منگل، 2 دسمبر، 2025

سرمائ پرندوں کی ہجرت

 

موسم سرما کی آمد کے ساتھ ہی کراچی کے ساحل سی ویو پر  اور  پاکستان کی تمام جھیلوں اور  پانی کے دیگر زخائر پرسائبیریا سے بڑی تعداد میں مہمان پرندے پہنچنا شروع ہوگئے ہیں۔رنگ برنگے مہمان  پرندے سرد ممالک سے   برصغیر کے گرم ممالک میں ہجرت کرتے ہیں اور موسم سازگار ہونے پر واپس اپنے مستقل مسکن کی جانب کوچ کر جاتے    ہیں     آتے ہیں۔پاکستان بھی ان کے عارضی قیام          کے لئے  سازگار  مقام ہے   جہاں سائبیریا کے وسیع برف زار صحرا سمیت سرد علاقوں سے سفر کرنے والے پرندوں سے گرم علاقوں کے ان حصوں، خصوصاً جھیلوں میں بہار آجاتی ہے جہاں انہیں خوراک میسر آسکتی ہے۔سندھ میں کینجھر جھیل، ہالیجی جھیل، اڈیرو جھیل سمیت دیگر جھیلیں اور آبی ذخائر ایسے مقامات ہیں جہاں خوراک کی تلاش میں یہ مہمان اترتے ہیں۔نیرنگی، چیکلو، کونج، اڑی اور لال بطخ سمیت متعدد اقسام کے ان پرندوں میں بعض نایاب پرندے بھی شامل ہیں۔جن کے پیروں میں ایسے چھلے پائے جاتے ہیں جن میں ان کے بارے میں تحریر ملتی ہے۔ تحریروں کا مقصد ان پرندوں کی نایابی اور اہمیت کے بارے میں آگاہی دینا ہوتا ہے تاکہ ان کی حفاظت کی جائے۔  نیلگوں آسمان  میں تیرتے  ان پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ  قدرت کے حسن کا شاہکار نظر آتے ہیں ۔


پاکستان  میں بدین کی     خوبصورت جھیل  ہو یا سانگھڑ شہر کی بقار جھیل ہو  اللہ کے بھیجے  ہوئے ان معصوم ننھے مہمانوں کا مسکن ہوتی ہے قدرتی حسن سے لطف اندوز ہونے کے لیے بہترین مقام ہے  کیونکہ  دور دیس سے آٗئے مہمانوں کا ان دنوں آشیانہ بھی تصور کی جاتی ہے جو سخت سردی سے بچنے کے لیے سائبیریا سمیت دیگر سرد علاقوں سے لاکھوں کی تعداد میں پاکستان اور بھارت کے علاقوں کا رخ کرتے ہیں اور پاکستان میں خصوصاً سندھ کی جھیلوں اور ممبئی کے ساحلوں کو اپنا مسکن بناتے ہیں۔سائیبیریا سے آئے یہ پرندے پاکستان کے ساحلی اور دریائی علاقوں   کو  ان رنگین خوبصورت آبی پرندوں کے دلفریب نظارے سرد موسم کو مزید نکھار دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سال کے 4 ماہ قیام کرنے والے سائبیرین پرندوں کا لوگ بے صبری سے انتظار کرتے ہیں۔ سندھ کے مقامی افراد جو ماحول دوست اور ہجرتی پرندوں کو نسل در نسل دیکھتے آرہے ہیں، وہ ان کی آمد سے بہت خوش ہوتے ہیں اور ان کو دل ہی دل میں خوش آمدید کہتے ہیں۔کہتے ہیں کہ پہلے سندھ میں جہاں جنگلات میں موجود ڈاکو سید ذات اور خواتین کو نہیں لوٹا کرتے تھے بالکل ویسے ہی یہاں کے باشندے موسم سرما میں آئے غیر ملکی پرندوں کو مہمان تصور کرتے ہوئے ان کا شکار نہیں کیا کرتے تھے۔

۔ ایک اندازے کے مطابق کراچی کے ساحل پر ہر سال موسم سرما کی آمد پر 179 سے زائد مہمان پرندے بسیرا کرتے ہیں۔پرندوں کی قیام گاہیں-عموماً ہم انہیں ’سائبیرین برڈ‘ یعنی سردی کے موسم میں سائبیریا سے ہجرت کرنے والے پرندے کہتے ہیں جو قدرے گرم علاقوں میں چند ماہ بسر کرتے ہیں۔ جب سردی اور برف جمنے کی وجہ سے دریاؤں اور جھیلوں کی مچھلیاں پانی کی تہ میں چلی جاتی ہیں اور ان پرندوں کو خوارک اور گرم ماحول کی ضرورت ہوتی ہے تب سرد ہوائیں شروع ہوتے ہی یہ پرندے جنوبی ایشیا بالخصوص پاکستان اور بھارت کے ساحلی علاقوں کا رخ کرتے ہیں-ٹھنڈے علاقوں کے ان پرندوں کو گرم ماحول کی ضرورت ہوتی ہےبدین سمیت دیگر علاقوں کی جھیلیں، نہریں، پانی کے قدرتی ذخائر اور کھیت کھلیان ہجرت کرکے آنے والے آبی پرندوں سے بھر جاتے ہیں۔پاکستان میں موسم سرما کے آغاز پر ہی جہاں روس، سائبیریا اور دیگر سرد مقامات سے آنے والے مہمانوں کی آمد شروع ہو جاتی ہے وہیں شکاری اور بیوپاری بھی سرگرم ہوجاتے ہیں۔


ایک رپورٹ کے مطابق ہر سال کراچی سمیت سندھ کے 8 سے زائد اضلاع خصوصاً بدین، سجاول، ٹھٹہ اور کراچی میں لاکھوں سائبیرین پرندے آتے ہیں جو سندھ کی 11 جھیلوں کے کنارے پڑاؤ ڈالتے ہیں۔ ضلع بدین کی ساحلی پٹی کے زیرو پوائنٹ، نریڑی جھیل، رامسر سائیٹ ہالیجی جھیل ٹھٹہ، گارھو جھیل، اسی طرح کراچی کے ساحلی علاقوں مبارک ولیج، ماڑی پور، ہاکس بے، ابراہیم حیدری سے ریڑھی گوٹھ کے ساحل تک اور ڈینگی اور بھنڈار سمیت دیگر جزائر میں بھی یہ ہجرت کرنے والے پرندے بڑی تعداد میں نظر آتے ہیں۔تاہم زیادہ تر پرندے ضلع سجاول کی جھیلوں میں اترتے ہیں۔ان پرندوں پر کام کرنے والے ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق گزشتہ 2 سالوں میں 220 اقسام کے 6 لاکھ سے زائد پرندوں نے پاکستانی علاقوں کا رخ کیا۔ تاہم موسمی حالات اور دنیا میں آتی دیگر تبدیلیوں کے باعث اب یہ تعداد وقت کے ساتھ ساتھ کم ہوتی جا رہی ہے جس کی ایک وجہ سندھ بھر میں بارشوں کی کمی اور خشک سالی بھی بتائی جارہی ہے۔ہجرت کے راستےیہ پرندے 3 ہزار میل سے زائد کا فاصلہ طے کرکےکرغزستان، افغانستان کے راستے جسے گرین روٹ یا انڈس فلائی وے بھی کہا جاتا ہے، پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں پہنچتے ہیں۔اور اپنا سرمائ  وقت گزار کر واپس اپنے مسکن چلے جاتے ہیں 

پیر، 1 دسمبر، 2025

شمس العلماء خان بہادر حافظ ڈپٹی مولوی نذیر احمد

 

شمس العلماء خان بہادر حافظ ڈپٹی مولوی نذیر احمد  ضلع بجنور کی تحصیل نگینہ کے ایک گاؤں ریہر میں پیدا ہوئے۔ ایک مشہور بزرگ شاہ عبد الغفور اعظم پوری کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے، لیکن آپ کے والد مولوی سعادت علی غریب آدمی تھے اور یو پی کے ضلع بجنور کے رہنے والے تھے۔شروع کی تعلیم والد صاحب سے حاصل کی۔ چودہ برس کے ہوئے تو دلی آ گئے اور یہاں اورنگ آبادی مسجد کے مدرسے میں داخل ہو گئے۔ مولوی عبدالخالق ان کے استاد تھے۔یہ وہ زمانہ تھا کہ مسلمانوں کی حالت اچھی نہ تھی۔ دہلی کے آس پاس برائے نام مغل بادشاہت قائم تھی۔ دینی مدرسوں کے طالب علم محلوں کے گھروں سے روٹیاں لا کر پیٹ بھرتے تھے اور تعلیم حاصل کرتے تھے۔ نذ یر احمد کو بھی یہی کچھ کرنا پڑتا تھا، بلکہ ان کے لیے تو ایک پریشانی یہ تھی کہ وہ جس گھر سے روٹی لاتے تھے اس میں ایک ایسی لڑکی رہتی تھی جو پہلے ان سے ہانڈی کے لیے مصالحہ یعنی مرچیں، دھنیا اور پیاز وغیرہ پسواتی تھی اور پھر روٹی دیتی تھی اور اگر کام کرتے ہوئے سُستی کرتے تھے تو ان کی انگلیوں پر سل کا بٹہ مارتی تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس لڑکی سے ان کی شادی ہوئی۔کچھ عرصہ بعد دلی کالج میں داخل ہوئے جہاں انھوں نے عربی، فلسفہ اور ریاضی کی تعلیم حاصل کی۔مولوی نذیر احمد نے اپنی زندگی کا آغاز ایک مدرس کی حیثیت سے کیا لیکن خداداد ذہانت اور انتھک کوششوں سے جلد ہی ترقی کرکے ڈپٹی انسپکٹر مدارس مقرر ہوئے۔

 مولوی صاحب نے انگریزی میں بھی خاصی استعداد پیدا کر لی اور انڈین پینل کوڈ کا ترجمہ (تعزیرات ہند) کے نام سے کیا جو سرکاری حلقوں میں بہت مقبول ہوا اور آج تک استعمال ہوتا ہے۔ اس کے صلے میں آپ کو تحصیلدار مقرر کیا گیا۔ پھر ڈپٹی کلکٹر ہو گئے۔ نظام دکن نے ان کی شہرت سن کر ان کی خدمات ریاست میں منتقل کرا لیں جہاں انھیں آٹھ سو روپے ماہوار پر افسر بندوبست مقرر کیا گیا۔ملازمت سے سبکدوش ہونے کے بعد مولوی صاحب نے اپنی زندگی تصنیف و تالف میں گزاری۔ اس علمی و ادبی میدان میں بھی حکومت نے انھیں 1897ء شمس العلماء کا خطاب دیا اور 1902ء میں ایڈنبرا یونیورسٹی نے ایل ایل ڈی کی اعزازی ڈگری دی۔ 1910ء میں پنجاب یونیورسٹی نے ڈی۔ او۔ ایل کی ڈگری عطا کی۔ شمس العلماء ڈپٹی نذیر احمد کی مشہور تصنیفات میں مراۃ العروس (جو ان کا پہلا اردو ناول ہے)، توبۃ النصوح، فسانۂ آزاد (جسے اردو کا پہلا طویل ناول بھی کہا جاتا ہے)، فائدہ العوام، اور نصائح عثمانیہ شامل ہیں۔ ان کی تصانیف زیادہ تر اصلاحی اور معاشرتی نوعیت کی ہیں، جن کا مقصد اردو معاشرے کی اصلاح تھا۔ مراۃ العروس: ڈپٹی نذیر احمد کا پہلا اردو ناول ہے جو 1869 میں شائع ہوا۔ یہ ناول مسلمان بچیوں کی اخلاقی اور خانہ داری کی اصلاح کے لیے لکھا گیا تھا۔توبۃ النصوح: یہ ناول بھی ایک اصلاحی ناول ہے جو مسلمانوں میں خاندانی اصلاحات کو نمایاں کرتا ہے۔

فسانۂ آزاد: اس طویل ناول میں 19 ویں صدی کے ہندوستان کی سماجی اور سیاسی زندگی کا تذکرہ ہے، جس میں معاشرتی اخلاقیات اور اصلاح پر زور دیا گیا ہے۔فائدہ العوام: یہ ایک اصلاحی کتاب ہے جو عام لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے لکھی گئی ہے۔نصائح عثمانیہ: یہ کتاب اصلاحی اور اخلاقی نصیحتوں پر مشتمل ہے۔اردو زبان کی ترویج: ڈپٹی نذیر احمد نے اردو زبان کے فروغ کے لیے بھی کام کیا ہے، جس میں کئی اصلاحی اور اخلاقی نظریات پر مبنی کتب بھی شامل ہیں۔دو بہنوں کی عادات و اطوار پر مبنی اس ناول نے گویا ناول نگاری کا دھارا ہی بدل کر رکھ دیا ’مراۃ العروس‘‘ کے ذریعے قارئین، ناولز میں پہلی مرتبہ ایسے کرداروں سے آشنا ہوئے کہ جن کی اچھی، بُری صفات اُس سماج سے کشید کی گئی تھیں کہ جن کا وہ خود حصّہ تھے۔ اس ناول میں وہ داستان پیش کی گئی ، جو اُس زمانے میں گھر گھر کی کہانی تھی۔ یوں ایک قلم کار نے سماجی تخلیق کار کا رُوپ اختیار کیا اور یہ قلم کار، ڈپٹی نذیر احمد تھے۔ علی عبّاس حسینی نے ’’اُردو ناول کی تاریخ اور تنقید‘‘ میں تحریر کیا ہے کہ ’’ڈپٹی نذیر احمد کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ انہوں نے اُن تمام قصّوں میں ہماری معاشرتی زندگی کی بالکل سچّی تصویر کشی کی ہے۔ انہوں نے جن، پری، بُھوت پریت اور جادو طلسم جیسے غیر انسانی عناصر ترک کر کے اپنے گرد و پیش کے لوگوں اور اپنی ہی طرح کے معمولی انسانوں کے حالات بیان کیے ہیں۔‘‘ ’’مراۃ العروس‘‘اپنی اوّلین اشاعت کے بعد سےاب تک مسلسل شایع ہونے کے اعزاز کی حامل کتاب بھی ہے۔ 

1877ءمیں انہوں نے حیدر آباد، دکن کا رُخ کیا۔ وہاں کی علم دوست حکومت نے اُن کی صلاحیتوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اُن کی تن خواہ 850روپے ماہ وار مقرّر کی، جو کچھ ہی عرصے میں بڑھ کر 1700روپے ماہ وار ہو گئی۔ یہاں دیگر علمی اُمور کے علاوہ ڈپٹی نذیر احمد نے حفظِ قرآن کی طرف بھی توجّہ دی اور محض چھے ماہ کے اندر حافظِ قرآن ہوگئے۔ بعد ازاں، ’’فسانۂ مبتلا‘‘(1885ء ) اور ’’ابن الوقت‘‘ (1888ء ) شائقین ِ ادب کے سامنے آئیں اور انہیں بھی پسندیدگی کی سند ملی۔ ڈپٹی نذیر احمد ایک کثیر التصانیف مصنّف تھے ۔ اُن کی دیگر کُتب میں ’ایّامیٰ‘‘، ’’رویائے صادقہ‘‘، ’’منتخب الحکایات‘‘،’’اُمّہات الامّہ‘‘ کے علاوہ بہت سی اخلاقی، دینی اور مذہبی کُتب شامل ہیں۔ڈپٹی نذیر احمد نے اپنی زندگی متوسّط طبقے کے ایک فرد کی حیثیت سے بسر کی اور اُن کی تحریروں میں بھی دِلّی کا متوسّط طبقہ واضح طور پر جھلکتا محسوس کیا جا سکتا ہے۔ اُن کے ناولز میں ہونے والی گفتگو، بالخصوص وہ مکالمے، جن میں خواتین کی زبان، محاورے اور ضرب الامثال شامل ہیں، بِلاشُبہ اپنی مثال آپ ہیں۔ اپنے قلم کے ذریعے اصلاحِ معاشرہ اُن کا بنیادی مقصد تھا اور اُنہوں نے شاید اپنے اس مقصد سے ایک لمحہ بھی رُوگردانی نہیں کی۔ تاہم، کمال یہ کیا کہ اپنے ارد گرد کی فضا کو اپنے مشاہدے اور مکالمے سے تبدیل کرنے کی شعوری کوشش کی

جارجیا کی سب سے حیرت انگیز مثال پولیس کا مکمل خاتمہ تھی

  

جارجیا کی سب سے حیرت انگیز مثال پولیس کا مکمل خاتمہ تھی  اور  انتہائی حیران کن پہلو یہ تھا کہ انہوں نے پورے کے پورے اداروں کو مکمل طور پر ختم کر کے نئے سرے سے بنایا۔سب سے حیرت انگیز مثال پولیس کا مکمل خاتمہ تھی۔2004 سے پہلے جارجیا کی پولیس کرپشن میں اتنی ڈوبی ہوئی تھی کہ ہر چھوٹے بڑے کام کے لیے رشوت لازمی تھی عوام پولیس سے خوفزدہ رہتی تھی پولیس خود مجرموں کے ساتھ ملی ہوئی تھی-نئی حکومت نے کیا کیا؟ایک رات کے اندر پوری کی پوری پولیس فورس برطرف کر دی-یہ قدم انتہائی حیران کن تھا۔ایک رات میں سب کے سب پولیس اہلکاروں کی جگہ    نئے اہلکاروں نے کام سنبھال لیانئی پولیس کے لیے ایک بھی پرانا اہلکار نہیں رکھا گیا-صرف ایک سال کے اندر کرپشن 90% تک کم  ہو گئی عوام کا پولیس پر اعتماد مکمل بحال ہو گیا-جرائم کی شرح میں تیز ترین کمی آئی-یہ دنیا بھر میں اصلاحات کی تاریخ کا سب سے بڑا اور جرات مندانہ تجربہ تھا۔ کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ پورے کا پورا ادارہ ختم کر کے نئے سرے سے بنایا جا سکتا ہے۔جارجیا نے ثابت کیا کہ کبھی کبھی مرمت سے کام نہیں چلتا، بلکہ پورا ڈھانچہ ہی توڑ کر نیا بنانا پڑتا ہے۔


 ہسپتال میں ڈاکٹر کو دیکھنے کے لیے، سکول میں داخلے کے لیے، یہاں تک کہ پولیس سے بچنے کے لیے بھی رشوت دینی پڑتی تھی۔ ملک کی معیشت بری حالت میں تھی۔سنہ 2004 میں میخائل ساکاشویلی حکومت میں آئے اور انہوں نے فوری طور پر تین بڑے کام کیے-پہلا، پولیس کا نظام مکمل طور پر بدلا۔ پرانی پولیس کو برطرف کیا گیا۔ نئی پولیس بھرتی کی گئی۔ نئے اہلکاروں مقرر کیے  گئے، انہیں نئی وردیاں دی گئیں، اور ان کے رویے کی تربیت دی گئی۔ صرف چند ہفتوں میں عوام نے محسوس کیا کہ پولیس اب مددگار ہے، ڈراؤنی نہیں۔دوسرا، سرکاری دفاتر سے  کرپشن ختم کی گئی۔ سادہ اور شفاف نظام بنائے گئے۔ مثال کے طور پر، ٹریفک کے ٹکٹوں کی ادائیگی آن لائن ہونے لگی تاکہ ڈرائیور اور ٹریفک پولیس کے درمیان براہ راست رقم کا لین دین ختم ہو۔تیسرا، انتہائی سخت احتساب نافذ کیا گیا۔ کرپٹ اہلکاروں کو پکڑا گیا، ان کے خلاف تیزی سے مقدمے چلائے گئے، اور انہیں سزائیں دی گئیں۔ اس سے عوام کو اعتماد آیا کہ واقعی بدلاؤ ہو رہا ہے۔نتائج حیرت انگیز تھے۔ عالمی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق، صرف 1 سال میں کرپشن میں 90 فیصد تک کمی آئی۔ عوام کا سرکاری اداروں پر اعتماد بڑھا۔


بیرون ملک سے سرمایہ کاری آنے لگی۔آج جارجیا یورپ کرپشن سے پاک ممالک میں شمار ہوتا ہے۔· جارجیا حکومت ثابت کرتی ہے کہ غریب اور کرپٹ ملک بھی مختصر وقت میں اپنی تقدیر بدل سکتے ہیں، بشرطیکہ حکومت اور عوام مل کر اصلاحات کے لیے پرعزم ہوں۔سنگاپور کا احتسابی نظام دنیا بھر میں ایک مثال سمجھا جاتا ہے۔ یہ نظام سادہ لیکن بہت سخت اصولوں پر کام کرتا ہے۔سنہ 1965 میں آزادی کے بعد سے ہی سنگاپور نے فیصلہ کیا کہ ملک کو ترقی کے لیے شفافیت اور ایمانداری کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے انہوں نے کئی اہم اقدامات کیے۔سب سے پہلے، انہوں نے ملک میں موجود ہر شخص کے لیے یکساں قوانین بنائے۔ چاہے وہ عام شہری ہو یا وزیر اعظم، سب کے لیے ایک ہی قانون ہے۔ اس سے یہ یقینی بنایا گیا کہ طاقتور لوگ بھی قانون سے بالاتر نہیں ہیں۔دوسرا اہم قدم کرپشن سے نمٹنے کے لیے ایک مضبوط ادارہ بنایا گیا جس کا نام ہے کرپشن پریکٹیشنز انویسٹیگیشن بیورو (CPIB)۔ یہ ادارہ براہ راست وزیر اعظم کے دفتر کے تحت کام کرتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ اسے کسی دباؤ کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ CPIB کو کسی بھی شخص کے خلاف تحقیقات کرنے کا اختیار حاصل ہے، چاہے وہ ملک کا سب سے بڑا افسر ہی کیوں نہ ہو


۔تیسری بات، سرکاری ملازمین پر توجہ دی   اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر لوگ محفوظ ہوں گے تو رشوت لینے کا امکان نہیں ہوتا۔چوتھا پہلو یہ ہے کہ یہاں سزائیں بہت سخت ہیں۔ کرپشن کے جرم میں پکڑے جانے والے افراد کو نہ صرف لمبی قید کی سزا ہو سکتی ہے، بلکہ انہیں بھاری جرمانے بھی ادا کرنے پڑتے ہیں۔ رشوت لینے والے افسر کو نہ صرف نوکری سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے، بلکہ اسے مستقبل میں کوئی سرکاری کام بھی نہیں مل سکتا۔پانچواں، یہاں کے عدالتی نظام کو مکمل آزادی حاصل ہے۔ عدالتیں بلا خوف و خطر فیصلے کرتی ہوں، چاہے مقدمہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو۔ اس سے عوام کا اعتماد بڑھا ہے۔اس نظام کی کامیابی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے بین الاقوامی تنظیم ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے مطابق، سنگاپور کرپشن کے خلاف   ایشیا کا سب سے کامیاب ملک ہے۔احتساب کے لیے مضبوط ادارے، یکساں قوانین، آزاد عدلیہ، اور عوام کی بھرپور شرکت ضروری ہے۔ جب تک یہ تمام عناصر اکٹھے نہیں ہوں گے، تب تک کسی ملک میں احتساب کا حقیقی نظام قائم نہیں ہو سکتا ہے

اتوار، 30 نومبر، 2025

اجنٹا کے غار -عجوبہءروزگار

 جنوبی ہند کے غار، جو قدیم زمانے کے انتہائ ماہر کاریگروں نے پہاڑ تراش کر بنائے تھے۔ دراصل یہ حیدرآباد دکن کے نزدیک اورنگ آباد سے تیرہ میل شمال مغرب کی جانب واقع ہیں۔ ان کا زمانہ پانچویں سے دسویں صدی عیسوی خیال کیاجاتا ہے اور یہ 4\1 مربع میل علاقے میں پھیلے ہوئے ہیں۔ کل غار یا عمارتیں چونتیس ہیں۔ ان میں بدھ مت کی بارہ۔ برہمنوں کی سترہ اور جینیوں کی پانچ ہیں۔پہاڑ کی جن چٹانوں کو تراش کر یہ غار بنائے گئے ہں۔ وہ خشک پہاڑ ہیں۔ ان غاروں کی ترتیب اور تراش میں معماروں نے کمال دکھایا ہے۔ چٹانوں کو کاٹ کر دو منزلہ اور سہ منزلہ عمارتیں تیار کی گئی ہیں۔ ایک ہی چٹان سے دو منزلہ اور سہ منزلہ عمارت کے چھت ،پیلپائے، دلان، حجرے، سیڑھیاں اور دیواروں کے ساتھ ساتھ بڑے بڑے بت بنانا آسان کام نہیں۔ ان سنگ تراشوں کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ انھوں نے نہایت کامیابی کے ساتھ یہ اندازہ کر لیا کہ چٹان میں وہ عمارت کھودنے والے ہیں وہ اندر سے ٹھوس اور دراڑ کے بغیر ہےن عمارتوں کے کمرے بھی اس قدر وسیع ہیں کہ ان میں ایک ہزار سے زیادہ آدمی ایک ساتھ بیٹھ سکتے ہیں۔


تمام عمارتوں میں دو طرفہ زینے تراشے گئے ہیں جن پر چار رپانچ آدمی بیک وقت ایک ساتھ چڑھ سکتے ہیں۔ اسی سے باقی عمارتوں کی وسعت اور عظمت کا اندازہ ہو سکتا ہے۔ ان میں ہوا اور روشنی کا بھی انتظام تھا۔ صرف چند کمرے ایسے ہیں جنھیں تاریک کہا جا سکتا ہے۔ان غاروں میں بے شمار تراشیدہ بت ہیں جن کی ساخت بتاتی ہے کہ اس زمانے کے سنگ تراش اپنے فن میں کس قدر ماہر تھے۔ بعض بت بہت بڑے لیکن طبعی تناسب کے لحاظ سے کاریگری کے بہترین نمونے ہیں۔ سب سے زیادہ بت بدھ،مہادیو اور پاربتی کے ہیں۔ مشہور ہے کہ مہادیو سب سے پہلے انھی پہاڑیوں پر ظاہر ہوئے تھے اور اپنی بیوی پاربتی کے ساتھ یہاں رہا کرتے تھے۔ماہرین آثار قدیمہ کا خیال ہے کہ ایلورا کی عمارتیں کسی ایک زمانے میں تعمیر نہیں ہوئیں بلکہ مختلف زمانوں میں ایک طویل عرصے یعنی صدیوں کی محنت اور صبر و استقلال کا نتیجہ ہیں۔یہ غار دنیا بھر کے سیاحوں کی دلچسپی کاباعث ہیں ا جنتا کے غاروں کی نقاشی کا سب سے بڑا راز ان کی خطوط کشی ہے۔ خطوط کا جتنا نظر نواز استعمال اجنتا کی نقاشی میں پایا جاتا ہے اس کی مثال کسی اور جگہ نہیں ملتی ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تصویریں ابھی بول پڑیں گی۔کنول کے پھول کو اجنتا کی مصوری میں ہر موقع پر کام میں لایا گيا ہے اور کنول کی یہ امتیازی شان ہمیں کہیں اور نظر نہیں آتی


عورت کی عظمت کو اجنتا کی نقاشی میں نمایاں مقام دیا گيا ہے جس سے ان دور میں عورت کے مرتبے کی نشاندہی ہوتی ہے۔ہاتھی کی تصویر کشی بھی اجنتا کی مصوری کا موضوع ہے۔ ڈیزائن سازی میں غاروں کے نقاش اپنا جواب نہیں رکھتے۔ دیوی دیوتاؤں، چرند و پرند اور انسانوں سے لے کر پھولوں کومنقش کیا ہے سنہ 1822 میں ایک دوسرے شخص ولیم آئیکسن نے ان غاروں پر مبنی ایک مقالہ پڑھا اور صدیوں سے دنیا کی نظروں سے اوجھل ان غاروں کو زندہ جاوید کر دیا۔ بہت جلد یہ غار اپنی نقاشی اور سنگ تراشی کے بہترین نمونوں کی وجہ سے نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا بھر میں مشہور ہوئے اور دنیا بھر سے نامور نقاش اور سنگ تراش انھیں دیکھنے آنے لگے۔ دھیرے دھیرے یہ غار سیاحوں کا پسندیدہ مرکز بن گئے۔جب اورنگ آباد کا علاقہ ریاست حیدرآباد کا حصہ بنا تو نظام نے ان غاروں کی تجدید پر توجہ دی اور سنہ 1920 میں غاروں کو میوزیم کی شکل دی، آمد و رفت کے ذرائع فراہم کیے اور داخلے کی فیس مقرر کر دی۔ آج بھی لوگ جوق در جوق ان غاروں کو دیکھنے آتے ہیں۔عالمی ادارے یونیسکو کا کہنا ہے کہ یہ 30 غاروں کا یہ مجموعہ مختلف زمانے میں بنا ہے۔


پہلا مجموعہ قبل مسیح کا ہے تو دوسرا مجموعہ بعد از مسیح کا ہے۔ الغرض اجنتا کے ان غاروں کی نقاشی قابل دید ہے جو تیز رنگوں سے بنائی گئی ہے اور تصویریں ہوش ربا منظر پیش کرتی ہیں۔ نقاشی میں استعمال کیے جانے والے رنگی بیشتر، سرخ، زرد، بھورے، کالے یا سفید ہیں۔ لاجورد اور زرد رنگ کی آمیزش سے سبز رنگ تیار کیا گيا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ کسی بھی رنگ کو نقاشی میں دوبارہ استعمال نہیں کیا گيا ہے۔ان غاروں میں مہاتما بدھ کے آثارو احوال کو پیش کیا گيا ہےیہ غار مہاتما بدھ کے آثار کا آئینہ ہیں اور بودھ مت کی مختلف کہانیوں کے عکاس ہیں۔ اس کے ذریعے بودھ مت کی تاریخی اور تہذیبی عظمت کے ساتھ مصوری کی ارتقائي صورت بھی نظروں کے سامنے آ جاتی ہے۔ ان کی ساخت، چہروں پر چھائے جذبات، حرکات و سکنات کے دلفریب انداز ایسا منظر پیش کرتے ہیں کہ جن کا تصور برسوں تک دماغ سے محو نہیں ہوتا۔ا۔اس کی نرم و نازک پنکھڑیوں سے لے کر ڈنٹھل تک کی نقاشی میں وہ مہارت ہے کہ اصل کا دھوکہ ہوتا ہے۔

ہفتہ، 29 نومبر، 2025

نتھیاگلی پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کا ایک تفریحی مقام ہے

 

نتھیاگلی پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کا ایک  تفریحی مقام ہے - یہ 2501 میٹر کی بلندی پر زیریں ہمالیائی خطے میں واقع ہے، نتھیا گلی اپنے خوب صورت مناظر، ہائکنگ ٹریکس کے لیے مشہور ہے یہ پر فضا سیاحتی مقام ہے جو ضلع ایبٹ آباد میں مری کو ایبٹ آباد سے ملانے والی سڑک پر 8200 فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ اسلام آباد سے اس کا فاصلہ 80 کلومیٹر ہے۔نتھیاگلی می گرمیوں میں موسم نہایت خوشگوار ہوتا ہے۔ جولائی اور اگست کے مہینوں میں یہاں تقریباً روزانہ بارش ہوتی ہے۔ سردیوں میں یہاں شدید سردی اور دسمبر اور جنوری کے مہینوں میں شدید برف باری ہوتی ہے۔یہاں گورنر ہاؤس، سیاحوں کے لیے قیام گاہیں اور آرام گاہیں واقع ہیں۔ قصبہ میں کچھھ دوکانیں اور تھوڑی بہت آبادی بھی ہے۔ گرمیوں میں یہاں سیاحوں کا رش ہوتا ہے اور قیام گاہوں اور آرام گاہوں کے کرائے بہت زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔کوہ مکشپوری اور کوہ میرانجانی قریب ہی واقع ہیں۔

1

نتھیا گلی کے لالہ زار پارک میں سندر نامی تیندوا پنجرے میں قید تو ہے لیکن برفانی موسم کا لطف بھی اٹھا رہا ہے۔ تیندوا- بارہ دسمبر کو پاکستان کے شمالی علاقے گلیات کے پہاڑوں پر پڑنے والی معمولی برف باری نے سرد موسم کی شدت میں اضافہ کردیا تھا۔ ایسے میں نتھیاگلی کے لالہ زار پارک میں ایک پنجرے میں بند برفانی تیندوا بھی برفباری کا لطف اٹھا رہا تھا۔تیندوابرفانی تیندوا جس کو سندر کا نام دیا گیا ہے اپنے رکھوالے سردار امانت کے اشارے سمجھتا ہے۔ رکھوالا جب پنجرے کے ساتھ دوڑتا تو وہ بھی اس کے ساتھ ہی دوڑ پڑتا۔تیندواسردار امانت نے بتایا کہ سندر ان کے پاس گزشتہ چھ سال سے ہے۔ جب یہ ان کے پاس لایا گیا تو اس کی عمرچھ ماہ کے لگ بھگ تھی۔گلیات-سردار امانت نے بتایا کہ ہر سال جب گلیات میں برفباری سے راستے بند ہونے کا وقت قریب آتا ہے تو وہ سندر کو ایبٹ آباد کے جنگلی حیات کے دفتر میں منتقل کردیتے ہیں اور پھر مارچ کو اس کو واپس لے آتے ہیں۔

2

 انھوں نے کہا کہ اب برفباری شروع ہوچکی ہے اس لیے اس کو منتقل کرنا ناگزیر ہے کیونکہ بعد میں راستے بند ہونے کی وجہ سے اس کو خوراک اور پانی فراہم نہیں کیا جاسکتا۔ٹریپ پنجرہ سندر کو منتقل کرنے کے لیے اس کے ٹریپ پنجرے میں خوراک کا انتظام کیا جاتا ہے اور جب وہ بھوکا ہو تو ٹریپ ہو ہی جاتا ہے۔ٹریپ پنجرہ-اس کوشش میں کئی گھنٹے لگ گئے، جب بھی سندر ٹریپ پنجرے کی طرف آنے لگتا کوئی نہ کوئی سیاح آ جاتا اور سندر بِدک جاتا۔سندر بند کمرے میں رہنے کے بجائے کھلی کھلے پنجرے میں برف میمُشکپوری 2800 میٹر / 9100 فٹ بلند پہاڈی جو نتھیاگلی،پاکستان میں واقع ہے۔ درختوں میں گھری یہ چوٹی سیاحوں کی دلچسپی کا مرکز ہے۔ اسلام آباد سے 90 کلومیٹر اور نتھیاگلی سے 4 کلومیٹر دور یہ پہاڈی ہندووں کے نزدیک مقدس ہے۔مُشکپوری (مکشپوری) سنسکرت زبان کا لفظ ہے۔ اس کا مطلب ہے نجات کی جگہ۔

3

 مکش(امن/نجات) + پوری(جگہ)۔ھندو روایات کے مطابق رام کی لنکا جنوبی ہندوستان کے روان کے ساتھ جنگ کے دوران اس کا بھائی لکشمن زخمی ہو جاتا ہے۔ اس کا علاج ایسی جڑی بوٹی سے ہی ممکن تھا جو صرف مُشکپوری پر پائی جاتی تھی۔ چنانچہ ہنومان یعنی بندر دیوتا پورے مُشکپوری پہاڑ کو اٹھا کر جنوبی ہند لے جاتا ہے۔ جہاں وید اس بوٹی کو ڈھونڈ کر کر لکشمن کا علاج کر دیتا ہے اور ہنومان پہاڑ کو واپس لے آتا ہے۔ اس لیے یہ پہاڑ ھندوؤں کے نزدیک مقدس ہے۔ بھارت کے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو پاکستان آئے تھے اور اس پہاڑ کی خاطر نتھیاگلی گئے تھے۔ اکثر بھارتی وفد اس پہاڑ کی خاطر نتھیاگلی ٹہرے ہیں اور انھیں نے وہاں تحفتا بندر بھی چھوڑے ہیں ہ ایک خوبصورت تو ہماتی کہانی تو ہو سکتی ہے اور کچھ بھی نہیں۔ مُشکپوری خوبصورت اور سرسبز پہاڑ ہے انسان وہاں پہنچ کر سکوں اور راحت محسوس کرتا ہے۔ اس کی چوٹی پر جگہ بھی زیادہ ہے اور وہاں کا منظر انتہائی دلکش ہے اس لیے ہزاروں سال سے انسان اسے پسند کرتا آیا ہے اور پنڈت اور مزہبی لوگ ہمیشہ اونچی جگہوں کو پسند کرتے ہیں۔ پنڈت علاج معالجہ بھی کرتے تھے

4

 ا


ور ایسی جگہوں پر ہمیشہ فائدہ مند جڑی بوٹیوں کو بھی اگاتے تھے جیسا کہ ٹلہ جوگیاں پر بھی رواج تھا۔ بیماروں کو شفا تو مل گئی مگر اس طرح کی مزہبی کہانیاں بھی وجود میں آئيں اور مزہبی کہانیوں کی تفتیش کرنا ہر مذہب میں ویسے بھی بڑا رسک ہے۔15 فروری سے 15 ستمبر مُشکپوری سیر کے لیے بہترین ہے۔ 15 مارچ تک اس پر برف ہوتی ہے۔ یورپی یونین نے اس پہاڑ پر جنگلی پرندوں کے تحفظ اور افزآئش نسل کے لیے ایک مخصوص جگہ پر باڑ اور اس کے اندر پرندوں کے گھر بنائے ہیں۔ نتھیاگلی سے مُشکپوری چوٹی تک قریبا 2 گھنٹے لگتے ہیں۔ راستہ درختوں ميں گرا ہوا ہے اور خوبصورت ہے آہستہ آہستہ اوپر بلند ہوتا ہے۔ چوٹی کی طرف سے ڈونگا گلی کی طرف محض آدھے گھنٹے میں اتر سکتے ہیں لیکن ادھر سے اترائی اور چڑھائی دونوں مشکل ہیں۔ مُشکپوری کی برف اور چشموں کے پانی کو ڈونگا گلی میں ایک بہت بڑے ٹینک میں محفوظ کیا جاتا ہے اور پھر اس پانی کو پائپ کے ذریعے مری پہنچایا جاتا ہے۔اگر سیاح کے پاس خیمہ ہو تو مُشکپوری کے اوپر ایک خوبصورت رات گزاری جا سکتی ہے۔ آلودگی سے پاک ہونے کی وجہ سے مُشکپوری کے اوپر آسمان انتہائی صاف ہوتا ہے۔ ستارے بالکل قریب دکھائی دیتے ہیں۔ مری بہت نیچے محسوس ہوتی ہے اور دور اسلام آباد اپنی لکیر دار پیلی روشنیوں میں کھویا نظر آتا ہے۔ مُشکپوری پہ صبح زندگی کا خوشگوار ترین تجربہ ہے۔مُشکپوری کے اوپر درختوں، بیلوں، پھولوں، جھاڑیوں، پرندوں، جانوروں اورکیڑے مکوڑوں کی کئی قسمیں پائی جاتی ہیں

بیکانیر کی کوئل -ریشماں

 

محض بارہ برس کی معصوم بہن دیکھ رہی تھی کہ اس کے بھائ کا جہاں بھی رشتہ ہوتا ہے کسی ناکسی بہانے سے ختم ہو جاتا ہے پہلے تو وہ دل گرفتہ ہوئ پھر اس نے منت مانی کہ وہ حضرت لال شہباز قلندر کے مزار پر منقبت گائے گی -اب بھلا اللہ میاں اس معصوم بہن کی خواہش کو پورا کیوں ناکرتا چنانچہ بھائکی شادی خیرو خوبی سے انجام پائ اور ریشماں کراچی سے سفر کر کے حضرت لال شہبازقلندر کے مزار پر پہنچی مزار پر اس کی تقدیر کا تالہ کھولنے کے لئے ریڈیو کے ایک پروڈیوسر سلیم گیلانی بھی آئے ہوئے تھے 'گوہر شناس جوہری نے ہیرے کو پہچان لیا جب انہوں نے ننھی ریشماں کو گاتے ہوئے سنا، اور اس طرح بارہ سال کی عمر میں ریشماں کو ریڈیو پاکستان پر آواز کا جادو جگانے کا موقع ملا۔ گلِ صحرائی اور لمبی جدائی، معروف لوک گلوکارہ ریشماں راجستھان میں پیدا ہو ئ برصغیر کی تقسیم کے بعد ان کا خاندان ہجرت کر کے کراچی منتقل ہوگیا، خانہ بدوش خاندان سے تعلق رکھنے والی ریشماں نے کم عمری میں ہی صوفیانہ کلام گانا شروع کر دیا۔ ریشماں نے کلاسیکی موسیقی کی کوئی تربیت حاصل نہیں کی،1960ء کی دہائی میں پاکستان ٹیلی ویژن کی بنیاد رکھی گئی تو ریشماں نے ٹی وی کیلئے گانا شروع کر دیا، انہوں نے پاکستانی فلموں کیلئے متعدد گیت گائے اور خوب شہرت سمیٹی، ریشماں کی مقبولیت سرحد پار بھی پہنچی اور بالی ووڈ میں یہ سحر انگیز آواز گونجی۔ معروف فوک گلوکارہ کے مشہور گیتوں میں ’’سُن چرخے دی مِٹھی مِٹھی کُوک‘‘، ’’وے میں چوری چوری‘‘، ’’اکھیاں نوں رین دے اکھیاں دے کول کول‘‘، ’’ہائے ربا نیئوں لگدا دِل میرا‘‘، ’’عاشقاں دی گلی وچ مقام دے گیا‘‘ شامل ہیں۔ریشماں کو ستارہ امتیازاور لیجنڈز آف پاکستان کے اعزاز سے بھی نوازا گیاریشماں نے گائیکی کی کوئی باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ ان کی عمر بارہ برس تھی جب ریڈیو کے ایک پروڈیوسر سلیم گیلانی نے شہباز قلندر کے مزار پر انہیں گاتے ہوئے سنا اور انہیں ریڈیو پر گانے کا موقع دیا۔ اس وقت انہوں نے ’لال میری‘ گیت گایا جو بہت مشہور ہوا۔ سلیم گیلانی بعد ازاں ریڈیو پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل بھی بنے۔دھیرے دھیرے ریشماں پاکستان کی مقبول ترین فوک سنگر بن گیئں۔ 1960ء کی دہائی میں پاکستان ٹیلی وژن کی بنیاد رکھی گئی تو ریشماں نے ٹی وی کے لیے بھی گانا شروع کر دیا۔ انہوں نے پاکستانی فلموں کے لیے بھی متعدد گیت گائے۔ ان کی آواز سرحد پار بھی سنی جانے لگی۔ معروف بھارتی ہدایت کار سبھاش گھئی نے ان کی آواز اپنی ایک فلم میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا۔ یوں ریشماں نے ان کی فلم ’ہیرو‘ کے لیے ’لمبی جدائی‘ گایا جو آج بھی سرحد کے دونوں جانب انتہائی مقبول ہے۔ 1983ء کی اس فلم کو آج بھی ریشماں کے اس گانے کی وجہ سے ہی جانا جاتا ہے۔ ریشماں کے کچھ دیگر مقبول گیتوں میں’سُن چرخے دی مِٹھی مِٹھی کُوک ماہیا مینوں یاد آؤندا‘، ’وے میں چوری چوری‘، ’دما دم مست قلندر‘، ’انکھیاں نوں رین دے انکھیاں دے کول کول‘ اور ’ہائے ربا نیئوں لگدا دِل میرا‘ شامل ہیں۔انہیں پاکستان میں متعدد ایوارڈز سے نوازا گیا۔ انہیں ستارہ امیتاز اور ’لیجنڈز آف پاکستان کا اعزاز بھی دیا گیا تھا۔ ’ گزشتہ دہائیوں میں ان سے ملاقات اور ان کے گانے سننے کو یاد کر رہی ہوں۔ ان کی آواز پُردرد تھی اور درد ہی گیت بن گیا۔یہ الفاظ ایک بھارتی فنکار کے ہیں ‘‘ ۔ ان کا تعلق راجستھان کے علاقے بیکانیر سے تھا۔ برصغیر کی تقسیم کے بعد ان کا خاندان ہجرت کر کے کراچی منتقل ہو گیا تھا۔ انہوں نے سوگواروں میں بیٹا عمیر اور بیٹی خدیجہ چھوڑی ہے۔ڈی ڈبلیو کے ساتھ اپنے ایک انٹرویو میں اُنہوں نے اپنے اس بیٹے کا نام ’ساون‘ بتایا تھا ا ور کہا تھا کہ وہ اُسے اس لیے ساون کہتی تھیں کیونکہ وہ ساون کے مہینے میں پیدا ہوا تھامعروف فوک گلوکارہ ریشماں کو مداحوں سے بچھڑے 12 برس بیت گئے،

جمعہ، 28 نومبر، 2025

ریاض الرحمان ساغر ٍ-سُروں کے بادشاہ

 

شاعر ریاض الرحمان ساغر یکم دسمبر، 1941ء کو مولوی محمد عظیم اور صدیقاں بی بی کے ہاں بھٹنڈہ، ریاست پٹیالہ، صوبہ پنجاب   میں پیدا ہوئے۔ 1947ء میں تقسیم ہند کے وقت ان کے خاندان نے پاکستان کی طرف ہجرت کی، راستے میں قافلے پر شرپسندوں کے حملے کے دوران ان کے والد جاں بحق ہو گئے۔ مزید یہ ان کا دو سال کا چھوٹا بھائی بھی دورانِ سفر بھوک اور پیاس کی وجہ سے انتقال کر گیا۔ ریاض الرحمان اور ان کی والدہ لٹے پٹے قافلے کے ہمراہ والٹن کیمپ میں پہنچے، یہاں سے ملتان چلے گئے۔ ریاض الرحمان کی والدہ نے محنت مشقت کر کے اپنے بیٹے کو تعلیم دلوائی۔ انھوں نے ملت ہائی اسکول ملتان سے میٹرک اور ایمرسن کالج سے بی اے کیا۔ ریاض الرحمان نے نویں کلاس میں ایک انگلش نظم کا بہترین اردو ترجمہ کیا تو ان کے ٹیچر ساغر علی نے ان کی شاعرانہ صلاحیتوں کی بہت تعریف کی اور پوری کلاس کے سامنے بھرپور حوصلہ افزائی کی۔


اپنے استاد کی جانب  یہ حوصلہ افزائ ریاض الرحمان کو اتنی اچھی لگی کہ انہوں نے اپنا تخلص اپنے استاد کے نام سے منسوب کر لیا -اور اسی دور میں استاد شعرأ کے کلام کا مطالعہ بھی شروع کر دیا۔ یوں کالج پہنچنے تک ساغر کو قدیم و جدید شعرأ کے سینکڑوں اشعار زبانی یاد ہو چکے تھے۔ ایمرسن کالج ملتان میں سیکنڈ ائیر میں طالب علموں کو جوش ملیح آبادی اور فیض احمد فیض کی انقلابی شاعری سنانے پر کالج سے نکال دیا گیا جن میں ریاض الرحمان بھی شامل تھے۔ 1956ء میں لاہور آ کر  فیض صاحب سے ملاقات کی اور انھیں اپنا احوال زندگی گوش گزار کیا، چنانچہ فیض صاحب نےشفقت فرماتے ہوئے نوکری پر رکھ لیا، لیکن کچھ عرصہ بعد روزنامہ نوائے وقت میں روزگار کا سلسلہ شروع ہو گیا جو آخری دم تک جاری رہا۔اسی دوران فلمی دنیا سے وابستگی ہوئ-اور اس طرح معروف شاعر اور نغمہ نگار قتیل شفائی کے ساتھ ان کی دوستی ہو گئی جنھوں نے ریاض الرحمان کا بھرپور ساتھ دیا۔ فلم 'شریک حیات' کے لیے لکھا ہوا نغمہ 'میرے دل کے صنم خانے میں اک تصویر ایسی ہے' ریاض الرحمان کے لیے کامیابی کا زینہ ثابت ہوا۔

 اس کے بعد فلم 'سماج' کے نغمے 'چلو کہیں دور یہ سماج چھوڑ دیں دنیا کے رسم و رواج توڑ دیں' نے ریاض الرحمان کے لیے کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیے۔ ریاض الرحمٰن ساغر نے فلم، ریڈیو پاکستان، ٹی وی کے لیے تین ہزار کے قریب نغمے تخلیق کیے جنہیں مہدی حسن، نورجہاں، عدنان سمیع، احمد رشدی، مالا، مسعود رانا، استاد نصرت فتح علی خان، حامد علی خاں، اے نیئر، وارث بیگ، انور رفیع، رونالیلیٰ، حمیرا ارشد، حمیرا چنا، ناہید اختر، تصور خانم، ثریا خانم، نصیبو لال سمیت دیگر نمایاں گلوکاروں نے گایا۔
ان کے تخلیق کردہ مقبول نغموں میں 'ذرا ڈھولکی بجاؤ گوریو'، 'بھیگا ہوا موسم پیارا'، 'تیری اونچی شان ہے مولا'، 'کبھی تو نظر ملاؤ'، 'بھیگی بھیگی راتوں میں'، 'تیرے سنگ رہنے کی کھائی ہے قسم'، 'چلو کہیں دور یہ سماج چھوڑ دیں'، 'کچھ دیر تو رک جاؤ برسات کے بہانے'، 'دلی لگی میں ایسی دل کو لگی کہ دل کھو گیا'، 'دیکھا جو چہرہ تیرا موسم بھی پیارا لگا'، 'کل شب دیکھا میں نے چاند جھروکے میں'،


 'مینوں یاداں تیریاں آؤندیاں نیں'، 'کسی روز ملو ہمیں شام ڈھلے شامل ہیں۔'ہو سکے تو میرا ایک کام کرو'، 'جانے کب ہوں گے کم اس دنیا کے غم'، 'ساون کی بھیگی راتوں میں              اعزازات-ریاض الرحمان ساغر کو نیشنل فلم ایوارڈ، پی ٹی وی ایوارڈ، کلچرل گریجویٹ ایوارڈ، نگار ایوارڈ، بولان ایوارڈ سمیت مختلف سماجی اور ثقافتی اداروں کی طرف سے ڈیڑھ سو سے زائد انعامات ملے۔اور وہ اپنی ترقی کا سفر طے کرتے ہوئے آگے بڑھتے گئےبطور کہانی کار و مکالمہ نویس ریاض الرحمان ساغر نے 100کے قریب فلمیں لکھیں جن میں 'شمع 'نوکر'، 'سسرال'، 'عورت ایک پہیلی'، 'سرگم'، 'نذرانہ'، 'بھروسا'، 'نکاح'، 'محبتاں سچیاں' جیسی کامیاب فلمیں شامل ہیں-بطور کہانی کار و مکالمہ نویس ریاض الرحمان ساغر نے 100کے قریب فلمیں لکھیں جن میں 'شمع'، 'نوکر'، 'سسرال'، 'عورت ایک پہیلی'، 'سرگم'، 'نذرانہ'، 'بھروسا'، 'نکاح'، 'محبتاں سچیاں' جیسی کامیاب فلمیں شامل ہیں۔
تصانیف-وہ کیا دن تھے (سوانح عمری)
کیمرا، فلم اور دنیا ( سات ملکوں کا سفر نامہ)
لاہور تا بمبئی براستہ دہلی ( بھارت کا سفر نامہ)
سرکاری مہمان خانہ ( جیل یاترا کااحوال)
میں نے جو گیت لکھے (گیت)
چلو چین چلیں (منظوم سفر نامہ)
چاند جھروکے میں (شاعری)
پیارے سارے گیت ہمارے (شاعری)
سر ستارے (شاعری)
آنگن آنگن تارے (بچوں کے گیت)
ریاض الرحمان ساغر کی وفات یکم جون، 2013ء کو لاہورمیں ہوئ ۔ وہ کریم بلاک علامہ اقبال ٹاؤن لاہور کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

انقلاب چین جو چینی قوم کی نجات کا باعث بن گیا

  چین کے انقلاب میں تاریخی لانگ مارچ کو ایک سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے جو اکتوبر1934ء سے اکتوبر 1935ء تک جاری رہا۔ یہ لانگ مارچ چھے ہزار میل ط...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر