۔ابن ارقم اسی وقت اٹھے اور دارالامارہ سے باہر نکلتے ہوئے کہا: "اے عرب! آج سے تم سب

 غلام بن گئے۔ تم نے فرزند فاطمہ (س) کو قتل کیا اور ابن مرجانہ کو اپنا امیر تسلیم کیا!۔

خدا کی قسم! یہ شخص تمہارے نیک اور صالح افراد کو قتل کرے گا اور تمہارے شریروں اور جرائم پیشہ افراد سے کام لے گا"۔

"انس بن مالک" بھی موجود تھے جو امام علیہ السلام کا سر دیکھ کر اور عبیداللہ کی جسارت کا مشاہدہ کرکے روئے اور کہا: "یہ رسول اللہ کے ساتھ بہت زیادہ شباہت رکھتے ہیں"۔

اس کے بعد اسراء ابن زیاد کے دربار میں لائے گئے۔ابن مرجانہ نے امام  علیہ السلام    کو دیکھا تو کہا:"تم کون ہو؟ فرمایا: میں "علی بن الحسین"ہوں۔ اس ملعون

 نے کہا: "کیا علی ابن الحسین کو خدا نے نہیں مارا؟ امام نے فرمایا: "میرے ایک بھائی کا نام بھی علی تھا جن کو لوگوں نے قتل کر ڈالا۔ابن زیاد نے کہا: "خدا نے مارا

 اسے"۔ امام نے فرمایا:’’ اللہ یتوفی الانفس حین موتھا  ‘‘ خدا موت کے وقت انسانوں کی روح اپنے قبضے میں لے لیتا ہے" (سورہ زمر آیہ 42)-ابن زیاد نے غصے

 میں کہا: "میرے جواب میں دلیری دکھاتے ہو؟" اور اپنے جلادوں کوحکم دیا کہ ان کا کلام قطع کردیں اور ان کا سر قلم کردیں"۔پس حضرت زینب نے فرمایا:

 "اے پسر زیاد! تم نے ہمارا جتنا خون بہایا اتنا ہی بس ہے" اور جناب زینب  نے امام کو اپنی آغوش میں لیا اور فرمایا: "واللہ میں ان سے جدا نہ ہونگی،اگر تم انہیں مارنا

 چاہتے ہو تو مجھے بھی قتل کردو"۔

ابن زیاد نے ان کی طرف دیکھا اور کہا: "عجبا کہ یہ عورت اپنے بھتیجے کے ہمراہ قتل ہونا چاہتی ہے! چھوڑو اس کو کیوں کہ یہ اپنی بیماری سے ہی مر جائے گا"…

امام سجاد علیہ السلام  شام کی مشقتیں، اسیری کے دکھ درد اور دربار یزید کے عذاب کو برداشت کیا… اور اپنی عمر شریف کے آخری ایام تک کربلا اور کوفہ و شام کے مصائب کو یاد کرتے تھے

آپ  علیہ السلامنے ان ایام میں، اپنے تمام فرزندوں کو بلایا اور اپنے فرزند ارجمند "محمد بن علی الباقر علیہ السلام جو اپنے والد کے ہمراہ ۴سال کی عمر میں کربلا، کوفہ

 اور شام میں حاضر تھے ـ اپنا وصی اور جانشین قرار دیا اور اپنے فرزندوں کی تعلیم و تربیت اور سرپرستی کی ذمہ داری انہیں سونپ دی اور ان سب کو وصیت و نصیحت فرمائی۔اس کے بعد آپ علیہ السلام نے امام باقر کو سینے سے لگایا اور فرمایا: "میں تم کو وہی وصیت کرتا ہوں جو مجھے میرے والد نے شہادت کے وقت فرمائی تھی

 اور فرمایا تھا کہ ان کو بھی اپنے والد علی علیہ السلام نے اپنی شہادت کے وقت یہی وصیت فرمائی تهی اور وہ یہ کہ: "خبردار! ظلم نہ کرنا ایسے شخص پر جس کا تمہارے مقابلے میں خدا کے سوا کوئی مددگار نہیں ہے-

امام سجاد  علیہ السلام  اموی بادشاہ "عبدالملک بن مروان" کے حکم پر اس کے ایک بیٹے کے ہاتھوں مسموم ہوئے اور شہادت پائی۔

منگل، 13 ستمبر، 2022

درد شقیقہ جسے آدھا سیسی کا درد بھی کہتے ہیں

درد شقیقہ جسے آدھا سیسی کا درد بھی کہتے ہیں

 

 

درد کوئ بھی ہو بدن کے کسی بھی حصّے میں درد تو درد ہی ہوتا جیسے کہ فیض احمد شاعر کو جس رات ہارٹ اٹیک ہوا تو انہوں بے اختیار یہ اشعار کہے درد اتنا تھا کہ اس رات دل وحشی نے -

ہر رگ جاں سے الجھنا چاہا

ہر بن مو سے ٹپکنا چاہا

اور کہیں دور ترے صحن میں گویا

پتا پتا مرے افسردہ لہو میں دھل کر

حسن مہتاب سے آزردہ نظر آنے لگا

میرے ویرانۂ تن میں گویا

سارے دکھتے ہوئے ریشوں کی طنابیں کھل کر

سلسلہ وار پتا دینے لگیں

رخصت قافلۂ شوق کی تیاری کا

اور جب یاد کی بجھتی ہوئی شمعوں میں نظر آیا کہیں

ایک پل آخری لمحہ تری دل داری کا

درد اتنا تھا کہ اس سے بھی گزرنا چاہا

ہم نے چاہا بھی مگر دل نہ ٹھہرنا چاہا میری یہ پوسٹ سر درد کے اوپر ہے-درد شقیقہ عام سردرد سے مختلف ہوتا ہے جس کے

 دوران سر کے کسی ایک حصے یا آدھے سر میں شدید درد ہوتا ہے اور آنکھیں شدید روشنی برداشت نہیں کرسکتی۔آدھے

 سر کا  یہ درد مخصوص وقت اور وقت کے مخصوص دورانئے کے لئے ہوتا ہے جیسے  گھنٹے دورانیہ مکمل ہونے پر خود بخود چلا

 جاتا ہے-بعض اوقات  سردرد کے ساتھ الٹی  بھی  نے لگتی ہے۔ اس کی بہت سی وجوہات ہیں۔ اس کو جدید ایلوپیتھی

 اصطلاح میں میگرین Migraine بھی کہتے ہیں۔ بعض اوقات  یہ پورے سر میں ہوتا ہے مگر آدھے سر میں کم اور

 آدھے میں زیادہ ہوتا ہے۔ میگرین شدید نوعیت کا درد ہے جو مریض کو کسی کام کاج کا نہیں چھوڑتا۔ بھنوؤں کے اوپر اور

 ملحقہ حصے کا درد بھی میگرین ہی کی ایک قسم ہے۔

آدھے سر کا درد خون کی شریانوں کے بڑھے اور اعصاب سے کیمیائی مادوں کی ان شریانوں میں ملنے سے پیدا ہوتا ہے۔

 اس کے دورے کے دوران ہوتا  یہ ہے کہ کنپٹی  کے مقام پر جلد کے نیچے رگ پھول  جاتی ہے۔ اسی کے نتیجے میں کچھ

 کیمیائی مادے پیدا ہوکر سوجن اور درد کے ذریعے رگ کو مزید پھلادیتے ہیں جس سے دفاع میں اعصابی نظام ، متلی ، پیٹ

 کی خرابی اور قے کا احساس پیدا کرتا ہے۔

علاوہ ازیں اس کی وجہ سے خوراک کے ہضم ہونے کا عمل بھی سست پڑجاتا ہے۔ دوران خون کے سست پڑنے سے ہاتھ

 اور پاؤں ٹھنڈے پڑسکتے ہیں اور  روشنی اور آواز کی حساسیت  میں اضافہ ہوسکتا ہے جسم کو ایک طرف کمزوری کا احساس

 بھی ہوسکتا ہے۔

میگرین کی علامتوں میں سے ایک علامت  یہ بھی ہے کہ مریض کے سر کے پیچھے حصے میں درد ہوتا ہے۔ اس کی وجہ پرانا

 بلڈپریشر بھی ہوتا ہے اور یہ سر کا درد دورہ دار ہوتا ہے جو بالعموم دائیں یا بائیں جانب نصف سر میں ہوا کرتا ہے-کسی

 مریض کو یہ سورج نکلنے کے ساتھ شروع ہوتا ہےاور جوں جوں سورج کی تمازت بڑھتی ہے درد کی شدّت بھی بڑھتی ہے

 یہ درد  غروب آفتاب کے وقت ختم ہوجاتا ہے۔ کبھی سر شام شروع ہوکر رات پھر رہتا ہے اور صبح ٹھیک ہوجاتا ہے۔ دن

 کے دورے زیادہ تر پائے جاتے ہیں۔ یہ ایک ضدی مرض ہے۔۔

آدھے سر کے درد کے لیے ڈاکٹر طرز زندگی بدلنے کی تجاویز دیتے ہیں۔ یوں تو  میگرین  یعنی آدھے سر کے درد سے ہر

 دوسرا شخص متاثر ہوتا ہے۔ تاہم بہت کم لوگوں  کو علم ہے کہ دراصل یہ درد ہوتا کیوں ہے۔

آدھے سر کا درد  ہوا اور ساتھ ساتھ دوسری ذمہ داریاں ہوں جیسے گھر کے کام آفس کے کام  ہوں تو کچھ لوگ درد کو کم

 کرنے کے لیے بدحواسی میں دھڑا دھڑ درد کو کم کرنے والی گولیوں کا استعمال شروع کردیتے ہیں تاکہ جلد سے جلد اپنی

 ذمہ داریاں پوری کرسکیں لیکن پریشانی اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب بیک وقت درد کم کرنے والی دو یا دو سے زیادہ

 گولی کھانے پر بھی افاقہ نہ ہو۔  

آدھے سر کے درد کا تعلق بنیادی طور پر اعصاب سے ہے جو کہ عمر کے کسی بھی حصے میں لاحق ہوسکتا ہے یہ بچوں اور

 بڑوں دونوں میں پایا جاتا ہے۔ تاہم دیکھنے میں آیا ہے اس بیماری میں زیادہ تر خواتین متاثر ہوتی ہیں۔ چوں کہ یہ ایک

 اعصابی بیماری ہے ۔ جیسے ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے سکونی، نیند کی کمی، کم بلڈ پریشر، نظر کی کمزوری، لینز پہننے سے آنکھوں 

میں تھکن ، ذہنی تھکن، بعض پودوں سے الرجی اور بعض اوقات کیفین اور کھٹی خوراک اس کا باعث بن جاتی ہے۔

 خواتین کی ماہواری کے دوران یا اس کے کچھ دن پہلے اکثر اوقات میگرین کا مسئلہ ہوجاتا ہے

دوسرے علاج: میگرین کا تعلق اعصاب کی بے سکونی  اور بے آرامی سے ہے لہٰذا یوگا کو اپنی زندگی کا حصہ بنالیں۔

مریض دماغ کو قوت دینے والی غذائیں کھائے۔ بازار سے چاروں مغز اور  اس میں 25گرام بادام اور 10گرام اخروٹ

 ملاکر پیس کر دودھ کے ساتھ اس کا حریرہ بناکر صبح اور شام اس کا استعمال کریں۔

درد شقیقہ میں فوری آرام کے آسان ٹوٹکے

درد شقیقہ سے نجات کے لیے ہر بار گولی کھانے سے صحت پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں-درد شقیقہ عام سر کا درد

 نہیں ہوتا، درد شقیقہ میں انسان کے آدھے سر میں درد ہوتا ہے یا تو سر کے کسی ایک حصے میں شدید تکلیف ہوتی ہے۔اس

 درد میں انسان کو تیز روشنی، شور شرابا بالکل برداشت نہیں ہوتا اور اس کی وجہ سے بسا اوقات الٹی بھی آجاتی ہے۔ یہ درد

 کسی بھی عمر کے لوگوں کو کسی بھی وقت ہو سکتا ہے۔

درد شقیقہ سے کلّی نجات کے لئے انتہائ اعلیٰ نسخہ یہ ہے کہ عصر کے وقت ایک چھٹانک تازہ جلیبیاں لے کر انہیں اتنے

 دودھ میں بھگو دیجئے کہ جلیبیاں پوری طرح دودھ سے ڈھک جائیں پھر وہ جلیبیاں مریض کو کھلا دی جائیں اور جلیبی کا

 شیرہ ناک میں دونوں جانب دو دو قطرے ٹپکا دیا جائے اس علاج سے کچھ دنوں میں مرض سے شفاء ہو جاتی ہے-

غذائ چارٹ کچھ یوں ہو گا

چنے کی دال ہفتہ میں ایک مرتبہ

چنے کی دال کا حلوہ

مسور کی دال ہفتہ میں ایک بار

لوکی اور بکرے کے گوشت کا سالن

لوکی کا حلوہ

اور ہری سبزیوں کا متوازی استعمال

اللہ آ پ کا حامئ و ناصر ہوآمین

پیر، 12 ستمبر، 2022

ہجرت کی شب مسہری

 

ہجرت کی شب مسہری

جان نثاری و فداکاری کی بے نظیر مثال

ا یک شا م  سرورکائنات حضرت  محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی علیہ السّلام کو کاشانہ نبوّت میں طلب فرمایا مولائے

 کائنات علیہ السّلام بیت نبوت پر پہنچے تو آپنے فرمایا- ائے علی  علیہ السّلام آج کی رات مشرکین نے میری جان لینے کا ارادہ

 کیا ہے اس  وجہ سے میں آج کی رات یہاں سے نکل جانا چاہتا ہوں اس لئے آ ج کی رات تم میرے بستر پر میری یمنی چادر

 اوڑھ کر سو جاو- میرے پاس کچھ امانتیں ہیں وہ ان کے حق د اروں کو واپس کر کے میرے پاس آجانا-مولا علی  علیہ السّلام

 نے فرمایا اگر آپ کے بستر استراحت پر میرے سو جانے سے آپ کی جان بچ جاتی ہے تواس کے لئے بخوشی تیّار ہوں-

 آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی کو اپنے بستر پر سلادیا  اللہ نے اس رات دو فرشتوں کو طلب کیا اور کہاکہ آج کی

 رات ایثار کی رات ہے تم میں سے کون ہے جو آج کی رات اپنی جان اپنے بھائ کے لئے پیش کرے دونوں فرشتوں نے

 انکار کر دیا تب پروردگار عالم نے فرمایا جاو دیکھو روئے زمین پر ایک فرد ایسا ہے جو اپنی جان اپنے بھائ کےليے بیچ کر سویا ہے

 اب تم دونوں جاؤ اور اس کی حفاظت کرو-تب وہ دونوں فرشتے زمین پر آئے تو ایک فرشتہ مولائے کائنات کے سرہانے

 کھڑا ہو اور دوسرا پائنتیانے کھڑا ہوااور آپ خاموشی کے ساتھ اپنے گھر سے نکل کر سب سے

 پہلے حضرت ابو بکر صد یق رضی اللہ عنہ کے گھر گئے اور اپنا ارادہ ظاہر فرمایا۔

پھرحضر ت  ابو بکر   صدیق رضی اللہ عنہ کے ہمراہ پیغمبر اسلام نہایت ہی حکمت عملی کے ساتھ بچتے بچاتے مدینہ منورہ پہنچے

 ، رات بھر مشرکین کا محاصرہ قا ئم رہا اوراس خطرہ کی حالت میں  مولائے کائنات بہت ہی سکون  واطمینان کے ساتھ محو

 خواب رہے-غرض تمام رات مشرکین قریش اس دھوکا میں رہے کہ خود سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم ہی استراحت فرما ہیں،

 ہےصبح ہوتےہی کفا ر اپنے ناپاک ارادہ کی تکمیل کے لیے اندر آئے؛لیکن یہاں یہ دیکھ کر وہ متحیرہوگئے کہ شہنشاہِ دو

 عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی بجائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک جاں نثار اپنے آقا پر قربان ہونے کے لیے سربکف سو رہا ہے،

 حضرت علی علیہ السّلام کی عمر اس وقت زیادہ سے زیادہ بائیس تئیس برس کی تھی، اس عنفوانِ شباب میں اپنی زندگی کو

 قربانی کے لیے پیش کرنا آپ کی جا ں نثاری کا عدیم المثال کارنامہ ہے،  ، حضرت علی علیہ السّلام بستر سے اُٹھَے  اور کفار سے

 بولے میں جا رہا ہوں جو چاہے کہ میں راستہ میں اس کی بوٹیا ں چیل کووں کو کھلا دوں وہ میرے پیچھے آ جائے مشرکین اپنی

 اس غفلت پر سخت برہم ہوئے اورحضرت  علی کو چھوڑ کر اصل مقصود کی تلاش وجستجو میں روانہ ہو گئے۔ حضرت علی

 آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف لے جانے کے بعد دو یا تین دن تک مکہ میں مقیم رہے

اورآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کے مطابق جن لوگوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کاروبار اور لین دین تھا،

 ان کے معاملات سے فراغت حاصل کی اور مکّہ کی سرزمین کو الوداع  کہہ کر عازم مدینہ ہوئےاللہ تعالیٰ نے مولائے

 کائنات کے اس عمل کو قران پاک کے ان الفاظ سے سراہا ہے-چھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ کی رضا جوئی کے لئے اپنی

 جان دے دیتے ہیں اور اللہ اپنے بندوں پر بڑی ہی شفقت رکھتا ہے حقیقت یہ ہے کہ صحیح معنوں میں قوم کے راہنما یہ

 لوگ ہیں جو اعمال کی صورت کے ساتھ مقاصد کو بھی پیش نظر رکھتے ہیں۔  صر ف خدا وندقدوس کی رضا طلبی ان کی منشا ہو تی ہے۔


ہفتہ، 10 ستمبر، 2022

شمع گل تا بو ت(روہڑی سکّھر)ہم تمھارے پاس تا قیامت آئیں گےامام حسین علیہ السّلام

 

تحریر و تلخیص ۔۔سیدہ زائربسم اللہ الّرحمٰن الرّحیم ،

نحمد ہ ونصلّی علٰی رسولہ الکریم واٰلہ الطّیبین الطا ہرین ۃ

میں اپنی تحریر کے آغاز پر ہی  سکھّر روہڑی (پاکستا ن) کے ان تمام  افرادکا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں جن کی مساعی کی

 بدولت ‘‘اور دنیا کے انگنتمومنین کو عشق حقیقی کے متوالوں کی سچّی داسوںنتان سننے اور بزات خود دیکھنےکو ملی یو ٹیوب

 پر سب کچھ سننے اور دیکھنے کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ اس عشق خودکی سچّی داستان کو حرف حرف لکھ کر پیش کر سکوں تو

 اسے اپنی قسمت کی عین سعادت سمجھوں گی۔ میں پاکستان کےشہروں میں صرف لاہور ،کوئٹہ ،نوابشاہ ،حیدر آباد سے

 واقف ہوں جہاں میں جا سکی ہوں لیکن امام مظلوم کے اس معجزاتی تابوت کی یو ٹیوب پر زیارت کے بعد میرے دل میں

 پاکستان جا کرزیارت کرنے کی ایک لگن دل میں جاگ اٹھی ہے۔

اسی شہر کی شاہی مسجد میں حضور پاک 'سیّد المرسلین صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کا موئے مبارک جلوہ گر ہےاور اسی

 خصوصیت کی بناء پر یہ خطّہ ءارض بے شمار ولیو ں ،بزرگو ں،اورعاشقان  محمّد و آ ل محمّد صلّی اللہ علیہ واٰ لہ وسلّم کا محبوب ترین

 خطّہ رہا ہے یہاں قلندر لال شہباز اور شاہ عبداللّطیف بھٹائ کی اورانگنت بزرگان دین کی چلّہ گاہیں اورآستانے  موجود ہیں

 جو زائرین کے لئے کشش کا باعث ہیں برّصغیر اپک وہند میں سندھ کے علاقے کو یہ شرف حاصل رہا ہے کہ دین اسلام کی

 روشنی یہاں سے داخل ہوئ اور پھر پورے برّصغیر کو اس روشنی نے اپنی پاکیزہ کرنو ںسے منوّر کیا اور سند ھ کو باب الاسلام

 کے لقب سے سرفراز کیدر حقیقت دین اسلام کی روشنی محمّد بن قاسم سے پہلے ہی خانواد ہء آل رسول صلّی اللہ علیہ واٰلہ

 وسلّم کی اس خطّہ ارض پر ہجرت سے شروع ہو چکی تھی

 اس کی ابتدا   ءاس طرح سے ہوئ کہ ساتویں صدی ہجری میں امام

 علی نقی علیہ اسّلام کی نسل سےایک بہت بڑے عالم و زاہد و متّقی صاحب کشف وکرامت بزرگ امیر سیّد محمّد مکّی ابن سیّد

 محمد شجاع 640 ء میں مشہد مقدّس سے تشریف لائے اور اپنےاجداد اور حضرت امام حسین علیہ السّلام کی سنّت کے

 مطابق یہان کے حاکم سےزمین خریدی اور اس زمین پر جا گزیں ہو گئے۔

یہان آپ نے مدرسہ اور  مسجد تعمیر کروائ اور اسی مدرسے اور مسجد سےتبلیغ دین اور ترویج اسلام و درس وتدریس کا

 سلسلہ شروع کیا ،ان کی رحلت کے بعد ان کے فرزندحضرت خطیب سید صدرالدّین نے بھی اپنے والد کی طرح درس

 وتدریس کا یہ سلسلہ قائم رکھّا   خطیب سید صدرالدّین کا جائے مدفن سکھراور  روہڑی کے درمیان جزیرہ نما ء قلعہ بکھّر

 میں واقع ہے ۔درس وتدریس کا یہ سلسلہ ارتقاء کی منازل طے کرتے ہوئے دین اسلام کی پناہ میں انگنت بھٹکے ہوؤں کو

 سیدھی راہ دکھاتے ہوئے آ گے بڑھتا رہا ,اگر دیکھا جائے تو سندھ کے علاقے میں تعزئیےداری و عزاداری کی ابتداء اسی

 شہر سے ہوئ اور یہ سلسلہ پھیلتا ہوا سندھ کے دیگر علاقوں میں پھیلا اور عوام و خواص کو حق و باطل کے اس خونیں

 اوراندوہناک واقعے کی تفصیل معلوم ہوئی۔اس وقت روہڑی شہر میں ماہ محرّم میں نکلنے والے تابوت کے لئے لے بتایاجاتا

 ہے کہ 1000ھجری میں یہاں پر  حضرت سید محمّدامیر مکّی کی پشت سے ایک بچّےنے جنم لیا ،یہ بچّہ آگے چل کر اپنے

 اجداد کی مانند بزرگ ،ولی ثابت ہوامحمد شریف اپنی ابتدائ عمر سے ہی غم حسین علیہ ا لسّلام میں سوگوارواشکبار رہا کرتے

 تھے اور انہو ں نے عزادارئ امام مظلوم کو ہی اپنامقصد حیات بنا لیا تھا اسی اشکباری کے سبب ان کانام محمّد شریف کے

 بجائےمور شاہ یعنی رونے والا پڑ گیا

اسی مودّت امام حسین علیہ السّلام میں ہونے کی بناء پر وہ ہر سال پیدل روضہ امام حسین علیہ اسّلام کی زیارت کو جایا کرتے

 تھے اورا س سفر میں ان کے کچھ خاص رفقاء بھی ساتھ ہوتے تھے ان رفقاء میں  ایک کھبّڑ فقیر بھی تھے جو ہمیشہ مور شاہ

 کے ہمراہ سفر کےساتھی ہوتے تھے-یاد رہے کہ کھبّڑ فقیر بھی سادات النّسل بزرگ تھے جنہوں عشق امام میں اپنے

 آپ کو امام عالی مقام کا گیا گزرا یعنی کھبّڑ فقیر کا نام دیا تھا اور ان کا اصل نام پس منظر میں چلا گیا اور وہ کھبّڑ فقیر کے نام سے

 معروف ہوئے-کہتے ہیں کہ  مور شاہ  جب ضعیف العمری میں داخل ہوئے اور محرم آنے پر زیارت کربلا کو حسب

 معمول پا پیادہ روضہ اما م عالی مقام پر پہنچے تب مور شاہ نے امام حسین علیہ السّلام سے  گزارش کی یا امام علیہ السّلام میں اب

 ضعیف ہو گیا ہوں مجھے آپ اب اپنے پاس رکھ لیجئے -

جواب میں مولا حسین نے فرمایا کہ میرے فرزند تم تمام عمر ہماری زیارت کو آتے رہے اب تم جا وہم تمھارے پاس

 خودآئیں گے اور تا قیامت آئیں گے-اما م عالی مقام کا جواب سن کرمور شاہ  واپس عازم سفرہوئے اور روہڑی پہنچ کر تمام

 رفقاء کو بتایا کہ امام عالی مقام ہمارے مہمان ہوں گے -اب محرم کا مہینہ شروع ہونے کو تھا تب دو افراد مور شاہ کا پتا پوچھتے

 ہوئے ان کے گھر آئے اور انہوں نے بتایا کہ ہم عراق شہر کر بلا سے آئے ہیں ہمارا تعلّق قبیلہ بنی اسد سے ہے اور ہمارے

 پاس وہ امانتیں محفوظ تھیں جو قبیلہ بنی اسد  کو پہلی بار مقتل میں لاشہ ہائے شہداء کی تدفین کے موقع پر ملی تھیں لیکن  اب

 ہمیں حضرت امام حسین علیہ ا لسّلام کی جانب سے بشارت ہوئی ہے کہ ہم یہ امانتیں آپ کے سپرد کر دیں  پھر بزرگوں نے

 تعزئے کا نقشہ اورامانتیں مور شاہ کو دیں اور کہا کہ اس تعزئے کا نقشہ وہ ہے جو قبیلہ بنی اسد کی لوگون نے پہلی مرتبہ امام

 مظلوم کی قبر پر سائے کے لئے بنایا تھا پھر ان دونو ں بزرگ حضرات نے کچھ عرصے روہڑی میں سیّد مور شاہ کے ہمراہ

 قیام کیا، اور تعزئے کربلا کے حوالے سے کچھ اور بھی سینہ بہ سینہ راز ان کےگوش گزار کئے ،ان میں وقت اور دن کا تعین

 بھی تھا ان دو بزرگوں میں سےایک کا انتقال ہوگیا جن کا مدفن سید مورشاہ کے مزار کےبرابر میں  روہڑی میں ہے اور

 زیارت خاص و عام ہے۔

اور دوسرے بزرگ عراق کربلا روانہ ہو گئےیہ ساری امانتیں  اور احکامات ملنے کے بعد جب پہلی مرتبہ محرّم الحرام کاآغاز

 ہوا تو سیّد مورشاہ نےبتائے ہوئے طریقے اور نقشے کے مطابق 8 محرّم الحرام کے دن اور 9 محرّم الحرام کی درمیانی رات کو

 تعزئے کربلا کا کام  مسجد  میں شروع کیا اورحکم امام کےمطابق علاقے کے مومنین کو دعوت بھیجی گئ کہ صبح نمازفجر سے

 پہلے تعزئے

 کربلا برامد ہوگااندر مسجد کربلا میں سیّد مورشاہ اپنے رازدار ساتھیوں کے ہمراہ پردے میں بحکم امام تعزئے کے کام میں

 مشغول رہے اور مسجد کے باہر مومنین تمام رات گرئہ و زاری کرتے رہےجس وقت تعزئہ کربلا کے برآمد ہونے کا

 وقت ہوا تو اسوقت تعزئے کے راستے کی تمام شمعیں گل کر دی گئیں اور یہ معجزانہ تعز یہ دروازے کے بجائے دیوار کے

 اوپر خودبخود بلند ہوا  پھر نیچے آ یاجس کو سوگوارمومنین نے یا حسین یا حسین کی صدائین بلند کرتے ہوئے  اپنے کاندھوں پر

 اٹھا لیاجب تعزیہ ء پاک آ گے بڑھ کر اسوقت کے باشرع عالم،مجتہد،،سیّد حیدر شا ہ حقّانی کے استانے کے نزدیک پہنچا تو

 ان کے کانوں میں یا حسین ،یا رسول کی صدائیں آنی شروع ہوئین تو وہ اپنی عبادت چھوڑ کر اپنے بیٹون سمیت باہرآئے

 اور تعزیہ کربلا ئے معلٰی میں حضرت امام حسین علیہ السّلام کی زیارت سےمشرّف ہوئےاور اما مت کی تجلّی دیکھ کر والہانہ

 انداز مین اپنی عباء و قباء اتار دی اورتعزیہ پاک علیہ السّلام کو کاندھا دیا اور گریہ کنان ہو کرعرض گزار ہوئے یاامام پاک علیہ

 اسّلا م آپ میرے قریب سے گزر کر جا رہے ہیں میری دعوت قبول فرمائیں ، ،جس کے جواب میں امام حسین علیہا لسّلام

 نے مورشاہ کی جانب اشارہ کیا اور فرمایا کہ ہم مورشاہ کے مہمان ہیں آپ ان سے رجوع کریں

مورشاہ نے فرمایا ابھی ہماری کھبّڑ فقیر کی جانب روانگی ہے شام کوآ پ کےمہمان ہوں گے9 محرم الحرام فجر سے پہلے

 رات کے اندھیرے میں تعزیہ پاک کھبّڑ فقیر کے استانے پر پہنچا اور دوپہر تک قیام کیا۔کھبّڑ فقیر کے آستانے سے

 رخصت ہو کر یہ تابوت بہ شکل جلوس شام کو حیدرشاہ حقّانی کے آستانے پر پہنچا تو حیدر شاہ حقّانی تمام جلوس کے شرکاء کی

 اورامام عالی مقام کی میزبانی کا شرف حاصل کیا جب سے لے کر آج تک یہ تعزیہ پاک امام عالی مقام اسی طرح سے برامد

 ہورہا ہئےیہ جلوس شاہی بازارکے مقام پردرگاہ موئے مبارک کے گیٹ پر پہنچتا ہے تو سلامی کی رسم ادا کیجاتی ہئے اور اس

 وقت عاشقا ن امام آہ فغاں کی صدائین بلند کرتے ہوئے امام مظلوم کو پرسہ دیتے ہیں بعد از سلامئ رسول پاک صلّی اللہ

 علیہ واٰ لہ وسلّم یہ جلوس اشکبار آنکھون سے ٹھٹھ بازار سے گزرکر وچھوڑا کے مقامپر پہنچتا ہے جہاں ایک دردناک منظر

 نظر آتا ہے یہاں شاہزادہ قاسم اورشاہزادہ علی اکبر کے تابوت  تعزیہ کربلا سے جدا کرنے کی رسم اداکی جاتی ہے یہ منظر

 دیکھتے ہوئے عزاداران امام عالی مقام بے تابانہ پرسہ پیش کرتے ہیں -کربلا کے دونوں شہزادوں کے تابوتوں کی جدائ اس

 بات کا اظہار ہوتی ہے کہ سرور دیں مظلوم امام اب تنہا ہو گئے یہاں پر عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر یا حسین کی بلند آواز میں

 گریہ و زاری کرتا ہے اور ماتم کرتا ہے یہاں سے امام عالی مقام کا تا بوت روہڑی کے میدان کربلا لایا جاتا ہے جو شام عاشور

 تک وہی قیام کرتا ہے اور ہزارہا ماتم دار اور غیر ماتم دار جو امام کے چاہنے والے اپنے اپنے طریقہ پر امام مظلوم کو پرسہ دیتے

 ہیں -

امام عالی مقام نے اپنے اور اپنے مٹّھی بھر خاندان کے اور کچھ جان نثار صحابہ کے ہمراہ اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر اپنے نانا

 کے دین مبین کو بچا لیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

جمعرات، 8 ستمبر، 2022

شداد کی جنّت کا احوال

 

کہتے ہیں شدّاد اور شدید کے باپ کے پاس بہت دولت تھی باپ نے اپنے بعد دونوں بیٹوں میں وہ دولت تقسیم کر دی -لیکن قسمت نے دوسرے بھائ کے ساتھ یاوری نہیں کی اور وہ جلدی مر گیا اب دوسرے بھائ کی دولت بھی شدّاد کو مل گئ-دولت کی فراوانی  نے شدّاد کو مغرور اور خود سر بنا دیا -اس قوم کو ان کے دادا کی طرف منسوب کرکے ان کو عادِ اِرم بھی کہا جاتاہے۔ اپنے شہر کا نام بھی انھوں نے اپنے دادا کے نام پر رکھا تھا۔ ان کا وطن عدن سے  متصل تھا۔ان کی طرف حضرت ہُودؑ مبعوث کیے گئے تھے احقاف میں بسنے والی اس قوم نے بہت ترقی کی۔ اللہ تعالیٰ نے اس قوم کوغیرمعمولی قدوقامت اور قوت عطا فرمائی تھی۔ ان میں ہر شخص کا قد کم از کم بارہ گز کا ہوتا تھا۔ طاقت کا یہ حال تھا کہ بڑے سے بڑا پتھر جس کو کئی آدمی مِل کر بھی نہ اٹھا سکیں، ان کا ایک آدمی  ایک ہاتھ سے اٹھا کر پھینک دیتا تھا۔ یہ لوگ طاقت و قوت کے بل بوتے پر پورے یمن پر قابض ہوگئے۔نے بہت ترقی کی۔ اللہ تعالیٰ نے اس قوم کوغیرمعمولی قدوقامت اور قوت عطا فرمائی تھی۔ ان میں ہر شخص کا قد کم از کم بارہ گز کا ہوتا تھا۔ طاقت کا یہ حال تھا کہ بڑے سے بڑا پتھر جس کو کئی آدمی مِل کر بھی نہ اٹھا سکیں، ان کا ایک آدمی  ایک ہاتھ سے اٹھا کر پھینک دیتا تھا۔ یہ لوگ طاقت و قوت کے بل بوتے پر پورے یمن پر قابض ہوگئے۔

 شدّاد نے اپنے بھائی شدید کے بعد سلطنت کی رونق و کمال کو عروج تک پہنچایا۔ دنیا کے کئی بادشاہ اس کے باج گزار تھے۔ اُس دور میں کسی بادشاہ میں اتنی جرأت و طاقت نہیں تھی کہ اس کا مقابلہ کرسکے۔ اس تسلط اور غلبہ نے اس کو اتنا مغرور و متکبر کردیا کہ اس نے خدائی کا دعویٰ کردیا۔ اُس وقت کے علما و مصلحین نے جو سابقہ انبیا کے علوم کے وارث تھے، اسے سمجھایا اور اللہ کے عذاب سے ڈرایا تو وہ کہنے لگا، جوحکومت و دولت اور عزت اس کو اب حاصل ہے، اس سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے سے کیا حاصل ہوگا؟ جو کوئی کسی کی خدمت و اطاعت کرتا ہے، یا تو عزت و منصب کی ترقی کے لیے کرتا ہے یا دولت کے لیے کرتا ہے، مجھے تو یہ سب کچھ حاصل ہے، مجھے کیا ضرورت کہ میں کسی کی عبادت کروں؟ حضرت ہُودؑ نے بھی اُسے سمجھانے کی کوشش کی لیکن بے سُود۔

 چناں چہ اس نے اپنے افسروں میں سے ایک سو معتبر افراد کو بلایا۔ ہر ایک  کو ایک ہزار آدمیوں پر مقرر کیا اور تعمیر کے سلسلے میں ان سب کو اپنا نکتہ نظر اور پسند سمجھا دی۔ اس کے بعد پوری دنیا میں اس کام کے ماہرین کو عدن بھجوانے کا حکم دیا۔ ع  پھر ان بنیادوں کو سنگِ سلیمانی سے بھروادیا۔ جب بنیادیں بھر کر زمین کے برابر ہوگئیں تو ان پر سونے چاندی کی اینٹوں کی دیواریں چنی گئیں۔ ان دیواروں کی بلندی اس زمانے کے گز کے حساب سے سو گز مقرر کی گئی۔ جب سورج نکلتا تو اس کی چمک سے دیواروں پر نگاہ نہیں ٹھہرتی تھی۔ یوں شہر کی چاردیواری بنائی گئی۔

اس کے بعد چار دیواری کے اندر ایک ہزار محل تعمیر کیے گئے، ہر محل ایک ہزار ستونوں والا تھا اور ہر ستون جواہرات سے جڑاؤ کیا ہوا تھا۔ پھر شہر کے درمیان میں ایک نہر بنائی گئی اور ہر محل میں اس نہر سے چھوٹی چھوٹی نہریں لے جائی گئیں۔ ہر محل میں حوض اور فوارے بنائے گئے۔ ان نہروں کی دیواریں اور فرش یاقوت، زمرد، مرجان اور نیلم سے سجادی گئیں۔ نہروں کے کناروں پر ایسے مصنوعی درخت بنائے گئے جن کی جڑیں سونے کی، شاخیں اور پتے زمرد کے تھے۔ ان کے پھل موتی ویاقوت اور دوسرے جواہرات کے بنواکر ان پر ٹانک دیے گئے۔ شہر کی دکانوں اور دیواروں کو مشک و زعفران اور  عنبر و گلاب سے صیقل کیاگیا۔ یاقوت و جواہرات کے خوب صورت پرندے چاندی کی اینٹوں پر بنوائے گئے جن پر پہرے دار اپنی اپنی باری پر آ کر پہرے کے لیے بیٹھتے تھے۔ جب تعمیر مکمل ہوگئی تو حکم دیا کہ سارے شہر میں ریشم و زردوزی کے قالین بچھا دیے جائیں۔ پھر نہروں میں سے کسی کے اندر میٹھا پانی، کسی میں شراب، کسی میں دودھ اور کسی میں شہد و شربت جاری کردیا گیا۔بازاروں اور دکانوں کو کمخواب و زربفت کے پردوں سے آراستہ کردیا گیا اور ہر پیشہ و ہنر والے کو حکم ہوا کہ اپنے اپنے کاموں میں مشغول ہوجائیں اور یہ کہ اس شہر کے تمام باسیوں کے لیے ہر وقت ہر نوع و قسم کے پھل میوے پہنچایا کریں۔

 شداد اور اس کی جنت کا انجام

معتبر تفاسیر میں لکھا ہے کہ بادشاہ اور اس کے لشکر کے ہلاک ہوجانے کے بعد وہ شہر بھی لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل کردیا گیا۔ مگر کبھی کبھی رات کے وقت عدن اور اس کے اِردگرد کے لوگوں کو اس کی کچھ روشنی اور جھلک نظرآجاتی ہے۔یہ روشنی اُس شہر کی دیواروں کی ہے۔ حضرت عبداللہؓ بن قلابہ جو صحابی ہیں، اتفاق سے اُدھر کو چلے گئے۔ اچانک آپ کا ایک اونٹ بھاگ گیا، آپ اس کو تلاش کرتے کرتے اُس شہر کے پاس پہنچ گئے۔ جب اس کے مناروں اور دیواروں پر نظر پڑی تو آپ بے ہوش ہو کر گِر پڑے۔ جب ہوش آیا تو سوچنےلگے کہ اس شہر کی صورتِ حال تو ویسی ہی نظر آتی ہے جیسی نبی کریمؐ نے ہم سے شداد کی جنت کے بارے میں بیان فرمائی تھی۔ یہ میں خواب دیکھ رہاہوں یا اس کا کسی حقیقت سے بھی کوئی تعلق ہے؟ اسی کیفیت میں اٹھ کر وہ شہر کے اندر گئے۔ اس کے اندر نہریں اور درخت بھی جنت کی طرح کے تھے۔ لیکن وہاں کوئی انسان نہیں تھا۔ آپؓ نے وہاں پڑے ہوئے کچھ جواہرات اٹھائے اور واپس دمشق  آئے اور لوگوں سے سارا ماجرہ بیان کیا جو ان کے ساتھ پیش آیا تھا، پھر اس کی ساری نشانیاں بتائیں کہ وہ عدن کے پہاڑ کی فلاں جانب اتنے فاصلے پر ہے۔

 ایک طرف فلاں درخت اور دوسری طرف ایسا کنواں ہے اور یہ جواہرات و یاقوت نشانی کے طور پر میں وہاں سے اٹھا لایا ہوں۔ پھر اہلِ علمحضرات سے وہاں کے لوگوں نے رجوع کرکے اس بارے میں معلومات حاصل کیں کہ کیا واقعی دنیا میں ایسا شہر بھی کبھی بسایا گیا تھا جس کی اینٹیں سونے چاندی کی ہوں؟ علما نےبتایا کہ ہاں قرآن میں بھی اس کا ذکر آیا ہے۔ اس آیت میں ”اِرم ذات العماد۔“ یہی شہر ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اس کو لوگوں کی نگاہوں سے چھپا دیا ہے۔ علما نے بتایا کہ حضرتؐ صلّی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم  نے یہ بھی فرمایا ہے کہ میری امت میں سے ایک آدمی اس میں جائے گا اور وہ چھوٹے قد، سرخ رنگ کا ہوگا، اس کے ابرو اور گردن پر دو تل ہوں گے، وہ اپنے اونٹ کو ڈھونڈتا ہوا اس شہر میں پہنچے گا اور وہاں کے عجائبات دیکھے گا اور یہ نشانیا ں چشم دید گواہ عبد اللہ بن قلابہ میں موجود تھیں ۔ زرا زمین میں چل پھر کر تو دیکھو ہم نے کیسی کیسی قوموں کو ہلاک کر مارا-  قومِ عاد کی بداعمالیوں کے سبب جب انھیں تباہ کردیا گیا تو حضرت ہُود علیہ  السّلام بحکم اللہ تعالِی  نزول عذاب سے پہلے ہی حضر موت کی طرف مراجعت کر گئےتھے۔ ۔ حضرت ہوُدؑ علیہ السّلام کی وفات یہیں پر ہوئی۔

القران

بدھ، 7 ستمبر، 2022

اونٹ رے اونٹ تیری کون سی کل سیدھی(پا رٹ 2)

 

جن بچوں کو دودھ کا ذائقہ پسند نہیں ان کے لئے چاکلیٹ اور اسٹابیری فلیور میں بھی موجود ہے۔ اونٹنی کا دودھ پسندکرنے والے ایک گاہک علی حیدر کا کہنا ہے کہ وہ اور ان کے اہل خانہ ہفتے میں ایک دو بار یہ دودھ ضرور پیتے ہیں۔اونٹنی کے دودھ کی بڑھتی ہوئی ڈیمانڈ کا حال یہ ہے کہ آپ کو مختلف چیزوں کی خریداری کامفت مشورہ دینے والی ایک بڑی ویب سائٹ ’او ایل ایکس ڈاٹ کام‘ پر بھی اس کے اشتہارات مل جائیں گے۔ انہیں اشتہارات میں سے ایک اشتہار میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ وہ خالص دودھ فروخت کرتے ہیں جبکہ مارکیٹ میں گائے، بھینس اور بکری کے دودھ کی ملاوٹ والا اونٹنی کا دودھ بھی ملتا ہے۔

سعودی عرب، صومالیہ، کینیا، آسٹریلیا اور امریکہ میں بھی چرچے

کراچی سے بڑے پیمانے پر دبئی اور دیگر خلیجی ممالک اور پھر وہاں سے پاکستان فوڈ اسٹف درآمد اور برآمد کرنے والی فرم ثمرہ فوڈ اسٹف کے مالک طارق اسلم اور منیجر محسن نے وائس آف امریکہ کو بتایا ’اس وقت سب سے زیادہ اونٹنی کا دودھ پیدا کرنے والے ممالک میں سعودی عرب اور صومالیہ سرفہرست ہیں، جبکہ کینیا، آسٹریلیا اور امریکہ میں بھی اونٹنی کے دودھ کی ڈیمانڈ بڑھ رہی ہے۔‘طارق اسلم کا کہنا ہے کہ پاکستان میں صرف اونٹنی کا دودھ ہی مشہور نہیں ہو رہا، بلکہ اس دودھ سے بنی اشیا جیسے چاکلیٹس اور دیگر فلیورڈ پروڈکس کی ڈیمانڈ میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ اب تو مقامی تاجروں کوغیر ممالک سے بھی آرڈرز ملنے لگے ہیں۔البتہ کچھ حد درجہ نفاست پسند افراد کھلے عام اور بغیر کسی احتیاطی تدابیر کے اور پلاسٹک کی عام بوتلوں اور تھیلوں میں دودھ کی فروخت کو’ان ہائی جینک‘ قرار دے رہے ہیں۔ کچھ مبصرین کو اس کی قیمت پر اعتراض ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ 200روپے لیٹر اونٹنی کا دودھ پینے سے بہتر ہے مچھلی یا اسی قسم کی کوئی اور خوراک کھالی جائے۔ ان کے بقول ’ویسے بھی یہ ایسے دام ہیں جو ایک عام اور غریب آدمی کی برداشت سے باہر ہیں۔ غریب آدمی تو 75روپے کلو کا بھینس کا دودھ لیتے ہوئے بھی ہچکچاتا ہے۔‘

دس کروڑ ڈالر کا بزنسا-اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے برائے خوراک و زراعت کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں اونٹ کے دودھ سے بنی مصنوعات کی کمرشل ویلو میں اضافہ ہورہا ہے ۔ اونٹنی کا دودھ اب آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ بنتاجارہا ہے۔ ادارے کے اندازے کے مطابق دنیا بھر میں پچھلے سال تک اونٹ کے دودھ کی مصنوعات کا حجم 10بلین ڈالر تھا۔

کینیا میں ’کیمل ملک شیک‘ بھی پاپولر-لندن سے شائع ہونے والے اخبار ’گارجین‘ نے اپنی حالیہ رپورٹ میں لکھا ہے کہ کینیا میں اونٹنی کے دودھ کا شیک بہت زیادہ پسند کیا جانے لگا ہے، جبکہ کینیا کی کافی انڈسٹری بھی رفتہ رفتہ اونٹنی کے دودھ سے بنی مصنوعات پر انحصار بڑھا رہی ہے۔اونٹنی کے دودھ پر یورپی ماہرین کی تحقیقات -ہالینڈ میں ماہرین تحقیقات کررہے ہیں کہ تاریخی طور پر فائدہ مند سمجھا جانے والا اونٹنی کا دودھ کیا واقعی کئی بیماریوں سے لڑنے کی تاثیر رکھتا ہے-مصر میں جزیرہ نما سنائی کے بدو زمانہ قدیم سے یقین رکھتے ہیں کہ اونٹنی کا دودھ تقریباً تمام اندرونی بیماریوں کا علاج ہے۔ ان کا خیال ہے کہ اس دودھ میں جسم میں موجود بیکٹیریا ختم کرنے کی صلاحیت ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت کی ایک رپورٹ کے مطابق روس اور قزاقستان میں اکثر ڈاکٹر اونٹنی کا دودھ کئی مریضوں کے علاج کے لیے تجویز کرتے ہیں۔بھارت میں اونٹنی کا دودھ یرقان، ٹی بی، دمہ ، خون کی کمی اور بواسیر کے علاج کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔اور ان علاقوں میں جہاں اونٹنی کا دودھ خوراک کا باقاعدہ طور پر حصہ ہے وہاں لوگوں میں ذیابیطس کی شرح بہت کم پائی گئی ہے۔ہالینڈ میں 26 سالہ فرینک سمتھس وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے باقاعدہ طور پر اونٹوں کی کمرشل فارمنگ کا کام شروع کیا۔ ان کے والد مرسل اعصابی امراض کے ماہر ڈاکٹر ہیں۔ انہوں نے شعبہ صحت کے اپنے ساتھیوں کو اس تحقیق کے لیے تعینات کیا کہ وہ یہ جان سکیں کہ ان کے بیٹے کی تیار کردہ مصنوعات کتنی فائدہ مند ہیں۔صرف تین ہی سال کے عرصے میں ان کے کام نے مختلف حلقوں میں اتنی دلچسپی پیدا کردی کہ شعبہ صحت کی جانب سے ان کے لیے باقاعدہ فنڈنگ شروع کردی گئی۔ڈاکٹر سمتھس کا کہنا ہے کہ اس دودھ میں اتنے فائدے ہیں کہ یہ یورپ کی صحت افزا خوراک کا حصہ بن سکتا ہے۔ ’اور ہم یہی کرنے کی کوشش کررہے ہیں‘۔

انہوں نے اپنی تحقیق کے بارے میں بتایا کہ ہسپتال میں ذیا بیطس کے مریضوں کو گروپوں میں تقسیم کرکے گائے یا اونٹنی کا دودھ باقاعدہ طور پر پلایا گیا اور پھر ان کے شوگر لیول کی جانچ کی گئی جس سے اونٹنی کے دودھ کی افادیت ظاہر ہوئی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس سلسلے میں وسیع تر تحقیقات کی جارہی ہیں۔یورپ میں اونٹوں کی درآمد بھی منع ہے-انہوں نے اپنی کمرشل فارمنگ کا آغاز تین اونٹوں سے کیا تھا اور اب ان کے پاس 40 اونٹ موجود ہیں۔ اگرچہ اس کام کے شروع کرنے میں انہیں کئی مشکلات کا سامنا رہا۔ان کا کہنا ہے کہ یورپ میں اونٹوں کی فارمنگ شروع کرنا ایک مشکل کام تھا کیونکہ عرب ممالک کے برعکس یورپی یونین اونٹوں کو گائے، بکری وغیرہ کی طرح کا پیداواری جانور نہیں تسلیم کرتی۔ اس لیے انہیں حکومت سے خصوصی اجازت حاصل کرنی پڑی۔ یورپ میں اونٹوں کی درآمد بھی منع ہے۔ اور پھر اونٹوں کا دودھ دوہنے کا بھی مسئلہ تھا۔

فرینک سمتھس کا دعوٰی ہے کہ انہوں نے اونٹوں کا دودھ نکالنے والی دنیا کی پہلی مشین ایجاد کی ہے۔

انہیں شروع میں اپنی مصنوعات کے خریدار ڈھونڈنے میں بھی مسائل درپیش تھے۔ ابتدا میں انہوں نے اپنی مصنوعات مساجد کے باہر تقسیم کرنا شروع کیں جہاں مراکشی اور صومالیائی مسلمان اپنے ممالک میں اس خوراک کے عادی تھے۔ آہستہ آہستہ ان کی مصنوعات کی مانگ بڑھتی گئ-اونٹنی کا دودھ افریقی ملک کینیا کے مر کزی علاقوں میں ہمیشہ سے بہت زیادہ استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ تاہم اب اس کی افادیت کی شہرت کینیا کے دارالحکومت نیروبی تک پہنچ چکی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں فروخت ہونے والی اونٹ کے دودھ سے تیار کردہ اشیائے خورد و نوش کی تجارت سے سالانہ 10 بلین ڈالر کی آمدنی ہوتی ہے۔ کینیا سے تعلق رکھنے والی حلیمہ حسین کے بقول، ’اونٹ گائے سے کہیں بہتر ہے۔ یہ قحط سالی کے دور میں بھی بچ جاتا ہے جبکہ گائیں دم توڑ دیتی ہیں۔ اس طرح میں اونٹ سے ہمیشہ منافع کما سکتی ہوں۔ میں اپنی چند گائیوں کو فروخت کر دوں گی اور مزید اونٹ خرید لوں گی‘۔ حلیمہ کے خاندان کے پاس اس وقت 120 گائیں موجود ہیں۔

اونٹ کے دودھ کا پنیر نہایت مفید اور ذائقہ دار ہوتا ہے

شمال مشرقی افریقہ کے بہت سے علاقوں کی طرح کینیا کے مرکزی علاقے میں بھی گزشتہ برسوں کے دوران غیر متوقع قحط سالی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ اس قحط سالی کے نتیجے میں گائے کے دودھ میں کمی اور اونٹ کی قدر و قیمت میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ مشرقی کینیا کے صوبے ایسیولو میں حلیمہ حسین اور دیگر 63 خواتین نے مقامی سطح پر باہمی اشتراک سے اونٹ کے دودھ کا کاروبار شروع کیا۔ انہوں نے حال ہی میں روزانہ تین ہزار سے لے کر پانچ ہزار لٹر تک اونٹ کا دودھ نیروبی اور اس کے گرد و نواح کے علاقوں کی مارکیٹوں کو فراہم کیا۔

دُبئی میں اونٹنی کے دودھ کی تشہیر-- اونٹنی کے دودھ کی حفاظت اور پیکنگ کے لیے دُبئی میں ایک ملک پلانٹ لگایا گیا ہے

دریں اثناء اونٹنی کے دودھ کی بڑھتی ہوئی مانگ کا اندازہ لگاتے ہوئے یورپی ملک ہالینڈ کی ایک تنظیم  نے، جو نیروبی میں خواتین کو اونٹنی کا دودھ فروخت کرنے میں مدد فراہم کرتی ہے، تجویز پیش کی ہے کہ ایسیولو میں ایک ایسی Milk Bar کھولی جائے، جہاں مہمانوں کو اونٹنی کے دودھ سے تیار کردہ اشیائے خورد و نوش سے لطف اندوز ہونے کا موقع مل سکے۔

ایک جرمن باشندے ہولگر مارباخ نے ’وائٹل کیمل مِلک‘ کے نام سے ایک فرم کھولی ہے، جو دہی، آئس کریم اور اونٹ کے دودھ سے بنی دیگر اشیاء تیار کرتی ہے۔ مارباخ کی کمپنی اس وقت کینیا کی سپر مارکیٹوں کے علاوہ لاطینی امریکہ، جنوبی افریقہ اور متحدہ عرب امارات کو اپنی مصنوعات فروخت کر رہی ہے۔ اس جرمن تاجر کے بقول، ’ترقی یافتہ معاشروں میں اونٹنی کے دودھ کی مانگ بہت زیادہ ہے‘۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر انہیں سیاسی اور انتظامی مسائل کا سامنا نہ ہو تو یہ اونٹ کے دودھ سے تیار کردہ مصنوعات کو بہت بڑی بڑی منڈیوں تک پہنچا سکتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت FAO کے مطابق اونٹ کے دودھ میں وٹامن سی کی مقدار تین گنا زیادہ ہوتی ہے۔ یہ فولاد، Unsaturated Fetty Acids اور وٹامن بی سے بھی بھرپور ہوتا ہے۔   غذائی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ اونٹنی کے دودھ کے غیر معمولی فوائد ہیں۔ بہت سے تاجروں کا ماننا ہے کہ اونٹنی کا دودھ سونے جیسی قدر و قیمت کا حامل ہے، جسے یورپی ممالک کو برآمد کرنے سے بے حساب منافع ہو سکتا ہے۔

اونٹنی کا دودھ کشتکیائی گروہ سے تعلق رکھنے والے افراد میں ہمیشہ سے مقبول تھا۔ یہ گروہ قدیم زمانے میں دریائے نیل کے نزدیک واقع مقام کش میں آباد تھا اور کشتکی زبان بولا کرتا تھا۔ ان افراد کا تعلق افریقی اور ایشیائی زبانیں بولنے والے عظیم خاندانوں سے تھا۔ یہ زبانیں خصوصاً ایتھوپیا اور صومالیہ میں بولی جاتی ہیں۔

میں نے اس مضمون کی تیّاری میں   اپنی معلومات  کے علاوہ  بی بی سی  سے اور مزید انٹر نیٹ سائٹس سے مدد لی ہے 

 کہتے ہیں اونٹ خواب میں دیکھو تو بڑا صدقہ دو

 

 

 

 

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

انقلاب چین جو چینی قوم کی نجات کا باعث بن گیا

  چین کے انقلاب میں تاریخی لانگ مارچ کو ایک سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے جو اکتوبر1934ء سے اکتوبر 1935ء تک جاری رہا۔ یہ لانگ مارچ چھے ہزار میل ط...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر