اسلام آباد (خبر نگار خصوصی) نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت اسلام آباد، کراچی اور لاہور کے ہوائی اڈوں کی آئوٹ سورسنگ سے متعلق سٹیئرنگ کمیٹی کا 10واں اجلاس جمعرات کو یہاں میں منعقد ہوا۔ نائب وزیراعظم کے آفس سے جاری بیان کے مطابق اجلاس میں وزیر دفاع و ہوابازی، وزیر قانون و انصاف، سیکرٹری ایوی ایشن، بورڈ آف انویسٹمنٹ، سول ایوی ایشن اتھارٹی کے حکام اور انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (آئی ایف سی) کی ٹیم نے شرکت کی۔ آئی ایف سی ٹیم نے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی آئوٹ سورسنگ پر پیشرفت رپورٹ پیش کی اور بتایا کہ مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں پر مشتمل مختلف کنسورشیمز کے درمیان صحت مند مقابلہ 15 جولائی 2024ء کو متوقع ہے۔ سٹیئرنگ کمیٹی نے لاہور اور کراچی ایئرپورٹس کی آئوٹ سورسنگ پر پیشرفت کا بھی جائزہ لیا اور اب تک کیے گئے کام پر اطمینان کا اظہار کیا۔ منصوبے کے مطابق دونوں ہوائی اڈوں کے لئے رعایتی ڈھانچہ اس سال اگست کے وسط تک تیار ہوجائے گا۔ بیان کے مطابق اجلاس میں اس توقع کا اظہار کیا گیا کہ اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی آئوٹ سورسنگ کے نتیجے میں صارفین کو بہتر تجربے کے ساتھ عالمی معیار کی سروس میسر آئے گی۔کراچی : وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کی جانب سے کراچی، لاہور اور اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے آپریشنز کو آؤٹ سورس کرنے کے حوالے سے اقدامات کے بعد اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔
اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ کراچی، لاہور اور اسلام آباد ایئرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ کے معاملے میں متحدہ عرب امارات، قطر، ترکیہ، چین اور سعودی عرب کی خصوصی دلچسپی لے رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق یو اے ای نے اسلام آباد ایئرپورٹ کو ٹھیکے پر لینے میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے، سعودی عرب کی بھی پاکستان کے ایئرپورٹس آؤٹ سورسنگ پر لینے کیلئے کوششیں جاری ہیں۔قطر حکومت ایئرپورٹ کارگو شعبہ لینے میں زیادہ دلچسپی رکھتی ہے، حکومت کراچی، لاہور، اسلام آباد ائیرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ کا ارادہ رکھتی ہے۔’’اسلام آباد ایئرپورٹ کو آؤٹ سورس کردیا جائے گا‘‘ایرپورٹس آؤٹ سورسنگ کے لیے عالمی بینک کا ذیلی ادارہ انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن بطور فنانشل ایڈوائزرز سی اے اے پاکستان کے لیے کام کر رہا ہے۔فائل فوٹو: اے ایف پیملک کے تین اہم ایئرپورٹس کی آؤٹ سورسنگ اور پی آئی اے کی نجکاری کے لیے وفاقی وزیر دفاع اور ہوا بازی خواجہ آصف کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دے دی گئی۔ڈان نیوز کے مطابق وفاقی کابینہ نے کمیٹی کی تشکیل کی منظوری دے دی جس کے بعد کمیٹی کی تشکیل کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی ایئرپورٹ مینجمنٹ کی آؤٹ سورسنگ کا جائزہ لے گی اور پی آئی اے کی نجکاری سے متعلق امور کی نگرانی بھی کرے گی۔کمیٹی ارکان میں وزیر نجکاری عبدالعلیم خان کے ساتھ ساتھ وزیر خارجہ اسحٰق ڈار، ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن، سیکریٹری نجکاری اور سیکریٹری ہوا بازی ڈویژن بھی شامل ہیں۔
ہوا بازی ڈویژن کمیٹی کے لیے سیکریٹریل سپورٹ فراہم کرے گیااس سے قبل رواں ہفتے حکومت نے غیرملکی سرمایہ کاروں اور بین الاقوامی مالیاتی کارپوریشنز کی درخواست پر ملک کے تین اہم ایئرپورٹس کی مینجمنٹ اور آپریشنز کے امور آؤٹ سورس کرنے کے لیے بولیاں جمع کرانے کا عمل دو ماہ کے لیے موخر کردیا تھا۔اسلام آباد، کراچی اور لاہور ایئرپورٹ کی مینجمنٹ اور آپریشنز کے امور آؤٹ سورس کرنے کے لیے بولیاں جمع کرانے کا عمل موخر کرنے کا فیصلہ وزیر خارجہ اسحٰق ڈار کی زیر صدارت ہونے والے اسٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا تھا۔پاکستان-اسلام آباد ایئرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ کیلئے ٹینڈر کی تاریخ میں 2 ماہ توسیع کا فیصلہ-سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) نے اسلام آباد ایئرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ کے لیے ٹینڈر کی تاریخ میں توسیع کا فیصلہ کرلیا۔ڈان نیوز‘ کے مطابق سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ٹینڈر کی تاریخ میں 2 ماہ کی توسیع کردی ہے۔سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ٹینڈر کی تاریخ میں توسیع کا نیا حکم نامہ جاری کردیا اور اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ کے لیے بولی کی تاریخ 15 مئی مقرر کردی ہے۔اسلام آباد ایئرپورٹ کو ٹھیکے پر لینے میں دلچسپی رکھنے والی ملکی اور بین الاقوامی کمپنیوں سے درخواستیں بھی طلب کرلی گئی ہیں۔
حکم نامے کے مطابق حکومت اسلام آباد کراچی اور لاہور ایرپورٹس کی آؤٹ سورسنگ کے ذریعے اربوں روہے فنڈز اکٹھا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، پہلے مرحلے میں اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ 31 دسمبر 2022 کو وفاقی حکومت نے ملک میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کی راہ ہموار کرنے کے لیے پہلے مرحلے میں ملک کے 3 ہوائی اڈوں کو انٹرنیشنل آپریٹرز کے ذریعے چلانے کا فیصلہ کیا تھا۔بعدازاں 27 جون 2023 کو حکومت نے فیصلہ کیا تھا کہ ہوائی اڈوں کی آؤٹ سورسنگ کو فی الحال صرف اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ تک محدود رکھا جائے گا۔16 جولائی 2023 کو اُس وقت کے وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے اسٹیک ہولڈرز سے کہا تھا کہ وہ اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے آپریشنز کو آؤٹ سورس کرنے کے لیے 12 اگست تک تمام رسمی کارروائیوں کو حتمی شکل دے دیں۔12 اگست 2023 اُس وقت برسراقتدار پی ڈی ایم حکومت کی مدت کا آخری دن تھا، امکان یہی ظاہر کیا جارہا تھا کہ اسلام آباد ایئرپورٹ 12 اگست تک آؤٹ سورس کردیا جائے گا تاہم ایسا نہ ہوسکا اور نگران حکومت نے اقتدار سنبھال لیا۔