Knowledge about different aspects of the world, One of the social norms that were observed was greetings between different nations. It was observed while standing in a queue. An Arab man saw another Arab man who apparently was his friend. They had extended greetings that included kisses on the cheeks and holding their hands for a prolonged period of time. , such warm greetings seem to be rareamong many people, . this social norm signifies the difference in the extent of personal space well.
اتوار، 8 فروری، 2026
کلہوڑا خاندان کا دور سندھ کی تاریخ کا درخشاں با ب تھا،
ہفتہ، 7 فروری، 2026
ہینگ کے استعمال اور حیرت انگیز فوائد
زمانہ قدیم سے دوا کے طور پر استعمال کی جانے والی ہینگ اینٹی آکسیڈنٹ اور اینٹی انفلامیٹری خصوصیات کی حامل ہے،ہینگ کے استعمال اور حیرت انگیز فوائد ہینگ بے پناہ خوبیوں کی وجہ سے انسانی صحت کے لیے انتہائی مُفید ہے اور ہزاروں سال پرانی نباتاتی دوا ہے۔ہینگ کے متعدد استعمال ہیں، ہینگ مختلف اقسام میں پائی جاتی ہے جن میں ہیرا ہینگ کو بہترین قرار دیا جاتا ہے، ہینگ جیب پر بھاری مگر افادیت کے اعتبار سے بے شمار فوائد کی حامل ہونے کے سبب بہت قیمتی بھی ہے، ہینگ کے استعمال سے دل اور نظام ہاضمہ خاص طور پر گیس، بلغم، پیٹ درد اور دوسری بہت سی بیماریوں کو ختم کرنے کے لیے اکسیر ہے۔ہینگ میں قدرتی طور پر اینٹی بائیوٹک خصوصیات پائی جاتی ہیں جس کے سبب یہ دمہ، کھانسی، سینے کے بلغم، کالی کھانسی اور پسلیاں چلنے کے درد اور سردی میں انتہائی مؤثر ثابت ہوتی ہے۔استعمال-بلغمی کھانسی میں ہم وزن سونٹھ پاؤڈر اور شہد میں ایک چٹکی ہینگ ملا کر استعمال کرنے سے سے بلغمی کھانسی میں آرام ملتا ہے۔بلغم آنے کی وجہ سے سینے میں درد بھی ہوتا ہے، ایسے میں ہینگ اور پانی کو ملا کر سینے پر ملنے سے سکون کی نیند آتی ہے۔پسلی کے درد میں عمدہ ہینگ باریک پیس لیں اور انڈے کی زردی میں ملا کر لیپ کریں، پسلی کے درد میں آرام آئے گا ۔نزلے سے ہونے والا سر کا درد ہو یا پھر مائیگرین میں ہینگ کا استعمال فوری راحت دیتا ہے۔کافور، ہینگ، پیپر منٹ اور سونٹھ کو باریک پیس کر عرق گلاب میں ملا کر لیپ بنا لیں اور اس لیپ کو سر پر لگا کر ہلکے ہاتھ سے مسا ج کریں تھوڑی دیر میں سر کے درد میں آرام محسوس کریں گے۔
-پیٹ میں درد کا علاج 'ہینگ کے استعمال اور حیرت انگیز فوائدپیٹ کے درد،قے، جگر کا ورم، بد ہضمی، گردے کا درد، بھوک کی کمی ہو یا پیٹ میں گیس ہو تو ہینگ گرم پانی کے ساتھ کھانے سے پیٹ کا ہر طرح کا درد ٹھیک ہو جاتا ہے۔-معدہ کا درد-جن افراد کو معدہ کمزور اور بار بار معدے کی کارکردگی متاثر ہونے کی شکایت ہو تو ہینگ کا استعمال منقہ کے ساتھ کرنے سے افاقہ ہوتا ہے۔استعمال منقہ کے بیج نکال کر اس میں زرا سی ہینگ بھریں اور کھا لیں ،معدے کے درد میں فوری آرام آئے گا، یہ ٹوٹکا ان لوگوں کے لیے بھی مفید ہے جنہیں معدے کے درد سے غنودگی طاری ہونے لگتی -ہو یا ان چکر آنے کی شکایت ہو۔بالوں کا جھڑناہینگ کے استعمال اور حیرت انگیز فوائدہینگ کا استعمال بالوں کے لیے نہایت مفید ہے، اس کا بالوں کی جڑوں میں لیپ کرنے سے سے بال مضبوط اور چمکدار ہوتے ہیں۔-استعمالدو چمچ ہینگ میں آدھا چائے کا چمچ پسی پوئی کالی مرچ اور دو کھانے کے چمچ سرکہ ملا کر بالوں کی جڑوں میں مساج کریں، چند دنوں میں بال جھڑنا بند ہو جائیں گے۔-دانت کا دردہینگ کے استعمال اور حیرت انگیز فوائدہینگ جسم کے ہر درد میں مفید اور سوجن ختم کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہے، دانت کے درد میں اس کا استعمال فوری راحت دیتا ہے، داڑھ کے درد میں ایک چٹکی ہیرا ہینگ داڑھ میں رکھنے سے فوراً آرام آتا ہے ۔کالی مرچ، ہینگ، نیم کے خشک پتے اور لاہوری نمک ہم وزن لے کر باریک پیس لیں، ہفتے میں دو بار اس منجن کا استعمال کریں، نہ دانت میں کیڑا لگے گا اور نہ ہی ٹھنڈا گرم لگنے کی شکایت ہو گی
۔موڈ خوشگوار -بنانے کے 5 آسان طریقےدانت کا رد میں ختم کرنے کے لیے ایک کپ پانی میں دو چٹکی ہینگ اور دو لونگیں ڈال کر ابال لیں اور اب اس پانی سے کلی کریں، دانت کے درد میں آرام آئے گا۔لیموں کے رس میں ہینگ ملا لیں اور روئی سے دانت پر لگائیں، دانت سے خون اور پیپ آنا بند ہو جائے گا۔کتے کے کاٹےکا علاج ہینگ کے استعمال اور حیرت انگیز فوائدایک ماشہ ہیرا ہینگ کو عرق گلاب میں حل کر کے روزانہ پلائیں، ہینگ کو پانی میں گھول کر پاگل کتے کے کاٹے پر -لگانے سے آرام آتا ہے ۔چیونٹیاں بھگاناہینگ کے استعمال اور حیرت انگیز فوائدہینگ کو پیس کر چیونٹیوں کے سوراخ میں ڈالنے سے چیونٹیاں بھاگ جاتی ہیں، کچن کے کیبنٹس کے کونوں میں بھی ہینگ لگانے سے چیونٹیاں اور لال بیگ نہیں آتے۔کان کے درد میں آرامہینگ کے استعمال اور حیرت انگیز فوائداکثر بچوں کے کان میں درد رہتا ہے اور بڑوں کو بھی نزلہ جم جانے کی وجہ سے کان کے درد کی شکایت رہتی ہے، ایسے میں ہینگ کا استعمال مفید ثابت ہوتا ہے ۔ استعمالایک تولہ ہینگ، ایک تولہ سونٹھ اور ثابت دھنیا پیس کر ایک کلو پانی اور آدھا پاؤ سرسوں کے تیل میں ہلکی آنچ پر پانی خشک ہو نے تک پکائیں۔اب تیل کو ٹھنڈا کر کے چھان کر بوتل میں بھر کر رکھ لیں۔کسی قسم کے بھی کان کے درد میں ہلکا گرم کر کے چند بوندیں کان میں ڈال لیں، اس عمل سے فوری آرام آئے گا۔/ہینگ کیا ہے؟ اس کے فوائد، استعمال، نقصانات کیا ہیں؟ہینگ کے استعمال اور حیرت انگیز فوائدزمانہ قدیم سے دوا کے طور پر استعمال کی جانے والی ہینگ اینٹی آکسیڈنٹ اور اینٹی انفلامیٹری خصوصیات کی حامل ہے، ہینگ بے پناہ خوبیوں کی وجہ سے انسانی صحت کے لیے انتہائی مُفید ہے اور ہزاروں سال پرانی نباتاتی دوا ہے۔
ہینگ کے متعدد استعمال ہیں، ہینگ مختلف اقسام میں پائی جاتی ہے جن میں ہیرا ہینگ کو بہترین قرار دیا جاتا ہے، ہینگ جیب پر بھاری مگر افادیت کے اعتبار سے بے شمار فوائد کی حامل ہونے کے سبب بہت قیمتی بھی ہے، ہینگ کے استعمال سے دل اور نظام ہاضمہ خاص طور پر گیس، بلغم، پیٹ درد اور دوسری بہت سی بیماریوں کو ختم کرنے کے لیے اکسیر ہے۔ہینگ کے استعمال اور حیرت انگیز فوائدزمانہ قدیم سے دوا کے طور پر استعمال کی جانے والی ہینگ اینٹی آکسیڈنٹ اور اینٹی انفلامیٹری خصوصیات کی حامل ہے، ہینگ بے پناہ خوبیوں کی وجہ سے انسانی صحت کے لیے انتہائی مُفید ہے اور ہزاروں سال پرانی نباتاتی دوا ہے۔ہینگ کے متعدد استعمال ہیں، ہینگ مختلف اقسام میں پائی جاتی ہے جن میں ہیرا ہینگ کو بہترین قرار دیا جاتا ہے، ہینگ جیب پر بھاری مگر افادیت کے اعتبار سے بے شمار فوائد کی حامل ہونے کے سبب بہت قیمتی بھی ہے، ہینگ کے استعمال سے دل اور نظام ہاضمہ خاص طور پر گیس، بلغم، پیٹ درد اور دوسری بہت سی بیماریوں کو ختم کرنے کے لیے اکسیر ہے۔-نز لہ، کھانسی، دمہہینگ کے استعمال اور حیرت انگیز فوائدہینگ میں قدرتی طور پر اینٹی بائیوٹک خصوصیات پائی جاتی ہیں جس کے سبب یہ دمہ، کھانسی، سینے کے بلغم، کالی کھانسی اور پسلیاں چلنے کے درد اور سردی میں انتہائی مؤثر ثابت ہوتی ہے۔استعمال بلغمی کھانسی میں ہم وزن سونٹھ پاؤڈر اور شہد میں ایک چٹکی ہینگ ملا کر استعمال کرنے سے سے بلغمی کھانسی میں آرام ملتا ہے۔بلغم آنے کی وجہ سے سینے میں درد بھی ہوتا ہے، ایسے میں ہینگ اور پانی کو ملا کر سینے پر ملنے سے سکون کی نیند آتی ہے۔’اسافوئیٹیڈا‘ (Asafoetida) جسے اردو زبان میں ہینگ کہا جاتا ہے، ایک قدرتی گوند ہے جو پودے کی جڑ سے نکلنے والے دودھ سے حاصل کی جاتی ہے، یہ صدیوں سے کھانوں میں ذائقہ بڑھانے اور روایتی طب میں استعمال ہو رہی ہے تاہم جدید سائنس اس کے تمام فوائد کی مکمل تصدیق نہیں کرتی ہینگ افغانستان اور ایران میں پائی جانے والی جڑی بوٹی سے حاصل ہوتی ہے، خام حالت میں اس کی بو نہایت تیز اور ناگوار ہوتی ہے، اسی لیے اسے ’بدبودار گوند‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے لیکن پکانے کے بعد اس کا ذائقہ لہسن اور پیاز جیسا خوشگوار ہو جاتا ہے۔ماہرین کے مطابق ہینگ میں اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں جو جسم میں سوزش کم کرنے اور خلیوں کو نقصان سے بچانے میں مدد دیتے ہیں، کچھ محدود مطالعات سے یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ یہ بدہضمی، پیٹ کے پھولنے اور گیس میں کمی کے لیے مفید ہو سکتی ہے۔آیورویدک و طب میں ہیِنگ کو ہاضمہ بہتر بنانے، سانس کے امراض اور بعض دیگر بیماریوں کے علاج میں استعمال کیا جاتا رہا ہے۔جدید تحقیق میں اس کے جراثیم کُش ہونے، بلڈ پریشر کم کرنے، شوگر لیول گھٹانے اور دماغی صحت سے متعلق ممکنہ فوائد پر بھی ابتدائی شواہد سامنے آئے ہیں تاہم یہ تحقیق زیادہ تر جانوروں یا لیبارٹری کی سطح تک محدود ہے۔ممکنہ نقصانات:ماہرین کا کہنا ہے کہ ہینگ کا کھانوں میں معمولی مقدار میں استعمال عموماً محفوظ ہے لیکن اس کے زیادہ مقدار یا سپلیمنٹ کی شکل میں استعمال سے اسہال، گیس، سر درد یا دیگر مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔حاملہ خواتین، دودھ پلانے والی ماؤں اور بچوں کو اس کے استعمال سے گریز تجویز کیا جاتا ہے۔بلڈ پریشر یا خون کو پتلا کرنے والی ادویات استعمال کرنے والوں کے لیے بھی ہینگ سے احتیاط کرنا ضروری ہے۔استعمال کا طریقہ:ہیِنگ عام طور پر گرم تیل میں ڈال کر استعمال کی جاتی ہے تاکہ اس کی تیز بو کم ہو جائے۔
عمر شریف گریٹ کامیڈی کنگ
1979 عمر شریف نے اپنی معصوم عمر کی صرف چار بہاریں دیکھی تھیں کہ ان کے والد کا انتقال ہو گیا اور ان کے خاندان کو شدید مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔وہ کراچی میں جس علاقے میں رہائش پذیر رہے وہاں قریب قوالوں کے بھی گھر تھے۔ بچپن اور لڑکپن میں ان کی دوستی ان قوالوں کے بچوں سے رہی اور جب ہوش سنبھالا تو اپنے محلے کے مختلف کرداروں سمیت مشہور فلمی اداکاروں کی بول چال اور انداز کی نقالی کرنے لگے۔یہی وجہ تھی کہ عمر شریف کی بذلہ سنجی، جملے بازی اور لطیفہ گوئی پورے علاقے میں مشہور ہو گئی تھی۔ سکول کے بعد عمر شریف جب گلی محلے میں نکلتے تو ان کے ارد گرد لڑکوں کا ہجوم ہوتا اور وہ انھیں ہنسانے میں مصروف ہو جاتے۔عمر شریف کراچی کے آدم جی ہال کے کیفے ٹیریا میں جا کر بیٹھ جاتے تھے ایک دن کا زکر ہے کہ جاری سٹیج ڈرامے کے ایک گجراتی اداکار کو اپنے عزیزکی وفات پر ڈرامہ چھوڑ کر جانا پڑا تو شو سے دو گھنٹے قبل عمرشریف کو بلایا گیا اور میک اپ روم میں کاغذات کا پلندہ ہاتھ میں یہ کہہ کر تھما دیا گیا کہ تمہیں جوتشی بننا ہے۔عمر شریف نے میک اپ کے دوران ڈائلاگ یاد کئے ان کو اس ڈرامے میں تین بار انٹری دینا تھی۔ کراچی سے تعلق رکھنے والے متعدد فنکار بتاتے ہیں کہ پہلی ہی انٹری پر ہی عمرشریف نے اپنی پرفارمنس سے حاضرین کے دل جیت لیے اور جب وہ سٹیج سے ہٹے تو دیر تک تالیاں بجتی رہیں۔ 14 سال کے عمر شریف کو اس ڈرامے میں بہترین کارکردگی دکھانے پر شو کے آخری دن پانچ ہزار روپے، 70 سی سی موٹرسائیکل اور پورے سال کا پٹرول انعام میں دیا گیا تھا۔اور پھر انھوں نے اس میدان میں اداکاری کے علاوہ بطور مصنف اور ہدایتکار بھی اپنے فن کا لوہا منوایا۔
عمر شریف نے 70 سے زائد ڈراموں کے سکرپٹ لکھے جن کے مصنف، ہدایتکار اور اداکار وہ خود تھے اور ان ڈراموں نے مقبولیت کے ریکارڈ قائم کیے۔بہروپیا‘ وہ کھیل تھا جس میں عمر شریف کا ٹیلنٹ کھل کر سامنے آیا اور پھر ’بڈھا گھر پہ ہے‘ اور ’بکرا قسطوں پہ‘ نے انھیں پاکستان کے ساتھ ساتھ انڈیا میں بھی وہ مقبولیت عطا کی کہ عمر شریف برصغیر کے پسندیدہ مزاحیہ فنکار بن گئے۔ڈرامہ بکرا قسطوں پہ کی مقبولیت اس قدر تھی کہ عمر شریف نے اس کے پانچ پارٹ بنائے۔ عمر شریف نے پہلی بار سٹیج ڈرامے ریکارڈ کرنے کا رواج بھی ڈالا۔ ’یس سر عید، نو سر عید‘ عمر شریف کا پہلا ڈرامہ تھا جس کی ویڈیو ریکارڈنگ کی گئی تھی۔ سٹیج ڈراموں کی ویڈیو ریکارڈنگ نے انھیں برصغیر سمیت دنیا بھر میں اردو اور پنجابی بولنے والوں کا پسندیدہ کامیڈین بنا دیا تھا۔ عمر شریف کا اصل نام محمد عمر تھا اور وہ سرکاری ٹی وی کے مطابق کراچی میں 19 اپریل 1960 کو پیدا ہوئے تھے۔ ان کی عمر چار سال تھی کہ والد کا انتقال ہو گیا اور ان کے خاندان کو شدید مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔وہ کراچی میں جس علاقے میں رہائش پذیر رہے وہاں قریب قوالوں کے بھی گھر تھے۔ بچپن اور لڑکپن میں ان کی دوستی ان قوالوں کے بچوں سے رہی اور جب ہوش سنبھالا تو اپنے محلے کے مختلف کرداروں سمیت مشہور فلمی اداکاروں کی بول چال اور انداز کی نقالی کرنے لگے۔
یہی وجہ تھی کہ عمر شریف کی بذلہ سنجی، جملے بازی اور لطیفہ گوئی پورے علاقے میں مشہور ہو گئی تھی۔ سکول کے بعد عمر شریف جب گلی محلے میں نکلتے تو ان کے ارد گرد لڑکوں کا ہجوم ہوتا اور وہ انھیں ہنسانے میں مصروف ہو جاتے۔عمر شریف نے پہلی رات ہی کرشمہ کر دکھایا تھا! ۔ عمر شریف نے 70 سے زائد ڈراموں کے سکرپٹ لکھے جن کے مصنف، ہدایتکار اور اداکار وہ خود تھے اور ان ڈراموں نے مقبولیت کے ریکارڈ قائم کیے۔بہروپیا‘ وہ کھیل تھا جس میں عمر شریف کا ٹیلنٹ کھل کر سامنے آیا اور پھر ’بڈھا گھر پہ ہے‘ اور ’بکرا قسطوں پہ‘ نے انھیں پاکستان کے ساتھ ساتھ انڈیا میں بھی وہ مقبولیت عطا کی کہ عمر شریف برصغیر کے پسندیدہ مزاحیہ فنکار بن گئے۔ڈرامہ بکرا قسطوں پہ کی مقبولیت اس قدر تھی کہ عمر شریف نے اس کے پانچ پارٹ بنائے۔ عمر شریف نے پہلی بار سٹیج ڈرامے ریکارڈ کرنے کا رواج بھی ڈالا۔ ’یس سر عید، نو سر عید‘ عمر شریف کا پہلا ڈرامہ تھا جس کی ویڈیو ریکارڈنگ کی گئی تھی۔ سٹیج ڈراموں کی ویڈیو ریکارڈنگ نے انھیں برصغیر سمیت دنیا بھر میں اردو اور پنجابی بولنے والوں کا پسندیدہ کامیڈین بنا دیا تھا۔عمر شریف کی میت آج علی الصبح کراچی پہنچی تھی عمر شریف کی نمازِ جنازہ مولانا بشیر فاروقی نے پڑھائی جس میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی
لیجنڈری کامیڈین عمر شریف کو ان کی خواہش کے مطابق کراچی میں عبداللہ شاہ غازی کے مزار کے احاطے میں سپرد خاک کردیا گیا۔عمر شریف کی بیوہ زرین غزل نے بتایا تھا کہ اداکار نے ان سے اپنی خواہش کا اظہار کیا تھا کہ انہیں عبداللہ شاہ غازی کے مزار کے احاطے میں سپرد خاک کیا جائے۔زرین غزل نے سندھ حکومت سے اپیل کی تھی کہ عمر شریف کی تدفین عبداللہ شاہ غازی کے مزار کے احاطے میں کرنے کی اجازت دی جائے، جس پر صوبائی حکومت نے مزار انتظامیہ کو ہدایات جاری کی تھیں۔عمر شریف کی تدفین کے موقع پر کئی اہم شخصیات موجود رہیں اور اس موقع پر سیکیورٹی کے انتظامات بھی سخت کیے گئے تھے۔اس سے قبل سہ پہر تین بجے عمر شریف کی نمازِ جنازہ کلفٹن میں واقع پارک میں مولانا بشیر فاروقی نے پڑھائی تھی، جس میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔قبل ازیں شریف کا جسدِ خاکی گلشن اقبال میں واقع رہائش گاہ سے کلفٹن میں ان کے نام سے منسوب پارک میں پہنچایا گیا تھا۔عمر شریف کی نمازِجنازہ میں سیاست و شوبز سے وابستہ شخصیات نے بھی شرکت کی اس موقع پر پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری جنازہ گاہ کے اطراف موجود تھی جبکہ میت کی منتقلی کے سلسلے میں بلاول چورنگی سے ضیا الدین ہسپتال جانے والی سڑک کو ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا تھا۔
جمعرات، 5 فروری، 2026
انقلاب چین جو چینی قوم کی نجات کا باعث بن گیا
منگل، 3 فروری، 2026
کہو دلہن بیگم ! ہمارا بھائ تمھیں کیسا لگا
میں سہاگن بنی مگر !نگین دلہن بنی مثل ایک زندہ لاش کے سر جھکائے بیٹھی تھی اس نے آج کے دن کے لئے بڑی آپا کے اور منجھلی آپا کے سمجھانے سے بہت ہمّت کر کےاپنے آپ کو سنبھالا ہوا تھا مگر دل پر بھلا کس کو اختیار ہوسکتا ہے ،اور اس کا دل سینے کے پنجرے میں پھڑپھڑا رہا تھا کہ اس کو جان ودل سے ا پنا بنانے والا کبھی بھی واپس نہیں آنے کے لئے اس سے روٹھ کردنیا سے جا چکا تھا,,سو چوں کے انہی جان گسل لمحات میں ,ایجاب وقبول کے لئے مولاناصاحب طلال کے ہمراہ اس کے پاس آگئے'ایجاب و قبول کا مرحلہ شروع ہوا نصرت نگین بنت اسلام الدّین آپ کو مبلغ مہر شرعی شامیل احمد ابن خلیق احمد کے ساتھ نکاح منظور ہے اور مولاناصاحب کے الفاظ پورے ہونے سے پہلے اس نے اپنے آپ کو بے ہوش ہونے سے بچایا ،اورپھر اس نے مولانا کے دوسر ی بار کے مرحلے پر پہنچنے پر آہستہ سے ہاںکہاور نکاح نامے کو اپنی موت کا پروانہ سمجھ کر سائن کر دئےاور نکاح کے بعد اس کی منجھلی آپا اور بڑی آپا نے ,,نے اس کے دونو ں بازوتھام کر شامیل کے پہلو میں لا کر بٹھا دیا، اس نے نا تو اپنی نگاہیں اوپراٹھائیں اور ناہی شامیل نے اس کے پہلو کی قربت کو اپنے نزدیک پسند کیا اسلئے کچھ فاصلہ پر کھسک کر بیٹھ گیا جس کو سب نے اس کی شرم و حیا کی تعبیرجانا مووی بنتی رہی تصاویر کھینچی جاتی رہیںفو ٹو گرافر مووی میکر باربار اصر ار کرنے لگا زرا سا کلوز ہو جائیے ,,زرا سا کلوز ہو جائیے اور وہ زراسا کلوز ہوتا اور پھر دور ہوجاتا ،اور وہ بے روح کی مانند ساکت ہی رہی اور بغیر ایک آنسو بہائے رخصت ہو کرشامیل کے گھر میں سر جھکائےہوئے آ گئ'اس شادی میں اس کے میکے میں ناکوئ رسمیں ہوئیں ناریتیں ہوئیں نا ڈھولک کی تھاپ پر کسی سہیلی نے کوئ سہاگ گیت گا یا ،بس منجھلی آپا ہی تو تھیں جنہوں نے اس کے ہاتھوں اور پیروں میں مہندی لگا دی تھی اور بیوٹی پارلر لے جاکر دلہن بنوا لائ تھیں-
پیر، 2 فروری، 2026
شکار پور چار سو سالہ تہذیب و تمدن سے آراستہ شہر
اتوار، 1 فروری، 2026
ایک درویش منصف اعلیٰ' جسٹس منیر مغل
ہائی کورٹ کا ایک ولی صفت جج
میرے پاس چند دن قبل ایک ریٹائرڈ پولیس افسر آئے۔ ان کا چھوٹا سا مسئلہ تھا، میں نے ان کی جتنی مدد کر سکتا تھا کر دی۔ اس کے بعد گفتگو شروع ہوئی تو میں نے ان سے زندگی کا کوئی حیران کن واقعہ سنانے کی درخواست کی۔میری فرمائش پر انہوں نے ایک ایسا واقعہ سنایا جس نے مجھے ہلا کر رکھ دیا اور میں نے سوچا، مجھے یہ آپ کے ساتھ بھی شیئر کرنا چاہیے۔ پولیس افسر کا کہنا تھا: میں 1996ء میں لاہور میں ایس ایچ او تھا۔ میرے والد علیل تھے، میں نے انھیں سروسز اسپتال میں داخل کرا دیا۔ سردیوں کی ایک رات میں ڈیوٹی پر تھا اور والد اسپتال میں اکیلے تھے۔ اچانک ان کی طبیعت زیادہ خراب ہو گئی اور وہ الٹیاں کرنے لگے۔میرے خاندان کا کوئی شخص ان کے پاس نہیں تھا۔ وہ دو مریضوں کا کمرہ تھا، ان کے ساتھ دوسرے بیڈ پر ایک مریض داخل تھا۔ اس مریض کا اٹینڈنٹ موجود تھا۔ وہ اٹھا، اس نے ڈسٹ بین اور تولیہ لیا اور میرے والد کی مدد کرنے لگا۔ وہ ساری رات ابا جی کی الٹیاں صاف کرتا رہا۔ اس نے انھیں قہوہ بھی بنا کر پلایا اور ان کا سر اور بازو بھی دبائے۔ صبح ڈاکٹر آیا تو اس نے اسے میرے والد کی کیفیت بتائی اور اپنے مریض کی مدد میں لگ گیا۔ میں نو بجے صبح وردی پہن کر تیار ہو کر والد سے ملنے اسپتال آ گیا۔اباجی کی طبیعت اس وقت تک بحال ہو چکی تھی۔ مجھے انھوں نے اٹینڈنٹ کی طرف اشارہ کر کے بتایا: "رات میری اس مولوی نے بڑی خدمت کی۔" میں نے اٹینڈنٹ کی طرف دیکھا۔ وہ ایک درمیانی عمر کا باریش دھان پان سا ملازم تھا۔ میں نے مسکرا کر اس کا شکریہ ادا کیا لیکن پھر سوچا، اس نے ساری رات میرے والد کی خدمت کی ہے، مجھے اسے ٹپ دینی چاہیے۔
میں نے جیب سے پانچ سو روپے نکالے اور اس کے پاس چلا گیا۔ وہ کرسی پر بیٹھا ہوا تھا۔میں نے اپنا ایک ہاتھ اس کے کندھے پر رکھا اور دوسرے ہاتھ سے اسے پانچ سو روپے پکڑانے لگا۔ وہ کرسی پر کسمسایا لیکن میں نے رعونت بھری آواز میں کہا: "لے مولوی، رکھ یہ رقم، تیرے کام آئے گی۔" وہ نرم آواز میں بولا: "نہیں بھائی نہیں، مجھے کسی معاوضے کی ضرورت نہیں۔ میں نے رات دیکھا، آپ کے والد اکیلے ہیں اور تکلیف میں ہیں۔ میں فارغ تھا، لہٰذا میں اللہ کی رضا کے لیے ان کی خدمت کرتا رہا۔ آپ لوگ بس میرے لیے دعا کردیں، وغیرہ وغیرہ۔" لیکن میں باز نہ آیا، میں نے فیصلہ کر لیا کہ ہر صورت اسے پیسے دے کر رہوں گا۔پولیس افسر رکے، اپنی گیلی آنکھیں اور بھاری گلہ صاف کیا اور پھر بولے: "انسان جب طاقت میں ہوتا ہے تو یہ معمولی معمولی باتوں پر ضد باندھ لیتا ہے۔ یہ ہر صورت اپنی بات منوانے کی کوشش کرتا ہے۔ میں نے بھی پیسے دینے کی ضد بنا لی تھی، مگر مولوی مجھ سے زیادہ ضدی تھا۔ وہ نہیں مان رہا تھا۔ میں اس کی جیب میں پیسے ڈالتا تھا اور وہ نکال کر کبھی میری جیب میں ڈال دیتا تھا اور کبھی ہاتھ میں پکڑا دیتا تھا۔"میں نے اس دھینگا مشتی میں اس سے پوچھا: "مولوی یار تم کرتے کیا ہو؟" اس نے جواب دیا: "بس ایسے ہی لوگوں کی خدمت کرتا ہوں۔" وہ مجھے اپنا کام نہیں بتانا چاہتا تھا۔ میں نے اب اس کا ذریعہ روزگار جاننے کی ضد بھی بنا لی،
اس سے بار بار اس کا کام پوچھنے لگا۔ اس نے تھوڑی دیر ٹالنے کے بعد بتایا: "میں کچہری میں کام کرتا ہوں۔" مجھے محسوس ہوا یہ کسی عدالت کا اردلی یا کسی وکیل کا چپڑاسی ہو گا۔ میں نے ایک بار پھر پانچ سو روپے اس کی مٹھی میں دے کر اوپر سے اس کی مٹھی دبوچ لی اور پھر رعونت سے پوچھا: "مولوی تم کچہری میں کیا کرتے ہو؟"اس نے تھوڑی دیر میری طرف دیکھا اور پھر اپنے والد کی طرف دیکھا۔ لمبی سانس لی اور آہستہ آواز میں بولا: "مجھے اللہ نے انصاف کی ذمے داری دی ہے۔ میں لاہور ہائی کورٹ میں جج ہوں۔"مجھے اس کی بات پر یقین نہ آیا، میں نے پوچھا: "کیا کہا؟ تم جج ہو!" اس نے آہستہ کہا: "جی ہاں، میرا نام جسٹس منیر احمد مغل ہے اور میں لاہور ہائی کورٹ کا جج ہوں۔"یہ سن کر میرے ہاتھ سے پانچ سو روپے گر گئے اور میرا وہ ہاتھ جو میں نے پندرہ منٹ سے اس کے کندھے پر رکھا ہوا تھا، وہ اس کے کندھے پر ہی منجمد ہو گیا۔جسٹس صاحب نے بڑے پیار سے میرا ہاتھ اپنے کندھے سے اتارا، کھڑے ہوئے، جھک کر فرش سے پانچ سو روپے اٹھائے، میری جیب میں ڈالے اور پھر بڑے پیار سے اپنے مریض کی طرف اشارہ کر کے بتایا: "یہ میرے والد ہیں۔ میں ساری رات ان کی خدمت کرتا رہا، ان کا پاخانہ تک صاف کیا۔ اس میں شکریے کی کوئی ضرورت نہیں۔"میں نے رات دیکھا، آپ کے والد اکیلے ہیں اور ان کی طبیعت زیادہ خراب ہے، لہٰذا میں انھیں اپنا والد سمجھ کر ان کی خدمت کرتا رہا۔ اس میں شکریے کی کوئی ضرورت نہیں۔ (جاوید چودھری)
جسٹس منیر مغل نے ایم۔اے اور ایل۔ایل۔بی کے بعد مولانا عبیداللہ سندھی کی تفسیر پر پی ایچ ڈی کیا۔ ان کا دوسرا پی ایچ ڈی جامعۃ الازہر مصر سے تھا، جس کے لیے انہوں نے عربی زبان بھی سیکھی۔ ان کے علاوہ ملکی جسٹس منیر مغل نے ایم۔اے اور ایل۔ایل۔بی کے بعد مولانا عبیداللہ سندھی کی تفسیر پر پی ایچ ڈی کیا۔ ان کا دوسرا پی ایچ ڈی جامعۃ الازہر مصر سے تھا، جس کے لیے انہوں نے عربی زبان بھی سیکھی۔ ان کے علاوہ ملکی و بین الاقوامی قوانین پر 24 کتابیں تصنیف کیں۔ وہ عدالت میں تیزی سے مقدمات نمٹانے کے لیے مشہور تھے۔ ان کی عدالت میں انصاف کا انداز نہایت متاثر کن تھا۔ ایک مقدمے میں جب امیر لوگوں کے وکیل اور غریب استاد کا کیس آیا، جسٹس صاحب نے استاد کے احترام میں سارا دن عدالت کھڑے ہو کر مقدمات نمٹائے اور پانچ منٹ میں فیصلہ سنایا۔جسٹس مغل والدین کی خدمت کے حوالے سے بھی مشہور تھے۔ ان کے سامنے یوں دست بستہ کھڑے ہوا کرتے تھے کہ گویا نماز کی نیت باندھ رکھی ہے۔ والد کے زیادہ بیمار ہونے پر انہوں نے بیڈ کے قریب گھنٹی رکھی تاکہ والد پاؤں سے دبائیں اور وہ فوراً پہنچ جاتے۔ اپنی بیوی اور بچوں کو بھی والد کے کام میں ہاتھ نہیں لگانے دیتے تھے۔ انہوں نے اپنی ساری زندگی علم، محنت اور والدین کی خدمت میں گزاری۔ عدالت میں بھی ان کا رویہ عاجزانہ اور ایماندارانہ تھا۔15 اپریل 2024 کو یہ فرشتہ صفت دنیا سے رخصت ہوا۔ ن کی سادہ زندگی، عاجزی اور والدین کے لیے غیر معمولی خدمت آج بھی عدلیہ اور معاشرے کے لیے ایک روشن مثال ہے۔ اللہ قرب کے اعلیٰ مراتب سے نوازے۔
نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے
امجد اسلام امجد -اگر کبھی میری یاد آئے
اگر کبھی میری یاد آئے تو چاند راتوں کی نرم دلگیر روشنی میں کسی ستارے کو دیکھ لینا ا مجد اسلام امجد-ایک عالمی اور پاکستانی شہرت یافتہ...
حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر
-
میرا تعارف نحمدہ ونصلّٰی علٰی رسولہ الکریم ،واٰ لہ الطّیبین الطاہرین جائے پیدائش ،جنوبی ہندوستان عمر عزیز پاکستان جتنی پاکستان کی ...
-
خوبصورت اور لہلہاتے قدرتی نظاروں سے مالامال جزیرہ ماریشس (موریطانیہ )کے ائر پورٹ 'پورٹ لوئس کے سرشِو ساگر رام غلام انٹرنیشنل ائیرپ...
-
نام تو اس کا لینارڈ تھا لیکن اسلام قبول کر لینے کے بعد فاروق احمد لینارڈ انگلستانی ہو گیا-یہ سچی کہانی ایک ایسے انگریز بچّے لی...