اتوار، 12 اکتوبر، 2025

پولیس ابّا کا دھڑکتا دل ساتھ لے گئ

 


 منجھلی آپا  کو اب بلکل چپ لگ گئ تھی کیونکہ ان کی سسرال سے اب کوئ بھی رفاقت بھائ سمیت  ان سے رابطے میں نہیں تھا ان حالات میں منجھلی آپا ا کا دلگرفتہ ہونا اپنی جگہ بلکل درست تھا اور کسی کسی وقت وہ ہم سب سےچھپ کر اکیلے میں روتی بھی تھیں ایسے میں ایک دن فریال بجّو نے امّاں سےآ کر کہا امّاں  !منجھلی آپا رو رہی ہیں  ،،بس امّاں فوراً  سارے کام چھوڑ کر منجھلی آ پا کے پاس پہنچ گئیں  اور انہوں نے منجھلی آپا سے پیاربھری ڈانٹ کے لہجے میں کہا  تجھے پہلے بھی کہ چکی ہوں مت رویا کر  ابھی تو زچّہ ہے  تیرا بال بال کچّا ہے  -زچّہ خانے میں رونے سے "پربال" ہوجاتے ہیں آنکھوں میں ،،امّاں کی بات کے جواب میں میں نے چپکے سے قریب بیٹھی نرگس آپی سے پوچھا آپی پر بال کیا ہوتے ہیں ،نرگس آپی نے کہا مجھے نہیں معلوم لیکن فریال بجّو نے چپکے سے جواب دیا ڈلیوری کے دنوں میں رونےسے پلکیں جھڑ جاتی ہیں اوردوبارہ نہیں آتیں  میں نے فوراً اپنے کمرے میں آ کر آئینہ میں اپنی پلکیں دیکھیں مجھے لگا بیٹی مجھلی آ پا کے یہان نہیں بلکہ میرے یہاں ہوئ ہے اور میں رو رہی ہوں اور میری پلکیں جھڑ گئ اورپھرمنجھلی آپا کے دکھ پر میری آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے  اور مجھے امّاں کی آوز آئ 


 -ارے نگین کہاں ہو آ کر زرا کام میں تو ہاتھ لگاؤ اور میں امّاں کی آواز    پر فوراً ان کے پاس چلی گئ بالآخرمنجھلی آپا کو آئے ہوئے جب مہینے سے اوپر وقت گزرا تب امّا  ں نے ان سے کہا     منجھلی  تیّاری کر لو ،بس منجھلی آپا نے بغیرکسی حیل حجّت کے امّاں کے حکم کی تعمیل کی ہم بہنوں نے بھی منجھلی آپا کاسامان رکھوانے میں مدد کی اور پھر بھیّا منجھلی آپا کو ان کی سسرال چھوڑکر آ گئے اور وقت پھر کچھ مہینے دبے پاؤں گزر گئے  اب منجھلی آپا ہمارے گھر بہت کم آتی تھیں   کہ اچانک  ہم سب کو ایک بڑی خوشخبری سننے کو ملی کہ منجھلی آپا کے گھر بس سال پیچھے  بیٹا بھی آگیا  -چھٹی بہت دھوم دھام سے منائ گئ اور چھٹی والے دن رفاقت بھائ نےمنجھلی آپا کو    سونے کے کنگن پہنائے اوران کی سسرال میں خوشی کے شادیانے بج اٹھے  اب اماں       ہر وقت  خوش رہنے لگیں اور چھٹی میں شریک ہونے کے لئے اپنی گلابی گڑیا کے ساتھ بڑی آپا  بھی آ گئیں تھیں -اور ہم بہنوں کے آزردہ دل منجھلی آپا کی سسرال میں قدر دانی سے نہال ہو گئے تھے اب وقت ہنسی خوشی گزر رہا تھا     کہ اچانک  ہمیں معلوم ہوا کہ  بھیّا  سیاست کی خار زار وادی میں قدم رکھ  چکے تھے



اور پھر ،ایک رات یہ ہوا کہ ابّا سے چھپ کر انہوں نے امّاں سے کہا کہ وہ ایک دوست کے ساتھ اس کے گھر کی شادی میں شرکت کے لئے دوسرے شہرجا رہے  ہیں اور چند روز بعد ہی انکی واپسی ممکن ہوسکے گی -بھیّا کی بات پراس وقت نا جانے کیوں امّا ں کے چہرے پر  کچھ تشویش کے سائے لرزاں ہوئے تھے, بھیّا کی سواری باہر تیّار تھی اس لئےامّاں کچھ کہ نہیں سکیں ،  لیکن صبح نور کے تڑکے پولس نے ہمارے گھر پر بھیّا کی تلاش میں چھاپا جومارا تو ابّا پر عقدہ کھلا کہ بھیّا کی گرفتاری کے لئے پولس ہمارے گھر پر  آئ ہے ,امّاں نے تو بھیّا کے اس طرح گھر سےجانے کی خبر بھی ابّا کی گرتی ہوئ  صحت کی خا طر چھپا ئ تھی لیکن پولس کی آ مد کو بھلا کیسے چھپاتیں ،  بھیّا تو گھر سے جا ہی چکے تھےاورپولس کو گھر سے خالی ہاتھ تو جانا نہیں       تھا   وہ ابّا کا دھڑکتا دل ساتھ لے گئ ،امّاں نے بیوگی کی چادر اوڑھ کر اپنا دل سنبھال کر ہم بیٹیوں سے کہا  خبردار جو کسی نے رونا دھونا مچایا ،رونے سے مرنے والے کو تکلیف ہوتی ہے  اور ہم بیٹیاں اپنے خون کے آنسو پی کر سسکیا ں لیتے اور آنسو پونچھتےہوئےابّا کی قبر کی کشادگی اور نور کے لئے پڑھنے بیٹھ گئےتھے  


   ویسے تو ہم سب بیٹیاں ہی ابّا سے بے حد قریب تھیں لیکن فریال بجّو خاص  طور پرایک چھوٹے بچّے کی طرح ابّّا کی روح اور جان تھیں جب تک ابّا دفترسے گھر نہیں آجاتے تھے وہ کھانا نہیں کھاتی تھیں ,ابّا کی موت پر فر یال بجّو کو سکتہ ہو گیا تھا  امّا ں نے ہم بہنوں ایک نظر  دیکھا اور پھر مجھ سے پوچھا فریال  کہاں ہے میں نے لاعلمی کا اظہا رکیا تو امّاں نے کہا اٹھ کر دیکھواور میں امّاں کی ہدائت پر اٹھ گئ فریال بجّو کو کمروں میں, ,اورہر جگہ دیکھ کر جب اسٹور روم میں آئ تو میں نے فریال بجّو کو دیکھا وہ اسٹور روم کی دیوار سے ٹیک لگائے سامنے ٹانگیں پسارے بلکل خاموش اپنے ہوش  حواس سے بیگانہ بیٹھی ہوئ سامنے دیوار کو پلکیں جھپکائے بغیر دیکھے جا رہی تھیں ،میں نے کہا فریال بجّو امّاں کہ رہی ہیں ابّا کے لئے سپارہ پڑھنا ہے تو  فریال بجّو میری بات کے جواب میں ایسی بنی رہیں جیسے انہوں نے کچھ سنا ہی     نہیں ہو پھر میں نے فریال بجّو کے قریب بیٹھ کر ان کاشانہ ہلا کر کہا فریال بجّو  امّاں آپ کو بلا رہی ہیں اور میرے ہلانے سے فریال بجّو سوکھی ٹہنی کی طرح  زمین پر گر گئیں اورپھر ایکدم میری چیخ گھر میں گونجی امّا ں فریال بجّو  اور میں چیخ چیخ کر رونے لگی


ہفتہ، 11 اکتوبر، 2025

نوبل انعام کی کہانی

 

نوبل انعام کا بانی الفریڈ نوبل  سویڈن میں پیدا ہوا لیکن اس نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ روس میں گزارا۔ ڈائنامائٹ الفریڈ نوبل ہی نے ایجاد کیا۔بتایا جاتا  ہے ا س نے تین سو پچاس ایجادات  دنیا کو دی ہیں اس نے شادی بھی اسی لئے نہیں کی کیونکہ وہ اپنی زندگی  میں  دنیا ک کو نت نئ ایجادات دینا چاہتا تھا -لیکن وہ اپنی موت سے بھی غافل نہیں تھا اس نے دیکھا کہ اس کی ایجادات  سے ملنے والاپیسہ  اور ڈائنامائٹ سے کمائی گئی دولت کو دنیا کے فائدے کے لئے کیسے استعمال کر سکتا ہے -اس کی وفات کے  وقت اس کے اکاؤنٹ میں 90 لاکھ ڈالر کی رقم تھی۔اس کی تمام دولت کی رقم 31 ملین سویڈیش کراؤن تھی جو امریکی ڈالر 220ملین کے برابر تھی۔ اسے ابتدائی پانچ انعامات کے لیے مختص کر دیا گیا۔ نوبل پرائز کی بنیاد جب پہلی بار 1901ء میں پڑی تو یہ انعام 4ء1ملین کے ایک چیک‘ ایک طلائی میڈل اور ایک ڈپلوما کے عطایا پر مشتمل تھا۔موت سے قبل الفرڈ نے اپنی وصیت میں لکھ دیا تھا کہ اس کی یہ دولت ہر سال ایسے افراد یا اداروں کو انعام کے طور پر دی جائے 



جنہوں نے گزشتہ سال کے دوران میں طبیعیات، کیمیا، طب، ادب اور امن کے میدانوں میں کوئی کارنامہ انجام دیا ہو۔اس وصیت کے تحت فوراً ایک فنڈ قائم کر دیا گیا جس سے حاصل ہونے والا منافع نوبل انعام کے حق داروں میں تقسیم کیا جانے لگا۔ 1968ء سے نوبل انعام کے شعبوں میں معاشیات کا بھی اضافہ کر دیا گیا ہے۔ نوبل فنڈ کے بورڈ کے 6 ڈائریکٹر ہیں جو دو سال کے لیے منتخب کیے جاتے ہیں اور ان کا تعلق سویڈن یا ناروے کے علاوہ کسی اور ملک سے نہیں ہو سکتا۔نوبل فنڈ میں ہر سال منافع میں اضافے کے ساتھ ساتھ انعام کی رقم بھی بڑھ رہی ہے۔ 1948ء میں انعام یافتگان کو فی کس 32 ہزار ڈالر ملے تھے، جب کہ 1997ء میں یہی رقم بڑھ کر 10 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی۔نوبل انعام کی پہلی تقریب الفریڈ کی پانچویں برسی کے دن یعنی 10 دسمبر 1901ء کو منعقد ہوئی تھی۔ تب سے یہ تقریب ہر سال اسی تاریخ کو ہوتی ہے۔سویڈش گورنمنٹ بھی نہیں چاہتی تھی کہ اس کی دولت ملک سے باہر جاۓ لیکن کیا کیا جا سکتا تھا۔ اس نے فزکس ، کیمسٹری ، فزیالوجی یا میڈیسن ، ادب اور امن پر عظیم کام کرنے پر  'نوبل پرائز' دینے کی وصیت کی تھی ایسا عظیم کام جو انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے ہو۔



پہلی بار یہ انعام 1901ء میں دیا گیا تھا۔1968 ء میں اکنامکس سائنس  کا نوبل انعام بھی شامل کیا گیا جس کا انتظام سویڈش سنٹرل بینک کرتا ہے۔انعام یافتگان کو صیغہ راز میں رکھا جاتا ہے۔  تمام دنیا کے ہزاروں نامزد افراد کو مدعو کیا جاتا ہے یہ افراد یونیورسٹیوں کے پروفیسرز اور  ماضی کے نوبل انعام یافتگان ہوتے ہیں۔یہی  'لا ریٹس ' کو نامزد کرتے ہیں۔یعنی مستقبل کا نوبل انعام حاصل کرنے والوں کو نامزد کرتے ہیں ۔پھر ایک کمیٹی بنائی جاتی ہے جو تحقیق کر کے اس لمبی چوڑی لسٹ کو شارٹ لسٹ کرتی ہے۔ماہرین سے رائے لی جاتی ہے ،مہینوں اسے کھوجا جاتا ہے،اس کی سچائی کو تولا جاتا ہے۔کام کی افادیت کو جانچا جاتا ہے۔یہ کام نہایت رازداری سے کیا جاتا ہے۔اگلے پچاس سال تک بھی دنیا نومینیز  کے نام نہیں جان سکتی۔سویڈن میں انعامات کی تقریب کے بعد ایک شاندار ضیافت اسٹاک ہوم سٹی ہال کے بلو ہال میں منعقد ہوتی ہے، جس میں سویڈن کا شاہی خاندان اور تقریباً 1,300 مہمان شرکت کرتے ہیں۔نوبل امن انعام کی ضیافت ناروے میں اوسلو کے گرینڈ ہوٹل میں انعامی تقریب کے بعد منعقد کی جاتی ہے۔


 اس ضیافت میں انعام یافتہ شخصیت کے علاوہ دیگر مہمانوں میں نارویجن پارلیمان (اسٹورٹنگ) کے صدر، بعض اوقات سویڈن کے وزیرِ اعظم اور 2006 سے شاہِ ناروے اور ملکہ ناروے بھی شریک ہوتے ہیں۔ مجموعی طور پر تقریباً 250 افراد اس ضیافت میں شریک ہوتے ہیں۔نوبل لیکچرنوبل فاؤنڈیشن کے قواعد کے مطابق، ہر انعام یافتہ شخصیت پر لازم ہے کہ وہ اپنے انعام سے متعلقہ کسی موضوع پر عوامی لیکچر دےنوبل لیکچر، بطورِ ایک بیانیہ صنف، کئی دہائیوں کے دوران اپنی موجودہ شکل تک پہنچا۔یہ لیکچرز عموماً "نوبل ویک" کے دوران منعقد ہوتے ہیں (یعنی وہ ہفتہ جس میں انعامات کی تقریب اور ضیافت ہوتی ہے، جو انعام یافتگان کے اسٹاک ہوم پہنچنے سے شروع ہو کر ضیافت پر اختتام پزیر ہوتا ہے)، تاہم یہ لازمی نہیں ہوتا۔انعام یافتہ کو صرف چھ ماہ کے اندر یہ لیکچر دینا ضروری ہے، مگر بعض اوقات یہ اس مدت کے بعد بھی دیے گئے ہیں۔ مثلاً، امریکی صدر تھیوڈور روزویلٹ نے 1906 میں امن کا نوبل انعام حاصل کیا، لیکن انھوں نے اپنا لیکچر 1910 میں اپنی صدارت کے بعد دیا۔


  یہ لیکچرز اسی ادارے کے زیرِ انتظام منعقد ہوتے ہیں جس نے انعام یافتہ کا انتخاب کیا اتنی سخت محنت  کے بعد کمیٹی نوبل انعام حاصل کرنے والوں کا اعلان کرتی ہے جو ہر سال اکتوبر کے پہلے ہفتے ہوتا ہے۔لا ریٹس  کو نوبل انعام میں کیا کیا ملتا ہے۔1۔ ایک سونے کا نوبل میڈل جس پر نوبل کی پروفائل پکچر اور مہر چسپاں ہوتی ہے2۔ ایک  نہایت قیمتی اور دلپزیر ڈیزائن کیا ہوا ڈپلومہ جو ہر سال سویڈش اور نارویجن آرٹسٹ تیار کرتے ہیں۔3۔ ایک کیش ایوارڈ ۔آج کل  ہر کیٹاگری پر ایک میلین ڈالر پر مشتمل ہوتا ہے۔ایک سے زیادہ لاریٹس ہوں تو یکساں تقسیم کر دیا جاتا ہےلیکن اصل انعام تو نوبل لاریٹس بننا ہے۔دنیا کا بہترین انسان جو خدمت خلق میں سب سے آگے ہے۔البرٹ آئن سٹائن کو 1921 ء میں فزکس کا نوبل پرائز ملا-میری کیوری ،پہلی خاتون جس نے فزکس اور کیمسٹری کا نوبل انعام پایا۔صرف اس نے دو بار یہ انعام حاصل کیا ابھی تک کسی بھی سائنسدان کو یہ انعام دو بار نہیں ملا۔1964ء میں مارٹن لوتھر کو امن کا نوبل انعام ملا

تحریر و تلخیص انٹرنیٹ کی مدد کے ساتھ

نیروبی میں کیا چیز کشش کا باعث ہے

 



   دریائے نیروبی کے کنارے واقع یہ شہر مشرقی افریقہ کا سب سے بڑا شہر ہے،  یہ  شہر 1907ء میں ممباسا کی جگہ ملک کا دارالحکومت بنااس کی آبادی قریباً 55لاکھ ہے۔ نیروبی اقتصادی و سیاسی لحاظ سے افریقہ کے اہم شہروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ نیروبی شہر کا نام پانی کے تالاب پر رکھا گیا جسے ماسائی زبان میں ایواسو نیروبی یعنی’’سرد پانی‘‘کہا جاتا ہے۔ برطانوی دور میں نیروبی نے بہت ترقی کی۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ برطانوی  اقوام جہاں بھی گئیں وہاں کی قسمت سنوار کر نکلیں- نیروبی ایک کثیر القومی اور کثیر الثقافتی و مذہبی شہر ہے، جسکی وجہ سلطنت برطانیہ کی نو آبادیات، ہندوستان، صومالیہ اور سوڈان وغیرہ سے یہاں آنے والے افراد ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج یہاں گرجے، مساجد، مندر اور گوردوارے سب ملتے ہیں۔ نیروبی میں اس بات سے کسی کو کوئی غرض نہیں کہ کس کا کیا مذہب ہے؟ کون کس ملک سے آیا ہے؟ کس نے کیا پہن رکھا ہے۔ تمام قومیتوں کے لوگاپنے اپنے دائروں میں رہتے ہیں   اور ہر ایک  دوسرے کا احترام کرتا ہے -شائد یہی بات نیروبی کی ہمہ جہت ترقی کی بنیاد ہے



نیروبی، کمپالا اور ممباسا کے درمیان وادی شق کے مشرقی کناروں پر واقع ہے، اس شہر سے کینیا کے بڑے پہاڑ نظر آتے ہیں جبکہ دریائے نیروبی خوبصورتی میں مزید اضافہ کرتا ہے۔ شہر کے مرکز میں کینیا کی مجلس کی عمارات، ہولی فیملی گرجا، نیروبی سٹی ہال، جعفری مسلم سینٹر، جومو کینیاٹا کا مزار اور شہر کے اہم بازار واقع ہیں۔ یہاں کینیا قومی ناٹک گھر، کینیا قومی دستاویزات خانہ، ایم زیزی فنی مرکز اور کینیاٹا بین الاقوامی اجتماعی مرکز بھی واقع ہیں۔ شہر کے دیگر اہم مقامات میں راموما رحمت اللہ عجائب گھر برائے جدید مصوری، آل سینٹس گرجا اور متعدد بازار ہیں۔نیروبی نیشنل پارک میں متنوع جنگلی حیات ہیں اور یہ شیروں، غزالوں، بھینسوں، چیتاوں، گوریلوں، زرافوں اور گینڈے کا گھر ہے۔ یہ پارک پرندوں کے ایک بڑے ذخیرے اور پرندوں کی 400 سے زائد اقسام جیسے شتر مرغ، کرین کریکٹ، عشق فشرز، جیکسن کی بیوہ، عقاب، ہاکس، سفید پیٹ والی کرکٹ، سفید سر والے کرکٹ اور پرندوں کی بہت سی دوسری اقسام کا بھی میزبان ہے۔


  نیروبی کے گرد و نواح میں چائے اور کافی کی فصلیں نظر آتی ہیں۔ یہاں ایواکاڈو اور کیلے کے باغات ہیں۔ نیروبی میں پھل اور سبزیاں آرگینک ملتی ہیں، یہاں کیمیائی کھاد کا تصور ہی نہیں۔ نیروبی کے گرد چراگاہوں میں بھیڑ بکریاں بڑی تعداد میں نظر آتی ہیں، یہاں چھوٹا گوشت بہت شاندار ملتا ہے، دودھ بھی خالص ملتا ہے۔ نیروبی کا موسم بہت شاندار ہے، نہ وہاں پنکھے کی ضرورت ہے اور نہ ہی ہیٹر کی۔ سارا سال موسم 10 سے 25 سینٹی گریڈ تک رہتا ہے، یہاں بارش تقریباً روزانہ ہوتی ہے۔ نیروبی میں سال کے چار پانچ موسم تو نہیں ہوتے البتہ یہاں دو موسموں کا تذکرہ ملتا ہے، لانگ رین اور شارٹ رین یعنی لمبی بارشیں یا پھر مختصر بارشیں۔ انہی بارشوں کے طفیل نیروبی سال بھر سر سبز رہتا ہے۔ اگر یہاں کے انفراسٹرکچر کا جائزہ لیا جائے تو مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ نیروبی میں انفراسٹرکچر اسلام آباد سے بیس درجے بہتر ہے۔ یہاں خواندگی کی شرح 85 فیصد ہے، یہاں کے لوگ اگرچہ آپس میں سواحلی زبان بولتے ہیں مگر ان کی انگریزی بہت شاندار ہے۔



 نیروبی کا ریلوے اسٹیشن پاکستان کے کئی ہوائی اڈوں سے کہیں بہتر ہے۔ ہمارے ہاں اسلام آباد اور کراچی کے درمیان پانچ چھ فلائٹس چلتی ہیں جبکہ نیروبی اور ممباسا کے درمیان صرف کینین ائر لائن کی روزانہ 28 فلائٹس چلتی ہیں، باقی ائر لائنز کی فلائٹس الگ ہیں۔ نیروبی شہر میں آپ کو دو طرح کے پاکستانی ملیں گے، ایک وہ جو 1894ء میں کینیا ریلوے لائن بچھانے آئے اور پھر یہیں کے ہو کر رہ گئے، اب ان کی یہاں پانچویں نسل ہے۔ دوسرے وہ پاکستانی ہیں جو 1970ء کے بعد کینیا آئے۔ نیروبی میں پاکستانیوں کے اڑھائی تین سو بڑی گاڑیوں کے شوروم ہیں۔ اسی طرح گوشت کی پوری مارکیٹ مسلمانوں کے پاس ہے۔ یہاں کے بڑے ہوٹلز اور بڑی عمارتوں کے مالکان کا تعلق زیادہ تر صومالیہ سے ہے۔نیروبی میں سب سے زیادہ پرکشش مقامات میں سے ایک آئیوری برننگ پیلس ہے،  پارک ملی نیروبی بہت سی سفاری سرگرمیاں پیش کرتا ہے جیسے کہ نیچر واک، جنگلی حیات کا نظارہ اور نیچر پکنک۔  سفر کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے، ملی کنیا کے سرفہرست پارکوں میں سے ایک کے طور پر این پارک ملی کا دورہ کریں۔نیروبی کا شمار افریقہ کی بڑی منڈیوں میں ہوتا ہے

جمعہ، 10 اکتوبر، 2025

میں سہاگن بنی مگر- امّا ں غسل خانے سے کپڑے کوٹنے والا ڈنڈا اٹھا لائیں تھیں

 


مجھے یاد ہے منجھلی آ پا ایک بار اپنی سسرال سے آ کر بہت روئیں تھیں اورانہو ں نے کہا تھا امّا ں یہی حالات رہے تو میں فیصلہ لے لو ں گی''امّا ں نے غضب ناک لہجے میں گرج کر کہا'' کیا فیصلہ لے, لے گی تو ؟ تو منجھلی آپا نے کہا تھا میں رفاقت سے خلع لے لوں گی اور امّا ں غسل خانے سے کپڑے کوٹنے والا ڈنڈا اٹھا لائیں تھیں اور انہو ں نے وہ ڈ نڈامنجھلی آپا کے سر پر جو اٹھایا ہم بہنیں چیخنے لگے اور ابّا نے اپنے کمرےسے دوڑتے ہوئے آ کر امّا ں کو پیچھےدھکیلتے ہوئے ان کے ہاتھ سے ڈنڈاچھینا اور کہنے لگے کیا کرتی ہو نیک بخت ،امّاں گرج کر بولیں اس کو میری نظروں سے دور کردو ورنہ آج یہ میرے ہاتھ سے مرجائے گی ،امّا ں جو کبھی  گالیاں نہیں دیتی تھیں ان کے منہ سے منجھلی آپا کے لئے گالیوں کافوّارہ نکلا اور انہو ں نے ابّا سے چیخ کر کہا یہ اپنی بہنوں کی قبر کھودنے چلی ہے میں اسی کو ختم کر کے چھٹّی کروں اورپھر ابّا منجھلی آ پا کو ان کی سسرال چھوڑ آئے تھے پھر منجھلی آ پا ہمارے گھر کئ ہفتے تک نہیں آئیں تھیں


 اور اس کے بعد ہم کو پتا چلا کہ وہ موت کے منہ میں پہچ گئ ہیں مگر امّا ں کا دل نا پسیجا ،میں اس رات کو دیر تک نا جانے کیوں جاگ رہی تھی شائد گھرکے اندر کچھ کچھ نامانوس مسموم ہوا کے چلنے احسا س ہو رہا تھا کہ اتنےمیں مجھے امّاں اور ابّا کی باتیں کو آوازیں سنائ دینے لگیں پہلے ابّا کی کمزور لہجے میں آواز آئ ابّا کہ رہے تھے لگتا ہے منجھلی مر جائے گی تب بھی تمھارے کان پر جوں نہیں رینگے گی تو امّاں نے ابّا کو اپنی رعب دارآواز میں جوابدیا اسلا م الدّین موت زندگی اللہ کے ہاتھ ہے وہ جتنی لائ       ہے اس سے کوئ نہیں چھین سکتا ہےپھر ابّا نے امّاں سے کہا میں منجھلی کے گھر ہوتا آیا ہوں ،اس کی طبیعت بے حد خراب نظر آرہی تھی، بلکل زرد چہرہ ہو رہا ہے اور سوکھ کر کانٹا ہو گئ ہے ابّا کا لہجہ منجھلی آپا کا زکر کرتے ہوئے اور بھی آزردہ ہو گیا ابّا پھر کہنے لگے نیک بخت تم ہمیشہ منجھلی کو ڈانٹ کر چپ کر دیتی ہو کبھی تو اس کی بھی سن لو ، شائد وہ سچ ہی کہتی ہو ،لیکن امّاں خاموش رہیں لیکن جب ابّا نے کہا مجھے لگتا ہے منجھلی سسرال کے دکھ ا ٹھا کر مر جائے گی - تب امّاں کی خاموشی کی مہر ٹوٹی


 ابّا کی بات پر امّاں نے ان کو بھڑک کر جواب دیا ،اسلام الدّین پرائے لوگوں میں جگہ بنانا اتنا آسان نہیں ہوتا ہے ،وہ اگرمشکل میں بھی ہے تو اس کا حل یہ نہیں ہے کہ میں بیٹی کو بلا کر سینے پرمونگ دلنے کو بٹھا لوں ،رہا مرنے اور جینے کا حساب تو جس کی امانت ہے وہ     جانے ،لیکن اللہ ہی نے تو نباہ نا ہونے کی صورت میں علیحد گی کی گنجائش رکھّی   ہے،ابّا نے دھیمے لہجے میں کہا اور میں نے اپنی جاگتی آنکھو ں سے منجھلی آپا کے جنازے کو قبرستان جاتے دیکھا حقیقت یہ تھی کہ میں اپنی منجھلی آپا کی شادی سے خو ف ذدہ ہو گئ  تھی پھر رات کے سکوت میں امّا ں کی آواز مجھ کو سنائ د یا  یاد ہے تمھاری امّاں نے تمھاری چھوٹی بہن نادر ہ کو اس کی سسرال کی مصیبتوں کا رونا سن سن کر کیسے طمطراق سے یہ کہ کر خلع دلوایا تھا کہ ہماری بیٹی کی دو روٹی ہم پر بھاری نہیں یہ خلع نادرہ نے امّاں کے گلے منڈھ کر کہا تھا،،،آ پ میری ماں تھیں ،طلاق لینے میں میری حوصلہ افزائ کرنے کے بجائے مجھے سمجھا بجھا کر سسرال بھیجنا تھا ،یو ن طلاقن بیٹیا ں ماؤں کے کلیجے پر مونگ دلتی ہیں طلاق کے بعد سارے میکے کا جینا حرام کر کے رکھ دیتی ہیں ،یاد تو ہو گا تمھیں،



 ابّا خاموشی سے سنتے رہے اور امّاں نے کہا ،اسلا م الدّین میں تم کو طعنےنہیں دے رہی ہوں بلکہ حقیقت بتا رہی ہو ں ،میرے آگے ابھی تین پہاڑ رکھّےہیں ان کو کھسکاؤں یا بیاہی کو بھی طلاقن بنا دوں انصا ف سے سوچو کہ میں کیا کہ رہی ہوں اور تمھیں یہ بھی یاد ہو گا کہ اس دکھیا کو دوجی سسرال بھی کیسی ملی  پھر اس نے مرتے دم تک طعنے سنے کہ تو طلاقن ہے اس لئے اپنی اوقات میں رہ   کر بات کر وہ تو اللہ نے اس کا پردہ رکھ کر اسے اپنے پاس بلا لیا ورنہ   ساری عمر ہی روتی رہتی بہن تمھاری اسی لئے سیانوں کی کہاوت ہے "دوجے میاں سے پہلامیاں ہی بھلا "تم مرد زات ہو ایسی نزاکتوں کو سمجھ نہیں سکتے ہو جس گھر میں ایک طلاق ہوجاتی ہے اس گھر میں دنیا والے رشتے ناطے کرتے ہوئے ڈرتے ہیں کہ ہمارے ساتھ بھی یہ لوگ ایسا ہی کریں گے ابھی دل پر صبر کا بھاری پتھّر رکھ کر صبر کر لو اسی میں ہم سب کی بہتری ہے ،،امّاں کی بات کے جواب میں ابّا کی ایک ٹھنڈی سسکاری سی مجھ کو سنائ دی- تم کتنی صحیح با ت کر رہی نیک بخت کہ ہم کو اب باقی کی فکر کرنی چاہئے چہ جائکہ ہم بیاہی بیٹیوں کی الجھنوں میں گرفتاررہیں  


ورامّاں کی باتوں کےجواب میں ابّا نے ایک ٹھنڈی سانس بھر کر کہا فریال کے رشتے کا کیا ہوا تو امّا ں نے ان کو جوابدیا ،ابھی تو بس سلام آیا ہے ،پیام آئے تو ارادے پتا چلیں گے،لیکن تمھارے ماموں کی بیٹی اپنے دیورکے لئے نرگس کا ہاتھ مانگ رہی ہے ،،میں نے تو کانوں کو ہاتھ لگائے ہیں وہ  کون سے اچھّے ہیں ، ظالموں کے نرغے میں ایک منجھلی کو ہی دے کر پچھتا رہی ہوں ، ابّا نے کہا  ہا ں نیک بخت بڑی کو اٹھائے بغیر چھوٹی کو کیسے اٹھا دیں ،نہیں اسلام الدّین بڑی چھوٹی کی کوئ بات نہیں ہے جس کا رشتہ پہلے آئے اسی کو اٹھا ناہے دیکھ نہیں رہے ہو نرگس کیسے ڈھور ڈنگروں کی طرح منہ کو آرہی ہے رشتہ اچھّا ہوتا تو اس کوفریال سے پہلے ہی ر خصت کر دیتی امّاں نے کہا اور میں اندر سے لرز کر رہ گئ اور پھر ماحول میں رات کا سکوت چھا گیا پھر کچھ ثانئے کے بعد امّاں کی آواز آئ ،اسلام الدّ ین تم  بیٹی کی طرف سے اپنا دل میلا نہیں کرنا میں نے اسکو جنم دیا ہے اس کی تکلیف پر میری کوکھ پھڑکتی ہے میں راتوں کو سکون سے سوتی نہیں ہوں مگرمیں کیا کروں ،مجبور ہوں ،تم بے فکر رہو کل میں اس کی سسرال جا کرکچھ اس کے ہاتھ پر چپکےسے دے آؤ  ں  گی  

غیر متوقع بارشیں اور تباہ کن صورتحال

 

   بارش، جو کبھی خوشحالی اور زرخیزی کی علامت سمجھی جاتی تھی، اب تباہی، سیلاب اور انسانی المیوں کی شکل میں نمودار ہو رہی ہے ۔ دنیا کے مختلف خطوں میں معمول سے ہٹ کر ہونے والی شدید بارشیں ایک نئے اور غیر متوقع مظہر کی صورت اختیار کر چکی ہیں، جسے سائنسدان موسمیاتی تبدیلی کا براہِ راست نتیجہ قرار دے رہے ہیں ۔سوال یہ ہے کہ کیا واقعی بارشوں کے اس بگڑتے ہوئے انداز کا تعلق عالمی درجہ حرارت میں اضافے سے ہے ؟ اگر ہاں، تو کیا ہم اس کے لیے تیار ہیں ؟ماہرین کے مطابق ، زمین کا ماحولیاتی نظام نہایت متوازن اور حساس ہے ۔ جب فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ، میتھین اور دیگر گرین ہاؤس گیسوں کی مقدار بڑھتی ہے، تو نہ صرف درجہ حرارت میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ فضائی نمی میں بھی غیر معمولی تبدیلی آتی ہے ۔نیشنل اوشینک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن (این او اے اے) کے مطابق، ہر ایک ڈگری سیلسیس درجہ حرارت کے اضافے کے ساتھ فضا میں 7 فیصد زیادہ نمی جذب ہو سکتی ہے، جو مستقبل میں شدید بارشوں اور طوفانی موسم کی شدت کو بڑھا سکتی ہے ۔

 


بین ا لحکومتی پینل برائے موسمیاتی تبدیلی کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ (2023) میں خبردار کیا گیا کہ کہ ہر گزرتے عشرے کے ساتھ دنیا میں بارش کے پیٹرن میں شدت، طوالت اور بے ترتیبی بڑھ رہی ہے جس کے نتیجے میں جنوبی ایشیا، وسطی افریقہ اور لاطینی امریکہ سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں ۔عالمی موسمیاتی تنظیم کی 2024کی رپورٹ میں بتایاگیا کہ عالمی درجہ حرارت 1.5 ڈگری کے قریب پہنچ چکا ہے، اس وجہ سے بارش کے سائیکل میں غیر معمولی تبدیلی آئی ہے ، کہیں طوفانی بارشیں ہیں تو کہیں مکمل خشک سالی ۔اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کی 2025 رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ پاکستان جنوبی ایشیا کے ان پانچ ممالک میں شامل ہے جو شدید بارشوں اور اس کے نتیجے میں ہونے والے اربن فلڈنگ، مٹی کے تودے گرنے اور زرعی تباہی کے سب سے زیادہ خطرات سے دوچار ہیں جب کہ اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام اور آئی ایم ایف کی 2024میں کی جانے والی مشترکہ تحقیق میں بتایا گیا کہ غیر متوقع بارشیں ترقی پذیر ممالک کی معیشت کو ہر سال اوسطاً 235 ارب ڈالر کا نقصان پہنچا رہی ہیں۔

 


 ان میں زراعت، انفراسٹرکچر اور انسانی جان و مال شامل ہے۔موسمیاتی تبدیلی اور بارشیں: جب فطرت بغاوت پر اتر آئےرواں سال 2025 اور گذشتہ سال 2024 کے چند بڑے واقعات کا ذکر کیا جائے تو رواں برس میں برازیل کے جنوبی علاقہ (ریو گراندے دو سل) مئی میں مسلسل دو ہفتے کی طوفانی بارشوں سے 170 افراد ہلاک اور 6000 سے زائد مکانات تباہ ہوئے جب کہ تقریباً 3.4 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ۔چین کے صوبہ ہنان میں جولائی کے آغاز میں آنے والی صرف 5 دن کی بارش نے 12 اضلاع کو ڈبوبا دیا نقصا ن کا اندازہ 2 ارب ڈالر کے قریب لگایا گیا جبکہ 200,000 افراد بے گھر ہوئے ۔سن 2024 میں پاکستان کے صوبے بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں شدید بارشیں ہوئیں ۔ مارچ تا جون میں ہونے والی غیر متوقع بارشوں اور ژالہ باری سے فصلیں تباہ ہوئیں اورمعاشی نقصان کا تخمینہ تقریباً 180 ارب روپے (تقریباً 630 ملین ڈالر) لگایا گیا ۔جرمنی اور بیلجیم میں دریائے رائن کے کنارے شدید بارشوں سے صنعتی علاقے متاثر ہوئے ۔ نقصان کا اندازہ 1.2 ارب یورو ہے۔

 

سن2025 کے جاری مون سون سیزن کے دوران پاکستان شدید بارشوں اور سیلابی صورتحال کا سامنا کر رہا ہے، این ڈی ایم اے اور مختلف میڈیا رپورٹس کے مطابق ، اب تک 279 افراد جاں بحق اور 676 زخمی ہو چکے ہیں ۔آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ پنجاب سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جہاں 151 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے، جبکہ خیبر پختونخوا میں 64، بلوچستان میں 20، سندھ میں 25، گلگت بلتستان میں 9، اسلام آباد میں 8 اور آزاد کشمیر میں 2 اموات رپورٹ ہوئی ہیں ۔شدید بارشوں نے نہ صرف انسانی جانیں لیں بلکہ 1,500 سے زائد مکانات کو تباہ یا نقصان پہنچایا، 370 کے قریب مویشی ہلاک ہوئے اور کئی اہم انفراسٹرکچر، سڑکیں اور پل منہدم ہو گئے ۔جولائی کے وسط تک پاکستان میں ہونے والی بارشیں گزشتہ برس 2024 کے مقابلے میں 82 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئیں -اور یہ ساری تباہی اس لئے ہے  کہ ہم درختوں سے اپنے سماج سے محروم کر رہے ہیں۔

 

بدھ، 8 اکتوبر، 2025

جب جابر بن حیان نے سونا بنانا چاہا پارٹـ -1

 


 ·

جابر بن حیان (پیدائش: 721ء— وفات: 25 دسمبر 815ء) مسلم کثیر الجامع شخصیت، جغرافیہ نگار، ماہر طبیعیات، ماہر فلکیات اور منجم تھے تاریخ کے سب  سے پہلے کیمیادان اور عظیم مسلمان سائنس دان جابر بن حیان جنہوں نے سائنسی نظریات کو دینی عقائد کی طرح اپنایا-بابائے کیمیا: جابر بن حیان  جن کو زمانہ امام جعفر صادق علیہ السلام کے شاگر رشید کے نام سے جانتی ہے -جابر بن حیان  نے امام علیہ السلام کے زیر سایہ   بے شمار کتاہیں تصنیف کیں ، جن سے انسانیت آج بھی فیض یاب ہو رہی ہے۔ جابر بن حیّان 721ء میں ایران کے علاقے، طوس میں پیدا ہوئے۔ اُن کا آبائی پیشہ عطر فروشی تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اُنہوں نے مختلف تجربات کی مدد سے کئی نئے عطر بھی ایجاد کیے۔



بعدازاں، وہ مدینے سے کوفہ چلے گئے اور وہاں اُنہوں نے کیمیا گری کا آغاز کیا۔ اس مقصد کے لیے اُنہوں نے ایک باقاعدہ تجربہ گاہ بھی قائم کی، جس میں وہ ہمہ وقت مختلف کیمیائی دھاتوں پر تجربات میں مصروف رہتے۔جابر بن حیّان کے دَور میں کیمیا گری ”مہوسی“ (پارے، تانبے یا چاندی جیسی دھاتوں کو سونے میں تبدیل کرنےکا علم) تک محدود تھی۔ گرچہ ابتدا میں انہوں نے بھی ان ہی تجربات پر توجّہ مرکوز رکھی، لیکن پھر کیمیا گری کو ایک باقاعدہ علم کے طور پر متعارف کروایا۔ جب جابر بن حیّان کی شُہرت بغداد پہنچی، تو اُنہیں وہاں طلب کر لیا گیا۔ وہاں انہیں سرکاری پزیرائی ملی، تو انہوں نے اس میدان میں ترقّی و استحکام حاصل کیا۔ وہ اکثر کہتے تھے کہ ’’کیمیا میں سب سے ضروری شے تجربہ ہے۔‘



‘جابر بن حیّان نے اپنے تجربات سے ثابت کیا کہ تمام دھاتیں گندھک اور پارے سے مل کر بنی ہیں۔ نیز، وہ اپنے ہم عصر کیمیا دانوں کی طرح اس نظریے کے بھی حامی تھے کہ عام دھاتوں کو سونے میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ چُناں چہ اُنہوں نے جو تجربات کیے، اُنہیں قلم بند کرتے رہے اور تجربات میں حد درجہ دِل چسپی کی وجہ سے سونے کی طلب کی جگہ علم کیمیا کا حصول اُن کی زندگی کا مطمحِ نظر بن گیا۔ جابر بن حیّان کا سب سے بڑا کارنامہ تیزاب کی ایجاد ہے اور ان میں گندھک، شورے اور نوشادر کے تیزاب شامل ہیں۔ انہوں نے سب سے پہلے ’’شورے کا تیزاب‘‘ ایجاد کیا۔ بعد ازاں، مختلف دھاتوں کے ساتھ نوشادر کو ملا کر تجربہ کیا، تو ایک ایسا تیزاب وجود میں آیا کہ جس نے سونے کو بھی پگھلا دیا۔


 

 جابر بن حیّان نے اس تیزاب کو ”ماء الملوک“ (بادشاہوں کا پانی) کا نام دیا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ سونا زیادہ تر بادشاہ ہی استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے لوہے پر بھی کئی تجربات کیے اور بتایا کہ لوہے کو کس طرح فولاد بنایا جا سکتا ہے۔ اسی طرح انہوں نے لوہے کو زنگ سے بچانے کا طریقہ بھی متعارف کروایا۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے ’’موم جامہ‘‘ ایجاد کیا۔ یاد رہے، موم جامہ ایک ایسا کپڑا ہوتا ہے، جس پر پانی اثر نہیں کرتا۔ جابر بن حیّان نے چمڑے کو رنگنے کا طریقہ بھی دریافت کیا، پھرخضاب ایجاد کیا اور شیشے کو رنگین بنانے کے طریقے بھی متعارف کروائے۔جابر بن حیّان نے بہت سی کُتب لکھیں، لیکن اُن کی سب سے مشہور کتاب، ”کتاب الکیمیا“ ہے،


 

گلیشیرز کا غیر فطری انداز میں پگھلنا بڑے خطرے کی علامت ہے؟

 

  انسانی سرگرمیاں، تیزی سے کاربن کے آکسائیڈز کی ماحول میں شمولیت اور گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج ہماری زمین کے دردرجہ حرارت کو بڑھا رہا ہے۔ اس وجہ سے  ہمار ے پہاڑوں پر موجود  گلیشیرز کا پگھلاؤ غیر فطری انداز میں ہو رہا ہے۔جس کے سبب  ہماراماحولیاتی نظام اور اس کا توازن دونوں متاثر ہو رہے ہیں۔یہ گلیشیئرز دنیا کے ہر شخص کے کے لیے اہمیت کے حامل ہیں کیوں کہ سب اس ماحولیاتی نظام سے جڑے ہوئے ہیں۔ اسی طرح پودوں اور جانوروں کی تمام کمیونیٹیز بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتیں ہیں۔ گلیشیئرز کے پگھلاؤ نے سطح سمندروں میں بلندی اور مٹی کے بردگی (ایروژن) کے عمل پر گہرے اثرات مرتب کئے ہیں اس وجہ سے ساحل سمندروں کے نزدیک جنگلی حیات بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔گلیشیئرز کی تباہی نے اور بھی کئی طرح کے مسائل کو جنم دیا ہے۔ انسانی آبادی کے لیے پانی کی کمی ہو رہی ہے۔ ہائیڈرو الیکٹرک (بجلی) پاور کی پیداوار میں فرق پڑ رہا ہے۔ شعبہ زراعت کا دارومدار بروقت پانی کی فراہمی پر ہے۔یہ شعبہ بھی گلیشیئرز کی کم ہوتی تعداد سے پیداواری صلاحیت کھو رہا ہے۔

  

  طرف بے موسمی بارشیں بارشیں اور بے وقت پانی کی دستیابی بھی ایکو سسٹم کو متاثر کر رہا ہے کیوں کہ ان کے پگھلنے سے تازہ پانی کی بڑی مقدار، رسوب (سیڈیمینٹس)، نمکیات وغیرہ آبی ماحولیاتی نظام و آبی حیات کے مساکن کے توازن اور ساخت سے چھیڑ چھاڑکر رہے ہیں اور رہی سہی کسر انسانی سرگرمیوں سے پوری ہو رہی ہے اور ہمارے تمام ماحولیاتی نظام کی بقا کے سامنے سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔اس طرح پانی کا بہاؤ متعدد مچھلیوں اور آبی حیات کو مکمل تحفظ نہیں دے پا رہا جو ان کی بقا کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے کیوں کہ پانی کی پی ایچ (پی ایچ) برقرار رکھنے میں مشکل ہےپ کو اپنے پینے کے پانی کے پی ایچ کے بارے میں کیا معلوم ہونا چاہیے۔پانی پی ایچ کیا ہے؟پی ایچ کا مطلب ممکنہ ہائیڈروجن ہے اور اس کا استعمال مائع میں ہائیڈروجن کی مقدار کا تعین کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ یہ ہر شے کی تیزابیت یا الکلائنٹی کا تعین کرتا ہے۔ پی ایچ پیمانہ 0 سے 14 تک ہے، صفر انتہائی تیزابی اور 14 انتہائی الکلین ہونے کے ساتھ۔

 

 پینے کے قابل قبول پانی کے لیے پی ایچ کی حد 6.5 سے 8.5 ہے۔ یہ رینج غیر جانبدار ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پانی نہ تو ضرورت سے زیادہ تیزابی ہے اور نہ ہی بہت زیادہ الکلین۔ اس حد سے نیچے یا اس سے زیادہ کچھ بھی ہضم کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔کم پی ایچ کے اثرا6.5 سے کم پی ایچ والا پانی تیزابی ہے۔ جب پانی فراہم کرنے والے جراثیم اور دیگر نجاستوں کو ختم کرنے کے لیے کلورین کا استعمال کرتے ہیں، تو تیزابیت والا پانی اچھی طرح سے جواب نہیں دیتا۔ اس کے بجائے، آپ کے گھر کو تیزابی پینے کا پانی فراہم کیا جائے گا جس میں ممکنہ طور پر خطرناک آلودگی موجود ہو۔ اس کے علاوہ، کم پی ایچ پانی پوری پراپرٹی میں پائپوں کو زنگ آلود کر سکتا ہے۔ پانی کی تیزابیت دھاتی پائپوں کے انحطاط کو تیز کرتی ہے، پانی کی فراہمی کو مزید آلودہ کرتی ہے۔ چونکہ تیزابی پانی تیزی سے دھاتوں سے جڑ جاتا ہے، اس لیے اسے استعمال کرنا خطرناک ہے۔ہائی پی ایچ کے اثراالکلائن پانی سے مراد اعلی پی ایچ لیول کے ساتھ پینے کا پانی ہے۔ پی ایچ کی حد 8 اور 10 کے درمیان ہے۔


 زیادہ پی ایچ والے پانی میں سخت ذائقہ یا ناگوار بو ہو سکتی ہے۔ کچھ افراد کا خیال ہے کہ الکلائن پانی بہت سے صحت کے فوائد فراہم کرتا ہے، تاہم ان دعوؤں کی پشت پناہی کرنے کے بہت کم ثبوت موجود ہیں۔ الکلائن پانی پینے کے نتیجے میں آپ کو متلی اور الٹی کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔ زیادہ پی ایچ پانی آپ کے گھر کی پلمبنگ پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔ پانی کی فراہمی میں کیلشیم اور میگنیشیم زیادہ ہوتا ہے، جو جمع ہو سکتا ہے، پائپوں کو روک سکتا ہے اور سنکنرن کا سبب بن سکتا ہے۔آپ پانی کی پی ایچ لیول کو کیسے ٹھیک کر سکتے ہیں؟مقصد 6.5 اور 8.5 کے درمیان پی ایچ کو برقرار رکھنا ہے۔ خوش قسمتی سے، آپ اپنے گھر میں پینے کے پانی کی سطح کو کنٹرول کر سکتے ہیں تاکہ وہ آپ کے گھر اور آپ کی صحت دونوں کے لیے محفوظ ہوں۔ نصب کرنے کے لیے سب سے مؤثر واٹر فلٹرنگ سسٹم ریورس اوسموس واٹر سسٹم ہیں۔ واٹر فلٹر کارٹریجز کو سال میں صرف ایک بار تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ آپ تمام زہریلے مادوں کو دور کرنے اور پورے سال کے لیے اپنے پینے کے پانی کے پی ایچ کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے ریورس اوسموسس سسٹم پر بھروسہ کر سکتے ہیں۔ یہ آپ کے گھر اور پیاروں کو سال بھر محفوظ رکھنے کا سب سے مؤثر طریقہ ہے

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

انقلاب چین جو چینی قوم کی نجات کا باعث بن گیا

  چین کے انقلاب میں تاریخی لانگ مارچ کو ایک سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے جو اکتوبر1934ء سے اکتوبر 1935ء تک جاری رہا۔ یہ لانگ مارچ چھے ہزار میل ط...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر